ي7
گیفیات ک
لصف صریى ے 7.02 سرلذشت
-.
رم
مارک اعم اح زیم ی عنہ
ٰ ساب
یس ان مشرقی افرپقہ ۔ انچارج ار ییئشن انگستان د ام کہ
سم سب اکن طخ
ما ا ور از ا ہی ہی وا ای ی2 تہ
تَحِمَدہونصلیٔ علی رس لِۂالکریم
ا ا ری میں یہ ۶م
رمق مجو و سجحج ہیر
کے
قوالناصر
و رو ے راب
کے ا افرلیشین میس احریت کا سغوذ اور معاندین کیا جکائی ےر و
۱ - غقرمات شڈ میں
۱ گی لفطد کا ہے کے نے جو
۱ گر عال (لف) شش
زندگی کے بتدال ام ہی رت خیزہ ال الثائی کا انعا, یح ات لت ای
قادیان 002 یت یت ور ۱ می وی سے لا ات ۰ 9ھ
کت ا ا ری و و وو کا ا ا رش کا
یی فراخت کے بع نیقی فلح کی اغیام دی وک گرا مکو را کا جج ہیں
کی می ری ا و مشرقی افریقہ بالنویش نیردلی میں مزیرگر ری سی ,200
مناظروں او رجیکروں میں شرکت نیج باعل کا *ُ 01ج
۱ رت افریقہ کے یےتقرری ہت اتائی دی سالوں پتجرہ ...2ے
إ رت مت از 00+ ۱ ول رر 20417
روٹی جس مناظرہ ا 7ھ 0
کت اشاععت لی رکا خاش اجمام گر و ری تو تا "0ھ 2297
۱ موا نکی ترجمۃ الخرآ نکی طباعت و اشاعت 2000 ٣ ٰ0۳08ھ+7“ کیک ہے
۱ ماج دکا فیام۔ ڈبورا می رکی جار اور مسلمائوں کا مار و لوہ حا 424 ازم تواز جع فلت نت
میدسلام ۔ دارالسلام کی لیر جب وو 6مک سح نت سب 5و
حزاغیہ میس مساجد کے لیے زمینوں کا تصول ۱ اک44 پاکنتان کے لے دائھی اورم رکز ریہ م شآبر ا نے
کیا بش ساہد سا 142 رنہ جس سالانہ میں تقرریں ٦ى 20
اڈ می ھا ۱ں ۷ی ےھ
اڑا یں مساجر 144 درک قرآن شیک سعارت ا 4ے
"سی ی0 3 مرن جات ا کا
نت
کت یر یکگکرانی
ہاور کک رڑکی دید الج ری
نت چری رکا گر اور ناظ راصلا و ارشارتعیم الترآن
انکتتان کے لے کترری
لرن میں آآم
مازو نکی طرف خصوصی وج
من اسر کا قام
ادن می ں گیٹ پاوس کاتیام
ي8س ٹربیت
اشاعت لچ
بین الاقوائی شر سک اخبارات ے رااطظہ
مد نخارت جین
تادئی پل کانفزنن
ایک امم واقّے اور اسلائی گل
نین مجر میں وثورکی آم
نول خرو کی تردید
یرب تپ یت
طاندی وزیر داظہ کی آم
علائرے الا ٹک باری
غلاففت رابعہ کا انخاب
کا قیام اور یکرٹرکی شپ
--- ۔ے
مع نت
07
ن بیس یم انت
شر انرن کت اک
نع ہیں آنری مم
یدن میں دوش
اعریکہ رداگی بے ایک خاش دثوت
ترررالی
اتان ٤ )ً20 ے ری
واجکٹنی جماعت کی شورکٰ میس پسلا خطاب۔ مواخات
اریہ یس پسلا جع
ما کول کا دورہ
4+
اریکہ میس ساج دی لیر
22
و نت ان 2ت
ان ید کے تام کی خریک
جماعت کی 7رت ڑا اتقام
دی این سے رابلہ
تربیتی گلامز
اریہ سے اع عام سے راب
یں مای غدات
واشکش نعل ہونلس اعتاز
مین شمروں میں مو رپ استتّالہ
ماد کی تر ی
ریٹائرہٹ کا ڑصل
ا رین جاع تکی طرف سے عزت افزائی
صفت خیفہ ام الرا کی قرر ال
وت کت اد دنر جما تو کی طرف سے عرنت افرائی
منظوم مانرات
ریائرمنٹ کے بعد شرمات
22 غدبا تی کت
طابرالقادرئی کے خیالا تک رو
ڈاکڑ اصرا ری خجر بر تبھرہ
مفتی آف میا یک تقید تر
ایر ری اشاعت اسلام کے ام ا
انل کی تق رکا رد
مضاین
۰ 9"
لو
خلا ءکرا کی حوصلہ افزائی اور خوشوری
زان ضلی ۔خطو
ہتم رْب ١رك 65
یں لفظ
سالوں بر حیط عالٹی چمادبالت رآن ارد یور رگذشت
(دوست جھشابد مو رات یت)
7 نظ راب حکیفیات زندگی "جو علسلہ کے متاز اور نامور عالم و مجار کے
رشحات قعم کا نہ ہے بظا ہر ایک پر جوشی دای الی ا کے ٹین الاقوائی مع رکوں اور
شماندا رکامیابیو ںکی رو داد دکھائی دیتی ہے- ور یقت غلفاء اص بی تکی کامیاب
رہڑمائی اور جماعت کے اخلاص و عقیرت سے لبری: تیم الشان کارناموں کا کیک
یم الشان مرقع ہے جس کے کے سی دقت سیر نا حخرت ارس ض موعود علیہ
العلا مکی قوت قد سیہ پور ی شمان سے جلوہگر ہے او رآ پکی صداقت ادد موید ین
ال کا چک ہوانشان ے۔-
اس !جا لکی تی لکیلے ہیں ایک دی کے بل کر دی کے صوثی مض
حخرت خواجہ مبردرد کے بنبرہ حخرت مرن صرنواب صاحب دہل گی کے اس مان
کا مطالع کرنا ہوگا جو آپ نے جلسے سالانہ تقادیان ۱۸۹۲ء 5 *"0“*“0سھ2
فرایا- آپ اس وقت تک بماعت سے وابستۃ نہیں ہوۓے ےگ رقادیان ئآ
مظاہرات نے بامور ربا یکو سی مکرتے پر جو رکردیا اور فور فراست و اصیرت ے
معمور ہوکرا نہیں ے ٭1سال فی للکھناڑا- :
3
2
اک جس پر نس سے زیادہ شریف اور کیک لوگ بی سے
جن کے چھروں سے مصلمانی نو ر کیک
فان دا یلا "یندا ر'سوداگر عم اض برتم
کے لاگ تھ - ہاں چند مولوی بھی تھے گر مسکین مولدی- موادی
کات ۲ 9
کی ما کک 1
ین مدگوکی اد بد عات سے ہچ دا لاصو یکہریت اعمراو رکھیاے
سعادت کا عم رکتاے - .......چھلوکں بی سے ود رشت پکیانا جات
ہے ازفا کی کنکوں نے نات پا ز رد یک وت
۲یئئکیی 00
ق3 دای ددبار نیس ہو کا ری رح جو الل تحالی کے نزدیک
ہو مکنا امیا ہے اود جم کے دل یش الراذر رہل ماناری عبت
یا کک کی کن وا رخف رے اق ےن
فیا کے کالا کے سے کال نین ہو سک اور کاو زی دی سے
000
قایف 2یا علما ےجرد کی بد کا رخف عالف ررش
رگد کرت چلاجا جا ےس لان داد و کےا
ھ مرز ضا یک رٹ یس سا سا ا ےت
دریا شش بن یاند ھن سے وریا 0 089
مو اک ےک مرو فولےگاا ود ثابت ذورت رزیا۔ کل روز
پا کے نال نکی تیوک ہالے جاد ےگا آند می اورار
٢ 7 وو و
۱ :توچ ہصح
روم ںسوووچھ رہ . ہش ۔
جو سر رج کی
90 -390999ة5ب-
سمسےہم ووپوویں ررژے۔ہے۔۔ سے سے
3
ہےجہڈہ
کو جس میں ھت خودبی چتد روز مس عم ہو جاتے ہیں ای
.٠ے تے ہی
٦ موک ہر ے۴" اج
بت سور مع شی سس سی
یر یج موعور علیہ الللام کے وصال مارک کے بعد حخرت اق کا
7 ت 31 کے ہے ہر ا
جج ا ا ا
تد دا سے ٹیل الق راو ربز ور ےہ
کے رجننموں تے خلیقہ وقت کے جاشار غاد مکی کے :
کے پچ ہے تر ددسزی طرف حفات اریت کا سکہبزروں یں ٹلوپ
ےسچیکتکات ہر طرف رآ ی انوارو یرکات
ےکی ہے گے کہ رت ما موودعل" ام نے اپ وی
ہم تھنیف ”نے سام می ۸ اسال قمل پر شوکت وینگدئی ذرئی
2 من ای درخ تکاس کے پچھلوں سے اور اس نیرک ا کی
شی سے ش کے
جے (صلحہ ہے بکو الہ زروعانی خز ای جلر )٠۴ ٣س ٣
تی ہلل پاے رام دن میس حفرت سج موعود علیہ السلام کے رت خائ
٤ شٹی مھ این صاحب کے لت کر مو شی مارک اتد صاحب ات
۹۳۲ ۹۹٣ھ
ہیں جو رت کی موعور علیہ السلام کے وصال کے قریأ مال ۵ اہ بعد بیدا ہو تے
7" ا تقر کپ انت رت ال
وووجتتتے
4
سے
اللہ کے ثول ای ھا ملا اور دای جار یش وامانہ رک میں کر ہر
ہل اور ١ء
2ے ٌ ری ۸۸ مازل ےککرنے کے بادجود جوانوں کی لح ایت فرضلق
: ا ھڑعاو زا وا ںہستی
زر ب لکیہ کو پر چے 0
ات زندگی أ پگ ذددست قوت عمیہد اکر پر شار لق
تفر کاسوگودکے جاثا ردام مم سے ایک لا عیب ری ے
ری نات اٹاف کے ما رین ۷اھت رن
َ و و کک
:7 ۶ کر من راہ ھت کون کے سو ںوہ
سے گید کہ وعوت الی الل نات اع کین 5 ان
ری ارہ
ر 7
ظ ہے دہ ای لے ہارے مقدس امام عام حور
کے ں6 . ای جو 0 ا
ہے دحوت الی اللر کی ین فرا رہے ہیں۔ چنائ "0
کرای کک ںار
رت نے ا ےک
َ کی رر ےک ا کا لکمانے کاستقم بھی ال تا کی
کو امو ا کی نکی کے ہکا جو اس بات
کی فا رر رر رجا ین
5
پرے کے لے جا ہے- اس عمیر کے ساعھھ جب دہکام شرو حکرے
اب دیکھیں سے ال تواٹی کے ففل کے ساہ دی می سک سکثزت
کے سات او رس جیزی کے سات وہ الاب پدا نا شور ہھ
جا گاج سکی ہم تنا لے میں -'
(خطبہ بجع ۲۸ فروری ۱۹۸۳ء۶)
* را ھی بلا اش می سے - دو وق تگز رکیاجب چند نشین پ
انھا رکیا جا تا- اب و یو نک و بھی مغ بنا بے گا بو ہو ںکو
بھی ملغ بنا ڑ ےگا بہماں ت ککہ بب لیے ہوتے پیا رو نک وبھی سن
نا بڑے گا او رھ خمیں و دہ دجاؤں کے ذ ریہ کے چماد میں
شال ہو کت ہیں دن رات الد سےگرمہ و زا و یکر سیت ہی ںکہ
اے نام میس !تی طاقت نیں ےک ہم پیل پھر تینک یں اس
لگ بس لیے لیے تھ سے التاکرتے ہی ںکہ فو دلو ںکو رل دے --”
(ظبہ جع ”ارچ ۶۱۹۸۳)
ام دنا میں جیشہ یش کے لے آپ کےگیت گا جامیں
گے - آپ کے ناموں سے م ر چم کے آغاز ہوں گےے- مو رخ ی ہکھا
کر ےگاکہ فلاں احری نوج ان اس طر حکپڑے ےآ یا تھا- فایاب <2
ری نوج انس طرح یک معمولی جاڑت کے لے آیا ول وراس
نے بے سے تب یلیاں پیر اکییں- فلاں فلاں گا ول شرب ”ا نے پدا
ایا - فلاں فلا لگر جب پھرمسیروں میں تبدبیل ہے اور بے فلاں
مار کے کارناموں کے نیہ میں ہے --........ ری جو ھنر ا نٹ ا نے کا
طریقہ ے جج ند بی میں - مد اکی راہ شس چچلناہے نو جان مار کے
عت_| پھچ سو صصمٔسسسسو:
6
کے کت یں ا مر ری ا کے یں ور
کے و ا اہر ا کل ا
زی کے - ضابی: دای بات بچھول جانین سپ نے نے سے
فا نی ےپ ےون کی عو تاپ کو
موں کا مردار ہنایاگیاہے - انا مقام فو پچائی ںکہ آپ ہی ںکون ؟
پر دیگھیں آ پکی وکیفیت ہی برل جا ےگی- ا داسمیں بدل جائھیں
یت رما ں لمت بوڈ ن7م درو لکااخاق پر کرس
ال نما یکی طرف سے آپ کے لے مقر ہو چا ےک آپ نے ان
علا قو کو م رکرناے - انغاء ایل تال یٰ- ''
(خطبہ جے ٢ اگ ر۱۹۸۵ء)
باط دنا اٹ ری سے تین اور پاتدار لت
مان نو کے ابھر رہے ہیں بدلل رہا ہے نظام کنا
کید و ظفر تحعاتی خمیں خر نے اب انان یر
نان ح و ظفر سے ککھا گیا تمارے بی نام کنا
آے
بسماللەالرحمنالرحیم
نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
وعلی عبد٥المسیح الموعود
رت مال
ایک خعرصہ سے عزیزوں / روستول اور اعماب بماعت کا ماکمار سے مال
+و ہد ہاککہ اللہ تا یکی دی بہوکی نوف سے اس عاج کو مت اسلام و اح بی گی
نصف عیدی سے زائد عرصہ تک دنا کے چار براعنظموں میں وش لی ہے ان
فدماتکااگرچہ ختزی سی لان
ا جھاعت اتی کے خادم ہوت ےکی حقیت سے یہ خخدمات علسل ہکی ا رکا
ایک حصہ ہیں - جج نکو فو کرنا بھی سلسلہ عالیہ اتی ہکی خدمت سے-
٠ ٣ہ ایک امات ہے اور اس امانت کااداکرنالازبی ہے اور ا کی ادا مگ ی کی
گی صودرت ےہ النع مد ما ٹکو ہن کیا جاۓ-
۳ ان حدما تکی ادائگی کے ساسلہ می جماعت کے جن عخلص احباب تے
مان تماون فرمایا ان کا جذزکرہ ن کرنا اسان ناشنای ہے اس نا۶ ان غدات
کے ساتھ ان عخلصین کا ذکر جنموں نے عابز سے اس سی حرصہ می کی طرح سے
ناو نکیاادر اپٹی اص اعداد سے نوازا اور دغاوں سے کھی ید دکی “کا ؤکر ضردری
ے۔-
0
8
ون وت وک بناء بر خاکسا رک زور دیاگیاکہ عاتز ان خقدمات کا گر ہکرے-
سا رکو ابتداء اپنی تقی رخ دمات کے تذکرہ سے قاب ر- لان اجا پکااعرار
اور گمراراور وجوہ پالا کے پیش نظرعاجز نے فیصل ہکیاکہ خاکسار جہماں ہماں سلسل ہکی
طرف سے سلسلہکی حدم تکی انام دب یکییه مور رباان خدما تکااحاب اور
خززوں کے شکریہ کے سات تی المقددر جماں تک یادداشت ساتھ دیق ہے ذک رک
ووں- |س سلسلہ یں متر رجہ زی تر بھی جو صخرت موڑاتا لام رسول صاحب
را کی نے اپ سیرت و سوا کے ان رات کے روم می مکھی ہے بھی خاس
2977ء و ےد ہے
حقیقت يہ ےکہ سلسلہ عالیہ کے ان تمام دا مکاجو خفاء عظا مکی طرف سے مامور
کے گئ ان سب کے عالات اور خر مات می کامیالی کااصل باعث جیراکہ خرت
مولانا نے تیر فرمایا دا تھال کی خائص تیر و نضرت توی ہے نہ صرف اور
ترک کے اپے اس بر گکی اس حم کو زیل میں ور کرنے میں سعادت گتا
ہوں پلکہ اس لے بھ یک جج نقنشہ خاکسا رکااور حلملہ کے مقررہ خدا م کا انوں
.. +- ورنہ نماکمار اپنی ذات' انی علھی عالت ٴ اپ کت ویو اور اپ
کرد روں سے پیورے طور بر آشھاہے- لیکن جو ہرکت اور سعارت نحیب ہ وق دہ
جناعت کے پزرگ غظامکرا مکی تذجہ اور دعاٰوں سے ُی د رنہ
مین آ ا داٹم
9
ر٢حٹ.ٹرط]َے.بببب_بسکےُےکےتسٹےس سستکیسیٹیبسس
مک رم ہو ںکہ ان دا مکوجو سید نا رت اقرس سج مو عودعلیہ
ااعلو ۃ والعلام ىا آپ کے غلفاء عظام کی طرف سے عسی کا م کی
مرا خیام دہ کیلع مامو رج جات ہیں اللہ تی اپنی مات حیرات
سے نوا ز ماس او راپ تی ا مرا ر سے ا نکی م دک ہے او را نک
کامالی کے ساماع پا کر سے اور ان سے ان کی طاقت اور
مقررت سے بد ھک رکام لیت ہے - جھے اپنی ز نی یس ا بے کگڑوں
موا تع بپیشی آآے ہیں اور مس نے الد تھال ی کی نصر تکو آسان سے
اش کی طرع پر نت ہوۓ دیھا- میں اس مںپ چتد واقعات
بیو رعثا لکلے ریا ہوں-"
عزی در آپ تن ےکگھا-
”اس عبد تق یر مد ا توالی نے سید نا حضرت سح موعود علیہ
سام کے نیل بے شا ر ا فضال د ہکات ناز لکی ہیں-- ان یش سے
کش اج مارگ یا رک کی ساد پنی سے اد رض اج
کی تیرکی جم کو توق حاصل ہو گی - مساج دک ابق ای حرلات (ادر
مشن )نوس زکے قا مکی تحریبات او را نکی خر دکی سیل ) اسر نے
کییں اور اعباب نے نمایت اخلاص اور فراغ دی سے ا نکیل چتدہ
0
وہ گر صب بل ے- (حات قی)
المدلل شم مد کہ اب اس ماخ تکی ادائجگ کی تی مل ری سے اورال
نوکر: سے |میر ےک ان ملس دوستوں کا مذکرہ بھی احباب کے علم می نآ کے گا
ہڑوں نےگمزشن صف صدی سے زائد کے حرصہ میس اس عات کو اپنے خاش
اس عاجز تق رادم سلسل ہکو اوہ تنالی نے مض اپنے ففضل سے
ضف صدی سے زا تر عرصہ سے مات سلسلہ میں مفیرغرمت بچا
لان ےکی تذفق دی میں اپ اپ رے لقن سے اععد گربہ بی بات سپرد
10
تناون اور دماؤں سے نوازا اور ان نحدمات کے انام دضیے میس انمول نے اچ
فراخ حوصلہ سے االی اعداد سے بھی نوازا-- الع تحاو نکرنے والے اباب ٹیل مد
ہی نہیں بللہ خو تین بھی اور میرے عرزی بھی ہیں اور نوج ا ن بھی ادر اک طور پ4
بے رفقا کار مرپی اور ملمخین بھی جنوں نے زمایت خلوص سے الن خد مات کے
ساعلہ میں پررتک میں سات دیا-جزاھم الله احسن الجزاء-
خر می ماکسمار ان سب عمزیزوں اور دوضنتوں کش رگزار سے جنموں نے اس
عاز کی گی شنہ نضف عمدی سے زائد کے عرصہ می دبٹی خدمات اشحام دسیے من
امرادکی اور اب پا فضوص ریہ کے سخ ہی ںکرم مولانا دوست مج صاحب شاپ
جننموں ے اکمار کے اس مسود ہکو تقد ىی نگ سے دیکھابڑھا نوک پگ در ہت
کی- ضردری حوالہ جات کااصل سے مقال کر کے تحمدی قکی- مخ توالہ جات
ازرم زا دکو شا لکیا جو ماکسا کی ضدمات سے نتلی رک تھے اس تقائل قرراداد
نماکمار مولانا موصوف کاو شُ رگزار اور نون ے-- جزاہ الله احسن
الْجَزاۃ
والسلاع
اشن اظر
حچی و پارک۱ھ
11
زندگی کے اب ایام
ہزرگ یرت ' تیک عفت “ نرائی لص اتی ک بنا ہوں- نام جن مبارک
اھ جے- نماکسارکی پد ائنشی کے وفت چماں تک سوج ساتھ دی ے میرے دادا
جو ایک نیک 'پابند صوم و صلوۃ اور پزرگ خصلت تھ - ا ن کا اس مگرائی شی قطب
دن تھا-- ان کے بے کانام مھ وین تھا جو خاکسار کے واللد محتزم تھے اس نا مکی
بناء بر ان کاخیال تھاکہ میرا نام مبارک وین رکھاجاے- میرے ماموں منزم چ
الد نشی صاحب نے اپنے بڑے بے کا نام مھ علی رکھا ہوا تھا اور کے بے کانام
اص علی- انوں نے اپنی بھن (ماکسا رکی دالدہ) سے ناکسمار کا نام میارک لی
رکھنے کاسوچا۔- لان میرے والد مز رگوار نے نماکسا رکانام مارک اتد تچ کیا--
افمدللہ تدم تر ماکسماراس مارک نام سے موسوم اور محروف ے-
خماکسا رکی بیدرائشی اکن بر کے ممین میں ٭اج ر کو ہوگی- شی من ۹۰ء اور
تر سال ۱۴۴۸ء تا رات من اور ول ی۱۷ رح یئ اد
ضمان میس پیدائ٠ ہوئی- میرے والد اع دنوں یہماں لہ ملا زمت مئیمم تے-
آپ پڈاریی ضرتے- صن افاقی سے اتی دفوں ددادر ای جزرگ اس شمرمں
یلور پڈاری میم تھ- جس مکان میش یہ بزرگ رجے تھے اسی مکان میس میرے
واللر صاحب کا تھی اع کے ساتھ رہنا ہوا ہہ دونوں اتی ضیل عو راسپپور کے
رت وانے تھے ایک کانام خی سریلندنماں “ صاحب تھا اور دو مسرے بز رگ کا
نام خی عررین“ صاحب تھا- میرے والر صاح بک اج ریت سے تخارف النا پردد
12
002 ہوا- بے وولوں ای سحالی بھی گے- الن دول تقادیان رے
اخبار بد ر“اور اخار ”الم “ شال ہوتے تھے - مہ اخبار ان ایی احیا بکو گی
آتے تھے میرے داللد صاحب بھی شوق سے ان اخبارا تکو پٹ ین گے - آہست
جس ان اخبارات کے مطالعہ سے ححطرت ضیح موعور علیہ الاو والسلام کے
المامات اد روف و ریا جو شال ہوتے بمت نوج سے ا نکو پڑت اور ان کے
پوارا ہو ن ےکی اططاعات سے جو ان اخیارات میس ہین یں ان سے مان ہوتے-
بالاخ الد تھالی نے آ پکو یہ سحادت پٹ یکہ ے *۹اء میں بذ ریہ خط عقرت چع
موعور علیہ الصلو ۃ والسلام کی ہج تک بی - آ پک بت کا کر اخیار پر ر*' ٠۳
مار ے ۱۹۰۶ء صفااکالم ایس بج ان یل ”زسلسلہ حقہ کے نئ مم رھ وین صاحب
پڈاری ض ماع آباد ضلع مان“ ہوا-- میرے والد صاحب تے ابی ڈائزی میں کا
ے-
فی زوین صاحب جوکو لہ اتفائان لع گور داسپو ر کے رتۓے
دالے تھے ٴ اج ی تے اور ہم میں سے شئی حررین صاحب نماز
اکن ران می کی ملادت رو زان کرت اور اشار ری
ققادیان سے ان کے پاس ٣٦ تھ- چجھے عرجو مکی بک یکو دس ھکر رخبت
پیا ہوگی اود مر مکی تُریک پر بی رت سکع موعو علیہ الصلو
دالسلا مکی مد مت میں گرم ىی بیع ت کاخ ط کے ویا- *٭
بمازمانہ مھیرے واللد صاح بک جوائی کا تھا آپ تے ٹل کا اسان پا سکرنے
کے بعد پڈا رکا عفان دیا-- اس میں کامیالی کے بعد آپ کا تقر شجا آباومیِ ہو1-
میرے دالد صاحب کے احربیت قو لکرنے کے تین سال بعد اکسا رکی پیدائش
ہوئی-- اس حاظ سے نماکسار مفضل بدا ران ایی ہے - طالب خیال ےک
13
اس بناء پ مہیرے واللد حنزم نے اکسا رکا نام مبارک ات رکھا- میرے والد شا
آہاد سے شع مان کے لف قصبات اور علقوں میس انی لازمت کے ساسلہ میس
تی ہوتے رہے- ا نکی تید یی کے ساتھ ساتھ اکسا رکی والدہ اور ہے ماج
ان والد کے برا ہکھوۓ رہ اور ہوش ستجھالے اور پانچریں چٹ سا لکی عمر
یں داشل ہونے پر پرا ری کول اود ابدائی تیم کے سکولول میں ان بات مض
زا بی رہا- پھ عرصہ لب جو ایک پرانا مشمور شمرہے اور ددیا راودی کے ایک
رف آاد ہے اس شرکے ٹل سول میں بی اور دوسری جماع تکی تیم
اص لگا - يہ شر میرے والد صاحب کاآبائی وعلن ہے پھربھ عرصہ بعد ریا
آبادریلدے نیشن جو خایدال مان ریاوے کیشن پر ہے اس یش سے چند میل
کی فاصلہ پر ایک قصبہلوٹھڑہے ہماں تک یادداشت اق بی ہے یمان کے سکول
جیری جماعت کے ابقدائی چندماہ لیم حا لکی- اس پراتھری کول می
ناب سلطان مج صاحب نائی استاد تھے جو میرے وال دحتم کے دوست اور ان کے
زھ جو بھی تھے- اس قصبہ لوٹھڑ سے میرے والد نے قادیان ججر تکر جانے کا
نیل ہکیااور طازمت ترک کرد ک- اس راد ہکی یل می اولا آپ نے اپے
والہپذ رگد رک جھ ان دفوں آپ کے ہاں مم تھ اور خاکسارکی وال کو اتی
ایی ہکا عبہ اپ ون جوا دی ان کے کھوانے کے بہد جس ققدر انور آپ کے
ا وی بین ن کاب شگ می اود وۂ ری شیا ور فو تکزورن او
گھ رک ملاز مکوجھ جا روں کے للے ارہ ٹول او رگھ رک کام ا نکر رے
ا ]گر دیا اور لازمت سے اق دے دا- ان دفو لالہ رام تھی کلکز
رت جو دالد صاحب کے اضر تے انمول نے والد صاحب ے ہگلہ رشبرہ
امو کوٹ میلا رام ےپ کیا ”ٴپھاروزگار ہیا دا“ رو زگارتڑک کریی
14
اور ا عق دیے سے عکیا--'' والر صاحب نے ااع سے بی ک نک رما ”آپکاظدا
تنکمرام والا مرا اور مرا 2دا مرزاظلام اھر قادیاٰٰ دالا خداے --'' مزیر والد
صاحب نے اہی فی جوش میں انییں لیکھر وم کے تلق میں سماری جننوتی سنائی
او رس رح پڑدی ہوکی بے مار داقعہ سناکر اخٗین لن کی اد رکناکہ مرا را
میرے لے ہنرو زکا رکا نظ مکردے گا--'' انشاء الد
وا صاصہہکوتغ کا مھ قا وروش ھی ٹیس آپ کیرک
عو ری ہار ےگھری ا نکو دیے آتیں- مرذاگی کییے ہوتے ہیں - یمان یہ
کرنا بھی مزاسب معلوم ہو ےکہ جب لوٹ زآپ پچھوڑنے گے نآ خری رات
دالرصاحب نے خواب دیکھا ”نیل ان ذیلبدا رکو یہ پیا پچنچاگرجاؤ" اس خواب
کے ذکر کے ساتھ والد صاحب تے اپنی ڈائریی میں کھا سے -- ”اعم الفاظ اد کم
رہے لین خواب کا مطموم توب باد ہے '' پچ رآپ نے وہ موم رر گیا ے-
لن فل اس کہ خواب کاجو ملموم انہوں نے مچھا اور در کیا دہ یماں
کھوں پت پیل خان صاحب زیلدار کے پارہ میں لکنا ضروری معلوم ہو ے-
7 9“ ۹۹ ی۹ س'"
انار لہ رپائ یکیلئ تی کیا ہا اط جو یھ ی کوئی اض یمان 1ت ای نکر اکن
اس لہ میس ہو تی کسی نار یکی وج سے سی دقت دہ نقادیان بفرض علاج گئ
اور خحترۓ غَلٔف١ ئ الاول ” یرنا رگ ورالان صاحب ے لاب عگروایا-
نیل ناں حضو رک ما زی بت بی ذک کر ور آپ کا منوع اضانع ہوا کا
ھی اس وچ سے میرے والد صاحب ہے اس کا صن سلوک اور بت کا رو
را جب والد صاحب لوٹھڑ تبدیل ہوکر گے نو ہمارے لئ رئیش کا ظا مکیا-
15
بج کاذکروالدصاضبثنے ای ڈائرکی می بھ یکیاے-
لو زپچھوڑنے سے پل الد صاحب نے جو خواب دیکھی اور غاب میں سے
رایت بوئ یک ٹیل غان ذیلرا رک ہیام بن چاکر جا اس کا مفموم والر صاحب نے
اپئی ڈائری میس ککھاے:-
اواب کات معلوم ماد را دہ بی تھا صجرے ہرذافلاع اھر
قادیالی نے جینگو یک کہ میرے ہاں الیک لڑکاپیرا ہو گااس کانام مور
و گادہ جلد جلد بد ھھ گا- مرزاصاح بک وکیا متلوم تھ کہ میرے ہاں
پا ا ہد گانا بھی پا ہوگی - گرا نک وکیا معلوم کہ میس ا س کی
پیا ہی تک زندہ رہد ںگااد را کانام مود رکھوں گا پھر نکو
ا" "کی نے اداد نک وو مل جا دع
گ- پچلرانوں ن ےکھاکہ دہ فل عمرہوگا- ا نک وکیا معلوم تا کہ وہ
لیف وگ اون ےےکھاکہ دو اولدالعزم ہ وگ ا نکیا معلوم تو
آا زور ہھگایا پناذ رہن گا“ یا کہ دا بڑے پٹ ا رارے الا
ہو گاادد پل رکھاکہ دہ دنیاک ےکناروں تک شمرت یا گا.۔ ان کوکیا
معلوم تھاکہ دو شثرت پان گااد ردنا ےکناروں تک بھی جا ے -
دو صاحب شمان شوہ ہوگ٠- ا نک وکیا معلوم تھاکہ میا بنا تی شان
0000 دوا تل ووگا- ویر دخ نی سیب
ا یں جو قداتقالی نے مرزا صاحب پ لاہ یں این سے
ملوم ھ تم ےک مرز ااح بکاخد اتعالی ے خاص تعاق بی _*
لا لاحب سے بیس تناک ر نیل خماں ات زیانز ار ےکرا:-
پچ نے قادیان بھی دمکھا ادد مرزاصاحب کے پیل خی کو
'ٗ-_
: 16
اض ای سے وک
جی ر اجب اپ ہہ سد ے ٰ
٣ ری سس 0
ا
ہوقی او رٹم نے این نہ دیھا اد کہ اس کے کے
ا ےم کر لت و
صرح رو تاس وقت خداقا کو
وک کت ا و ا لّٰ
پکیاجو اب دی گے-” 7
والرصاحب ات ڈائی ئل جۓئیں:<
رت سے کن میں
٣0ے ی رر ال
رج اس مم ے جار ہوں-” و
ا ا اط
یں سے یز بے معازس سے او رکا ئل
پت
۱ 2 وا ہے
ے : : ایس بی 7
اور ساحب محتزم نے زییدار صاحب کے ا با نکی تد قک ادد انا
و ۰ تپ
ڈانزی می ںگھا:-
انموں ے میرے ما ۓ احری ت گا
کے ھا بھی ررست-
پت کااظ ما رکیاتھا-ڈ ٠ :
اذفت ااضار بج
3 ا ک2 نے
مواسے معلوم ہو ےک وا رصاح بک ڈازی ے اعت ەل
بری میمت ماک یی تد رفک رکردوں- را ہو
تشیاع آیاد
و تم
17
"ول ال2 2ا ا کی ذفات ہنی آو ز اکسا رکی م وضع وج
چا: میریاں خاں میس تبد بی ہ دگئی - بیماں قریبآ ذدسال رہا- "
عزیزم ش خلا شحھ صاحب ج کہ میرے والد کے مشیرہ زاد تھے ان دنوں سی بھی
والر صاحب کے ساتھ رجے تھے - مالسا رکی والدہ اضر بیت سے ناجنا خیں بل
الف ابن کیلیے شلام مھ کے ذ رجہ والد صاح بکی بل ہکتب اور اخبارات چو
ری سے تعلقی رکھتی میں - نبری نالہ میں لوا دیق یں ٣ والر صاحب ان
ارات او کت بکوپڑ شن نہ پاگل -
اس ملا سے تید پگی ہوکر خائص علتان شرٹس ھ خحرصہ بیرون دزوازہلوہاری
ین رہے- اس حعرصہ یش جو آپ تے ریا دیکے ان کا 2ک رآ پک اڈائزی سے تا
ہے- آپ کے اپنے الفاظ میں ا نک یمال درر حگردیتاہوں-
ج7 ئک مق مت ضا اک یکین
اس کو زور سے دبا جا تھااور ذہ ھٹا ہو نایا یمال م ککہ اص کا
حم جو رلشم انرم تھا رگوش کے قریب ہ گیا اسے دبانے سے
میری خی کھ لگئی او رج دکی نماز یی - *
”ایک دفعہ ایک فرشنہ نے میرے پائوں چپ ڑکر جج ےکیٹ لیا اور
ٹیس خحصہ میں ا ٹھاکہ ا پک کر مار وں اس وت مہرے م ران ےکی
طرف ےگ کی ىی آوا زی ت مکیوں ملمان نی بناتے اس
پش یدار ×ااور نما تر اراگی-"
”رای ایام میس ایک وف ہکشنی عالت میس آ سان پر بے حضرت
مو عو وعلیہ الصلو و السلام ین شکلوں میں دکھاۓ گے -- ا ول سر
پھ لگ ی کاصافہ تھا- چاند ک ےگول انز حضو رکی شکل کات یگئی جو
1
اب
ون
18
ان کی تی رن کی ان اکب میلو 1
یک حیمائ سی شل ںی جو پر پپلون پنئے ہو ہرس گھ ےہ ١
پر شل غاب ہوگی اور ایک ہند وک شمل جاند میں دکھاکی دسے '
کی - مر صافہ دا ڑھی منڑی ہوک یی -"
ار صاحب اتی ڈائری می اس خواب کرک رک ےکھت یں ۱
دیحوت ایاج
اشززں نے ایک فو ڈو رکا جو ححضت یم مو علیہ دا الام
می دی ریا تا
777 س0 2
ےی اب ا ا سےا کچ کاو
ریاوے یش نکوٹ میلا رام امعروف رشیدہ سآ“ انا آپ ردعال
رےے۔ اس میک کا ؤکرکرتے ہوتے والر صاصب نے لھا
و ا و یک
الاول “ کا سناما- واقعہ بر تھاکہ نخرت مولوی ور الج صاحب
۶-0 ٴٴٴ00۷*9+ھ۶0
ےی یک یر کے و
کید روہ کی۔ تو نے اما ابی جیھت کپ ٹر
19
2 2 2 و
شا صاحب براوز ا مغزصیر مگاۓ شا نے (جو اپچپنے بڑے بھالی سیر
عزانت شاہ نا کو فرض عاح تا دیان نے گے تھے اور جضمور امن "ار
کے معاغ جے) جو رکو تین اشرفیاں سن ےکی شی جن پونڑ آمست
سے کینوا وج - تضمورنے اس سوا لکنند ٥ک بلاکر وی جیوںن پونڑ
اس کو وے رج - سیر عنایت شاہ “سید منگاۓ شاہ “سید صرورشاہ
تیوں بعائی موضحع ہیل والا کے ممول زمندار تھے - نیراجری
مان جے۔-*
ایک اور واقہ ہشگل ولاک میرے والد صاحباتے اتی ڈائری می ںکاھاے:-
ض ہش والا میس امبرخاں بلورچ نے تھی ایک واقعہ رت غلقہ
٣ شی تمیی فور کے انا کی ات ان
مان غا تہ می رہتا تھا- ین نے دیکھاکم ہروقت اذائیں ہی
یی" انا ہما رون مین سال وو نے سے اور کے نی
قادبائی احری ملمان سب جٹ بیو شاک کے ہوتے تے - گے ایا
معلوم ہو تھاکیہ ان لوگو ںکو سوا نم زمی پڑ جن کے او روگ ام
یا
یس اکیہ اوہ ذک کر کا ہہوں لو ٹھڑ کے قیام کے دو ران والد صاحب تے سا زمت
کے کے بر و مخ پھر ٹاو رکا وذ اور درخواس تک کے سے اسعفی دنے دا اور تقادیان گے گے - مہ عالات ایتراء ۱۹۱۸ء کے ہیں-- والد
٠ 2 2 2 عو رنے فیا ا اہن دقت ا ھا نے ادن جانے سے قیل حخرت خلیفۃ ا سج الا کی غرمت می خ
فور وین کے ا سبھھ میں ین اللہ تھی آپ کے سوا نکد چا ا تکھاکہ قادیان آنا اتا ہوں ادر بی کہ انا سامان گاڑی بش ب ککرن چاہتا ہوں-
کر کل رو ےکہیں سے مور ےگا و رآ پکی ضرذدت بدا لاس کے نام می ب ککروں- حضو رکا جواب پشام مولان عبرل تیم صاحب یرجھ
ت ؟ب۔ ۱
20 ّ۲
موصول ہوا رز جواپ ۸ فروری ۶19۸ کاکھا
ا ای با کے نام کوا دی 'کھ رک
ے تھے- والد صاحب اٹیڈ انرک جم
- َ ۹ ِ ١
ٰ ۱
۱ ۱ (1
حضور کے برا تیویٹ سارٹری تھے"
ہوم تا ہغشی عبراگگکریم صاحب
آری "والدہ“ج ادر میرے وادا بہ
اک کا ا
,یب رر ور ہے
8ءء رر وس وت وت ٰ
7 فا ات رر کہ ۱
7 یت رت
٤ ْ ح" رر ا 12 ۱
یا بے اکر در نیشن ناشن ایاج کر ۱
۶ و سے بد ۱
نے ےت
ےج کنل کی تی و میک اخ اتا لمج ١
کے سات معلوم ہو گی ہے-"' : بی ا :
حخرت گی ھردبین صاحب سان مار عام صدر اشن اصدے
(بیعت مار 1907ء ات24 بر1968ء)
آپ سلسلہ اعد ےک ایک فدائی شخصیت تھے تادیان میں لگ خانہ ادف و وآف زی ز'بہشتیمقبرہ اظارت شوۃ وت
اور نار ت امور امہ یں س مگ ر مل رہے او رخ میں طویلی عرصہٴ تک صدراشن اعد بی کے مار عا مکی حیثیت سے شا ندار
خدمات اضجا مد یں۔ اح گی اجمرکی ہما ہی نکی آاا کی اور رکز ام بیت۔ رہد ہ۔ کے قیام جس جن برکو ںکوحضرت
داب شجردین صاحب کے دوش بدو کا مرن ےکی سعادت طعییب ہو گی الن یس مرذرس تآپ تے۔
کا جو اسیممس وسسمٌٗسسےکےکسمٗکسک-
21
قادمان شآم
ال تال یکی خاضص فصرت سے والد صاح بکی تنا بی ری ہوگی اور قادیان کچ
گئۓ- قادیان کر والر صاحب کا زیادہ نا جلنا اور اٹھنا ٹیٹھنا رت کی موعور
علیہ الصلو ت والسلام کے بی صسحابہ کے ساتھ تھا با فصو حضرت حافظ عاعر عل
صاحب ادر حافظ مان الین “ صاحب کے ساتھ - والر صاحب بت وماگو تی -
اللہ تعالی کا فضل ہوا یھ عرصہ بعد مگر غانہ میں بطور ارک آ پکو مقر رکیاگیا-
پر رہ روپ ماہوار اہ مقر ہوئی - ممیرے والد صاحب کا بست با قاعدگی سے بن
ود ر کہ علادہباہدار چند ہو کے تضور غلیفۃ: ا الا کی خدمت می ہراہ اتی
طرف ے ایل روپ راہ ججثواتے اور یش اوقاتٹ گرے مارۓ کارکوں
کی طرف سے نذرانہ اکٹھ اکر کے تو رکو مات - پییشہ ان کا یہ مان اچتمام
ربا اپنے بچوں اور عمزیزو ںکو بھی اس طرلققی کے اغخقیا رکرن ےکی جکقی نکرتے
رہے- پل والد صاحب ایل قادیان آے پلتھ عرصہ بعد نماکسا رکی دالدہ اور بم
بھی قادبان تی گن - یہاں ہہ وک رکرنا مناسب معلوم ہو ےک نناکسار کے بانا
حم ٹن م رٹیم صاحب مرجوم دمففور نے دو مرے رشتۃ داروں کے دعس اپ
بئی انی مار ی والدہکو اص تیب دبیکہ وہ اپنے نماوند کے پا تادیان ہی
٦ ھ2 رش
دار واللر صاحب کے اجد یی ہونے کے باعث بماری والدہکو قادیان جائے سے
روک رر تھے آا ار والر صاحب دعاکر کے سے خاکما ر کی والرہ گی
۶7
22
۳ 2
نارمان آجاٹں- رشن وار ا سکوشش میں جھےکہ غناکسار کے والد صاحب بی
تا نکو چھو کر والیں اہ وط لے ؟ّھی.- اس مقصد کے حول کے سے
رشن وار خطلف جلے اختیا رکرتے رئےس این سلسلہ میں ایک وقعہ حمبہ سے
فارے رشن داروں نے وال رص کو طلاع کوک یک آ پک یی سعیرو غوت
ا ا و ا کس کا ا
صاضب سے ررخواس تکرتے رسے روہ جنازہ بڑھائے اریہ ہو والا
طتاحب جو مان میں گ اہو نۓ تھے خواب دیھاکہ یرہ مار بین “مان عانہ
ےی دی لک اہ ید ا چا سی
ین ایک :وت اور زشن وا رم شش رح رصاح بکوخ لگ کرد رات
تھں چس تا در یا می
سے جے اطلاع دیں<- نیش شر طاحب علیہ گے انموں نے دیھاکلہ
یا ری ہے“ نا انموں نے والرصاض کو کک ھکراطلاع ذ یک
بنضل ؤر ا سیرہ ےا نل ا یا ےت رہ
رپ
7 ۰ھ 0
یھی بر ایں بای ڑی سے نس میں ملف لو کے کول ہیں اور مار دالدہ
یلو نںکرکنا انی ین ئن خواب ال صا ب کو ین تک ھا زی داد بی
ص- 9 مم
یع بد جار ی و جاد ان لین اور ای کے ور ےکی مور ہو
سر ںا ازرم گار جے ران ناف
97 پی و و ۹٠١
23
اشنا وو کے اوج والر ضاح بک گی مور حفہ ویج پل رآ پک اولاد کی
شقلف میں می سکئی.- میرے عزی: بھائی تل اح صاحب نک کے دو ران ای
جئ - ذوسرے عزی: بھائی جع نور اض صاحب پاضل عمالک عرب اور دمشق گے
اور خاکمار مشرٹی افریقد کے علاقوں می سکیا خاکسا رکی والدہ ان مو ں کی خلت
ٹون سے مع ہوک ی ہیں - وم رد
لو
قادیائن مس م سب کے آجاے بر اکسا رکو والد صاحب تے تل ال ملاع پ1
۷را و
گی بھی اس کے بعد چو ھی جماعت میس داشل جوا.- سی کلاس پائی کول کی
ارت کے ا سکمرہ یس گی بھی جس کے بائیں طرف پا یک یزاون کے اس
بجی وض تہ بیج
3 ال * نے ابلور مع نار گجوایا ھی جخاع کی کیل کے بیز والہ
گور نے خاکسا کو درسہ اتی میں داش لکرایا یرس اریہ خحوضصی ورپ
زی تیم کے حول اور فی اخرا کے فا مکیکیھا۔ برس اتی یں ہمال
تماد ہے پیل مولوی فا لک یم دی جا تھی بعد یس ۰٢ می ۱۹۴۸ء کو
ےک ام ہوا یٹس میس پے دو سال مولوبی فاضل اور بعد بش وو ال
تخب طااب کو ںکو بطو ر ملغ ری کیا جا تھا بررسہ اعریہ میں خاکمار کے
انیس سے متروف اور بزرگ مخالی رم مولتی عبدلرن صاحب نٹ
م0 ضاخب اود کیا عرصہ حخرت مولوی جم احائیل صاحب پلال پا ری
اور نضخرت تاعی سید ار مین صاحب اور حر ا ا
24
صاحب کے علاوہ ردار عبدال رن سال مھ تھے مہ سب بزرگ تیگ ' ٹر
نوا اور ججررداسامزو تھے ا نکی زم رمگراٹی ماکسمار سالماسال مد دس اجحدبہ یل
0 اص لک رح را پچجھ عرصہ بعر رت حافظظ مرزاناصراضر صاحب ھی مد رس
ار می داقل ہوۓ- ناکما ر کے کلاس یلو تھے - مولوی فاض لک لگرىی مل
ے اب انیو ری سے حاص لکی-
بعد ازاں پزریجہ اخاب ناکما رک جامعہ ارب کی مجلشی کلاس میں داخلہ طا-
بی اک کیہ کا ہوں جامعہ اب چچار سا لکی تی مکامرکز ہوگیتھا- کن جامعہ ای :
سے بن طلیہ نے مولوی فاضل مک تعلیم حاص لک ری شی ان کے لے اب دوسال :
کا حرصہ صرف ججلفی یی کیلع مقرر تھا-- اس امظا مکی وجہ سے بد رسہ اعد" ۱
کے لپلض اساجزہ جامعہ احریہ می پر وق مقر ہو او عفرت مولدی سید جم :
سرور شاہ صاحب رکیل 0 ور پے مقر ہوۓ اور وو سرے اساتزہ فخرت ١
مولوی اساعیل صاحب لال پر ری“ عضرت میرسید جھ اححای صاحب' عفرت |ٗ
مولوی اربمتر نال صاحب اور رت عافظ رونی مل صاحب کے علاوہ نضرت
عافط مبارک اض صاحب اور حخرت ممولوی مھ بار صاحب عارف بھی تیم دی
کی غرض سے مفرر ہوۓے- مہ ایسے ہز رگ اساجزہ تے جو جامعہ کے اوقات مل
تعلیم رین کے علادہ ات یں ا یں کی کے ا
خوب ماد سے تضرت عافظ روشن علی صیاخب ایل دفعہ بیار ہو و اپ ےگھریں
چارپائی بر لیے ہوے فقہ کاسیقی دیا- ریہ سب کے سب اساتذہ بے عد ہعددد تر
نوا تھے حطرت مولوی سید ھھ سرور اہ صاحب گی بلاناظھ جامعہ سے پھ اور
بھی دوسرے اوتقات میں اب ےگ با کو تعلیعم وپ کا امام رکھت- الد تما ی
ان س یکو جزاء خردے- ان سب اساتزہ نے خوب ٹوپ اپنا فریقہ ا جام دا -
25
جامہ حر کی ملیف کلاس سے یو کے مس تر وو وں کے
انروإ کے ریہ آ رہ مغ نے والوں کا انشردید لیا-- خاکسا ری آ شرب کلاس می
ول ططاب معلم تے.- آخری اصتحان یس تین کامیاب ہے ویش جم
می عبرالقادر صاحب سالق سوداگر مل اور ماکسمار- انردیو بیس بی
کامیاب ہو ہے ان ونوں مبلتین کلاس کے طلبا مءکیلنے ضردری تھاکہ دہ پ رمنمون
کے بر چہ می سکم ازم ساٹ فیصدکی خ لیس اور مزا نکل مس بھی خماص نببت سے
یر اضصل کریں- آنری کلاس کے من اس سال نامور سکالر اور دا ور
رگ تے- ناکما رکویا نآ ربا ےک مقالہ کے صن حفرت ڈ اکٹ می مھ اسم ایل
صاحبٴ تھ۔ 1یک تڑفی خا کے معن ححفرت مولانانشٹس صاحب تے ای طرح
روسرے مضائن ادر ول ہے بھی- متقالہ میس نماکسا رکو ٭٭امیں سے ۸۰ نہر
سے اور تجلبقی خلا میں ٭٭امیں سے ٭ہ٭افیرنے- ولظد ا مد
یی ڈ ااخت کے بد خجیفی ف راک شک اضعام دہی
فی پک لی ضنری ماع سے جب کامیالی سے فراخت ہوگی نو ہندوستان
کے مخلف علاقوں ادرشروں میں تقرری ہوقی دتی- یادپڑنا سےکمہ سب سے پل
لرعیانہ شمرٹی نظارت دعوت و تحلئغ نے مماکسا رکو بطو مغ کنوایا-- لرصیانہ ٹل
زاکما رک تام زم صون سیر عبرال رجیم صاحب جو ان دنوں جماعت کے بتزل
جرٹڑیی تھے کے مکان بر ہوا- وہ ریاوے میں ملازم تھے حقرت سج موعود علیہ
العلو ۃ وال سام کے 1یک منص صھالی ححضرت عنایت تی شاہ صاحب کے بی تھے -
لہ ویکفغفیلڈ گج میس حخرت صوئی ام جا کے مرید اور ان سے اص عقیرت
نے ا رپائیشی نشی اور امریوں کے بھی ممدوگھرانے تھے ان
26
ین سے ایک ذوست میاں تر عم صاحب تبل سا کی مشور و مروف شخصیت شی الا
اوز عم کے لوڈ رجنٹرڈ جلر عا و جن ون سے حلومعت کے ر یرون اور 1
کاو ںکی جلز بن دی کاکام ااع کے سیر تھا ان کاا بنا مکان تماجو دو ضزلہ تھا شام
کے وقت پالا مان کی چمت بر خجبتی مجمہیں موس مک رما مین فاعم ہیں“ ان کے ۱
بس ٹیے میاں غلام نی صاحب اذر صن مھ صاحب بھی اپنے پاپ کے کام جلر
مازی میں شریک تھے ش میں ا نکی دوکان بھی تی ا
رخیانہ میس قیام رإ الوم روزازہ بعد نماز قرب میاں نوز مم صاحب کے مکان لا
تھابقی مالس کاانعقار ہو:ا را روزانہ بب قگوگی نہ کوئی خی راحری مولدی ما اع کے ۱
3 لب شیک ہو - ا تھی طرخ یادے او راس دقت ااظار :"ا
سان سے غکان کے بالا ان کی ادی رکی مت پر اخیاب اپنے اور رق ہوتے اور
سوال وجوا بکی ہہ مجلس قائم نہوکی - ڈڑھ دو ماد تک نے علسلہ جار ی رپا یش ۴
ادقات اگر بے اس مہ کے مس دی ہو جاتی تو ویکغیلڈ گن کے نوجوان لپ لے
کر شام کے وقت صوقی صاحب کے مکان بر اکر جھے نے جاتے ان نیقی الس
کی وجہ سے اور لیا عرصہ کے قیام لد حیانہ کے باعث اس شر کے اج ری احباب
ے پ افو س گرا تتلق موانست کا را ہہوگیا۔ ان دنوں ماسٹر کت لی صاحب
ل١یج ذہا نک رخمنٹ کول میں نی رت جماعت کے پر نٹ تھے رت کا
معز علیہ لصاو واٰسلام کے ایک مصحالی رت خی امم وین صاح ب بھی ان دنوں
الی رکوغار سے ححخرت نواب مم علی ماں صاح ب کی طلازمت سے فارغ ہوکر
ارعیانہ میں میم ہو جے تھے عالم تھے- لمت یکتب کا ذ خر ان کی ما ر ےکی
تھا جاعت کے خلا ف کسی مولوی تے جماریی مجابنفی ید وچی رکا شعرہ مز نک رحطرت
کی موعودعلیہ الصلو والعلام کے خلاف اشتعال اگ تقر یکی اور آپ کے خلاف
27
7 زانی۔ حضو رک یکب سے لن مو فکو غلط انداز میس بی یکر کے عوا مکو
ڑا امن سلسلہ می اکسا ہک وکسی سابقہ دی اور ہز رگ کے کشوف کا مطالعہ
گرۓ اور ضروری <الہ جات کی تلاش کی ضرورت خی می ا یا
مولویو نکی اشنتعال اگری:ٹی کاجواب دیاجا گہے-
زاکسار رت شی ام وین صاح بکی خدممت مل الع کے مکان ب عاضرموا-
اع سے ا انی آی کی خرض ائی- اضمون نے فلا مد الج اع رتناب وین کیل ھکھا-
ایس کناج کے میا لع سے اکسا رکو مطلوبہ حوالہ مل گیا خر امربوں کے
اض کے جواپ میں اس حوال کو شا ئ کر کے ان کے اشتتعا لکو دو رککرن ےک
ال ید کامیاب صتی گی وف و ریا کی تیریں ہوقی میں- عخرت کک
موعوز علیہ الیلام ک ےکن فک بھی تی رحھی٠.- امدللہ اس جواب سے شرفا کو
لی" فا نیت ہوا:؛ و تاعت کے اب کو خا مسرت- لڑعاذ اک
احاب اس بی جدوجہد سے جو روزانہ کا ایک دستور بین چکاتھاادر سوال دوجواب
یں ے نا سے متا تھے- حرت شتی اج رین صاح ب بھی ؟ ان کے اواتے
٦ء مفھالن مم نخان ہے !اة ناشن بات ےدک کیا ہزرہ
ہے حفرت خی صاجب کا خاکسمار سے ایک نماص تعلق ہوگیا۔ اس تل کی بناء
ایک دن انموں نے جج مالی رکو لد سے آ جانے اور رت نواب مھ علی غاں
صاحب سے انی تاد کے معالمہ میں جو تنا زم تھا کہ میس رو زا نہ حخرت غلیفد*
وت شض فوا صضاحب کےامعحلق :کھت ہوں جس مین ات
"/ت وت تا زی ذرف اس کرت ہؤں-تاز کے تلق
یں ایا کہ ان کے سا جو لی معابرہ ہوا تھا نس کے مطابقی انیس ادانگی نیس ہو
بی - خط میں اس کا ذکرکرتے ہیں - خاکسمار نے ان سے بے نکر حجرت اور
28
ینا کنا کی ہم خاکسارکالہ نا نے اق جات عطای لن ےس
سپ سکع ٹکیا آپ ہدرگ میں- می آپ کے کو ںارک ہونا ت
9 2 7 آآب حقرت واب صاحب
ا تی ہے ےو مر
ا نے ہی سن
طرح رت نواب صاحب بزرگ حا" حطرت سج موعور علیہ السلام کے
مقر باصن حر نشی صاحب چھے آپ کا یہ خ کناچا یں لگ آپ پآ
ج زی ےپ طریق ین ےک آپ و رکی خدمت میں جاک زی اپ اما
لی و ری رر رع
جس سےمتحلق خی کیا جاک ہکس مد کک درست ہے پا یں می عرش کردا
ا کین ہج سے بن قکرزیں- ال تزائی حفرت شٹی صاضبکو نام ترک 7
٣٦۳۷ك و رس
اس عر ضکو قیو لکیاادر یح ہے ویک بنزش صاحب'اکرچہ خاکساد گر
میں ؟ تہ ہیں ؟علم بین ان کے متقالمہ یش یں ایک ادف خر ھ_گکراضوں نے خوش
لی سے اکسا کی با کو نائی یں پک قو لکی- معلوم ہوا اس مال کے دل
میس نات مار نہیں مہ دای ہے جوا کی بات کیک بات چوں چان سح
زا قول کر ے اچ نون رت خی صاحب ضور ید اشنا
2 رر و را
70 ی یب و و وف
موم کی ورتی اور ھا کی صورت پیراہ وگ
رس ملا قات میں حضورنے لرعیان میں جماع تکی سا او ریف یف سے
29
]یں بھی ان سے دریا تکیا- جس بر حرت شئی صاحب نے کہ دل سے یہ
ی۴ ضضور ای۰ 'وجران ہمارے ہل آ کل آیا×اے - ”یبا رک-"رن
ات بھاعت کے احیاب اور فوجوانوں کے سا تم لک یی مسائی میں ممروف
سے روزانہ ججلینی مالس منعقد ہوکی ہیں-- اجحری احاب اور نوجھان خی را ھی
وت ان بیالس میں شریک ہوتے ہیں اور سوال دجواب اد رکش ایل انداز
ہیں وی ے- حقرت خی صاحب نے بڑے ا انداز یں لدمیانہ میں می
۱ ہیس یہت
ات وک وی مھا حائیل صاضت بلال پو دی اذ جخریت مولان علان
کب چو جس پوس جورت سے
فماا-- اللہ تال ان :رو ںکو اپنی رحمت سے نوازے انول نے بھی میرے یارہ
پچ ایس پچ اذ جخوری خوشنودی کاباث ہدئے اس موںع جنر
ساب سس فا مار ککوی س فی بھوائؤٹا* جرت ضٹ یآ مھ
دیع صاخب کے اس وک رکاجو اث حضور بر ہوا اس کے تلق میس ے٢ دب رجلہ :
حالافہ ۹۳۴۳اء کے دوران جضمورنے انی تقر می ناکسار کے یارہ مندرچہ ذیل
الفاظ یں کر فہایا:- د۵
نے مغ جھ بدا ہو رس ہیں ان میس بھی اجلے نوج ان تل
رس ہیں- مواوی مج لیم صاحب ایک اجچے ملغ ہیں - مولوی
مارگ ات صاح بکی تا بلیت اس سے پل معلوم نہ شھی اب ظا ہز
تی ہے ہار جماعت میس ایک صاحب ت جو اب فوت ہو
ںوہ جن کے متعاق حہ جن یکیاکرتے تھے تھا کہ عافظ
رون علی صاحب مرحم کے متتحلق بھی کلنہ چٹ یکر کے تھ - اب
30
یں ای لیا وت وی سے < یں کان
۰0 پچ
۱ 7ن س توب
زرعیانہ شر تق میں یئ اس خوقع ر ضردری معلوم ہو تا کم
7 لے سس ہج
کے کہ ری سوہ
,>> رر روہ سو سے وا
کے ا و فی
۵ رہ یی یہ ا
7 18888+ و
۳ ا رر تپ ےسا
شر وا جب الا ظما “شا کیا٠
پا من وکا
موگورو :
اض نے اع کا ماع تا
میں حضرن اق سکو زبروست ران عقیت
۶ ھ0 : ِ
رم سو 7 و
2 ا ا ا ا پت
نل ۰× جون۱۹۳۱ء ص۴۵م)
۱ ۹9۹9۹ 0
ری و سے را کال اکا
بے بوتہ. اس بات سے نماض خوشی اور سرت رہ کہ ام عات کی نقردری 1
31
ابی جدوج دک آغازاس شمرے ہواجمال ہمت کا آاز ہو|- وڈ ار
ماکسار نے اپے لئ این شمرمیسں لقرر یکو مبارک فا لمگردانا- متودد عرتہ
دارالبیعت میں جانے 'نمازیں ادارنے“ذکم ال یکمرن ےکی فی پاتا رہ لد عیانہ
سے سال کی ت روایات وال ہیں - حخرت بی مو عورعلیہ العلام کا یماں
تیر مرحہ قام اشتمارات ' طباعت کا کب رن احربیت میں نمایاں ظورے بایا جات
ال پان کے نف احیاب س گرا تلق رہ تی کک کے بعد میاں فور مھ
صاحب کے نادان کے افرادہاکستان آک اہو ر میں آباد ہوئے- میاں لام نی ان
کو نے تے بعد بیس خاکسا نے ان کے بھائی سن رضاح ب کید کے
ا ام کے ووں میں سزاجیکی ترجمۃ الترآ نکی اشاعت کے رعمل بہونے بر جلدسازی
ازرم لے ہکن کے ینک ڈائریک تک کر خی ذل بایا-
آ کل بی دوست ادن می ہیں - جماعتی کاموں میس ما دوہی لیت یں.-
یں انی فیا تک لاو ارت دجو تنا کی برایت ءر
ساس شع کے ملف دیمات میس بھی جان کم تع متا ہار تن
راک کی ادا یق ھی- :
ول کک می جمیت اپھ یٹ کا جس ۴۱۵ا اد ھب ۹۳۳اء ہو رپ ھا-
لن گا پردکرام ین اححدیت کے غلاف مضاین بر تقریریں بھی تھیں- جراعت
یہی ددخواسعت پر مولدی غلام اھ صاحب بعد 'مولوی مہ سلیم صاحب اور
اکسا بات جانے کا1رشاد ہوا راع تکی طرف سے مناظظرہ کے ل ےکو شش
را تہ نے انکارکر دیا- اس سکس لہ میں اخار فطل ٣ء
جنودکی ۱۹۳۲ء مم ۹ میں سب زیل تقصیلات شخائع ہوگیِں-
7چ ھک مگزشھ سال بیماں کی ” ععست ااور یٹ" نے اے
3 عسمہسمصصمدتج ,
۳مہ مد سسم۔-
وت انا عجل کیا تھا جب کہ مقائی احمری اپے جس سالانہ جم
شمولی کی غرض سے تادبان جا گے تھے اور عحسیت برکورہ نے
اح پر نکی حدم موجورگی سے ناجاتزفا دۃاٹھاااد رجچراروں نے با
کس کی الا ع کے ابی تا رر میں اع یو نکذمنا رکا ٹچ دی اس
لئ و موق یپ نے با بن شعیت ا اور بث کت کے ار باب است
کشر سے تر و تقر یی ر راف تآیاکہ آپ لو گگذشہ عا لگا
طر حکوئی ال یں کے پا اتاد :ما ظروکرکے پلک بر مق دہاش لک
وت :نے وش کے ؟ امن با ران ین یں اطائ 3یں۔ رہ
لزا ۓ رخفوا مت گز شن مال کے تر سے ہم یت اب یٹ کے
روي ے واّف پ نات
مان جیز سے لئے نا ظرصاحب دعوت و تن کی خدمت مم
ورٹواہست بی نات 70 نظارت گا رایت کے مات
مولوی خلا اج صاحب میا مولدی مم سلیم صاحب اور مولد تا
مبارک ۱م صاحب مین می ٣ا حبربعد دوپ رکللن تیگ -
جب ہار ما رکی باد وپانیٰ اور اتتضار کے پاوجو دکارپداذالتا
زی نے کال غاموشی اغقیا کرک نز پلک بر یقت عال دا
بے سے لئ دکھلی شی * بیام سملرٹڑری صاحب جمعیت احر یٹ
کلت کے ز ریہ قیام عالا ت کا نما کرد یا اور سا بی بب یتکھاکہ
ک کو چا جے بنعیت اپ بی ٹکو میران من ظرہ میں گے کے گے ۱
یو رکرے ورتہ ا کی اہ ےکوچہ مم ہے احعلیو ںکوفر تک لاہ
سے رکا جاے- پھر مات اشہمارات کے زرلہ اإئریٹ
33
را رو ں کیپ اکردہ غللا ھیوں کا ازال کیا جا رآ تر جب
انصاف پپند اوکوں نے ١ رکان جمعیت ابل حد بی ٹکو منا ظرہ کے لے
یو کیا نیوں نے جمارے نام ایک ٹشھ ی کپچی جس میں لاک اکر
زار سات شرا ئا منا ظرہ ل ےک" رلیں- ہم لوگ عین وت پان
کے مکان بر جا بن ےگ رشرائیا نہ سے ہونا تھے نہ ہو ئے- ہرچند ٹیر
ری احاب نے جو بکثرت وہاں موجود تھے اچے مولویو نکد بھایا
کہ شجرائا لے ہونے دو اور بے جا ضد نہ کرو -ک کہ تم تصفیہ
شرائیا می غلط راہ اتی رکر رے ہو گران کول اث تہ ہوا-
تا کہ جمارے دوست پا رڑى صاحب تیت ابل عد یٹ سے ی
ویر ول ےک رکہ ذ٣٦ بے شام ا نجھن ات یہ کلگتہ یس حا ض رہ کر ش را ئا
یلین ہے. واپیں ٦ نے گر افن و کہ سیا ری صاحب
موصوف ان میس تخریف نہ لا -کئی بار انف باددلایاگیاادر
خی اص یو ںکی مرف تب یکملواپاگیا گ رتو اپ ندارو-جب زیادہ
زور دیاگیاز جواب آیاکہ ہیں اپنے جس سے فرصت نہیں - مان
کت
نوع گور ران فا با دا کرت ر ظا"
ری صاع بکرم ےت زالا تک کرو سے تھ نے
مواو یو سے اع کے ج٭واب و ریا تکرے - :
اس خغیراتھرىی صاحب نے اچتے خز رح ے الع سوالا تک ہچ ا لیا
٠ے کرو ء زا ت مت ض +لفلٹک
ریا سے مولوی صاحب نے چا ککر کے انی نگ فظرٹی کااضم ور
35 34
دارم صاحب نے خاکسارے ذکرکیاکہ جع ہک نماک ادای
'ب,ر َو ور عدخبہابرنگ زاےگکت ڑکا رکا مر ےگا“
کی نگریم صاحب قادیان لہ دارالہرکات می جمارے ہسایہ یس رچے تھے -
ا" ےکی دن جھ ےیہک رکیا امیر حخرت چو ری صاحب کا
ای یت ئل کی ت مکی دی خدا کی نزفق لاہ ری بی نیب میں -
پور کے تام میں ھی رفضل صاحب اور میاں عمرصاحب ان دفوں لی اے کے
لا جللم تھے- ناکسمار کے ساتھ ہرموقع بر ساخقہ ہوکر جھائتقی خدمات بی مد
کت رت اور وی لیت رس - جزا عم ال ان الجزاء
اتی روں ریاست بماولپدرمیس تتغ کا کا مقدمہ زرر حاعت تھا- مجر اکر
ضاتب راس کی طرف سے جج مقرر تھے مقرمہ تن فا نکی ماع ت کر رس
تے- رماع تکی طرف سے حفرت مولانا جلال الین شس صاحب الو رگواہ بی
تھے اتی وداافت میس وکیی کے پیش ہون کی اجازت نہ می ہن برمیں تار گی
ہو جک ت- ناکسار بطور تار مولانا کے سا بی ہو رہ-- انی مشورہ محتزم
چوہرری اسر اللہ ان صاحب اکنا رکوا تن :از اکسا لطور مار عزاات کے
اتی پت یکر دو جن عرتبہ ہماول پور اس متقصد کے لئے مولانا ٹم کے سساھ
چاناپڑا--لعد مین مولاناکا ہہ بیان ”زمقرمہ بماولپور' کے عنوان ے تی صورت
یں اما کی گرانی میس لاہ ر کے ایک برلیں سے شائع ہوا-- تلیفی اغراش اور
نین کے ا عتزاضات کے جو اب میں میہکنابپچہ ایک مو شر او رکا رآ ناپ ہے
تار اص ریت می ںکواے:-
مطرمہ پاوپور ے عالات و وافعات کے سللے یں ے ٹانا
ضردری ے کہ اس مترمہ یں حظرت مولانا جلال الد یی کک
اک خھودت دہا- عالاککہ اس مرا حر بی ے ہرجن عفایا نکیاکہ شڈل
ری خی ہوں - نید ا را آپ جھے ان سوالات کاخ اب دی
لن مولوئی صاحب کے سسانئے ا سک کوک یی ندگئی -
مجھوی طور بر پیک پر اپچھا اث سے اور اکٹ خی راحری خصوں]
نوج ان طیقہ خی راجری مولوایوں ہا وص مولوی شاء اللہ سے خشت
بن سے اذ ر کیک متا کی امیرے -"
کہ کے ایام قام میس محترم بر وفیسرعبدالقادر صاحب جو تمہ سید سائرہ تا
صاحب کے براوز تھے - بہت شفقت و محبت سے لے رسے-- ایک دن ہم دولو
مولوی مم لیم صاحب اور نماکسا رکو ایک عر بکی دوکان پر لے گے او رتا ۱
”الفخری“ ری کر ماما رکوانخزہ کے طوز یر یٹ نکیا سکاب می کر
اڈ کی زیرکی کے مقر حالات بیان ئ گے ہیں.-- انموں نے کہ کے انم
اما تکی می را ی-
اہو ر شرمیں حنرم مولاناظام ا صاحب میا (بدو می )سج تھے دہ دد ڈیو
ا کی رخصت پر گے- غاکسا رکو نظطارت نے اس عرصہ کے لے ما ور می مخ
کیا- یما ں کاایک خاص واقہ اد آ رپا ہے- ایک خلیہ جمحہ میں لابو کی جماحت پا
جھورکی عالت می نشی اخمیں بیدا رکرنے کے لئے زور دارخلیہ ھا پیرون دا
رد کی کش اتا ونوں محنژم قاضی مج اسلم صاحب ام رماعت لاہو
تھے اس خلیہ می ںکی قزر بھی تھی صن انفاق سے حفرت پچ رر ی
فراٹر نخان صاحب ولی سے لاہور تشریف لا ہو تھے اور اس خلیہ بی فا
بھی شریک تھے ان دنوں دی سمازش کے مقرمہ میں چو بر ری صاحب معرد
تے لیان دیک 1وج و نکی کسی کام کے سلسلہ میں لاو رآ تھے - بعد میں ا
37
صاحب ادر مولاناظظام اج صاحب کے جانا تکی تار ی میس خقرے وہاں بی تشریف لاکر خمرو حصرکی نما زی ش کر کے پڑھائمیں اور پھر
حافظ سید مقار ا شاہ صاحب جان پور یی نے از عد مخت وکاوشی جل۔ کی کار ردائی ترو ہو لی -"
فرائی اور معاوخت کا تن اواگر ری|- ای رع مولانا خ عزید رن اص یت می ںگھاے:-
مبارکگ ام صاحب اور مولا نان عبد القادر صاحب او زی پر ری مر . ای زمانہ میں چن مبارک اص صاحب فاضل اور چّ مولاتا
شریف صاحب فاضل جو جامعہ سے تن سن فار غ ا تصیل ہو ۓے تھے عبدانقادر صاحب پاضل بھی لکل پور میں رس اور حخرت مولاتا
گا تار ایک ماہ تک بطور معاون مولان جلال الدین صاحب ٹس کے ا رابڑی صاحب کی مت میں خلفی میران مس علی یت حاصل
ساہھ مصروف گل رے .-* 7 رے۔*
( رن اص یت جلرے ٣ ۵۸) ((زار اص یت جلرے ص حم ۵ے ۹۰۱۷۶۱ء١)
لاک پور حال یل آ یش جھاعت احویہکو نفضل دا سی فقیری 2 ۵ تی ر ۱۹۳۲ء کو بقاعت امہ شملہ کا سالانہ جلمہ تھا- اس جلہ میں :
ی- تحیل بر ضٹرے غلیفہا لثالی لال پور تریف نے گے آپ نے ا امولیت کی نھارت تغ نے حخرت مولانا خلام رسول صاحب راچی گرم
کی ادای سے اس کا افتاح فرایا- اس موئع پہ جشاعت نے جلسہ کا بھی ظا موی میم صاحب اور خاکسار مارک ا ھکو شملہ کھایا آررئی پرلیں مش
کیا۔۔ صخرت غلیذۃ اک الال نے پر معارف خطاب سے عاضری ن کو زا اعت ان کی فجواوں ۰۰۷+ تھاواں ہارا قام وا- دس پارہ دن
ححقرت مولاناظلام رسول صاحب راجیی کرم من عبداقادر صاحب اور خاکما رکاارا ام زہ- جلسہ فضل دا کامیالی سے منعق ہو .- ار لضل میں اس ہل
بعد یس پند دہ دن تک گھرنے کاارشاد مایا مد کے انح اور حضو ری تقر گی رپورٹ شملہ جماعت کے مک رٹری جن کے نا بکی طرف سے مندرچہ زہلی
سے جو کیک ان ہوا ہے اس سے فا کدہ اٹھایا جائۓ اور دعوت الی اللہ کے فری فک ا ہولی:- 1
کماحقہ انام دیا جاے- جمائی بلس میس خاکسار کے علادہ ھخرت مولات رات" ”جماعت اج یہ ش لہ کاسالان ہلے '
صاحب اور مولوی مھ یم صاح بکو بھی تقر یکرنے کاموقع ملا ح ر حا جریے" ”این اریہ شملہکاسالانہ جلسہ ۷۱۵ا سرک خی سراخجام
می ہنمد ففل لال پو رکی ققیراور اج "کے عنوان کے تحت یہ ٹوٹ دن پایا-عخرت مولانا لام رسول صاحب را گی اور مولوی سم
ے:۔ ۱ صاحب اور چ مارک ام صاحبنے ملف مضامین پر ہمایت برلل
7پ یگل ۱۹۳۳۲ ءکو مو لا ناش مارک ات صاحب او ر موا نا اود ان پیراہہ می تقر ی ںکیں اور حخرت ضس مو عو وعلیہ الصلوۃ
میم صاحب نے ماڑتھ بارہ بیے کک تقر یکیں- پھر مضور نے ۱ داللطام کی صدات ہاب تکی- (ش لام عی اسشنٹ سیلرٹری
38
6۴
(الفضل ماکز رم ۱۹۳ء)
اکنجر می اھرت کی اعت تے س الات خجقی جس کاانعقا رگیا-- اس جلہ ٹ7
شلیت کے لئ خیار ہلل میں جو اطلاع شائع ہوگی دوہ ی:-
”مولوی جلال الین صاجب شس مولوی علیٰ مر صاحب
ای ری اور ارک ا صاحب ام تن رکے سالا نہ فی جلسہ میں
تقر یکنے کے لے گے ہیں قادبان سے اد ر بھی بھت سے
سر اک
(افضل ۰× کز ر۴ ۱۹۳ء)
سچھ رمع رام پا بھی اکسا رک وکسی اع مم کے سللے من جانے کا ما
ا- ان ووں ثرت نا صاحب ووالقار ری ان برادر اکر مولانا شوکت طٗ
ان صاحب “مو لان مم علی جو چ بھی دہاں موجور تے ان کے ال ی ام ہوا- ۱
گڑ میں ایل پراگرہ کے العقا کا اعلان ہوا فتنظین ۓ لف اوارون
مائیزو ںکوشائل ہو ت ےکی دعوت وی<- قادیاان میس بھی اا نکی دعوت ادر پا
ہت جس بکرم مولوی مح ہلیم صاحب اور اکسا رکوو وہاں گچواپاگیا-- اس نماک
میں یک پنلو اسلائی ن ری کے خلاف تھا- اس جناء نر یں جھائنی ہدایت پر۱
میس شمولیبت سے روگ دہگیا-
اور میں سیر لی کے لس کا تظا مکیاگیا- وع ۱۹۳۳ء کے آ خریی ہف
رز مات نے نے کر وس 6 کے ا رادیب انس سا ل بھی سارے ہتدوحا
می جا ختوں لے منخق کر ری تھیں- .اس نال کے مج کی جو مفمون مقر
گمیاوہ کہ ہم حفضرت گل نے خلا کاانسدادکیاادزاہیے وا مین جاری
39
سے آزاد شد: لام اھ شری بن یں اور عزت کاعقام حا لک رھیں-''
او می ںکئیسالوں سے اتراری شورش اور مخالش تکی وجہ سے بی جب ےکامیاب نہ
پک - پر ار مخالشی نکوئی نہکوگی رضنہ پیر اکر وی - پنادرادر سارے رعدی
لے کے ان دنوں ام رحخرت نقاصی مج ارسف صاحب" تے- انموں ے نظارت
تی غرمت میس در خواس تک یک ہکئی سالوں سے پپٹادر میں ا را رکی شو رئش کے
إحت جلہہ کے کامیالی کے ساد ضعقد ہونے میں ر وی پیدا ہو جاتی ہیں- بنا
ہیں جل کی کامیالی کے لئے اخموں نے یہ مجوی: یی یک کہ حتزرم مولانا جلال ال دن
صاحب شس جو عال بی میں انگّتان بس فیضہ خنغْ اعلام انام د ےکر والیں
آئۓ ہیں انی پنادر جوا جاے-- او راگ انی نہ مجواا جا کے فو مولوی علی شھ
صاحب ابمیر یکو نوا جاۓ- فظطارت نے جضور از سکی خدمت میں ىہ خط
پٹ یکیا۔ اس خط یر حضور نے نظارت کو ہرابیت فرائ یکہ نے چار ناموں ے
اطلاع دی ''نظارت نے حخرت قاضی صاحب کے بی ںکردہ وو نام اور تمرانام
رت حافط مبارک اج صاحب پر وف رجامعہ اح ریہ کالکھا اور چو تھا نام خر میں
ماکسار عرش مبارک اح کاب یکیا۔ ضورنے جب ان ناموں سے اطلا پای و
ا ماج کے متحلق ارشاد فا اہ اور کے جس مین انیس پیچموایا جا - ان
ون حضرت مولوی شی رعلی صاحب تقامقام نا ظردعوت تا تھے حضرت مول وی
صاحب نے و ر کے ارشادکی تقیل میس خاکسا رک فرما اکہ یناور کے جلمہ یر؟
000-22 - خوب یادسے- حفرت مولوی صاحب خاکسار
کے خیب مان مہ وا رالب کات خو وت 2ف لاے اک براہت ے آگاہ فرایا اور
لا بی نے از شا کہ ” تق رکیل ابی طرح تار یکرلین۔''جیساکہ او رک آیا
ون اس سال یر !لی“ کے جلسو ںکیلۓ موشوع آخضت اٹ خلامو کو
40
خویشسوشستفنتٹھتسیسسجًًٗٗچجتهہےے ے
آ زا مکرنااورظائی سے آزادی کے بارہ آ پکی تیم اور با ریت تا ھا-
قادان سے بمعہ کے دن یناو رکیل روا گی عصرکے بعد قادیان ریڑے مین
رب ا رکیل مسر نی میں تشریف لاۓے-
رر رون افروز ہو تڑعاجز نے مصاف کیا اور عاکی در خواس تگا- خودکھی رما
کر - تقادبان ریاوے میشن سے ام رتسراور ام تسرسے لاو ر ریا سنہ
پنیا فرنی لی لکی انار یس چچھھ وقت خماکسار نے پلیٹ فارم ہگزارااور خرب
2339 820۳0 - دا تعالی کے جفورگریہ و زااری سے دعاک
اور ان الفاظ ٹیل اچ آتقاے استدعاگی-
*ھیرے مولی و آ قایس تیرا ایک عاجز بندہنو جاور عال بش
تییفی میدان می واضل ہو اہوں اص جرب بھی میں پاد ر کے
امیر تو حضرت شس صاحب کا مطال کیا تھا-- اکسمار نہ بی ولا نا
شس ہے اور تہ ان کے پا یہ کاعالم - مہ دو رے پز رگوں کا ہم پل -
اعت مرعر کے امیرخودبڑے عالم “سکالر “او رنقادؤں - آپ تی
اس ما کو انی خاص نقز مر سے علم سے بھی نوا زی ادر اص شر
صدر بھی عطاکری اور جل. سرۃ ال طلغ رمعموی کامیالی سے
عق ہز اور آپ کے ہقرر وکردہ غلیفہ وت کے موی کردہ مقر رک
تقر رن کیا اع صلاحت و لق عیب ہو-''
ٹر رکل آئ- - رماگ] ہوا اس پ صوار ہوگیا- -عماراراستۃ وعاگ رت 1-0
بفتھ کے روز ٹین یناد رکینٹ گی محزم حضرت قاصی رارف صاحب
کھرم اگل صاحب پراچہ اور کرم الطاف غاں صاحب یش بے خاکسار
666 37 ریف لاۓ ہوۓ تھ- شرکی رن مس فلا یی خل
41
صر میں ناکما رکو بہچااگیا۔- سد کے اوپر کے حصہ میں خود تقاضی صاحب رہچے
ت۔ نیاکسار دبا لا نوج ان خی رحروف'یے بزرگ خقرات اور ووست سب
احاب جو سارا دن مم آتے رجح ادر مُھے دیھتے رہے- ان احیا بکی نظروں
ہیں اور با وص احباب صرعد کے علاء طبقہ میں اجٹمی موس ہوا رپا کہ
فراز مقرب کا وقت ہوا خنخرت ای صاحب نے امام تکراگی - ا نکی اقتزاء
میں ٹیاکسار نے نماڑاداکی - سار اون احجا بک یکیغی تکو دک ھکر نمماز یس ہہس تتگریہ
وزاری سے وعاکی وش می جو تی نماز ضحم ہوئی ماکسار تےککھڑے ہوک راحباب
سےکآمادو ایک منٹ سطنوں سے قمل احباب تشریف رکھیں-- ایک خاص جذبہ سے
راس وقت ال نالی نے مہ عطاکیااضباب سے خاطب ہوا او رگیا:- و
پ پر ینا نکیوں ہیں - مد اتھالی نے 2آ پکی دم تکیلئے
ار کل جچاے -*
ان الفاظہ کا سمنا تھاکہ حخرت تقاضی صاحب جماعت کے غاٴ ہزرگ اور
رت سج موعودعلیہ العلام کے صھالی نے بھی اص انداز اور جذ ہہ سےکما ”ہم
_٘ انشاء اللد ججلہ۔ کامیاب ہہوگا' 2070 - رعاں ٹین
اار کے دن فریر کی سکول کے وسیج و عراش من کو تقالینوں سے اور
اطراف می سک رسبیوں سے سھایا ہوا تھا-- ایک اکچھی عرزکا ٹج با یاگیا۔ جلسہ کے دو
مین تھے ایک قب دوپ جو اردومیس نھادو سرا بعد دوپرجو اگری:ئی میں تھا- پہلا
اجلاس شرد ہوا- حاضری فے تع سے بو ہک ر تھی معززین شمرہندو سک اور خر
آ از بقاعت مان بھی شریک جلہہ تھ - مقر رککرنے واموں میں لف نبرا بکی
خاش انا اور مروف بستیاں تھھیں-- اس اجلا سکی صدارت حتزم ان پمادر
43 42
جنموں نے ہمایت فراغ جو صلی سے اس وعو تکو قجو لگیا-- جناب
را بمادر پرچند کھنہ صاحب ایم املی - بی ہند و مما چھا کے
صیدر جحتزم نے فرنیر کی سکول میں جبلس کی اجاز ت عطا فربائی ماں
و زو جس دوا جلا سوں میں خمایت خوش اسلولی سے سرانحام پایا-
الا ادل ز صدارت جناپ غان پہادر مرزا غلام صر الٴ
ماع صاحب سابق ا ضرمال پاو را ا کے لع شروع ہوا - سا مین میں
رف بب کے خوائدہ مز بن موجھ تھے -- حلادت ق رآآن پاک ولعت
کے بعد جناب متزم تن لہ جنٹی صاحب لی اے- الکی- ال - لی
عرزاظلام صجرائی صاحب سال ا فس بای ن ےکی- اس اجلاس می جناب چ الل کنل
صاحب ال ال بی“ مردار ملاپ مگ ٴ سار جن مارک ات اور حضرت ای
شجھ وف صاح بکی آخری تقر شھی- ہرمقرر نے اپنی تقر اھ اندازش
وقت مفررہ کے اند رش مگی- - ناکما رکی تقر کیل کنی وت پل سے بی پر وگرام
میں مقر تھا جب اکسا رنے آحفضرت انی اعلی تعلیم اور آپ کے اسودادر
تل مکوجو خلامو نک و آزاوکرنے کے پارہ میں شی تفصبیل سے بی یکیا نے اس مبسوط
تقر کا وقت ضحم ہو رہ تھا حخرت تقاضی صاحب نے ہاھ کے اشارہ سے ےہ
تقربھ جاربی رک کاار شا وکیا فضل شیا حضو ری پاکیزہ نعلیم جو خلائی کے اناد ۲
کے بارہو میس تھی اور ا نکو انا شی ت کا من نمونہ ب نکر اجک شور اور باوقار ادراكْٔ ا لہ ا سم دحا لیت زندگی بے ایک اوت
عیوروں پر سرفرا زکرونن کاروبہ تھا- سامشنان نے اسے شوق سے سااوراس ے ١ آموز برجتہ مقر فمائی- ان کے بعد جناب مردار ملاپ سگے
صاحب جو گی خدمات اور سیاىی قربانیوں کے باعث صوبہ می خا
|0 اس طط کی رٹورٹ اخبار الفضل تاوبان نے بب ر۹۳۳اء کے برچہ مس شرت رھت ہیں سپ تشریف لاے ادر مات عبت بھرے چنال ۱
[ ۔ حجحول عرن ےئل گی ۲إ - الفاظ مشش ان فربا کہ ہم اسلام ادر بائی اسلا مکو نمایت عزت و ا
١ : اتزا مکی ٹاہ سے دیھے ہیں اد ر جاے ہی ںکہ بای اسلام نے د ناک
”ناو ریس ا تحاربزا ہکایک غائ را راظارہ“ پر ؛ محبت' کی ہد ددی اود بمادری کا سقی سکھلا بے - عردار
صاجب نے تلایا کہ تام نا ہب ایک دو سرے کے ساتھہ مج اور
صحص.سصسصے اب ٹس ا 2007 کت
77 ,.ِ یی ں99 ف8ۓ
تار وت ونام
١ * ناو ر ٢۷ نو ۱۹۳۳ء صوبہ صرح دکی ار نم پطا ۶ ۱ کے کا سی رر
ِ۰ و تا ہم ہت ان زہب کے نام ب عداوفوں اور خومتو ںکی آگ بھڑکاتے رچے ہیں
۱ پلیٹ فارم پر جح ہ کر اتحادع کی شاندار مار ت کا جیادر ھا- ا کےا یا جات کا یی ےکی ےون کی ان نے اور
یں ا ا یا کیں و وگرو یکا نرہ لگانے پر مکھوں اور مسلمانوں میس سرپچھٹول
کے ےت سے وت رہتی ہے- سردارصاحب تے اس با تکی ضرد رت اہر یکہ
ش کو بھی تخب اسلا مکی تیر ون صیف میں شمولی تکی دعوت د یگئی
44
اس ملک میں ابے نر بی جے بیشہ ہوتے را ٌ7 ا
نہ بکی عزت و توق لف الف اہب کے لوگ با نکیاکر ہیں کہ
رج یت نج
مم کر تن کے مد ولا ا کت اھ
7ی" ری میں خلائی ادر ا گا
لات عالٹوں ؛ و زاس کے ا دا دک ان باون کو جو ای اسلام علیہ
الا نے اصوا و گھلا نیا کے ساتے پی کیں میان خرایااد را کہ
از شک رجات مین ےم سیت
جا اور مان تیم دی ہے - اس پ پہلا ا جلاس ددییے شہو-
٠ دو سرا اجلاس زٍ صدارت جناپ عردار راچہ گے صاحب
ہے یس یْوسھتت
رود بت “بے بعد دوپ رشردرج ہو اس ا جلائس میں محر“
ابان درگ یسل عفرا تثرت شال بد تے- طاوت قرآن
ید ونعت کے بعد جناب مولوی نذعہ اج صاحب ای سٹوڑنٹ
اسلا من ال او رتے ادا وفلائی کے متفلق رسلا علیہ السلام
کی تلم پان اگرزی جا نکی - ان کے بحد جناب لالہ خر دم
صاحب !یم -افے پوس رمشن کا ا رنے را سلا کک حالات
گی پر زان اگ ری صلمل ای کہ تقر فرائی ور خا کر
ےڈ رو ہپ[
کر کے جانا ؛س ت لی کے زریی آخضرت گا 6ئ کن 7ر
45
کے گرم ا ھے رت ور پر س رشن عر بی ۶اپ
> ھک ےت
پل یی 7 جهاأ ید سك پورول ہے
لے کت ےنا انیس اذ انی کی مکووسحت دبی جا ٣
رو ا 2
گا کرک جات ار ری ری
ا نے لاملا ملاسلا کے بض رات زمر
اڑا ود کے انز یں مزا گر رگ ور
تقو رک ذ کی اپ اخدد زان ا ربق ہے کیو کہ انروںے
اس د نول کا بلائی ادر رای کے لے این آب بغار
701 نے اور مو ہے
تد طافقت عامل ہو جانے کے کی سے انام لے کی ٹوا ر
گا ات کے پل صن رعیدالہی: صاحب صبائی نے اس مو قح
کا عال ایک ری تم نماصت د لپ ا از یں سائی جس سے
ڈگ ات
2طت اس زمر وڈل عرزن وذر رن
ا ین دا کہ جیا معوزمقرری نے تہ مال
وا می مکوویادودست دس وشن جاری رکی جانے؟۔
ایا الا کے دو ران یل بارش کاخلیف مائرئم شروخ کی
: اھ کا دہ سے عاشرین شامانہ کے یئے کم چپ کور
گھ۔ اس ففارہ کی طرف 3ر
لاتے ہوئے در محثزم چناپ
وو ھی ناسل خی سو وا
46
ردور رجہ گے صاحب نے ا افشائی تقر میں جو انگ ریم
ہے و ٹر و ہےر گے
مد ادنری نے بارش لگا صورت میں اس طرع ظا ہر فرماگ یک ہک
کہ رمسلم صاحبان موجو و تےگروہ چداجدا
عاضرین جلمسہ مل بندد
ٹولیوں میں ٹیہھے ہووے جھے - ج اون کریم جک اس اتادداأضصال
کو زمادہ مضبوطبنانے کا رآ دو رکقاے اس لے اس نے اتی رھت
ار سی شل میں بیج دی جس نے تمکو بد رکردیاکہ ددڑ دو کر
یک چعت کے بیج کے ہو چا در اک دو مرے کے سات اکر
ٹل جناب صررنے پاغان علسہ وحا شر کاشگری اداکرتے بو گے
زا یک سک بے چو نے او روہ ان جل آے جب کہ اس لگ
یس خلاف ب اہب کے لوگ ای یگ کی رح ایک ج یکن کی یت
رر کے سٹ
ری ا ای ا ا
ہوا-
( خاکسا راع گل برا چہ می رٹری فان ام یہ پٹااد) ١
و ا ا ا کک
٦ رر کے
تقر کے اتداء
7ی پ5 یرپ
رس پر اثاسی سرۃب تق ےکر ےکی ےکا لق تک اہ مان لم فا پرایت سے کی ہت ار
و ا ار ا ےڈ کم کی رای پراست
آ ضر تکی سر اما مال یں ھ-بنابریں یکاہ دوک ا جانا کپیسسٹت
پوے
47
شر تکروں کا رم ال
نے 5 رین کی نقرروں سے جو ردری معلومات ره 5
21 تلق مل انی ارک مک تم اتوس
ے6 لاس میں شرک تگی- فی یں سی اور( ماکسا ری 5
ان ٣ وہ۷ گی نقرر سے تار ہوا ہو وس
امو نک تھا یت ا ۶ وید
١ ےون .جس تھے لاازا ے
ئن نت
ہت ترک باففموص ان بھی ہوا چان بے
اف شی رپورٹ گجوانے کے علاوہ عفر خلی: اگ
فدصت میں جار کے زرل اطلارع کجوائی- علسہ کے کامیاب ہو نے ر ۶
ا ا ا1ا ا
با رگ پاو
ْ دی اود یہ بھی بنایاکہ تضمو ری ج
بھی بنایاکہ تضور رمک ژن پناورے جا رآ تق ضر و
با رو ئا
ر
خصرے یش و اے
پر تپ ریف شرمام اوج 7 تپ
ایا- و ےل خوگی کے اظمار کے ملق اس عائزکابھی ذکر
۴ء کے ٍ ۰ئ" طخرت غلیہ لی انی نے
2
ای ان ے ہم رد
ر- راولٹڑ ٠
را ایا ین
اترک پت - صوفی صاحب اپنے و زی کی
7 ڑ ت 7
سس بش
. 48
غطىه.-ے۔ٔ ۔س۔آؤی _یے
طرح سر یگمرسیئجے- ان اشن ساس ندعیت کا فاٹس کے بارہ یں اکسا کو چتھ
عم نہ تھارے- ۱
مر ی مرک کر جماعت کے ھرکز جکدل میں قیام بؤا-- ان دنو ں تھی رای ا
ٹیش جوبن بر حخی- ناکما رکو حضورکی طرف سے یہ پدایت شیک سی کے ہا
کھانا شی ںکھانا نہ وعوت قیو لکرنا- ڈیڈ ماہ کے قرب غاکسا رکا سر یتگرمیں ام
ہاور ور رلیں اور جھاعتی تزیت کا وظیفہ اد اکر را - کسی وت لاجر ےگا
میس چا رض حراب سے مل کا موتع بھی مل جاج- ہبی اور یت یکامو کی طرف
ی وم تی۔- موحم کے شمریہ رد او ز آپ و بذا کے موا فی نہ آنے کے پاٹ
ماکسار بہار ہوگیا۔۔ نظطارت وعوت و فان کے انع دنوں ناظ رعخرت سید زبن
العابر یی ولی اللہ اہ صاحب تے- یرلیہ تر اپنی نار یکا زکرکیا- عر یتگرمیں "
ڈاکٹر چوپڑا سے چیک ا پکروایا- شون نے آپ و ہوا کی تججد یی او ا کا
۱ ناموافقق ہونا رض کاسبب تلایا-نظار تکی طرف سے ب ابا ھآیا-
۱ ٌ 117“ ٤ہ ط٢۷٣ 0 3 ۱
خاکمار نے وجوالی می اور انی اس وق تکی عالت کے ٹیش اظربے کجھ میں
ار کے زرلچ جواپ دیا-
١ 7۶ ۶۹ ۶ وت
۱ ۱ ان اروں کے کآنے جات ےکی اطع اذر نول 630 والوں نے سرک گر
۳٦
۱
وم تکو کا وی چنائی ہبہ دنوں پو گورن مشیر سردار عط رسک در اکر
٘ جزل پولیں نے اکسا کو اپے ہاں بلاک رکھماکمہ یہ ت'رریں آپ دمے رہے ہیں "
1 مولا نا کیاکر رسے ہیں- شی با اگ یاکہ بماری کے باعث مہ یں دا ہیں"
ْ کہ ان دفوں قرت سید زین لان ول ال شاو صاض بکشمی ابی مین مم
بھی اص نوعحیت کے فرائش انام دے رسے تھے ان کے نام نت رو نکی ہتپ
۹5
3
ان ام نے بے مجھاکہ یہ تاریںکوڈ یس سیا کی فو عی تکی ہیں - انی بار بار جا اک
ڈاکر چو ڑا 7 کرتے کے بععد اپتی ارک ی کی اپنے ھرگز اور اف کو
اع دی ہے ممکن پاؤس کے ان ر بی کردپی فرا ئل اشام دبا ہوں لان پردو
ظا یہ ےک تاریں 6ہ الاطمش میں اور سای فوعی کی ہیں - ال خر جھے
چو ہی ںکھنتوں میں علاقہ سے لے جانے کا عم دے دیا- خاکسار نے ھرک کو سس مم
سے ا براس راوپنڈی دائیں قادیان آآے کا ارشاد ہوا- قادیان ش
ا لن پک ا و و کے الیک ملمان پروفسرکھی تاریان آۓ-
تصور نے از راہ صخشت سیددام طا پ رصاحیہ کے ممکان پر شمام سک ےکھاتے بر عاب کو
اود پر ور صاح بکوادر چو پردی اصد الہ خان صاح بکوجو پروی کو ل ےک رآے
تھے بلایا- خاکسار سے جب حضورنے ساراواقیہ ری ریش جو کہ ہو اسنا کھل
م ساد صاحب جو مکی گر ک ےگورنر مرر
نا نے اس مع مکو مضسو کر ویا- شار لف ضوع
ان الفاظ می دک اح ہوا-- جع ا ۶"كەئە0,
رباص مھیرے اتک ا عیمس خر نکاعم ضوع
یھ ہت
ات ےا تی فا تیکولم قو کرلک اس
ّ ہے ایب بس ے وتوان او قادیان آگۓ- کرت
ََ الال کی قوج او مگرائی میں ا نکداعٰ تیم دلائ یئی-- ایی ایی و
پش اتی اداروں میں کا مکرتے رہ اس پرپئی پڑت وجوان کا
الام قو لکرنے کے بعد حبوب ای نام رکھاگیا۔- ای نام سے مروف ہو تے-
مل یر اتکی مسلمانوں میس ا نکی شمادی ہوئی رم سید عبدائی صاحب جو
> اے مسمسمسممشتتد مسوسوسی ہی مت ا
ہے ۔
جسیم :
سیت سو وم سے سے
سس رت 7--77751
51 ۱ 50
سأ _ ے- 7 لن
آ کل رید میس نا ظراشماعت ہیں ان کے داماد یں- ا بت مث ہوں-(الفضل اتی ۹۳۴ا صے ء٣)
۳۳ء ۹۳۴ا کے وور میں لف جماعتوں کے چلسوں اشعوں میس اہ 9 شی گر مع لاہور یس مولوی مھ اسایل صاحب روڈ ی سے مناظرہ ۱
شرکتے کے علادد توخا ظمرو ںک ی بھی مفضل ند غاب کو گی ذیل ان۷ ۷د ۱
5 0ں- شاو یکین ضطع یوب رہ کم جولائی ۱۹۳۴ء کو مولوی عبراللہ مار :
: ٘
۱
ہنا ظکروں او رججلسوں میں شرلت : تو ۰ 7
ببھنک می اس عرصہ میں مولوی شاء الل صاحب ام ضری سے
لی جولاگی ۱۹۳۳ء میں لرحیانہ کے مہ تقاضیاں می باب عبدا شمیر صاحب ۱ 7أ کی ٹیلپ مناظرہ ہوا-
آ رس ل کرک یرد ز از سے من ظز م6۔- نبا رالفضل مو رنہ ٣٣ جولای ۹۳۳اء ۸۰- ای غام مولوی اء الد صاحب سے من ظرو کے بعد ھن ککی جائع مجر ۱
صلی وی اس س کا راع الفاظ مین ووا:< ای دد مرا منا ظردمولدی نوز تین صاح بگرجای سے بدا“
یھ" ا جولائی ۱۹۳۳ء مٴلہ قافیاں میں چّ ۱ ان ہد مناظرون میں صزر کے فرائش حضرت وہر ری غلام جن صاحب ٰ
مپارکگ اض صاحب ال اور پاب عبراطی۔ "ا یلاڈرک ا اف سکولر نے امام زنیے۔
اح 7 رسل کرک قرو پا را مزا ظز ہو1 خی ای مناظر ۱ اع تب مناظزوں میں بن دا کامیالی ہوئی< الین استجزاء اد اپ
لال سے پا لیل ا تاب ہو گب عو ون وو نال اکن .اھٹا کون سے پک میس نام ہو تے- چن منا رون کے بد یھ یی بی
۱ یی انی سب منانکرو ںکی تتصعیل رع اصریت جلد جشخ میں موجودہے- ان
۳ ٰٰٴ'ُ'مممم ۱ دو سمالوں میس ۱۹۳۳ء - ۱۹۳۴ء میس عا زکو ہنا ظروں ؛ جما تی جلسوں اور اجناکوں
٢۷ 1 ۱ مار ۹۳۲ا ء کو زم میں سیر و باغ م سکم مواڑی مج سیم ما" کے کی سمازت نی ری او رن یتح و رت جن کک ملاءآور مم
٦ طاحب اور ماکمار نے مولوی مھ یش نکولو تار ڑدی ے وفات جاور صدراقت فی رماتھیوں کے سات کی ایک جھاعت سای میس ش رک ت کا مو شع متا رہا-
ٌ۱ یچ موعو ویر من ظریکیا-- (الفضل ٭اابرىل ۹۳۲اء صف۳) ای وتوں جامعہ اتدیہ کے علباء اور فار غ ا 'تصیل با کاوفد رحب دیگیا
کے ےر ماف آ پا لع گو جرانوالہ می اپپوریٹ ماظر نیم امتاز ول ناارجمنر نماں صاح بکی گگرالی مس اس وفر تے ہندوسمان کے اہم
١ وی زیخ تا زا کی نے مرو کادود کیا پ وگرام کے مطابق دن کے وقت ملف شبروں کے سولوں “
۴- زی اکب صاحب سے مناظرہ ہو دونوں مناقروں سے سید الا ول کوں سےکیلوں کے مقابلے در رات ہک ان شمروں میس یں ک۱ تام
ھا- ہمان ٌ صاب ا اضف شب تک کی کرت اور
53 52
ہوم رہ ان تقربروں اور یں میں اس عاب ہک بھی مو متا را :
اس عرص میں حقرت مولاتا عپرا تم صاحب درد اور حفرت یم تل و 2
ال رن صاح بک پیرون لک پلترحیب انکتان اور مخرلی افریقہ تح اسلام کا مشرق ا فی کیل نقرری
خر ضکیلئ رواگی کے وق تادیان کے ریوے خلیشن پر ایک ناگوا راو راف ومناک
واقیر ہواجو بماعت اور حظرت غلیفۃا سڈ کی سن رجی کی وربا رضم ا" جیساک ہشن صفحات می لکھ چک ہہوں تق ر ۱۹۳۴ء می جماعت اریہ شمل ہکا
باعث ہوا-- خحقی نکیل ای ککمیشن بویھا-- ا سکی رپورٹ پر حضورنے ائل تقادیان یھچہمےیسشس کک او اتل ۶
کو !لی ران مض بای ایک بڑا جع اس ون میس آیا- حور لے للا ھجم صاحسبدادر اکسا رک موا یھ ابی ہم ہب شملہ یں ىی ےک
ِ تا کئال ایارک ار ٹس کا نظارت دعو١ت و لی طرف سے ناکما رکو نیردلی (مشرثی افریتہ) ک پاسپورٹ
ےر مرکو تھے زی سز قرائی .اترام اوک ون کا ےکی ہدایت بوئی اد رم مولا مہ سیم صاح بکوفاسطین جان ےکی ہدایت
نیں رومان ت کی سزکیں دیں- اس موق پر عضور نے اس عاج کا ام ےکر وی اس پدای تکی یل یش رد ری کا روائ یک یی اور شملہ مس بی پا سپورٹ
ام ور دک رڈنا شرع ےک وف ام رک رک کا کے فارم اور ٹوٹ وشیرہ پاسپپورٹ کے حول کے لے عکومت کے سیر 7
کے جچمہے ھچ ےر لس کی آاشلدسے قادیان دابیں نے کے چند دن بعد پا پپورٹ م لگا اور نیدی جان ےکی
ٌّ شرددٹی تیارئی مس محروف ہوگیا۔ بماعت اریہ نیردی نے وہاں ش دید حخالفت
باقث ہرکز سے مطال کیا تھاکہ ہیل میں مپجوایا جائے- الن ونوں جماعت
دی وی کے سیک رٹڑی جن عخرت تاضی عبدالسلام صاحب تے جو ایک عرصہ
ول دہ رہے ت او رگور فمنٹ سول میں رت - ان دنوں وہا ںکی خخالفت
گاذک کرت ہوۓ عرکزی و زک وکی:-
من ماں حخالفت تخت زور پر ہے - ہمارے غخلاف سخ تگنر ہاور
اشتحال ایز لچ رشائ کیا جا ہے - چم ہفت دا ر ان اشتمارات کا
واب شائ کرت ہیں - مخالنی نکو ایک چشی ر جرب یکرکے ا سال
گی ہے جس میس انیس مناظرہکی شا ئا ےک رن ےکی ھا ے .-
ے مزرورولا-
سےےسصک-ەُحعحعحعےں چشچخچےوو سے ے۔۔_
کے مت مض غاب ت ہوک ری ہے
ت کا عام 2 چاے ری ا نا یک کے
کا کت وا ا و ناو ہے مر تس
: (ا تار كفضل ۴ ۱جو اکی ۱۹۳۴ء ص٢)
رت
مان نیت شرسناک رق پ> اعت اضر کی خالفت ہو
ا پز ای کے فضل سے رض و ا ہے
- _ نیک وک و و
سوازت تے وا ا گی بھرن صورت بے - مالین کے
اار١ ت کے جواب مکی ض۱ باب رتا کے
رہے ہیں
5 ۰
ر سے و ں -
0
(|افضل ۴۴ جو (اگی ۱۹۳۴ء صفہ٢)
اعت کا ہہ ں تسا تھ.- نیدی ماع تکی درخو ات
ار یروف الف کی شر کے پش نظ راور اس ال کے باح ث کہ منا ظا
فو رتا ہو جات اص اندگیڈ کے خیال سے نماکسا رو ترولی جات ےکی مرا
ہوئی- ناکسمار نے اع عالا تکی بناء بر ضردری ار ی؟ ضرور یکتب اور ۶
۴+ 4 ,0 ضز
ریگ کی نا دو ران مناظر: گر ضرورت ڑے نو اص لکتب سے حوالہ تا
کھت جا یں
20 عقرر ہوگئی-۔ اس کا اعلان اخار آلضل
مرج ئل الفاظائیس ہو گیا
55
دا 072 تھے
طط5 اج
(افریقہ) ہلل جانے کے لے اآ لوم م۴ ۱۹۳۴ء صا حے
اور اون کے
مرو کضروئ۔ -ص ھ0
مر یکو شی بر ری چو
اٹ تما صاخب/ٗ
خاوی سج
الف ے وب وائٹ ے۔
مالمار تقو رکی علاقات سے فارغ ہوکر
۸ کچھ
7
لا اے
ِ> 0 6“
ے طافات
اتا اور رم شا صاحب
56
رکتٹشٹش/رو 9ں سہبوےسسمىس۸أأیی۲ی۱ٹیٹصسسش
ان سے بی ح نکر شاکسمار نے شاو صاحن کو ایا کہ ابی حضمور سے م لک رآ رہ ۱
ہوں اور مضور نے نے ىہ جھے برایت فرائی ہے ” چچلون نمیس انی" حور کے
اس ارشا کو نکر شاہ صاحب نماموش ہو گئ- ایک لفظ بھی منہ سے نہ گالا-
وی شاو صاحب اک سے نے اور ماکسا ری نقرری بر اشمینا نکااظمار فرایا-
قادیان سے رواگی سے قل احباب اور عزیزوں سے لے اور وعوقو ںکاسلسلہ
شرورع ہوگیا۔ سا سا ضزدری تیاری میں بھی مصروف رہ لح بذرکوں
سے پا وص م لکر دعاکی درخواس کر ربا جامعہ اریہ اور عدرسہ اتربہ کے
طلباء نے نماکسمار کے اخزاز میں دعوت جاۓ دی وخبار الفضل * میں اس
وو ت کا زگ رہوا:-
ددوس نو بربور نماز عص ربا یر رسہ ام یہ اور جامعہ اجب نے
مبارک اص صاحب مولوی فاضل کے اعزاز یں بد دس اچب
می ٹی پارئی اور ای رلیں بی یکیا۔- جس کے جواب میں تن صاحب
نے حق تقر یی"
مزییراسی الیشو میں بی لھا:-
<ئْ صاحب موصوف تن ہے بعد دو مکی گاڑی ے بعزم
اثرلقہ روا ہویۓ- احاب تارمان نے ہ کر کو 4
الوداع گیا- حظرت غلِفۃ 2 الثالی ایدہ اللہ تما لی نرہ الع
پاوجور علالت شی کے اپ غاد م کی زت افزائیکیلئے نیشن پہ
تٹریف نے گے ١ور بی دعا فرمائی - جن صاحب کے گے میں بار ڈالا
اور مفاقہ فراا- جناب نا ظرصاحب وعوت د تی طرف سے بھی
صاح بکو ہار پہنا گیا گالڑ یکی روا گی پہ احیاب نے نرہ اے
ور کب
7
تب ریلنر سے -* (لفضل ٣نب م۱۹۳ء)
ٹین اھ رتس کی ت2 ہی جانے والی ٹری نکی انار میس یھ دنت پلیٹ فارم پ
گگزارا- ٹین آئی ادر سوار ہوا اور کی کیل روانہ ہوا راست میں ولی کے
ریلوے شی پر جماعت کے بھت سے احباب نے اور الوداع کک ےکیلئے تشریف
لائۓ ہو وے تے- ان سے لائقات ہوگی- لتض دوستوں تے دعاکی خرض سے
خطوط بھی دیے- چند منٹ ٹین رکی- احاب نے یماں بھی دعائؤں سے رخصت
کیااور نل وت مقررہ پر کبیئی پنیا حرت سینٹھ سابل آرم صاحب نے
یت 89 کیا ان کے ہاں دد ایک دنع قیام رہا- عمباسہ جانے وانے جماز
"یی ری مععلوبات آ3 فلت کی خر کی یس ہی یرت
اما یل آدم کا ماک تھاون مد ہوا- چماز میں عرشہ (500010) کا کک تی کیا-
بمازے رداگی ہوگی اس کا نام (0٭ 1م ہ7) تھا- دس دنن کا سمنعد ری سفر
ند ری ابردل اور پچگولو ںکی وجہ سے خخاضص پ بای کا باحث رہا- عرشہ پر بی سز
اکر باقی مسافرد ںکی طرع لیٹا رہا- لننے سے طبیعت تقر رے بھی رنئی- راس ۱
میں بیشل کا جزمرہ آیا- جماز یماں بھی ایک آدھ ون شھبرا- اگگریزو ںکی مللت
یس ىی پہ جذ رہ ہے- د سںگیارہ دن کے بعد عمباسہکی بند رگاہ کلنڈنی نیا
کلنڑی بث رگارہ رکم جن صا تر صاحب ای رک تے اور بھائی اللہ ھ
صاح بمنائی ککرییک اد رترم ہاو مھ عالم صاحب جو ممباسہ ریلاے میشن کے
چی گر کک رک تے انوں نے نماکسا رکا ٭۷ ہ٤ کیا-
عباسہ ت کر محنزم مرعوم و مففور اکبر علی خماں صاحب کے مکان رپا مش
ھرے ما موتقع ا- ۶۶م و ا مر ا کا کا را ا
ردرفوں کا خیال رکھۓ- ہر رب احدادکرتے- ان کے فی عمزب: ظفرارد رے
58
اس تعلق ر- فا ایک دن کہماں قام ا--_
ماما رکی بی سے روا گی برا ضا الحضل نے خ شا کی اور پت
ناو مرن ریہ تار اطلاع موصول ہوٹ یکہ جن مبارک۹ھ
صاحب مل نیردلی کی سے چم زیر سوا رہد گے یں <"'
(م افضل ٣× نوم مم ۱۹۸۳ء صفہ١)
میا کے بر ایک آوھ ون .را مگیا ان ووں 0ہ رر
ات رت تک مت ےت ود زان ابی اکچ کا رکردگی کے
باعنق سی نےب ہد نت
"7 او رہ 0۰ گھی.۔ حضرت باب صاضب عرضہ جواافوت ہو ةَیں-
و ناس تق - یردب زواگی سے پل یا ای روز
الو مم عال صاضب نے بر ملف کات سے اڑا پچھراینے
ہے رن 7ز پور سہ پعرردانہ 30 ك.كل"ھ۴
لے ون می کے وقت تیرولی مین جپی-
نیدی ہے انگریزںی عکومت کے زمانرش وس وق ۔اورٹ پل روڈ دا ے۔
اکٹ آرٹٹ ف ال مد کا ٹوٹ بناتے رہ ہیں ۔نیردل ایک خوصورت شرہے۔
آپ وہوا ول وت ےن زیادد سرد اورنہ بی زیادہگری
مورے۔
:۸۷/۸ 6 کہ 2۵ ٥ ۵عدام )٥ط ٢٥٥ 13 زماہ۲:ہ۵
ندوستان سیئر ہوتے دانے ای عکامک اکن یں باہو ے۔
بسااعت اریہ کے منعدد ورگ افراواور متعرر عو کا گی 0297
ٰ ے
تروٹی جا ں آراور مہو رجہ آجاز
مشرقی افریقہ میس احمبہ مشن کے باقاعدہ قیام سے پیل بی اشماعت امر یی ت کا
انفرادی انداز می کام قدرے جاری تھا ناکما رکی خقین سے نہ ہابت ہے کہ
۷ء سے اریت کا گرا کار ہو٣ را اخنفنار نے اس قر رکمنا ضروری معلوم
وت ہے لہ مرتوم و منظور رت میاں مھ انل صاحب سالقی ای بٹراخیار
”بد ر “لے اعری ہیں جو ہندوستان سے ممیاسہ (مترقی افریقہ )ٹیس آے اوران
کی جہتی مسائی ہندوستانیوں تک بی محدود شی محتزم حضرت ڈاک رحمت می
صاب ا نکی بن سے احریت میں داخل ہوئۓے کیا یوگنڑ ا ریلم ےکی تق رکے
ماحلہ میس ہنددستاتوں کا ای کک رطبقہ اس علاقہ میس موجود تھا ڈاکٹر رححمت لی
سا لیا ددد رن یمان آنے ہمجرت کے ماق کے رت وا گے تھے پھر
تحت ڈ اک مھ عبراللہ خان صاحب نے تصوصا مجن قوم می اش پنداکیا انی می
جددجعد سے جن کے ذربہ من قوم کے چند افرار جماعت اتب ٹل داگل
ہوئے سے افراد )١۷۴۱۱( مھبرد کے حصبۃ میں ہا ججاتے ہیں - 016:۱۳ کا قصب ہک نیا
کلوی مِں ے کین ڈ اکٹ عبداللہ خان صاح بکو ٹانگا یکا بھی جانا با اور ورام
ا می ہجو ادر جز:۔ سے تارف مین - لان کی لات دحا تاور یک
اف . نب آج بھی اس علاقہ کے شب راج یکرتے ہیں۔ ان کے ساتھہ اد ری چتد
یں تے مال سام مس ای لازوں کےکفر انی ہیا زا نے کے
ما سج بیغ اص یت کابھی فریضہ امام دیا اور نیردو یکی جماعت قائ ہوگی- پھر
سے ہے
60
اس جراع کی تلیفی بد وجمد نوم ۱۹۳۴ء می اریہ مشن کے قیام کا باح(ث تی -
نیدی یش بر حم سید محراج الین صاحب پرڈیڈرنٹ جماعت احدب ملا
اوران کے نے پالک مرذا عبدالفی صاحب چھے ین کی آنے ہوئے تھے حابی
ملانذات اور معانتہ کے اعد حھبزئیژن ےکابوں کا ٹرتک عاص لک ر گیا
سیر کے اج ےت گزم ہر صاحب اپڈا دو سیٹر(+388:8) موٹ ھکار رآنے
ہوۓ تھے ای میٹ بر اب ساتہ جے ھا پچ ان کانے پک ٹڑھا- ان
نون بی ایک مض مو مار ہوتی تھی- بزاعت کےکسی فرد کے پاس ان دتوں
ماکسمار نے کار نہ دیکھی اور ىہ کا ری اض پا ی- اپنی اس گاڑی میں ٹھاکر
ماکسما رک انڑ گی بازارٹیش گرم بھائی ووست ر صاحب 22 روکان پر یھ
وت کیل چھوڑ گئ اور خوو میدن لکونل واٹ ڈیپارٹمنٹ جس کے دہ بیڈ کے
ہے رف زرل گے
مم بھاتی ووست ر صاحب ہزرگ صورت اور >چرٹ ظ رآۓے۔- یىی
پاش بی ہوے ٹیارنک کے کام میس خصروف ان کے سان ان کے دد بھائی بھی
کا مکرتے گرم بھائی شر صاحب او کرم پھائی عبرل جن صاحب ٠ الن گا
روکان ٹیارگ نکی حی-- یہ جملم کے رجے وائے تھے بای دوست مر صاحب
حضرت مج موعور علیہ الام کے صھالی تھے لیے عجلے والوں میں عزت د71رام
سے یھ جاتے۔ پاب کے آہا کا الوم اوج مگثرات وخیرو کے لوگ جو
وی می عطلف پٹوں اور اموں میں روف تھے ان کان سے ما لن ھ- اکر
یی زین تن نے ناشن یت رن سس کرت -
ہوائی ون حم صاحب کے متحلق جا رین کھت ڈگاہ سے بے ککھھ دنا ضروری معلوم
ہوتا ےکہ آنموں نے احربی تکیسے قو لکی چنانچ ایک دقعہ خاکسمار نے النا سے
61
7
دریاف تگیاکہ دہ اجر یک رح ہوئے اور عخرت کی موعور علیہ السلام کی
کہم یھکر ےت
واقہ خایا- -
فرت کی مو عو علیہ الصلو ة والسلا مکی شرت نز ییاب میں
ھت گی - ان کے دعوی اور امام دی ہوتے کا ممزکرہ پالموم
رتا جلم بھی عضو ری موئع پر تشریف لے سے می ان دنون
لم می تھ- اپ یکم کے سلسلہ یں لابو رآ ان دقوں صافر
مروں میں جماں تہ علتی سو جاتے اور ابنا پچھھ و تگزار لنٹ -
جس مد ہیں می را قیام تاد ان کے مولوی نے حقرت سی مو عو یل
اھ واسلام ک ذکرچیردی اور اس ذکری اس تےبھاکہ ر11
کے پاتھو ںکوکو ڑھ وگیاہے "اد بھی ھ دز با کی اس پ بے
ال آیاکہ لاہو رآ ے ہو ئے میں قادان بھی ہوم ہیں وہاں چل
گر مرذا صا ب کو بھی دک لی گ ےکیاان کے پاتھو نک وکو ڑھ ہوکیا
دورد آخ 8دان ردان ہو گے - وہک کر سپ یں نماز
پھے گے مور ھی سپ میں نف لائے اور دنم سپ یں
آپ نشریف فرباہوۓ اور چھ تقر بھی فڈربائی ای دوران حضور
اپے ہن کو بھی بلاتے - .بھی اونچاکرتے او رکبھی جا جیا لحض
او قات مقر ہا و ںکو لاج ہے - ہہا ری تج (بھائی صاحب نے جایا
ج وت طرف ری تو ہت صاف اور پا رے ظر
آے- بعد می جب مور جانے گے لذحضورسے مصافہ ھ یکیاادر
ابو رکا قصہ بھی سنایا نس پر پ رحضور نے پابھ دکھاے - ہماری تو
"2
نی وگ یک ہو رکا مولوئی جوٹ ہو تھا 7ت سش
جرے پان :نے نظ زم نے عضو رکو دک ےکنا رآ پک لف
و کو زان سے امن تب یکر حضورکو دک ھ
ےن موس وھ ےت
تیوں چھائی جب تک غا رکا نیرولی میں ر۳ بت پا
سے لے رے۔۔ زم ارہ سن اگجزاء-
ملف مداقع بر غدمت و ناش گی
ساہہو ںکیلے بی فارم بنا کا شیکہ لا
اکا رکی ر اك کا تظام اریہ مس دی کے قب میں اھ ارت ٴ
روز روز بت صاحب' ولا ۶ب رالداحدضاحب
7 ٰ8 2 2
فراخی ہوگئی اور خوب فرائی ہو
کت
تھا ان وون ال ۱۸٥38 جن 1
نے 2
7 ا کن 1
سیر مر اقرال شثاء صاضت اور چ بد ری شار ام صاح بک دبا گا ا سار
1 ۸01
راک کا تام می اى ۸٥٥٥ می سکیاکی- ون ونوں خاکسیا رکال پان جار این
اور سی یی تا ایک انا رص مناخ کی استخا نکر زا یعدمیں سر
زی “سال یر کک دی۔ تاان سے رداگی کے ذقت راج غلام مج
"ررش مر
یل میں ون چلون نا باون کے مقعال سے تو رکا را تن خا ما
خلو رک سال ہی راو رھ عرصہ بعن ضس مجیو ریو نکی وج تھے سجن زی کا
باۓ نش زی لگی بنا رباج ھآج تک ے”
ٰ کا کا
ی٤ب بب , 4 7./.
زان نل
کا و ہے ا رر مو ریس ا
63
ناس اہتمام سے جماشی کاموں کو حراحجام رسیے تے بجھ سے مماعت کے اس
گور کا زتگا۔- از یے ان نے ین کر شک ااداکیا اور کل تا راع تحت
ای کے د تل ات کے دز ران عرت خلیفۃ انثا نے فہا ھا چچارن
کا اتال ن کنا بنابریں نماکسار اپینے معمولی کے لمباس بین بی ملیوسن رسے گا-
باعت سے تارف “جمائن الات ے وا قثیت اور ور ضردری معالات کے یارہ
مقلوبات عاصس لکرنے کے بعد ماکسار نے ابٹی زم دا ریو نکو حتبمال لیا-
یمان بت ذککرنا ضزدری ےکہ ماکسار قرتأ متا تھی برس مترق ا فی کے
لاق١ن بیس رہا ادد نل دس مال تک اکیاا مشنری تھا- ان دنوں مشرقی فریتہ کا
ایک ہائیکھیشن ہت تھاجس کاحرکز نیدی میس تھ- اک یکھیشن کے ححت مشرقی ا فریقہ
کے ممارے علاقو نکی امیک رشن “ٹر لنپپورٹ ریاڑے اور:1: ۶0 اور ڈاّان جات
الس کے مائت تھے - مشرتی ا فریق ہکیڈیا کون وکنا اد ٹناکا زنجہار کے علاقؤن
بر مشقیل تھا ماکیار زی طرف ضے مارے مشرکی ! فریقہ کا امجراور رای
الپ مقر تھا آ خربی سالوں میس عدن بھی میری تحویل میں شال کر لیاگیا اور
رایت کوٹ کہ برسال ند دہ دن عرن جاباکروں اور وہاں چماگ تربیت کے علاوہ
دنر فرافُن اخجام دوں- عرصہ قام میں فضل را ضروری فرائن انام دن ےکی
وپ لی ری جن کا ؤکرتحصیل سے فز خمکن نہیں البتہ خاصس خاصس شدما تکاذکرکر
دن"ا نون - اللہ الننق
یس اکہ اوب لہ کا ہوں ٹیردی جزانے کا متقد یہ تھاکیہ نہماں خی راھبیوں تے
لت کا طوفان برپاکر رکھا تھا- منانظرہ اور پٹ تحی سکی باتیں ہوارہی تیں -
اتکی طرف سے میرے یہاں کٹ سے پیعلہ من ظر :کا چینج بھی دیا جاچکاتھا- غیر
الال کی بحعیت انل وقت ہنروستان کے سرکردہ متانر بن احریت گت و
64
شی رکر ری تج یک ہکوئی وہاں سے ان کا بھی عالم آے- عام خ رج کہ اخبار
*زمیندار“ کے مالک ویر ظغررعلی خاں کے مشورہ سے بالا خر لال سن اش رکا نام
تی کیگیا- چنانچہ اس کے لئے خی را بیو کی ان ممیت اسلام نے عکومت
سے امیمرلیشی کا برامٹ حاص لکیا اور سے بلا لیا-- لال سن اختر اتی بد زبال اور
جرب ز بای کے باعث معانین می اص شرت رکتا تھا-
نوم ر ۱۹۳۴ء شحم ہوا احریہ ہہ موی رپالنٹی کے و نگگزر رہے تھے اتی ۱
وو ںمحنزم سید ماج الدین صاحب فالبا دہ رکے شروع میس ایک دن آۓ اور
میرے ہابت می وس شلنک کا نوٹ تھا گئے- نیاکسمار نے تچ اکہ مہ پھلا الا
ہے اس دن گی بارش اور یو نا باندگی ہو درہی شی -کمرم بھائی شی رح صاحب ا
بٹ اپنے بیوں سمیت مسحد ردلی کے پیرون یس پمولو ںک یکیاریاں درس تک رب
تھے- جب بوں نے اس کام سے فراخت پائی ے ماکسار نے امیس جن شلنک الحام
کے طور پر ین یکر دیے - بست دم تک دہ شوتی ےکا مکررے سے ےآ
ک لکینیڈائیش ہیں ' بج یبھی ان سے جب اتا ہوں ن2 اس واققہ کابھی زگ ر٤ج ے-
یہ تتے ہبنظرا مھ 'ہشارت ام اور غالنا لق ام “نی رامر- جٹراور بثارت یڑا
می ہیں نر رو زگار خو شال ہیں اور لاق ڈیٹرائٹ ہو٣ ے- ماکسار سے خاص
تلق رکتا ہے اور نی رید میس ہے بقیہ رقم می سے ای ککتاب سالویشن آری
کے بک سال سے خری دکی جو عیماحیت کے جیادی عقامد بر مشقتل تھی انمیں
دنوں لال تسشن اخ رنے تیردولی کر شور جانا شرو عکیا- جماعت کے خلاف جانا
حر نیردٹی میں پیر ویے شرو عکر وہیے- مخالفت میں گرمی پیا ہو گئی اود
شرتں۔-
تھاعت نے ان ونوں تیولی ےگرین سا پل میں سیر انی گا ے
65
موضوع بر خاکسار کے لہ بج رکا ا مظا مکیا۔ اشزمار شا عکیا۔ اسے خوب شمرس
تق مکی۔ فمل دوپ رکا دقت تھا۔ جماعت کے احباب بھی خخاص وق سے شال
ہورے۔ خی راحعدری' نی رسلم بھ یکثرت سے ساممیشن مس موجو در تھے۔ با لکھیا سج
پھر ہوا تھا۔ ماکسار کے ا ا تی کا اک ان
لی اک ری پر شی رای احباب کے سا ج کش رتحدادیش موجود تھے ڈیا نظ رآیا۔
کی مدکی تونق سے آخفرت ظالڈاکی یرہ یی رن وۂ شرکامیاب لقرر
کی پوپ عی۔ منزم سید مرا الدین صاحب اس جک ہکی صدار تکر رے تے
اور بھت خولی سے انموں نے ماحو لک وکنٹرو لکیا ہوا تھا۔ معز اور قائل ارام
بیتی تھے۔ شمرمیں ہرکوئی ا نکی عز تکر تھا۔ لیج رکے درمیا ن کسی دقت لال
تین نے شورش پی راک رن ےک یکو ش کی فکھڑا ہوا۔ بج ھکمہ رہ اکلہ جپی کے
انداز یں۔ محنزم سید متراج الدین صاحب بیدار مخزی سے جلسہ کے ماحو لیکو
اک رہے تھ اورکنٹرول بھی تھا۔ فو رآ بو لے ”نتم لال نین ہو اک ککر و لے
ا موی لے ۔ نیٹ جاؤ' سک مگیالال جن ج این نے ا2ج
اھ کی موجو تھے وہ بھی سب کے سب سم گے اور چھ نہ بولی کے اور کہ
گے۔ بہرعال بیج رخردعافیت سے اخظام ذس ہوا اور احاب بماعح تکوگونہ تلی
بو یککہ ان کانوجوان مغ دا کے ففل سے خاص صلاحیت رککتا ہے۔ شم نیدی
یش ماکسار کے اس لے کامیاب می کا نہ صرف اجنوں پر ایک کیک ان ہوا جگہ
یوروں بر بھی۔ تر خخالفت کا بازا رگرم ہوم رہا۔ مال بین انی افتزاء اگیز اور
اتال اگیز نقریروں سے اس می جزید اختعال پیداک رت دہا۔ غیبراتریو ںک ان
نے اجھدبوں سے ایکاٹ کا ریزولیوشن پا سکیا۔ من خیراھر یی دوستوں تے جن
کے رشتہ زار اجری تے ا سک عخالف تک لن اکثریت نے بائیکا ٹکیا۔ اس
دو راع مناظ مر کی مات تل پڑگا۔.
یک میس غیراصرنیوں سے من رہ
کم تہ یچچ چچج ج
ےت
ا ہے ےش ہو ہش
سے سے
ا رر ری سں شس
ا رر رو رہ رر و ا وت
کو رر ہے
ہر تو و شی
کا ظط غ اقب ور موی ین ات :
الا سال سے اس کک میں متیم تھے اس مدان یش گت کی و
7ر و سو سے
٦۶:ء)-) بے رم ہت
سک کی مرم ڈاکڑ بر الین اح صاحب (ای- یی ای مگاڈگیا ے اما
7و گان 2 2 نل رورٹ آخبار اافقل وبا ن کو مجواٹی ادد ا٢
رو ری "1۹ء صفے۔د میس شا ہوگی:-
ان ہرد وکو چو
67
نیرون مس غیرا جربیوں سے تنیم الشان منا رہ
کی ہیں شش
”ایک عرصہ سے مشرقی ا فریقہ میں ایک فیعل ہکن میاحٹ کے
زار کے متحلق مسلمانوں می بیجان بد اہو ر ہا تھا ۔گرباد جو دپل کک
شرت خو|بشل کے مرن حضرت سی مو عو ر کے دونوں مولوی(جو
رما سے ملف میس ےجس مان ین ےکی جات نہ
لت ےک وط ان کے ول جات ےکلہ ق رآ نکر مکی طو ری
ہ00 0900ی 0 7
عالم نہیں میگ کی خی رعا لم اد ر ز یان د راز بی می ما ہرک ہندو سان سے
منکو انا جا گے اور قرع فال لال جن اترٌصاحب ک نام گلا۔
اس جن نے آتے بی خرور در اد رکستائی کے ساجھ خحد اکے
ور کے عقاللہ میں اہ من کی بپھوگگوں کا استعال شرو کر دبا اور
گمذشنہ خیوں کے مری نکی طرح ان سچائی کے دتمتوں کے پا
ایت اء اور خشخرکے سواوو رکوگی ہیا ر ہو جھ یکیاسکتا ہے ۔ تقریی ی
اور تر ری ور بر اس تے باریار منا ظھرہ کا یچچ بھی دیا۔ سے جھارے
ملغ مبا رک١ حر صاحب مولوی فاضل نے ہنظو رکرلیااور قرادپایا
کہ مرو رما صاحب پی رم پڑت رولت رام صاحب اور پپڑأت
آرہ می صاح ب کی موجودگی میں فرنشین شرائیا مباحث کا تصفیہ
پت
68
تصفیہ شرائیا کے مو جع بر مولوی لال سجن صاحب وفات کے
او رات اح وت ے امنسازل کو بت کے سے عقر رک بات رے
لوں بھاتا تھا کانھم حم رمستتفرہ فرت من قسورہ۔
تفہ حشرائط کے دقت بی قرآنی نوا رکی چک ا سکی آمگھوں کے
سا نے پچ رٹی تھی اوران عادل دبلا جا تھا یکو ا بت مشاہ جن
کار حا ن بھی ای طرف خھاکہ بی مضماین بجٹ کے لے مقرررنہ ہو ںتھر
انام کا رھ ایا نشرف ابی ہو کہ بث کے لئ ین مشمون مقر ہو
گئ۔ا۔ حیات سح ۔٢۔ا جر ا نبوت۔ ۳۔ صداقت کی موعود
ےت و کے وی ا ا مقام اور
انظام منا رٹ پا گے ۔
سے و
سے خالی نہ ہوگاکہ مر سی مو عو وعلیہ السلام مولوی اخ کی طرف
سے ایک یہ شرط بی یک یک کہ مناظظرہ میں پچ یکردہ ہرا قباس کے
سا جو ال کادیا جانا رد ری نہ ہوگا۔کیاخوب منصغانہ چو یز گر
و اوت می ا
انام کار ۹ا ۔.٢۲ جنورىی ۱۹۳۵ء بروز ہق وی
او جات میں مسلم سو رٹ سگر اڈ یرد لی ٹیس مند رجہ بالا تین مضبامین
پر مباتۓے ہوئے۔ بہ میاسح ےکیا تھے خدا کے پیا رے سک مو عود علیہ
الام کی صداقت اور ور کے ظ مور کا پاعث تے۔ بجان اللہ
وائیدیشد۔ سک مو عود بجر کی الد کے ایک نو حمرظا مکی زبان سے جھ
ابی کا پغام نیرو یکی مسلم و خی رسلم ہندوستانی اقو ا مکو کہ طور یر
69
اکیا۔ ایک نو رکی بارش تھی جو عم متحصبی نکی ا عو یکو
چنر میا کیمیچتشے فا
علی محمدوعلی ال محمدوبارکوسلم ان حمید
مجحید۔
وفات مس رر من نظ دنا جانی ہے کہ حیات و وفات تک علیہ
کت الام ہے متلہ میں اریت کے مقاللہ یں
برا ىی دہاکی و ےکرا پنی ملس ت کااعلا نکر ر ہے ہیں ۔ مولوی لال
بین شاب انی سج کی بر وک لکر کے یہ بجھ ٹیٹھاکہ قرآن سے
نا وا قف مسلمانو ں کی آ تگموں می اک بھوکک کے می کامیاب ہو
جاۓ گنر جرقزم پر اسے ذلا تک ما رکھاٹی پا ئی۔ شش کلائی اور
شا ا ا اک کی ا ا تا
ماکز قرآنی نوا ر ہرعرتہہ اس زخوں سےگھا ت لککردبتی۔ ایک
سور کی ططرح سھائی ظاہ رہوگ اور ساشنشن کے دل مان گ ےک کلام
ای بار بار سک علیہ السلا مکووفات با فنت قرار دیتا ہے ای رح جس
وو ہے اچ
حقرت ے مر مصطی ما بی وو ت ہو گئ۔
ممولوی لال نین نے حیات کے کے شوت میں قرآ نکریم سے جو
الین ان می ہے چند ایک سے ہژں۔
١۔ اھدنا الصراط المستقیم صراط الین انعمت
علیھم غیرالمغضرب علیھےولاالضالین
٢۔انانحن نزلناالذکروانالە٭لحافظون
آمات می
70
7+٤7 خر امہ
7۳ 2 72 و کے
ادب اور ق رآ نکر سے ان معنوں کے خوت می ںکوکی دبیل نہ یی
گی۔
ایک انوھ دتعلمی کت بی تھاکہ جماں الد فاعل ہو “زی رو
مفعول ہو الہ صلہ ہاور مو صول خواہ اک سسسا ءکی ا اور
بی ہو ۔ تیقہ آعائعی زثرہبجسد العتصری اٹھاے جانے کے می
ہوتے ہیں ۔
70 ,/) ۰
ےکلہ میں یو ں''۔ مولوی میا رک ات صاحب نے سامعی نک بتایا
کہ یہ دہ پیا رے الفاظ ٹں جو ہو قت وفات آ تضرت ت مننٹی زیان
ار ےک _ مہ ما بے عاشتو ںکو ان الفاظ میں تی دتے
ول اور قرآن:فا٢:ے > وتا جعلنا لیشیزمن اقیلکٹ
الخلد افائن مات فھم المخالدون۔ اے مج تھ سے پل
کسی انما نکوبھی تقیرات سے اک سی ز ندگی جم نے نمی دی ۔ جب
کہ بھی جو ہ مکوسب سے پور کر پیا ر اسے ان عق بی ع رکو پور اکر
کے دفات پاۓ گان دو رس ہبی جھ تجھ س ےکم بر جے کے ہی ںکی گر
مدت سے جیا جاسکتے تے۔
ےل رف کک کو ارک اٹ ےکی
کہ قرآن سے اق بی ہابت ہوم ےک حضرت ضس علیہ السلام ضل
دنر انساوں اور تام خیوں کے وفات پاگے ہیں -
2-9 -- 0َ
71
کے ملق ہوم
مد اۓ تمالی کے تل او را سان کے ساتھ
میا رک ام: صاحب اج کی منا ظرنے ہمایت شغ چا ئے یں دی
کے تریب آیات قرآلی سے نبوت اور رح ملعا ین کی ر مت کا
تا قیامت جار ی ہو نا خابت فربایا۔ کی ضرب سے بی اترصاحب کا
مروت ہونا پا ک کی آگھموں میس وا جج ہوگیا۔ اس وشت پیلک کا
شوقی مباح فبراول کے وت سے بھی زیادہ تھااو ری رسلم بل ک بھی
بڑی دی سے من و باضل کا مقابلہ د کچھ رہی شھی۔ لوگ ران تھے
نے لال تین تو ود علامہ مج مور تھا جس نے ور وو ا فرلقہ کے وقت
سے منا ظرہ کے ووت تک شور میا رکھا تھا ۔گراب ایک فو عھراجه کی
کے مقالہ می سکیوں ھہدت ہو رہ ے۔ وہ اچنے سفلہ بن سے اور
ض و جات شی حسخرسے ج لاکو سا دنر قرآنی نوا ر کے مقاللہ
می اس کے تھام جیربے اث ہو ہوک رگزتے جات بلمہ ای تصرف سے
والپیں ابی کے مت پر پوت تے ۔اىی مباصغہ کے وقت اس کے لے
ایک ات کا سامان این مر پیل اد اکیہ چو نبا رکٹ اص صاحب نے
جب لوعاش ابراھیم لکان صدیقا نسیاوالی عدبیٹ ہل کی
نرلال تین نے ٹو ککر شور ڈال دیاکہ ىہ عبارت عد بیث ٹن تل
جا ذ٥۵ شلنگ انعام دوں گا۔ اضر بی ہنا ظھرنے فو رآ ابن ماجہ میں
سے پوری عدیث پڑت دی جس سے ملم و نی رسلم پلک پ خوب
ای کنا اع ین کی سی و رت کات کے تا
۳۴ ھ "7"
72
لک کے جو جال اس نے پل کر مین کو دمحا
٭7 ۰ئ صن
ہش صراقت جو7
59 رر ےس 7
تا یں ےک یسکہسے
مل کسام کے متحلق تھا۔ لح
شس تنا ز اہ بل وضم تن ین ہہ تزان کال
و ہہ کے و سے
می عو زعلیہ الام کے خلاف با ہکوکی کے زور سے مو ۱م مخ انا
رو تہ رشب
اس تک لے وف ای کاسافان خر رکا ھا
و سس ایا
سی عو علیہ الہ والسلا مکی صدات ماب تہکردی۔ لال جن
تق رض نی ا رو نک ای اد کا ما
رر سس ہے
,- رر رر سا ہے
ان سے و :اق لئے ج زاب میم حاکن وو
ضا ا کی شا ان کن جن تی
کا جپ پالم ہہ ۓےکرشن رود رگو پال تیر ماج ترما
یع و ایاج شما ھا مان
۶۶۶۹ "8
: شر کک بت
ز ووئی جا ےگ ۔مگردال نین اس بات بے مععرر ہک ضرور١ بے
کاجب بی المام بڑھاکہ
73
الے شش یککرسے گا۔ اس پر غ رسلم یلک نے شور ڈال دیاکہ ہم
لال حی نکی ان چالاکیو ںکو سن کے لے نیس آرے ۔ اس میا حت کو
اسلابی مساتل کے داڑے ے باہرنہ کے جایا جائے۔ لال تین
نے پا ربھی نہ مانا تذ لیس اضسرنے عم دیاکہ مباحثہ اسی صورت مم
جار ہی رکھاجا تا ہے جب کہ محاہد ہکی پیرد یکی جائے ۔ تب ہہ لیس
کے ڈرمے رد بکرلال جن جپ وا۔ :
لڈیمسےالالمطھرون کے معیار کے مطا ق اص ی منا ظرنے
رت !رس علیہ السلا مکی عرپی تصفیف ”ا از الس" کی ا در
کھو لک با اہ سور ة فا ج ھکی اس عرلی تق کو عضو رتے اود تال کی
اص تید و نرت سے کل ھکر اعلا نکیاکہ مخالف مولو بی ا سک نظیر
لانے سے تا عصرر ہیں کے اور ب کہ علاء کاا سکی نظرنہ لا سنا ر١
تالی کے کی ہو ۓ رسول کی یک صد اق ت کا زیروست نان
ہے۔ لال سجن تے ا کو جو اب کیا دبتا تھا مولوی شاء الد کے
مقابلہ میں تی رنوڑیی و خیرہ کا رکرتنے ل کگیا۔ اس پچ مبارک
ات صاحب اعد ی مزا ظھرن ےکھاکہ اىی میدران میاحخے یں خ اور
مارے ح ای ادر تممارے بددگار مولوی جھ ٹچ بر ٹیگ ہیں سب
لیک ر31۔ قرع اندازئی سے تق رآ ن کاکوگی حصہ ثکا لکرا سکی تخیر
ری مین گکھیں. پھر دیھیی کہ مد ا تھال یک سکی تا ئیدہکر جج ادر
کون ا سک نگاہ ین مخزول ایت ہو سے ۔ اس کا یھ جو اب اس
سے نہ بن کاو ر دیھٹے دالوں تے دک لاک ہکی ور مد اکے پیاردوں
کامتقا بل ہکرت وا نے مغخلوب یل اور خوار ہو تے ہیں۔
74
چار وفع ؟ب دیاکیااورچارول دقع لال جن مہوت ہوا۔
آ ری دفعہ ار بی منا ظارنے حضرت ضس مو عو رعلیہ السلام کان شعر
ڑھا۔
بھی نھرت نمیں ملق در مولی سے گنروں کو
کل و ا کا کا
اس موب پر یہ شع رب برکت اور ظفرسے پ ہوکر وق ابی
کے دلوں می ؛ رک رگیا۔ غی رسلم پیک نے با نف می ام بی منا ظ رکے
پل اکر مارک باددیی ۔ صد ات کے چے دلوں می ہو ۓ گے ہیں ۔
اب ااستانہ الو تاب رگ رکر ہارب یہ الا ےکہ خحد ا تھالی اس جا کو
بڑہاۓے ۔ اس کے فضل سے ہہ باغ بچھو لے بیجلے ۔
بقیہ دیپ عالات انقاء اللد آتندہ ڈ اک میں رو اہ یئ جاتیں
گے۔ لی ایال ہو اگی ڈ اک میں بہ منرعالات ار سال ہیں-
( حاکن دع اھ یسلت ال ظازی؛)"
اخمار الم ۲ؿ فردری ۱۹۳۵ء صمفاا بر میک رڑی تحلیغ انجھن اھرے یرد ی کی
طرف سے بھی تینوں مناظظرو ں کی تفصیل جیا نک یگئی ہے۔ اور آ خر میں الیم نے
اس بی چہ میں 2 منا ظر نی کے متحلق مض خطوط کا ا قباس کے نان سے ذیل
میں کیھا:۔
لہ منا ظظرہ ایک بہت شاند ار ہنا ظرہ تھا۔ جن اور جار زار کے
درمیان عاضری تی۔ اس مناظرہ کے اتظام کیل شر صاحب
پ لاس مع پپرنٹیڈڑنٹ پو لاس واسیکو سب انسیکٹان لیس او رکال
معیت کاضٹبلان کے ساتھ اتظام کے موجود تھے پیک کے ٹن
75
کے تا کے ا کت
تی راجھد کی تقیسرے میں ہندو “چو تھے میس سک صاحمان تھے کہ اگر
می جلاک میں شور اٹھے و ہہ باسانی معلوم ہو کے ۔ پلک تے اس
مناظگر: گرا١ یا۔
پلک احدىی منا ظرکی ھی تاہلیت اور خراف تکی مخرف تی اور
پلک نے اس ا مرکو ا بھی رح بجھ میاکہ ق رآ نکریم کے جان اور
نے دالے اچم ی ہی ہیں۔ خی را ی منا ظرلال بین خی پک
با ذکی اور بزرلیات کا شریف پلک نے بت برا اش لیا۔ بہت ے نیم
مصلم انحاب نے ہمارے منا ظھ ریچ مبارک ام صاخ بکو ما رکبادی
کے خطوط کے ۔ ا مم بھی اس کامیالی بر جن مبارک ام صاح ب کو
دق دل سے میا رکباد ڑگ یکر ٤ ے۔*.
اس مزا ظر: کے متحلق إلفضل میں مق رطور یرکککھا جا کا ہے۔ بیہاں ئن ایک
مھ دوس نکی چںھ کی نفقل پش سے دبا ہوں جو منا گر کے بر انموں نے بے
بد آپ کےا نا را مین شال خاش کہ ٹکو ماکل
ہو گی ہیں اس خو شی می میس آ پکو میا رکیاد دبتا ہل اس می کو گی
کک می ںککہ اھ معاللات میں ت کو با نناہمایت مشنکل ہو سے ۔
راس دن مد ا تھال کی ز بردست طاقت آپ کے ساتھ تھی اور
آپ نے اج بہنیادیا ہے۔ دح نکی زیان بند ہوگنی۔ مہ کت پچھرتے
تاکز تق اک وت فا نت
سے یڑ ھکراو رع ا بکیا ہو ستا ن ےکہ قد اتقالی نے ز بان بی بن ھکر
ےہمث۔ہ۔۔ےسلٰ ۔ سن لر
76
دیس یکر می مین نوز بروحت نا نع تا ہوں 2 2020
نے اور دو رے دوستوں نے فو کیاکہ ا س کی زیان رک ری
ہے۔ بلک نے آ پک مارک باددی اور غد اتا ی کی طرف ے
چھولو ںکی روعالی بارش ہو گی"
(اججت سگھ مگاڈ س سوڈ اکٹ یکیخیا الو نی )
(۲۳۔ا۔-۳۵)
بگرغعیااكوم ض وص سر
اتدلو نکی ان تاس خاموشی سے وابیں ہنروستتان کچچوا دیا۔ پک عرصہ بعر
ایک اور مولوی بنام مج نین آیا۔ یھ عرصہ رچے اور جماعت کے غلاف
ری یںکرتے کے باوجود ناکام دہ بھی دائیں چلگیا۔
اس مناظرہ: کے انظامات کے سلسلہ می يہ لکھن بھی دی کا یاعت ہہ وگاکہ
بماح تکی طرف سے گرم ملک اج مین صاحب صدر تے اور عخا فی نکی طرف
سے مسطرعبدال ہمجن بی رسٹرصد ر تھے صد رصاحبان کاب ذرض خراکہ مناظ کو وت
کی بابنلدی کی اطلاع دیں۔ علادہ لاس کے امفظامات کے گھوڑ لیس ار
اضروں کے ساتھ موجود تھے ہگ کے ار دگرد پچ رلکاتے رہے۔ ہ رع مک یگڑ ہدکی
روک فا کاو را اتظا مکر رکھا تھا۔ اس سلسلہ یں ایک یہ با تبھ یکھے کے تقابل
کہ زم تک مھ مین صاحب پرسٹرنے اس مناظ و یگھاگہ کی دجہ سے
عرم شھرکت کا فیصل کیا تھا۔ لیان جس دن منانظرہ ہو نا تھا اس سے بی رات اخییں
المام ہوا کہ ضرور شریک ہوں۔ چنانچہ جرت سے خاکسار نے اخبیں مبیران منا ظرد
یس دیکھاکہ ٹچ کے باہرکے حصہ میس پیل ککی طرف من کر کے ٹیٹھے ہیں۔ نز میں
ے. .مھ .... ردروت اھ ھٹ ھا 0۷۷ر دی سے جو سس ےس و سس
77
ہہ ص٭٭٭٭ےووچجھھھیھےیسوڑسسشستسھسھو
آنے کاکیا مرک ہوا “تو نے سماراداقع ہگذشنہ رات کاستایا۔ ال سے ججھے یہ اصاس
بج کہ اللہ تال ی کی خاص تئیہ اس خناظرہ می جماعت اور اب کو تیب ری۔
۲ت
برعال بی مناظمرے کامیاب ہوتے۔ چچھ انجقین خمانران احریت میں شال
ہوے۔ بعد میں ہہ جوں مناظگرے پوری تحصیل کے مات رمالہ ریو فک
رج (ای یل معئی' جون ۱۹۳۴۵ء) اردو ایے می یکی تین ضطوں میس شیائع ہو ۓے
آوچ رکال صورت میں محتزم جیاشن صاحب نے ”من رہ نیدی" زان
سے شائ عکیا۔ اخار الٹضل اور اکم میس ان مناظرو ںکی مفصل رپ ریس شائع
اشن کا فاص وپ کر کا ہوں۔
78
اشماعت لچ رکاخاص اجمام
الہ تعالی کی دی ہوکی نیقی سے اکسا رکو مشرقی افریقہ کے قیام میں اشاعت
یچ رکا خائص خیال رہا۔ اس سلسلہ یں سب سے پل اہوار رہاللہ سوا تی زہای
1 روح کیااور ا کا ام باعصہ۷5( ۷ تع صە م۸( رکا جا ات
ری ے۔ آپ ا کی *٭اویں لد سے اور جا سے شال ہو رہ ےسا
رسالہ کے چپ مہرریش ممباسہ کے عیسائی باد در یکی طرف سے ایک پمفلٹ خَاَ ہوا
جج 1۴9 ےط ”نکفارہ کے ذرییہ غیات''ب اس کا موضوع تھا-
۰ 9 ۹ 2۶۶
ففل ور ا سکی عحبت سے تی ہے می 1ج 10ک ۷۹ 21 (۷١6 ے - تر
ازا نآ رسالہ جرماہ شائیع ہد :رثات عتی مضاشین اعلام کی تار مین -
احریت کی صدات میں۔ بمائتی مسانل پر اور عیماتیوں کے اختراضات کے
جواب میں۔ فناکسمار کے سای مغ بڑے شوق و اجتمام سے اس رمال کو اتی
تھر رات نے مزینکرزتے ریا سمارے ملک می بے رسالہ تیم جن دتون
نا و یک نیف نین ز× زط ة8 8737817 تشاعروں کے مفظوم
کلام کا صفمہ“ اتدبی احباب اور دو سرے شتراء انا منظوم کلام کے اور اشاعت
پذزم ہو٢ اب ہہ رسال ہگوشائع ہو ہے لیکن ہرجحن ما یعد۔ بہرحال اح بی تکی
اشاعت اور تلنےکا الیک اص اور مو ذریجہ رہا۔ مسلمانوں میں پا فو جماعت
کا رسالہ کی اشاعت سے فاص اضزام قائم ہوا کی ایک رسالہ تھاجو سارے
79
سہ س مس أھخھٴۃچچتےےتےٹ۹ےےےن١نی۱ھہجت_رے_حلے_9_ٰ_ٰے
ری افرلیقہ میس اسلا مکی می میں ان دنوں شائ ہو نا شرو ہوا۔
عوائی وبان میں رسالہ کے علاوہ ملف سم کے ہرارپاکی تنداومی لف
عفادین پر اشتمارات شا رن کی بھی تونق لی-
دوم۔ ضردرت جحسوس ہبوٹ یکہ انی :کی زبان میس بھی بماع ت کال رشان ہو
چنا نہ چند صخحات کا کنا ”اص یت“ کے عنوان سے ان دنوں شائح کیاگیا
اگری:گی خوان طبقہ کو احریت سے تارف عاصل ہو اور جب بھی عکومت کے
گازنرو نک اتریت سے وا فکرنا مقصودہو ا خط وکفابت کے سا یہ پفالٹ
بھی ہنوایا جاتا۔
۳ھ عرصے بعر اگریزی زبان مل 171768 ٥[۲۲ھ :788 25
ام سے اخبار مابانہ شا کرنا شر عکیاگیا۔ بانل جیجپر سے اضبار نیردلی سے پچیوایا
جات سمارے مشرقی افزیقہ کے علادہ باہر کے مو ںکو بھی ہے آخبار تچجوایا جا۔
فائٍ اس اخبا رکی یڈ کیلئے ھرکز سےکرم مولوئی مھ الدین صاحب ایجم۔ اے
ولس ٹکو موا یگیا۔ ان کی اع ادارت بی اور اکسا رکی گر انیم یہ اخبار
اع ہت رہا۔ با نوم اگگریىی خواں افریقن می خاص موولیت اسے ری۔
انم قائصی مھ الم صاحب باقع گی سے ہزماہ ”توب پاکتتان** کک ےکر جج اتے
ے شا کیا ج١٢ خاکسار کے اس ملک سے رخصت ہو نے تک نیردلی سے یہ اخبار
ای زا۔
چمارم۔ جرت غلیفۃ لج انی نے سواجلی ترمیۃ القرآ نکیل ارد زبان
یی دیاچہ تر فبایا تھا۔ قرآ نکری مکی طباعت کے ساتھ دیاچہ مس سواضیلی می
خاکمار نے تمہ کے ساتھھ اسے بھی ششائ لکیا۔ اس کے علاوہ +۵ ہزا رکی تد ادیش
فل کی صورت میں بھی شا عکیاگیا اور ہہ تلنغ اسلام کا ایگ موث ذریعہ خابت
80
0 دد"'ےیے____ے
0 کور ہے قام کے ابقدائی سمالوں می ب ےکوش یک کہ اسلا مکی "ما
5 .7 رر 3ں کے پش نظ رکت کی اشاعت ہد افریقنکاپڑ ھن کاخائ
رق رک کر اص قجہ لی کی اشاع تکی طرف ہوکی چنائچہ سوا نکی می نما زا
دہ چہ نر کر ٠
اہر و(وڈ وط0 ۴18:0 کے عخوان کا اوہ شا عکیا۔ اسباق
7
2 سے 11 ج۸8۸( شا جگیا۔
الاسلاع نوا 0 ۶ )یئ د۸
7 و ات ۲ زا اخ تک یکنا بپ کان ات ی ٹن
ع مو 17 171 مر منرت صاجزارہ رزاتیرھ ِ
رص شائ عگیا۔ پغا ریت حضرت غلیفۃ الچ الثانی کے لی رکاسوامیلی رم
س مت * ذ8 کے عنوان سے شاک کیا۔ سر الٹی تا 4
. 2 دی تیم ففل الرشن صاحب مغ مخرلی افریق ہکا تین
ات کو سی زہانوں
ِ_ سر کے میس بی اتی یں ہارے وہاں کے مبلخوں نے فا فککھے دہ
سے ےج جک ملیات ے جوائیٹ افرہ سط ہیں یکنا
جو ہیا سز پچ ںی اچس دیس اش ورای
ےک یش ڈیٹنں مغ ہو ہیں۔ اللہ
ماب معلوم ہوا جک ادل رڈ مارشن کے مقال ممیت ان اچ
7 ج ےک یکر نی دی سے ۶3.10 کی ڈاکٹی کی ڈگ ری اس ے
اص سی کا ڈاسارکے زادہ سے لی کے سلس میں جو شا دا ول
نے :سارہ جخقق پٹ لک سے قا دی نکی دب یک یی یں در کر دو“
کات ے:۔
(ڑ ئ[ 805ھ )رد دطلەمط نانطد ×8 ۶و ۲106۷٥ ےچ
ْ۰ و .ہ٥۲۲ روزەەنجہ ×ط٣ زط 6 5ت8 815 د٥٤
زا٥
81
ہمجن سببسییینس۔-_ےحتجس۔ہسًسسسسممےس۹سٹ٦8۹س-
7 ۲1۴۵۲ عط. 5 ٥ہ صصتتا ٥٥٢ ٥ م۲68٥2ص ٤ طاعدہ×ط) ٥8ہ
ط٤ ٥1ص6 علاوعوەطنط( ططنمطڈ جچصصدة ٥وہ
6ء ٥ەط٤ ۲٠ہ دہ'' 1عطدناطەم ٥ہ" 1:٤108 نانطہ۔ء
۵ط عۃصنط ت رحعصمنەەن- ۶٭نطعء عطا ١ 0۱:]ن1اءءء
1 ٤ہ عطمتلطئام (۵٥6[(مہ) عاتصا ٠ہ ۶×٥طصتد 1ج0
8۶161 اہ 2ص آ15جزہ عط؛ ×ہ قوط ٥ئ٤ زط
ءء×٭٥ 1961 111م ٥۶۱۱م ط٤ 10118 :هی صنا مئ×م]م
ط٤ ,1954 ص1 صمتععنمھ عط] ۰ط ٤ء ءناطىام ٥8ھ .101000
ص1818 رط ۷ :ذعاەمط طمناع دہ ۱۷٢ ەعھ صدمہ مصن) وہ
9ھ 89
6۔ ۲۰8٥٥٥
ا نکاپچوں کے علاوہ اکسا رکو نحضرت ضس موعود علیہ الصلو والسلا مک یکتاب
تی نو کاسوامیلی زبان میں تجمہ ادر ا سکی اشاعح تک نوف ی۔ ا سکتا بکی
اشاع تک خاکسار نے چند کین سے ایک ای شا ککی معاوج تکی ت.ری ککی۔
ان نے نات خوی سے اکنا رک رم ججوائی۔ خاکسار نے ان کے نام
اٹل پیج کے صف دد پر درج کے دھاکی خرضس سے او دب کاب ان دفوں بی ال
ہوگئی۔ اص مقبول ہوگی۔ ٹہو را کے ایک تعلیم يافۃ دوست ملم جحعہ نے چا کہ وہ
رات سونے سے عیل ا سکتا پکو ضردر پھتاے۔ اور اپنے کیہ کے نیچ ال
را بررے۔ کموں کے ایک نوجوان میسائی تےکتاب پ ھکر اسلام
قو لکیاجن کا نام فضل اوڈیرا رکھاگیا۔
شیم۔ اشاعت کے کام می ایک ا اور اہم خدم تک اللہ تال ی نے نف
دئی۔ قرآن یکا سو لی زبان می تجمہ مع تفیری نوشی۔ ایک مفصل وٹ
بیس دجنوہ کی بناء پر اٹک انملس میں شائل ہے۔ تقر ذکر یما ںکردینا ضرد ری سے
جب ترجہ کاکام نماکسار نے شرو حعکیابہ ماہ رمفضان البارک خھاادر نخاکسا رکا قیام
82
ان آنوں فور رقرابے) جم تھا۔ مہ ۴ا کام غاکسمار نے ۱۹۷۲ء تک
رت مت ۷او مو رت سی وع وا کے رکا
0 13[ 7.5.۳7 7 کی معرت مگ رڑی انظر ٹر یوریل ایز کیئی
فا رسو اض یکو نظ رخا کیل بجوایا۔ انموں نے اپنے تین سوا ضیگی زان کے کا ہریت
٦ 0 اس رت خی ریورٹ بد یکہ
مع ۲٢٢٢ و مخ 3([ئ”دجۓ؛ عط هاەمط٢ ط٤ >0
رنورٹ عات کو ۱۹۴۳ء میں موصول ہوگی۔ پھلا ا یش دوس جرا ری تحداد
مس شائع ہوا۔ ىہ این الیٹ افریقن سٹینرڈ کے پرلیں مم طیع ہدا۔ اضبار
اییٹ ا ذرنقن سٹینڈ رڈ نے غخاص خرخاکمار کے فوٹو کے ساھ شائ کی۔ سمارے
کک کے خلف عرگروہ اواروں ے' افرنن اور دو صرے طلبقہ کے لوکوں نے
وب خوب اس کا مکو سرابااور ماع تکو مبا رکباد دئی۔ بت بڑی تعداد می خطوط
شکریہ اور میا رکبادی کے نماکسا رکو موصول ہو ۓے۔
ار اریت عجلد ےامیش مورغ احریت نے اس تزجمہ کے بارہ مس ایک
متقانہ فو کا سے اور جناعت کے اس کا مکو جو تیم بھی تھا ور علی بھی وب
صرابا اور اینایا۔ مو رخ اص یت ”سو انی ترجہ قرآ نکی طباعت و اشاعت' کے
7
83
جعیساکہ تار اریت (جلد پشم) یش جایا جا چکاے اس تز جم کا
آغا زکرم مارک اھ صاحب(ساای ری اتیل مشرق ا فریقہ)
ن ےکم رمضان المبارک ۱۳۵۵ھ (مطالقی ےا نو بر۱۹۳۹ء) وکیا
اور امت ۱۹۵۳ء کو الیسٹ | فرلیقن سٹینڑ رڈ لین کے یجنگ ڈ ا یکر
صفری۔ لی۔ ای رن نے اس کا پملا لد ضخہ جا رکیاج رم چ
ا و و اور ہے
لیدعت میں تج ود اور درخ ات دم کے ا کی
اشاعت کے لئ اجازت چاہی ۔کمرم جن صاح ب کو۱ می ۱۹۵۳ کو
تو رکا برق موصول ہواکہ:۔
“78781810 ب18( ۰۹۰ ط۵۰ )٢١٢ ةد٭اطا ٤.8
عتلطیام 231٥ ط۷81( ۱1 1183حطكگ) [ءە قد
ترجمہ کیا ہے اللد تھالی ا سک اشاعت مبا رککرے۔(غیفۃام6)
کو اللہ ند رہ رو زہ اخبار اص یکم جون ۱۹۵۳ء نیرد لی ۔ مشرقی ا فریقہ)
تر جن القر نک" خضرح رج گرم تج مبارک اج صاحب نے
"کچکشھیکھی ھت و وہ
0
٠ْ بے ٢
ا سوا تیکی ترجہ ق رآ نکی طباعت واشاعت خو ب ہار ےکہ ر مضان البا رک ۱۳۵۵ھ کاپلا مارک ١ ۱
۳ دنع تھا۔ نما زج کے بعد ٹماکسار نے ف ران مجید کے سو ایی ت جم ہکا
کام شر عکیا۔ ان دنوں میں و را میس مٹیم تھا۔ جب نماکسار نے
اس کام کا١ راد ہکیافق میں اکیلا تھاکوگی افرلقن دوست نہ ھا جو اس
محاملہ مین مب ری حد دکرے سو اے پر ا تھربی سکول کے ایک ا فرلنقن تیر
0۳ دناۓ احریت میں سال ۱۳٣٣٢ ہش / ۱۹۵۳ء کے وس کا
۱ ایک ہمایت ایم واقعہ سواجلی ت جم القرآ نکی طباعت و اشا ھت
جن نے مشرتی ا فریقہ میس تن الا مکی مع مکو جز کر دباادر
۲0۴
”7ئ ٣٥٢ 3ز دم نا۵۸1 عط)+ ہ,عامط٢ عط ہ0“
84
معلم سعیری کامی کے ' جو عرلی زبان سے وافف نہ تے اور جو یھ
عرصہ کے بعد کام چھو ڑکر لے گئے۔ برعال تجمہ کا کام می نے
باقاعدکی کے ساتھ جار ی رھا۔ دن کے بعد ون ؛ ہغے کے بعر جن
اود مال کے بعد سا لگ دتے رہے ج کہ دہ دن بھی کن بناجب
میں پاروں کا :تج کل ہوگیا۔
۳ء میں جب تر جعنہ ق رآ ن کا سوہ ٹائپ ہوک رعمل ہوگیا و
اسے تفہ کے ایک ہم وا شید ری لیگ زی
برا سو اتل
15٤568-76 ×۴1[٥۴زذ31 جقعچّد]ا ٥ة )0٥0× 166
تاط8۷
کوجو سوا مت یکی ترمی و اصلاع کے لے لوم تکی طرف سے مقر تا
فرش راۓ موا دیاگیا۔ اس ادا دہ نے اپنے ما ہری نکو ا سک دد
کاپیاں بخرض تقید داصلاح مچجوایں اور خوا پش لک یکہ وہ تڑجمہ
اور زپان دونوں کے متحلق انی راۓ سے ىر رے خو رو گر کے بعر
کک بل بت و کٹ
ا ہری نکی کئی صفحات بر مشقتل آراء ہیں جو اتیں۔ ا نکی تلق
رت ا
یہ ترجہ جھو گی اعقبار سے بست اجچھابہے ۔ ان ما ہرین نے لتضش
ماما تکی تبد بی کا مو رد دیا جو قجو لکیاگیااو رض مہ ا نکی عرلی
زبان سے عم وا تفی تکی وجہ سے ا نکی تو زہ اصلاع یا راۓے رد
سے ۱
اس ابق ای نظرمالی ہے بعد بے مصودہ صواجلی زبان کے اض
دم فاضل وی ہرا ف رق نکو کنواياکہ دہ غالا زان کے ام غم اور
تحت زبان کے بارس میں اتی راۓ دیں - یھ عرصہ إعر ریا
۵ء میس ہمارے عزی: بھاکی چنا عرکی عبید ىی جو میا عرصہ میرے
سان رج اور جھ سے قرآن مجید کات جم پڑ ھن ادر عرلی گی اور
ری ام رشن تین مال ار ررض سا 6 کے
باعث اس تقائل ہو گ کہ دہ اس پر مزید ماہرانہ تقیدی ٹاہ ڈال
گھیں۔ چنانچہ انموں نے اس کابقور مطالعہ “موا زنہ اور شیج کاکام
رو عکر دا اور عرلی زبان سے اس کانظالق اد رد رسکی طرف تھی
یو یت ورک رت جع کت
دو سرے علماء نے بھی جو تق رآلی علوم اور اسلا ھی علوم کے بھی م ہر تھے
اور عرپی اور سو انی دونوں زبانوں سے نماض وا قیت حاص لکر
گے تے اس تربع کو بدوے خور و گر سے پڑ ھا اپنی را وی“
مو رہ دہا۔ ایدید ۔ سب ا فرلیقن ابل عم اور مارے علاء سو اتی
ترجحمہ او را ںکی فصاحت سے متا تر اور خوش ہوۓ۔
7 7 یں 7 جک ےرت
تر ہمہ کے کام کے بعد ا ںکی بڑی شرت سے ضردرت حسوس ہو گی
کہ تفیری نوٹ بھی کے جانتیں چنانچہ ۱۹۳۹ء کے آ خرمیں با فضوص
مندرجہ زی تن امو رک پر نظرررکت ہو ۓےکئی سونو ٹف ککسے گئ ۔
اول:۔ ھی بات ان نوٹوں میں ہہ ید نظر رکھ یگ یہ مشرتی
افریقہ میں غیرملسوں با وص عیسائیو ں کی طرف سے ان کے
86
را و سال او رکتب میں تقر نکر مکی کی آبیت پا تخلیم یا
آفضرت ت شڈ کی مفرس ز نرک پر اع نکیاگیا ہو ا ن کا اب
ضرو ردیاجاۓے۔
دوم:۔ قرآ نک ری مکی تعلیم کے ساتھھ ساتھ دو مرے زاب
عا مکی لی مکا مق ل کر کے اسلائی نعل مکی بر تر ب یکو ولا تل سے شابمت
کیاجاۓ ۔
وم : ۔کئی برعات اور رکم و رداح شرلعت اسلامے او را سوہ
ی کے غلاف ہیں اور ملمافوں می بو جہ عد م غمم قرآن داخل ہوگئی
ہیں ج نکی قباح تکو وا حکر کے ال تعلیم ؛ ور صل تاکن نمایاں
کے ارد
7ش 2 کت و کے ند
فوٹ سر نا رت سی موعود علیہ السلام افو حضرت غلیفۃ اع
اقن کر نی ما نفد اض ےا ب نفد کے ما جا
ے گے جن کے پٹ ھن سے انسالی جن اود دمار گرا انز پڑ .بے
اور یقت عیاں ہو جاتی ےکم قرآن مجید بتی نو انا نکی تام
ضرو ریس پور یکرت ہے اور ا سکتاب تیم شی ابی زبروست
ق٥ت کہ وہ لوگو ں کو ذات سے اٹھاکر رفعت اور عظمت کی
چوٹیوں تک جیا تی ے۔"
جن دوستوں نے سو مکی ترجہ قرآان من گرم شی مارک اھ
صاحب کا بات ایا اور تصوضی امداد فرماکی آپ نے ترجمہ کے
شرع من ان ک2 ول سے شگزج+واکرتے ہونۓ گر ف ماناک
۱
ٰ
87
جھ بر لازم ےکہ می اپنے ان رفقاء کا اص طور پر ذک رکرو
جنموں ۓےگمزشتہ دو تین سالوں می بمت اگر مندربی أخاص خوق اور
پو ری لن اور محبت سے میراہاتھ بٹایاے ۔ خلا
ا۔ شا ری عبید ىی - ۲۔ مو لان مور صاحب ناضل
حقیقت ىہ ےکہ میرے ان دو ساتمیوں نے اس تمہ و تی رکی
نظرمانی سے ام ؛ نوٹو ںکی سیل ' بر وفوں کے دچھے اور تخیرے
ملق وو سرے مور میس اض اداد کی ہے۔ اسی طرں مولانا
عنایت از صاحب خل “موم نا جلال الد ین صاحب تھرے اعادیٹ
اور در ضرودری موا اکٹ اکر تے میں اور عرلی من کے آخری
روف دی میں با فضوص محتزم قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی نے
کت ر در ے۔''
یر ناحضرت مج مو عو دکا یمان افرو ز ماچہ
دای رجہ قرآن کے سات حطرت مجع موعور“ کا ایک
امان افروز دیاچہ بھی شائع ہوا جو مضور نے محنزم بن صاح بک
درخواست پر عطا فرمایا۔ ىہ تر نی دییاچہ تضسورنے مول نا حر لقوب
صاحب طاہرانجارج شعبہ زودنوڑ یکو گگکھوایا تھا جو انھوں نے ۱۸
ور ی ۹۵۳ا ء کو صا فکر کے جو رکی ید مت میں شی قکیا۔ تضور
نے اپے تم مارک س ےکی مقامات پگ جخکی اور آ خر مم رظ
بت فرماۓے۔ ۱۹۔ جوری ۳ء کو گرم شی یکن
صاحب انور بر اوٹ سک رٹڑی نے اسے یرد لی پجچانے کے لے وکیل
88
انیشیر صاحب تریک چی ھکو جو ادیا-
جناب جن صاحب نے اس ا ردد یباچ کا غام فحم واج میں
تریح کیا۔و ماج کامضن حب زیل تھا:۔
اعوذباللەمنالشیطنالرجیم بسماللەالرحمنالرحیم
جخت مل قلی ہت الکحرم
مد اک نل اور رق کے ساتھ
ھرالناصر
سوا ذبان می ق رآ نکر کا7 جمہ اوراس کے مخمون کے
متحلق تق رنوٹ اع سے جا ر ہے ہیں۔ ا فریق ہکو اسلائی پا رجش
الیک خائی ایت عاصل سے تصوباشحال مشرتی ا ف ریت ہکو۔ اسلام کے
ابقدائی ایام می جب کمہ دالوں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے مظالم
او رککہ میں ملمائو ں کی ر ان ناضکن ہوگی تر سو لکریم پا
کے ا شا سے ملمانو ںکو ععش ہکی طرف جان ےکی برایت فرائی۔
عبشہ مت اس میضا وہ ملک ہے جوھک کیذیاکالوٹی کے ساتھھ لگا ہوا سے ۔
نے ملمان اس لک میس چچئے ود ردہاں کے بادشاہ کے بقاندن کے
بائحت انی ںکی لع مکی تیف نہ بہنچائ یگئی اور ام ن کا ساس انموں
تے لینا شر کیا نے لہ والوں سے يہ بات بزداشت تہ ہو گی اور
انیوں ے انی قوم کے دولیڑ رو ںکویادشاہ اد دا کے دریاریوں
کے لئ بہت سے تححا قف د ےک کو ایااد داش ب پر ابی تک یک دہ
بادشاہ سے در خواس تکریںکہ دہ ما جری ننکو کک کی علومت کے
حوال کر دے کہ دہ انع سے اپنے خیالات اور عقا تر کے مطالقن
89
شک کر اور و شا مات و پر ان کک رک
ان سے بادشاہ پر زور ڈلد اتی اور مان ممما بین کک ہکو ہنس رح
بھی ہو وا یں کہ لایس چناتچہ ہہ وف کہ سےگیااو رورباریوں تحصوص]
بادریوں کے ذرلعہ سے بادشاہ سے سا جو اس زہات نہ میں مل سکلاح
کے خرن لوک شی کت تھے ا ا شا انا نون ا
اس زمانہ کے میتی بادشاہوں کا اقب ہو تھا۔ چنا بے بادشاہ کے
ات میں نے شارت کی یا ان کے کیک کے بای مات کر
عیشہ آ گے ہیں اور انیس کہ دالوں نے اس لئ ھا ےک ہ ان
باخیو ںکو کل کی حکومت کے جو ا لے کر دیا جاے۔ یادشاہ نے ان
لوگو ںکی بانتیں مس نکر مسلمانو ںکو بلو ایا اور اع سے و چچھاککہ 2 ہدس
طرح آے ہیں انوں نے بنا اککہ ان بر ا نکی قو من مکردبی شی
اور چ کہ ا فرنشن بادشاہ کاانصاف اور اس کاعرل مشمور تھا٥ ا
کے ملک میں بناہ لیے کے لئ آ گے ۔ اس پ" باد شا نے مکی کے وف دکو
جواب دیاکہ چو کہ ان کے خلا فکو کی سا سی جم مابیت نمیں صرف
نر بی اختلاف ثابت سے اس لے وہ ا نکو وا لی ںکرنے کے لئ تار
ھیں ۔ کہ کا وند جب دربار سے ناکام لوٹا اس تے درباراوںل اور
پاددیو ںکو بھی تھے تقیم سے اور اشمیں اکسایاکہ بی ملمان لوگ
رتس کی بھی ہج ککرت ہیں اس لے سیکیو ںکو بھی مکمہ والوں
کے ساتھ ملک ران بش کرک جاچے۔
چنانچہ دوسرے دن پھردرباریوں نے بادشاہ پر زور دیاکہ ے
لاک ے کی بھی پچ ک کرت ہیں چنامچہ باد شا نے مسلمانو ںکو پھر
90
لدایا اور ان سے پچ پچھاککہ آپ لوگ کے کے بارے م سکیا عقیرہ
ریت ہیں۔ ملمانوں نے سور ۃ مر مکی ابد کی آیات پڑ ھکرا نکو
سنائمیں جن میش تک اد را نکی داد ہکا ذکر ہے اورپ رکماکہ جم کو
ئی ال مات ہیں۔ ہاں انیس تد اکابیٹا ٹنیس ما تے۔ اس پ یادریوں
نے شور ہیا دیاکہ دیکھو انموں نے کے کی بج ککی سے گرا فرنقن
بادشما متصف اور عادل نھااس نے مھ لیاکنہ یہ ارام ان پر غلط لگایا
جا را یہ لوگ سک کااد بکرتے ہیں گر ا ںکو قد ایا غد اکا ٹا
یں ماتنے پ بنا تچ این نے رن جو نی سے ایک میا فرش پر سے
اٹھایا او رکھاکہ خد اکی حم میں بھی سم عکودہی یھ ما:ا ہوں جو ہیکت
ہیں اود یں اس درجہ سے جو انموں نے کم علیہ الام کابیا نکیا
ا سے الیک گے کے باب بھی زیاددتیں نکھھتا اس پیا دزوں تے
بادشاہ کے غلاف تھی آدازے کنے شرع ک کہ و بھی عرتر ہوگیا
سے ینعی کے ا سار کے سیت
مرعوب نمی ہو سکتا۔ جب میرا باپ ھرا فو یس چکھو ٹا بچہ تھا اور می ری
لہ مرا پا قائم مقام بادشاہ متقر رکیاگیا تھا١ و ر تم لوگوں نے اس کے
سا م لکربہ فیصل کیا تھاکہ جج ھکو ححت سے حرو مکردو۔ جب جچھے ہے
بات معلوم ہو گی و باوجھ داس کےکہ میس بپچھو ٹا تھائیس تے ا بنا تن ینا
چا اور وجوان ھیرے ساتھ مل گے اور میرے چان ڈ رکر
دحبرداری دے ری 2 کے 2ط کر دا و ری
بادشابت تماری وجہ سے نمی بللہ غحدا تھالی نے باوجود تماری
ال فکوشمثوں کے یھ دی ہے ۔کیائیس اب تم سے ڈ رکر شید اکو
91
زرکرو رٹل روف 7یت سے
دکی ہے نہ می تحماری مد دکا ختاج ہوں۔ می کی صورت میں تم
7 102
ا نکو نقصان خمیں پا سکتا۔
پیں اے ابل ا فرییقہ جن کے مشرقی علا کی صلی زبان سو اتی
سے مس بے ترجہ آ پکو بین یکر نے مین ایک لت اور حرو رو
کت ہو ںکی و کیہ ا سکاب کے ابق اگی ایام یس ا سکاب کے ما سے
والو ںکو آپ کے پراعضمم نے پناہ دی تھی او ر عم د تد یمرنے سے
الگا رکر دا ھااور اتصاف اور عدرل تائمککرنے کابڑا! ٹھالیا تھا۔ آ جع
قرآن پا ککی تیم ١ی طرح مظلوم ہے جس طر نک ھکسی زمانہ ش
قرآ نکریم کے مانۓ وا نے مظلوم ہو اکرتے تھے ۔ آ ج اس قرآن
ری مکودنیائیش لاتے والا نمی فوت ہو کا ہے لان اس کار و عالی وجود
آج اس سے بھی زیادہ مظلوم ہے جقناکہ رج سے تقرآچھ دہ سو سال
پل دہ اتی دنیادی ز ندگی میس مظلوم تھا۔ اس پر بھھو ٹے الام لگائے
جاتے ہیں ۔ ا سک لاگی ہو گی لی مکو گا ڑکرد نیا کے ساتے یی کیا جانا
کے اس کے بات والو نکو تی ار یل تمچھاھاج سے لیکن مرا
گواو ہج ےکم وا لع ہے نس 75 - 7
کو و لک ا کا ا
سے زیادہ گی تعلیم دہ ہے جو ا سکاب نی ق رآن جیر میس موجھ د ہے
جیساکہ آپ خود دک لیس گے۔ دنا صرف انی طاقت اور قت کے
گنڈیر ا لکی تر دی کرد تی ہے او راس کے ماستنۓ واالو ںکو ذ لی لکر
ریے۔
کن اے ابل ا فریقہ اج آ پ کابھی بسی عال ہے۔ آ پکوٹھی
خی رگھوں میں و 1لک رہ اپنے لک میں بھی ذیل بی مچھاجا رہاے۔
بیپرپ>ٗ و رر رت7
قو مکو دنیاکی تر قیا کیچ ٹی بر بپنچاد یا تھالجان جج مظلوم ہے اور
مھ سے ب ےگ کر د یگکئی ہے میں اسے آپ لوکوں کے سساتے یی
کر ہوں ج بکہ آپ لوگو ںکی عالت بھی اسی مکی ہے او رآپ
کے یل رح ون 1 کنا وو کے اق ا رای مان
اور انصا فک نثا: سے اسے وکاھیں جس ہگاہ سے بای نے لہ کے
مصملم ہما ری یکو دنیکھا تھا اور پچلراپی عقل اور بصیرت سے نہک
6 4ھ 2
کی ہنائی ہوئی رگن عینکوں کے ذ رجہ سے اسے دکیھیں۔ جھے مین
ےکہ اگر آپ الیاکریں گے و آ پکو اس ماما ی جو ہرکی تخیقت
معلوم ہو جال گی او راس رس ےکو آپ لیس کے جوہکہ خد اتال
نے ا سکاب کے ذربہ سے آسان سے یکا سے اک اس کے
ہر کے نےکر نی سک ما یت
اے ابل ) فریقہ !ایک وفع راچ عرل اور الصاف کا بُوت
ذواو ر ایک سچائی کے تا مکرنے می بدددو جو گی تما رے پیا
77 90 ۷س0"
فلام تو میں آزاو٘میں ہو کتیں مظلوم علم سے چھکا را نمی پاستے۔
تید ی قد مانوں سے چھوٹ نیس کت اہن رن بہت اور 2ق کا
93
پا میس تمیں بنا ہوں۔ پغام میرا نمی بلہ تار ے اور میرے
پر اکر وانے دا کا پغام ہے ۔ ہہ زمن و آسان کے پیداکرنے
دالے مد اک پغام ہے۔ یہ او رپ “ا مریکہ اور الگا کے پید اکرنے
دالے مد اکا پغام ہے۔ برارو ںکی تقد اد میں ]و 'لاکھو ںکی تقر اد
یش اور جائی کے جھنڈڑے کے تیچ شع ہو جا کہ ہم سب م لک
دنا میس از مرن مد ا تال یی کی بادشاہ تکو تائ مک دیں اور تی و
انان کی ےت وا ناکم کے لضاف یا
میں ما مکردمیں۔ فد اتھالی آپ لوگو ںکو ممبربی آ داز یر للیک کن ےکی
۳ 7 تو
پروش ونیایش امن او رسلا شی اور ي اور رفاہیت جیت کے قاع مکمرنے
می کو شش کر رے ہوں اور پھر یکو ششل ۂ مد اتقالی کے نفل ے
کاخیاپ ہو۔
(ماکسار رز ا ممودا مر غیفۃ ال الانی)
اصر یہ من مشرقی ا فریقہ نے ہہ مع رک الار ا۶د اہ پھاس ہار
کی تقد وی بصورت پہفلٹ بھی شال کر کے تقی مکیا-
بی افو وو و عو مقصل خر
می ۱۹۰۵۳ ء کو ترجہ قرآن کا پسلا مخ تار ہوا اور ٦ای
۴۳ء کو نیدی ہے اخار ایٹ افرشی سینڑرۂ
(18508 8+35 ٥ھ ٤ت پل یں کی طرف ے
اس کے پ لے نہ کے پیٹ سے جان ےکی تقرجب ماف ٹومع ا سکی تفعبل
رکے شا عکیاجو یہ شی:۔
ه ۶ش 1د نانطع 5+۷ سا ص۳8ہ( ا50
8ط 11ط ت مر
٭[< ود م۸( احطانەطڈ مجد 5۷٥۱٠٥٥ ۲٥۵۶۵
۶ہ <ح ص0 ہ٥۷8( ۱۱نط0 ١) صد تس عط 19١, صطھ
سناہں۷م( ہر ة2دصطھٛ > دددہ[ہھ ئعەثتا عطا
ج :1غ ۰[3ط۶۵۸٤ ٥ہ ادج ط٤ ١(۲ هحصذط 8٥٤ 25188105
اطخ طۃہء۶ ”0+۶ راہ ط٤ ۶ہ عامط٣٢ عط
نانطد +85 15:0
[۸8٤16جرددہء ٢٣۱< × ٢٢ عنط ٥1۸٥0 ×ط6" ۵ہ
ج صت,صمنط ۵۵3ئ٣ عنط ۶ہ جرہء 18۲۱ عط٤ ×ط٢
صنط ح٤ 416٤ صعط ٢ج٢ ,ع×ّنل صزط ۱885107 ۴۵۵۵۸۶ط
×وخءمعنط چ صاع ص۷5۸۸( >ہ۵٤دصھ۸ .8 .6 .35۳ بدا
٥۴ ,564 ,43۶93 8+35 صدہ[ہھ 588٤ ط٤ ٥٤ہ
×"+و جدعائخ وط ×َاەەط ط٤ ٥٤ہ دہ ج3مّ 1,100 عط
.ع1 ص۶م عط صا قط صمح ٥٥××ط٤
عط طجہ×ط صمناسط[×٤ ٥ا ۶ہ منزا5ص(5]8(
)ذ۸ذ ۲یہ7 سا جچمذگا۶<ہ قصہتهعتص حا3۸08(
۶6 و؛ہنجہء 10,000 ,مع ہ60 صعنعاءظ عط٤ ٤ ط4
8 11طادم ٥٥ط
دعط طءنط٢ ,ص<×ہ0() عط٣ ٤ہ روجرہء :1+8 756
نانطعكت8 عط٤؛غ 4٥ ندجچٛدهە(١ ؛اع×ے٤غ ۲ ا ا3ھ ط٤
مط ۲و ٥۱عط عط٣ ٥ د٥ہ عط 11 ٦858918510
7828٤ با ٥٠٢0ص صسنلمم۷5( حر بزنفل3صطھ
اد ,ف3دصطھ 1 سصط 1-01-53۸۸ 1صنطعوظ 351:23(
٢۷ بطد٣×٭ط8٦ ّٛذ ۲٥۱۰۵ 3۶و٭ط ەنط
95
سسسسسسسسسسسسسسسممممسسسسسسسسسسسسصصوسسسسسٔی--د-ص---و-ص--ص-.یصکبککٌجپسش ےو
طواعز8ٌ٤ج5. مع ۲:11 ٥٥ذزجزہوء ۶عط01 ٠٥ ٣ط ۲۲1١
۶۳ء ۷ئ۹۷ و ا ہ۷
دہ 3 ٢)١ دنصنل( دعجز)ہ×ہ"7 ەط ۲٥× (7۸۶.۰ 7 ۲:٠1۵ط
7۴0.
2 :۱۱۵۱۵۱۵۲۰۰۰۰۱۸۵۰( وق قائت
ط٢ ماعط 10ہ ١ صطے طقانعط8 ہرجہء ٥د1۶
8 عط بدمنا([ ٤٣٥٤ٗ عنط ااعط نہ ا١ط ءط
8 ]هہ حدطە٥اطاە×ھم عطا طز 8:م7۱وہء
81(ق[×ەہ نطا۶ءھ عط؛غ؛ ط٤ذ ٢٢ ۔یمنٹھام
طاەز .11ن قد ب٥٭ّ× × ٢٢ ٤ذ ,اع دنہ
۰ھ 8۵ک صا ەہ6×صم وصناصلم صةہ ×0۱
86+8 ۲۵ذ +٥ ٤طە 288٤ ءا صعط؛ 176
”ا۳۹۱ د40 ط۱ ٘اہ عنطا'' عصناجمنء×ط ×۱ د٤ہ
.۰ < ۲طد ھ ص7 ذ٥1 ممہہء ٠
8 ۳۱۲۶م ۱11 0٥٤و ناطام عئنط؛ اعط ەممط ۲"
,78168ے اموظ ۶ہ 6 اہم ٥ط ٤٥ چد(آہ 18ط <٥ ع8
8ء ۲× ,اصنص ٤ہ ےعدّّم صدەط؛ جدنعط
ص( ہ۳ ۸ہ[ ج مع ۰۸11 قد ب اق لمت 11081عزمرہ
8ء صعنصسصحہدہ0 ۶ہ (ذ٭٭ہ عط٣ چصتقععطدہ
09 "رع د10 ۲۷13 تحص ہہ -ط6] 5 ج 1۳0۴۱۷۰
طحانەهمط5 ط٤
×ط ۰٥۱ 8 د1ط ١ط زا ند ہء ۲۷11 مہ۶( ہہ“
غِط ,”عا×۱ە× امط عنط) ٘ٗٔذ ٥صعطہ ×ەر 6١۱٥ ١٠۳
+۰ 8
61٤م ۶ 3٢٠ ٤:طع دہہ×م ]٦ہ٥ ْ.6
۵(8 8:0 صہد٣(۲ھ ٤288ا ءعط؛) ۶ہ ۶اط
6 ٤ہ دہذ٤۶۱۸۰ٗھ٘ عط]٢ ×ذ ٥60 ذ 880٥ د٤ہ
01۰ زا1
18 ۱۲۸۰۱۸ ع۱ هط غحط]٤ 14د صمدط16 جم .۸5۳(
96
ط٤ ٥سہد*٭ط ادٔدہ ×0٦ ۔دہ( ٤٣ہ ٢۵٥ج 8
جاءئنط ×× ا×ہ٣ ؛دہ×ع مط٤؛ ۶ہ عدہ ۰٢ ۹03
قغ 8ه قھاە عطا ٥. ١٭ھ ×طدءةةءز عط٤
8ء ٥د در چ صز”×ط ر(دصددہ 15000٤10 ١٠۱۱1٢
عچصنحادمجہ ۔نانطد 850 ٤١ جد(٥ەط-1[١۳ 11۲031رہ
(۸۷٥118 1 2088٤ ۰ھ
5٤35 18707,53 ۱1+013, (58, 16,1953( ص۵٥٣[ھم اقوئگ
ق رآ نکری سوا ضلی اد ر عرپی زبان میس شا ئ کر دیاگیا
) ؟۶۶١ٰ 7 کپ + و
معشرقی ا فربیقہ کے یراو ر ام یہ مسلم مشن کے چیف مشنری ہیں ق رآن
ک ری کاعرلی سے سو ا جیٹی زبان میں تر جح کرت کابیڑاا ٹھایا-
بجعرات کے دن ان کاکام پابیہ تی لکو بہنچااور مطری۔ لی۔
اییڑرسن نے جو ائینٹ ا فرلیقن سٹینڑ رڈ لین کے ینگ ڈائرییٹرمیں
ترجہ کاپسلا نے جو دیدہ زیب جلد سے زین تام صاحب موصوف
۷ھ 000
ٹیس بین ماہ صرف ہو ۓے۔
ق رآ نکریم کا پسلا نے جس میں عربی من کے سا سوا ھی جم
دیاگیا ے حخرت ہرزا ٗی ر الد نع گور ١ر صاحب انام بماعت
اج یکو ان کے عرکز ربوہ مخرلی پاکتتان دسا لکیا جاۓ گا۔ اس
کے علاوہ اس تجمہ کے نے مسٹرع علی و زم اعظم پاکتان اور مسر
مج خفرارشہ ان و زس غار جہ پاکستاا نکو ار سال کے جانیں گے۔
خی ما امہ شا مارک ا صاحب نے ا ںکناب کاپ لام بے
97
ہوے فرما کیہ جب وہ تر جمہ کاکام عم ل کر گے و ن کے سان
کی طباعت کا متلہ در گی تھا۔ مشرتی افریقہ ہیں کسی برلیں کے لے
ہی وصص یہ رنہ
انھوں نے اییسٹ افرلقن سینڑر ڈکے لاف کو اس میم کا مکی
ای ا خر نے
یف اماک اتکی اشاعت مخرں افرلت کے پاشنرون ے
لے بی کت کا موجب عایت ہوگی اس :کے رجہ سےا خییں
اشھینان قلب عاصعل ہوگااد ردہ اخلاقی اور دوعانی رنگ می ا نکی
ربلنعد بی کا موجب ہوگانی زیو غزم کے یرسے اثرات کے اڑالہ اور
لف فرٹوں میں مر تعلقات استوا رکرنے می ات م گروار ادا
/تے 26
اوں نے بب یکماکہ اس مقد س کام میس آ پکی فرم نے جو
یلاہ ا ںکی وج سے اللہ تھا ی اسے تھی برککت سے گاذ
ا کنا بکی ٹینکش کے مو تع بر ایسٹ ا فرلیقن سٹینڑ رڈ کاسا را
طاف جس نے اس ق رآ نکری مکی طباعت مس حصہ لیاموجور تھا۔
مرا یڈ بن نے کمانکہ دودااسس' تقر بک ایک بہت با و ات
رات میرف این یل ےکا ایس ور نے مرن می مم
کا بکی طباعت کاکار نام مھرامحام دیا بللہ اس سل ےھ یککہ ا کی
٤ ۱ے کے یی 2 تا سو کے ےو
کون اور روعالی تتحلان کا موجب ہوگا_
سا تی جج کی اش حوت ضخرت امی دومن لو ور
سا
98
فظاء مبارک يہ تھاکہ قرآ نکریم کے تز جم کی اشاعت کے لے
خاص و جہ دی جاۓے ۔کمرم ش مارک اج صاحب نے ا لک عبل
کے لئ ایک وسیج بر وگرام موہ کیا اور ااما: اسان ۱۴٣٣ یل
( مطابق ااجون ۱۹۵۳ء )کو ضمو رکی ود مت میں حصب زبل رپورٹ
ارقال 5ین
تو رکاارشادکہ یا نکر کے سوا جی تج کی اشاعت
اصل کا سے' اس کے متحلق ضرد ری پر وگر ام اد ر تما داحتا ری
جا ردی ہیں۔ () اہم گی اخبارات میں بانقاعدہ اسمار )٢( یرلیہ
خاص پفلٹ (۳) خارات میں رو (۴) اور
2٤1058 05ا17 (۵) بے کے رر )6ت مارک زرج
(ع) جماعیوں کے زرل کہ وہ اس تر جح کو ک ےک رم٢عنرذین کے پان
ای اور فروخ تکریں اور انیں ری ککری ںک وہ افریقنزش
ا سک و تی ری ۔ خودجھی ارادہ ےک ملک کادور ٥کیا جاۓ۔
7ب ؤ بؤ+ؤ 0 +) ,+0
ہزغ سے م یر این 9ءء و وت
22 ایک نماص گرا ن کیٹی مر رکرنے کی میں
ہوں۔
پاکتان کےگو رن جنزل * یرام ضرا و رفارن فرکو مقائی کشر
پاکنتان کے ز ریہ سوا جیی ترجہ لبطو ر تفہ دیا جار ہاے ۔۱موز ٹردا
32 ا اس موقح برا شبارات اور فو وگ افروں کے نا7 رہ
ہوں گے۔ نا یکشن پچ رخودا نکتابو ںکوکرا تی مچنوادمیں گے۔ ہر
99
ای ککی مد مت میں ایک مق رخ بھی ککھا جا ۓ گا۔ انشاء اد - اس
وت تک تقریاً ۲ا برا رشن گکیکتب با ہ ملف ایگنوں “میک شاپ
اور فردا فردلوگو ںکو مو ائی جاچی یں-
.رق ا فریقہ کے ملف علاء اور ا لم کے تا رات
سوا می تجمہ مرقی ا فریقہ کے احیہ مشن کا ٦ی مکارنامہ سے
جس نے ملا نان ا فریقہ کے جو ملے بداۓ ۔۔ ان میں عم قرآ نکی
نی مشعل روش نکی اور غیرمسلموں میں اشاعت اسلام کے نۓ
رت کول دی ۔ اک بر ۱۹۵۴ء کی جات ےک منزم شی مبارک
اج صاحب ٹاہگا شر کے تھلیقی دورہ پر تخریف لے سج تو ایک مسلم
اپ ےن رر کن اج مھ فاحت (مطازم انی رک
ڈمپار تمنٹ الیسٹ افرلین ر بے )نے آپ سے طا قا تک او ریا
منمبارک دیے آیا ہوں اور خو شی ری سنانے آیا ہوں۔ "جم صاحب
نے اکماد کیا ؟ کن گ ےک پا کے سوا تیلی نز جم ق رآ نکری مکی الیک
کاب خر یکر میں نے ایک حیساگی افریق ن کو پٹ سے کے لے دی
تھی۔ اس کاخط آیا کہ میس ق رن یکا ت جم بے کر ملمان ہوگیا
2 ۱
(ڈائزک یکر ہی مارک اھ صاحب مم رد لی ۴۹اک ر۱۹۵۳ء)
اس تجح کی خبت مشرقی ا فریقہ کے چند متاز عماء اور ابل ف مکی آراء در
فی کی جائی ؤں۔
اخ الفزالی آف ممبامہکیڈیا مد رسہ خزالی میا کے بدرس اور دیٹی علو مکی
101 ۱ - 00
اشاعت کا اض شخف رکے وانے عا لم دن تھے ادردن رات درس و تج رلک ان قرآن پاک می دج یئ ہیں ہج نکو خقل بھی لی مک رکی سے ۔
کاو ظیفہ تھا-) ۴٣۔ جاب اے عبرال' آے موہو خزاب (اہۓ اذ ک ایک وے
یا ری اور بجر تھے جک سے کے اواقت جو انی انل علاقہ ین بد و ضتان
سے گے ان سے اع کے ھ رام تھ۔) نے ککھا:۔
آپ کے اس مقدس کام کا بہت بہت تکرب ۔ انف تعالی آ پ کو
سی عمرعطا فرماۓ ۔ جم نے خ رآن مجید جصی پاک و مقد سکاب پالی ۔
٢ جناب اعولی صاع آف زئجبار (آپ بہت عرصہ ٹانگانیکا یس فو رس میس اج تفر ےک پک یی کے ای اچ ام مق یر
اعلی عدہ بر متمکن رہے۔ بعد ازاں ز نار آکر اپچنے قبیلہ کے لوکون میں رہائُل گکھعون اور آپ کے اس انتک محنت دانے کام > اظمار ہد ردی
انخنازکی ا نزک کونشانع کے مظاک تق کے کن نل م رت 29
مات من سے کت) ۴۔ جناب خماری آرو بی آٌف ا رگا تر اضیہ (ار ہا کے علاقہ کے ایک مشمور
انھوں نے کھاہکہ میں نے ققرآن اک کے اس ترجہ کا اتی صاحب عکم اور تن اسلام سے خصوصی دئی ر کے والے ہیں۔) نے کتھا:۔
0 8 9۹389 ×7 پکی ططرف سے اق رآن ہاگ کے سو ایی تج و تقی کو پاگر
کا تی نا کی یک ایت ممنون ہوں۔ آپ کے اس بڑے اور اہم کام بر آ پکو
قرآن اک کے متوں اور اگمری: کی تفیروں میں (جن می مو ناج و
لی بد اللہ اضف خی ور مارک ھا لکی تیریں ہیں) جو ۵۔ جناب ڈئی۔ اے۔ لان صاحب (یرولی میس مئیم انگ ریز نوس مم جو قرباستزہ
نے بھی ہی نکوئی فرق محضوبن نمی یکرت لیکن ائیک مان اھ زین س کا مال سے ملمان ہیں۔ آپ اسلا مکی تیم سےگمری وا قفیت اور مواز :راہب
بجھ پر بھت زیاد اث سے اور جس نے جے مجبو رکیاکہ خلوص قب ری نظر رھت ہیں جنوں نے "1183 ط7" ایک تحقق تا یہ عیسعیت
ک7 وا ا سر ا کے را رک ا جک تی نر کے ردمیں اور اعلا مکی بر تزرىی کے سلسلہ می ںککھا و مقبول عام +وا) نے لاد
01977 لن 205 سے
انوں نے سو اتی تر جم بے نے کے بعد بعہ کے دان اہن خطبد
یس اس تر جح کی نتر فکی۔ یھ حرصہ بعد انیس نیدی آنے امو
۱ لاو ون کے نان کی سوا می تج کو رات وت اکا
اک جو ا رن ےت
ً جس میں ملف ولا کل اس طرذ پہ دیے سے یں ج نکو قول سے بخیر
ارہ نہیں اور ا بے ولا تل جن سے پادد کی ەل اود دیادر یی ہچیچ ڈیل
2 0
ری ا فرینقہ کے الوکوں کے لن کیا میا رکیاد ع رق کن ےکی اجاز ت
ارتا وں اور ایک سو ہمان ک کا چیک سا تہ فک کف کر رہاہوں جس سے
102
7ا00 561-00 تچ رھ ھت
سی تردق ١س خر کے لئ ار سال خد مت ہے ۔(ڑجمہ)
۷۔ معلم ایم۔ فی ۔ رمضان۔ پائیشی ہف ؛شچی حنزامہ (ابل تلم ممون زار
"تر ری نت تی کت اہ
رذز ذز )اتی ٹاون می مس دو صرا تھی ہوں ےے قرآن اک
۲ کاو انلی ترجہ ویک ےکی نف ہی۔ ضرد ری سجکتتا ہو ںکہ ا کی
باب ت بج کھھوں یمیس آ ح بہت مڑی طوشی محسوسں کر ہوں اور جج
ان ای نے حرت من لی یا نیش تی زگ مغ ابا
"00اک ون
۲۳ پا کی خولی یا نکر ۲ ہوں۔ یجھے جب سے بی تفیرٹی ای وقت ے
۲ بے اس کا دو سری چچھوٹی چھولی تفمیروں سے جوکہ ممیاسہ اور ز نجار
٦ ما لع کی مین فا کر ماج ملا اش کی نے
٦ ترجمہ بھت بمتریایا۔ مزید یں آ یا تکی اگر چہ ہہ مق رتضی رمق نکی
٦ ےگ را ہریلحاظ سے اس تفیررمیں بمت سی حم تک با میتی ہیں ۔
۲ میس نے ظفاصیرمیں مرا کے منلہ کے متحلق اتی وضاحت ئیں
٦ دیچھی وو رز بی نجی جاک ہآ کے تبحم و ٹخمیرٹژ ے۔
٦ ے۔ معلم سوگورومرجان اوانو آف کامولو تڑاعی (صسسلم سوسا کی کے ایک
٦ رکردہ رگن او رگور تحنٹ سکول برا ا فرلیقن کے استاد) نے کھا:ے
١ یس الد تالی کا بت بت شگر اداکر ہو ںککہ جس تے ری
١ ١ دعائمیں قبو لکر کے میرے اج بی بھائیو کو قرآن اک کا سوا نکی
٦ زان مم تر جمہ و تقیرکرن ےکی فو نی عطا فربائی ننس یس بادد یڈیل
103
اور اس جیے دو سرے دشمنان اعلام کے ا ہتزاضات کے بواپ
اٰیے رگ می دی گے ہ سک جن کاجو اب د بنا سے دحمنان اسلام
کے لم زمایت ہی مکل ہے۔ پہ ترجہ و تفی رس ا لی ہرمصلمان سے
لے ہر مہ زبررست ہتھیا ر کاکام دےگی۔ جھے جح بے عد خوش
لالح لت ربالعل سے 276
۸۔ جناب محر کالونیا آف اوو زا بڑانے (اپے علا کی سرکردہ شخصیت ہیں )
کتھا:۔
یس ےی کنا ہو ںکک ہآ پکو الد تھالی نے بم ا فرینقن قو مکی
عالت بر لے کے نے مہا سے اور یں ردہ عالت سے تا لک
7 بد ا ہے
لیے کے نے ہے ور مار سے سا ا ات مکی
2ت
ین آرج سے آ ہے کے ساب ول ےج عقیقت ےک یم نین
جات ےکک ا چھاکیاے اور براگیا-
ری کے پےے و یی 2ر کت یت کل کے
انذعیرے می تے۔ الل تما ی نے آ پکو اس اھر ےک دور
کرنے کے لے جمارسے پاس بھیا۔ الد تھالی آپ کے اس کا مکو
قامت کک مو لی سے تام ر تھے ۔( تر جمہ)
۹۔ جناب ناصر شریف آف مہا (علاقہ ز تیار میس صرکاری ازم مے) نے
ی:۔
یس ان خوش ہو ںکہ میں تے ترجہ و فی رس ا لی قرآن پاک
104
کی خر لے بی ایک وم پفلٹ تی مکر کے تھام دوستوں میں پھیلا
دیئے۔ ای عرضصہ مین یرت ذو حمزے سا تھی جس مین مسٹرا چ رید
اوگوٹو شال ہیں ھیرے پا آے اور آپ ا رر ہا
وی ا ار ھن ےی تی کی تے کے می ےکن می ہے
دل می موجو رت ۔ بے لی احقیقت ای تفی رکابمت رنوں ے خوقی
روئیجیئ فا ودج
ین کہ میس جلد بی آپ سے اس تزجمہ و تخمی سوا لی قرآن
اک کا نیک نے انی اس بھانے کے لے عا ص لک رکون کا۔ ١س لے
٤ت کک و0 سو سج وش شال
ےو
۰ یی اف رو کت
7س و کسی ضرف ات ار
یس بعت و ہد ون - می بے بڑا سی پند آیا ے۔ اس تجمہ و
تغیرس عیساتوں سے زیرہ رست مقالل ہکیاگمیا ہے ۔ یہ کام یق ین
ا اک ا کک کا
مشرقی ا فریقہ میس چاروں طرف سے گی ررکھاتھا۔ (تجمہ)
۷ وائٹ آف مضہ (خزاضی) ضز اجکی زبان کے مخروف شاع راو ز مشور
صعمائی تن ےککھھا: -
بت ش رگزارہوں ا رت تہ آن
اک کے سو اج لی تریمہ و تی کے بی مار مشرقی ا فریقہ میں شائع
رت پر مبارگ یاد بے یکر ہوں۔ ت جمہ اتا عر: او راع ےک
105
انسان کادل چا متا ےک بڑعتابی جادوے اس کے علاد ہیں پچ رے
نے کت کت نا ےق ملع کو سی حا
خی ںکہ عربی من اور سوا مکی ت جم میس بڑیی مطابقت سے ۔ عرلی
من میں بھی کوکی رای تین ۔ تق ری نو ٹس عم و ععرفت سے لبہ:
ہیں ۔ عرلی ز پان سے ناو اف کے لے ان کا مطالعہ عالم بنانے کے ےَ
ای ےت(
۷۔ جناب شخ اگ ائیں۔ لیینگا آف نیاسالینڈ (طلا دی )گت ہیں:۔-
آپ کا بت بمت شکریہ۔ میس نے قرآن پاک سو امیلی کا ضخ
وصو لکیا۔ مم اس قرآن پا ککی فصاحت تی کو دک کر دنک رہ
گیا۔ ہہ ضبدت اس ق رآن کے صے میس تے ۱۹۳۲ء میں دا رامسلا میک
اب سے پادری ڈ لی آف ز تجبار کا ککھا ہوا خز برا تھا۔ یق ہے
سو ایل تہ و تقی رق رآؤن پاک ان ب مکی طرح مابت ہو ا ہے۔ میں
اتی نی ای پا خی ین تر رت ری اور
ما یق رات اور ایک ات نے ان بایان
ابی تزجہ و تی کی مال وا ققہ ہی ںکوکی نہیں ملتی۔ القد تالی ا
ا رو ال کت سک وا سال یا
۳۔ جناب اے ۔اےکیانڈ و آف مگلو مہ (ختاضے ) نے لگھا:-
تزضہ و تغیریع اعت آع کی طرف سے شا کیانی سے
بستا بی اچچھاسے ۔ ا سکی تفم رحمت و محرفت سے بر جے ۔ عرلی متنن
کی تخی ری بی آسان اور شیرسیں سے اور لفظ بلط تی رت ۔ عم
میراے ج وکہ اعلام می بذابی مشکل سے اس ترجہ و تفی رو انی
006
مین بڑ سے سان طرلقہ اور مار ت سے تر جیب دیاگیا سے ۔ اس مین
سایق کب کے جھ نام دسیے گے ہیں اس سے پت چلا ےک ىہ تفیر
لئ جج اد بڑئی ٹجتی ہے ۔ا ہے لوگ جو تتھو ڑی سی عری بھی جاتے
و و سی ہے ہیں اہ
ری گے اور عرلی زبان کے علم می ہمارت پید اکر گیں گے ۔ جم
جماعت اجب کے ان مز اباب کے جنہموں نے اڑیی تفقی رس اجلی
زان می لکی ٘ کی اشمد ضردرت ھی او ر اگ کیا بہت بمت ممنون
0+0+0"
۳۔ اب سے۔ آگی۔ الیں۔ ک1 رو طمر اتل آئے
دا را لام ( جا ضی )کت یں:-
اکر چہ متعددلوگوں نے قرآن اک کے اس سو اجکی تز جم کے
عحدہ اور اعلی ہونے کے بارہ میں بھست یج ککھا ے میں مزید قرآن
پاک کے اس سوا تی تزجمہ کے بڑ ھن والوں پر زور وتا ہو ںکہ
ش ران باک کا یہ سو اج لی تجمہ بہت بی اچھاسے اور تفیریدی واج
اور ححمت سے پر اورنی احتقیقت شجزہ ہے ۔ اس لے میں اییٹ
ا فرین احدیہ مس لم نیشن کاان کے اس اہم کام لین قرآنن با ککی
سوا کی زبان میں تر جمہ و تقی شا کرت کا بہت بمت شک ریہ اد اکر
ہووں۔ قرآن پا ککی سو اجکی تقی رمشرقی ا فریقہ سے سمارے عا مد
شھو غٌکئی سالوں تک بھی نکر کے ۔ ا نکی تق سو ابی نکر سک کی
ہے سدق نے کنا تر کر اک نی ین سور
ایا کا مکرناکفرہے۔ اب ق رن پا ککی اس سوا لی تقیرے واج
107
70 تر آغ ری رو ون اج ہے راہ
گامزن ہیں ۔ میں بماعت امہ کے لے دعاکوں ہو ںکہ اللہ تھال کی
رکات ور قت اہ ں۔- آشن( 7 جہ)
تی بیو ںکا ول لم ترجہ سو الیگ یک کی ا اعت دس ہما رک
کا دسر یا د0 ا و ا ا
کے 7ا رت رت تی کے نے سے نت یل
انی کو رسمال کے گے با لع ماما2 ڑ مین کیو ںکو جمان
تو ںا سے ہت ےت ےد
ھور ار قیروں نے قول اسلا مکیا۔ اس ملسلہ می بطور نمو نہ لنش
خطو ما کا ؤک رگرنامناسب ہ وگا۔
ا مٹرنا رون 'نھنگ ےکا مبافیلہ کے ایک قید ی نے ق رآ نکریم
کے سوا می تر جمہ کے باریار یڑ نے کے بعد اسلام تو کر لیا۔ آپ
نے ۱۴۹ یرمل ۱۹۵۹ ءکواھاکہ میں نے اپنی ساددی زن گی اشاععت
اعلام کے لے وق فکردی ہے اور اگر ا سے تو لکرلیا جاۓ لز بھی
ین ہ ےکہ میں بپ ری طرح اس پگ لکرکے دکھائو ںگا۔
۲۔ جو روک چ وگ ودج ٥ز( 2 ا
سے تحت ۱۹۵۳ء سےگر قار تھے ۔ آپ نے ااجنو ری ۱۹۵۹ ءک وکا
کہ می اتی جوانی کے زمانہ سے عماحیت کا بر چا رک رہ تھا لن اب
یس نے ا ینار ادہ تید لک لاہ اور میس چاجتاہو کہ آپ کے ہچ
نر ہب اسلا م کا مطالعہ ق رآ نکمر یم پڑ ھک رکروں-
۳٣ م رکب کگیرا 1۲ج دص 16 بھی ابھرش"ی
0
108
ر وین کے تج تگر فا ر تھ .٦ا جن ری ۱۹۵۹ کو لھاکمہ یں ابی
جوالی کے زمانہ سے عیسائی ہوں لیکن اب قرآ نکریم پٹ سے کے بعد
آپ کے نہ ب کا مطالع کناچا ہت ہوں ۔ ہچھے لین ہ ےککہ ق رآ نکریم
کے مطالعہ سے ند ا وا نانے جو پغام مج (رسول الد صلی اللہ علیہ
سم کے ذ رجہ دیاۓ اس کا جھے (کانی )دس علم ہو جا ۓےگا۔
۴۔ جو رو کفکرن 7م 6ج0۴0[ ٦ ایک 414 قری
تھے۔ آپ نے ۶ اچنو ری ۱۹۵۹ کو کھھاکمہ میں قریبا٭ ۵ سا لکی عم رکا
آدئی ہوں۔ اتی جوانی سے عینائی تھا لیکن اب میس تق رآ نکریم کے
مطالعکا١رارہ رکتاہوں۔
۵۔ ٹر ڑی۔ ایج ۔ ماد عو تے ۲۸ جونع ۱۹۵۹ء کو ہولا اد پن
کپ 087 رہ م0 11018 ھئ00( نات ہی قرآن
ریم کا سوا لی تجھہ) بی ام ہے اور بی و ہکتاب سے جس نے
بے اور رک ١س ق رین اور الھینان ولا دیا نس کہ پ مکو نشی
اور کے مخو زم کے مسلنان ہو جانا چا سے ہوا کپ مین جو کیکو و
لے کے خر ون و ا تا یت و امن
نہب اسلا مک یکتب با فو تق رآ نکریم مسیاکیاجاۓ ۔
ران الیک اور خط مو رنہ ۲ اگست ۱۹۵۸ء می ںککھاکہ جح لگحم
میس مد اکی روشنی ربھتی سے ا سگھ کی کٹی قرآ نکریم ہے ۔ یق اکر
ران س ایی زیان یش آرج سے وس سال فی ترجہ ہو چنا و٣2
0777 مود ارول
سا آ پکو یہ اطلاع دتی بے ربی سےکمہ ہم مسلمانوں کے بڑے
109
وع ےد نع ادن ںاھ کی سے کمود( )ای اار2
صن پر ری دہ ارت با نے رسزول صلی اش علی۔ رح مکی
22901
21 کے کے کالوگی جوکونا
3 ع از ۸1 (ع یا دا کا ط86 0:8 :1/181 تے ۱۳کت ۱۹۵۹ء
کو ہو لا او پن کیپ سے ایک طول خط لکھاننس میں انوں نے بیان
کیاکہ ے اما2 ا2 قیدبواں نے اپنے پر اتے نہ بکو چھو ڑ وی ے اوز
رآ نکریم کا سو الین جمہ پڑ سے کے بعد ا سلا مکو قجو کر لیا ے ۔
انوں تے مزید ۱۸ا فرادکی رت شٹیگی جو اس تر ہمہ کے پڑ سن ےکی
طرف ما تل ہیں اب ان میس سے رای کگکو ق رآ نک ریم کا تجح میا
گر پاکیانے ۔
مسٹرکابو تی جوگونانے مو رض ۹نو م۱۹۵۹ ءکو پگ کک کہ مل اور
بت سے قیدبی جنممیں آپ نے ہمریالی سے تق رآان مسیاکیا آپ کے مشن
کے اس مفیدکام کے شک زار ہیں جو آپ اس ملک می ںکر ر ہے ہیں-
جھم اس (نتاب کو بار بار یھ رسے ہی نک دہ میں ے رھت میر
معلوم ہو تی ہے۔ بہت سے لوگ جو انی رائے تید ہل کر ر سے ہیں
او ر حیساحیت مس ا نکی دی شحم ہو رہی ہے انی اس اھ رکا ضتاق
ےکہ ان کے پا تق رآ نکریم کا نا مضہ ہو۔ بے اس ١ھ رکاعلم ہے
کہ آپ اسلا مکی اشاعت پر بست روپسہ خر کر ر ہے ہیں او رآپ
کو یہ ک نک خی ہوگ کہ اف یور می مہ ہب اسلام مکی تجزکی سے
یل رہاے۔
110
( ترجہ اخار الیٹ| ذرلقن ٹا ت۰ز ر+ر۱۹۵۹ء صفّہ١٠)
مندرجہ بالا ا قتبامات سے بخولی پنۃ بل سنا ےکمہ اس تج تے مشرقی افریقہ
کی علی اور جلیفی جا رب رکتاگرااڑ ڑالاے۔
یہ اض نار عم میس ۔ مان مشرقی اف کی
ش مت زومسلم اور غیر
مسلمم شخفصیتوں نے اس اسلائی غید مت کو فراغ دلی سے ھراباادر
خر اج تسین ا داکیاوہاں ایک صاحب تچ عبد الد صاغ راز جماعت
عالم نے اس تر جمہ کے ایک غا سے حص کی مرف من نف لکی او راس
کے تض متقامات میں اپنے مخالفانہ نو نو ں کا اضاف ہر کے اسے ایک
تہ کے ور بر شا یکیا۔
اس مرک ت کو مشرتقی ؛فریقہ کے عی علتوں میں انماکی یر
نک کی نارے رکنیا نچ ایک غیراز اعت عالم لیے
شریف اھ بدادی آف مھبروگی کنیا نے اتی کاب
0( 78 710( عضاے موی )کی فل بشتم ص"ہ ام میں
اس روش بر تقی کرت ہو ےکھا:ے
0 فا 0۱ 0ض ٠0 "ض۱ص
نمەھدنز اح ند۶نہ۵۸۲ عمسدۃ+ئلدا ططانەهط5
,3ئ ا٥۷( ×سعط دحناسطصەط٥٠ ١٣ا5
[۶۱٥1٥3 دص ۶8۵)(۶1د 11 ۶۷۰و ءزد ہد اد ٣1ط
ود ٥ا٥ت ا 2ھ ند×نہ٠ ہ٢٣1 صصدھللا
: ”17ص4118 ا)۸(
30 ط۸ ۰۲۱ زء×عط5 ج0 35178۸۸( ۷۸ 710180
: ور1316ئک حعصدجصنترسلا ط8 ٢ سا٥7 ,رز ×ظ
111
(41 ٤ا1 41851 3ع ۷58 ئ 191151859 ک7 78
شغ(عیراللہ صاع )کی دوضرکی تجب از بات بی ےک آپ
دیاھییں ج کہ بس فدہ قادیانیوں کے تر جم بر جمل ہکرت ہیں اود پھر
ا دج رو سے یی و رک ا انت
ہیں۔( ضجمہ)
لغ برای کے ہہ الفاظ نہ صرف احدی عم تی ری فوقیت و
ہرتریی کا کا وت ہیں بلہ ان نے جماعت اع یہ کے شا گر دہ
سو اجکی ترجہ و تی کی عظفمت و افادیت بھی روز روش نکی طرت
عیاں ہو عالی ے۔
( رن اضر یت جلر ء١ ٣ ہ٣٢١۲)
ایک ج رن کا رکا برہ
ا ہش ےش مت سے رٹ
مغ 0-۶8 711۶ ٥ط۲ 7ہ صمتا 3د١٣ ط۲٣
7399ھ (ط رط ١ط دن(ط ام نانطد۷٣5۲
0-578٣), 16180 ص005
”(ط) ۲ج 1٥61٣٥۶۰ (ءء جرہ د دہ 3۹ط فا )6٥0۸065
8 تل ب۴ ناطا 518 ج) وط ۲ 1ئ٤ دہ[0۶ ط۰٥6
19557
(تاطا .78 .08080 “۲58٤ :7۸۷7 7ط
6اط جع طط8 1لط بام ([18[ع25 ەط٤ ,1953 ٣٢٢٢ عط٤ صا“
6ط ,[ 781805 جز ”818۶3 دوء[ھ ٤8ا" ط٢ ٥٤ہ
۴۶ :۲۲۸۵180101 ج ٥ طمناطیام ,من چدہ گا ٥ہ نآ 5۲81ء
6٥: 88 8 ۴15م دز ۴] زانطد "8 6٤0٦ا ظ×0 ۲ا10 ١ط
1166۶۸٤0۶۵۰, 1× 1817 نانطد8+۷ ٣٥٥٥۵ ۶ہ آله ٢ا"
روط" عط ,ما1 201:1(" 1+168 18 83 16509888
0
112
8ط ذ۸ ۲ا 3<۶طبہ۸5۸ طمازہ ط8 8[ ٤۶۹۰1310۶ 5-2“ .<” <۵
۱۷۶٤ جد ۱١۸1۲۲ صطھھ ط٤٣ ۶ہ 16816 ١٥ط ۰۸١1: صطھ
طط :٤ه ٭٥اممء 2 5قدمط؛ دہ" ٢٠٢٢:۲ھ 0886 طز
٥٭ًطا ٥بعط عاەەط ٤ صہەط۔ا۱ء٭ ٗ4 ع۶ دنم۔[اء
و ۔ وع صت1ائطہ صدء(۲۲م اع 30( ٣٥ نم عطا :1ع ل۶م
۷٥9۰ آائظط ٠۶ ٥٤ہ طط ط) عط٤٠ ٥٤ہ ۲۰٢۷ <دٌٔذ ٥ھ طجچزط
18 ۴181581ہ ٦۶31ھ عط) ,نازئطد8۷ ھٗرز( ٥× عط] 861168
٤ہ 70ا 12ہ م6۴6۴ علط :>1 ٥6ہ 12 عھ ۱٤. صلعم
٥زط<ھ ھًط؛ٴ ٥ہ ص مذا:ة88 ط٤ ,صھع×سو راەط ١ط
6ط' .8:113( ٤ہ ٥د عط]) ہ۶ <683 6ط 6[ آج ط(18×ہ
ط٤ ۶ہ ٣2١۸۰13110 ٤٥6(جردہء ے غعط) عصنەط غصنوم
٥1ا نعدوم ا مد دز ٥ جج ع صه1 ×معطصد مغ صذ ×0 ہ1
زادہ ۰ه ٭ ۲ة عط)ا ۶ہ ٥ ەد٭ عط)؛ ہعامصو٭×هہ ٣١۱٢۶
5 501+3 .161168 13112 ص1 دہ اع ص(چ[<ہ ط٤ ص( ٥۲ع
.1-17 51×3“ 88 ٥۱ط ز۶ ۲۵۸58 18
٥ئ چەم ۲<" ١ دہمصا1ہ 0۸
۳ ءء۷۰۰
۳٥ ١اد ء٥
4+ 9 ۲00-656377
86٢٢۴۵1 ۲1118 ا1 ۱اعط٤ دصمصنصنتاا۱١٣. ط .15 جج معصدہ
].7٤٥٤١٢٠٥٢٤٢ ۵٤8 ٥٠ہ 61083۶۲ دم ہ۲۶ ظ۰ ٥6یئم
ء۶۶۵۰۵۲۰ ۱٦5۷۲۰ ×٭ ع۱٥1 عحط حادعدط ص۸( طحانەط8 ٤اط
ذط<ھ ٤ه ععل×هہ٭ 15١ ۳۰ ۔.صمناداد5:+؛ هنط ٭ہ
تلبرصعصص ٢٥١ 83 ,[ ۳۷ح1 1ظ -لا[7( 1310+۰ د۰ حددہء ۹۵
0ء ۶د ۶۰ء ط۳ .د٥ نحعّدہذ٤11 1 دد قد ٥۱1۰ء ط 17111
89 :8٥1ء۵۸٤ ءنص×-) صناہہ](۔د”مھ رط دعا×ہ
رعگا×ہ٣ ٭ دہ نعناہ× 3ه با۸”ەنطم۸× جع .لو زہ]ئنط
8ء ۰ع سچمھا طەزناحصظ عطا ھذ هد جا ئط۳ ۶ہ ت×حصوم
18510١08ص293] عط] ٣ظ ٣٢۶ ٤٥۶۵. صدناماعط0 ×ط (٤۲٤٥
.۰اا ط181 نائطد 8×۷ ٤5ص[ د([طازنظط عط٤ ٥٤ہ
ا18 عط٣؛ ٠ہ صمتاھا8 ۱۸ 1۶٥٠٢ عط] اط ہز ەعتط'
113
کے سے سے ےت ا لح ٠ کے دح لود سے سم اس سس سس ےت ے سے
6١۱41٥۶ 6 مجد د٥ نحنحا-ہ0) .نتائنطد×5 مطط( و
,ص088 با5 ٭ٍػطغ ۶ہ ہر18 ط۶٤ ٭زط ٤عط تاطام
ج7 عط5س٢ ے7۳۰ ناط +213 7٦ ص00 ٦٦ ۲۸581۶1“
(۸۸٥٤٥0 8( نزەنانطا 8( ز٥ہ تائطة 133۳۷ 2
,10007 615100 86:00.3 :19283 10 دمگّ ”عطء ئط: 737501
ہ۶0 1831.570٣١٦ ٦٥٥<, ٤طت٭ ]٤۰۶۹ہہ13٤5107 ۳38 ×09 1٥7٥
۔طاعتاعج 5ط ٭ط ۲۶۱ وط۶ غلاط بے نط۸<۵م آدصتعنڈہ عطا
۵و ]اط صدند ۲۶ [۴جامطءہ صہ م[ئط 01 118 8180 516
0 ٥ہ <رحوصمنەە ند زط <061٤360- 178680
٭آج ۶ہ فغط ٗذ صمنائندمص صعنائز×ط0 عط صعطا ق ٥۶٥
و مج دا ]٤] ۔صمصهد[18 قصد تانصحً!؛فنعط0 ×٢٥ 6ط
0۶ذ٤818 ٤۶۸7 ەةزط ٤عط٤ ٣۲وہ 0 03816 ٤٥ 1508166
وج د1ط )٥٤۰[3٤105 18ط .ذعنط دنو٤٭ ١ء 8 ط1 4٥06
07 ع٥ا نے ائظ 51058 ۵1[3ص۶۵٤ "۶ہ ٣جط ھ دا
:ط8 ×ہ٭ صدە عط 75 .53ع مہم د٥1عزاہ
,ا طءنط۷ ب(یدمع ز<عصمنتممندد د ٥ہ عچصنصته دز عا×وط50(
١و۲ ×ئەط+ -() 15187 ۶ہ ٣۳ہ 0110۷ ط٤ ×ط ج ہ۶6٤8 0
وط و) ٢٣ط ذ ز1 ۲7۵۵۵ .3] 7 ط۱3٦ ٠٦٥٢٢٥٦ 6٠×× 474
)١ عط؛ ٭×دم×ٛہہء ٥٥ ٤ا دہ 17 00688:00 83 20٦608
×ە ط0× 18 ×٥ط عنطا ٤٥ 80916105 :15 .1811058 ط۲۸٤
طط نانطہ 8 50ذ 81868 ط۶٤ 0816 410668656٥.
,[<×و ط5۸0( طمانەط8 :صنط ٠٤ جج13 >ہ1ا8 ط8 ۳٣٢
۲۱م )0 صدء ,ح٥:۶۲ھ 1788٥ ص() ٭ط ۸۰۲۰٥ح ٥8ص ٭ اتا
۰ع 1ع ۶135 ۶٭ط۱٠ح قتط ۸8 تاتط۵ 8۳۷ عا٥۷ مۃ
۲۶71۸۲87۸107۰ 1.17870
ج( [166+3٥01۶۰ نصعاہ( ×٭زاجدہ ۲ہ ٭عق ماع مھا 'ٗ٣۶۰
٥م 1د حمتغق(عصئ؛ عط؛ سذ ۃ١صہہ؟ ,نائطہ5
)100ج عققط ہہ <۷٤٤5166۔نععط88٥ل( ۶ہ عچصمناذ٥ء١
ساصع] 1:13 ەط) ٥ہ ٥٤٤٥٥۱1نة عط ص٥عط ۲ا٥٢ تەٛ۱ااء×ہ
114
نبحےض9ضسے-ےے _۱ےےےمکت۔بہے۔۔۔۳سٹتسجسہسسظسظصركںس.کس-×9-
6 18468ءھدز طء”نط ,هع8حع ص10 اد نعطہ ۶ہ" وتطل'
ة٢٥] ٦51 ۴۷۱۶۸1۰ ٥٥ہ(مدداہ ترصعصد ع٥ ٢٣١٠ قد ۱۶9۸
+٤8 م٭٭ ۲۶۷۷ ھ زط ۶۵۸0۱۰٥ ٥1ص نباصدہ ہز ,نلنط٥۰۷ع8 ٤ہ"
25ھ 4ص منلنطد ×8 ۱خ دمح ١ ص۷ صعلص ھ( ٥0ح ونط_
6" 858ھ اقهط طا مەعھٗ۴د1اظھ٘ا جانا برءیں
٥ اط ١ ەمطء عدط 00۵ را10 عط؛ ۶٤ہ صمنطعائمہ
٥ط 6809 :۰ ) 017 07
٠ ٥3 13 6 ۶۰۰۸۰۵۰۰ ۰ ۱۷ع عط٤٣ کنانطد 3-1 وطنعتصة7“
18 27 0 ای 1ں
٥رہ عط۱ ۲ہ ٦چ ح1س عصھ1 صمصحدہء عط) ع1 عنط_' .٥۶ہ
صو 871ھ اه ×هطاە ھٌزذ 8٥00٥ ۴٥34ص ٥ا١ 8ز 8ہ
08۰ ز۴٥٤6])
2٤٥< ا1ء عساصعط- ءعط غصنھ مامء عمصنەع .٤8
دہ نع ]٥۶ ٣٣ذ ٠٥ سا نافھٗ! ا2(ء: 11ہ صهد ا1٥۸۰ 22
2781 ھ۲٢ 18861036
نمحدوء ط٣ا ۱ع نمسمہ0 1٤١( طعنط- <١۷1٥۷ة 11
3-۔ةطنانانا٦٥۲۸ ۱8۶۰: :ا دہ ہ18۰ از چ صز×ہ[۱1٦۲ عط٠ ۲۰ع
7> عالصساز مر ااوط 8٤8۵(۲ [ ۔۔ عصء اصلاعص آص “۲۴
عط 11د ۶٤58 دز صمنغما ۲٢٢٢ :۱۱ع 1٦ 12د ط٣٢ ط٥×
طع٤٤٥٢ دترہ )ص۸ د۱۶٥ ٥ہ م6۴ صز ۶۵71م )8۶60
1۵8۶ء ھز ا7 الط عصمنا ەصصی ٤ 6487۵ 8٤ئ 108 ۶
”لائط8۷
ط١ ۷٢ 1٥٥٥161 ۲۵۵٥٥۶ زع ما ٥18م عط 01ط 8ز ئنط لا
6ء .8آ ا8 ئط8]) هًٌطٍ ےصاٍِ ۶٭ا زانطہ 8 مات
پ0ھھ عط) ٤۲ہ دا( ۶٤188. )4٥٥0 ہہ 111 دہ مہ د×ہ
15 2٥ 76۶[1011'۔-
ہ×ہ16٥ نحدہ ٤60(
2.001013117.
۸ء ۰٢۰٢ ترتْا د۰ ہہ [۲٥ 5٦ا٭ء ط٠ صن ط٢۲۳
٥ ۶ عط] .×71 .د0ہ٥×عج ہہ ۱۷ط 0 13ا41۲6۶0
کی
1 جج 4جج_ےہج ِا إ۰!ہ[ج[جمجہہججھ ھھحح
٣٥8 0 ہ۱١۶ہ۶۵۲< ×ہ :۰۱۱۶3۰ ص۶1ج ٥× 18531058م×ہ
1 ر2) 114,1 ٗ( ,ع(م مصودہ 5۲۰7۳۱ ×ع عط+ طص( ۲٠٥٢٢٢ <عطہ
طز ٥٠ 18 ×٠٤ ۲ہ دہ( ٤۵13 دج ٠٥ (۷۸١018 ۶۸۰١ج٥<
قنط٤ ۲ہ چ صنصدءص ع77 :٭×٭×مط؛ بح ء داد ۸ ۲٥٥١٥۶٥ ء٥ ٠٥
إز ۶و۶ ۶۷٤3ء وط۷ 0-۰ ط٣ 2۶341 ہ170×9 ۲٢۱۶٢ 18 ٣۶۰۵٢۱٥۱٢٢
1٤ (0 ۔دمذپا٤٥؟۴×٭ەم ج٤ )ٴا ععیصن×ط 88 زاا ٥111565
جط) ۶۱د ب,دمہہ۔( ,٥٥6ج دز ٤٤٤, ۱116ء ط۷ 0-۰ ط)٤ ۰ص8
4107 183 ہء د٣٥٦ طّاہ صەمط ٥۷۱۷ 07
3ه ة3٥۲ہ٭ ۶ہ دمذه٭ن ٥دا ط۱ مہ 106ھ
چ صنص۶ ءہء صہء مطاحدحدہ×< ترصدحہ ۶< ×ط٣ آبدہء ۲٥٥٥۶٥
٤۲٢ عط؛ ٣٤٥۸۳٭<ھ ۰٭د ٤غعط) ج صلہہ۵۵۵٥۶ 01687 ط٤
بر(و70ط عط٢ ٠ہ چعصنصصذععط ٭ط٤ 5[ .صہ<ہ0() اہ1 ءط٤ ٤ہ
عط۲ ۲ہ ما 4565ص صحدہء عط٣ غط٤ ٤وہ 18 1٤ )و
٭ط ح٤ صعو <ہ۶ ۶<١ء۲٣ہ دز ٥۱٦٥41[٢۱<-م ٭<د (۶181عط5) 108۰۷
8ء طاادعط ,دہ ٘ٗنط٥٥1ء ۶ہ ۶نا ج )٦٥١۷۶0۸ 10ذ ع8
ەط <۱" طء×دہ٭ ٤٥ ٢٣ط ئ ظط 1٥٥٥ ص۸8( .۶167ء ۴0۵0 حٌز
سنط ٥٥1ذ۲م٭×<م 0۶۵ برا11 ط٤ ,عنطا ۳٢ ٠٥ ٥٥۴ٰطن( ۰٣۷٣
60 6ص ٣ ×زز۔قص1 ہ01۶ اہ ط۲ د٥ء ۷× د8 عغط٤ ط۳1
رمزدہ ٥ا ٭ز 1٥648. 0”7۰ ٣×۲ ٤٤ ع٥١۱٥ 1٥٥48 ۱ہع 4٥
٤٥ 1۰ ہز ٥ء ت۶ 7٥٥+ [۱ہ۶ ٭ اط٢ 850 860
08 چ ۶> د۱ء : حا ت16 دہ حدہء ٥اد ٥٥ ہ٥٤ 14ہ
8 16 ات٥ ہ٥٥0 ۷ھ" عط؛ ۶ہ ٥ەەمط٤ ٭٭ اا٥ ٭ه
8م ق٘ط؛ا طغەط ۱ۓ.؛غ ۸ دمحّٛہء نعط ۶۹ ۔ ا۶٥۲
سصەنتاەنعط0 عط٤ 7٭<+ دو" ب(ە1 هعط؛ 2ص2 .٘ د٭٥ ۲٥٥٥٥
۹ 6 ط ج11 صءط0 ٤٤1و ۷۲16٢۷۵ ٦۰٥
”۵ عصٌان([0۵ہ۷۸( ر174) 2:168 ٢٢ہ٣ سذ ہ,عاممہد٭ہ ہ۳[
او صمصچنم <ہ ١, 1ط ,ماد صندھ ٠٥٤ ١٥د٥ 16٥٤ د٥1 ذماہ
٤8 ٭نط؛ رط عمنداجدہ صمط ٥:٤۰۱ دہ دہء د۸ط٣'
ام ةذ 2 صنصح 1٥٤ عط ٠ہ 10ط عط7_ ر1 .>ہ141 ا۶ہ
106
نگگگکگ کک کک کھککعحلٴڑب ,تچ و<۔عۃس_س___تر__ سے
6 عط ت 0مم 8 88 ع×ا[۶<٥ہ ٥3 ۶٥٤۱88ء عطغ رت
7ہ 1161 ٢٣عط جعص ۃلهصتطة 800 (2) 1٤. ٥ہ وط
18 16 ص(٥اہء×ّ ۶ہ 16٤٥1 18 ۵د ×نعطا 3 دہ ٥ع 18ہ
عم (3) .دج سزەط |ص×عصاط ٠٥ ۶16131 ×صەط مد ,۵٥۵۶۱<۶×عط
رط دہ دم دنہ ھ جچ متا دہ ق15 ۶ط ہ(1 دہ صتز٥٥ ص80 818 5ہ
٤7ء ظط تبعص دح عط) اطم عادصد
1859ء ۲٤18: 0886۴٥008 ٥٥ ٥٥ 16٥١ ط٥٥٥ت 3٥ 1٦
8058ص ە نا(طانطصة صیء اعط 73 ۶ ماعط 3 16٥ ۲1عوم
1٥٤٥٥۸ 8 ح×<د ×ط7 ۔لاصنط؛ ٤ة صد صمفدہ× ٥ ضنلزطہ
صعء ١١ 1ط جیطناد86 صا غعط٤ ٣م ناەط مط 8] 5نا ۱5ەاءءہ
8 ]]1 .ھتو×طا عطا ×ط( عھنهہں اه غٌَط) ٣۰ ہ7٥3
۴1٦187 چصاعط ×(عط ۱ا٥مط٢1١٣ ۶185 0/6916 06۶16068
70ع دہء ط٤ ٥ت3 2ط (د ۷ ز صتط ت٤ا ن15ذطل )6٥۶٥ طع تہ
۲۷۵۲6٥۲ ۶۰د ترەط 1 1 ٥١10م ۶ہ غصتامصه 11ہ و راہ
ع٤ 50٤ ×0 ہ٣ زج ۳× ٭ہ ہ٢٥٥٣ ۳٣٢ د1حصتصة
)۲۷۵٢۴8۰ 11156828 رصعصد ٥×عط فیا رل وہ تم
۶۸۱۰ء مز عط٤ 1١11:٤ 4اہہ٣٤ طءنط٢ ( ہءصدء ,ممصنط تہ
٥ ۶۲۵۵ جر × د1ء ۰[٥٥۳۱٥مّ ٥۶31 ط٠۲۰۱اد٭×ہ مط رص
8 تم عط٤ ۶ہ ۰+[ ٤ ع۸ط٣ ر4 53 3) .ہز ا٥۶
۶۸۱٢۱٢ 10 ۶ہ ×1 ەط تحص 0۹٥8٥ م7517( 4 ص٥ ٤٥87۰ اع
0 ہء ۵۲۵۶م عط ر5 2۴8٥3111۲۰ م 8058م عطا
۰٥۴۵ء ّ عط 2116562 ص1 عصد دع تم صز 11+5
۴۲ ٥٣1ج ٭< ۶۵۵۵۱۰ آ ۶۵810 ٣5٥ 11د ٢٢٢ھ
ج4415(ط0۶ ات١45 طعصصٴٗ:ہء ەط٤ ۶ہ اذہ عط
8 سابصدطادی تط۱٢١۲۵ لد۶(۱زامھ ج< ,وہہ ن٤ی
٥٥۶٤.8 ة 117 ٤ى٣ 0ظ 41٥٥٥8 ط118ذ .ہ٣ نع ہذ رمطو×نطا
عص1ط۱ء دہء ط٠× دہ ذ٤٤ صطہء ع1طائەەمم ×صہ ٥٣ط ٤
110(۰ ۶ہ منط۱×۵× عطا طز 36۹ دەءط ٣ ×عط ترتع ط٤
8 8ط18م×ہ ۶٤ہ ۲ہ 3٤ء ×نط٤ د ہ18٦ 18 ۵×<عط٣_'
117
س٣سممپسسمسےےشس٭×٭سسممسمفسمڈه٤وسسسرسسسسست سس سّسةسس- سس سمل تعسلعمس ماعسسسسسسیس××یسسسسسسیس×سوسی٭---ىے
7 7ج۱10۸٭ط٥ ٣٥٥٢ "00٤۶0۷+۶8 ۶۶۶۵۶۶۰ ٭طا صدء ط0 ط×
٤ 10۰ رہ: ٭٭قز ۲۷۰ ,ظلەمص5" ,(10) 15,9 ۶ہ ٥٤ ٥ط٤:18
6,8 3۶ 1جہ7۲: 11ز" ۷۰ بجعاہ108 1 د ,چصنٗءہ٣٣ ءطا
ص01 ام عط غسمطد دہ نع ةَذ صمناەصعام٭ہ چدہ10
ج2 ۶ <۱۲١٢۶۴۰۱[ 0۰.29 ۳٣۷(5 ۰٥ 11818:20ئ٤ ٥۶ہ ص93 م700
٭ط ج۲۱ 5۶:16 <٣ (۲014١:٥۶ ٥ہءط۳_'
طءصھ دہ ٥ذ ہ٥٥٤ مہو ہا د+نصمد٤زحطا 118 ۲۰۱۱۰ صط
وط ص0073 7111۲ ءط؛ غعط؛ ہہ جچد دہ مط۷٢ ٤٤۵ ھ٣
"٤۶ همصنغ هەطغ هٌعمنہه ٤ء چ صعطء صیا ا رم٥
,دصه×٭ اہ عط٤؛ .؛ ن<غدھء حط] ۱1١. صسصعط51(
0 ط× ٭جد ٥صعط دمظز< مادعحدطٌ١۸5 طحانەطڈ
جدمۃاج-ر ١١۱۶[ ع7 ۱ صہ مصع٤ دہ" (٦٢٥٢ عط صٔز) عدم×اد-
8م ٭ ۶م ۰1× نائنطہك٭ة همط۲ جملدا تمہ“ عصدہ مل
وھ دەمطاعہٗ" ٭٭دعط٤ ٤ عط٤ ×<د×دّ-صہ عط ربآلط×طہ۶ھ
عز واج دہ مصسحدہء ع ط۶ ذ”چ د ند۰۱ ٠ہ ٣٢۷٢ 01۲56۰۸۰“
×1 رصدصد ١ص ج۶×١4صہ ععط عاانط عط] اعطا چصنتاداہ
غط :16امص×ص××ہ صد ۸۵ :۔د٥۱11 ۰13ص۶ طجہعطا 1058ائام
جرَەەط معط 'صنع×ز'"' وصلطانط ہ<ە ط۷ ,7:14 .٥0آ تہ عاصئەط
!طخ و) ”<ہ۱۲۶× ود1د 78۰٦8 ذ٘'صع ص۰۱٣ چصہہ"' ۱٥۱ ٥١٢ چصعطء
و ہو ب٭اع×ع ×مط٣ مط٢۷ ؛”×ەطاہ٣ ط٤ ٤ہ زع8٥00×010ط
6ؤ دزمم ٥۱ط د0 ٤10٠ئ) صہصسحدہء ۲۰ ۔لدصنچونعہ عنتەط
ج1 موحد د 1[۰دء عط ٤ەصمدء عاط زنط عط اعط) ٢٣ط ٥ا
ج۵۰ئ]مدو ٥1د ×<مط؛ ہد "٣١۱۶٥ ہ٤ 6۱٥٠٣ 088ا(
,عاەعز ۶ہ جمطەنطصحلط<ھ طعناقمدظط عط؛ ۶ہ ط۵۶ موہ
طدن؛زءظ ط٤ ۲ہ صمذادجہ7<جچدء × غاد 1952 صزذ 41٥11٢٣٥۶٥٥
نعط ٤۲۱۸ ٢۱ز طط .راہ نہ8 ع(انط صع[ہ<۱ہ7 4٤
168ج ,أ1طنظ ط٣ ۶۱۰۵۹۱ دہع دہ1 وص صهصطہ1اح صظ صو
و عچ د۶3٥٤٤ھ .22168 در ٥ 801۲٥ ء٥٥ ۵٢۰٥١۰۴٥ 0860ا 18 اذ
٭و٭ قط٤ ٥ع ۶۸اھت زہہ٣٣ دز از مادح وط5( ططلانەط5
۲٢0٥6
018
آدسسسسہسہسشیوٹسسأ-صع-ص-۔|۔٠۔ےٹے,١,-ص۔...۔.۔۔ نس ٣نننسبییٹٹسسا۔
٥ط ط0 6 ءط٣ 1856٥ ٤٥ ۶۵۵١ 0ة 3۶۶ ۲17:8۸5ھ
7680 بە٭ەط عقط صۃ<08 زا516 عط ,1 ,صعط ×ط٥
٭ط ٦٢٥٥ ((عتط 8ھ0 نا1616 ×ہ 4091711055× نزرصة ٤ ٦٥ط٢۳1
1 7ء 1818 ۶ہ ١٦60168
۳1616 ٭صط )طخ ٤6ز1عط 8۲۰۱ء فط (۸١ طمانەط85 681٤١
0[ 0868ا 16٤٥8, طا ٭(دروط ,٥ط ۲13۷٥٥ 8 8 ۲۵۱۱۶۰٢ 18
|٥٥٥ 5 عنزطط' ۔عصنداء ([ج٤ نع ا٥ط قلنط 005 م0ۃ
(٣ وط۳ ہ((158) 6 ںے۔ وع (طزاا٭ دہآا: 6ہ
٣ص وت ٭(ر0 عطخ دد وط نی 1٥٥ دز 9× صعط۸50
۹10٥٥٥ 8٣ ۵۲٢۶۶۰۱۹ 9 3
:16-20 ,18 .1061) [نين٥1 ٭صرم: سا ۱ء صنوام×هہ 8538 ٠0
:3075 :9-13 ,28 .768 :10 ,5 9186ھ 283:039 ,10601.38
058 :3,19-222 :٥ھ :16 ,14 حطاہة 1,9-21 .ط ہل :1:19-13
:)14-15
٦5٥86 0.9 وط ج 16(ەط 3۱۱۶ا دہ صحدہء ط۲٣
۹۷ ق8ن٥ئ ×ط٥ عچ(ہ٣زاعط و ۶ن۰×مّ ۷٣٣ [8 10ء 4۲٣ ٥٥
81٠٥ ۲:1111 +6٤ 1ج168 (ط٤ 1٥1٥ ٣۱×م 8093 صط50(
:و وت
8٤ء ۴۵۷۲ ۲ 8ا65 607777 !ط١ ٥ ۹١٥(٢۷۶٢ہأ :چجھ
86 8ذ متخ دصدام×ە عط٣ ۔عقاصەم .ہ۱١ ۴٣ط
16۶ ور" ١۶٣ ۲۰۰۱م ×٥8, ٥٥ّ ط٤ زلوعذ۲801110
٤8 11168106 +وطخہ 51د ع طط 0٥5ص( ط(۴۵۵۰۵۶۰ ٥حئ٥ 2٥
8 7۶ 6و 50[87 ٢8 ۱۲0۶7 07(11815281 00601170
٥و زم[ ذ<ء ٤0 ہ٣٢ نع ة1 غاطعدەمط٤ مھ سط 185(۰ داماد
مع ئخ 7ہ ددہء ٭ لام ن”ہعچہ<×٥٤٥ط ٥ط 11ے ط0۶3 ط٤
۔۔ ا دہ ٥ا١ 7158ص1 مہ طخ ×ەط٤٥ج۱: ط٥ط
8) ط٤ ٥ء 4465 ٭(ط 0۲ 118ص1ج عط ص0 ۲۵۵۵ م10
107260086 ۶800م ٤ہ × ٥٥ط جع715ا7ة8صل صه 8٤
.۰< ٥ھ زاەط ط٤ ۲٥+
1419
3.1757 1077077۸ 07 0177۷ ۲1۳۷ ۲71۸(6 77
58 ملد×دط8]م( طعانهعطڈ ۶٤ہ عا×ہ عطا باہ×ز7
فان * ٥٥ط مععط ۳۰ط .1000۴80662 1758018112
تازئطہ٭5ج ۶ہ (٤٥: 11٣6٤٤0 ٣٥ عط ٭ دا عھذلہہة
قالطا ۶78۰ا صداہء صد:7۲1 م۸ ٥د ×ہہ۶ آلد صا ەعمع ص1
1)ٔ ٛ ۸+" ط٣ ۔.طعنط ٥٭ا <×دہ٤د۴٥+(:1 ×ہ٣ 4 د4
2٢٤8۰ دہ جع ”۲۵۵۸۸ ٥ ×صعط .٤٥6 0۲16م
ط٣ .ئا86ؿ٤٦ 88٥ اعصدا عط٤؛ ٤غ 8۶۹ج ×7ط
١ہ ×ص×[دطا١٠١٣ عط؛ ٥۱۶۸۹1×ط 86۶۷٥ ٠٤ 810[ 35ا
08٤0 ۶ہ دمناد1نصنتہەەہ عط٤؛ طعہدم×ط٣ .نلنطہبم8
۷×ط ٣١٠٢٢ × ععط ة(ط؟' ۔ڈصمندەہ۶×م×دہ 3صھد: 8ددہ[10
٥0ط لآل١غاصا ,طء”نط٢ ج٥٥] ٣:[138٥ ٤٥٦٤۶ عطا دہ ٥۷٥٤٤ہ
6 قط٣ ح٤ ٭عدہاەەم×٥ ما(١٤][11 ×۶×[ عط ععط
۸)۰ ۴110181لم8
٥ط ٥6×٣: مّ ٠١٥٥٥ ج۲۴۰ 41٤ ہه :وص آاناصل :80ھ
زا ٣<۶1۱٢٤٥7 صععدط ععط 12٦۶۵ ۱٢۶۰ نازئطد 8۰×۰ ۲ہ 11۲ص زدحد
0 20 ۹ ۶٥ہ 8و" ّ0 0
٥ عھ 151106 حدادہہ: <ہ صةذاد(×<ط۷- :اہ ۳۷
عطا فططٔ( ًامہ×ء ععط دَمنا(11 حصوەمہ×7 ٤1د ہہ
٢٥٣٢ ۷ 18× ٥٥ط ۶180×دمّٛ×ہء 15 ههأملاچسدآ۔
جک 1ہ حط08[1 3۷۸( ج 15ص1ئ)ا دصہء 1130ا یم
صنط ہم ,1] 9ج۲53 نصنط ٢ مّەقوص ڑھ صنط صٗصتنصھ
۲٢ ]31[٥ص ٦, نصتطا ۶ مط018 ۷۸۸۶05 ,رن عطبدظط 21 0۸۹
۔(نع ص-۷۸۷( ۲۶ 1ء دہ م۷۷2( ٤ا6اعاەمط ٥1۲٣٣ صطھ
3 ص0( ب(ہ11 عط+ ۶ہ دمذغ818 ۱< عط؛ طجدہعط7_'
0 طط۷ بج (ج× ٥ ٥ہ 8ز 17710165٥ (161811 ۶ہ جہ۶0 5٤
0186ئع115 صتعاءہء طجدەغط٤ 8 اداز ہم عط راطدحاہ×م
٭ط دٗذ ۱۱٠٥٢ ×۳ طاءئنط آز×٭وم”ّ 14ہ ەط7_' .ہہ
2٤8 1086 رعص ٥دہأء عط٤۰ ۶ہ ٭مصتحصلء ٤ء×نہ صناعت5(
4020
عط زط ٣۶×:ط٣0٤ء ٭طا ٥٭ا جھ× هٍتطغ 3× ء۶(ہ۲
11۳۷00 .11ئط 53۳٣۷ ط1 <081 برا10 عط ۲ہ 81810 ص۵
قلطأ ٥٤ہ گا ١٤١٢٤٥ هطا كادد٤]ە ٠6 عچطذاہہ× 166 عطا
١٤٤٢۴٤ ٤ هّط) ص]غٔ 2۶۰۰۹۰ طزحدہء.َْ ٥ہ 81810 ط۲3٦
٤. ل ا8عوط0]( طانەهطة ٭ەاانط عطا ۶ہ 8181008:8 ۶95]
صا اط٥٥7 دد نلزطة 5٢٣ ز ٥١٣٣۶٢٣٣٢۔٠ ۳۱ د3 با طط 1۲ ز ٗز٤1
50188918 ,10ا ٤ء )25.١ ١1انط عط؛ ۶ہ 10ا ٥ا ۵۸) عتط
ہ۷18 دمنصٗتا ١116دء۔ہء ةقثتط حدذ 16116 عد ٭ہ ,(1939
1952(۰ ذ40 0۸ب)
×اتسصسااءمممہ عط٤ ے6۶ "ظعو دعنا۶ء٭ءھ [٥ ب,اطہ50
1168 ۷۶۰.۲۰ صط1 <ہ۶ ءععسعصدا1ا۔سا5ہ8 ×ططے۴ں۴۰۱ہ٤ہ
عنط ×عط٠٤×ہة؟ ح٠ دہ×:/۲ہھ دہ ٭ہ٭×(/٢٥۲ طعدہ ×ط
٣ مر ط× دص ط٢ (۳ ع مع صھ1 عط٣ ۱ط دہ عط ۰دا صلمم
٤68 1ط 3 ط٤ ہزط ٤+٦١۱[ ۸16۶۰ ۶۰د ٢۷۰۱۶۸۰ ٣ط ٤ ۶ہ ٭ ظ٥ہ
۱٤۰< ×6۲ ٥ ظط ٌصذ ناما نٗ(ت162 18 الئطد٢8 دک لطہ۶7:0
۲(۵ ۵×ط 79 54د ٥ عق۱یصھ( هط ۶ہ نصترہ عطا طز
طاحانهط5 ۶ہ ٭ جع ص138 عط٤؛ صعط] 135١1 46ط ٥(۶ ٥
2۵ ه2ھ7هھ۳2۳2۳ءء
هط ×۱٥ مص) عنتامنىاعصتا عط 0ہ ٥1٥1دھ
06 ۰۰٢۰ھ۴۲۰ .ط1 عم نعنلہ× ے ععط معاد 10تا ئا ٦۸
1 18110 تج م 35۰115( ۲۶۵1ء دہع عط٤ ۶ذ ٢۷۱١1٥٢٢ 8×
بصهەھِطا ععط ])؛: ٭ەسد٭هەطا دہناداہ ۰< علط اءەڑہ٣
٣۹٢٤6 ۰]انصداصصہ0 2۶ع صطم عط؛ ۷ط ١عطمتلطیام
مط ۶ہ دامع صہصحدہء عط۲' .صہمرمصعط 11× عنط؛ عاصلط٤
٤ ح٭< عط؛ٛ صا ٤ء ٭ ہد ۰11 رخ ح۰ صدہء حٔ((:35(
ط طز ١۶ص رمصرعط وقعصلط) مصدہ ع77 .دہء دہ×٥٤۲نة نعط
ەط صعط× .ہ٢7 .ج٣ ٥ہ ج 14ہ عط٢. چ صن۸دہء دہء وم
. دعآحانەەمەمطصۂً هەعصد٥عط .؛٦ً صٛ٘ٔذ ىز٭ٛ ٤:٥٥ طوتطہ
١ ٤ء تا ط11 دہ صمظھالساوەم اغ۹٘"۹۰+)۸
1021
کھسوسوھھھیھسککڈسحتٹویسیجگل020وو.ےہےپ_مے
ه( ٭××هط٤ہ نے چضنمسقھصئ 4د .7 ۸۵۸۱۵ہ۵٥فمٌرزمہ
7۴ 6 وط ا(عطہ ترانس٘صصدہء 7۲۸ 341ح>هَطھ
٦ ہ٤طە×۶ 1818۶6٥ ۹:۷۲ 8ا طقجد٭ہ×ط]) ١٥٤٥٥٤٥۰٥ [٣٢
,ظط :ص58 :103" 11٤6٥۲0۷۰ 8٥٥ ع٤1ً طجہہ٥<×ط٤ ٥1۶1ء
606 دہ[ھ )9 سز 18 صعٌھھ”ّم۶<مّ 3418:٥ صططھ
)91-962 .م ۲٤,1937, )ط٥8 771881058767 11856006156ھ
158 ٥89 بد5ہ81 ٢ ۲159 اط 27237 581۲٥٥ 8۴٣
15.66860 228۵ء [ط جرہہ ×٥ط ٥ہء د٥۴٢٥٤11۲ ط٣ رذ
5٥8 ,غلاطا 153٠٥٥٥١١, ×٥ع ۲٢ 1×1 ×اہ1 ط٤ 8 ×ہ(ء
۹98۲۸ 8[8م۶۸] 17'56 'عصطنڑد ں7( 11ج ۶۱۴۶ عاەەط × دہ 1007
عِطغ صحەم٥٥1 8 ,٥ہ ×٠۱٥٤٥۶×<٥ەطا ,ا1
ط5ت ۲[[ئ۱٥2٥حردہ ۲ 3او ئن 10 6٥0: 07
۴٥8ع[0۸8 ہ٥ 788٤ ھ٤۲٤[ءج<٭
اس ترجہ کے اس وقت ار اپڈیشن ھپ گے ہیں۔ المدلد- اب اس کے
ا نجیں ایڈر یش کی طباعت کا! تام ہو را ہے۔ مض مستشرقین نے بھی اس یم
کم بر تب وکیا اور بماع تکو خاص طور پر مارک باد وی۔ پل ابریشن کے جملہ
اخراجات شپاکسمار نے احباب جماعت سے اور لت دو سرے براحول سے وصول
گے ۔ ائمدلہ صرخرولی سے اخراجات ادا ہے حفرت غلیف* اس الثانی کی
خدمت می پز رنہ ہو ائی ڈ اک پیل اب یش نکی ایک ا کاپی جو ات یگئی۔ خاکسار
۱×ط
اس وت کے مشنری انار جکرم یل ال رعن صاحب رفیقی نے يہ ذک رکا ےک
ناکما رک قمکوشش سے یہ ترجہ ای ککیکوید افریقن سےکرایاگیا۔
سن عرصہ می سکیکاما زان میں ترجہ ناکما ری ترک بر معلم نان نتھنگے
نے کم ل کیا ج سکی ابی اشاعت و طباعت می ہوگی۔ ىہ فوجوان خسار کے
اپ سے 12 حھکگکگکگک ےھ
لیو , کے ےب
ری ور یٹ ہے تو ل کرنے او راتریت
و رس یں ہے اہ رہہ
2 سا ا ا ای اش ا
۶ تفم بیس پڑے ہو تے او را0 سے لزمو کی فرح لگا جاک
رر لیا تھا۔ قرآن یر سوج یکا جح 3وہ میں شا لاد دروم تک
ہے رس وہ و
رک رکوایک با پڑھااو راپ خالقد اک سے ہےر ناک کہ تھ اھ سے
۲٢ ۹۹۷۷ی س مت
7 کے کیا ددبارہ قرآ نکریم پڑھا۔ پچ رتا سے اکا طرح دھا کہ کے را
٦۹۹۰ء
مان و ای اس کی روا قون میں تی ا رک
ار ٠ہ
و مر ۰
ےی ھا اک کن ین اہ کر رو کان الا
2 من ہو جائؤوں گا اکر بے یھو وو وک کے
لا پت ۴خ ات کک تن ا کی
کے ہمارے قواعد و ضواب 7۳ہ
ایال قال نے ےعمل ا بی عو تک لک مت
کیا اے اور ہم س بکونے وخ شی ہوئی۔ از کی زاس گرب
2" بر ۶ت
کے ول اف رر
٤ کر کے اج کے تعلق میں رں )رشن نے ےتال م٢ کھارہ
27 . 7ء ×ط٣ ٢۶ھ ٥ء صہ 0سز 0ت .0
02۵ 6ءء 10 18ةئم۶۹) عصنطعنلطتدھ پرز 2018810 ٥ط
123
٤8ء ٥ہ 18×7 ٥3×ہ٣ عط ٤ہ [< ہ٥۰ ١ه تازط8 ×5 1
ص8 ×سگک' عط ۲ہ صمتا دح نلطەم عط اصتداء٥٥ ٢٢٢۰٢۴ھ
٭6 ۶٥۵4ء ۶ہ ٢ ٥٣ہ جرہ عں 1953ء ”07 لاد
۱ء ٠ د181 ۲ہ صمناعسا٤زہە هط٦ ۶۱۴ 268 089005
×ط٢٢٣٣ .٤٤ا٤٤ .س٣ ۲ع٭هدم عطا زا4 ->٣(۲ھ
6۱ ۸1616دہء عط <ہ دمت×مع <عطازہ ٥ہ 10ا ۸9ذ ص79
,نحرلڈانک ھا 4٥عطدنامجصدوعد حصەەط ٭×عط د0 عطا ٥٤ہ
طلطامط8 ۶ہ مصنطہ<6 1د16 (ط 8607ص 5:0٥ 859 وط 18ا1 ظط
(66.-ّ) 8 <مم ٣ا<د٥ صز عا۶۵ ط350(
اس-
124
مساجدکاخیام او رمساجد کے لے زمیتو ںکاتصول
ٹہو رامسی کی لیر باو اور وج رعالات
ترک کم اد اشاخت میرک علاو اللہ نا کی دی گی وی سے شرق
افریقہ کے قیام کے دوران خاکسا رکی گرانی اور زاتی کاوش سے پچ مساج دکی لقیر
یی یی مات گی
تزاغیہ میں مہو راجھ مفرلی پر اوس کاعو بائی می کوارڑہے۔ میتی جدوجج دکاکئی
سالوں سے ام مرک دہاہے۔ اس ا م شمریش مس دکی تی رکی قوف می اس مسچ دکی
ےو ےن ر کے ٹورا آنے
کے تل وا دہاں چند الین اجری مئیم کے انھوں نے ایگ 11013 77766 پاٹ
کت ر2 کرک ا ات یا ا ا اٹ
ارارہ تھاکہ جب الد تَا یٰ وٹ دے گا۔ عالات سازگار ہو کے اس پلاٹ :
صح تی کی جان ےگی۔ کی سال حتف انس علات برک تیر ہو کان سار ای
ٹہو را جانے کے بعد افریشن احربیت میں داخل ہونے گے اور ایک اکچ خاصیں بڑگی
جماعت افریق نکی تار ہ وگ فے ضردرت موس ہول یکہ باقاعدہ اب مصو کی لقیر
ہو۔ مسر کے نے تا رکرواۓے گئ۔ مقائی ٹون شپ اتھار یکو اس پاب مھ
بنان ےکی دد خواس تک یگئی۔ قھام ضمردری دستاویزات اور نت نشی کے .یئ بعد
مورو خوض پان شپ نے تی رکی اجازت دی .اس منظوربی کے بد اکیک جع کے
دن بعد نماز جحعہ مسو رک بذیاد رک ٢ فص کیاگیا فیادیں چند روز کھوری جاچی
َ 3
425
ھیں۔ یہ کہ غیراحدیو ںکی جا سز کے قریب دد ایک فرلانک کے فاص یر
ذاقح تی ۔ یاد رنکن ےکی تقریب ے فردربی ا۱۹۳ کو جم کی نما ز کے بعد مخ ری یکئی
اوز جماخت کے دوتتوں میں عام الا نکیاگیاکہ اس متردہ دن بعد دعامسچ کی بیاد
رکھی جا ےگی۔ انشاء الد
زا میں تقی رہوتے والی ىہ سب سے لی مسج تھی ج سکی بقیا رک کا
اتظا مکیاگیا۔ ہجاۓ :اس ک ےک اس مسچھ کے ارہ جو واقعات او ز خالفت ہوئی
خاکسار چچھھککے جنزم ری مر ی صاحب این نمچ اعری عبیدیی صاحب نے
جو ان دنوں ساسلہ کے مب کے ظور پر ٹاڈگا شی متخن ہیں سارے عالات تا کی
حاظہ سے انھوں نے رسالہ صو اہی می ککتے ہیں یماں در کر نا عتاصب خیا لکر٣
ہوں۔ نماکسمار نے مجحتزم گل ال رن صاحب رق سال مملغ سے ان کاارووٹش
تجح کروایا ہے اور نخاکسمار نے بین ی شاہر کے طور پر لنض واقعا ت کی شیج کے
ساتھ ساد یھ نوک پلک بھی درس کی ہے۔ دہ کھت ہں:-
”ے ٹرو ری پروز یع إعر روپ کا اھ ے ج ب کہ مولاناچ٘
مارک اص صاحب امیرو مشنری انچارج مشرقی ا فریقہ نے ناڑا یکا
میس تی رہونے والی بی مس رکاسنک یا رکھا۔ مہ تقریب پا نے تین
بے إعر روپ لال 6:801 :شس ہ ری اکساری اور وعاٴں
کے سا انام یذ سے ہوئی یں
سی مسلمانو ںکاضاو
ٹن بے کے قرب اس د نگمرم جن صاحب نے اپنے رایوں سحیت خفبناک
بی مسلمانوں کا ایک ججلوس آتے دیکھا۔ ہہ سب لوگ لاٹھیاں تاور ڈیڑے
126 020
02ء2یسپسیبتی ی:ں:ۃص-۔۔۔۔۔'_-__ےےہے_-_ے_ ےچ ک_۔
تھوں میں لے ایک جانب عرکت میں تھ اس اتدہ یش ایک نس جھ سای پہ پٹیان ےکی راوال الہش صیاحب کو یکروین مین پا کم سے ان لہ
سواز تما سب سے بل اس میکہ بہنیا ہماں جن صاح بکرم اپنے ساتھیوں حبیت نک :جال ماکز ضروز شاحعت عق وردا زہ سے کرجا گے شق ان
تقررف فا تے۔ اس من نے بے ساتھیو ںکوبلند آداز سے پپارا ” شی مبارک "اپ یہ لوگ می سے دانت پت ہوے صاح بکی جاتے رہائ کی طرف دوڑے
ہاں موجو و سے ا ےےقتق یکردو''اس پر دولوگ تی سے ایس طرف جچ ہماں با جماں جن صاح بکی میم صاحبہ موجود یں لیکن خوش شتی سے دروازہ بن تھا۔
صاحب موجور تھے ۔ گر ان کے دیھتے بیشن صاحب مکتزم مھ احیاب جحاعت کچھ وم تک ممکا نک وگیرے میں لے آدازےکتے رہے۔ افریقن اعد ی مذادر
قرجب بی ایک دو سرک سڑک پر امم دوس ت گبدا تی صاح بک دوکان کے اندر "ا عو رت بعد بس اخ تکیلے آ بے اتی میں بلواکی دو سرے اععدری دوس تکرم
لے گے صاحب دوکانتے فور اندر سے دردازہ بن کر لیا۔ جلوس بھی کچگیا۔ اصفرصاحب لو نکی طرف گے جو اپ ےگھریش داغل ہونے گے تے۔ ان
اس دوکا نک گی رلا اور ڈنڑے مار ما کر دروازہ و ڑنے گے ۔ گرا در جانے سے مه نی نا آپ ےکن تھے ذ اما راج سےآپ زتی 6ے
اکام رہے۔ خت خی ےکی عالت میں ہہ لوگ تھے۔ مہ علاقہ ٹس یس ای سم کا لو گیگھرمی داخل ہونے گے مج اف ر صاحب ایک اہر شکاری تے۔ جب انموں
سیک فیادر کی ای ملمانو ںکی جائع مصود کے قرب دو ایک فرلانگ کے نے دریکھاکہ ىہ لوک آپ کے گعرکے اندر داشل ہو گے ہیں تذ فو را انی بنددی
فاصلہ ۔ وا تع تھا۔ سن ملمانوں نے اس سے قلی اپ ےکی اجلاسوں می افریشن اٹھائی اور اپنے دفا عکیلے اننیں پکا راک میرے پان بندوقی ہے اور ہو اگ فا رک دیا
پسٹریٹ لیوا یکی انگیخحت اور لی غیراحری مسلمانو ںکی کساٹ پر اس بات کا یا لوک فور اتب ہو گئے۔ ایک نے ابی راہ لیت چھھ آگے چاکر پچ رجلوس
عز مکر رک تک ہپ ہو جائے اجوریو ںکواسس کہ مود قیرکرنے نہ دی گے جو انا کی شل اخفنیا رکری اور راستۃ مس جو اعری نظ رآیا اے زدوکو پکیا اور بماعت
کی می کے ققل ہکی طرف قزرے ناصلہ بر نے وی تی ۔ اکر عومت احدیو نک || کےاایک ملغ ضیف دع رش صاع صاحب ک ےگ رک ر نکیا انیس زددکو بکریی
اس کہ سیر بنانے سے نہ روک ےگی تو دہ خودقانو نکاپے اھ میں لیک رام یو نکو رض اتی احاب نے فو را یڑ کر ان کے گر کے دردازسے بن دک دے۔
7 2 پر اس یر يہ لوگ اریہ سو لکی طرف بھاگے بھاگے گے وہاں الیک اج کی دوس تک
کادن تھا۔ سنیوں نے اس دن روزہ رکھا ہوا تھا اور ہہ اعلا نکیا ھاکہ چماد فرل جو دباں بی رت تے مارااور زگ یکر دیا۔ شمرکے بائی الو ںکو جب خرہولی دہ
ے۔ اس اعلان سے کرم صاض بکو ف کرنے کی یم ہفاگی حا اس رح تن جلد جل رم ش صاحب کے گ تفاظق تکی غرض سے ب۔ ایک ا دی
اریت کے ننخوزکو اس شرمیں روک کھیں۔ ان کے اس انتائی خفبناک جوشد || دومت معم رمغان کے سرب چوٹیں آمیں شید زی ہوے۔ عم ربھ رکیے ای
خوش کو رک ےک رش صاحب الع کے ارادہکو پان پکر قریب بی ایک اترک بھا یکا ےت لہ فیا اوت کے ہق سے کی لو او کی
کان کے اندر مہ گئ۔ سنی لرانوں نے اسیا رکوش لک یک ہمسیان کا طنا شرکی سب دوکانیں بند ہوگئیں اور ہ رجہ خوف د جروس بجی لکیا۔ ٹا نا کاکی
128
تطت ٌٌٌَّّّّٔےّگ گےگگکگگٹ ک٥ ےےے>ے٤۱ه۱
آآ رن می ے پطا لز, 0۱ذ بل تھا۔ جو عی صرکاری افروں کک ان عالا ت گی
اطلاع کبٹی فور اتی کاروں میں ڈی 7 0 38
اوردوصرے سرکاری ا ضراور فو جکادستے ش کن اور لف ناکوں پر انموں نے
اتی الا یکر لگئ۔ سو سے زان افرا کو پولیس تن ےگ رم رکیا اوران کے
زارف نقص 1م ن کا مق رمہ چلااگیاں مسٹرٹراٹپ جسٹریٹ تے۔ ا نکی عداات ٹش
یس کو جرانہ اور قی کی سزا ہوئی او رنشائم چیہ ہے تک ش مس ان تا گیا۔
یں کے زی ایام شی صاح بکو یٹ یکشنزصاحب اور سرننڈنٹ لس نے
ا رآن ےکوکمااوز اپانکہ ان س کی خی جا ےگی۔ آپ مطمن رہیں۔ آ پک
محفوظا رک ھکر ہیں تی ہوئی گی کی حفاط تکیے علومت نے بویس کے سای کی
ون جک مر رج رھھے۔ شام کے قریب ان اضروں نے جو جن صاحب سے نے
راک گے ون آپ سے براونش لکشن من جا ہے ہیں۔ اس لاتقات کا مق یہ تھا
کہ سو کی تق کے ساسلہ می جو فضاد ہوا ہے اور شمرمیس ٦0ذ ہے ا سکاکوئی تل
علائ کیا جاۓے۔
چنانے اگل رن مورغہ ۸ فردری ۱۹۴۱ ءکورم مجر اصفر صاحب لو نکو ساتھ
ےک رکم شی صاحب براونش لکشزاور وسڈرک فکمشنزصاح بکوبراوشش لکش
سے رف میں لے۔ ا یو کے دو ران اپ موق کو صاحب نے عزم اور
وضاحت کے ساتتہ بپ کرت ہو ان افسرا نکو رتا کہ لاٹ فرکی ہولڑے ۔ ہم
نے ریا سے۔ اون ش پکی نظ ری سے مس کی فقی رکاکام شرو کیا کو گی انا
کت خمی ںکی ج کسی کے اشتعال با انگیخت کا باعث ہو۔ ہمائیت امن و سلا نٹ
سے مس ری بیار دعاؤں سے ھی ۔کوگی وجہ خی ں کہ علومت مارگ اداد نہ
کرے۔ پراه کت نو جاری تھی۔ مسٹردمیرین ڈپٹا مضنزغاموش پیٹ
129
رے۔کشنرصاخب ےکماجچھ آ پککتے ہیں دو سب درست ہے لن حول یہ
ےکہ امن داما نکی عال تکوشد ید خطرہ یراہ وکیاہے۔ ای عالت ینس طرح
عکومت آ پکواس کہ بر مو کی فی رکی اجازت دے۔ می اور حہ بھی مشیر
کی جا عق ہے۔ بھ دنوں بعد غالبا ین ار روز بت دگورنر ٹاٹگ بک و را تشریف
لاے۔ ان کے لے بے مستلہ برای کاتھا اور کی دقع بی بد اور 7130 اس لک
یس ہوک ایام کارگور نر نے بھی امن و امان کے شید ید خر کے یی نظراس لہ
ہر و کی تق رروک دی او آخری فیصلہاس بارہ ی سک دیاادر جاعت سےکھاکہ
سی اور تک کی جلاش ککریں۔
اب اس مس کیل نی ہج ہکی علاش شردع ہوئی۔ لع ری احیا بکوسچر
کیل خی کہ خواب میں وکھائیگئی۔ لیان جن مارک صاحب نے با اک مسٹرٹاسن
چپ لیس نے ان سے ایک د نماک آ پکی جاک گاو کے ساتے ج ھا پاٹ
ہے اگ رآ پکو اس پلاٹ بہ مد فقی رک رن کی اجازت دے دی جائے ن وکیا آ پک
تقر ہو گں مس باصن ن ےگھرکے اہک یھی می ہے ہے میارک سے غاموجی
سے بہ با کی ش صاحب نے اضضچمس ےکم متظور فو ہ گان رکیا فرق خخالف بھی
اس یل کیل رضا مند ہوگا۔ مزید شی صاحب تن ےکماکہ ریہ ار ی لاٹ ہے۔ ددم
اس کا ھدآ ےکی کی من بھی مض بے سیون کی ای با متام نک یکر
خاموش دادور اپے اضران اع سے اس نے مہ سااری بات جاسنائی۔ ا ضران بلا
نے فرب فخالف سے می طور بی یی لھا یاکہ علومت ابو ںکو مج ہنان ےکی
قابل ا عراش کہ بر احازت مفسو غکر و گی لکن اگ کسی اد رجہ مسچز بنانے کا
فیصلہ وم تکرے کیا چلر کسی _ مکی روک پیدا نکی جا گی فرب خالف
نے حوعت کے کن بر اس جا تکو صلی مک لیا اور حر یک دی ۔ لض علتتوں میں ٍ
190
سس ح۔|ٗ ۱ح دح ہل ووو._م١ہے
سوال پیا ہو اہ ىہ پلاٹ جو مجوبیکیا جار اہ ہہ فو راب خانہ کیل عکومت نے
ریزروگیاہواے نس پ اضران پالا جع بر اوخ لکشیرنے ناک رک اپزر
شراب غانہ بنانا ٹھیک نہیں آبادئی سے باہر شراب نانہ نایا جاۓ اور ہے گل
لو کاچ کی دے دی جاے۔ فریق اف نے بھی سے تل رکرو ۔ چنانیہ
8 پٹ کا مرو آا اور اضسوں نے 100100 نٹ کا پلاٹ بماعت کو اس
شرط پر دے دیاکہ ال کے مات کاحصہ ای رہے گااور حکومت ممو رک ققیریں
ہر مکی اسان اکر ےگی ۔ چنابچہ جتماعت ام یکو ۹۹ سا لک لیزے ایک شلگ
مان کی ادائی پہ ہہ پلاٹ دے دی گیا۔ نیہ لاٹ سستابھی تھا اور پھہپلا کی
بت وسخ اور شمرکے خیان وسنا ش ایک طرف فردرے فاصلہ پر بیس میشن
اد مات یھ دور می منڈکی اور دو طرف مک گویا اللہ نال نے اپنے خاص
فثل سے اس فتنہ اور یلوہ کے نیہ مس جماع تکو ایک بہترین پلاٹ سو رکیل
دلایا۔ وللہ ائمد۔ یہ پلاٹ پے پلا ٹکی بت سے پد رچما من ڑتھا_ *
کر مجکربی عبیرىی صاحب مزید اس مصویدکی تقی رکے سلسلہ مس کھت ہیں :۔
سن پلاٹ پر مدکی تیر
”اب نے پلاٹ مس مو ھکی تی رکا کام جرد ہوا ے شرمیں
حالفت دلی دی شی۔ ٹرانپپورڑ نے پڑھرلانے سے انا رکر ویا۔
راجوں “ مستزیوں اور تکھافوں نے جو اکٹ خیرات ىی تے خخالف تکی
وجہ سے کا مکرنے سے الک رکردیا۔ اللہ تما یٰ کاکرناہو اک اتی ونوں
جنگ بند ہوگئی۔ جنگی قید یی ںکی ایک بہت بڑ ی کھیپ ٹیو را لاگ یگئی۔
ٹب را میں ان کاکپ کھولاگیا۔ ان قیریوں می انگ اجگے کا رگ ر*
11
کار پیٹ رآ رکی یٹ اور راع وغیرہ تے۔ روم میق لک بر ج
نے کی پکانڑنٹ سے در خواس کر کے ان قیریوں می سے چھ
قیدکی اپنے بر کو مزی ن کرنے اور ضردری اصلا نکیل عاصحل
کے کپ کان فک رت مضری سے وخ یی رو مین میلک اور
قیدی بھی روم نک یق و تک۔ جب جن صاح بکو معلوم ہو کہ اس
مرح قی کی الیک نم بی ج کو دے گے ہیں و انہوں نے بھی کیمپ
409 6 ٰھ ۶ھٹ
عذایت گئ جالی ںگ رکیس پکانڈخٹ نے اس وجہ سے انا رکردیاکہ یہ
یتقو لک میں اور ان کے نج عیادت غانے بر ج کی ر ہے سے
ہیں ود کے فی دیے جا تھنے۔ عیمائی کس طرح ملمانوں کی
عبات گا ہکی تی رکا کا مکریں ۔ اس پر چتزم جن صاحب نے عکوممت
کے متعلقہ اضر ڈانئریکٹ رآف مین باد راو را ن کون کے گر ان اگ
سے دارلسلام جاک ملا جا تکی ادر ان سے ان قیریو نکو میرک تیر
کیلع دیے جات ےک وکما۔ جن پہ ان ا ضریوں نےکر نل منر یکا یٹ
کو پرابی تک کہ مسلمان اس جنگ کے دو ران ہما رے 11168 یں
موی کی تق رکیل قو اعد کے مطابقی انیس قیدری دے دہیے جاکھیں جس
بر دی کے تریب خیددی جن میں سے چم ما رھ کان اد یھ
دو نے کا گر جے 7166004 تل( آرکی نٹ بھی ایک
تے۔ان قیدبو ں کل رو زانہ وو شلنگ مقر ہو١۔ دو پ مکاکھاناان
قد یو ں کوچ صاحب کےگھرسے مایا جانے لگا۔ فضل ند ا کام
رد ہوکیا۔ اب پچھ و کی ٹرا پور ٹ کا متلہ تھا۔ تام ام یوں
132
س ےک ماکاک قری بکی الیک ھا ٹڑبی ٤٣٢٢ ۱1ب محنزم جج صا بکی
محیت میں وہاں اکیٹھ ہوں۔ دوبان ے پچ ر نےکر مد کے پلاٹ پ لا
77 بالات ھانرں ک رر ے76
ڈیڑت سو آدئی پچ رشمرمیں مد کے پلاٹ پر لاک کرت ر سے ۔ مزید
تانب نے نہ تری کک یکہ ہرجعۃ کے ون جب اجزىی ا ضا نماز
جع کیل آنیں ن3 ہ جن اسیک ایک پچھرما یاکرے۔ بوڈ ھے ؛جوان *
جے اوز خور جن صاحب اس برای ت کی تل می پھر اکر سر کے
پاٹ پت کرت ر ہے او رپپچھرد ںکاھ رل گگیا-
محمزم شی صاحب کے کیک سلوک سے متاث ہوکر اکر قیری
یکن گ کہ سے نا 81 میں او ر وی الد تکئی مار قیریوں ےآ
سے و زیاف ت گیا کہ وہ آپ تیر ے اور مو جورم عالت ے آزاو
بن شی صاحب جرف من اق نے فا زجب “یدک تر
کل ہوگی۔ الا اتید ای سے لفاظ گرم جن صاحب کے متہ ے
۔ ملا الیل اس کے مطابق ہد ا۔ مس دک تی رکمل ہونے پر نک
انی شتم ہوگی اور قیدیو نکو ان کے ون تو اتے اور رپاکرتے کا
فیصل ہکیاگیا۔ اس مود کاسنک جیا حنزم جن صاحب نے رکھا۔ اللہ
تعالی کے جضور دماوں کے بعد افرشن ام یی اجاب اور امن
اعد یی دوحتو ںکی موجو دی میں مو رنہ ۳٢ جولا گی ۱۹۴۲ء کو کیک
فیاد رکھاگیا۔ ۱ مان
٦٦ب ٰ۷ 3
وتقار حم لکیا۔ زدو رو نکی عطر کا مکیا۔ ھا ڑ سے پچھ رکا ٹ کا ٹکر
1
333
لاے رے۔ ران کے میینہ میں شھد یدمگر می میس بھی کا مکرتے
رہے پالا خ ۱۹۴۴ء میں مر بفضل ند اعمل ہوگئی ۔ مسی کی تقیر
کا ا ار شلنگ اٹھا۔حضرت خلیطۃ الم لی نے ص رکا
نام سر ففل رکھا اور ۱۹۴۵ء کی ھرکزی و کی تقادیان میس مس رکا
وٹ دکھاکرا حا بکو خور سن کیا۔(ر ہو رٹ ص٣فح٣٠)
اس مس رکا فا ںککرم جن صاحب نے ۴ ا دعب ر۲ ۱۹۴ ءکو فرایا۔
ای وع مارک پار کے پنام ہر طرف سے خوصول ہوۓ۔
سلطان آف ز تجبار مگور نر خاننگا یکا ا گور نر کے سیل رٹری ایی نیشن “
ڈان یی مہ تعلیم 'سفراء میں سے اھ ریہ کے سفیراو رپ لینڈاو رپالینڑ
کے ینید اور جا زا از لے ان موق با میا رکا کک
پغام جوا ۔ ىہ سب پغامات منزم چو پر ری تار اع صاحب ایاز
نے سنائے۔ مشرکی ا فریقہ کے اخبارات الیسٹ ا فرلنقن سینڑ رڈنا گا
یکا ینڑرڑ۔- سواتلی اخبار 8878 اور 7 0.2
صرخیوں کے سا مس رکی تیراو رافتقا حکی خریں شا کیں۔
شب رکے محززین ا فی ''ایشین کے معز فرا' ران اع
ےر اش نز ٹکٹ کشن اور ڈسٹرکٹ | نی ر یلوے
نے شرک تکی۔ مسر کے افتقتا نکی خرنیرد لی ری یڑ ٹیشن سے بھی نر
ہوگی۔ جماعت ٹا یکا کے اتکی احاب ادر نبردٹی سے بھی کی
دوست افقا کے موںع پر تخریف لاے۔ می ازان حژم پر
عبدالر زان شا صاحب نے دی جب بے اذان ارس ون اتے سئ 3
ڈنٹرکٹ انی کی میم بے اخخقار ہوک کن یں اکیا ہم ہہ آواز
44
و مسر ید سا
کال با دئن! نی کروی مھدم
یو او خوانی بی الک ای یڑل جن سوج ر خی
ای خوقع یر یر اقامت تمرم یبا زیم : ضاتب اب .نے
یک یج
اٹ کا می کروی ہےر ٹل تو از کی
گا سام 0ا ستاما ہرز ورای ےس رڈ ۔
تی۶ شا ے ”رانا ہلاو ان ا ور
کی نا کی ا اف ا دنس
یپ یپوی رتا ہے اط را نکر مک جرد
۶ یی مرحی جک می ران ے ور رن
کنا کی نت ای ا تر ری ئل زین یں
اک یرت وی شی صرتی
)٢ عہوض تغل ای رو کچ بڈزج کیو سے
کفات ابا ہت ئ1 رمیر چیپ ر
تی ا ان سے ای نی
وغل سے باہو اد لی دو ری ہگ ؟اکی طورر از
2ا اگوی دی اپ زع دز ملف کزد اپ نیل گں سے کر
را ساب نے ان سےکماھاکہ جو تی مجری فی سیل بر
کلی کات تی رر تارنی یر گاے+
کک ید صاحب کامفمون تار یھر خر
سر سلام۔رارالسلام
راہ میں دو مر مد خاکسا کو اپنے قام کے دو ران در السلام می ہنواتے
کی وی لھی۔ یش زان کادارالافہ ہے اور بن رگاہبھی۔ دا زا سلام می مر
کی زین کے مو لکی میک بدت س ےکونشن جاری تھی۔ جو زمین کا گڑا شر
مو کے جو ی:کرتے داراسلا مکی میو نپ لکونسل اس روگ دچق۔ دا راسلام
کی می سی لکول یس پھ افراد اعت کے خلاف تھے ۔ شمرمس بھی ملمانوں مس
خلت تھی۔ اس ہناء ہکات نہکوئی عذ رکر کے میدن لکونسل چ رکیے تج کردہ
لاٹ کے سے مس روک پید اکر دق ۔ گور خزامیہ عرایڈورڈ وا تل رخصت
بعد جب دای آ ےآ خاکسار اس داع داراسلام شر تھا ان کے آنے پر
اسے ٭<0 :۴1 ۱۷۷ر خوش آمدید بذ ریہ تا رکھااودراسی تا رمیں ىہ ذک رگ یکیاکر
آپ کے دور علومت میس مدکی زین کے حاص لکرنے یش روم ہیں۔ اس جار
۱ اگ رخ رکا من تک کہ ٥+3 کے زم وگ خر تے "مکی اوران طخ
اسے لجہ دلائی۔ دز موصوف نے جو تی بے ہر ابی تگو رن رکی طرف سے اسے لی
خاکسار کے بارہ میں یھنا شرد کالہ دارالعلام میں ہہ شف سکماں ہے او رکے
اق سے داب کیا جا سکتا ہے۔ بلاخ کی طرح اسے معلوم ہو کہ اکسا ربچ
مریٹ مس احائیل سور کے اوپر ج بالا خانہ ہے وہاں مئیم ہے۔ اساعیبل سور
چچاپیوں کا مشمور تھا رکی ٹور تھا اور پالوم الیٹین اور با وص بہنابیوں کے آلیں
یی لیے جے کامقام ساس پنے کے رجہ کے و زمر موعوف تے س نک کرا۔ شاکراز
ای دز سے سے گے دن ان کے دفز پیا ان کا ام خالال ین عیرس تھا باہم
16
گنو شروع ہوئی۔ ا سکنگو میں پچجھ تیزی بھی خماکسا رکی طرف سے ہوگی۔ دز
موصوف فور بول اٹھا! آکیگو ہہ خیال خی ں کے 0301810600778320 870 ]۔
میس نے اس جيزی مم بی اسے جوا ماک کیا آ پکو یہ خیال خی کہ
21518٤68 0۶6[18[ <0 آ۔ تجزی اس وج سے ہو یک مباعص زین
کے حول میںگز رگیااور میونچ لکونسل وارالسلام اور تحلقہ حکام ہریلاٹ پ>
کوئی : کوئی اتا ضکروہیے۔ اس گنو سے وزم کے روہ می تجبد بی کی اور
جب اسے اس کے دریاف تکرنے پر ای اہ اب فلاں ہہ کا پلاٹ ہم نے دیکھاے
اس ہے ملق مظوری کا فیصل کیا جاے۔ ے پلاٹ ھنڑالہ بلڈنگ اور ان
اسلامی کی عمارت کے درمیانع عیان ش کے وسطے میں تھا اور سان ھا مییران اور
مدان کی دو سر اطراف میں شر وزي موصوف ۓ دارالظا م گی مو نچل
کوضل تے ے:رالط گیا نین مبكید سے کم الہ بم بلاٹ 08166 18
بداعت احری یکو می رکی ققی رکیے دینا چاہتی ہے۔ باوج دکھی ع مک دوکوں کے
کول مور ہ وگ یکہ ححکوت کے وزم کی طرف سے جوکار زدائی ہوکی ہے اس ں
کی می مکی روک نہ ڈانے ۔ بالا خر بت پلاٹ جماع تکولیزیرع لکیا۔ ہہ عوم تکی
زین تھی ارچ 8ط 7۶۷٥ ا بسرعال ایک ا پلاٹ
تاور بست بی انگ موق بر شمرکے عین وس یل تھا۔-
پاٹ کے حول کے بعد مسو کی تقی رکا فیصلہ ہوا ۔ نقنے جا رکرواۓ گے النا
۹ى و رو ہے
تی فی کے کاروبار می وہ رات وغیورد کے کام جوا نکی فرم کے ذتے ا ن کو
اخیام دینے۔ پرائیوئنٹ طور بھی دہ تقیرات کے گے لیے تے۔ دای رن انا ے
کان بر نماکسار ہے سا باہو فض لکریم صاحب لونع صدر بقاعت دارالسام ار
17
گرم سید مھ سردر شاو صاحب جنزل مک رٹریی ماع تہکو ےک انی لیک ان
أ۔ . نے
یس دہ ضرد ری 76:08 جن یکریسں گے۔ ان سے پچ می اور یا تکریی ٠
58ک کی ا موں نے جو و
جائی کی وا تی رق جو اس نے مدکی تی اسے اد اکر وی جب دیداریی ققیر
ہو جائی کی قے مقررہ رقماداکرنی ہگی۔ پعت پانے او رحمل ہونے پہ جع تکی
ا رق یں اد اکرنا ہوگی۔ بے سب 608 7ڑ ھکر اسر نے اىسن سےکما۔
چو ری صاحب اس دت ے جارے پا رح تیں - الع 6:05" کے مطالق تو
"2 آپ کام شرد عکردیں جوں جوں رٹ آتی جاے
گیا 1پ کو دنت جائی ہے۔ عجرت نے اد ی طرف دگٹ اکا او رک لا ش
صاجب کیصی بات کر رہے ہیں۔ الییا باقوں صےکیا مارتیں خی ہیں آپ کی
جماعت تو بہت امیرہے۔ آپ ان 0+8 اگوی تلیمکرہیں۔ می نے ا ےکما
جماعت بے نک امہ رہے۔ اس کا اپنانظام ہے۔ اس مد کے لے اس وت
ہثارے پا رم نییں۔ لن خدا کے فقل سے امید رکھتے ہی کہ جب ترک
ہدگی نو رٹم آنی شروع ہو جا گی ۔گراس کا را رکہ دہ تو ان 7608ء تی
کا مکرے گا اود ا۸ا را زہکہ اس وت ہمارے پان رتم نہیں ' دوج لاک
اس سے ہم مرا ق یکر ری ہیں۔ جرت سے یی دبکھتے۔ آ خر یبور ہوک رکن الاک
آ پکیا اچ ہیں۔ بچتخالی ہہونے کے باث دوستوں کے اس کے مات تعلقات
بھی تے۔ اکسا رکی بھی عمز تکرب تھا۔ اسے بایاگمیاکہ اکر بی ×70 آ پکو
مظور ہو گر 16جاھ ج٥ ط× 16به 29 9 کام رایپ گر تاور
جب سے دیھنے گاکہ بی ا کی حخقرا تکس ش مکی بات کرت ہیں او ر جن اک
18
ىہ جیدگی سے بات شی سکمہ رہے۔ لیکن ہمارے اصرار ہاور سی دی سے اس
07 کو انتا رکرنے بر اس زور دی کے اگا1 ل0 نقلشہ مین کام شرو کر
ہوں۔ اللہ تھالی نے اس کے ول میں ڈال دیاکہ تم پپیوں سے ححروم نمی رو
کک
ال کا اضا نکہ اس نے کام شرد کر دیا۔ مد کے پلاٹ پر دفت مفردہ پ
نیاد ںکھور یگیًں _ یا رک ے کا موںٹع آیا .لوس تکی طرف سے گرا یکااتظام
لی طوزب فااور ہہیں برای کہ بڑا گشن نہکرریں غاموشی سے اد رکھ ہیں۔
ٹہو را کے خالا تکی وجہ سے لوم تکی طرف سے میں یہ ہدایت ہوگی- 5
تا نیک جماعت کے زمہ وار اخیاب اؤ زاس وت کے مغ جو وہاں موجود کے
نال مولوی عبداککریم صاحب شریا او مولوی جلال الدین صاحب قراس مج ھی
زار کے وقت موجود تھے۔ دعاؤں سے نماکسار نے بیادی ابینٹ رک دی- غدا
تو یی ا تی اور شرت س ےکھی تم ککوئی شاضانہ نہ اٹھاد رنہ حی شر
او راز رکرو کے ہساپوں میس س ےکی عم کاکوئی شور برا ہوا۔ محچدتیرعدٹی شرد حا
ہوگی . باریس جب ای وگئیں ےمد کے فضل سے چندہمسویر وصول ہونا جرد
ہوا اور ایک معقول رت وصول ہوگئی ۔ نیکیدار صاح بب کو بزیادوں کے لف رہو
جانے بر جب اسے رتم لی ت2ا کو مزید شی اور اشمینان ؛وا 1اسا ادنگ
تق کاکام جلد جلد ہونے گا۔ ہرمرعلہ بر نس قرر مد کے علیہ جات آتے اسے
اورک و ہے۔ صو مل ہوگئی اور بڑا خاصا خیش ن کا تظام می کے اتاج پر امام
7٦ "۵ھ" ن بت سے مخززینع شر کے علادہکیٹیا کور نر
او دو صرے سرکردہاضراب کے مارک باد کے پیام موضھول ہوۓے۔ لوکل اخیار
می افتتاح کے نکش ن کا امت انداز میس ذکرہوا۔ ول المد-
٦
۱ جح س1 گچچں چک ھ ِ9 َکےےے
899٭1.
عفرت غلیفہ الچ الثانی نے اس سو کا نام سلام شون فیایا۔ سد کے سا
دشر کے علاوہ یی کی راک کاو ک بھی انظام بداادد رپائیشی سےکرے اور دخ کی
قمیرکردائی۔ ماکسار دو ایک ماوکی رخصت پر ربدہچلاگیا۔ ٢٢ ہز رکی رت بای رہق
ھی جو میکید ار صاح بکومسجد کے معمل ہو جانے پر دتی تھی۔ اسے مض خیراعری
ملمانوں نےکماکہ اتدیو ںکو چالی نہ دو جب تک تار بی بقیہ تم نہ مل جاے۔
دا لا گکرے اس ن ےکماہہ مد کا معاللہ ہے۔ دا گھرہے۔ میں چالی نہیں
١ انت 26 ای ہے دوں گا ٢ ان کا با قاعدہ افتقاج ہو اور نمازمیں اداکریں۔
میری رخصت کے ایام میں جو تانمقام مشنٹری انجارج تھے حبکید ار نے ان سے
ایک دو دفعہ رق م کا مطلہ ہکیا۔ انموں نے ھرکز میں رت غلیفۃ اس الا یکو کیا
کہ صاحب قرض چھوڑ گے ہیں۔ شفیکیدار جھ سے بار جار عطالہ کر ہے۔
ور نے انیس ککھاکہ جہماں سے بن صاحب دیاکرتے تھ اس طربق سے تم بھی
نرہ احباب جماعت سے وصو لکرو اور رض اداکرد۔ جن صاحب مسر یماں ات
لے کر نہیں آے اور وکالت تشی رکو عم دیا کہ جن صاح بکو جلد وابیں مشرق
افریقہ مجواویں-
یھ دوں بعد اکسا رکی دای ہوئی۔ اب اس قرض کی ادا ئگ کیل گر ہوا۔
دعاکی۔ اللہ تھالی نے راس ہکھولا اور مھ دی۔ جماعت کے ند اص دوستوں ے
قش صنہ مقررہ رمک وصو لکیا۔ جب یہ سارکی رتم قرضس سنہ کے طوری ایک
دوماہ میں اکسا رکو وصول ہوگئی ے شحیکید ا رکو اد اکر دی۔ عزید ۵۰۰ شلنک شک نے
کے طور پر اسے ادا کہ آپ نے وھ 2ھ 01 17ک ری کی
الہ کیا اس رح یدارک تی ھی مو ان کا رق بھی اڑا ہو جن
زوستوں سے فرص حسنہلیا فھاان سے وعدہ تھاکہ قرعہ کے سام ہردوس تکوہجن کا
141
7
کت سج جا چا پت بب
7 کرو ںگا۔ چتندو اور علیہ جا تکی کرک جماعت میں
کرو 1 سے ىِ ىًُُ
ںہ بزں ج گی ازجا نر لیا تھا کو ادا فا ماع کیل زمینو ںکاحصول
اک اچچ سے مم شس ےہ
ماڑ رگا“
حراضیہ میس اع دو مساجد کے علادہ مور وگو رو یتو ایک کر رتو اصورت علاد
ہے اد رھ اترک مدت سے واں رہ رہے تھے عومت سے زین کا قطعہ لیزر
اص لکیا۔ اسی طرح ٹانگا میس جضماعت اریہ کے حلص افراد رج تھ وہاں بھی
کک رب ور یی کے راو ا ںا قلومت سے ایک قطلعہ زین کا ھاص لکید خداکے فضل سے میرنے اس کلک سے
ےس نت ہردد مقامات میں بھی مساجد قفیرہو گی ہیں بمہ مزیر ژوڑو۔
یں بھی ایک شاندار مصو دکی تقی رکمل ہوئی۔ المدلہ ماع تکوسے لئ نمی
۔
مور وگور دکی زین کے بارہیش بی اکھناد نیک بائٹ ہوگاکہ اکسمار کے اس
لیگ سے آ جانے کے بعد آزادی کے دوں میں اس شمرکے ا فریقن نے عکومت
سے درخواس تک یکہ اتدبو ںکو سو رکیل جھ لہ دیگئی ہے اس می ںکی وت
وم تکی پارٹیٰ :<0 7 کا ایقرائی جس بوا تھا اس وجہ سے امریوں سے ہے
پاٹ دائیں لے لیا جائے۔ اس شمریش ان دفو ںکرم نذیر اج صاحب ڈار بطور
پریٹیڈنٹ پوس سج تے۔ ای رح ان کے بھائی ڈاک بل احد صاحب ڈار بھی
یش سکرتے تھ۔ اپنے وت می ان دوفوں نے جھائتی خدمات میس پو راخ
لا بیرے چھونے بائیکرم نی احھ صاحب شع بھی اس شر می خا ھا یا کاٹ
نی می ملازم تے اور ممان فوازی اور پر طرح احا بکی خدمت م سکشادگی
مات حصہ ین تھ۔ اگ چہ ان لوکوں کا نیک اٹ تھا را فریقن اس بات بر لے
می یی کت سے لیرہوگی او تید مرکنتا ے التائ
کا ےس ۱
142
ہوۓ ھکل ہے یلاٹ را کک و ا
٥ <۷!” :زط و 1[ نل و ال وت
سے پ کر نوں نے مور کو دی 80پاٹ کان در ات رد
ہیں اق یں ہا ںی ب51 نیمز دی ہیں لف
کت ا ا ری کو سس کت2
ی و کت کے صر رکو تصفاتہ اور جزات منراد ففل کی
ہے ہج یسا مر
وف تق می
بیغیامیں مساجد
کرہو را سے ا بپکیمیا کالوٹی میس ان دخوں جھ
کل ان سٹور میں مساجد کا
اش ںہ ا ا
0 ٠ے
وا تم ےت
و تا ا ا ا ا
کے سے کک ری ےکی خیکٹری
سے ضردری انا ص7 لی |گٹیڑے اجازت ے پور ٥3۵ء٥7۶
0:7 رس ہریت
طو کا رم عم اکر خان صاحب نمور ی نے جو الناد نل خنیکید ۱ر یکرت سے
ات زا ال اضن الجزاء- 2 رت کے طور بر آج تک احتعال ۷
ہے۔
پک سے وزمر تشم اوربعد میں صدر ہے 1
۱
14
ھکس مہ سس باے ےچ چس سے سے
بر ش رت و و
یئ ح سید محراع الین صاحب نے رتح دی ادر یہ رق, مس کی تی کے
کے ہے سے سس کیا ہد رہ
انداز یش یہو گی ہز اہ اللہ ان الجزاء کل
۱ وج بط رگاہ ہوتے کے آنے جانے والے ممانوں کا 25
کے رام کر ض ظا میمرت ا
ہو موہ سو ہت
۔ لہ تال ان الا اس کہ کی سی کی یرش لوکل بحاعت
باففدوص محروم و مففور باہو مج عالم صاحب اور ان کے پچوں من ےگمراں تہ
٤ .. ں تر رص
بے کوں بی بی ےش بھی کا کیب کہ ے۔
: اد ے۔ این کا خاصی آبادی ھی ہے۔ ریلوسے یش بھی ہے_ حطر
ات چھئی من ونوں جح ہت
٠ کے لے پاٹ کے ول کی عکومت سےکو ش کک بعض خیر
تو نے یداہ زی کے صول کے رہش لشوس وا سد
حب جو ایا ہندوڈاکٹراور شریف الس شمری تھ اور تا زا نشی ۔ متا
""**“"م',"سسس0
٤ می علاق یش مک کے ایک طرف اع تکوپلاٹ گیا رم حجیب اللھ
ات جسوال ان دفوں دہاں کی می" جیلئی میں ملازم تھ۔ انموں نے
بتایا و مل ایت للہ لصاح جو ان رو دا ےھ سار ے
حرصہ قیام مر ا فرییقہ مم انہوں نے بیوگنڈا اور لحتقہ علاقوں کے احاب سے اس
144
سیر کے ل ےکسی قزر ند بھی وعسو لکیا کس یکا کے سلسلہ میس خاکحار ان ذنول
نت کن کے راس خیردلی جا ٹھا۔ احیا بکومزیدہاکیدک یک مدکی یر
کی ھکومش کریی۔ خاکسار نے اس وقت یازو ںک کید وا یکچ ایک سد شلنک
بی زی زین مور لت کی تھی لینی چھکی۔ ای زیاد کر کحودنے کیا
رت ز تی ٹہ گرا یی یا دس کان تھیں۔ سو ماش ہبی الیاھاکہ
گی اشن ارت ہے۔ بت زوین جس ون صاتب او راخیاپ لکن
00 صرف بنیز کھووئی بی مناسب خیں پ خرن اان مس یکن یں
جے۔ میں میں یےکتا را گند انشاء ال کھا و کاکام دے گا آپ جیادی ن ھدوا
لو جس موس می سپ دوں پ گرم زکرم خان صاحب ورک امو مین
کانوں کے بیاتے کا کہ ملا۔ اخیوں ت ےکرک مسر جو تقشہ کے مطابی ہے دہ وا
رس گے۔ بت بدی سو ربھی نہ تھی۔ اس کے سا تہ مشن پوس جماعت چند سے
نو نے۔ انل خیدا ا طرح می نگئی و رمشن پوس مین کے قیا مکی بھی
علیہ جات سے من گیا صی ر کسموں کافوڈ پچ کیا جا رپاے۔ اللہ ا ان سب
را بکوجزاء خیررے جنموں نے ان تی ککاموں میں حصہلیا۔
گن ٹیس مساجد کےکوا نف
ورای مت کک یں
رق فزیقہ کا تراہم ملک اڑا ے۔ بهت سر زنک سے ادر امرگ
ری ےس شھ
اص ل کر ےک یکو ششک یکئی ۔ککپال می اساعیل ماع فا2 کے نان اکک
پاٹ حاص لکیاگیا۔ بعد یں بے پلاٹ فوخ تکرنابڑا۔ ا ںکی اکچھی تمت دصول
پو۔ اعت نے یوقم یرد ری ازاں ری دد سر من کے حصو لکا
1045
کش لک یگئی۔ یا رکوشٹل اور جدوجد کے بعد 20+08 سک کے پانئیں
طرف ایک پارک تھااورسگرین۔ خوش شعتی سے اس پارک میں جماع تک بات
دماگیا۔ اس کے اوپر جو مسر کگزر دق شی اس کے انیس طرف میگ رہ مے کا تھا
بعد یس یو نیو ری بی نگئی تھی-
دو مرا پلاٹ مسید جن کیل حا لکیاکیا۔ خماصا بڑا پاٹ سے جو د ریا نیل کے
کنارو کے شم ریس ہہ پلاٹ ہے۔ تسراپلاٹ مسائا یس عاص لکیاگیا۔ حکومت سے سے
پلاٹ یزیر دہاں کے تو اعد کے مطالقی عاصل کے گئے۔
ح بے پل کان سی سیک ات مات گے ودرکس وین کی این
کید وائ یگیگیں۔ محتزم عم جا برا زیم صاحب ان دفوں دہاں میا تے۔ خاکمار کے
0۳ سا م کر ہ رکشل یں دہ مھ رہے۔ بہت ام کے آدی تے۔ جب غارس
کھودی جا چییں جو کاٹ یگگبری تھیں تو ا نکی تقی رکا کام شردع ہوا۔ نماکسار نے
"۶" 9 9 ۳ٰ2 ٦
مک 2 (3.00
7ء تل تو حخرت ویر ری محر ظفراونہ ہماں صاحب نے اس کا
اتاج ڈرایا۔ عخرت چوپرری صاحب کے کالہ تخریف لاے پٍ جب کہ وہ
۵ک صدر تھے ۔ گور خر نے اپنے پاس انی ٹھرانے کا تظا مکیارچو بد ری
صاحب ن ےک ماک تکالہ میس میرے ایک بھالئی ر ہے ہیں ان کے ہاں میرا قیام ہو گان
شرکی میوسلٹی نے اور دو سرے معززین نے بھی حضرت چو ہر ری صاحب کاخیر
مقد مکیا۔ افققاح تک وا خحغام ے ہوا۔
عخرت چو ہر ری صاحب ”نتر یٹ لت *' ٹیس گر فرماتے ہیں:۔
۱ ۳ دوستوں کے راد اس مد کا سنک یاد رکھا۔ الع دفنوں تلرم ڈاکٹ لعل وین ا مر ٰ
کالہ یں ےم کے کٹ کے
حد اتال تقریب کے بعد ںکپالہ دا ہی لوٹ مورک
گافمٹ کی ماب تی یت اض
اع رکھا- ت سی شک بایان ان بی ایک مار
دا ارت از راف بھی کر شی
٠ - اکم کیک یرم لوکنڈ کی بماعت ا ھی نے ابی یت ے
و رازگ مر یا ار رووا رع بارس
ہرگ اض 1 ری یی
جزاہ الد ھی امدارین موا“ مکی یل میرے بر
ا ھا ری ا کی یہ سے کس ےد
کال ہل نیز ریرے شایای ہیر
!7ج شرب
۷و0جمماق ہے و ہے رے
ایک سکول بھی اگ دای ھا جھ تل اللہ کامیالی سے پیل رپ
ھا۔ با کی تحعداد ار تکی کی تقائضی تی _*
ھد نے از کم ید
تم بی رت نی رت
147
تل مد ا اس اہج کی سج یکو الد تعالیٰ نے نوازا کنیا اور جڑاے میں اہر *
عبادت گاہوں اور تنلیبی اداروں کیل جو زبنیں دی جاتی ہیں ا نکی سالانہ لیز
ممول ہو تی ہے۔ ہرادارہ کے عالات کے مطابق بھی ایک شلنک او ربھی با
شلن کگربوگنڑا میس اس کے برعس ان ادارو نکوکھرشل خر پہ زنینتیں دی جات ی
تھیں۔ خماکسماز نے لات رال با حرضہ اس بارہ ین لین او ز ومن اوازوی اور
سرکردہ مرا نکونسل سے م لک رکو ش کی گ رکوئی اص کامیالی ضہ ہوگی ۔کرم
تق رصاحب ایک بو ھرہ ج ھکمپالہ یس تے اور و گور ن کی ایگ زی وکونسل کے مز
تے۔ الع سے یا تک ۔کیطیا اور تخراضیہ کے عالات سے اخییں آگا ہک یاکہ ائن طگوں
کی علومتوں کاکیا رق ے۔ روہ اس محالل کو اٹھاتے پ تار نہ ہوۓ اور
علومت سے با تکرنے سے گروہٹ مو سکرنے گے۔ عاجز نے اپٹ یکومشت کو
جارئی رکھا۔ دعاک را رہا۔ دا کاکرن+واکہ پچگھ عرصہکیل گور نر صاحب رخصت پر
گے اور ان کے چیف سارٹری ا ن کی مہ انمقا مگورنر مقر ہوے۔ ٹورا
(تتاضیے) سے ہمارے ایک واقف اور دوست مسٹرپٹرک ومم ان دنو ںکپال ہی
کام سے آتے ان سے با تکی۔ ان کا قائمقا مگور نر صاحب سے ذاتی تلق اور
رابطہ تھا۔ انھوں تے بماری ورطواست پر قاتمقا مگورز صاحب ے بُررے
تقصبیل سے بات کی۔ جس پر تاتحقا مگورزر صاحب نے اگ زیکٹو مس ماری
درخواست یی گی۔ نماکسمار نے اہن خطوط میں حتزامہ او رکیفیاکی عکومتوں کے
ری ق کا رکا ذک کیا ہوا تھاکہ وہ نر بی اور تع لبھی ادارو ںکو جو زشن د نے ہیں ایک
پاظط سے ہہ ادارے قلومت کے شریو ںکو پرامن رن اور مزب بنانے مل
اداد دپتے ہیں۔ دہ ان زمینوں ہکھرشل خر پیز.ہہ ہم نہیں وصو لکرتلں
بکلہ معموی میز ار کرکی ہیں ایک شانگ ابا شلنکف۔ اون ای عکوم تکو بھی
048
ان اداروں سے موی یز وصول کرلی جا جے۔ انجام کار عکومت کوگنڈا نے
ماکما رکی ورخو اس کو منظور فربالیا اور فصلہ ہو الہ رہ ے برثی ادارول اور
تی ادارو ںکو جو زبینیں دئی ای ںکی ا نکی لیز سعمولی ہوگی نہک کھرشل طریق
ہ-
بوکنڈا می دو ری مد خماکسار کے عرصہ قیام مشرقی افریقہ میں جہ میں یر
ہوئی۔ بی کے می کے ا کو ا ے۔ رین پاز اور
۷۸00-58( کی دادی میس نے ۔ بھائی مھ تسین صاحب آ رحراسں
جماعت کے پر یز ینٹ تے۔ ان کی صدارت کے دنوں مِں ان کی دنع را ت گی
عحنت سے یما ںکی مسچد مفضل خد احاب بماعت کے چندوں سے فی ہوگی رم
حافظ بجی رالدین صاحب ان دفوں مال ملغ تے۔ جماعت کے افراداور عقائی سم
اس جزوجد شش بت خر رے ۔ اس کاسنگ فیاد اور افتاج ماکسار نے بی گیا۔
بھائی مر نین صاحب نے حفرت خلیفتہ اج لی ے احتضواب پڑ رید تا رکیا
کہ ا لکاافشا حکس سےکرابا جا حور نے فرمایا چ مبارک اض سے ۔ بھائی
مھ نین صاحب اور اع کے بچوں کا نماکسار سے جماشتی کاموں میں بست تھاون
رہا۔ تزاہ اللہ ان ال جزاء
اکٹ نماکسار کے اس ملک سے دالیں آجاتے کے بح دکرم جناپ ڈ1 ا
دین صاحب کے ذربیہ مدکی تقی رعمل ہوی۔ اپنے طور پر دہ جماعی مسائی کے
لے کوشان ےن کا جوش بھی رھت تے۔ ا نکی بی امتہ السلام صاحبہ تے
بے ایکں وفع ککھاکہ ڈ اک صاحب*(ان کے والیزا اکسا ر کے شض کامون سے بہت
خوش سے اور سراتے تجے۔
کیالہ شم کاؤکر کالہ شمرمیں خواصورت بلند و عالی شان منارول دا ی ے
049
سیر جس کا فو آپ دکھ ر ہے ہیں اس مس دک نفیاداس عاجززعاص یکو رک ےکی
سعادت تعیب ہو گی ىہ ان دنو ں کی مات سے جب خاکسار مشرتی افریقہ ش
غدمت اسلام کے فریض کی اخحام دب کیلع ما مور تھا۔ اس تقصو یکو جب بھی
د تا ہوں اس صصح او رککپالہ کے باروی شسکئی خوشگوار یادہیں بادبار زان شش
”خر ہوقی ہیں اور تفکبن رر نے کے لے حرک بوکی ہیں ۔ کپالہ شرب وگنڈ کا
دا را خلا فہ سے اور اوگنڈ اکا خو بصو رت شمر ہے ۔ سات پیا ڑلوں > آبادرے۔
را تکوجب گن یکی رو شنیاں جچکتی ہیں فو یہ شمربمت بھلا اور عمانا معلوم ہو ے
اور دککشی متظربیی یکر سے۔ اس شع رکی کل آیاد یی ساڑ سے جار ماج لاک کے
قریب ہے ۔ ا فرلقن اس ملک کے اصمل باشندوں جو خوبصو رت لے لے چو بے
پت نظ رآتے ہیں کے علادہ این اور بو ر بین بھی اپ کاروبار کے حاعلہ شش
رواں دواں نظ رآتے ہیں۔ پیاڑیوں پر خوبصور تکوٹھیاں اور مکانات سے
١س ش رکی عنظمت نمایاں دکھاگی دب ہے ۔ ش ربھی مم رسینزہے ۔ سار اوگنڈ ای بے
عد رہن ہے۔ کالی' ددگی ٠ چا خاش اوگنڈ ا کی پیر ادار ہے۔ پچھلوں میں
چھوئے بڑے سا تز کے اناناس فمامیت ری ات رس1 ام ا
آم بکخرت باشنرو ںکو ا فراط نیب ہیں -
عیدی این کے زہانہ می اس مل کی ہر مکی زر خی اوس اقضادی
زرٹیز یکو بے عد نققصان بپنیا۔ ا ںکی خحوست سے مک فک کی عم کے صدرے
رراغت ال رنے ےت ام غی ری اج اور کاروباری طیقہ با وص انی ن کا تم
خرس مل کو اتی جاحیراادوں سے محروم وھکر ریا دکمنا پڑا ۔کئی مکی ٹیییاں
ان کے لے جاتے کے باعث بند ہ وگنھیں کی سال کک اس ملف کا اضسومس ناک
۹ شردہک اب خی عکومت نے مل کو بھتر کی راہ پر بواری نجہ اور گر مندیی ے
100
چا کر دیااے۔ غی رگھی لوگ جو ملک پکھو ڑ گے تے عکومت نے انیں وا لین آآنے
کی خائص تز غیب و گرلی دی ہے ۔ کی مکی مراعات دسیے کا اعلا نکیا ہے۔
یسوں میں رعایت مزید برآں۔ ٹیکٹریاں پھرے رد ہو دبی ہیں او رگئی جاری
ہی ہیں۔ ہار پا لوگو ںکو جو بے کار پھر رہے تھے کام مل گے ہیں اور و شحا یکا
روش پترہ تمودار ہو زا ہے ۔ اخبارات ئل ا کی تجارتی 'زراع اور اتضاری
ری کے رپ ہو رج ہیں۔ بہت سے خی گی ہندوستانی اور پاکتالی جو تک
پچھوڑ گے تے علوم ت کی طرف سے ان د اما نکی علمانت کے وعدہ پر وائیں آ
رح ہیں۔ ان کی جائلدادیں ادر مکانات انی دابیں گے جا رسے ہیں۔ اس
ٹوشکوار تید :یر ملک کی موجورہ علوم ت کی حوصلہ افزائی اورپ و ا عمبلہ کی
لومتوں اور مرا کارو ںکی طرف سے گج یک جاری ے-
کالہ جو بوگنڈا کا۱ نم شمرہے اور تحجارتی دا ققمادی ھرکڑے۔ اکسا رکو بی
دفعہ فردری ۱۹۳۵ء میس اس شمرمیس جانے کا مو تح لا۔ ان دفوں جماععت اع کی
خوصی خلبقی جروجمد کے ساسلہ یس ہندوستان سے غیبرا مر مولوبی یہاں آکر
جماعت کے غلاف معاندانہ خرییات پوری سرکری سے چلا رہے تھے۔ جن و
صداقت کے اظمار کے لے اور اپے دفاع کے لئ اوگنڈا جانا ضرد ری ہوا۔ نیردولی
سے ب ریہ ٹین یہ سفرہوا۔ لوگنڈ اکی مرعد پر پعلا ٹین ریلڑے ٣٦7×07٥
ہے۔ جب ٹرین یہاں کی نذحکرم برای صاحب بٹ جو ان دفوں جخجہ شرمیں
اثرشن رکنتائل کھپنی می مطلازم تھ اکسا رکو اور اىی ٹین سے کر ک
عبدالشگور شاہ صاحب جو شاد یکر کے سیاککوٹ سے آ رہے تے مع انی میم حتزمہ
مودہ میم صاحیہ جو عخرت سید میرعامد شاہ صاح بکی دخ تھی ںکو بھی اپتی کرش
نےکر جن گئے۔ شاو صاح ب گور نٹ سکول بی مھ رتھے۔ جہ لوگن اک روعرا
01
فاص شر ہے۔ جمہ میں ان ونوں کمرم ڈوک ففقل رین صاحب ہرجوم و مففور
و نی ارت اور جماعت وگناک امیر ان سے طا جات ہوگی اور پچمردہال ے
کالہ روانہ ہوے جو میں یں میل کے فاصلہ پر واػع ہے۔ جنجہ سےکپالہ
جات ہو راس میں ۲۵[18 70م715 آاے ژإں۔ ان آبٹاروں کا
ریلادریاۓ نیل می نکر اگلا فرجاری رکھتاہے۔ اس کے ار دگرد جو پاڑیال ہیں وہ
۸08( 9 گملاتی ہیں ہ لگز رک رکفلہ ڈیڈ ھ کھنشہ کے سفرکے بعد
کمپالہ ش ری پھاڑیاں نظ رآنے کی ہیں۔ با فصو دہ بلند و بلاج دکھائی دتے
ہیں جھکپالہ کے لف اط را کی دد پھاڑیوں پر تمیرہیں۔ ایک روم نکی ول ک کا
تن ھی 00888 اور دو می پاڈیٰ >> برونٹیٹنٹ ون کے
86 711067 ہردد چرچ اپٹی بلندىی اور مار تکی وسمت کے پائث لوگوں
گی نج کا رکز ہوتے ہیں۔ یہ دوفوں رج ش رکپالہ کے عقب میں دا تع ہیں۔ شر
کے شردں کے حصہ مس بھی ایک پماڑی ہے۔ خخاصی ادیگی سے 1101311 اکماجاا
ے۔
پاکسا رکو ھی وفعہ اس شمرییش داخل ہوتے ہوۓ اور بعد میں منعرر مر
جب بھی اس شمر٘یں جائے کا مو تع ما تو دعاکی فو نی عیب ہو تی کہ غداکرے
ذدطذ کی پھاڑی ج غالی پڑی ہے اس پر خداۓ داع دکی بر تل اور عبات
کی بن جائے۔ ہریار اس شر داشل ہوتے ہوئے بی عا نک یکیفیت ہوتی
727 ٰب/,/ عاجز کی بے دعا قول ہوئی۔ پاڑی ایک
ملمان شنرادہ جن کی شی جن کانام برٹس بد رو ہے۔ انی ںکئی ملمان اداروں
کی خائس حدد سے یماں مم بنان ےکی وپ م لگئی ۔کہالہ شمریس ىہ مسر بھی اب
ایک قائل دید مجر ب نگنی ہے اور بھت شوقی سے سیا دیکھنے آتے ہیں اور عام
12
مسلران ؛ فریقن پاشنرو ںکی بالفوص ایک ھرکزی عباد تگاہ بی نگئی ہے ۔ اس کے
ات مات جماخت اضر یکو بھی اللد تال کی خاش حئی وفضرت سے فو لی گی اور
کپالہ ش رکے ین ول یں ایک خوصورت اور عدہ مو اور ان ماحول کے
علاق میس مور بنان ےکی سعادت طعبیب ہہوئی جج سک توم آپ ن ےگ شہ مات
میس دیھی۔
13
ٹبورامیں در متفرق مسماگی
ٹور کے قیام میس معلوم ہو اک گور نحنٹ سنٹرری سول میں علوم ت کی
طرف سے نزربی مشنریو کو اجازت ےک وہ ہفع می دودن سکول میں اکراپے
2 نراہپ کے لڑکو ں کو بی اور اخلائی نعلیم ریں۔ رومی نکش ولک اود
بروٹمٹنٹ کے مشنیوں نے اس سے فائمدہ اٹھایا۔ ماکسار اس سکول کے پیڈمانٹر
مٹرپٹرک وم سے ما۔ انسوں تے ایک باوجود جار با رک یکو شش ک ےکوئی مسلمان
معللم کول میں بغی روہ کے مسلمان لڑکو ںکو بی اور اخلاقی تلیم دیے کے لئے
نہیں .اور عکومت اس خرض کے لے فربی استادوں یا مشفریو ںکو جو سکول میں
بت مم دو وفعہ کر تحلیم تن ہی ںکسی عم کا معاوضہ نیس دہتی۔ خماکسار نے یٹ
اٹرموصوف سےکماکہ اخ رححذاہ یا معاوضہ کے سول میں آن ےکی مھ اجازت
دی جاۓ میں ہرہضتۃ دو د نکیل بی اور اغلاقی تحلیم سے اسلائی نل مکی روشنی
میں لان طالب عگمو ںکو آگا ہک یاکروں گا۔ انموں نے زمایت خوشی سے تھے
اعازت دے دی۔ پہربمعہ کے دن بعر سہ پہراور مل کے ون إجر سے پہروقت
مقر ہ وگیا۔ سول کے ای تکمرہکو مسلمان لباء کے لئے اس خر قکیلئے رید کر
داگکیا۔ پر ی تیار یکر کے اسلام کے لف مسائل پر علھی انداز می خاکسار نے
ملمان عطلہاء میں پیک ردیے شرو کر رہیے۔ مسلدمان طلباء کے علادہ حیساگی ططباء
بھی کسی تر شوق سے آنے گے۔ بقنا عرصہ نماکسا رکا یو را میں قیام ربا با قاعدگی
سے اس سول میں وت مقررہ یر جات رہا۔ لتض طلباء سوال کچھ یکرت ان کے
04
جوابات قرآ نکری مکی آیا تکی روشنی می دیا۔ سکول کے طباء اور اف ٹر
رو کی دعوم گئی۔ شر کے خی ام کی مبھلموں نے اپ ان لڑکوں نے حتاف
اوقات میں منا خشرد کیا ادر ہمارے غلاف غلط مہ باتجیں اکر انی خاکسا رکی
کلاس میں آنے سے روک ےک یکو شش کی ۔ مم راخجامککار طالب علم اکسا رکی حلاں
یش چچتھ دخوں کے ناغمہ کے بعد پل رآنے گے اور خی راجربی معلم اپنے مقاصد میں
کامیاب نہ ہو ے۔ ماکسار اگگریزی اور سو امیٹی زبان می بے می ردیا۔ حیسسائی
طالب عموں کے اسلام کے لاف اختراضات کے برلل جواجات م نکر ملمان
طلباء خوش ہوتے۔ ایل اور باشیل سے جب حوانے پیش یکرت ملمان طابا کی
عزید لی ہوتی۔ یہ سینڑ ری سکول تھا۔ زین طالبعام اص طور بر جیٹس کے لڑکے
پراتھر یکی تعلیم سے فراخت کے بعد لک کے مخلف حموں سے اس کول میس
کن ری تی تام مرن نے سے دای روپ ییحی ای
لو مہ کے علاقہ سے پر ا تھرکی پا سکرنے کے بعد اس سککول میں کر دال ہو ے-
خاکما رکی کلاس میس ملمان طااب عو کی طرح بہ بھی شریک ہوئے۔ لان پچھر
خالف کے زی ا یھ دنوں کے لے آن تر کر دیا عخالفت کے زی ا ۔گگرانجام
کار مخالطانہ دای اث سے حفوظ رہے۔ پل رکلاس میں آنا شردر عکردیا اور اس وقت
۶ ۶ ھ ھ0 ۹۰۷ ٰٰ)
آ ری لا سے فارغ تہ ہوئے۔ جب بھی عوا ل کرت اس کا خواب خور سے
ضف اور زجن نی نکرتے۔ اکسا رکی اس کلاس می آدم سای جوار نگ کے یف
کے بے بھی تے جو آزادی کے بعد تنرامیہ پارامرنٹ کے مضد ر بے با قاعدگی سے
ما لی ہوے۔ بہت 7 ا و ری ا کک را
صاحب اور ساپی صاحب کے کلاس فیلو تھے وہ بھی نماکسا رک ی کلاس میں آجاتے۔ وہ
کم وم ار صاحب کی مر جوییس وریرے سے مائات۔ 1
انی غدمت میں فآ نکریم اورک کا شف ا سکنگو میں اک مار کے تلق زا اندا زی کر
105
بھی متاث تھے جن ونوں گرم وم اح صاحب تیم حنزایہ کے مشٹری انچارح
وی دو نوع کے سا رھ صا مت کو ہے تن ما ا کا
تفہ یی یکیا۔ ماکسمار کے باروٹیش نما طور بر دریاف تکیااور تاب اکہ جن دنول دہ
ول میں نیم حاص لکرتے تے رخحتوں کے ایام میس دہ اپے گانوں جو مسوم کے
قریب داع نے جا رے تے۔ ٹوا سے موائزا تک رلل کا سفرتھا۔ ہو را مین
سے جن سکپار شمنٹ می دو سفرکر رہ تھے صن انفاقی سے تمارک صاح ب بھی
تے۔ ساری رات ٹرین میس مھ مل کرت رہے اور سوال و جواب میں انوں
نے مبرامنہ بن کر دیا۔ اخمیس لے کابشد میس بھی مو متا رہف بکرم یہ صاحب نے
تو رکی خر مت میس یہ س لاہ با جس بر حضور نے اکسا رکولنرن سے کیھا
کہ نجیر نے صاحب نے ہمت اگ انداز یں آپ کائھی ذکرکیاے اسے آپ خط
گھھیں۔ چنانیہ نماکسمار نے اسے جضور کے ار اد بر خ ا بھی لھا اور ا سک باد پہ
شکریہ ادا کیا۔ ایک وفعہ ہہ بھی اخہوں نے کماکہ اکر میں مسلمان ہوا 2 ا می
مسلمان ہو ںگا۔
گورنمنٹ سکول کے اسامیزہ با فو ا فریقن اساجزہ سے خاکسا رکا مم تگرا
تلق برا ہوکیا۔ ٹاف روم می بابھی الس سے جہاری آئیںکی موانست نے
تی رز مین ہت فا رہ ان اناجزہ نے بنا ۔ ماکستار کے لی !بدا ز کے
کیچروں سے ملمان اور حیسائی طالب عم جو بھی شال ہوتے بمت متاث ہوتے۔
کلاس لیے کے علاو: لتض طالاب معلم نماکسار کے پاس افو ار کے دن مشن پوس میں
بھی لے ہآ جاتے۔ ای صاحب بھی با قاعدگی سے آتے رہے۔ ا نمی اگری:ئی یش
جھائتق لیر هن کے دنا رہ اتی انل ب مو اور بجٹ تحیص بھی ہی
رہی۔ دا کے فضل سے انوں نے سکول کے ایام می جماعت کے ٹیچ رک کاٹی
16
مطالع دکر لیا تھا۔ جب وہ آ خر بی کلاس میس لعلیم حاص لکر رے تھ ا خییں حضرت
کیج موعورعلیہ السلا مک یکنا بکشتی نو ں کا سوا بی ترجمہ جو ماکسمار ن ےکیاکا موہ
ائئیں دا او رکماکہ آپ اس مود ہکو خمور سے پڑ ھی ادر زیان کے علاوہ ضر ری
اصطا حکریں۔ مقصید اصل می يہ تھاکہ اسے رت سک موعور علیہ السلام کی
کاب کے پت کا موںع مل جائے۔ خاکسار نے کئی تر سے ضوا تی آزیان مس جو
سے ائمیں اس طراق سے دبا زا دہ ات" یہ لی اور جھائتی مال سے پورے
طور یر واقف ہو جانکیں ۔ “تی فو ح کا مود پٹ ین کے بعد انموں نے خاص اٹ لیا
اور اجربیت تو لکرے کاارادہ ظاہرگیا۔
( ری رٹ سالانہ صیقہ جات صد ر اگ ن امب قادیان
سال ۱۹۳۷ء۔ے ۱۹۳ء صخہ (۱۰١
مد تھالی ے اس سکول سے علادہا مکی صاحب کے اور تھی مجر ار نوتوان
طلبا کو جو نماکسا رکی کلاس میں باقاعدہ شال ہوتے احیت قجو لکرن ےکی انمیں
سعادت گی۔ جمعان عبرالل آزادی کے بعد ٹاڈگاشمرو صوبہ کے پر اونق لممشزمقرر
ہوئے۔ اھر یکیاماکو با کا طالب تلم تھات آزادی کے بعد اخییں امیگریش نآ مم
مقر رکیاگیا۔ ىہ دوفوں بت مخلیص اح ری رہے۔ پجھ اور طالب عم بھی فراخت کے
بعد اپنے اپنے علاق یں بماں سکول کے تعلق سے متا ٹر ہوک رگ اور بماععت سے
کسی نہملسی ررنک میں تلق رکھا۔ ول احد
فیربیوں ے رالطہ
علاووسکول می نر بی تعلیم رین کے ان دفوں ٹھو راکی سنٹرل نیل میس قیریوں
یس بھی ہمت یں ایک دن ہرانذا رکو اغخلاقی اور نر بی تعلیم دی ےکی عکومت کی
طرف سے اجازت ھی اور اضران جیل ہمایت اتمام اور اتظام سے ا کااتظام
اڑے۔ خاکسار نے اپنے ام ٹبورا میں خوب توب اس طرق سے بھی فادہ
اٹھایا۔ علاوہ افرنقن قیدیوں کے ہج نکو اسلا مکی تحلیم سے آکاءککرنے کا موتع مھا۔
ملمان قیدیو ںکو نکی اور اخلاقی زندگ یگزارن ےکی عق نکر ۔ چچھ الین بھی قیر
تے۔ خاش خوتی سے تی میس مھ سے کلت اور با خی ککرنے امو تع انی ھتا۔
دہ 71618 ہوتے۔ ین الیتین الےیے تے جو ایک بی جم میس اکٹ سزاکے بعد یر
ہوئے۔ ان یس سے ایگ کی“ ایک انا عیی اور ایک ہندد تھا۔ ان کے نام ہہ تے۔
عبدرا شی بنرے لی اوز وم گی ۔ کی ماہ بللہ سال سے بھی زائد ان خیوں ے
انوس ز اط رہ اور میرے باسل فل کے وت میس ضرور ات اور مکخن کے
رصق ےھ اض تمحر اس کت
جنپ سلورجو بی جمع تکی ہوکی تو انموں نے بھی نہ قد ۃ اس خر سکیلنے دیا۔ بنا
عرصہ فیل می ر ہے ساسل ہک یمکتب اعریزکی اد رج اتی زبان مج پڑت رہے۔ دا
۶× ا میتی اور نے می تو اتی کے اور حر
ہوے۔ وی اسلام سے بست متاثر ہوالان ہندد ہی رہا۔ جنولی تاضیہ مس لنزی
کے مقام پر جاکر آباد ہوگیا۔ بنرے علی اساعیی تھا۔ اساعیلیوں کے ساتتھ ر
08
داری کے تعلقات کا برلیش تھا اس بر ان کے اند رس ہے اور لے جلےے سے اجربیت
کرراشت کرت ۔ لیکن عید ایی ہرایس بی رہا۔ رہ ہوے کے بعر بازار
میس دوکا نکھول لی جس کا ذکر ٹہو را می دکی تار مم سک کا ہوں۔ جمارے ساتھ
ہو را میں رن کے جاعث اریت سے دلن بر الا میں خوب ترثیکی بعد مشش
-* ج :0 ٹالگا یکا کے جنولی علاقہ میں آباد ہوگیااور جخاعت سے خوب معلقی رکھا
او را شتآ پا کر رم تین داں کے ملغ ملک مھ ربی صاحب نے بے
کئی پار اپ خطوں میں ان کے الا کے بار تھا او رشن ونوں الفخضل میں
بھی ان کا کر خی رکیا۔ جھاعیککاموں میں مکی طور بر اور ہر تک میں تمادن سے بڑھ
کر ندم ت کر رہا۔ اپنے فواسوں میس احریت کا جز ہہ ید اکیا۔ خماکسا رکو لک
صاحب نے لگ اکہ وہ خودکربار ماکسار کے صن سلوک اور تیگ دروکی کک رک رتا
رہا۔ ملک صاحب نے جو چچھ ان سے ان کا اداد اور تخاون کا معاللمہ ربا انس کائگی
کسر کا اب وت وو یل نی انس ین رن کت
رفپق حر صاحب نے ان کے زکرخیی مضمو نککھا جو لففضل کے ۲۷ اکست ۱۹۹۸ء
کے بر چ می صفہ ۳ بر شائع ہوا - ناکسمار الفضل ۳ تزاشہ جوان کے کرت تل
سے شا لک رہ ہے ا قار تین اس بات یکی مخرف کیل داکرتے رہیں-
:ضرم عبرال فی فار وی ا تاج ان
0 ۷
ار العلام م سگزاراجماژ ہہارے پز ر ککرم چو بد دىی عایت اللہ
صاحب اج بی او رکرم عبد اگگکریم شرباصاحب کے سا کا مکرتے کا
مو قع مما۔ ج بکرم ملک کیل الر من صاحب ری نزاینہ تشریف
49
لا نو بے سو میا جاے کا رغارہوا۔
سکیا کا سفران دفوں بست بی تشن سم کا تھا۔ شام کے قریب لس
دارالسلام سے لی شی اور ساری رات اور ساراونع سف رآرے
بر کے بعد ےئیل امن رععمل وو تھا ار ا سے )کے
تھوڑی دور جانے کے بعد گی سک شخ ہو جاتی تی اور پاڑی
پچھرلے علاتے میس پٹھرو ںنکو کا فک خر چو ار عڑک بنائ یگئی تھی۔
خماکسار اتی ضزل کے لے جب روانہ ہو ال بت سے ووست یں کے
اڈہپ چھو ڑنے آ نےگو باکہ ہم غی رلک جار ہے ہیں ۔ ۸ ٢ کن کے سر
کے بعد جب اس سومگیاں کی ا ترتے بی بے سو ہو١ کہ وہاں
دوستو ںکو میرے نکی اطلاع بی خییں لان اڈہ بر جو تی گرم
عبد اف صاحب فا ردق کانام لات سب عزت سے بی آے نف ری
طور پر اس بات کا علم ہو اک شمرمیس آپ بہت جانی ببنپانی شخصیت
یں۔
ترما برآ یم صاحب جو ان کے نوا سے تے د٥ا ڈہ یر بی مل گے جو
جج اپنے ناناکے پاس نے لئ ۔ جب ا نہیں ١س جات کاعلم ہو اکہ مج
سو گیا کنوا نایا ہے فو دہ بست خوش ہو ئے ۔ آ پک یکریا نہ کی ایک
پچھوٹی سی دوکان ھی نجس مس آپ اپے نواے گھرم عبا یر
فاددقی صاح بکو ساتھ لے کا مکرتے تھے۔ اس دو کان کے سا
سا آپ نے ری بھی بنائی ہوکی تھی۔ تھو ڑی دس آ را مکرتنے
کے بعد ان کے ساتھ تیب بی ایک مکان یس گے جو انموں ت ےک راب
پر لیا ہواتھااو راس یں اسیک بداساغا یکھمر: قھاجنس کے متحلق انموں
10
ےہ ے ےش گ2 گ کے ژ ژ سے
نے جا ماکہ ہہ حصہ کائی عرصہ سے خالی بڑا سے چنامچہ اس یکو صاف
نے کے بعد یمان ہر مالین کا اتا مکرویائکیا۔ بآ پکی ر۹7 سال
کت تر تفر را و ال
زان ا نکی سماری یی بولتی تھی۔ ریا ٹین سال ان کے پائت
رت کا مو تع لا اور بھت سی خو بیاں رٹ یس آٗمیں ۔ گرم فادردتی
ا گی خو ہش می کہ عی لوپ ا فرنشین ذوستو لکی خز مت
کی جاۓ ناخ ان کے مشوروسے بیو ںکوی نا القرآن پڑھان مرو
کیکیا۔ زی زان بھی ھائی جانے گی ۔ آپ رو زانہ بی خو گی سے
شاگردو ںکی بھی ہوگی تعدا دکو د یھ آتے اور جب انھول نے
ویک ھا کہعر: می مہ ناکائی ہوگئی سے فو ایک ال کگمرو اس متقصند
کے لئ تی کیااور عبات اداکرنے کے لے ایک پڑےبھر ےکی
تیری۔
آپ بمت کی ول تھ ۔ ہمارے قریب تی الیک عباد تگاہ می جو
سی مصلافو ںکی تی وس میں ممٹیں مس اکرتے رہن آ پ کاسمول تھا۔
بت کا ا و ا لا ا ات ضرو ریات
کت لئ خوراک پا ررقم لے جاتے۔ فریاء کی مد دکرنا ان کا و ڑکا
معمول تا۔ کر یش رات کے وقت تخریف لاتے او رد تک صلی
تنک و ہو کی رتئی۔
رم فا وقی صاحب اس زمانہ می اعت میں شائل ہدے ھھے
جن ونو ںکھرم ش مبارک ام صاحب اینٹ ا فریقہ ٹس مرف ین
تھے ۔کرم شے مارک ١ صاح بک و آپ بت بی ما دکیاکرتے تھےکہ
11
ان کے زرلعہ انی احریت می داخل ہو ن ےکی فو یی گی ۔ اتوہ
ان دفوں کے بت سے واقحات کا جذک رہ کرتے اور اسم کے
عالات یا نکرنے سے بت لطف امدوز ہوتے ۔ آ پک یہ خواگئل
ش کہ آ پک اولاداس نت سے محروم نہ رب بل دہ اعلی سے
اعلیٰ ررتک میں صعلم حاصص لکر کے ۔ جس مکان میس خاکسمار مٹیم تھا اس
کے ایک حصہ میں جو حر کفکی طر فکھتا تھاان کے نوا ےکرم مھ
رب صاحب کا خٹوڈا تھا جو خدا کے ففل سے بت بی کامیا لی سے
تل رہ تھا ۔کھرم فاروق صاح بکی نہ خو اب شھ یکہ چقد٥اداکرنے
کی طرف بست زیادہ فجہ ا نکی اولادکو بھی ہو او ر اللہ تما ی نے بے
فف لکیاکہ ان کے پواسوں نے پر ری طاقت سے اس اچچ کام مس
حصہ لین شرد عکر دیا۔ کاروباری آ دب یکو اہ منائع کے ملق ہے
واج خمیں ہو تا سس کتناہو اس جب تک وہ رو زانہکاصاب پور
طرح نہ ر تھے ۔ رم مجر ربق صاحب نے بہ مشکل دیکھنی فو اس کا
عل بی کیاگیاکہ شاعم کے ود ت اع کے ہاج مس سموڈل کے ا خر١جات
پر اکرنے کے بعد جو اصل رت موجود ہو اس کاچتدہ روڑانہ تی
ایک طرف رکھ درہیں۔ چنایچہ انموں نے ہمایت مخلصانہ طرلقی سے
اس طرف تج کی اور دہ چندہ جو پل سو سے کھ یکم ہو با تھا لیک دم
نراروں شش گچگیا۔
کھرم فاروقی عاحب کی ہہ اعخائی خواہش ہو تی کہ اف رین
دوعت عباذا تکی ادائگی کے ساتھھ ساجھ چندوں میں بھی بجھ رر
کین 3ت سے یی رت یں کو ار نے یت
162
وفع کا واقعہ یاد ےکلہ جب ہم دونوں ٹیگ تے ایک و ای
تشریف لا او رکما کہ ا سے ۵۰۰ خلنک تقر ججابنے - آپ نے
درا فتکیاکہ تمارے پا س نی رٹم ہے اس نے ند شلنک جنائے
تآمزید پجھ شلنگک دس ےکراس کے پا سں شلنک ہناد یے او رک ماک کل
سے ھی ری کے ذ رد پا سکی سنزی نےکر فرو خم کرو مین شرط یہ
ےکہ شا مکو جٹنی آعد ہو اس کا تم نے چندہ کال ناس و یہ رٹم ضرور
بڑ ھھے کی اور چتد دنوں میں تممارے پاس ۰۰ھ خلنک بھی جح ہو
جاتیں ہے چنانچہ اس نے پجاس شلنک سے کاروبار شرد عکیاادر
دو سرے دن شام ٭ے چس چندہ دبااور دو ہف کے بعد ۵۰ شلنگ
سے بڑح کر ٣ سو ہو گے تھے اور دو مہ بعد دہ رد زا پاچ گی جزگی
ین اگا۔ اس طرح ا سکو یہ ین بھی ہوم یاکہ خحد کی راہ میں مال
رر جکرنے سے ببھ یکم نیس ہو ا بہ بڑھتا چلا جا ے۔
تمرم فاروقی صاحب نے ای گول نواسوں وا سہیوں کی بہت
سرت کر ایض لی ا
ردکراتے اور ملف دبتی ضرو ریات کے لئ اینوں اور ئیرو ںکو
رد یاکرتے ۔ شورکے قرب دی عبادتگا: کے لے تقریبآ تی نکنا یکا
پاٹ لیاگیاتھااس میس تفیرکے اخراجات کے لے ہم اکٹرسو چاکھرتے
اور لف ناج کرت ۔ انموں نے اپنے نواسوں کے ولوں مل ے
یز ٹھازی تیاکہ خدداکی وا ضا کے لے رگم خر جک رن نے رکم بڑتے
گی اور رو ر بڑ تھےگی۔ ا نکی وفات کے بعد اس قطحہ زین جو
ا نک یکو ششوں سے خر بیراکیاتھا عباو ت گا ہکی لی رکاکام شرد ہو ان
13
ان کے نوا سو تے ا سکی نیرٹ بھرید ر حصہ لیا۔ جب بھی دوجو شی
و خروشی سے حصہ لیے اور تعاس جا تک بر دا ہکرت کہ ان کے
انس دوکان کا راس الما یکم ہو جا گا تو ا نکی زبانوں پر اپ نانا
تمرم عبد الف صاحب فار وق اد رکرم جن میارک اح صاح بک یاد
ضرورہو تی۔
رم فاروقی صاح بکی ت میت کا اث ا نکی شی بر خبت تھا۔
عبات کاو کیاکی تی حا دی تھی کہ رقم ضحم ہوگئی۔ گرم مجرمنور
صاحب سے دار السلام می با تک فو انیوں نے بھی ر تم ار سا یکی
لین وو بھی جلد خم ہوگئی ۔ بارشوں کا مو سم تھااو رکام جلد خخمکرنے
کی ضردرت تھی ۔ چناضچہ جعہ کے دن سذ ایی زبان می خوب جو لے
طرکے سے جندہکی ہی ککگی۔ رات کے وت ان کے نوا سے گھرم
عبد العزیز و ردا صاحب اپ ےگھرسے اور ابی الہ ک ےگھرسے سب
۳۶۳ ۶ یی تہ
جاۓ چنانچہ اس کے بیج کے بعد کا م عم لکرتے میں بست ید دی -
تھرم فاروتی صاح بکی وفات اچاکک ہو گی ۔ ایک دن ہم غام
کے وقت اکٹھے ٹیش بات ں کرت رس تیلرایک اور دوست کے ساتھ
مھ کے ب رآ دس میں دس بے تک یھ رسے او ربعدہ اچۓ لوا ے
نواسیون سے کا یلگ یکفنک وک کے کے بعر وہ جب سو نے کے لئے ہے
کھرے میس گئ زا اتک پیٹ میس ملیف محسوس ہو گی او رچند حوں
۴+ 7
رم فاروی صاحب او رگرم چّ مپارک امر صاحپ دونوں
5 14
کے دلوں بس ایک دو مرے کے لے بے بناہ محبت نظ رآکی ۔ چند دن
ہوئے تع صاحب تنے امریکہ سے خط یس نے اس با تکی تی ککی
کے "9۹ے ت ےت افریقن میس احری تکاسغوذاور معاندی نکی ناکائی
٦ روںژے“
ننضل مد ٹورامیں نماکسار کے قیام کے دو ران اف رق نکی بست بڑکی بماعت
۱ ۱ ْ قائم ہوگئی اور خاکسار کے زمانہ قیام مشرقی فریقہ میں ا فریق یکو نل خیدا بی بار
١ ۰.۱ اریت سے واٹنگی پیداہوئی۔ اب متنانیہ می ماشاء الل افش نک یکئی سوجمائتیں
ٌ۱ قائم ہو گی ہیں گذشنہ سال اور پوس سال وہاں کے مجلشین نے خاکسا کو خوش
وی کے انداز میں تایا ”جو یچ آپ ے بویا تھاوہ اپ ماشاء اللّد تّاور ورخت ہو چکا
٘ ہے۔'' اس سال ۱۹۹۸ء کے جم سالانہ اکتان میں حضرت غلیفۃ الس راع
۲ اید اللہ تعالی نے ىہ مژدہ جان فزاسایا:-
١ رام بھی ان مگوں ہیں سے ہے مجن می دنع بن مہ ا سا
۱ : بیدار ہو رہ کہ “میں بھی باقی ا فریق ہکی طرح اصھ بی تک تک شش
ْ ان کے شانہ بشثانہ چلنا جج ۔ ہہ بہت وس ملک سے خد ا تھالی کے
۲ فل وکرم سے اس سال دو لہ پچاس جار یعتیں موصبول ہوگئی
"٢ ہیں ۔ خد اک فضل سے شیربیدار ہچ ہیں۔"_
س" ۱ نیز جماعت کے خالفی نکی نکاىی اور ناھرادئیکاذک کرت ہوے فرایا:-
۲ ۱ مور وگو رو ( تا بی کا شمرہے دار السلام کے قریب )یں ایک
١ ۱ ا الف نے الزام لگا اکہ نوز بالڈ حخرت بای سلملہ نے ایل زکاشکار
ہوکروفات پائی شی ۔ او کی قری ہی یوں ظا رہوگ یکہ دہ خالف خود
ایک خخالف نے اعترا لک یاکہ ححضرت
کہچ8ڈسو تچ
ہت یی وی مر
تا
سک
فا خون جار وکھاادر
پکاڈر ناپ ما
یہ ااگکست ۱۹۹۸عءض مہ '۔ 0۳(
لد 0 0 000ھ
7 7“ اس مضصورشرے۔: بن رگا گا
جات 7 و نم رج سے سب کے سب
: ج0 مھ
ین ۸ھ 8ھ : 7 رئیش ہو اکرتی تی۔
کر ات کت تا س
کچ ورک ام 0ض یی سے وی ات
/ ۰ ون کک اق 1 5
دہ ی: . 5 نت ی خر کرے۔
سے
1167
الوم ینالی مسلمان اور مر الیچیائی لوگ جو اس علاقۃ. میس مم تھے ان کا کان
پآنا جانا تھا۔ ان میں سے ہی ایک شف سید بادبی ین تے جو سرگودھا کے علات
کے رپے دالے تھے۔ سنہ رڈ تک آف ساوج ا قرلیقہ میں اکا وشن جے_ دو کی
اس دکان پہ اپچی طازمت سے فراقت کے دقت آ جباتے رم پھاقی عبراککریم ڈار
صاحب جو بہت مل اجری بزرگ تے ٹاڈگا یش بر یاے کے مہ میں پطور فز
ازم تھے۔ شم ریش ا نکی کی اور شرافت اور خوش غلقی ا فاص شر تھا اك
دان پبائی صاحب موصوف اس دکالن پر خریدد فروشت کے سلسلہ میں آئے اور سیر
دی ین صاحب سے نفد شروع بج وگئی۔ سید بادی بین نے حضرت سی
موعور کے متلق نازبیا الفاظ استعالل یئ او رگر ممفتار می ںکمتاغانہ روب اختیار
مرتے ہوۓ حضرت سی موعور کے ملق بی جج یکھا (نتوذ بالڈر) ور تھا۔
دوکانداربی کا دعندا ر چا رکھ تھا ا مک جوا ہ نکربھائی عیدائکریم صاحت
خت رجیدہادر زشی دل ہو جا کہ دوکاندا عحبد ال نے بھی سر زی یں
سےکا۔ شاہ صاحب آ پکو زیبا نہ تھاکہ ایک پ رگ کے متحلق ایے الفاظا
اتا لکرتے۔ بھائی صاح ب گھردائیل آئے۔ میدہ می ںمگر گئے۔ اللہ تقالی کے
و رگمڑگڑ اکر زاری سے دعای۔ مولی ا تیرے پیا رے کے متعلق اس مخیں نے
ای الفاظ استعال کے ہیں نے بی اس کا فیملہ فما اور اس من کو ا سكمتاتی کے
ج2 مکی سزادے۔ تھوڑے بی د نگذرے سید بادی بین کے متخلق ہیک سے
افرو ںکو شیہ ہو اک ہکوئی فراڈاس تےکیاہے۔ حقین شرو ہ وگئی۔ ایک فراڈاور
اد کی جات کیا فراڈ جھ ایس نے سے تھے پاڑے کے۔ تق سے مایت ہو
گے مقدمہ چلا۔ مزا ہوئی ۔گر فمار ہوا۔ ہٹھکلڑئی گی اور موشی یل جوا یاگیا۔
الگا سے موی رین جاتی ہے۔ بھائی عبدالکریم صاحب جسن انقاق سے ریو ےکی
18
و جس کی سس چھےچ ھت بے سس ےت ہے ہے
ڈاوٹی کے ساسلہ یں اس دن ریاوے یشن موشی بر موجورتھے۔ جو تی ٹرین جہگی۔
یر اری صن شا بگزیں یں بلس مضٹب لک محیت ش زین ے ا2ا۔
بھائی عبرانکریم نے اس کو ریھا۔ اس تے جس پاک از بزرگ غداکے بامو رک
ککی تی انی مھسین من اراد اصانتکٹ کانظارہ انی آگھوں ے دھا۔
سمارے شرمیں سید بادی یی نکی جو عمزت تھی اک می م لگئی اور شمرکے لوکوں
نے پافصوص عیدالفی دوکانزا رکونقین ہو اک نیہ زا اس شف سکو ا سکتاغان کلام
سے ہوئی جو حضرت سج موعووعلیہ السلام کے متعلق اس ن ےکی۔
ایک اور اہ اییٹ افریقہکاا آ رپ سے تیر دٹی میوضچ لکونل میں اک شش
غیبراحجری ملمان تھااس دقت نام یا دم آ رپا رم بھاگی ات دین صاحب امیا
جو مض لکوضل میں بی کا مکرتے سے اور نیردلی مناظرد کے بعد ای ہے
تتے۔ بت مل اور فدائی اریت کے۔ ا سے اس نیدی من کی مٹی
سو رہتی.. ایک ون اس ن ےک ماکہ اگ مرذاصاحب چے ہیں اور می را ان پچ امن
:لن یک تم نہ ہے تقد اتال جھے اس الا رکی سز دے اور یٹس موٹر سال
پر آت جا تھاا ںکی طرف اشار ہکرس ےکماکہ اس کے ذرییہ ہی۔ چنانچہ خدا کاکرنا
اییا ہواکہ اس موٹڑسائیل سے عاوے میں اس حخت چوس آکھیں اور مم مردہ
ہ|وا۔
ماکمار بھی حنزاییہ می بی میم تھا ور ہو را لغ کا عرکز بنا ہوا تھا۔ افرن
نل ورای ہو رے تھے۔ ورس قرآ نکریم کا سلسلہ اہن 0"
ات ےکی رک پر جار یکر رکھاتھاف ون کے بعد دن اور ہف کے بعد جفتۃ ادر مین
: کے بعد می گزرنے لگا۔ ىہ سلسلہ جار ی رہا۔ عیماحیت کے خلاف بھی پ زور
اشہمارات کے علاوہ تقررمیں جاری رہیں ۔گورخضنٹ کول میں بھی آناجانا ر۔
شمرمی ان وفنوں ن'اکرار نے پہلا اح مم کول بھی جار یکر دیا۔ ای خاصی
تدراو میں ملمان ہے اور پچیاں ذاخل ہوگگیں۔ ان عالا تکی وجہ سے خالشت
مس بھی جیزی او رگکرىی پیا وگئی۔ لی مان جہماں بھی گے اخوں نے اتصب
اور عنا کا مظاہ رکیااور یک ھاکہ جم نز خیاب کے ربتے دالے ہیں ام یوں اوران
کے عالات سے زیادہ واتف ہیں۔ ہے سب بچتھ افتزاء ہے کوگی ان شش صداقت
شھیں۔ اس ملک میس زیادہ آبادی عرصہ سے انی نک تھی۔ پاکستان ؛ہندوستان من
جو خالف کی ابر خحتی اس کا شر شرتقی افریقہ مں بھی ہوت۔ اس کک تے ہندوستان .
کے قرب اور سمند ری چمازو ںکی “بی او رکراچی سے آ رو رفت سے الین طبقہ
کا یہ دو سر ملک بنا ہوا تھا۔ مخالت میس م کسی رح نجاب اور ہندوستان سے چچ
نہ توا۔ و را شمرکے شیوخ اور اذرنشن مجسٹرییٹ کے سام لکراضوں نے پوس
ور ضلع کے )ضر نکو مق لکرنا شر جعکیا۔ اٹی دفوں دارالسلام سے دداف رین
ہے خخ علی وو رش جھی ور فریشن جسٹریٹ سے یہاں ذ1 ۷× ذ اک نام سے
0070
بادکیاجا ہے اس کے ہاں ٹھرے۔ شمریس انموں نے مخقالفت میس تقریرس شروع
یت رز رازم حر چا زی بی اعت او اتا زا نک
یوالی س ےکھرسلۓ گے۔ دک ریت 1693-03 کم می کیا م اند رآ سے
ہں۔ عوا تی ج07 ات کا ا
تاطجھک ناما: وک ہب ہر سی ایت دوقول جاور لیوالی ایی
وت کھان ا کھا رہے تھے۔ ہم کو بھی انموں نے دعوت دی۔ ریہ کے سائہ
مذر تگی ۔کھانے سے فارغ ہوئے۔ آرام اور سحون سے ان سے بات چیت
+وکی درک ہکسی دقت مناظرہ ہو جاۓ آپ لوگ اح یت کے ىچچ موقف ے
آگاہ ہوں اور عوام بھی۔ فلطانمیاں دور ہوں۔ ا س منگو کے بعد اغہوں نے سور
کر جواب وی ےک وکھا۔ بعد میس بھائے اس کےکہ ہیں جواب دی بیس میں
رپور کرد یکہ چن مارک اور ققاری شھ شیان پخیراجازت جار ےگھریش داغل
ہو ئے 7۲٥۵٥0888 'کیا۔ ہمارے ہڑرگوں اور ہماریی مقد ںکالوں کے غلاف
بدزبا یی اور ہمارے جذبا تکو ہرد ںکیا۔ پولاس نے مقدمہ درر کر لیا۔ ان
ولوں پارل کر و5 ۰8( ے جو کت سے اورڈی۔ی
۴ ×3ط تے۔ ان س بکو بی لی سکی اط د یور یی جج انیس لی تھی ان
اضرو ںکو عیسالت کے خلاف اور رو میں تمقرییںکرنے ک بھی علم تھا بالنوصس
روم نکی ولگ ارد لکو۔ ہم ہرد پر الن س بکی گی جللت سے جذ با تک جرد
کرت اور 1۴6880888 کا مترم ذائ رک دیا۔ اع دو مقدمات مل 89×66
ا ڈٹیکشنرنے مقدمہ جذیا تکو جو حعکرنے کا سا اور 11 .250| سنٹت
ڈی کشنرے 5 مقدم ہگ ی دانع تک جاری را۔لؤزٹ 22
افریقن سے اور الین بالفوص پالی لمانوں سے برا ہو٤ ۔ مس نینے (31606)
لی
مدہچچچچچشسسچسجشیسش سس شسشسٹ ٹ سس سس ہے سے
جو بی رسرحے اور مٹربدرالدین ھرذا ب رط ہارکی طرف سے وکیل تے۔ گر
شمادئس مارے خلاف۔ چنانچہ سٹر3411ة نے فیصلہ ری ہوے میرے متخل کی
اک ہیس اپنے طور دا لور اورشلی و صورت نۓ ایک شریف آوبی معلوم
ہو ہے لن شمادتیں خلاف ہیں اذا یور ہو کہ ا کو سڑا دوں۔ اس رح
ڈپٹی کشنر نے عالا تکی نزک تکو دیکھے ہے ا مت
برخواستں۔ ہم دوفو کو ان مقدما تکی وجہ سے جمال افرلقن جو زمر تل تھے ان
بس خوف ڈر پیا ہوا تصوصآاس وجہ سےکہ ش کا یٹ لیوالی اور عکومت کے
اضران اع بھی خماکسار کے خلاف ہیں اکچ دہ اپنے داوں میس مھ رہے ےک
یہ سب کا ردائی کھوٹ پر نی ہے۔ دو ری طرف عیسائی پاد ری بھی اک رکورٹ
ال یش بے اور دیھ کہ پچ مارک ججرموں کےکٹرومیس با ہے ۔گیارہ ون
تک بہ مقدمات جاری رہے۔ الیک سال کے لے حفظ ام نکی دو عانو ںکی بھی
مزا دی۔ اس فیصلہ سے مال نکو خوب یں بانے کا موقع لا اور جنایوں نے
اردگرد کے علاقہ یس اس فیصل کو مشت رکرا رد عکیا۔ و را کے مض علقوں میں پر
خیال پیدرا ہو اکہ اس شمرمیس ایک بی مسلم مشنری آیا اسے بھی برداشت خی ںکیا جا
ررا۔ خطرنا فکذب بیو ںکی دجہ سے ان شیوخ اور لیدالی کے غراف نقرت ا
اظمار ہونے اگا۔ اس سے سلسلہ احدییہکی شرت بھی بھی اور دا تقالی کے فقل
سے اتی دنوں ات یت قجو لکن کی دلوں شس تریک پیر اہوئی اور ہیں سے زار
اس عرص یل افرلیقن اعد ی ہو گئ۔
0072
پا ی/ورٹ سے بریت
ان مقلرما تکی دجہ سے ہار اکا خر بھی ہوا۔ بست سا وقت تھی صرف ہوا
کت تعالی کے ففل سے ان مقدمات اور مخالفتوں کچھ اٹ خو کن بھی بیڑا۔
چنانچہ عدالت مات کے غلاف پل یکوارٹ داراللام میں اک لک یگئی۔ ان وتوں
یکورٹ کے چف بج جو قانمقام تھے ان کاغام 370 ناج 01ک تھا۔
ان کی عداات یں دونوں مقدما تکی انیل بیک وقت اع تک یگئی۔ ہماری طرف
سے مسر 87 7ت لیرن پیرسٹرنے وکاات کے فرائضش اتجام ےت
[ نے الع مقدبا ت کی رویّرار جو ورالت ات میں ہوگی اسے پڑھائ
کن لگاکہ وہ من ہار شلنگ فیس لے گا رم عبرا لیم چان صاحب ان دتوں
"وگال سائیسل انیٹ می مر تے۔ ا نکو جب عم ہوا کہ میس امو را سے
ارام جا رہاہوں فو جس ٹرین سے مخاکسار سفرکر رہ اکن وگالد شھیشن پر دہ بھی آ
کر سوار ہوتے۔ بخاکسار تفر ڈ کلاس میں سفرکر رہ تھا۔ جا صاح بکو ا مان لگا۔ وہ
فور اٹیشن ماسٹرکے پاس گئے۔ اور میرے لے بھی سیکن کلاس کا کٹ نے ہآ ے۔
دونوں اکٹے وارالسلام 72 ٰٰٰ۶۰۰۰ئ2 ہوا تھا
جب اس نے فیس کامطال کیا جان صاحب تے اللہ تھالی انیس بزاء جردے را
چی کیک نھاکی ادر جن جار انگ کا چیک لل ھکر اسے بین یکر دیا۔ ماکسار پیش جان
صاحب کا ممنون رہا۔ انموں نے سلسلہ کے مکی عزت و اترام اور سلسلہ عالیہ
کے نمائتیدہ کے اعزاز کا اپنے روبہ اور عمل سے پ”یشہ جب تک وہاں رسے نماض
ضال رکھا۔ جزا اللہ ان الجزاء
یکورٹ کے تاتمقام یف نی نے اس ائیل پر بھت زور دار فیصل ہککھا اور
ری
ری یکیاکہ اگرچہ میس امب بماغت کےکوا نف سے واقف ہیں لین جو رپکارڑ
ےئ سے معلوم ہو ھھے کے 788691 صاے التّت
جماعت کا ای کگر وہ ہے۔ عدرالت ما تکی کار روائی بر مخت تق دکرتے ہون ۓےکما
کہ ای-ے معاطلات می متقابی اضمرو ںکو چا ۓےکہ فرش نکو بلاکر مچھانھیں۔ ت ہک
ان پر مقدمات کریں۔ انموں نے اپنے فیصلہ میں بر یکیا اور عماخو ں کو غلاف
اون قرار دیا۔ ہاگ یمکورٹ مس جماری ایل مورضہ ۲۰ اکست ے ۹۳ا کو ٹپ ہوئی
اور ٣ تمہ رے ۱۹۳ کو فیصلہ سنایاگیا۔ اد لد گی ڈاکک
(رپ رٹ سالانہ صیفہ جات صد را جن ۱ص بے قادیان
سال ۹ ۱۹۳ء۔ے ۱۹۳ء “ھ۵۲)
اس موقع بر تھرم ععبدا نیم جان صاحب کا جنموں نے ابیل کا عارا خر
پرواشت گیا الع کے علاوہ جماعت اجرے داراللام کا رت ادا / چاہتا ہوں
جنوں ے اس عرصہ مس لف طرییقوں سے ایراد فربائی۔ جز اعم اللد ان الجزاء
ان عبات اور مخالفت کا وک راکنا نے رت غلززن ال انی سے رای
خرس س کیا آپ نے سارے عالات کاجائزہ لیک رپ رجہ خط جو ابحرم فرایا۔
مغ جماعت کا سر ہے۔ اےے معاللات میں کو و خی کیل
ٹر یکو بجو انا ای ۔ اللہ تعالی نل رک
مو رکی دعا سے بالا خر پا یکوارٹ میں نے ہیں کامیالی ہوگی۔ لکن ہے ہراامت
چیہ کے لے ود ظظرردی۔ ججماعت میں مغ کا ایک اص مقام ہے اسے ا امور
یش سیک رٹریوں سے کام لیناجاۓ۔
: 174
._.فے 99 سس نڈلٹسسسسمےمہمی
حضرت غایفت* اسیج انال یکا اختباہ
ایک اور بات کا گی پر تر ہے
کیارشمنٹ ریلوے میں سف کر تھا۔ جتام کی ریاوے ٹیو میں تر کلاس میں
اذیٛ جب سٹرکرت انال واسباب 'ت کمائیں 'بھیڈرکریاں اور مرفیوں کک
نہ نےکر سن کرتے۔ تھرڈ کلاس ایک جیب بنگامہ کا منظر بی یک گرم بابھ
صن مغ صاحب لون ان وتوں رلٗوے کے مہ |کاونٹ می اکاوشنٹ تے۔
727 ,789 وہ رو سب
اے مشرقی افریقہ۔ آپ اس قر رکیوں لیف اٹھاتے ہیں جب کہ نیہ سف ری سیب
او رک یک یکفٹوں کے ہوتے ہیں۔ اضموں نے بے جا کہ عکوم تکی ہدایت پہ یہ
قانون ے خماص طور بر مشٹییں کے ل ےکم دہ ایک طر فکاسیکن کلاس ککٹ خی
کرس دو سریا طارف کا علیہ تح مکرایہ ادکرے گا۔ آپ مشنیی ہیں اس افو
سے فا دو اٹ ھاھیں۔ چناغچہ خاکسمار نے جب بی دقعہ سن کلاس میں سفرکیاا ور گکمہ
تل کوچ کو انروں نے مشننی ہون ےکی با۶ پر دو ری رف کرای ادا
دیا۔ جماعت نیرد پر ان دنوں خاکسار کے اخراجات او رالاس و یرد اد کرت ےکا
زمہ واری فی بللہ سارا مشرقی افرل اس مین شال ہو٤۔ جب خاکسار نے ایک
طرف ریو سن کلاس کے تر کا مطال کیا جماعت نول یکی اس عا مہم
سوال اٹھاکہ بماع کی و اڑسی پڑزشی ہی ںکہ سین کلاس کا خر جآرداشت
کرے۔ خاکمار کے مطال کو ہے جا تچھا۔ یج ککع کی ہیا ان وں نے حضرت
خلیفۃ الچ الثانی رضی الہ تا یکی خدمت ی سککھاکہ جن صاحب نے سن ڑکلال
۱
075
ک ےکراہ کا مطالب ہکیاہے۔ تقو رکی خحدمت میس جب ہہ اططاع کی تو تضور نے
جوا٘جماعت نیردل یکو ازشاد فرایا:-
ضکوکی چیا سی ملا زم رکھ لی جو مسج میں نے والو ںکی جو توں
کو ریب سے رکھاکرے ۔ میرسے مم غکو وا این گج وآ وی ۔ *"
جماعت اس جواب سے خت منگر ہوگی۔ انی اصلا حکی۔ اخیں سلسملہ کے
کے د ار اور ا ضزا م کا خوپ اضاس ہوا-
۷ رفگی ات رط بب جے رع ےو کرت
یس فیصلہکرنے یا ہرابیت دتنے پر شکوہ پیرا ہوا۔ تضور ار سکی قد مت می جب
اطلاع تی نے حضور نے فربایا:-
مغ سلسلہ عالیہ اجب اور ہرک زکانمائیدہ ہے ۔ خو ا ہکوئ یکتای
ام رو مالی بحاظ سے اور بدئی حثیت رکتا ہو سلسلہ کے نما تد ہکا ا سے
تم مان ہوگا۔'"
خاکمار نے اس موم کا ارشاو در ان اعریے قادیا نکی اتال قاع و
وا اک یکتتاب میں بھ یککھا ہوا ریگھا۔
پور میں خاکسار نے سکول جار یکیا۔ یہ پھلامسلم سکول توا۔ مہ تعلیم نے
بت فر سے دیھا۔ ڈائریکی نل ی مکی ہدایت پر ڈسٹرکٹ انکر سکولز مرن نے
ہر مکی اعدادکی۔ سو کیل ضردر کب اور سٹیشنٹری کک مس یا کی۔ الشر کے
حفل سے دو یڑ استا بھی مل گیۓے۔ معلم سعیری صاح ب بھی اور ایک اور معلم۔
کا اعرار طااب کا کی کے ا دوست نے اي 8ا 8ط5
او روں ادز تاریل کا بای )جس می مکان بھی مممولی توحیت کا دو تج نکمرون پر
تل تھا رنہ مین کو دت 'رکھا تھا ان بی ام یو "مز میس کون از
006
ےت 1 ہے ہے سس شس س ےچ ھ
بچھو کہ میں جو چند نٹ کا تھا الب ×۴ کادہ اکسا رکا ان دنوں دشر +و] تھا۔
یہماں بی نمازی ادا ہو تیں۔ خالفت زوروں پر تی پائیکاٹ اور والدی نک کول
میس ہے کی سے روک ےکی تریک بھی زور وشور سے جاری تھی۔ یھ حرصہ بعد یہ
کول بوج پائکاٹ کے آخ بن ہ وگیا۔ جن س کا حگمہ اور اکسا کو اضس و ہدا-
ہو رر میں کی سال کک تق سلسلہ جاری رکھنے اور اردگرد کے علاقہ شش
ہے کن کے بر اعت ویپ اگ رتشن رٹک کی کین اکنا
ونوں ضٌو رکاارغارموصول ہوا:ے
< میں نے تو میں نیردلی بچھوا پا تھا ہو را جاکربیٹھ گے ہو۔"
ماکسمار وی ےکی ہرسال وقفہ وققہ کے بعد تیردلی کادور ہکرت تھا او رکال ہکاگگیا۔
ین صتقل طور بر مضور کے اس ارشاد کے بعد یرولی طعفل ہویا۔ مجن جیوں
لا قو کنیا وگنڈا اور اہ میں کا مکی نوعیت می کوئی فرق نہ آنے دیا۔ تی
طو ری اوراشزمارات کے ذ ریہ تین کاسلسلہ جارئی 22
را کے قیام میں اسی ۷ بد ہافٹ کے دفتریی بی اکسا رکو قرآن مجید سای
میس تج رن ےکی توق لی۔ اس سللے میں ایک تی پوٹ خاکسار نے انڈس
کے لئ تا کیا سے وہاں مزید تفعیلات اس بارہ یش دکھی جاک ہیں۔ ٹھوراکے
قیام کے عرصہ میں علومت کے مرکزی دفتزوں کے اضران اع وذ را ڈائرییر
لہ تعلیم*ان کے ناب ور وپ اضر جزل بیس سے تعلقات موانست پیا ہو
گے تھے جب ہو راکی موی کی نیاد رھ پ بلدہ دا اور ا سکی وی نے تن
شروع کی نر ڈائرییٹ ر آف ان بی جینٹس مرسٹیورڈ تھے۔ دہ نول مم
سیرنٹیڑنٹ ولس تے۔ تزقی کر یہاں آنۓ تھ۔ وہ ہماری بماعت ے وافف
تے۔ خیاکسمار دا رالسلام می ایک قعہ انمیں لوہ ک ےکئی دنوں بعد خل کیل بھ سے
2
کین گے بلونت مھ (خال بی نام تھا) ٹو را اس بلوہکی حق نکیلنے جا رہاہے۔ اس
سے نے دفتر یس مل لین" جب ان سردار صاحب کے وف ز می ںگیا نو مرداز صاحب
نے رے۔ سی ا و و مٹرسٹیورڈ ڈائریکٹ ر1 156٤6111862 نے
ےکسا ےک آپ سے مل لوں۔ میس چ مارک اد ہوں۔ تو سردار صاحب پاتھ
جو ڑک رکھڑے ہو گے ۔ کن گے مس آپ کا غادم ہوں۔ اسے احساس ہواکہ اضر
اعلی مالسا ر کادانفت ہے۔ جب بے جو را آنے او ین کاکام بپررے الصاف سے
کیا۔ سکھوں نے ہندوتون نے اور شزفاء نے بھزلہ ر ہاارکی تائید می سکما اد رجایاکہ
مائی لیوا ی کی انگیخت اور خرارت بر ہہ دہ ہوا۔ چنانچہ بعد میں اس لیوال یکو
ٹرا ضف کر د ایاگ یھ عرصہ بع کسی وقت مماکسمار دا رالسلا مکی کلم کے ساعلہ میں
گیا یف سارٹڑی فمہ ۳جو ای میٹ سی ٹر یکھلا جا ہے - 0 280 7 سے لا۔
اک سے اور خوش اخلاقی سے لے۔ دو ران ملاتقات اخموں نے بتایالکہ وی سکی
نزرے کم ہے ترمسق الف سن سح ت2
ضز را زورہیر آۓ مد رین بھی آے اور خوش ہو تے۔ آخ رحب نگئی۔
ٹھو را کے قیام می الد تال یکی دی ہوکی فو شی سے اس زین میں جس مس مسر
٦2۴٦٤یییًٰ 0
یس اکسا رکی رہائنش رتی اور دو را عکا نکرایے پ دے دیاگیا- ڈاکسار کے دہاں
سے آ جانے بر جس مکان می نماکسار رہت ھا اکٹ طف مور صاحب نے این کلونک
شردو عکیا۔ وہاں عرصہ تک رہے۔ مل ککی آزادی کے بعد دہ بھی میدن آ گئ۔
رم نزمے از صاحب ڈاکٹ کے بے بھی نپ خاکسماز نے بی او جب ڈاکڑ یکر
2 0
تل آیدمش نکوسل ری ے۔
چواسھ تن
078
ہوا کے قیام کے دو ران ہی حقرت خیفۃ اس اَی کر شا دہ امہ ٹیش نے
یں نیرٹ بجوایا تھا تم ہو را چاکر یٹم گن ہو۔ اھ بی فرایاکہ این خمارا
پیٹ ہیں ا نکی طرف خیال رکنو۔ و قافو اکسا ٹھو راسے تیردلی بھی عار شی طور
بر جا رہ لیکن اب متتفل طور بر نیردلی خنفل ہورکیاں کا کام یماں بھی جار ی
را۔ دوسرے علاقوں میں بھی خھلیقی جدوجد انحاام دی جاتی درئی۔ ہو را میں مجر
نی تھی۔ جناعت منظم طور بر نقائم ہ گنی تھی اور ہمقابی معلمم نے بھ یکام شروع
کردیاتھااوراس عرصہ میس مزید ملغ بھی آ گن تے۔ جتھ عرصہ مہ سن بد رای ہی
رہے۔ ابقراء میں ان س بکو وہاں بل لیا۔ یھ عرصہ بعد خخلف علاقوں میں ا نک
وا د ماگ یا۔
یرد ی ش خالفت پل سے بی ھی اور زوروںل پ 2 0 22.0
مک بن رو ضا نکی تیم ہوکئی ۔ پاکتتان بین جانے بر جراضیے کے خلف یڑ روں اور
بس سے پڑت خر کو ادا نکی عقات کے بارہ می تا ری داد یکئیں ناگیا
کہ ایک موقع بر انیوں ن ےکماکہ جاعت نے ملف مگوں سے ان کے بارہ یش
20 ولوا کر یکو پرنام گیا ے۔ اتا رون کا لئ ید کک آ7 ہوا۔ الع ے
جواب بھی ان دوستو ںکو آآۓے قادیان کے عالات کے یارہ مل -
نیدی مین ان ونون مراف نکو تیم کی نکی وج سے جو کر لاق ہوقی اور
اکتان کے حعالات کے متخلق خطلف تم کے تگرالتٴ از نے نیرولی شمرکے
یما ال میں پاکستا نکی ا تاد ی عالت و پاکتتان کے دفا 27 ھ"""ئ)
ہہ زور کرد - ان لیکجروں می ملا نکثزت سے شائل ہہوئے او رج بکبھی
بی می پاکتان ڈے منیا جا]نذ خاکسا ری نتر یکو ضن کے لے مسلمان بڑے شوق
ےنت سے شاعلی ہو تے می ٹا
نی
تم کے مہ میں شمولیت کے کے مدرے وس سے ےٹآ نے یپاک جا
صاح بکی تقر و خییں ہو بگی۔ جب معلوم ہوا کہ الھی نہیں ہولی تو انئیں
ھتان ہوا اذ رج میں شائل ہو ے۔
نیردلی میں ایک دفعہ ڈیماگی میمو رہل پال مین خاکسا ری نقریہ سوا نکی زبان ش
اس موضو پر ہوکی کہ فی نس طرح تزت یکر سے ہیں۔ "بل ھا بھراہوا
تھ۔ اس جل کی صدارت کے لے جوم وکنیاٹا کے نام کا اعلان تھا لان اپنے گان
ککوزرھجھ رو 1000(9 (عارت وع کاو ھ مھ سی
ری ارت او ا سر یی زی کیا اج
065 ۶7۶۶۱۲۸۸۷۰طھ ۲٢ ۷> 517[
11 ۱۸ 07 10007 ۶۲۵110 ھ
1
)1۸ذ ۸8۸7۸5 111711111 ة١ ۸ ٦1۸٢ا ۱۷۸
د:((: 3۷5-1( 23411775 صطز عط)] ۶ہ ۶٭زلط6 ط٣
٢٤٤ھ 7886 15 ۸18510(
.ضف ظط ,فغ اح دہ ۱ح آل ۷۸۰( :ص۶3نعط0
ر ”منص تا ۱ج 72ر دن دہ ظط با ٣۲٥۱۵1٥
8 0:1056 .ط101 ۱ ط٣ ,48 5015 دہ .2.۸ ۲1۸:10
۲[15:6:۰[10ہ٥3آ 3۸۶ ۶(3 311,۷ [۲٤٥۶3 8)۷
٭ط ط٢1٣ طء۱ہ] ٥٥16ء ,ٗز دہ٭ەط ععط ۶ء ءا د٠ جرہ ط۲ (۷۱٥۰
5ز 188٤1 13 ٣٥۶۵. 1٦ 18 ٢١ز ٣٥۶8١٥ عط٤ ۲۱۳ ۲7۶ھ
6 ۔ت1انطع ۳ 13 صر( عصن 5ج۷۸۸( د مان قصد ,(لائط 18ذ
8 ٥ا18 ەص۵×٣- .دج ۱١٥٤٦امط٭ہء ناأہء× ٭معط
۰ط( با10 ءط) ۶ہ رلللقطد ×۳ :نظ صا <عاصہ 000۸-۸
٢۷۱۶ 7د [۶۲۰ ۸ذ ۱٥ط 1068 ام ہہ×م ععط 12
86 َّوط َز(ہ ہ۶۷ ×ہ ەط ١1[ دہ ۲٥ہ ٥رہ ] 458
10
70081 ورے) ×٭-0ع 3 ص8 ۶٥٥ (٥٥ەجرە عط؛ ×ط
ج ہ٥٥٥۸( مززر(ںط عنطا ج4 8ا٥ زط 08٥٤80117
:۴ھ ەط؛ ۶ ٥:٤ ×٥ط درز جر) رآہ[٥8 ٣٥٥٢٢٣١۵
دد×ەط ×ط
۷ ۸۸۲۳71: 1۷۵۸۲۸۲۷٣7 ۲7ہ ۲۷۷ ۸۲۸
7
ر٥ طط ظ۸ (×< ط۸۸0[ طحانهطة ززز زوہ×صة ٢٢ تاتال
8ط108 و(زغ ۵ء وط١ص٤مط 8٤23 ,ذاةآ وپ زنطعقوط8 25
260 1ج708 و ۶08 ۹ز الہ وہ نانطة ۷ دنا ۷3
68ط و[زغئ۔( 1]31016٤8 ززز' وارا5 ۰ .حا[×٣ة۵۸٢
۳٦ ,2۰ و:(زھ 3:۲٥٥٥ و(۶٥ا: ۷ ([ج7ڑ وزج ہ د756
0٤0(5 607 ون 10 ۵(۷ ہ٥ ( 108 مور ووع نطتاط ٥ة
1468
کک ۷ ء۲۲۶۶14) رھ 3 ,1:۸73]18 ووروت ×ظ
و2 تناعا و .۷ ۶۸ نعطء ٦٦٢٦ ۸ۃ متستا )٢۴۲ھ
۔ ساط
7788.070 وب" تھ 7784ھ 1و ر-ت ۷ طحانعط5
138 وعزو زور ع8 نظاصوطنٹھ 18 وطززئ٤م وتۃانا8ل
وطاز؛وط نونة نصنطع٥طا ت٤ا 8 ویزرار زعہا 778ص8858
ط33 7۲808 وط ٤ة 278508700 وہر ج۔([۶۲۶٥۳۷۹
80ء ا740 وط 07۲۸2 ورأرواۃ ۷٢١ تا :83ل 280
۲۷۹۲9 وغنع معوطہ ەلزڑه ور وزسعجد د×ازہ٣٢٥٥۳۷
.زس وخ ون 3× 130 ٥٥ [٥٥ ۷٢ط و[ 8ء
چور ق78 نصنطنعاد 8عا۷۸7۴ 23 0 9 3 ف0
وج" تالاط وو تع ھعۃّاناوت بززؤوطا دزمر اد۷۵۶٣
,بب و310 ٤3 8 37ا8۹
زا70 أ8( 4ج ×٭وظط ۶۲
7۸00. 77
یٗے۔سپککتسک بلس _س-۳ ١أ
181
711007-4۸ ۵۶۲٥۲ء5
حرانصص دددہ٥) ۸۸17 در 1 عصط لے ط٣
نیروی میں جماع تکی طرف سے جو اشیار شا وو ان کی کے کے کی
وقعہ افرلنقن علاقوں 011ج 281 وغیرہ میں خود جاک لن نوج اتو ںکو ساتھ لے
0 اج
183
مسٹرڈ ین سے ملا تقات
نردلی کے قیام کے دوران ایک خاص واقعہ جس کے زریتہ جھائق تیلتی
جروجمدکاخاص چا ہو الا کف مین امریکمہ کے مشمور ا خبار کے نماد وکاتیرولی
آناادر اعلام کے یٹ اشرات کااور جدوجد رکالم حاص لک نا تھا۔ اس تماننرہ کا
نام 8 0818100181880106 تھا۔ نماکسار سے اس کا لنا ٹیب رتک میں
ہوا۔ شم ریس کھو گکھاتت دہ بارڈنک سٹریٹ باشیا۔ جم
مار ٹیش ہیں۔ یسوں کا یماں سینڑ ے۔ ایک رف سک کے کون ےکی جال ی
مسلمانو نکی دکان کارپٹ اور قالیٹو کی ے - پر ڈنک مٹریٹ میں انار من آ ا
ور ا ا وت پان ایک انگری:غائؤن شٹی ہوئی
یکن ساپ اس سے جانے اوران سے داروا مک ےآ
لاف میکزین کا نمیاتندہ ہے۔ اسلابی ای اور مسلمائوں کی عق ورک
یی مر ما را یت اح انس کن ا تن ا ہے جو
6و 5 ا ا کے
گیں۔ یہاں سے مسٹرڈ گن اس دکان ۔ پہ جامجنا۔ دمکھااندر دو نوجوان گے ہإں۔
ان سے بات بی تکر کے اپنا تحار فکرایا اور اپینے آنے کا متصد جایا۔ ا وقتت
دن کے مالک مسٹررشید بیٹھے تے اور ان کے ایک دوست مس رش۔ با ہم مخورہ
کے بعد انموں نے سوچچاکہ ا نکی انجھن اور ادارہ فو نہ ہوتے کے براہر ہے۔ رکٹ
والو نکو متائر نی ںکر یزدہکوئی تفم لی کارویار ھی خی ںکرتے۔ باہر سے
ری می .0
ایک اخبا رک نما دہ آیا ے۔ مسلمانو ںکی صسائی کے متحل قکوکی موثر بل کر تا
سے نو دہ احریہ مشن کا ادارہ ے۔ چنانجچہ انہوں تے شے ٹون گیا۔ ان ہردہ
وس کش کے ہش یھ ھش او شر
292 عم ہو ےچ ھجت
جھ نے ل فکلئۓ انہوں تنے وقت لئے اور ل کی بات بی تکی۔ نماکسار نے ٹون
ہی دو رکے وقت آن ےکوکھا۔ چنائیہ مقررو وقت بر مسر گن ان نوجوانوں کے
ات حتف خی عا سا کے سرت یں رہ و ا
اموں نے اسلا بی جدوجد کے متحاق لیا۔ مسیںکو کچ ھکر اور دضزیش لائ ری کو
دک ھکر انس مخقرے ان ۷۷۹۷۳۷یٌ۷۷۷ُ ۷ 00"
پہ رک کگفگو جاری رہی۔ مزید فیصلہ ہو1کہ اگ لے ون تفع گنو مدکی کھانے
کی اس د نکیلیے دعوت بھی دی۔ دونوں نوجوانو ںنکو بج یکھانے پ بلایا و رر
٤: و ےت و کے ےی ا ا ا
اریہ می اسلای یی مسائی کے بارہ می جھارکی جانب سے بی انی جیا جا تا
ہے۔ دوسرے ون مطر وحن نے بمت سا انٹروی لیا ہکماں مش نکی برا یں ہیں۔
کیاکیا مشن اس وقت کا مکر رہے ہیں ۔کمانں سے ششخب آتے ہیں اور ا فرییقہ ین
کیا پھ ہو رہ ے۔ الخرض متیددامور کے ملق ڈگن صاحب نے عوالات کے
تی تی اف تی معن
بھی معلوبات اص لکییں۔ ا سکی خواہش پر علیعم مھا براڈیم صاحب مم کو فون پہ
ضردری امور سے آگا ہکیا۔ کن صاح ب کی خوا ہش بھ یکہ می ور پب بھی وہ
یکنا چابتا ےک ہکس طرح نیقی جدوجمد اغقیارکی جاتی ہے۔ تفیلی انظردید اور
کھانے کے بعد اس نے فوٹو لے لا فف میگزین نے ایک خحصوصی مراسلام پہ
14
شمائ, عمکیا۔ اس اییٹو می جماعح کی مسمائی کاکھ لکر بڑی تحقصبیل کے ساجھھ وک رکیا۔
جب بہ اخبار شائع ہوا ج ھکئی لاک دکی نتعدادرٹیں اع رہہ سے خحالح ہو ہے لاظارت
دکوت و 7 200 ضردری سے بح فولوشائع ک٤غ۔
گی۔ ا سکاب کا نام 118ھ 0 "۷۷٥۰13 ہے۔ جس میں عا لم اعلام کے
کَ فقو ں کی ایم تقرییات اور خاصس خاضص مناظمراس میں اع کے ہیں۔
سے تا تی ای کن کنا ےلات ای سک ین
ماس تفیل کے سام احریت کا اس تے اٹ ا سکاب میں ذک کیا ے۔ خائ
لور پر نیرولی کے ۷1816 اور نماکسار کے انظرویڑ کے ساسلہ میں۔ ا سکاب کے
صفیہ ہے ۵۲ے ۷ میس وس شرائیا کا انگ ری زی میں ذک رک ر کے ناکسما رکی ان تد مات کا
جو اس بارہو یش قیام مشرقی افریقہ کے دو ران اللہ تال کے نل سے انام دی ےکی
لی گی ا ن کا ذکران الفاظ ش7 ے۔
1 ٥٤ہ ٤۶ ٭نطء عط؛ دء) ١ صطم ماص وط5( ۸۸01552(
عزط ط5٣۷ ٤۶1۳م اف7 درز دہ [۶ج طہ1ئئئ 0۲۲٣ صطھ
8 وط :۲1ہ چدٗت و صٔت عا٥٥1 × )دز 13۶۱٥٥٥ 1ط
صط .3ہ نط۶0 نا( ٗص() مو0 3٥11۲73 صطھ عط٤
-× -ص×وط .دج 7٦ ۰×ءع ط۴٥٥ ,1:16 ح ہز( ”مصعلسقمط" ۲۲۱۴٢
757838۰ ××۶×عط۶×ود ,ط1 غاعط]) 8٤ ط زط۵ ٥٥ہ ۷ 191016
6 3مک هعط٤ ٦60 ۰11ط۶۵٤ ععط عل×وط ۷0( 3۸93:1135
٤ ہ عدد 1 ->ذ ہ چد عچصد! طا ص٥٤ ط٣ ٥ط ہ٠ [0[ئہ) 11لط8 ×5
ج +ۃ ۱١2 ص2 چصنعدة صوجعط عط حاعدا د :۶۱ہ عطا
ب٥٥1 ×ہ٭و ٭×ج ۰×ط .1953 ا ٥٭ءطدنھ: 3ه ,1936
٤ہ مز ٥:٥۰٤۵٦×عج عط) ,ە٥ەط ط٤ سد دەچەم 4٥٥ صىاط
7081 "10
18781805
چٛ۶ ٥عہ۔ودہ(ء۶ھ .۶۰ ہەہ ١ه دموعط×× م-د:[ھ
2۱۸۸۰۰۷۰٥۱ وت
سس سے
185
-ےسکًًٌعسمحسووووٗص٘ٛ46پک٤ىی٭سکٔژوصٗسوعسٗصڈ٘|مممسگسٔ/مم“'س“”“سٹسمٛٔٛٔكٔ٭ػكس“سومسَسۂسًٔٗٗچمبٗ٭ٗم
.ز ×ط بناتطد۷٢5 وخ [23×۶31[6 ُء دہ × ٭ دا [۱٥-٥1ع ص(ة
×00ط:07 مروعوع 7 عط) ۶ہ ٤×۲ ط×۸ آآا عطا
٭(ط٭×ہ 6۷ہ ]ھتاھ عاەہ8 5101۶ ×نهطخ غعط؛ ۲١۵٥١۱۱ د”٥[د7370
هطغ ج 4006.085515 طحت<ھ ٦۲8581860 ۳1٤طمەا ٣
وط۲ 10ا ٦58781 جرز ٭و×د<ہ ۶ہ ٥۵ء ط1[ ا٥٤ وہ۲0۲
٤ ٥188ع 185 () بر( ہ۵٢٢٣ 1وصنعصن<ہ عط] ٥٣×ہ٣[8 8آ
1518:٤ 8 ۶۲× ء معط طءنط ہامتاہ× عط]
۷۰ صتانا ص٥ رونخمنعطہ ط٤غ دہ٭٭ھ” عط؛ ء دنہ 816660ص
٤۴6× ×آ٤×مطہ ١ص٦ چھز4 [٥۶(زجرصدہء ٣8٢ 18 ط۳
:ج116 ٥ء د×صعط2350
1۹ صطھ 1٤ ےط 6رہ [×وط. ۷0( 73۸3:1118
۲۷۹٢ ٣] ٢٥٢٢۹ )1934.7 .ور( :۸۲ھ ام28 صذ صمتعفتھه
وط ععط 6 :صنط ١١ صنّەز 21881087۲ ×ط٥ و صد ۶۰٥٥٤٥ط
×0 74ا1 ۔دروء ھزہ 3د ٥× طج ص1 ٥٭ہعطا (۶٥, دہ
,صمنام”دعدطٛادہہ مطا امعند× دصد صملتمذنحصد عط چقمتا د۶ہ مہ
رز نمس دہ 178١۱دصطھ 1ء10 ط٤غ چطصہدہ ۲۲٥۵۸
ع۶ ئ٥٤ہء جصْطمتاط 5٦م عط) 25ئ) :36۶۷ص 8180 ط1ط
0ص بلاط5۳۷ زط<ھ ,طودتاچ صظ جز 11۲6۶۵٤٥, ×لەطا
زبجدرمغ 8ن ۃ([ط ۶۲٥٥٣ لطا عمج ٥ ٭مطٴ ۔.دجد88ج0]ا ط8
رہ ط7 صہ ہ۷٤۸ 1۵ن ×۲ 88 ,حصضلاط 06067 21881058768
ج ۲٥٥٢ جزءعدہ ٥:[۲٤ھ +73۷ 8۲٣ 8٦٤٥٥۷8١٥٥ 11 ٥۶
00 سب عد ی1[[5نطہ ۶۷ د ل5ہ
عط ... انصسصص حدہ> ×0 7 ۷٢۶ و۰ ,موہ 73۸8۸011853 886
11۲٥١ ٥ ٣× 888118508 جو ح٥0٤٥1 ج× ۔. ([دہ۰ ٣٥ قط ۳٣٢
۰[ع1[[17ہ مع ٢...ەمعاموعا
وط مط۷ صقص صفعا٥ومد-٤٥8 ر5 865 6[1ظ 15 ظەتہ ھ
٥ 88 (۷۸۸٦188 ئ ص۳ عط غعطء سەطد اطع8ى×مط]
1ء رہ -110× ٭هوط٤ ۲۲٥۰ زہ١٣ ٢ج و دز 834 صطھ۸ ءل3<۵ط 350(
ؤه,ةۃ73+2ی] جن )7 62+1ء ٠٤ ٠8ہ :۵ 81ء۲ ہ۸051(
186
سس سسججھوپجبوجیہگہیٹینییئئیینئنئیینییھڈ
۶7ہ 1510 دہ 6ط 018* ہ( ,وتوہ ٭ط ,طوژ 18 ۲۱۶۱8
1 )"0 8۰ 16۸ئ0 وط ,صعطاہ صعط بج 16۴887110
ب(ەص الد ۶ہ طائ (حد<ہ تنص لد عط ٢0۶-0۰
٤ط ۰< 1186 طا ءءدام :تا صطد٥ء <٥اہ 8٥8 ١۶ ۲1ع
تصلاصمصداہ
707 :810 ۲7661128 بد دہ [د 3۷۸۵ ×1۱ مط۱×ہ ط۲ .×عط7'
×ئم" 185058 ما 15 0×۵۸ ا0 عط 6٥٥[8ط3ء) ئ٢
ا18 ( ا۵ھ ×ہ بطعدہط ٥٭ ظط ء نطوت۶ھ صعط
[۶8 ئ3 وط ٥٣عط ۱ ,قصوئغمتصیہ 6طاآاط0ا :1٥۴٣ص
(10:1٥ ٭ط) 1۶[ ×ہ٥ ہ70۰ 0۶6۴ 10 4٣۶۵008
17ء علصہە صدء ۱۶۱83" ط۲ ۶ہ ممنقنممحصممدہ--
7٤ھ ع مزع صت×ط ص صامط ٥ہ عط دوء ٣٥ ,معنمو×ہ
6 8۔٤٤10 ۶ص0 0×۱14٭" طط مھا مم صولوعط
156668 6 1866م ٠٥ داد ہ(7188( ٥1۲۲٣۰ دصطھ
0۵۰ ع صلنطامط ص518 ٤ہ 418 85دطہ1ص دہ ءامہە٭م
+1 عط 6 1116:8٤88: ج۴٥ا۔عچد٥1 امصنلءم ۳٣٢٢
ر68 215ج ع۶ ّآ(! ٭عصنطا 7ہ٢۔۶ومطہ 4د صة: م۴
1ء ء ط٤ 18 1 008 ۵۰ا٥ لطمصد م٤ اد :۲۵ہ مرو مہ ۳ء
دہ 3۸۱۵ ٥۰ءتنصوج<ہ دہ ٣×صدہ ٠٥ جقھ(.۶) ۶۹۰ ١ 1 د[ہ]
۶١ م٥ ە ط٤ طجہوّ دہ (٥و8ص9 8 اہ عوصمزممتہ
.دہ 36ہ دہ 4 5ص3 ۱ م۶۰۵۶۰ ط٢ ,2 35۸۸۵16 ٭”×ەهط5ہ
۶١ ۳۷۲ د6 71ش ٠ہ صمتھتاہ× ٥سا٦ عط) ٠3؛ٴ صصدا9ا*
.٤6 18 ,3:18۸] ص5 .اق صمعع مط؛ چصنعدمہ×م 0د
٥ 0 ۱۳۰۰ء ط ×13 صم نا صتا ئا وص ائغسااہعطد
۳111 6ھ 7١٥: ۴۶۵۰۰۰ ۶ہ ×0 ,۶۵٥1ء صزعاہ ۹41۲66۴6۸٥
0٥٥6 :
سے کاپ 80810 (پو ملین )کی یی ام اجکی اب ا کادو ما
ای یشن شؿ ہوا بے امریکہ کے مخل فکتب غانوں بین خریدارو نک یکشش کا
187
اتی وی سے یح صاحت سے مایا کے کر کے سیا ات اکنا
ےن2 کی ین اب کے 0 2غا کے
رک ماع من و سے رز کی قب کہ ماق کو ان
وٹ لیاکہ دہ مخرلی افریقہ بھی جانا چا تے ہین اور وہاں بھی اسلائی مساگی کا عائزہ
کے۔ چنانجچہ خناکسار ن گرم سنیفی صاح بکو بھی الا حکی۔ ڈحن صاحب نے
پوس کے متعلق بھی اپنے دورہ کے ددران جو دیکھاادر سناس کا ذکر انت انداز
میں تصوبریی رتک می ںکیا۔
رما راج مگ گو رن بھی میٹ رتففضل عل مفارن ہشن اتڈیا کے نمانیرے
عبوری عکومت کے رنوں میں بیڑت خر وکی بدایت پر الگا :یکا گئ تھے دہاں انڑین
+919َٰٰٰٰٰٰ۷ٰ٣ و ئ بے اخ
علسلہ میس جب یہ دلی والں بہوے تو ان ونوں جخرت خلیفۃ اچ الال دی شش
جے۔ مسٹرتففل علی خخاص طور بر نے اور ماکسار کے پارہ میس حضو رکو مارک
دیی۔ تضمور نے دپی سے والیں اکر تقادیان میں ۲۸ اکن بر ۱۹۳۷ء کے خطبہ بحعہ مل
اکسا رکا ذک رکیاچناتچہ فرمایا:-
رین بج سے تنک لے اک لو تال
اور ایک گر و ایٹ دونوں کو اکٹھا بھیعا جاۓے۔ مولوٹی فاضل
انسائیلوپڑیا کا کام دچا ے۔ اور جن مسائل ے واتثیت کی
ضرورت ہو گی سے وہ جا چلا جات ہے اور زبان دا ی کے فاظ ے
اٹ زیادہ مغ کا مکرے والا مات و ہے۔ آ ضر اکٹ
رت کابہ تخمیہ ہو با ےکلہ آہست آ ہس گر کیوایٹ مولوی فاضخ ل کی
طرح دی مسائل سے وانف ہو عا] سے اور مولوی نال
18
گر کا ی فکی رح خیرز با فیں سیک سکتا سے ۔
ابی ا فرییقہ کے عالات معلو مر نے کے لے ویش چبھہ کی تھا
دہلی دابیں آیا نذا ںیشن کے ملمان محبرصاحب اص طو رب بجھ
یسل کے ےآ نے رام ون نے اک ین 1ا سے ای سے
ضلے آیا ہو کہ آپ کے مشرتی ا فریقہ کے ملغ مولوی مارک اھ
صاحب سے میں بست بدد گی سے او روہ سب معامطا تکو ہریت | نے
لور پر جاننے ہیں۔ دہ صرف مولوی فاضل بی نمیں مہ نقام عم کے
معاطلات کو مھت اور بڑی عھگی ہے
یں۔“
( الفضل تا یان ۱نو ی۷ا "۱۹ء صفہ کال ٢ی م)
مزیدمجلشی نکی آمد
رق فریقہ میں اب تعدد مھلٹین عرکز سے ناکما رکی در خواست پر جوا ئے
ےہ نک وکیذیا یگناور ٹانگانیکا کے علاقوں کے مخلف مقامات پر متحی نکیاگیاادر
سی امرموجب شی اور رت ہج ےککہ ان سب نے ہمابیت عدگی او خلوئصس سے ان
فرائ شنکو انام دیا۔ تج اعم اللہ ان الجزاء۔ اپے این علانوں یس سب نے
بست عحفقت سے کا مکیا- ا
خاکسار نے اس عرص می س یھ طالب عکمو ںکو عرکڑزیی ادارہ میس تل مکیلئ روہ
چو ,یا۔ معلم بوسف عنان اور معلم عگی۔ بدسف نان نے تو اچنے عرص کو وہاں
و راکیا اور وبتی تعلیم کے تصول کے بعد واپیں اکر ٹیو را میس اسے متحی نکیاگیا۔
لی انی تلم پچ کی نہکرسکاادر الین آگیا کا ڑی تھا
189
مرقی افریقہ مشن خاکسار کے دور میں تفضل خدا مالی بحاظ سے ایک اش
حیقیت عاص ل کر کا ھا۔ ن ا کے می کے ا
ا خراجات برواشت رہ تھا بللہ عرکز حاسل کی ہرابیت پر انککتان ادر ام ریہ کے
مبلی نکو بھی ان کے الا ٹس موا جاتے تھے۔ حر ہالین کی تفی رکیل عرکزی
ہریت پر ۲٢ ہزار شلنک مجنواۓ گے عکوم تکی اض اجازت سے۔ نیردلی سے
اس رٹ مکی ٹراضفہوئی۔
تنسیم مل کی وجہ سے جماع تکومالی مشکلات کا تر رے سامنا تھا۔ حضرت خیظ-
الس ال کی فدرعت می ضروریات عاسلہ کے لے اس وقت ۵ے جرار شاک
جوا ے گئ۔ ترولی تماعت ے پا فصو بڑھ ٦ ھ2
زیو رات کک نشی جے۔ اس موںع بر جیساکہ بعد ین شھے نظاارت ہبیت المال کے
الیک اضمرے بتایابہ سعادت جھاعت ام ہہ نیرول یکو نھیب ہو لی-
190
کرام مکودعا کا جغ
ارچ ٭1۹۹ء میس ایک خخائص دم ت کا مد اتھال کی اص تم اور لشرت سے
مو قع ملا نس کا ون بھرم شمرہ ہوا۔ مشرقی فریقہ میں پنوس ۔ ڈ1کٹ گرا ہ کو
رع کا ینغ تھا۔ مضرلی “ مشرق افریقہ اور اریہ اور دمگر ملف ممالک میں بذ لی
اضیارات ال کات چا ہوا۔ میڑیا نے خوب ابھالا۔ _ اس یی کے بارہ میس ہہ لمنا
ضردری معلوم ہوم ےکہ ند دن پل خماکسار عدن می تھااد رعدن کے اخبارالت
می ری ھیکہ چند دن بعد نیردلی می پگ راہ مکی آ ھآمدے۔ اخیارات اور اوسر
رخ ہے 7 "و
اعلان اور پ اين ا وا ۔ ماکسا رک شی ونوں دعاکی طرف خی رسعمولی طور پر خائ
وھ ہوئی ۔ نیردلی والیں آیا گرم مولوی مھ منور صاحب سے جو میرے ری کا
تھے مشو رہ کیا _ لن سے تلق میں زک رکیا ۔ ا نکی طرف ے 000۲88٥ نہ
ہوئی ان ونوں محثژم تقاضی عبدرالسلام صاحب جماعت کے صد ر تھے الن سے بات
1 7 ۶ ۱۶ “۶
ار کے مشو رہ ے بھی مل عکیا۔ جحقرت تقاضی صاحب نے میری تائی کی اورپ
زور انداز ٹم فرایاکہ ضردر چمچ دنا جاتۓ او رکم ننمیں ابھی آپ کے پاس ۲٦
ہہوں۔ اگمریزبی میں جو ا لھا چا را سے ا نکی فوک پیک بھی اکر درس تک رت
ہوں؟ حظرت 7 0001040005"
مراہ مکو نیج دبا جائے۔ چنانیہ حضرت تقاضی صاحب تشریف لاے۔ خط دھا-
01
وک اک ای پ2 فاظ جب کیا نزک ر2 را حر کے
ذ رہب یگراہم کے کیمپ میں کجھادیا۔ نیدی کے اخبارا تک بھی اس خ کی نقول
ارحال کی گیھیں۔ باحضویصی یٹ افرین یر ورعڑت ہے لپ رس
کے نماننروں نے اس دن گے اخرے مشن اوس می آکیرا او رکنے گے کیل
آپ نے لوس پت ڈ سے کم ول نوز بنادگی ے۔" گر اہم سے جب بھری مل
میں اس پت کے بارے جات ہو گی مو ان نے سے وا الر ے قرر ت5
سای دای تر یل کی ادر اس کے اکا رکا خوب خوب بر چاہوا کتان
اور خلوط نے گیے۔ سے لہ اثرات پر مق لکہیں میا رکبادبی کے او رکہیں ہم
سے مقابل ہکرد وظبرہ دغیرہ۔ اس انکارکی شریدیارک ٹائھز کے صفہ اول ع شع
٠ 1 کر 72-2 5 ١ 7 ت
وٹ جس کے متعلقی زم مولوری خلا ین صاحب نے جو ان دٹون وہاں کے مس
تے تھے اطلاع ہجو ای اور تر اش بھی شمرترولی اور ٣حقات میں بھی اس کے اکر
کب چا ہوا۔ ایک ون مسٹرابزا یم تو جا اط ہکن کے مز کن ین
اور کل وج ہے میبرکے علاو ہو رخ کیغیاکی ایز کیٹ کے لغ بھی انار کے
کے مات کک
مارسی رات ت۱ جے کاب میں بین ھکر آپ کے اس جج اور
کے کے کے ا
3 سک یی ا یں
تو سے او کار ھا۔
:5 22 7 ےے٭٭
وی کی کور نٹ روڑ > جناب علامہ متری کے ایک عقیدرت می خاکمار
یی کی جلتی بر کے دانے ایک دوست لے بڑے جو شی اور خائ ناک سے
گے نے ادر اشخب سے ائن دا ت کو مراجنے گے او ز کے کے کہم
آپ تے الا مکی بڑیی خد مم کی ے_*'
چج لین
192
220 22 .0 یچچتچپ٣أس ص سے
ہنزوستانی اور پاکتانی احباب می برار پاکی تعدادیش پفلٹ شائع کے گے اور
وب غوں تید سے گئے۔ ا مرک سے متس مشبور و معروف مصنین نے اور
نامہ ثگاروں نے بھی اپ یکتب اور مضاین میس خماییتہ دیاخقہ ای کے سا من
ون لیخ کا وک رکیاا ور یگراہ مکی معز رت او رانک رکابچھی کش مین تار سال نا
کم و یش کا عم بگزراپو نم را پویدرمٹی کے پر وفیرآف سوشیالدقی نے لا
گرا چم رات سو صفحا کی می کاب بای ۔ اس کے سفروں سس کے انر دیز
اور ما ان ں کا تفصیل سے ذکرہے۔ ا کا پکانام
ب×وۓہ سصسصعط۶۵*) 11ط ط٣ × دو ×ط طا ز× ٣٥ م۱٢۲ خ۸ ادر
مص ف کانام 1871116 ۷۷111180 ے۔
اس مصنف کے علاوہبارشل فریڈی جو ملانما کے آزادتامہ نگار اور ھکار ہیں
انموں نے بھی چند سال قل چپ یگ رام" با صد صفجا تک یناب میس ا
ھک دن اورپ یگراہم کے انکارو مز رت کا تفصبیل سے ذک رکیاہے۔ لاو ر کے
مخمور بفت روز ”اہو "نے بر دو مصغفوں کا ذک رکرتے ہو نماص انداز مم
اس سمارے واققہ اور یکا مندر مہ لی عنوان کے سا تتصیل کے ساتھ ذک کیا
سی
کڈ یگ اپ مکی قولیت دعا کا یچ مات سے الک رک ای
رئش ویو ری ہو سن (امریکیہ کے بر وٹسرڈا دی مرش اور مارشل فریڈر یکا
زان *۔ ضے ناکسار زیل میں در خکر زا ے:د
تضزال بی میں( می کے مشمور مروف عیمائی ناد ڈاکرگی
راہ مکی زن گی کے عالات پر ایک شی مکناب شع ہ ھکر م کیہ کے
ہش رک ےکتب فروشو ںکی دکانو کی بطور خاص ز نت بی و کی ہے
193
اور دعڑا دعڑ فردخت ہو ربی ہے۔ بے کاب جو ےاے صفحات پہ
مشقل ے۔۱ س٢ نام
”ردماہ صوط<6) ناانظط عط'' ×صوصمط ط۷([۲ ٤ء طہ70ص ۸“
اورں مور ومحروف فکاراورفورغ پروففسرڈاکٹردجم مار یک
تصنیف ہے جو ہو ئن .1080 1]) کے رجے داے یں او رای
مور ش رکی روکس بیو ری می سوشیالوی کے پرد فسرہیں ۔ کی
کنابوں کے مصنف ہیں۔ نر بی مور سے ملق ان کے تد لی
الہ جات لطور خاص :قاع ذکر میں جو ام ریہ کے متاز اذار و
جراتجدورسا کل میں شائح ہو گے یں - 8183168 [11:8ط1ظ
یس ما سط کی کر ی کے علادہ انی ں کئی دجکر صلی اع از بھی حاصل
ہں۔ ڈ اکب یگر اہم کاتھار فکراتے ہو ے پر و فیسرد لیم ما رش نکھت
ہیں۔
گزشتہ چالیس سال سے عیساحی تکی لغ میس نمایاں اور متاز مناد
کی حثیت سے کا مک رہے ہیں۔ ذاکی ور پر انموں نے مھ مین
لوکوں تک اپین لیپروں کے ز راہ عیسانحیت کا پغام بنا ہے اد رکئی
لاک ھکو بز ریہ رپ یو “نی دنین اور فلم حیسامیت ے تعار فکرایا
ہے۔ تارف کے اغنام برککھاہے۔
۱ 716 18 ۳ص( عەط عط تراما تعەەمم ]1او ٦ق ٤
ہ٤ ط6ا ط٥۴] عًطا
١٦1٥۶ ×٥اذچ ٭ ہآ[ 15٥
.66
اکٹ بی گراہم کاگزشتہ جیٹس سال کے عرصہ می امریکہ کے ہر ایک
بریزینٹ سے خصوصی قربت کا تلق را ہے اور اب بھی ہے ۔کتاب کور مٹںش
14
ان پر یڈٹڈنوں کے ساتتھ خلف تقاریب اور موائحع کے فوثو بھی دیے گے ہیں۔
جن ملگوں کا)نبوں نے تھلمقی اخراض کے لے دور ہکیا ا سکاب میں ان ملگوں کا
تفیپلی ممذکر: بھ یکیاکیاسے اور بلہ انروں نے جو انرواید دپے ہیں انیس بھی ریکارڈ
کے طور بر شال لکر دبا گیا ہے۔ علادہ از ملف مگوں کے نی اور سای
لیڈروں سے ماتانؤں اور ان سے "نطو ں کی نفاضتل بھی ا سکاب مم درج
ہیں۔ الفرضس ڈ اکن رب یگ راب مکی زندگی بر اس مفصسل و جا کاب میں انیس ایک
یر مممولی بزبی مناد کے طور پر ین ںکیاکیا سے جو ف ہو ر' خوبصورت اور مر د
سفیر رت ککی شخصیت کے عائل ہو نے کے علادہ ایک شیج البیان مقر ر بھی ہیں-
کین ار
75 سے اہ سے و وا ہہ
کے تحت ڈ 1ک یمگر اہم نے پرا حم ا فریقہکادو ر ٥کیا سے ہرلحاظ سے
٦ لے لے وی اتنج مات
اتظامات کے گے ۔ اخیارات کے علاوہ ری یو بر بھی ا نکی آمدادر
تقر وں کے متحلق اعلانات کے گے نیز ان اعلانات میں ان جا ون
کابطو ر اص زک رکیاگیانس سے اخ٘ییں خطا بکر نا تھا۔ مقر ا فریق ہکا
دورہ خ مکرنے کے بعد موصوف نے مشرکی ا فریقہ کا ر غکیا۔ چنا سچہ
مشرقی ا فریقہ کے اہم اور خ بصورت شم تی رد لی یں ڈ اکٹ رٹ یگ اب مکی
ھب بڑے بڑے چماز یی سائز کے کو سٹروں کے علادہ اخبارات بل
پرے پرے سے کے اشتمارات شائع ہوے۔ خصوصی اجقام
کے نون کت رع کے خلا کے نات ا نے پان
ام رکا زکر بھی ہے مل نہ ہو گا کہ اپنے ان خطابات مش موعوف
195
الام کے خلا ف بھی کتہ جی یکرت ر ہے۔
نیردلی میس جب ا نکی آ مدکی خمراخبادات میس شائح ہوکی ذدین
خداوند یکی تلنغ و اشاعت پ مامور مشرتی ا فریقہ (نیردی )شش ٢٢
سال سے متیھم میشردین بد کی شی مبا رک اج نے الا کے یا ر ے مین
ا نکی تنخبیص اور موشگافیو ںکی خر یاکر .خفلہ تھالی اس تیم عیسائی
مناو مکی یگر اہ مکو قبولیت دعاکا مین چیچ دی ےکی تق پاکی اور
ىہ تثربر بی یج ری طورب بز زی توب اص نیرد لی میس ا نکی آھ
برا نکی خد مت می بنا اکیا۔ اس چ کی خد رتفصیل یھ یوں تی
ا رش
ند بیارو ن کو جن کے متعل یکیغیا کالوی کے ڈائ ری رف
میڈ یی مسروسز یہ تعدب قکری کہ ماعلاج ہیں ف رین (عیسائی ماد
کی یگرا ہم او ر میشرد ین پک مارک اح ) میس تی مکرد جے
جانیسں اور دونوں فرلق ا نکی صحت و تد رس کے لے بارگاہ رب
العزت میں دعاکر میں ۔ بن فرب قکی دعاسے تیر تن رست ہو جاتھیں
اق سک نت تی کیا کی
اس مین کا ذکراس وت کے نیرولی کے متاز اخبارات ”اینٹ
ا فرلیقن سٹینز رڈ" اور ” سنڈڑے پر سٹف "کے علاو٥! فرییقہ کے ملف
مگوں کے اخبارات می بھی ہوا۔ بکلہ ام بکمہ کے ا ارات میں بھی
کا جاردنا رک فا مز رت لے یی رک رک دی
اشاعت ہوئی۔ بکہ اس یی کی اشاعت کے ساتھھ ڈ اک رٹ یگ اہم
کے اہکار اور جن کو قول ن ہکرنے کابھی ذکر ان اخبارات شل ۶ا
096
کہ یک ہے سے ہے سست بیس سے لات
جن میں بطر اص ہہ کور تھاکہ اس وقت ڈاکٹ رگ راہ مکودرجنول"
یا ا فو ا ای ار بی جو کو
تو لکیاجاۓ لیکن ڈ کی گر اہم ز راٹس سے مس نہ ہو ئے۔
سا می رع تفص روس ڈاکٹر دی مارشن نے اپ اس
. مز تمیف یں پری یل
واخط 1ری کے سان رے دی کے او زصف ۶۹۶ ھا ےک ڈاکز
یمگر۱ہ مکو ١ح ریہ سے متعدد رم اور پغام وا گ کہ دہ
اس نل کو قو لکر گرا نہوں نے نخامو شی بی میس اپنی عافییت
تھی ایک عیسائی مور غ “مصنف اور عق ق کا وضاحت کے ساتھ
گر ہ مکی طرف سے اس جج چکو تو لکرنے میس تاىل ' جذبزب اور
ململ غاموشی کا ؤک رکرن ار کین ”لاہو ر" کے لق دنچ ی کا
موب ہوگا۔ ایک ا قباس ملاحظہ ہو۔ پر وفیسرموصو فککھت ہیں۔
×وجہ1 ط٢[ ۳۷ ۵۰۱۱م۳5ص-۲۳۰.- ذ۸
ررو]8 سعط6×8" باازنظ 756
۰8۶16( ۷۷1111876
7٣٥ 9 8ج ۶۱۰۳م( د ٢۳٢17
(٥٦۷ 7 ٭۔[×0
260 "7۶١۱7 ۷1٥٢٢۰٣۶ 0 ۷1ا٣٣ )1950-1960
رم مجرنز×<٥1 (جء نع ٥(٥عطا تہ 518۵ ×زْمهط ٤ہ
ج 07 .1634688 جورز(ہ ب۷( ط۳۰۲ ٣3۱۵(٢ ل۶م 66ط ہ٤ ١٥٥
90 0ے او وت طغ ,[166 86٥18 06ل
جوصدوۃ 161 [6341٤678 د٣ نائا٥ط جاغدنعط0 مہہ۶ہ۲۶ <٥٥٥[۲٣۰٢
و غعوومط صاعط ٤٥ 18ع ہج عط وط ٤٤ ۶١۰۵۶ عصل(ہ0 5(
×و 5۷×عطء 70۱٢٥٥۲٣ ۰ ٥ 10 ۸۰۸۰ہ۸ہ۶۶ ۱۰ع صحنادنعط6
097
تس-سسصحسعحوسںىمِںىوحصػ٘ٛىچٛج٢سسسپٛ۰ی-کگ*سسسس/م“پسسسمجم-سس۲۷۲“سسسسسسسسسسس>٘مجمسٛسسسسسسمٔ٘موسسمٔچ"_سسسسسسس
8 زط طجسەەمط؛ ,ہ٭٭هد٥1ذ٭٢ه" 1(٤ ١ ہہ ٭×عط) طءتط
۲۴۷ ح)خ ٤٦70۰۷۰۵۶ دن ۲ہ4۵ز۶۶۵ ٭ج لا را ۰8و۶۹ تہ
"وٛخ هطغ ہ٣ ۷٥ط عہ ٥ت ۷[8< ۶٥اا٭ط 14ذداط ٠٥ 11586818(
٤ دوزدجءءہ ط٤ ا ٢٥ ٥٢ہ ۃدصعط 6ج 850 510۸8<
213567 صحج2 ۶ہ ١خ 45ط ط16 .ط1 چصن دہ ط ٥18ء156(
٤غ نصتا ١ط قدٛٗہ ۶۱۶هةصنط تۓرقناہ٥14 ٣٥٥ ٢٥ غعطا
.11ع دمتط 3د صدہ(:۲ھ ۶ہ اد٥۶6۶ ط( عطا ط] 553٥٥۷
8۹٥م مح)غ ٦٥٥ جد٘صدط- ۔آة1 ة8 سا عصناعل5ل(
تا ۲٥٥ قوط سن ط ہ×ص و 8810[×طا1 ہ؛سصعطةء6
اجرص<دنۃ غطجنحد ەط ۶۹۵۶۰۹ ترەط! همسحدط 1ا 0۵5م
طخ د7ط ۴۰۱۹ءدۃ ط٤ ,ص7181 ۶ہ ٥ء٥ ص۵ ۶۲ء دطاہ ۶ہ ّ۴0 ّٗ
31×وو ع نکاد۶< اہ ہہ عصناەمل( طءئط٭ چجچز تة
6[ط8× ×٦0 اه )انەنامعهە عدئنط- ءمط .د٥ نا[٢ ا4
۵×ط ۲۱۳۷ ۱ہ ک. جرْ مسق 0×٣٣ جع -×ہ11عطء حصنادەگ(
٭ط ۲ہ ۶٭نطء ۱١, صطم عا ×ط۸( ططانهطڈ 23580118
08ط ۰۵٥۰٤٤ھ 288 ص(أ 3518٥٥0 حص(1[ ع٦۷5( ۰ص ٥د صطھ
مط ۲×ط ۵۰٥۹ وھ۸<ھ ]اعط 0٠٥ 6۸ 18 5 )۸مد 586ہ11لعط ٥
8ص۷۷00( رہ 28۲ ۱ء ص۲ عنط سا طدڑزناکظ اعط مٌہ٣ّ
.18:20-40 ج515 ق وو ٥٤ہ ئدہن×ّص عط ط٤× ا6876
8 م۶۱مّ 168460 مصنا0 ۸/5 ط٤ ,صعط63 ٥ 16816٤ ٤٥ 5]
١اطغا ظط
هط) رط 16١1 ذ۱د ہء: 311 ٤٥ ۰۵۸۵۸٢٥٣: 9مد ::0ص8تھھ
ج٥ ٭قمو8ە مہ۶ تا ٤٥ -1591۲10:08[8
ٍط وغ جچہردہ؟×] ۲۶ہ دہ 11۲٥٥٥۶ ہ٤ ص١٥3 ٠:۱۶٥
ا و نددد ەط-۔ه 11۷١ء “ت۸ ذغادہ ہہ زط عاط۸٣ ط1
بصعط6۶ 8د ضط غعط٤؛ ١ج ٭مہععج 10٤0.٦٤٤0 101
۱×ط ,دع ئن ہ۵ق 2ہ ة صوط 11ع دہ د ط1 ٥×۶ ط٤8٥
وخ ورەطاغ جج ۱٤ صونمەەهە مسەمعع عط؛ا لوط ہا ہ6
8و ط٤ طيز ح۶ 8 16ط ٭ز مط 0 دہ عصنظط×٥٤٥41
دعونوددہ× <۱ 7:8 صمط۷ مج ا صد ۰۶د 1د 8۵۸۰
8
ء10٥۰ ]٤ )٢٣طعص 4٥٥انطء٥, ھشھطسصد١ سچعد ٥١۰٥۱,
11 بادہ عط٤ د٠ ص181 غعط٤ ٦۱×۶1۱ہ٢× عطا ہ٤ ٥۶۱۷م عط
چ صنطدناطاح٤دہ ۶ہ عآطدمدء ٥٭ا طءنط× صمنوت(ہء > ٤8
٣ہااذہدعطنم (٤ط 64*۱٥. ا۶ہصدھ ۶ہ مدع ذذ"
ہ۶ )6ع٤۱ ٥٥٥(۰ حصلنط 16ط دء ٠٠٤٥ د٭+٥:٥رم ہہ ع ط116 طء عط٣٢ ا
٤ط 6٦0٥٥ ہ٥ ×ط ×ط ص ط6۶۸ ٤×ط ”,دہ٣(1( 1١ہ طدز211ط
ط ہ۲ ت۷طح ۶ ٤٣ہ ×ط 270 6 می ۹ءء ا 1م ۱
٥0656 ۲۰ط
ایگ او ر کاب دا جارس پر وش ڈ اک کش
ند سال پل بھی ایک اور مشمور مصنف اور نامہ گار مارشل فری بھی اپ یناب
8ء[ ×ەصھ ۰ہ عاطادععم ےح سەطامد<٭*" زاازنط
58 855[
میس جو پاچ ید صفحات پر مشحقل ہے اور ڈاکٹ رب یگ راب مکی نکی کے الات
داتخات پر ایک قابل تزین کا رکی اکن تین تصنزیف متصور ہو کی سے اس پیج کا
ہہ تفنبیل ذک رکر بے ہیں۔ موصوف تے ڈاکٹر صاحب کے دورہ اقرییقہ کات ذکرہ
کرت ہوتے نیردلی یں ایک غادم اسلام کے ہچیچ کا ذک کیا اور بد ری تفصیل
دی سے صفیہ ٣ ۴۳ کا یک اقتاس علاحظہ ہو کھت ہیں-
7[ 2۱۱ط (۸٥۸۴٣
صعط۴۲۸) 11ط
۶۱١۸ 5٤8 ط718 د۲ ۶ہ سذ ٥ہ 16ا ۶۰۸۶۰ ھ
٭ 1٥٤٥۵ زا٥ح امہ هے ٣اد ٤٥ھ ]]:١٠٥
دہج عطء [دءذ۶ط٥٥16ء ,٥ء دہ 3د (۶ 6 ج[آط ط] ۶۰عاصہءہ
807٤138م ×٠٥ ٠٤٥ ہنا د ہہ >٤ ۲۰٢ ×مطء مہ١٤
طصممصعط ۱۷× وظ 01166 صعط× بط نط× بعصتلتدہْ
28 بہما1ءا 13872158ج ۔ہ۲٣ہ ع1578٤1مەز د حصاط 1٤, 1٥٥٥٥ ہ۵8 ع8
,۳۱۱1(1 حٗن8× ٤ہ دعصاصمسصسداە 114٥6, ہہ صعەعط٤ ة١ ×0×
99
تمصہھچجوعموجسص جس ىجمتجط ےس سے ےت سس موصحت
٤٥ 809 ہہ تمہ ,دعماعدوہ ۶ہ 16ء اءد”* ٥٤۱نءط د طینم
6 ء لئ 6ظ .ا8ہ ہ146١ عتاطامھ مط٤ ٥ء 5ہ1نہ
8 ٥ا۵ حصسهط۵)) ہدید[زہ۶۲×٭دەنة لصمنقوءءہ
۱٥٥٥8 ١11818 ٥ ء1318 زط ٥6ج ہ11عطء 1٤65ا ئتہءەمأ
٤٥ 11٣1٦٥ ٤, 7 ج ط(ەطا 0891 م٥۴م 80618-056 ئ8 1 ۸1عط
١۱۶11 2٦ مط ×اعضل١لط او ا3 ۱۰ط
۲2:6-۶ ءن(طد م ا ط۱ ×ع د <ہ۶ علاطدحاعصذ ٥ ۶۱۸0م
(٥ بدہہ۶٥٤د۸٦۴) ۲م .ط113ھ ٤ص ا ذنعط0 د٥ ۷٤ط
(50* ,ہ2۶ طا دہ م۶۸ ,۶٥ط صعط 6۴۶۵ 8:678-568 4ط
1 8 5 16مر0 مّ ذ6۵×مّ ,ع صنعمذ× ٥۱۹٥۲۸۱٤ہ ٥۵ صمام ١ مط
٤ ع رمع ×٢ 1اط ا حط× ×× صءآ ٠١ چ صناصد× ,50۶۰
,۶۸۶۸۰×عط غحط ۰ء مہ۰ )٥ ۲٥۱۱ ع صتنممتعومط ,صعط٣) 71۲
٥ء ۱۱۸10 ,1۶168 وص( اد٣ مددھ اہ× 6 ۲۳٢۱۱٢
58۹ھ ٢ ۰۳۰۷ 088۲۵۱ 8۲) ةنجوء ادہ7 غعغخدەصدہہء 0
٭ءٌُم ج١٢۲ 16٤٤688 ق5٥ د1۶۷ ٥هعط٤ 11 چ دتئااہع8
۲۰٥٠٢٢٢٢١17 عط ترا مات نا×دم-:٥٤5]3 معط رذ عاءوط
٤ و ط116طء ه ط٣ ٥2ء۸ !دہ 6۰٥ دا ع صزلا٥۔ ا۱ہ
تراانظ اط 113٣١٥! 851111 طدزناط ۶ہ 68١٦٥ عط] ٤غعط صعط)
نزهعطا ۲۲ ,۵( طا 3دص ؛دندەل م۲۱ عصنامو ام6 اور
ن(٥ط) ۷۱11 ۶×ءطازہ< ,عاء طمہ<ج ط٤ ١۹ط (۷۲۱۸٥٥: ٥0ص ×ط
۰ ط)٣ ہ۲۴۰ ٭د۱× عصہ طعىاەمط) ,۳۵16م عط
200
مرا فریقہبا نموم نول میں مزیدگر گی
تردلی می جماعت ا یہ کے ایک ممروف مارگ حفرت مسیبٹھ عثان تقوب
صاحب تھے جنیں لن کا خاس جنون تھا کوئی ہکوئی موقع تن کا بل لنے۔
نردلی میس جنن دفوں جماعت کی جدوجمد میس مصروف تھی اور مخالفت بھی شر ت
کی ی2 میٹ صا موصصوف نے پتررہ تار شلنگ کے انحام کا اعلان گیا۔
بذ ریہ اشتمار ا ںکی عام نشی ہوئی او رکھاکہ جھکوئی قرآن یر سے حرت می
کی جمانی زندی کے یارہ مس کوئی ایک ہی آایت ٹپ یکرے گا اسے یہ اقم دیا
جا گا۔ اس متص رکیل دونوں طرف سے اتجمارات سے 0 ضاہان
ککٹئن از نیردلی بنا نیدی کے نخالین اور مولدیوں نے مھ اکم ہکوئی آیت
نال دکھھاۓ گا اور بقاعت سے انہوں تے مطال ترور غگیاکہ پند رہ ہزار شلنگ کا
چیک بی کرد اد قرآن می دکی یت ددبارہ حیات نک دک لو۔ خاکسار نے فوری
لور پر پند رہ زار شلنگ کا چیک یھ صاحب سے تکھو اک رکرم ملک اح نین
صاحب جو جماعت کے زمہ دار جمدیدار تھ او رککرم تام فریر صاحب ترڑی
ٰ ہرد دکو جامع محچھ ہماں ایک بھت بوا جلسہ ہو رہا تھا کوایا۔ ان پردد احباب
نے مخالن کے سرکردہاحاب اور مولویوں اور اجفاغ کے ساٹ یہ اعلا نکاکہ ہے
ند دہ جرار شلنگ کا چیک بے قرآن ید سے حیات کے کے یارہکوئی آیت دکھارو
اور چیک وصو لک لو۔ لال ین اخ زکھڑا ہوا۔ بے قرآ نکرمم سے آیت
کرجت کے کے 6ر رذ صاحب نے خود برائین اتی می لکھا ےک حخرت
201
زخدہ ہیں۔ جارے نمائیروں نے کماکہ جمارا مطالہہ قے قرآ کریم سے آبیت
دکھانے کا ہے۔ مولوی عبراللہ جو اس انعام کا اول مقاطب تھا۔ خاموش یھ رہ۔
قام ہندداور کے اور ملمان جو جا میس موجود تھ ان پر اہ رہوگ اک ہکوگی الیکا
آیت قرآ نکریم میں میں شور جیا۔ لال ین انشزے پالا خر بل رفع الله
الیہ (النسا۵۹:۶ا) کی آیت ٹمٹ یگی۔ ج کا ترجہ اور وضاح تک کئی و این
اور جج کے لوگوں نے اعترا فکیاکہ یہن حیات کس کی آیت میں۔ بالا خر ان
الین نے اس یت کا اگریزی میں تج کر کے نیدی کے ایک م مور دکیلی سے
رائے لیک کیا اس آبیت کی روشنی میس حبٹھ عثان صاحب کان لگردہ انعام لیا جا
سکتاہے۔ وکیل نے فیس لی او رکماکہ اس تجمہ سے جو آپ نے شی کیا ہے آپ
افعام کے سقن نہیں نھیرتے۔ کس کی زندگی کااس میں فو ذک رمہیں۔ انام کا اچ
نہ نےکر بیٹھ گئے۔ اس پر مار طرف سے سائ ی کی مج“ استمار شا عحکیاکیا
پیک اور شر میں جس کی تقیم ہوگی۔ مخالٹین اتی اس ریت سے بھائے نام
و ےم رت کل ان کے ےو وی راک
یہ
ای ونوں الین نیدی نے ابنی عکس تکو نے کے لے جماعت اھب ہکو
ال کی کرک اعت نے وت ما کو لو رک اعت کے اد ے
شر مز نک رن کیل عخالقین سے عرکرد1 ا غاب کو لے۔ مشاعت کے
اھ وع نے ریت مال کی رش مین فا لین کے فیا ون رہ ےکاما کہ ان
نامک اجازت سے مال ہ کنل تار ڑا ۔ الین کے نما نیروں نے بے گنک رک
اح کی پقیراما مکی اجازت کے مال ہکیلئے تار نہ ہوکے شور چیا دیا اور استمار بای
ىچشچشچچےےے چج جس سس ۔ہ۔ .۔ ے تےجوےًٛژًےچًچّسکسکچہےے ےچشنےچچچجچجچچ_ _ج____ج جے سے سے ے سے سس |
202
سس ی۱ی ی۵ی ۵ 0یکدڈڑڈڑسججڈوکٹئگوییھٹگئیوئھ
و اتدکی ماللہ سے فرا رک گے ہیں جماعت نے اس اشاء میں
ارت دعوت وک قادیا نکو جماعت کے پرییڈڈنٹ رم جناب سید صحراج
ادن صاحب کے ذریعہ صب زیل جرد ےکر حضو رکی اجازت طل بگی۔
8 ط3 ط350 60 1م ا1٥58( 118101عطءا 559۰“
”دا ہ۲تھ آ3 نا نلم مذہ صناص 1315 ۷1۲۵91( ١ای
اس ار کے جو اب میں جو رکی رف سے اجازت کا صب زبل تار موصول
ا۔
5( - آ[ماہ٣ ز×" 7717 350( 141 ۱زد۷16(“
8 11ط جر 111105مء (٥ ق2[ ۶ّّ ۴ہ ١1ط 6١ نص<ءم
868۰ 81185طء 1 ط8 84 ۲٥٥٥٢ ٥د ٥ طا نل تا
٥ ۷۷ٔء
شرائک ىہ تھی ںکہ جٹتے دی ات ول کے ماہلہ میس شال ہہوں گے ات بی خیر
اتدبوں کے شال ہوں اور اس با تکی دہ تقد ب یکری ںکہ میابلہ کے مت کو ول
کریں گے مبابلہ سے پچ ف لین اپنے موق کی اتا مین و اح تکریی “ا
مور یکی اطلاع آنے پر جماعت نے ” مبابلہ ' کے عنوان سے اشہمار شا یکم
تماعت ہر طر ان شمرائ ا کی ردشنی میس مبابلہ کے لئے تا رہے۔ اشتتمارکی غوب
تی مک یکئی۔ اس پہ نیدی کے مولو نکو از معاندی کو بلایاگیاکہ اب دہ آ نین
غاب کی گھز معانیج اع اشٹناز کے بعد ایی شاو اوت یی ےک یکو
,/ " مت
بی کیا۔ جماعت نے اس موػع پر ”آسالی نصرت کا زہ نشان * کے عنوان سے ایک
2 بڑا اشتمار شا کیا۔ خدا تقالی نے اس مو تع بر بھی بماع ت کو دی اور
لی نکو امت کا ا مناکرناپڑا۔ و اللہ لی ایک
203
اتل ای دس سالوں پر بھرہ
موا ری ماز ئن تن اگج اس مقالے ین نار از این بات کا ولرک کی
ام ست یکی ہج ےکک جماعت اجب کی مسائی مرقی ا فرلیقہ می سکوئی خائص کامیالی بہ
ین بچوکی۔ اس کے باج ذا نکی عم سے بی مم و صدات ماس اظار ہوا۔
الیک موتح بر ات مفالہ میں ابس نے اکھھاکہ خماکسار جب ابتظرائی دی سمالوں مش
اکیلا لغ تھا نضل ممدا یادی نو عحیت کے کاو ںکی داغ ہیل ڈالی۔ خی ربھی مرف
ہیں ۔لکھتاے:۔ ۱
ج1 ٥516وج م0 مر 77٥۱ء صطشے ۶ہ صت ىعصتلصصىدء ھ“
عط اط٤ ة×مطہ صمنمەدتاہ- عط٤ ٥ہ 1۱1×وم نزا۶ءوهہ عِطا
٭ ط٣ ٠٢ ۰٥٤ ۲٥۱۷٢۸ ×ہ ١1٥٤ ۷1008 ئآ ۲0۴ 6ظ دم
×ط7 :۶۵ 1116٤٥ ۲ہ ٭٭ ءذاء ۶8ء دہ زط۳ ۰٤ع صنصص(وەط
۱1٥۸۰ 8<٭م آد ”۱۳۵۱م 11٥٥٥٤٠ ×ہ۶ ٥ء دہ۴٥۲د×م اط
58 ۶۰ ×(١عط ,٥۶ء ٢ دہء ٥ہ ج ص(ص(۵٣) 861دء × نعط
عط ٢۶۲×٤غعصمص٦٥٦ [(د قاەمط٥: ١1 صد دمداو08ہ3۸( 114اط ہا
٥٤١ رہ 88ہ طا٭+ ط٢ طمص ,ه1٥مط٥١ ۲04880531
118+ 8 طعزا×ہ٭ ×نعصط؛ ١٥ 1ھ .٥ء طدناطاج؛ہہ
,110 3 15 ت× 1٥6٤٥٥ ة صد ۶۰<ہ٥٥٭ ۸١۱ھ ج٠×د٣ عط؛ ط۲ط
۱١ ۳۶ صط۸م حداوعدطہ35( طلانمطة آ٠حعدہنەەنھ دہ ٥٤ہ
٭×ادہ ط٤ ۵ ٥۰۰۰ء :۶۵ 3 ط350( .ط2 0٥٥٥۶ ٥ص ۲٥۵۶۵
(42 6ج3 ) 1501837 مہ۲۴ 20188009
اکسا ےت کی وی الو نکی می ماک رین انز ین ال ری نے
کیا ہے اس کے ان خیالات کا رد ہے جو اس نے جماعت کے بارہ می ات مقالہ
ججچوسکسکے۔_ __تککسسیوسسحووسج سے سے کے
204
میس یئ ہں۔ نماکسار کے بعد ۱۹۳۵ء ٹیس دو مرا جن آیا اور تیسرا ۱۹۲۸ء ٹیں۔ پھر
اس کے بعد اکسا کی تریک پ مے و نا شردح ہوئے اوران سب نے آپے
اپ مقررہعلاقوں مم دی خلوص اور جزیہ سے کلیٹی فرائ انام دیے۔ الیک
ا ا او نے وی و رت
ا ا ا کر ا ا ا ا
ایراکی جو ہد جاور و زشت بن بی سے ۔
لووا اَوَوخ خُر
مشرقی افیقہ میں میا عرصہ تک قدمت اسلام کے فربیضہ کے اضجام دسینے کے
دوران افریقن سے لئے کا خوب مو متا را بای پیار و حبت اور موانست کا
اص نعل عاجز نے ان سے رکھا۔ وہ بھی ماکسسار کے اس تق کیو سے
رہے۔ امیگرنٹ لو کیا این او کیا ید رین ان سے اھ شریوں الا سلوک نہ
اکا ازس ا تع تاد ام ےکنا ود کے انت
ہیں۔ خ-اکسمار نے ان دنوں اسلای تیب د دن کے بی ںکردہ اصولوں کی با۶ پہ
تل تو ی: کے جن چہ عم لکرکے افر+قتوں اور کرٹ لوگوں کے
ای اخ رازوا جس مود کو کی اک اک انی شی ران
نے مق کی جس می فاکسا ھی شال تاب زور انداز میں تصیل کے سان
77 برا ادر وعد ہیا کہ دواان پر تل یککریں گے۔
نیردلی کے اخبار ایسٹ ا فرین ٹاتھڑزنے ان اصولو ںکو ٤
کڈ ٤8ذ ٠٤ 83۷1 حصھ سے عوان ے شا ع کیا اور
75831 08317 0:9 ماس نے خخاصص طور پر ان کی پاہند کی کی انھیت پے
205.]
ای و یل مس اص قوج دلائی۔ ان اصولو ںکی بذ ریہ پمفلٹ الک اشاعت بی
ا ی۔ لک ے راہ نجوس بھررے اور وو ہرے رکردہ ا(ب ے
خاکسا کی افریف یکو نا ؟ ذس د نے کے بار ول اس جد وحم رکون کیا۔
۸43۲1٥٥٥00141 ].+ 8 ص۸
٣٥۰٢٢ ۱۶ مط ٥ز( 58 ٢ 8ذ٥ص بائەط وط7“
6 ٠ہ چصتردہ × ٥ذ 60٥ ٤ہ 85ء عط6 لا ص8 صباط
08 م0 6 ۵۵0717 111 16. .9ا8 ٤ 8 ط20 1101
٢ )+۰. ۴۵٥1۷۲ص ٥٥۲۵ع 1763م ط دہ عصن دہ عنط غحط
ا٥۳ 11 ئمطء 6 ر16 مت ضرعم قلتط 4 صتد صذ ع ط089“
0٥ 811 ۴۵٥٥٥٢ ۹٠۴۶ ۸96000 9 ۶8ا١ عط و
9ءء <۵ ۱ط ٥٥ط ٤ہ تعن دہ ہل صتحاصوّہ
۲٢٢ ٤ ھذ هدہہ اوئەوۃ ×ز 10۳١ ١ذ ٥۱۸۸۔4
5 ط۱ ۲۵:۲ 6 5۰ ۴۷ ا3ط 11-003 عنزمطل
6 ۷۸۴ ما وط طءدہ ٤ہ 18 4880 5٤ہ عط٤ ٤ہ
8 مع 8٥ ە٥طعنط ٥٤ہ ص2 108ا نا 8ء 186۶س
11۰[طا50
۷٥٢ ٤ مط6ط +1 اعدم د٥۵ ٥ء زط٤ مزح
6 ماعط ٠٥ رعاصاہء نل 0 ۲۶۵۵: معز 0ة
۴ 18و ۶۸8اہ × نعط وت 58 01018 0 1518600108
6 10 816 ,11866 حا ۶٤۶ 08د ناد ۸ء ٥و
مت 1اط ۶۱۱٢ 6۶٤ ع8 نصصذ عط) ×ط عطا ×ہ روم
0۷ھ ٥٣ہ 6 8 8 0167 0×08 0۱۷ ×ز6ط
6 ہ۱ 4۔ئ] 4 ۶6 اط ٥٢٥ ٥۶ اط ۷۷ ,185 زنط ٭ہ
168٤6 8 11× ازەمہ ٥ص ٥ہ عصہہ معط٤ ٥ہ مو5(
68 ا ص٘8 ,8 صنم ×زەط+ مم 10070068810 زہ11
7 61ط 6 د۸ء 48٣ 6 +٤٥ 111 ط٣٥ ٤
8 ّٔد٥ذ۲ھ عط ۶ط منطعٛصمناداہء .٦ء
۰ھ ×0×
206
بسک کک ٹ رب ٹھگ]۱ ہیں نے ےس“ .یس نے سصصصصصکصسست
1۲5931785٤ ہ٠ 311 ج×۵٥٥ ۶١٥۱[ 85٦5 1567 طج0٥1:50ھ
۹ء ءدن٤٥4۔ااہ٭ ٣٥٢ <٦ عد :۶اط عط٤ ٤دەماہ
ط ہد صا صعط) ۶<ہ۶ وط غامص ×۱ط ععط ط۰۶ ٥٠٥٥ء ہ۲
و٥ ×ںیدم <نھِطغ للدم غطیتہھ رعط؛ا اعطا 8 ه
۔ددہ[:7۲ھ عط؛ ۶ہ ۶۲نامہ ١ط عہ۶ ××۰۱ ٥< ٠٢ ط٥٥5٥ا
3ا ”ہد 31۵ ذ٣ذ ھ-ذ ترصعصہ 1صد دمناەت0ہ ط[وا۶ہ0
٭(ع ئ۲5 ۱٤۱۲ء ×١ط سط بعا×ہ۳ صون× دانصعصسط تط :8
1 ٥۹۰)م+٭ء ٭ز عحصعطء: ۹٥۱١۱ع × نا 75ا .0۶۵۵ھ نزلا08-
٭ط؛ سا قەنع۶عدهہ ×اہ ٢٠١٥۶ذ1 ٠ اعط+ دہ ج8٥
81 18 860ء0 م٥۲۰ مز 6٥ <وء عط ۔د(مصصعطء ع٦ ۳۷٠ہ1[ہ۲
7ھ دز 221 ٣٢ ہ٤٥ ع۱٠١[ ۶١۵۱153 ٤٤۱0م ٭عطا ٤٥ راع انا
6اط ٥ 6۲ 05ل 10٥٥ ط0٤ ۲٥۷و 1۶۵۰۷۵۵٢ ۲00948 ٤ ٤ط
-:1[05ا 0028 15.06
4د ٢11٥ء دہ ع8 ۵رعع ,7۲۷ھ عط٤) چٗ[ہ ہ٥11٥ ص] را
"٤ یں عط؛) ٥۶۳۵٠۰ رع ناو ہ٥1 ط٤ ×18 تء تم
×ن 8۰ہ“ نەط“ 85+ "2
×ط٤ 88 1186٤016٥, ۷[٢۱۴۱گ8٥۲ ٭ط 16ں مطہ × زع صەطۃ5“
75868 ) ص ت۱ ہ۶۰۵۵ 2ص قدہ ص۴ ئئ اط طع تس تہ
١٥٥ ”10080“ ۔انحاائحط" :۲ھ" دہ ط٭دہ ٢۷٢۶٢٢
0 ل08
84د عگاط 8٦٥۷٥ 6 0077688 .د٥۰ م٥٥٥ 3۷۷
۲0۲۴م ×زهط) ×ط 1164ء ےط ۱14 ط8 8٥3۲٤ 9۲31586طا نہ
:78018
2705-61181058 ×وط٤ہ ا صد ددم (ددءً٥ ٣٥8٥[۲٢ 00 (2)
طخ :] 5160ا عط وص صقہ 71م عممنا۶۸طا لاہ
وھ جع ط٤88 طءسۃ غد ۱غ صہ ع۶۶۵ عچصآا٥٥8
ہہ ۷٣۷٥ء( ٥1د ×ط ٢٥٣: ١×مط ہمم ٰس۷ ٰ۹
٤۰ دعلاع 37ء۲۲76 ۸ - ہ1 1 صه ۲163ھ
جوہ۷۸ً۸ذ صہہ ×ط ١ءنصدمددہءءءۃ ٥و ٢٣ ×٥ط ۷۷ (3)
مع( 114سامطھ +ً"م٤ا٤13 هعط؛ ہەدنتعة؟ع5 ×ہ ت 8٦٥۷٥۷۵۵
جرسوم ے
207
پچ چحسحح ص جس ضعہخح حم سے
6٥ 36 60× 1۶ 11 7 ۱0× 1ص ١( ۲۶۱٥ دوہ
58 .26818 ٠ہ دہ ۲ہ صمتاع×م د طانم صوم ١1ط
٦۹1 ۱۰ط ٥ (3۷5٥۸8ا٥۰۲ ٥ ۶ہ اعدم عط) دہ ۶1وصجہ:
187 ط٤ ۱ط ٤۲۱۸۵۲ ط٥ط 1 ص۸ ٤٥2۷ء عنط و صنمہ
ع اد دخ دہ دہ ع صد×عد ص۷ عنط عطاعد ٣)٢ عاطد ع(ط 08ہ
1٦8.8 8۱۸۰ عط طط۷ ئ٥ ۶ء و1م
۵٤15908۰ صدہ(1ھ-دہ0 1 ری
809
رق صاعطء 1×
00ء 58 ۶16001501ع ۸ھ 101.0:10855181158
ک 798081 ص ٤۵ص۵ع[ص7ھ عط؛ صنہ<حا ئ ہ٭وعلادہ
6 0 9 :قہ ۶٥٥٥۵87 1164نعائذصہەہ 8 دہ 1118ء(
صا 1ء نصطءہ٥ ج۱۹۲ ٥١۶۲ مہ ط1٣ 10116 عطا
5156 : ا .8 ) ۸٤۶ ۶ چ منطہماءمممہ
٢١ 61 چط(7۷صا: ×عطام×طا 1467ء صد ٥ہ غعط؛ عط 8١۱وطۃ
168۰ عنط صہ ×عط٤ ۸×ط 8٥× ص۵٥۲ عطا
من )]٤6 ۳'٥ ,48 چصمنعط 0-۶09٥ 8٥ برق
جج عاقا(هەمط >٤ ة1سمطهھ صفقط؛ وط 0020ح
8 ۴ ۲۴۲۹ھ ط۸ز ×. 16 لا ہ۲۵ 1مہ جمنصاءءء
077 عنط 4831105-0 دہ ہ۲۵ ۳٣۱۶٢ ٤ 0 ص1 168ا یم
ا 6 10۷م حد٥ ٗ1 1۲1و عط ءط
18 6 ).1۲ہ 0د 10ئ0 ط5 71630 70۸ج رق
۶ طاءئط ماءد ما تراصومّ چصنەط ص۶0)] صتعاەطةہ
6 چصنحاەہ ہو:۲ 161 غالاط ,ج1٥ ۶۸ع٥ َ0۶9[1طت
8ھ .١٥صدہ عط٤ ٠١ 4صعط چصنصاعط 8 16۸94 ٤ عد060 ۸)5
6 ٥ط] :۶۸۰۵ ١۰۹۰ الد 0۴۵۰ ۲3ہ ۳ عط,0
8 ٤ہ 00ط ۶1د 4۶3٤ء 8٥1 ۱۵ ۱۸ءءء یرہ
٣۱ء طط
665 15 87 0۴50 .2706 10ن ط5 08ص7768 ھ-00٢ج رک
+26 زط 117 55د 721ھ ط٠ ۲ہ چصنعطسل(([ہ عطا
٣۶٥٠٢ 1 0888 ×زهط؛ <۱ ددہعدہء ×٭-ومطء دہ
ہہ و تق
کو ہی 6
7 0
ا وراتھ ما چون ود
٤ 3 ۰
0 2ھ وا 7 َط یج
نز ہ؟ (8 380 :
8۹
٦س مرنوردا نے دا پر رداکوضناھ ا
کر ا ملافلتوں 5 تھا
3 ۹0 8 ۵
۸ی سوہ سپ
11 0068ظ د٠ لہا ج ا رہ ۶8977 5
00۷۰
01
۶۲۳ ++ : ٦ئ 0
زرژم 5)6 3 1 0 پپ
٭ ,و 4اط ٥ 32 ۰
ورز ط8 +0 ٦ حا
ہم فا٥٥٥ ٠٥ ز0
)8 ر(لوجو وہ *
اڈ
7 ۰ پ(نا
7
٥٤٤٤٥6 ەط 7
٤٥02٤0 پہرع . 20
اگ 70ھ مھا رح 5٥٤٤۷
اج 250 00
ث٦ سے ہے پا زا8 ظ8ط 10۶
881086 ٦٥ وووز) 5 7 ١
0
مرن ٤09810 ورڈ 00 ہا 7 ٥ط رر 0858860
٭(طا 8 ط0 وریہ ج80 تن 7 ۴8881007 15
7 ۹ ز(و”ہ د٥ع ۲۶
می" ا ٦0۳ھ
۱ سب
.7۵و۲ ٢۷٥١[ ٭ روط 7 لے 28.6 یڈ ٥151ا
اتپ
م ات ٍ۱
1 زاظط
[ءاڈ طانہ ۱٥١ .35
8008 [1 888:05 کت
6 وزوع و ؟
209
ژ9 ااکٌببتبت-ت-تہٌْ _۔ےے۔۔ے۔ے۔ے۔_۔
۲٥۶01818 76 .1[7ت٤ (۶نجرہ 3 ص8 0۴۵1ص ص68 ۲17ھ
ور غ جر۶0ع[ ترلا ع٤ مہ وط( ] ٤8۰ داەم ٤× ٥٣ہط٦ ط٤
2100 عقتط [٤31 ٣ۂ نع 4٥٤٤10.
)قاطت٥اعاط (۷۷۸0 وط۵ 148[ 2۸8 ج تر ق8صطھ 3× ط۸ 3×۵۲ط ×83.
ا لی جکام سے رابطہ
اییٹ ا فریپقہ کے دوران بلفأفھوص نیرول یکیفیااور دارالسلام تاض کی علومتول
کے اع فان سے ناکسا رکا راطہ را اور تعلقات میں اسحتواری پیرا ہد گی بای
نقاقات تر رمواشت کا رگگ اخقیار سے ر ہے۔ ایک موق پر س رآ رح رکرلی صاحب
جو یٹ افریقن ریلو ہے کے جنزل میٹ تھے مارے ہا ںکھانے پ بھی کن ا کو
ان کے وفزیس خاکسمار نے م لکر قرآن مجی دک تفہ شی یکیا-
ماکسار نے ولی ماش نکو ا نکی دیاخت داری کے ساجھھ سمارے وات ہک اپ
تاب میں ور عکرنے بر مارک با وکا خ ھک اکر چہ یہ اقب گرا مکی شرت
پر داغ تال رآپ نے من ومن ور کر کے مورناتہ ویاغت کا ثُوت دیا ے۔
سماجتہ بی سے ”اسلای اصو لکی فلاٹی اور ”ت سج ہندوحتتان میں *کتائیں مطالعہ
کیلع پچ کھیں۔ شکریہ کے سا ان کا جوالی خط ملا۔ اضموں نے ککھا یں مور
ہوں مرا فرض تھاکہ سج کچ داقعا تک وکگھتا۔ ىی بھی کھاک ہی دقت وہ لندن
گئے تے اور دہاں ہماری مد لند نکواضہوں نے دیھااو ر بھی نل ےکوبھ یکما۔
مشرق ؛ فر یق کے قیام کے دو را نکیغیا کےگو رن سرفلپ پیل جو مسلمانوں کے
ہر تے گگورنزی سے ریٹائز + وک رکیغیائیش می آباد ہو گئے۔ تیردلی سے ڈمڑھ سو
شیلی کے ناصلہ پر گورو ٦ تاعا۷8( شرے آررون عاق کے زریڑ
8ۃ :7ج 1آ کے مروف مقام 831038 می فارم کے لیا اور یہاں رت
210
0 00 لت
آیا اہ ڈائ رکش کا قشہ بناکر بیچا ور ل ےک کیاں شاکسا رحرم چو ہد درکی مھ شریف
صاحب جو جماعت کے بل سیکرٹری تےکو سناس کر رفلپ کے ہاں ایک دن
پنچا من نکی تین پیل نے الا عىکززد یی یباچ تی جھم ان کے فا ررقم کے کان میں
داخل ہو انموں نے پڑہ کہا زا استقبا لکیان بت احزام سے ببیں لے اور
ضردری خاخجا تکیلئ رما یکین جب چھھ وقذر کے بعد آ را سے ٹیگ ة ترآن
بکریم کا نین حفہ بی یکیا جھ انموں نے اع دب سے وصسو لکیا او کاٹ کی
میزر جب لے گے و کنے گے جن صاحب! ملمان ب00۵ سے ہیں جن لا
پداپا ے٠ ہر طرح و اض خکی۔ جی اک ھا ےکی رفاپ ممسلمافدن کے ت رخ اہ
تھب اپنے دو رگور ری مین انیوں پخ ,0,۹(
جماں مسلمافو ںکی زیا دہ آبادی سے با معن مرا اود فرین: سلیفوں کی پنموں
ص۵ +ء“2ئ) بھلو ای نین میں 1یت مسلبان یا کی 7 7
رفا ہاگن زیت تن کت جن تا۔ :اہریں ران رگد نہر
یگ کی ق اود زیان ج یآ تو ایک دق انان خو وھ چا
یا
کہ جن ولین نر ورک سا ناپ اجب مت چم ین یر
رت رک سرع زج
ین جا لماک شی یک ےڈ تواعٹ .٭ ےت ٠
24ھ۶22 09 یں چم تال رج
048 ۸.37 .زط ×٭چدم۷۷۸ لصہەت6 نرزہا×نک ص۸۲ ×ن5 ط۷× صہەلد: ٣۷٢٢٢ طاجردصوم امام عط]
جوأاداعصد ططنلعصظط صد <۷ نہ۷ ح٠ زا٥ نہ ۰6ہ صم(۵ئ7 1۷ص۷۸( حرنف۱سطم .۸ 2۰
صددہزہہ۷( ۶ەنط0 عطا زا صنط ٥ ة٥ ؛ت۶ ٥۲۶م ىہ طەنط صد-صدہ) تاہ1 ءعط ٤ہ برمہ:
دعطامصلصد+6 عط ۶ہ ءصحط عط ؛د صمزدد:( ر-(اہكد۸.۸۷۸ .2 2ہ قلقط٭ط دہ ۳۵٥اص۸۷۸ دانمطاد
211
یں دہ روزاءہ آۓے هو ٴے۔ سرآئلشین ینک لیے قر؟ خوبصو رت وتمہ انمان
تے اور خوب رو لے تھے ۔ کئی وفع اخہوان نے اسن عاجمزك ماک ٹل پارٹیوں مشش
کسی دعوت دگی۔ تی ول نے 0 9 یں
میس طا ات ہوگی سط عمزت و اترام سے ذو :او رم کی کا رک ردگی بر الما ر تسین
فریایا۔
رین من (011 3 700( )کیاکی علومت کے نیف سک کی تھے ن زس
مر یکیفیائیش ہوجو گی کے ذو ران وہ ختراض ] ےگور نر ہو گج اعزی حویلی
ضاحب نے اع کی تقززی او ار العلام یر برا آشم ای جو ض رر نع نیل نے
وا رالیلام کےگو رش نٹ اوس من اتی بلالک ران نت تہ ٹم سن راہ جانے
سے چن دع پل ناولی میں جب ذو تھے تو شاک زرنے الو ضواجیلی تر جرت ارآ ن کا
تفہ یکیا۔ انی جماعت کے باراؤئٹی اق ذا ققیت ہوگئی نی تن کارا رالظام
میں شی می مناخ نۓ خماعض تلق زا
7 877 6)) 3ھ
کاسا :م18 ا .
.َ2( بهصمہ(۶(/۰ذنطت) فدسطخ ٤7٥ط۸۸( حلنەطڈ , برمکنک ۸۰ من .2۲۵۰۵۰1۵۷۵1 تاافطاظ .0۷۳۸.5 0+
ا :80:9 307
١ ۱ (صقصہ :۷( ۶ئ٥(نمھ) ١ص طخ ۸۵۸۵(۰( دمانعطڈ عک نزما تنک .۸ × ن5 ط۷× قآہ۸۰+
95[8و ۂہتہ میق دع ھ3٦ دہۃ قگ( دا تہ
یوقت ِ
212
و ا ودک دی سا سے ہے ہے سے
ٗی ےب نز یتم
0 9 تو
رق من پلے ایک ی من تھا اد راہ اس سار ے ملا کا
رج مشزی ا تام مین خاکسارکی زم گرا اپے اپ علاقوں یکم
رے تھے۔ آزادی کے بعد کے سالوں مس خْوںن کو ںکو الک الک مشنوں میں
تققی مکرریاکیاں مشن مک اک مشنری انجارج مقر ہوا اور امیر اکسا رگ
مشرقی فی کی پل ری کر تک رت دنایا۔ ٣ ابمل ۹۷۴ا ءکو اکسا رکا
سے کنا سے لے کیا ےل مامت ان
اکسا مک الو دای پارٹی سے نوازا۔ جماعت کے افرا کے علادہ شع رک مھزذبین کے
بھی شرک تکی۔ اس الوداگی 0 رب
ہج مال <وییٹ؛ فریقہ میں احریتا' میں گھاد۔
ق3 ز:زة ×[۶0[1 ٥٤ا5 وو ء([×ہ ٥ط 380 ج105 (10٥
٭هط( ہ6
8ط 78346 [× وط۸( .ط5 ر[[0٤ :8251883 جع ۲828٤1015
2حٌر م8 8٥336 ٭هطغ 857083
۱
لیے ے
سید ج اتال شاو صاحب صدرجخاعت نی رو اکسا کر داگا ہرایس ٹٹ کررہ ہیں
ج :
213
ُھھچگگ۱[ٴاہگٌٗجگُجگکّگكچجگُگُجھجٌگھگارجہؤٌگکٗکہٌ]ٌگٌسٗگصج"کُجٗجصومھمممصصصووومممووولسسسسنفیبٹبٹبہبہببکیئھ
نا
۸۸5811 ٭ط٢ ۶ہ 3ق مد ٤ص7 3۸5۶۰ بصہ نصنہ ٥1ء نائاەم
3ء0 عصنناہ٥۸۵×م۱< نزہص۸×طەظ ۷۸۶۰( بدمندتا ص٥:ھ
طعانۃ عط٤ ۶ہ عمصعطۃ0' ۔<عل( ةدهە 81جدہ1 ءز٥
.ط58 ہ٤غ ۶۸۰۱۸ ۱د حصمنانصعہءہ٭۶< مط؟ ۔.وٗ نمسصمسصہہ0
6ط زرط انب صحدہء 23017۲۰۵ صطذ عط 4 صد معلدصوطنہم(
طعسهةە ۶أہ ٭٣٢ناصھطدە٥×ٗہ<× ؿىطا+ا ۶ہ مءدەہہ×0م
6ط ۱٥ ء چنا دہ×م ٠ہ ٥ ٭٥دات× ٥ ۵۷ع عصمنا٥منصوعج×ہ
6 د ط6ط ہصز( ١٥ چدجچدہ ٢اد ة١عط ٢ا طەنط× دم ذ٥ ہناد
(۵59ع۱۰۶8) .د٥ ھ-27' ۰٢٥۱۳۲۷[۱<م
انس رح اص بی تکی اشاعت اور اکسا رکی لی جدوجم کا لہ دو رکااختام
ہوا۔ اس رھتی تقریب پر متزم سید جھ اقال شاد صاحب پری نٹ بماعت
اتعدیے نردلی نے اکسا رکی خخدمت میں اپنے الوداگی ایل رلیں میں خاکسا رک یگزشھ -
تاس بر سکی خدمات کا ذکرکرتے ہوۓ شگکریہ کے جذجبات سے ال نکو ساد ر ۱
وعاؤں سے ممنو نکیا۔ جس کا اظمار اس لھمو یہ سے تھی ہو را ے۔ ۱
الد تھالی کا اص اسان اور اس کاکرم تھاکہ اس عاب کو مفرقی افریقد کے
ینوں علاقوں سکئی مفید اور دو ر رس متا کے کا موں کے انجام دی ےکی قوف لی ۱
جن کا ماکسمار ن ےگزشنہ صفات مِ اخضار ے د رکیاے- صر راگن اي
إ 5 کو ایت قادیا نکی سالانہ ریو رٹوں میس تفقصبیل سے ان خد مات کا گے ۔ اس رومٌی اد ١
١ ۱ ۱ الوداگ یکق رج کا ایک نظارہ رت چیدہ چیدہ باقوں کے ذکر پر اکتفاکیا سے مان دد ا یےے کام ہیں جو اہکیت کے لحاظ ے٠ ۱
بھی اور جماعح تکی اص عظمت کاباعث تھی ہبے۔ اگرچہ ان کا غاکسار نے اخار -ٴ
سے زگ رکیا ےگگران ہرد وکا ھرے ری کار مولوی عم مور صاحب نے اپنی زندگ ۱
کے خی ایام میں قررے تقصبیل ے الفضل اخیار میں وک رکیا۔ خاکسا ری ہردو
حدما تکوانوں نے مفید اور خماص مت کاباعث قرار رت ہو ۓککھا:۔
214
772 سْپپرتر کے
دوخاص خر ماکاک
ای ئا کے کیہ نٹ لے اھ اور مقیکاٹم مکی فریقہ می ہہوے
ہس لین اما سے ہو ئے جو عیماگی بادریوں کے لے بوش را شابت ہوے۔ النا
امو ںکاا شر پاد نی صناحبان ا بھی ہاو زعیمائی علومتوں پر گی-
راو کڈ کا وکیا یں جس ھت فاص سے الا پا اور سا ری
دنا یس اس کل تکو جس طرع اشاعت لی این کااشر ام رکی عکومت اور اھر
سے ہے :والی عیسزائی حون ینان ڑا امول نے ا مت کے یہ میس
پا ا لانیک او راخ یٹ کے ارہ میں اعداد دشار در معلوات ب کر
شرو ںعکئیں۔ 0
وو مرا عٹلیم کا مم کلام یک کا تر تھا۔ تر کے ساتہ سا نشی نوک وںی
کے رر بی معلیم طت نے یی یک یک اور الین صدراقت کے عراش
کے وس اور مرل جوا بات دےھے۔ ج بیدا پل اد رو اہی ۱
حا وت کے مکنا رک دیا اور نئی اور سای 1ه
سا ا مز کی طرف ران گی۔ تمات ای لت موک ان
اوران کے حع موا رایت کے مطالہہ میں ان سے ناو تکیا۔
سن اون سے اڈ بوکراروشہ (ٹا اکا کی ایک دی لے اتا ری :
لع میں اکوں
پک سے
لع
1 نے کی کے حون کے بار وس اک چقالہ نے کاا ماد ہکپاہ
7ا یہ لان او رسک ر وت جح جی
اه
کے ٭ ہا ات
نے رشن کی سج شا رآ پر ماٹ ا اک یی اتی مکی کے دک کے ا
ا کڈ ا ہیک کو وک وس ماس ون یا چے
رخ ران کان و یکر ےہ ا پا ا
ا فور ٌُ۹)ٔ+ 1-0
ات لا کی :
17 000000 __ ہے
کب وکح کت ٣
215
سے تھا
جب نردوی میں تھا9 یہ میرے اس آ ےر سے اور معلومات اور لی ماگل
کرت ریے جب میں نیرولی سے داز السلام موا دیامیا نے دہا ھی ال نکی آمو -
ریت ری رہی۔ ایک سی کار بیس مہ سفرکرتے جن شی نککھانا پکانے اور و ےکا
بھی مظام تھا۔ ابس وجہ س ےکم آبادکی دانے خلا قون او ری یمات می جاتنے میں تھی
انی کو رت شی بآ ی۔
ا یں ےتآ تب ہے پا یں کی کت فی سے تی کے لے
چو ای ۔ میں نے ا نکی غلطلیو ںکی نشان دد یکر کے کی انیس دالپیں جو ادی۔ ابا
یہ مقال ان ہو تے نیرد لی یو نید ری مس رج رکرایا تقااسن لے دیں سے اضہوں نے
مقالہ ن کیا اد را سک بناء پر ڈاکٹریٹ عاص٥ کک رکی۔ اور اپ دہ ڈاکٹرارل مارشٹی
گعلاتے ہیں۔ انہوں تے وع ٥کیا تھاکہ پاس شدہ ممقال کی ایک نف بے ججنوانھین
22 اعد
اس مقالہ میس اخہوں نے ککھا تھ اہ حسناتوں میس سس ےکوکی اتی نیس ہذا۔
ٹیس نے انی نک ماکہ ٹا لگا ١8ج 7'0 ) شم ریس ججازے مل بر اود لی صاحب سے
ییں۔ دو وہاں گے اونز ہمارے معلم کے ساتھ ای کگعر یر گے صاحب انہ جو او ١
تھ۔ مارشن صاحب نے اع ہے لباک سے جرب ہو ہے اش بنے ابی ہیں
نے معلم صاحب توبان پے :نیشن کا وی سمل لک پڑھا اج سے میرک
دی یی اور میں اجک وکیا مارشن صاحجب تے لو چھاکہ اہن نے پیل دوکیا
تھے انسول نے تایا بک ان سے پل دہ میتائی جتھ اور پاد می ضن ےکی تیم حاص٥ لک
رے جھے۔مارشن صاجب بیس کر خاموش ہو جئ۔ ان دونو کو وہیں چو کر جج
۔۔ 1
سے٦ ہب“ ںاہ
ای ایی کے ٹلا ںیرد
وت
۱ 7 ال ہا ےل
لال خٹریل ہیلالپذہر ٠ نت ستالا أ+ ہیہ!
216
رج حخحققق مقالہ میں مارشن صاحب نے ہادے رض قرآن اور چّّ عبراللد
0 یت
انوں نت ےکی کہ اخوں نے سواضلی اویاء اور و ارول ک2 20
طور پر ا یٴ بارہ شی وریاف کیا ے۔ ان کے جوابات سے جوا نے سے ارشن
صادب نے کک ھاکہ جن فاری نے ا تھا ترجہ تر نکی نف لکی ہے اور ااس کے
مہوت موجورہیں۔ شا ری صاحب نے جناپ مودددی صاحب کے ا را
ان جیا داش تھا کہ جارے تح کی اتکی جانے کن
ناپ ناری ادعب اور الل زان ہوتنے کے باوجودر صرف ہت زیادہ
سج کر الہ حوا شی میں انوں نے جشاعت اجب ہکوگلیاں دیں۔ پے جا
اور شرفاءو نے بھی پند نہ یا-
تاس اف ات ھا
کر یس و یپ ے۔ اس کے وت
سے لئ رنروں نے محزم مری عبیری صاحب کک رکیاسے جم دن وزارت
سا نے ہز نے میں جال تنا میس جضاعت ٢ض گیل تقدادش ج>
رے سواضلی ا شیار سے مضائینکامارشن صاحب نے گزہ بی کیا ےہ انا
جح وا صلانوں کے پارہ میں تا حصہ میسائیوں کے بارہ یا
کی ضیٹوں کے بارہ می اور اتاحصہ احری مات اور سای کے بادہ شش ۶
ںا ا اک
و اتکی ا رآ ہے ات ا کین کی تق ا
بھی طااف ے۔ جارے رسکی انہوں نے ارد شم ا رکی یکا
نقل ہیں بچھوائی-
217
. قار می یکرا م کو یاد ہوگاکہ اس سے لے ہذرے فشرنے مقرلی افریقہ مش
می یہ ہت
سو مسج تہ
زے مور آتی تھھیں۔ اس کے نتجیہ میں جو آخری پالیسی تھکیل دی جاتی تی ای
سے جماعمت امرب عرعہ سے تر د آزہا رہی ہے۔ خلف مگوں میں جماعت امرے
ووعدک وع ہ اتیل بکول ہز کڈ
ے۔
کارے تزجمہ قرآ نکی طاعت کے بعد سب سے پہلا ر کل جن آیا دوب تھا
کہ پادری 22 ین ون ڈپکی سے عسے سے نایاب تجمہ رک
ستھ رہ ہہ 7 .
کے جوا می پادری ڑل 3816 کے تھام ا عتراضات کا یرلل “ معقول اور علمی
جواب دا جا چا تھا۔ اد ریوں نے اسے نہ پچھاپے ہی می انی تر ھی ادرامید ہے
کہ اب قیاممت کک ڈیل کات جم دوبارہ خی چھپ کے گا- ےی
وو سرار مل ملماوںی وت و ا کر لے ا و
ےی ےنت ہت وہ
ےک یقن جی اب نال دا کپ ھی ہم ایس جک کے مور پڑھ
ارت جھے۔ مین ا سک تقیعات پر کجع عو ہیں اپ مور اہے۔ ۰
ہے یچچ وی ہہ ےت
: ایک اور روک ھت تھے اراس وج سے ملانوں سے بی نفت رکتے
تی سمووسمہکوت مس
میونزمکامقالل ہکرناچاہ ےکی کہ ہم خدابرست میں ادردہ مداکے دشرنی۔
218
کت لک فذرقہ نے یہ قدم اٹھایاکہ جمارے ترجمہ و ا ا و کے
ام ول جات ج کرکے ان سے ہمارے اسقدلا لکو ٹپ کر ےکی نکچ ےک
شاخوا نا کیا اب وا تے لا بکو روک کے مل ےک گریں ھ
للع زین کی شکل مس ان کے راست می عا تع ہوے والاے۔
را راع رقژاعي) ای ایک زفہ مم ںکدش کک ج رج کے اٹلین واتٹ ٹ فادر
نات نان ومک لک کے کے انا کے بارہ می یی ھے۔
وں باں می انموں ت ےکن ہکیا آپ ابا جب یلا نانجا ھت ہیں یا سای ت کو
ضر ڈو کے دی نے جب دک یی آپ ی نے شرد اکا
ےت 6 679 ۱۷ہ ا یکا بآ آپ ے
کر ا
کہ میں نے ہہ بات غاز کسی زی دے دی ہے۔ ہیں نے عخ کہ
کپ یس سچھو ہا
ےت رق ھ شال فا مال ان من
قرکژن جی کات لی نین علتا از تزجقت کے کے بعد اس فلط تم یکا
رف اڑا فو کی طف ےپ ای مہ سای زان شس
٦ --سٹ- و و ےفقائی رو ٹیقنوں ے
٦ ص۶ و :من رح ران یر جو لوکوں
کے لئ ین تال مق یبھل یمان گار اخ تھے قناش۴ن غورد و
219
روغ ہوکیااور جو لوگ تجمہ ق رآ نلکھنا چا تھے اخیں ا کے طرق کا علم ہوگیا۔
یہ اھ رکی پاد ری بک یماقم کی دعواں دار تار ےکی افریقہ میں یلا رک
٤ت ےیک میم الا اد سے ہت او ان
وک صاحب موصوف پیک بی اس لع مکی عم کا فریقہ میں آغا زککرنے کا خیال بھی
ال میں لا یں اس رح تق زی می اذا جیلی میس مجح کر کے جماعت اح نے
ای بڑکی اض تکی سے جس کے ارات اتد کی صمدبوں تک ظاہرہوتے مج
جائیں کے۔
اھ بین گی ذذ ع ری صدکی ین تی لپچ کی ظبانعت اور اشماعتٹ کا کام خور
مقرب بی سے مرو ہو چیا ہے ہا را فرض سےکہ ملق علالیہ جات کے لے چو
خلف زباوں ڈں 7ا ' رما تل بد رکتب غاح مررائ ہن الٰلایایٴ و ول
کی پک اور وق کن وا اف را ےباب را ھا
ےھ ا نا ا کو ا ا ا اک
ری و دی اتماؤاکیامیقبوط اور نہ ٹوئے والی فیاد قائمکی جا کے اللہ تالی ہیں
ا کی توق عطا فا الیل اریم شور ما فروری 49م
ری یں لی کت کا اس کی کا ول و ات
اس ور :پت 3:0 اکی ڈگری کے حصول کے تق مقالہ میں اس کا ذک کیا
سے اور ماع تکی ہب را کات ا کیا ات ارت نا
دواءکی رخصت 1۹۸۲ء وین آیا اذا ر الطلا مکی جماعنی نے اکسا راک زوا ا
پا نیک ہنم کین جن مین لہ رز ررام ار و کشر 5
وے۔ مقا بی خی اکا کر ا ان الو ای یراملا کے اخار
یٹ آھوازن و گایدانہ 4(زدوزہہ
ران جچمنھوچ ٥ہ ]وھ٭3:9ہ رت
220
تلدح×دطب5( طءازہطزع و ۲3۹۶۲۱۰ ہ۱١ ۳۰۸۲۰۱۷ ۸۸
و مات نو و
٢ )٥ ۶۱۰۲۲<و 888 1270 جا ہے
۵م لدحعم5( ططعانەط8 ٥ کک ا
168٤٤ ٥ ط0 ]١ ٭ دہ 8 ا نت نت
۶٤ہ دددە(ءڑھ جچرزّناٌد18 تصه کرت
رت کت 8 )-"
کہ ا ٌ میا ا55
٤٤ہ ٥۴ 515(8( ۸8878591 هط' ٠٠ہ سی یت
اط ں11 .٭نط0 ۶۴۱۹٢٥٤٥ 8 ٰ
5تا[لنرل .۸۶( ,.. ۸ھ ٣۶ہ ۶۲٥۵٥] عط٤ یہ
6+ ۰ ٭نطء عنط ط٢۳1 08جکج۰7ھ"٠""
طەناجہظ عط؛ اہ 768 کے وو و
و رت 9 ل×ہ :05
2 کا ریخ 0۴۵۵8700۰
18 صت8 ء ط7
ریو ؤاد تہ ورک 6ط ٤۵176۰۹ ٥۱ء
قط٥نءماہہ مط؛ جچطٔت×ا جو ے ات
می سے ×آ مم ,0 ططھ
موا ود و کک ّ ۰ 781
2۷78870۰ ناف ۷( در ر٥8 صطم ٗ
ا 1× مط٣ ٠8 ط۲
ٌ 0 7
بط ۷طا3 1688٥6 ٠٥ دہ 8 ہی
سً آو پا نے
7آ ٢۷ہ ٥٥4ذ ہمحر دی طءنئط× راعەظ ٥
221
59 1 0 7510906 .5..1.8+ 359707۰ 0606 عط
.11 ۷188۸( ط۲ 2 18ئط
٥ط ۵٥ عظلطعا قنور ناەطھ آحسم طعانمزع*“
8۴۲1۷٢۲۵٢ 0 عئط 6 ۷8118.83( ٤ ئہ کلہم
طاءنط 58 ٤۷۱۶۰۰۹۹ ٠١ ٣ 9 ب1985
٢ھ 14 عط رت قاط صەوط۔. 9ۃ
۲818 11668906 عط 5 1و +6٠۴10٥18+
6 1060 م1 معتط(٥ +۰ ایم عط طاعئط
73۰ا( [10ا عط) ۶" ۴۵10 نلنطہ۔83
0107 9ا ئ1:ئ۸ ب2109 نطصدہ 0 ۶و زرزع*
009" ۵0 بطمذء3مءم2 10091 تع ھ 0۴
٤ (0. 6لاط1ء
شا ا 6ء 530188( ٥ط عصنرامہ2
لناعناوہ الات ]۱٢٥٢ ۲ہ" 68 918016
۹ءء 6 .م2۶ صنصنزء ون3 ۲ 18:٤ 13
٥ ہ۲۲ ۔ر٥صصداەز عنط جو 58 .. ٤ء۶
:10. >7 ۳ لا ح۶0٤ دہ 07+ :رخ دآجرہ0
نام5( حر رن٥مصسطھ 6 ٥۶ ,٥1ء ء2
6+ ظاعھمط عطا چھٗسوم .ھ۸
0 ۲۵81ا نانطو۔ں8 09 0۶8 18ں(
٤ن0 ١ 6 000017 20870 ۵٥ ص008 عط
٤ہ ط٥ 1ن 8ہءم یی ند ار ۰ 6] بنطصں 1
- :66ھ عو طاطھ ...۷( ت۵ 3ص٥ ,لصو
77ء د۱ء 1دٗذء نصصد 8-801180ہ۔0
222
تہ "سس جم سسسسسییُٔے ژپسٗ
یا کے ساان سے ملا جات اور انوھ
0 وج ےس اک کے
0+٣ 7
نضل وزا زار جزاي
حا سے بی بل جات کا مدع تا زان سن کال پر درف شک عطاوہ
رز بی تی فو وی با ۷لا وکی بات سے مسا رکوزجیار جا کام وت
ؤو۔ نر ائی تس یف بین اروپ سلطان اف زار سے ان کے شی بل می
0 رر ود سد موں
صدراقت' آپ کا ا کی اعلائی اٹ اور آپ کے مان خفضت تک
+ یم [٤ٰ"ْٰ''"""گ۶ھ مطوے
0 9 و و ہر
ام ین ےکیاب ا عو کو ریہ سے سا جو نکیال ور ا
750 رر لت
لاٹ رات جو ا کی جمااع تکر ری ہے اس سے آگاوجدل اور
یس تر ری ہا: سے کٹا ناپ می کے عطاہ کے لوک نکو یہ
ثارت ضرور پنانمیں اور ج ب بھی زنجبار میں تر کے ضرور طا
کریں۔ میرے پاس اور بھی سلسلہ اہب ہک یکنا یں ہیں میس ان
کنا بپکو بی فرصت میں پے ہو ںگا-”
الگا رہ جا نے تام وق مل اور مان کے سلطان اور جن ود بے صرگروہ ۱
یل کیل و بصو رت لم زنک اسیا لاقات من ظا نکی خلت مس ۱
223
:_ وہ کے اننظار مین لن کپ اِذ وی مد اد رط رک ای
: کے بی در او لطاع کے عربة رات یٹ ارڑی ہے ا یگنر
ہوئی۔ ساملہ کے فحض مما اور ا چیہ جماع تکی خحزیات کا منا _ ٠ گَ
اقامۓ وگ رہوا- پل تی و سی جس تے
. کت بھی اع لام اہر ی اذاز 0110007
. : ذ: بے عالم ہیں ان ہرد قاضیوں س ےکی مرحہ ےکا ہو لاہ
“ ْ کت ظم کا لی سے میں گا کنا ت0
. د +4 ۱ ایام ایل ری جو خسار ام کے نی
باب خلانا ری نہون نے جایاکہ زار کے لوکن خن اعت
٤ ذ ہد را ہے۔ دہ ساسلہ کے لہ یہ ران خر وت
عو ایی تل کاحوق اط مطال کو زج ںن: ٤ تج
ریا ای ری نان ے
ھا کا اذہ خالعا معامیم کے قاصی ہے بھی جو
25 77 یت کی یا لہاان من 0 جگئ انعاتا تی
1
او 021 بس 8 وج 1١و
وق جع میدی کشر ہیں ین خامت را
ود 9م ا ال کا کین ےکا
سا بی نع وبا تہ
کا ہم ۔ 2 7 ڑ یی اہی ا 85 ف ریہ
ا لا ےق ڈك 320511 777 22 ٦ 139 1
9 9131 83ج 9 1 8
81009٤ 1 89 9 لاق ۰.
224
سا ےار کے و ےکن لا
یی ا تا ا اکا
خالق تک رۓ ہوے''
بر ازوں جب ممباسہ جانے کا موشع ملا ان سے متا را اور سمل کا ع ری لرجچر
کے سو سوتہد
مور رے۔
سے مو ہوا ا مین کا ا جو اع تیم حاص لکر کے ارک کا کا
وی میں کل طا زم سے انوں نے ای تاب کسی جوا سریکہ می تی شا
69۶
یی سای می :(ۂ ہہ مصروف ہے۔ واشگین میں یما کی می پوند زا
میس و یگ کیےآنے۔ خاکسارران سے لاد میں ساس ہکولٹی ری دیا۔ سوک
کیاکی ؛ن میں تحصب نہ تھا ۔ککتتابے:۔-
8ة اقط85 وجرنھ صٗہ ٭ ×٥ط وط 3[ ط8 ۱أ“
ه(غ 1[1 26٦68897 إ و دہ 1818 و
۹٦ء زددج×<ہ ٤٥ط ((غ ۱٤ 056 ر670 8 8ص٣[ھ
ق۹ ۷٤ھ 7۷۸۷0817 جرز جغخ 20٢٣67٥7,
8ر:804صطھ
8جر83347صطھ ٥ط ...8ط [78 8×1 ۵(طعغ 115.067
8 188700 560816 906 ہز غ٥ 220۲6
ہزغ و3ء[۲]ھ ة٠ جر.....3دہ ,۲ھ ورز رخ[ 8٥٥
60 5158 (ڑغ 180ج ٢٢ 220۲620675 وہ ر301 صطھ
ز[نط(ہ 5۷ ہرز ب-ء< ہو عطا ررںع پرز ٥٥ 1د8ت
15316708 ۶6۵0ط5 6٥ 0886 2ط 6 ج 1858108
07
2 .
چکےہےثےثےے دا
: ماجہ ص1ا جو 2
0 عصدء (ظم 750 171ا ا 1+06
و ۰ھ ھ)
یت ال کی معارت
مل ا فرلیقہ کے فام کے دوران اللہ تعالی کے زارف
7ع ت2فد ضی و لیے 6جو
سے ٹ جدہ جئۓ رو ایک رر موہ ٹر
6 سو ےت ٍ
و لت کرو مسر وب
عدرنع ے غال ہار 2 : ۱ .2
سے فرش رق بدل 2 رک یھ سام کل ا یر
وا یو
جھتر جو و تر
10كضكييصصیئ""" رر ْ
لم یا مد کے اں اسم فرش سو دج صامپ او کر عو
بب ام انا بی مم خیداصد کے ہاں لہ مورخ کم و کَْ
سے تل غخاکسمار اور رم عیبر ات صاحب بیت اللہ ریف ا
٣ی ص22 سے
وی مہ می لاف اور شی روف رہے۔ مرک نے ے
ِ اروں بذرییہ گی مخ کے ردانہ ہوے۔ ای ککزنہ میں مو بج سے
عم نے دام نیک ہکیشی می ایک دس اھا کرایہ پ لیا ہواتھا۔ اس اعاطہ یش
226
پچھوٹے پھو نٹ کھرے تھے پچکروں سے :افص طور بر تھی یئ گئے تھے۔ ان کاکوئی
دروازہ نہ تھا۔ دن کے وفق تکھرےگرم ہو جاے۔ را تکو قد رے ہوا لی اور
گرب یکی شد تکم ہو جائی ہکا جامس کہ مہ دہ مظان تھا زماں سینا رت ا برا تیم
علیہ الصلہ والسلام ضرت اس اگل (علیہ العلام )کو قربا نکرنےکیلنے لاۓ تھے اور
ل ناک پچھری سے ذ عکرنے پر تیر ہو گے تے۔ اللہ تھی کے فضل سے اس مقام کے
الئلی قریب ٹھمرنے کا موق لا۔ دھاکی ںکرن ےکی نوف تعیب ہوگی۔ رات بڑئی
مششقل سے بس کی کا یگر بی ہوگئی بی ۔کھرےکاکیا فرش بھی جن تگرم تھاف دو ری
رات بھی اىی رح بے ہتی میس جس کی۔ دونوں ارانوں کے آخری حصہ میں جم
سب نے بیدرار ہ کر انگ الگ ول ادا نے اور جھاعئی طو رب بھی ففل دک ر نے کا
مو تع ا اذر دعاتھی س کمرتے رہے۔ مورغہ ۴ جون ۱۹۹۰ء کی شام مکی صصح خیت
دیج گئ۔ زہاں مغخرب و ختقا کی نماز اداکی ۔ نمو رہن جو نکی مقدرن سم کو راز
راد اکی۔ بعد ازال فو ر1 ہم سب نے مخرسامان ع رفا تککیلئے تا رکی۔ اس مبارک
د یکوچ اکر ہونا تھا۔ یہ متیرک دن بحعہ کا دن تھا اور چان دکی ۹ر ذی ا کی
7ت ان ہر سے شش
یامان دکھا۔ دا تال سے ختارکف تی رت ینادان ےکی اوفاننیس
کییں۔ مستون ادعیہ پڑت اوا ری انی اللہ تال ی کے حضور پچ یکرت ہو ے
لی گال لیک ل٦ شریک لک لیگ !ان الحمد والتعمٰۃ
لک والملکٹ لک لا شریکن لکن بڑ نے ہو کے عنات کی طرف روا
ہو اف دلل می ذالنک
بعادی مس سعودی وقت کے عطالق سوا دس ہے عرفا تکیے روا ہوئی۔
ہرااروں یمیس ' ہرار ہا کاریں۔ بززاروں ٹرک۔ پیدل جے والوں کا یم قفیِ بچجھ
7
3
227
لوگ اوخڑل پٍ سوار اور رت ضگمد عوں پر سذار۔ الفرض ابی استطاعت کے مطالق
ہر تنس عرفات جانے کے داسلے بے قرار تھا اور رمت ای کاطالب اور زوال
سے لے عرفات یئے ۳ وت نات رھت
دوال ھا جماں نو ر حم اورانوار ای سے مور حم حھارے مر مصق ما 21
اتی امت کے ای کک را حا عکواپنے خطاب دل ڑم سے وازا اور فرایا:۔
رمسلمان بھائ یکی جان وما لکی اس طرح حطاظ تکر ناو ران
کو اپنے لے ترام کجھنا جس طرح تم اپنے مال و جا نکی حطاظت
٠ گرتے ہو۔ عو رتو ں کی آزادیی ادر خ:اللہ سے مب کی خاخی
و 1ی
مناسسک رج جس سب سے پا فرلیضہ اللہ تالیٰ کے عم کے مطابق مییران عرفات
کادتوف ہے۔ اگ رکائی تنس میدان عرفات میس ۹ ر کو زدال سے تل داغل
لہ و لوا کا رج میں ہو۔ :
الد تما لی کے ان عخاق کے تا ےہ مخلف کھوں؛ محخلف رگوں؛ ملف
کواریوں پر ادج پیرل تے ردان دداں تھے۔ اکسا رکو ساخھیوں نے ام رتا
جایا۔ جم چپاروں ب سکی ای کیٹوں پر ٹیٹھے تے۔ اس دد ران بھی تبیہ اور دخانھیں
ارت جاتے تے۔ ہرعن نے اترام باند ھا ہوا تھا۔ ہہ الیک جیب مظ رتھا۔ آٹڑھ
کی لاہ کے مئ مس سے پ ھا ڑا رد جوان “سیا ءد سفید نل کاانسان اخرام
کچھ ہوۓے تھا۔ پرانسان چجزد اکسا رکا سم بنا ہوا نظ رآ تھا۔ اس میرک ومقرس
ای خی ۲ن اع کے چجرے نک رے تے ادن نعاوات نو ں کو اس
ال ایر اداکرن ےکی نعیب ہو ری تھی۔ ہم یو نکھنغ میں مزدلفہ یچ گے۔
یف قرے تزی سے بڑھ ربی تھی ہم چچاروں نے باتی س بکی رح جو انل
228
ان تن مر کے نے و کے اک رک ان
عرفات ین کے کااخقیاق بڑھ رہا تن ہمازٗی خواہشل اور قمن ع ی کہ ایک منف
ضائع ہو ے بغیراللد تقالی کے تع مکی نیل میس اس باک مقام پر می کر خدانتھالی کے
ور صریہ ود ہو جاتھیں ججماں پر الد تھالی کے فرشتوں نے رت رسول متبول
لا 1 خری قرآنی دی نستائی شی الوم کلت لكمدتکم واتسمنت
علیکم نعمتی ورضیت لکمالاسلامدینا (× رہالمائدہ:۵)
ہماری ین مزدلفہ س ےگ رگنی۔ مسر نرہ نظ رآنے گی میدران عرفات کے
جے انی ان و شوکت کے سا خ ھکھڑے دکھائی دی گے۔ یم سب نے مد ائے
داع کاشگری" اداکیاج نے ہمیں ہہ دن دیکنانعی بکیا۔ از یگ دنین کگئیں
ایز تعای کے حضوں بر تم آگھوں سے دعانھیں پڑت اور تہ کت ہم مد بھرہ
کے باب ہی گے او زان کے حا بی مز میران عرفات "می داشل :و
گے ۔ ہم میران عرفات کے نٹ یھوں کے آگے سےگذر رے تے۔ اس مقا مکی
علاش می تھے جماں ہمارے مععمر نے اپنے حا کیلع سے لگا ر کے تے۔ ہہاری
وش نمتی مہ نبل رعت کے قریب جا را ضیمہ تھا۔ ہم نے بظگی رہ کر ایک
رد
الحمد لله الذی مدانا لھذا۔ الحمدلله ٹم الحمدلله ٹثم
الحصدللہ اپچنے مہ مس دعائیں کرت ہو نے واشل ہوئے۔ سامانٰ رکھا۔
دک ےپ ان ںی سے تا ا 0ئ نے
ارغ ہوکرسماتھیو ں کی خوائنل بر وہ سب دعاتیں بڑھیں جو عضرت رسول ارم
ےڈ نے اس میدران می سکی تھیں۔ ان دعھانؤں کے اخقام بر دم تک سوز وگداز
میس ڈو ہوئ یکیفیت کے سا رقت سے پر درد انز جس اپی زین می دعائیں
229
ییں۔ حخرت سے موعود علیہ لسوت والسلام کی
سم یک
0 سس ساد وو
ا ہر کے منامیک ادا سا فی عطا فرمکئی۔ وافر پر رپ
ےکر سی ےو ںات
ریت اور لد ڑگ کیا اد کول مل تاد چا رے تھے۔ مدان حفات
یا پر کی جب سے دو رکاکھا مایا جا ے۔ہنارنے مل م کان ہوئی
٠ لی زی سے بوائی ما کایھا تج زتز پک رکٹ رپ ھا۔ ہم ب ال شال
کا ےت ہت ریت س ےگ رے۔ خالم اعلام 'اجریۓ '
اھ کک ای مان ضر ارت اخ
وت کی مو ور اوغا امک کاق مو و وٹ ار
نام ب کی ان کی و بی رین ضس مم یٹس کون
7 شس یاد رکھا۔ ان عاؤں کے دوران معلم نے بھی کا وا بھوک گی
وو کن
یک لھا رر عحاء سے لوا زا۔ جج پھلوں کے ڈڑۓے بی رے
ول 0ی تا رو ازم ا
سے فا رر ہو ئے لو نماز جح کی تار یکی۔ آ۔
آڑے دق تکی دعا اور ہل
230
مرن اع ظز اما تی
ا کے یک کا
کرم مسعور اج خورشیر صاحب نے گی اذا ن بعہ ٤ ٢ 2 بھی
1 می نہ کے بعد دو صری اذان *
دوران چم سب افراددعاوں میں مخ ا 2ء ارک
مسعور اع و شید صاحب نے دیی۔ اضا بکی خوائئش بر غا بر نے ان ما
پ 2 ۰ 7
نے رخدفال٢
ح کاخطہ. دہا۔ خطیہ میں اس مارک و نکی سعاوت لحییب ہو ے پر غد ا
آخضت لہ کے
ٌ تت حضرت
ےک یا ا کت عد تج
۱ ادا برای وس وا ور و
وا ا 7ھ 7
7 ٍ ے تے۔ خطبہ اور جع کی نماز کے بعد مھ 7
یہت : 1 2 تت
ودک یگئی۔ نمازوں کے ش عکرنے کے بعد بچلردہ دعائھیں“ : 00
ان عرفات مس ری ا
ٌ ً ے 22 : سے رٹل ما
ایس جو سور معوذ تی نککادرس دتے ہے آپ ن ےکی می 3ود 7
2عا ںا ٭
سسستچوژڑوچت
21
آدمیوں نے جار لان انا ور ٹس پر چیا ریا۔ ہم
شس یھ کک آٹھ دل اکا مکو کی تار یکررہا۔ ابی مخ بک اذا
ہونے میں پندرہ منف تھے کہ شس ہیں
رن کم یآ رصاق وی یح
س2 قر جچھروی جو می کر
ان ئ نے مررطق مو من کرت دای کے
ارام کی رف آ ری یا ہیں جل مجنوا رام خی کی تنا تی ین نے ہیں
: ارس یوک ٹا کی شحرت مود را کاٹ اد کرت نے یں ے
گ مور غدموانچ ےر میں
ھٹوں لص جس نے ےکیاادد داں کی ماں ہم نے ا مکی ھا قام مزرلفہ
ہو مم پیم ویو ان ید
المشعرالخرام واذکروہ گِباعقدلکم ( 1ر 7 القر1۹8:3)
سب دعاگرتے ہویۓ یں
٠ اون ہکان فدا حب فو کڑےاپچاکر لی ہہوۓے تھے۔ بی دک
ژ٤ ۴ت کت تھب“ * ال بای کیہ کر پھر رے تے۔ انی کا ایک ئن رو ریالی میں
و ا رے۔ کچھ در بج خاکسار اد ر تر وت ۰ای وج سے رت
. ج ھت ۱ ارکٹ مھ لیے ہو اہن کلت لا رک روم رج
ً سے سامان باند ح کی آدازیں ال 3 ا ارت می مد ریۃ ہو گے فداتقالی کے اتسان کاشگر یہ او کی۔
07 ا 7 9 ت
ہے تے بھی انا سامان باندعنا شرد عکیااوز شیمہ اکھاڑے و الات چان کی مخت پےن ارمے ج ں میں کت نر ھی۔ زم رکڑے
کی طرف جارے مہیں۔ تم سک
جانے لگا۔ سور کو بھی اب اللہ ر
گر اود چنا پیک درا ذذ او جلا ری خی میں بے سے ھی
7 لوکی ہیاۓ میڈری ہوا سے جانوں میں ججان آنے گی '”م آھے- وک آداز دفو نکی دائی بد ہوئیں۔ جب نے و
ہو نے ے- ور پک
232
سب شس ا شش سض رعش
اضاعت کی نغماز اداکی۔ اپناسامان بان ھااو رھ نکی طرف لے میں خراب ہ
زین ان ای کین مکی زذشی نے و مد اچیب نار
سے ہم مفرون ے دوگ فا کی از ای رکٹ گے ےط اس جن دسر
ہوک لے ھئے۔ ہم بس !تھا رکرتے رہے۔ میک ہوکی تہ یں کے۔ سور کا
از کابھی خرف ھا۔ پا خر ایک ون حاص لکی اور جم بھی روانہ ہو ے۔ لت
نز یی( ڑھای میں کی صنافت ےی ال و نت تھے اپ انان
ماۓ می کے قیام یس بیجے۔ یہاں دوہ رک ساڈ سے بارہ جج تھ۔ جلد یی
رہ و کوکنکرمارنے لے جئے کس کرت ہو جقرو عقبہ کے پا یے۔
لین کا ان بھی ا ام ںان کلک می برقت پا ںکگ ہے۔ موس بے ح
یں و گر میل دم میل چنا ڑے قے وونٹ پلک ہو جاتے ہیں ۔نرارنے
کا یت واکرنۓ کے بر نے دو کے انی قا مکش دا ں آے-
شی انیو ک ایض اواکرناتھا۔ ربا نگاہ ہم سے ا ڑھائی من در ھا-
قت زی ض یےرک اک کر
کیا۔ قربانیوں کے ریز کے پارہ می سر مود اع خورشید صاحب اد رکرم شی
ا صاح بک ڈوڈٰ یک ہم س کی طرف سے توبا یمک ہکمیں- سللم ےآ دی
کان قیتوں مو مک کےا دو نے ہم سب کی طرف سے ۹یرے وددہے
ر2 ہردونے ا نکوذ کیا انائی مشکل کے سا شمد یکر اور شرت
سی امیس ساڑ مھ بانچ یج زال کے قرب انی ام گہ بے ۔ اس وت مرکا
ا ےر وت ا
ھیں۔ کک ہکرمہ جانے کاپ ورام ہما طواف بیت الند شریف کی غرضل ے-
ا ا ا کا ا و ت7
233
سب نے ححرمنڑاتے۔ سن ےکپڑے چے۔ پل رم نے بمیت الد شرف کا طوا کیا
دای سکییں ۔ کک کرمہ سے بار بے کے بعد تی ن کے س میں نکی تعلیف کے
بعد من یجے۔ پ رسود خیف پچ اور یماں سے انی قیامگاو گئ ۔کھاناکھایا۔ نما زی
اواییں۔
مورہ ۵ جون پروز الذ ار می می جنار ا قیام رہد خلمرکی نمماز کے بعد رئیکرنے
گئے۔ پور یکونشش سے جمرة الادلٰ ھربمر الس او رھ رجمرۃ العق ہی تک جیے۔
تی ںک وککریاں ماریں۔ شا مکو مخر بکی نماز کے بعد ہم خی لکییش پر چڑھ گئے۔
آج ساراشم رک کی روشنیوں سے بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ ہم نے اجماگی دعاگی اور
ہک یآ
جون مخیی میں جمارے قیام کا آخری دن تھا۔ من ےکو شک کہ مس ی کا
اتظام ہو کے گرنہ ہو سکا۔ پر نماز ظ رکے بعد جنوں حیطانو ںکورشہ د نکی
طر حککریاں ماریں۔ عصرکی نماز ب ھکر بذ ریہ بس مک ہکرمہ والیں آگ۔
وایی بر ا می پیھے ہو فارعا بھی نظ رآیا۔ شا کے وق تک رم بچچے۔
مقرب کی نماز کی زان ہو رجی تھی۔ اب نفضل خدا نحام مناسک ٤ ادا
2 گے 7 2
مورخےہ ے ون کی ظام گرم صعور اص رر ماکمار او دترم غبراھ
صاح بکو ہنحضور کی جا پیدرائشی دکھانے لے گئے۔
ے جون سے ۱۴ جون 1۹۹۶ء تک جمارا قیام مک ہحرمہ میں رہا۔ مورخہ ۸ جن
رم چوہرری مھ علی صاحب آف فخواب شاہ بھی ہمارے ساتھ شریک ہو جئ۔
جع ہکی راز مس بھی ہمارے سا ہی تے۔ ہم پانچوں نےکر وپ فوٹ و مچھایا۔
*٭اجو نکو جعہ تھا۔ نماکسا رکی قیادت میں اعد بھانیوں نے انی قام گاہ با
234
جح کی نمازااداکی۔ وامُرللد
ہے ریا رت
اون ام خاکسار او رکرم جو پرری شمیراجر صاحب پریینہ منور ہکس روانہ
ہوے۔ رپ منورہ میں مععمم نے ہعاری رپائش کا/ تظا مکیاہاتھا۔ وکی تنا تھ یک
ری متورومیں سات آئٹھ ون شھمرنۓ کا مو ػع لے لین قیام مق ررہا۔ ج کی وج
5 مم"
آیا ہوا تھا۔ یما ں بھی ابتی نہ اگیزی سے باز نہ آیا۔ اس ن ےکی ں کہ میں دو ران
مناسنک بیت الد ریف خاکسا رکو مھ لیا۔ کہ می تو معمول کے مطالق بنضل ر١
سب مناسک ساخھیوں حمیت آداک رت پانھراس نے بل سکو ریو رٹک دیس ےکم
ک رکہ خاکسمار خی رمعم ہے اور یماں آیا ہواے۔ بپرینہ کے معلم سے دو جن دن
بعر جب الین نے شی نکی ق اس نے اک چایاکہ ضردازی زیارت آپ نےکر
سے ای مال جات ہیں وقنہ بی اکرتے ہیں۔ اس معلم ن ےک ماک رپ کے خلاف
وق نی ا ا ا اک جرف نے
بعد ایک شام اس نے ہیں سی کک پنیا اور مٹھاکر انی طرف سے معمشن ہوکر
چلاگیا۔ خی میس ٹن کے بعد جب برین ے باہ نے گے فو مض بکی نما زکاوتت
تھا۔ زاین ہو ھی تن نعل لوک خماز نو زس ےھ انی یش کے
سای نے ہم سے پاسپپورٹ ویک کے بعد با وص بھ سے دو تن پار وریاق تکیا
ا یت ماک رت ایق ری پاب نا افافیت ارک اس“
کاٹی دہ تک بار با بی سوا لک با اور ماکساز جو اب می ابنانام جا رہا۔ آ
اسے اعمیتان ہو اک چم ضل نما ملنان ہیں۔ اس نے میں صرعد سے باہ رنلن
235
کی اجازت دے دی اور سید ھھے جدہکی طرف روانہ ہوئے۔ جدہ مت کر ایک
دوست میاں مو متت صاحب کے نے سعید اع صاجب کے بانج کت میں
ازم تے ایک آدھ دن نا مکیا۔
7 ینہ منودہ کے قیام میں سب سے اول مد نیدی اور جخرت رسول اگرم
ما کے روزہ مار ککو ویھا ۔ مواشل وا تک ۔ یع فو نل ہضور گے
روزہ پارگ پٍ درود شخریف اور رت کے موگور علیہ السلام کا تیر لت
امت ئل 9۹۹77 """"
کے متلق ہجو یھ آخفضرت مو نے فراا| کے پیٹ نظرنواخل ادا کے اور دعای-
ہج جے۔- ہے
ہوئی۔ مرینہ منورہ کے لت اور علاقو نک بھی دیکھا لان بی تی اور تی
ہے کہ ہے کے
07
جدہ سے نیردلی کی دو مرے دن فلائٹ معھی براستہ عدن خریت سے دای
کی اک ا یں زی کنا کے
کیاکیا۔ بیماں یہ عر ضکرنا ضردری ےکہ ماکسا رکواس کیل بکرم برادرم ڈ اک
ظف رر صاحب ای نککرم عبدالکریم صاحب ڈارتے خررج دیا۔انہوں ےا دالدہ
زع مکی رف سے خاکسا رکو ج کیل کو ابا الد نقالی ہردد (ڈاک رز صاحب اور
ا نکی دالدہ )کو اپچنے خاش افضال سے نوازے ۔ آمن۔
236
مشرقی ا فریق ہک الودا ع کے کاو قت آیا۔ الم دللد اخام خ رد خولی سے اس دور
کا ہوا۔ ماکسمار ۳٣ اپریل ۷۳۲ءکو جد زلعہ ہوا جماز نیردلی ای یرٹ ے ٢٢
سال بد روانہ ہوا۔ الوداع سک ےکی مقائی اعت کے احجاب۔ ارلقن لززبین
اور لیڈروں اور جھائی عم یراروں نے پیا اور جداگی کے احماسات کے ساتھ
دعاؤں کے ساتھ رخص تکیا۔ راست یں دو دع عدن ام ہوا۔ محترم ور
عہراللطیف صاحب ُُُٰٰٰٰٰ٦ 7ھ
احاب جزعدنع کے قرجب بی شمرہے بھت اک سے نے اور خاکسا رک پاکتا نکی
:وو ری فاٹ ے روا زےکیا۔ مورضہ ۵ مئی ۱۹۷۲ء ىہ عات کرا تی سے ریہ بط رلعہ
ناب اپ رلیں خرد عافیت سے بہنیا۔ اپالیان روہ نے تشیر کے اضسران سحیت اور
مو و ہسوسو رج
اکا ر کے قیام و راک کے ترک ہدید نے دہکو ھی شی یکی جو سح مود کے
قرب میں واقع ہے۔ پھ ونوں بعد اس عاج کو در انجھن اریہ میں ہٹف لکیاگیا۔
تح یک کے ادارہ میں اکسا ر 10851081300 0 ھا۔ 7ظ نت
تی کارر وائیاں ہوگی رہیں لا خر حخرت صاجزادہ مرذاناصرامھ صاح بک گا
مور بر خاکسار صید رانیھن ای کی نظارت اصلاح و ارشاد میں شش نکیاگیا۔ ان
ونون کم مولانا جلال الرین صاحب شس نا ظراصلاع و ارشار تے۔ ۔ ناکسا رکا
ال ہے کا مکی زبادتی کے باعث محتزم مولاناصاحب نے بھی خوا ئن لک یکہ خسار
ان کے ساتھ کا مکرے۔ چنائچہ ناتب نا ظراصلاج و ارشار کے طور پٍ لقرر ہوا۔
سے سے سے :
ث
لورٹ ے الودرغع
تال
237
مورضہ ٭امئ یکو جامعہ ای (جو مجلش نکی تی ری اور ٹرنچنک کا نف لی ادارہ ہے کے
بر نل صاح بک خاش پر تقر یکرن ےکی دعوت دی اور مو ضوع یہ مقر کیا
یر تجریات و شر ات '' تقریر کے بعد لباحرتنے سوالات سے نے ان کے جو بات
دی ےت مورضہ ۴ا مئی ...7.35 ال لاہور میں جماعت لاہور کے زر
امام ایک تیم جلس کاانعقاد ہوا۔ اس میس ححتزم مولانا زیر اج صاحب مبشرنے ۱
مفرلی افریقہ می اسلام کے موضوع پر نتر کی۔ آخری مقر اکسا ری ” مشرقی
افریقہ میس ینغ اسلام "کے موضوع پر ہوگی. پال امن سے بھرا ہوا تھا۔ سردار
اقبال صاحب جج پائیکورٹ' وکلاءٴ بی رسطرادر شمرکے معززین ایس لم میں
موجور تھے۔ محتزم شی بن اھر صاحب ان دفوں لاہو رکی جماعحت اریہ کے امیر
تے۔ ان کی صدارت میں ہہ جکسہ تھا۔ مد کے فقل سے تقر بمت کامیاب
ہوئی۔ بعر میں معلوم ہواکہ جناب ڈاکٹ لاح الدین شس نے اپ داللد زم
مولانا جلال الدین مس صاح ب کو ایا کیہ ان کے ساتھ ال من علامہ علاوالدن
صدلٹقی صاحب تشریف فرماتھ جو اسلامیات کے ڈیپارٹھنٹ ناب اونیذ ری کے
ہی ےک انتا رکی سن کے دز اع نکی نول سے آمنو روا نت اور ہت
متا تے۔ جلہ مفضل ما خرد خولی سے شحم ہوا۔ جاک سے احاب اور محززین
7 رےت بصاح تکو اص اعحیینان ہوا۔ ارت ا یئ دن دوچ مکاگھان پرادرم
رح مج شریف صاحب کے ہاں تھاجس میں بہت سے ایا بکو اور معقررین
نی نماکسار او رکرم مولانا نزمہ اج صاحب ممش رکو ید وکیا ہوا تھا۔ جن مر ریف
صاحب نماکمار کے بہنولی تے۔
مو رہ ۱۸ای ماکسا رکو جنگ جانا یڑ اوہاں پاسپپو رٹ دخیرۃ الیس لی کے دفڑیں
دکھانا اور انی آ کی الا عکرنا تھا۔ جقہ بھن کک ات یہ مسچد یں اس رو زاداگیا۔
238
ؿا سے تل ین نے زا ایی دیپ مل غدام الاحد نے خانارک
ا۶:از ٹن گت جاۓ کا/ کا مکی تھا۔ شام کاکھانا نیم صاجزادہ عرزا مارک
ا بے ان ھاے یھ ونوں کے لے نماکسا رکالیہ لع یل آباداپے
مسردل کے باں چلاکیاو رپ رلاہو زی ایی ہوگی۔ اپے زیو ادربھا مل
کا دک مور شی ا ات ول از ظا
ہر سے مس ا
:0 4 408+پٹی
تال من اخ لکیکیاں مورشہ ٭زیئی خاکسار ڈای دو آیا۔ مور ا٣ ا
,۶/۶9 17 1+“
۲ہیفٰفف'"ھ)۳
جن ٹئ تق کر نکی ےکی اللہ تقر کی تق ان اندازم گی
ان دنیں حضرت خلیف: اچ الثانی علیل تھے او رحگران پور کا تام ود اہ
7 رر رر رش مر
ول ھا ر۱ ریغ
اح طرکز ری سے ارجا پا یل بایتام باسی سام ہکی ضرورت می
پاتے قذ مالسا رکو ا نہ جلہ انچارج نظارت اعلاع و ارشار مقر رگیا 2ئ2
٦ ت ×1
خقرر ہوا اور ری کاموں اور مہ دارلو نک
شی کیا ال رن صاحب خاکسا رک داہ
رک خصیت تے۔
ین ضاح بکی عدم موجو دی شش
دا کو یک رن کک
غمائ یکرت وہ ان ٤7۶ھ ۶ھ“
ناکیارے بہت اتزام نے شی لآتے۔-
29
دی-.-_--- ےتسس ے٤ ےےےےے ےس
: موہ ۲۵ جون مگرم موان ام ماع صاحب لیم جو نا را لاج دشار تا
تل ا نکی در خواست پر ملا کے علا یس بل بلیاں کے جل۔ میں ۱ ھ2 :
1 ےہ ٰ : سے میں ان کے سما مج
تی رات کے دقت جل۔۔ کاانعقار ہوا۔ ماکسار نے بھی تقر ؟ ٦
کے لوگوں کے علادہ ار دگرد کے دیمات کے لوک بھی شمائل ہو ہے گ 7
4ء 0 نّ ے : ٌ_
عص رکریم اور ردانہ ہوئے۔ گرم چوہدرری مھ حیات صاح ب کی جو ٹی میں طط
وہ جس بھی رات کے وقت منحقہواں لم کے بعد ارات ایک ہے :
۰۱1۰ : تب ہے راو ہو
۱ ھا مال ۱۹۰۲ء کاان علاتوں میس خلیقی جلسوں میں شمولیت کا مو تعن ا
وت جب ےہ پان ٹم َ
: ۴ ل ان جگرون ے
ْ وق میں صحموعیت سے توایت کا مع لا۔ سیا 2
۱ ھ ضیدر آ ید بن می" می یر فاص ند مخری پاککتان کے ان 2
۱ ] ہے پا اکنا سے آن کروں
َ اہین مریرون کا موحما۔ جخرت صا جزادہ مرزا نا صراجر صاحب کی
: میں حیدز آباد اور ھی رر اض سدھ جانے کا مو قح لا۔ علاوہ ازء 7
ال کہ وی یس عللف بھاعتوں کے جلسوں می بھی شرک تک موقع ما
کے برنصن مژیہ ماکاک اح گر“ یناج یارھال ٤
کت : 2 وا ا ور ہ-
1 ناکے وورول مل حمقرت صاتزادہ مرا نا ضرا صاحے او صا7ا
: ِ 7 ر2 یئ
4 ہراچ صاحب اور تحخرت ولا نا الو العطاء صاح ب کی معیت ٹاکمارا
2 زی میس شال ہو رہا۔ کچ رت
ٗ ار اہ شا
ےت ےت چاو اس ا
٠ : ' : لوا رت زور
ہنشت ا
۱ ً . : مد 2 ہر علامہ لاو بن
ایی صاس بکی صدارت میں جناب ڈ اکٹ خالد خزفوقی ”اسلام افریقہ میں “کے
240
:سشظ: ص ص
مو ضوع بر تقر کریں گے۔ حفرت صاجزادہ مرزاناصرا مہ صاح بکی معیت مس ا
مزاکمار مشرتی پاکستان سے وائپیں لاو رئیا تھا دہ ای دن ا اک ا ا
مار ا نکی اجازت سے لاہو راس حلہ میس شائل ہونے اور ڈوک خالدکی ری ۱
سن کیل ر کگیا۔ چنیاب بونیورسٹی کے پال می یہ جلسہ ہوا۔ اکسا ر بھی ساسمجن
میس شائل ہوا۔ ڈ اخ غزخوہی نے جب اسلائی مبلخو ںکی خدمات کا2 رکیا اکر
یگرا ہم کے انار اور فرا رکا بھی انموں نے وک رکیا ور سا می نکو ڈکٹرغاللد نے
جا کہ ىہ واقد نانامی ہوا۔ جب وہ تقر خخ مکر گے نو صاحب حر نے سوالات]]
کی اجازتا ری۔ سوالات ہوتے رے۔ اض مو تع بر خماکسا ربچ یکھڑا ہ+وااور
صاحب صدر سے اجازت طل بک کہ سوالی خی لن ایک تی کر جا ہت ہوں۔
کٹل یگراہ مکو دعاکا جج جو دیاکی فدہ انا میس خی جک ہکیفیا یس دناکیاتھا اد
انیس زعاکا پیم دیے والا یہ عاجز تک ا کی کر جی ھکیا۔ ارے این ادا
عاضرین خاکسا ری طرف موجہ ہو گے اور ھن گھے۔ بعد میں حتزم صدر علام
علاوالدین صاضب نے نے صدارتی ریا رکس میں خاکسا رکا نام نےکر کاو
کساک میں دش صاحب پر فھرہے'' جنموں نے ب یراہ مکو جج یا تھا بعد ا
ڈاکٹخمالد صاحب سے سنا جنار- ۱
اس دوران ایک اس خالق وین با لکرا تی مین ہوا۔ بی ان دنو کی بات ح/
جب محتم ش رحت الثم صاحب جماعت امرب کرای کے امی رت ادر ان گا
ماس سی اور جدوجمر سے ال جط.. کاانعتقا بدڑے اہتمام سے ہوا۔ عخرت مو0 ]
۸
3
۳۹۷۳۲۰۳ھٌو/,
فی دعوت کارڈوں یرک کرش رکے معززی یکو جوائۓ گن ۔ ال بچھا یجرلا
وا مت سے سزامی نک وکیڑا بنا ڑا فضل دا یہ تقریں پاش میں۔ ال
241
2۲ج غ٤ عیارخ زی ساح اق و نک رای تن
ےد وی این جا کے سائمتنن میں شال تھے جات نم ودنے پر جب پر
لے چچوم نے جم دنو کو آگھیرا۔ ایک دوست نے ناکسا رکو مخاط بکر کے نے
بی کے عالم ی سکماکہ آپ ابد اَکام کے ۔کرا بی م کی دقع جانے کا مو تم
لا اور پربار بمعہ کا خطبہ وین کائبھی افاقی + رہا۔ اباب پربار فضل خ زا تار
می رین وو تر ےب ار
گئی بار جس خدام الاتیہ کے ھرکزی انخاع میس تلقین عمل کے موضوع پر
ات کے ما کا زک رجات مر رصاضب کا کو غاد تی طرح
گیل انصار ئن کے مرکزی اہججاغ می تائد اصلاع دار شا کی خثیت سے او رکھی
اپ صدرادر قائمقام صد رگاس انصار اللہ رز کی حقیت سے الق ری ںککرتے
امو حا رہا۔
خوب یاد ہے تاتحقام صدر ٹس انصار اف کی حیت سے سالانہ اجشاح کے
موبع بر ماکسمار نے ”وکر ای '' کے موضوع پر ممسوط مقر کی اور لف پزرگوں
کے ایم داقعات بھی اس نقرے میں مان کے۔ نتر کے بعد گتزم صاتزادہ مرا
لصاح ےم کے ارہ میں تی کا مار فا وو رن کے نے
ضردرت شی اس موضو عکی_''
دو نین مرج کتزم صاتجزادہ ہرزا ناصراہ صاحب نے جن ونوں آپ تقلیم
الاعلام کا کے بر نل تھے خماکسا رک وکا میس تقر رکیل بلایا۔ ایک وفع لاہورمش
جج بکہ کا 0۸اک عمارت یش تھاخاص اترام سے تقر لئے دعوت دی اور
از راہ ریالی اپے صدارتی ریھارکس مم غاب کا تحار کر دیا۔ کا کے تام
ور با اور جض رو سرے احاب بھی شک تھے ”شی افریقہ میں تی
242
اسلام “کا موضوع تقر رکاتھا۔
جب ناکمار ربوہ آیا نو محنژم رت صا تزادد جرزا نا صاع صاحب چلی
ےل ای ےا یر ا
مظرر فرمایا اور تر اصلاع و ارغار نامز دگیا۔ ہن زیت ہرسال مایا جا تھا۔
انصار اللہ کے زم اتظام اس ہفنۃ ترمی تک خاکسار نے تربتی مفسائین بر چھوٹے
ہل رسانے او رکماچے رب ؟ے۔ متودد ھتہ جماعتوں میں انصار اللہ کے
اجشماعوں میں محنزم صاجزادہ ھرزاناصراصر صاحب کے وفد میں عابجز بھی شال ہو
رہا۔ بعد میس مم صاجزادہ مرزا مبارک ام صاحب الصار اللہ مرکزبیہ کے صدر
تت2 آپ بھی اس عات زکو اپنے ساتھ لے جانے دالے وقد می شال
ذریاتے۔ آپ کے دو رم اکنا ا راو رکبھ ی بھی تاتمقام صصدر
کے فرا کل بھی انام دیے۔
عرکزی لہ سالانہ ریودٹیس قرب یں
اکا رک لنند تا ی بے نٹ تعیب ہو یکہ قام ربوہ کے ووران پر عال
جل سالانہ روہ می ۱۹۹۲ء سے لم ےکر ۱۹2۸ء تک نظارت اضلاح و ارغاد گی
ہریت کسی ن کسی اہم مخمون بر تقر کرنے کاموئع متا را رہ کئی نقری یہی سکعالی
صورت میں شائع ہوکیں عض کا اگریزی میں ترجہ ہوا اور ایر لفضل ربوہ
می اس عرص کی سب نقررو ںکو شا کیا اکیا۔ نمو ند عنوانع ججن بر جس سالانہ
عمگزہہ می تقر سکیں در نکر داہوں۔ شخم و کی عقیقت ' میاں دی کے
حوق اور فرا کل “ظت راخر: کے لاف عازشن اوران کے ا ات" وی
سے متعلق وروی نظظرے ؛فلفہ زکو ۃ ۰شان آخضرت صلی اللہ علیہ و سم دخیرہ
ممیت
243
رو
حض اوقات اتی عالات کے پیش نظرریوہ میں خاص جلسوں کا اتا مکیا
ج]۔ لبنض فتنوں کے نشی ظظراییے بی ایام میس ایک اہم جکسہ سد مارک روہ
ہیں منعقد ہوا۔ اس جا ہکی ایت کے ٹیل نظ رمسو رکا اند رون اور پیردن باہ رکے
وروازوں تک بظرا ہوا تھا .اس ججلمہ میں ” خلیفہ مد ابنا] ہے "کے موضموع پر ال
ان زور تڈ کی۔ سامتین نے شا ١ش ایاں رت خلیفۃ الج اڈالۓ“
ایح و وت کی اق مان کو وت نتر مز مل مس
سنا۔ بعد میں محنزم صطرت تاصی مج نز صاحب ناظراصلاح د ارخاد ے اعرار
سے اس تقر رکو ما اور ماکسمار سے کو اکر اسے پیفل فکی صورت میں ال
کید
درس ق رآن ٹیر سعاات
جتنا عرصہ ربوہ رہا۔ رمضان البارگ کے با کت ایام ٹ نظارت اصلاع+
ادشمادکی ہرایت پر ہرسال چند پاروں کادرس قرآن مجید دبا ربا اور یہ درس ید
مارک ربدہ میں ایک مٹیم اتا میں دی ےکی توف متی رہی۔ ایک سال رمضمان
ایارک مین لا ہو رکی جماخ تکی در خواست برک می مغ کو در کی ون
وایا جاۓ نظارت اصلاح و ارشاو تے اکسا رکو تاہور مچجوایا- سورہ رتمان کا
۷۷۶۳ ےل مرو نے ما رت
احباب سے دارالزک کی مد جھرىی ہوگی تھی۔ میرے قرب میں حتزم ححضرت تقاضی
مھ اسلم صاحب بھی روفی افروز تے۔ دا تقال کی خاص اتد ونضرت سے در
ھت کامیاب ہوا اور مقبول اور ما شمرت کا بایعث منا۔ اس شرت اور قولی تکی
244
کے را کے ح ہہت
اعراررے فرمایاکہ تھمارے ذمن ٹین درس کے نات اور مضائین حفوظ ہیں اور
تصیلات بھی۔ رسالہ الفرقا نکیل کک دیں۔ چنانچہ ان کے ار شا کی اتیل میں
خاکسمار نے ا درس کے تضرو دی اور اچم قفا ت لک دنیے نا انہون نے بضرخوتقی
رسالمہ ال رقان میں اس ور لو شا جکیا۔ بتز اہ ایند تقالی ان الجزاء
گور مر مفری پاکستان سے اجحربہ وف دکی ملا تجات
ہت ال اس رم ا ا ا و سا
۹٦ ۹ ب و ضر اکر یا۔ نس پر حضرت
صاجزادہ مر زا ناصراصر صاحب صصدر صدر امن اعی نے ایک وف موی فا
جس نے ۲۸ ججولا یکوگور نر مخرلی پاکتان ملک ام رج غان نواب آف کلا با ے
لاہور ٹیں طائقا ت کی اور تادلہ خیالات کے ساتھ ان کی خد مت میس قرب ساٹھ
ری بک ا رکٹ
ہر ا کک لے را ا کی یں رت مامتا ا طاہ ر۱ صااب'
مالر اصریت مولانا ابو العطاء صاحب اور لتضل دگگر زم دار ا رکان کے علاوہ ہے
خماکسار بھی نا ظھراصلاع و ارشاہ کی حثیت سے ال تھا۔ ننیہ مہ ہو اکہ دا کے
فففل رکرم سے قریوو ہزیۃ بعد ضٹلی کے عم بر نظرخانی کے بعد ر سال ہکی اشاعت
کی اجازت دن دگی-
245
منرل ات
قیام ربوہ کے دوران خماکسا رکو جا افمآء کا بھی مب رحضرت غلیفت الج الات
نے مقر فرایا اور جتنا حرصہ ربوہ رہا جا افاء کے اجلاسوں میں تائل ہو رہادور
گئی س بکیٹوں کا حرغما ربااور اپنے دو رے ساجھیوں کے ساتھ مخلف مسائنل
ری ری مرج بکرتنے میس حح تا را۔
_اکسا رکو اس عرصہ میں میلس کاریرداز مصماغ فبرستان کابھی مب رمقر رکیاگیا۔
بت نااعرگی سے اور گر مندبی سے اس مھا کے اجلامات می ہے عابزشٹائل ہو٣
را اور عتعدد معاللات میں مومییوں کے تعلق میس دو سرے مھببروں کے ساس م لکر
انا گردار ادا کر رہا۔ پاکسار کا بالوم قواعد کی دوشمی می نرئی کا رو رہا۔
نفرت خلیفۃ اچ الال کی ہدایت پ ماکسارتحز یکیبٹی کاٹھی رکن رہا۔
قضاء بو رڈیس شمولی تکی برایت ہوکی ۔کئی ھرحبہ یو رڈ میس شال ہوک ضرد ری
پیعلوں میس دو سرے مبروں کے ساتھھ ضردری فریضہ اشجام دیتا رہا۔ جامعہ امریے
کے اسان زی منرری کا 1یک مین رت غلیفۃ الس الات نے مقرر --۔
فاکسا رکو بھی ا ںکیشن کا الیک رن مقر رکیا۔
جامعہ ات کی ارسیکیٹی ٹیم مقر ہوئی۔ حتزم پرو فیس فراع ہماں صاحب کے
سان نماکسار اس تم کادو را رککن مقر ہوا۔
جامعہ امن ہکی شاب کلاس می آ خر ی کلاس کے ططباء کا کریک جد ید کے ادارہ
گی ہدایت بی خماکسار ۱۹۹۲ء سے لی ر۸ ے ۱۹ء تک ا نکی تقر وں اور معلومات عامہ
کا چجائزہ لی نکیل حرم مولانا نزمہ ام صاحب مجشرکے ساتھ مصٹن مققرر ہوا را
مووسمسوکو۔سسسمسسسستفسمفومسسسس”ڈوسہسپ[|ٗٛٗ٭وفوسیہیکفإ.ف_(سکتت-ت-ت-×سصحٗ۱۹٠٦۲٦٣٢٦ىى..٘ٔ .یت - >
246
4-2 سے .۔۔ ۔۔۔۔۔_'ےےے
علادہ ازس دو لبیک سال ماکسار دو ایک بر چو ں کا تن بھی مقر ر ہوا۔ جامعہ اصب"
کی سالانہ تقریبات می وو ایک وفعہ ممانع خصوضنی کے طور بر شمولی تکی دگوت
بھی بی بر نیل صاح بکی طرفودے۔
ال تا کی دی ہوکی توق سے ان خرمات کے علاوہ اکسا رکو حضرت غلیفد
مج ثاغ ےگنر مکی کابھی مھبرمقر فرایا۔ سب برای ت گند مک پت
حھتقین می خاص خیال رکھا۔ تام روہ کے دو زان ساسلہ عالیہ ای کی غد مت
س ےکی او ربھی موا تع نیب ہوتے ر سے کچھ ا کائھی ذک کردا ہوں۔
ففضل عرفا یڑ یش نیکاقام
حرے غیفۃ ا الَانٰ* کی وفات صرت آیات بر فحفل عم رفا نڈ یش ن کاقام
ہوا۔ حقرت جو پرربی مم طفراظر خاں صاحب اور محتز مکر٘ل عطاء اللر صاح بک
ابی مظاورت اور تچوی نے اس فا نڈیش نکی ا ری
انال نے ان ہز رگو ںکی اس جو کو پند ڈمایا اور مظوری سے نوازا۔ جلمہ
سالانہ کے موقع مر مور نے اس فا نڈمیشن کے یا مکااعلان فربایا۔ ۲۵ لاکھ روبے
سے سے ا مکرنے کا1 ریا ہوا۔ حضرتے چوبرری صاح بکو اس کا یٹ رین مفرر
فرمای او رکرنل صاح بکوواکس چچیٹرن۔ حخرت چب ری صاحب اس وجہ ےک
وواتی مہ داریوں کے ساسلہ می سال کا/کٹرحص ملک سے با ہررچے ہی نکنل
صاحب گل فا نیش نکی مہ داریو ںکو انام دیے کے لے ہ رطرح سے مد مت
۴ 0 ضرورت وں ہوئی۔ خرت چو برریا
صاحب نے گرم صاتجزادہ عرزا طاہ راج صاحب ے مور ہگیا۔ صاجزاوہ صاحب
ے ان ہس ےکما” 1 دمی می چا وچ ہوں منظوری حضور سے نے لیس ' بعد میں تر
مھ وط
247
چوپرربی صاحب نے مجنزم چو ہرری انور امر صاحب کابلوں سے بھی مشور ہکیاکہ
یڑ یک سکو مقر رکیاجاۓے۔ دونوں بز رگوں تے اکسا رکا نام تجویکیا۔ تو رکی
ندمت یس منظوری کیلئۓے درخواس تک یگئی۔ تضور ارس نے اکسا رکو اطور
یک رڑی ففل عرم و یڈیشن منظور فایا۔
لک ون جمور نے یھ بل اکر ہدابی تک یکہ ایک فوٹ بک تا رکر لو جو یھ
چو دی صاحب فرہان١یں ادر برایت یں فو کر لیاکرو اور اس کے مطالق تل
77 زا نیشن یناپ لا کال روا وع کڑنے مات از
سب س پ لے دض زکی ضرورت یی آئی اعاطہ صدر امن ارب کے وفٹڑوں کے
تب میں جضو رکی منطوری سے وف تی رکرن ےکی اجازت ہوگی۔ لاہور کے محتزم
قاضی مجر رق ضاح بکو نقشہ وغیرہ ہنا ےکی ھکھاگیا۔ چ رطر کی ضردریات اور
تقعبیلات کے بعد عمارت کاسنک یا تضور نے رکھا او رکرنل صاحب تے تھی۔
صیدر محتزم کے ساتہ فقل عمرفاؤ نیشن کا ایک پورڈ مقر رکیاکیا۔ جس میں بماعت
کے فاص عرگررہ اجاب کا تر ہوا۔ موڑول و مناسب نمارت تار ہ وگ اور
پدری وج سے فضل خراکام شروع ہوگیا۔ بر زور آنداز ین ہیک بماعت کے
احاب می ںک یگئی۔ اخیارات کے زرییہ تصو.] اافضل کے ذرییہ۔ ذائی طاتاوژں
او دددروں کے ذرییہ۔ رقوم وصول ہونی شرورع ہ وگئیں۔ بتک میں اکاونٹ ۱
آلایا۔ او رڈ کے اجلاین ساجہ کے مات ہو تے رہے۔ فا ناشن کے مقاصدکالتین
+وااور فْهلہ ہو اکم رہ رٹ مک2 71631 اکیاجاے۔ اس ٥8 7۷ے وآ
ہو اس سے فائ یڈ شی کے مقاص رکی کیل ہو۔ محتز مکرنل عطاء الد صاحبِ نے
دی گر منری اور ٭بچ کے ساٹجھھ فا نڈمیش نکی ان رق مکو 81 ]گمرے کا
اتظا مکیا۔ اس دوران وصول کی جررجر جاری ری۔ے پروچر اکمار خلف
248
نے سے جس ےچس جج سسےے سے ےےل _
زرائع افقا کر ےکر رہا۔ حقرت چوہرری ضاحب اور گژ مکرنل صاح بک ا
رخوات پر حفرت خلیفۃ الچ الثا کی اجازت سے خاکسا رکو اسان کے
ری رایت فرای۔ چند تڈنپ ےک زم حقرت چدہرری صاحب اور
ناویا اصاحب مسر انداع اتی زاجم خاع ضا جج رر ارت یک ےم
شبروں کا جماں ہمان اص یہ جخاعتیں میں اور اجھری افراد ان ہو کا کے
سان زور کیا اور ان ددرول میس ذای ملاقات کے ذرہچہ تر کی جاتی دی ادر
نل یر١ غاص مترل رقوم وصول ہوکیں اور ٹا رگ ٹکی مقررہ عد سے ڑیادہ
وصو اور بجع شدہ رتم ۳۵ لاکھ رو چیہ بوگئی۔ الدلہ
7 نی سو رہ
انڑائی مزانے ککھواۓ گے اور خائص تترجب میں النا منالہ بارو ںکو انعام یل
سے می حضرت غایفۃ الس کے وست مارک سے اص اتقریب ہین۔ بریدہ یل
7+227 9 وبیرہ زعب تہ عرف تمارت
20 شوری فرنےر دز سان بھی میا کیا۔ اتی لاک یلک
نام سے انتا ہزاں ایک بے اھا جع کی موجودی می حخرت خیفۃ ا
ناو ے اتا زا فان کیپ ارپین
کے سی ایا ہہ ارت اکسا رک گرانی می فی رہوئی۔ خاکسار نے تی
متاح کے موقع بر وزوں اور خنفرای ریں بی یکیا۔ حضورنے انار لا ےگا
کو فا یڈیش کی طرف سے خابیاں عطاکیں-
ویڈزیش نے ترک ری کے غیرککیو ںکی نر خوصنی رہائ کی آرام
یہت بویٹ اوس قھیرکردابااور ترک جد بے کے ادار کی خعدمت میس شی نکیا
مو حٹرت خلیفۃ الچ اشن کی سیرتٰ ہکتارب ا کرد اگ ی گی زم صاقزادہ
249
مزا غابراحد صاح بکی خدمت میں درخواس تک کی قرت خی سی الا
1 ےت راو ات ےر اتا یئ ای نون
ان ا زاء
: مزید فضن عمرفاویڈزیشن نے حفرت غلیۃ اس الاک یکتب ادر آپ کے
مہ ماف آوخت کے ضا نکو نہ حرف کیااک ا نکی اعت کال
ان انداز می امنظا مکرنے کا فیصل کیا اور اب مل ان سب فیصلوں پ مل ہو رہا
شی نے ک۔ کت
یت فصن کی تی رکاکام
جن دنوں خاکسار فضل عم رفا یلین کا سی ٹری تو حضرت خلیفۃ ا سج الا
نے اس عات کو بیت ایی کی تی رکی گرالی کا کام بھی سی ردکیا۔ اس با تکی ایک
عرصہ سے ردرت مسوس ہو ری عھ کہ مد میارک ربوہ اب جحع دک نما کی
حاضری کیل ناکائی ے۔ ان رنوں صرر عموبی گرم چو بر یی مر صد نی صاحب
تے۔ انہوں نے ای وا دا کرای کے
ایک لاکھ روپبہ یٹ میں رک ےکی صد را ھن امہ ہکو در خواس گی۔ ا جن نے
اپنے سالانہ جیٹ مین ہی رم رکھ دھی۔ اس سال ججلس شو ری نے اس پگ ٹکو منظور
گیا۔ زم یھ مج صربق صاحب با کسی طرح عم بداکہ ربدہ یس جائع سج
بنان ےکی مجوی: ہوکی سے او ر ایک لاکھ روچنہ یٹ میں رکھاگیا ہے۔ انموں نے محتزم
لا راد مزا طا رآ ات کےا کے بجی یکن نک یکن د٥ب خر ایک لاک
داش یکرزین گے حفرت خلیفۃ الس لاٹ نے ان کی اس عخلصاز: ین نکنل
کو منظور فرمایا۔ چنانچہ غناکسمار نے اس سلسلہ میں ضردری کار رداگی شرو کی۔
20
رم تقاضی مج رق صاحب جنموں نے فضل مرف وڈڑیشن کے وفت رک ثنشہ بنایا اور
تی رکی گرا یکی ان کے مخورہ سے کرم چوپرری رر ای صاحب چار ڑآرکی
یٹ سے بھی مشورہکیا۔ اوز بھی کئی نوجوانوں سے جنموں تے آ کی یک
ٹجنین ککی وکریاں یونیدرٹی سے لی ہوئی تھیں مشور وکیا۔ حضرت خلیۃ الس
الات تے فرمااکہ مم رکاپال الام کہ ینس میں حتون نہ ہول اور بت تی برایمت
آپ نے تقشہ بنانے کے سلسلہ میس میں ابتقر ای شہ بنا ج کسی فقدر رقبہ کے لفاظ
سے بچھوٹا تھا۔ جب زیادہکیلئے نثان زین مقررہ بر لگاۓ گے نو تضور خاکسا رکی
درخواست پر تشریف لاۓ اور مطاحظہ فرمانے کے بعد فرمایا صسو ہکا پل ۲۰ اٹ لیا
اور ٭افٹ جو ڑا ہو۔ اور ئن کا گا بیادو ںک وھد وا دیاگیا _ اد رک کیل
فیصلہ ہواکہ سب سے بیلی خیادی ابینٹ حضرت خلیفۃ الس الال ت” اگ رک
اد رھ ائیٹیں صحاہ ہکرام جو روہ میس موجود ہیں وہ رکیں گے۔ اڑھاکی فٹ کے
قریب جب بیاری ںکھوو یگئیں اورا نکی تی رہ وگئی تب ضور تشریف لا اور
خیادو ںکی تی کو دمکھا تو ڈراہ ال ھت بڑاہے نیاوی اس نبت سے پچچھوٹی ہیں
اور ای تقیبرہوں۔ چنانچہ بمیادو کو اور اونچاکیاکیا۔ پرموںع پہ بے ت نی زادگ
22 تد گی ہی رہی۔ فضل دارم چو ہرری نتر صاحب
آ مرا تک زمر گگرائی جو سول انیٹ کے ارت لق رہوی شرف کت
ماکمار کے ذرییز مسنزبوں' راجوں“ مزدو رو ں کو رقوم ان گی مزددری بزرلیہ
چیک دفز پا نڈیشن کا اکا نٹ ری لمٹ تا رکر کے خزانہ صدر امن کا چیک
خالسار ے لِتا۔ 27 وصو ل کر ے انکر انی ذاتی گھرا یش مزدورول اور
ہرروں وخیرہ اور دوکاندارو ںو جن سے لف ری سامان خ یا م0 0>
09 سی *٭"٭“
3
251
قریب خر ج اتھا۔ جنزم یھ مھ صدلتی صاحب بالی نے فرمایاکہ وہ ا مارے
شر کو اداکریں گے۔ آخریی ھرعلہ بر جب مدکی عمارت لی رہ وگئی اور اب گی
اور چنکھوں وخیرہ کاکام بائی روکیانق ماکسا رکو فضل رفا یڈ یشنی سے تدم لکر کے
لرڑی حدیقہ اکٹرین مقر ر کیا گیا +2 د0 7ج 0< 13ت ذ7 کا ام محتزم
یڈ اقیال اح شیم صاحب کے پپرد ى 0
فاونڑجی مقر ہوے۔ محر افص اس کا نام وی ہوا۔ کرو غولی اس کا پڑے
انا ع کی موجودگی میں حضور تے ۳۱ مار ۱۹2۲ء کو یہ مع اور تماژ می اوا
کرکے اف فربایا۔ محتم حضرت بٹھہ صاحب بھی شریک ہو ے۔ خد اتال ی کاشفگر
اداگیا۔
فففل رپا ویڑیشن سے سیل ہونے بر رت چوہرری مم ظفرارر خان
صاحب چچیئرن فا نیڈاٰیشن نے ایک تفصی۰لی خیا میں جو خسار کے نام ۴نو مبراۓے ۱۹ء
کوککھا خماکسما رکی ما تکو جو فا یڑلیشی کے ساسلہ میں اشحام دیں فراغ دی اور
بست پیر سے مراپااو رک اک :-
08
١ ۲۲1 ۷ کے طو رب انام ویں''
زی میس محتزم حخرت پوہرری صاح بکاخط در کر رہاہوں-
سم الا رن١ جم
حائطد8 ططانعطة ×69ط
السلام عیکم و رحث الد و رکا ِ
۶م طط ۰۲۵۶۲۸۸٣٥ ٣٥ ۷×ہ ععط ط11115-٤٤شھ آ6 0010
7 ط+ ط٢× ٌذ زط 8٥6٤٥ ٠6 810404+68 11 ۶ہ مہ٥٥0 ٥٤ہ 16٤٤6
1۵.٤0 6 جہ 17ا د٥ہ ۱۴ہ :رہ دہء ٣:٥ صنط ۹ علدہ ٥٣عط
252
سے سے گے _ سے کک
رو0 27758617 |خ ٥د([ج 8د ہ٥18 صت70 وط ۱۲ 41۶٥٥8۷۱۶٠
۰٥٥6ء 5(5 7010 عاصعط:1] طءتط ۳
20 [[ئ) وخ 36 ۲١۴ 2166658377 01 2ز ٤ا 80٥ 180
1701 لام ج جرز([٥۳ 7606180600 020ھ (٥ ] ط0 ×٥ط
۱٥ ہو٤ 1 طا١ ۲١٢٠٢۰٢١ ۶ج٤٥4 طىئنط ٤عط٣ 1 ۵58
مغ ۶ہ 86 0اط ۷" وط ۃ×٭٭٥ط ٣٢۷٢٢٢, عع ٣٥, قط
9ء 0۲۲۶ا ظط ”وط ص8 ط٢۶لط ئئز غع 700418٤10
و٥٤06 8د برو(ا١٥٥3۲ [١ 1٤۰٠ 85۲٥۵۵٥ عطد(۶ءطء
وط 1[ 0٥۴ 700 [ع ۶۱۷ زلط6[ ٥8ج 118ھ 23537
ھ2 ر0 03د جروء آ ۲۰(عط٥ط وط را ”ہ1 ٢٣ط 70٥0
وط ٥٥٥ئ٥ 888061811001 وم اوفطا ۲٥0۶٢٢8٤6 (۷۵۲
٣[8 8 ج0۲1[7و8 0٤805760 ٤ حر مہ وظ ٭<×< ہ٣٢8۲
ط٭ەا٭<×ەطع 1 جرنط٥1 ۲15 3ئ 1ل رہم <۶<ہ٭ لہ 8
8ء عط ۲< |ق جہ۷ ۶۰۷ ×٥ط ٣ اقط]ا !۶ع صە ] ام٥٥
٭٥:٥ط) رز" ا متتؿ٤۴٥ ٭طا ل3ل یڈ 3]٥۷"٥× ط٣
وغ 870 یں اةەنط ج٠ علاصتا>ہ٥ [[ز 581101658
16٥ ل2 ان٥8 10017 ۔مرنطع”ہ٤18٥۲ 768015٤6 ٥×
وج ٢٣ط ۲٥٢ 1 رہ[٤٥٥٥۲٤8 طخ [[ج ×۶ 1181006ا 89
. ر[[۱783ہ۶۵ہ3 26 وخ ٥٤٤ ۰ ×ہ 1509317لل
رزو[م×ہ ٥ 7008 جەط ۲۷٥٢٢١ 701[ 1و ×۶۶۱< ۷۶٤ھ
2ئ 0 ۲۵۵[08 14108۶5 ۹70 ئوہ ہ([١۲۷ ,فا نطعط 0ل
1ور ٥ ط٥ط ۷ع ہعز 5٥ ٤]طغ٤ ٢طە×ص ١ 0166688507ا5
و ج22615 یز عط نعط ٦661 إ0" ا١ ٥مطہە عط صنط
.585783786
1٥8 ۶٥883۶8, 5ذ ءا ط۷۷
8 515 686[[,
2731811118[ ٤طو
یہہاں مناسب معلوم ہو ےکہ ٹماکسمار محتر مک رخل عطاء اق صاح ب کا ال
253
کت ار دا ئن کے ادص تھے داع دی مھ
مہ سی ہہ ہے
: ذذ ر کے سا ہمایت ششرافت کاسعلوک رہا۔ اکٹرلاہو ر جار ان سے
5 شرددی کامول کے ساسلہ مہ دہ پیشہ متا اع سے بی آتے ا
وت دا تزا سے مع ہکرتے او تی صاحب آپ الیک تام
ےکرک افراد فاص خال رکتے۔ بز اعم اللہ ان افزاء بوو بجر
سی ریت لن
ْ ہر کت
ٌَُ ادر در عدیق*اکشر ین مس اپی ذمہ دای انام درتی شروں
تک کپ وا ا اش کے رم
مرک ول )۶0٥1( تھا ۔کئی سو مہلخوں کا ریکارڈ تا رکیاگیا۔ ہرالیک مم ارڈ
مار مدا۔ ان کے ضردر یکوا فف اس میس درج کے ججاتے رے جامع کی ا
. دع ا 7
لاس سے وار ٤غ ام
ُ 1 کا گر حدیقۃ اشن میس ال نکی عاضری ہوگی۔ لف ضروروں
ور گی مالک میں ا نکی نقردئ یکاہ ری رہاکہ وکالت تشید دیق کو اطلا عکرتی
ہے کر ٭- 76 وا ہے
۱ فلاں ملک اور علاقہ کیل ہیل کی ضرورت ے نر
الاع دٹی جاے۔ ای ططرح صد ر امن تھی- ...تر
فاکمار یرٹری عدیقۃ المیشٹری نکوئی لغ تو کر۴۔ سب سے بل رنپل
۰ 7 ا
بامعہ اتیہ سے ان کی ھی اخلاق' روعانی عالت کا علم حاص لکر٠۔ پھر زم
254
یں یش ے مو رح ان سے ۷ز اس می کے تحلق لوم ا
۸4 ا پش یکر تو رکی
لے ص ج مت ص۱ ات شک ا ٭
ر2 ط۲د مہ ٌ :
عو ری آ گج اور نام می کرو ا خودکسی کان
2 7 ۱ از+ کو
کی منظموری ہو ور ١ یال2 5 2 ِ کش
پڑسی فہار ہے۔ ای طر نکی نقرری کا ری لہ ہو۔ درتوں نا
7 و و سس وس ٦ :
ع رو ےت سے
1 1 0ے ار
ٍَ کس کا :ظا کیک اس انظام سے یھ کی وپ اک وت :2
اود خاش زمرہ میں وس ہوا۔ قرآن مم کَُّ
سے ہکر ار ہوتے نو ا نکی دو ہرائی جو عای مگا۔-
کے محالات سے ان ملفو ںکی راہ ما یکی عایٰ-
سے او ا
ا اکسا رکی درخواست پ٭
مرنے یں اضالہ ہوار
ضروری ضے حف ظکرواے
جراعتو ںکی مشکلات اور رذ ۶
اللہ کے برانے مبلخوں اور گر
کے غر کو رس کا ایک فاص حصہ ہو ا7
نے سہ تی رش ری بدایات سے لا
کک .رون مل کی کسر کر اک ودان مکقوں می پ ھک
َ ت 2 ای الام سے زا کے واقعات و عالات سے آگاو کیا
رر رر ےت
رے۔
25
ولف جدیدکاممبراورنا ظراصلاح وار شاو تعلیم الترژن
ہت جح 0ے ےج عحچعڑکےِخٹچؾَممحُھچٰچتجش لے سچچجے
کی متقرری
ای دٹوں سلسلہ کے ایک فاص گزم عالم عخرت مولانا ایوالعطاء صاح ب کی
وت ہد گی۔ اس ماب عاص یکا نکی کہ وقف ہدید ان ای جس کے پاظم
مار برذا ظا ہ رات صاحب تھے اور ضر ر صخرت جج اضر صاحی
کا رمق فرلا۔ وف جدی کے مسا می شردری فراکض انام دیا ر
اافت علیہ الا نے اس خا مک ا کی گج اق اصلاح وا رشاہ
ئآ نکی مر فمایا۔ وقف عار صی کا شعبہ اس نظار تکی گر انی میں تا۔
از میس اس شعی کو می مور پر جار یکیاگیا۔ خاش طور پر وف مارضی کے
ظا جس ب مر رکھاگیاکہ ھت د نکیل ہہ وت عار نی ہوگاج کم اکم دوہغتوں
یتب دن فکرین ای وا نکاىہ فرض ہوگاکہ اپنے مقررہ علقہ کے اضراب
اک نیت کاخیال ریں۔ قرآ نکری نار وک تیم یں اور بامتی ھا ےک
2 جاری رگیں۔ ا اظام کے مت جن گڑوں انا ما کے مت
ََ بے احبا بکو لوب نیب ہوتی رہی اور وف عارضی سے خوزا نکی
اگ خرہثت ہوتی ری۔ یہ قردری ہدایت رت کہ ہہ دا کن مار تی ان خرن
یں گے اور اپ تدکھانے پٹ کارطزدیست بھی۔ جناں جائیں کے ان کے
یں لو چھ تہ ہوگے۔_ نظارت اصلائ و اراو ۳ الرآن ے زے اتظام
نار نے کعلیم الق ران کلاس با بڑسے پان پر ات را کیا۔ سمارے ملک سے
7 ژوں کی تقرار کن وا کولوں سے اور متعرد دو رے اجاپ ربوہ ٹن
257
الکتا نے تترری
ٍ رر نت
۰۷+ دہ می اپنے فرا نکی انام دی مس مصروف تھا۔ یلیخو نکی
۱ گی حم ساتجزادہ مرزا متصور اجد صاحب نے فرا کہ تھوڑی در میں
227.00۲ ادف کے متاح کے حرف لا رہے ہیں۔ دخ
256
کر اکر اس کلاس میں شائل بہوتے رہجے اور تعلیم القرآن ک ےکور حزاور
ایا تک روشنی میں فانتدہ اٹھاتے رے۔ النا زاص ایا مءکیلئ ہو کچ کر علاء
مانتاں سی وو سے زی ضصاب مقر کیاکی ےرگ اساخ ونیم کے وو ران
7 ۶ م*یيیصھ"*" ے
کا سلملہ گی جار رکھا۔ جو اسامزہ مفمرر ہوئے رے وہ
ک
ہونے والو ںکی طاقات
ا ا ا
سے لیم اص خیال رک کیا۔ نل دای تکاماب کک لا
ویر .خرس ودای لاقات عضو رکے خطاب سے ہوک را دو ممرے نا ظرصاحا نکو بھی آپ نے ہہ اطلاع کو ائی اور برایت ۰
رو کے قیام کے دو رون خاکسار صد سال دی کھشٹی کای رد سک کا اود نیدی نی سن رر ےرہ
تی ںی مق ےچ ہیی متہ ہے
1 0 ٌ1 8.0 ای ورک ات لک : سو جو دی نا ظرصاحب
۳ و یں ےت ور اسر
شوہ لیس اٹ عطلف ودقات می ما ری لور ویک مرا پچ ا در دنا تک شرف رزات جو کے ۶ مو ا سے اغدر قرف
ا ہیں بج انے کا ازشاد فرا ےی :شاو کر کے مرکو حرج یہ جج نے
ا 5 ۱ نی کن 1-7 4+ اتا
سے فا سے رو ران اکسا رکو ری دنو کیٹ ی ای جس کسر ا اتب ظا ےر سے یہ کہ اور شردری
رنوں صاجزادہ ما ور اص صاب تھے مبرمقر رکیاگیا۔ رو شع کی ضرورا مک وڈ یہت
سے پش نے یرون نے ای مشاودرت ےکی مفی شی ہد تو کا نکچ یی لی من گے تج قرب اکر اہی ے/ ٌ ےج
رر رر رت یں ۴ تج صاحب! ایک کت کت نت
دو 09000090 ۱ کات سا ے ٭ م) تچ آپ کو انستان گنو نا
م"س'“"“ھ*“" کیا حور کے ارارک یل کے پرد تی حا موہ وا ےگ
۱
28
کم اہ کے کے ٤ے ےچ کؿّ :چ گ گٛ گ ظط سے
اف تکریں آپ چچھل سا لکسر
تھے
7پ .-”٭
77 "0089 کیا اتی سال بھی
“اکر رز ون ا
ور ہہ فرماکر والیں تر غلاقت تریف لے جے۔ آپ کے ارشادکی قیل
و 0 ےج
کہ چوک مس پیل مر ید پک کانفرک مس شال ہو نے کے نون نے
فک رت ا ان
70+“ 0 و و
اصال یں ای دز ےس کر فرا آپ اہو جا در دا پے
97 ہے
0ص 0۶7 زان پاکساد لاہو رکیا۔ اور بھائیوں سے بات
کرنے کے علاوہ من می( کک کے چچ حصہ می ٹریولنگ اینٹش کے
انی او کین سج پچ نچک دیراے کا کے ہیں لن سے بات
کروں۔ وج نے ار نے استفساکیااد انی ایا ہش
مال ناکسار لن نگیا ا اصمال ایک ری کام کی رانا ہ ےکی جاسکوں گا۔ 7
کر 6 تک
7 ہت
جانے می پاکتان کے ق خس کر رر ےکوقی روک جیل۔ اس جن الا کے سے
۰-۶-٦ کت ×2
دن میں ںی ا تک
77س ۰ 77772
29
ہوں۔"چناغجہ حضورنے دف یر اٗیویٹ سیک رٹربی کے کا کن کے ذ ریہ انی لم سے
خنقرفوٹ تشی کو جوا یاکہ جن مبارک اع کو لندن الیک رد ری کا م کی بوانا
ہے۔ ا نکیل وہاں سے کٹ مگلوامیں جلد۔ ہ١ مار ۱۹2۹ء کی بات ہے۔ تبشیر
یس جب جضمور کا1 راو پنیا نو دوصرے ون ناب وکیل اتشیر جناب صسن نج غان
صاحب عارف نخاکمار کے وف نظارت اصلاح دارشاد و تعلیم القرآن مم تٹریف
لاۓ اور فو رکی پر ایت کاذک رکر کے خاکسار سے پاسپپورٹ طل بکیا۔ کلٹ کے
تصول کے سدیلہ میس ضرور یکوا نف ذریاقت گے اور بتا کہ لندن مجوانے ہیں
ادروہان سے کلٹ مو انا ے۔ شر نے سب ہدایت لندن مش نکو فوری طو رپ
لٹ بیج نے کل ک 9/٢ و سر
گرم چوہر زی حید اوہ صاحب جو بش ایٹردی: یش کا مکرتے ہیں دہپاتان آرے
ہیں ان کے ز ریہ لٹ مپجوایا جار ہا ہے۔
ضا تزاد: مزا مارک اص صاحب وکیل التشیر نے خاکسا رکو وف نجیر بلایا
۹اماررح۹ے۱۹ء کی بات سے اور آرایا:-
حضرت صاحب سے تفعیلی بات ہو گنی ہے۔ لندان جا نے یئ
آپ تیاری شرو عکر ریں۔ نفشیعلی ہدایات آ پ کو بعد میں دے
۰07291
۵ رج ۹2۹ا ء کو قام مربیان ریفریش کو رس کے سلسلہ میں رکز میں آۓے
ہوۓ تھے۔ مضور سے مطلاقات اور وعوت کا ام”ظام بھی تصرغاافت کے محق باغ
ین نماکسمار ن ےکیاہو ا توا۔ وت مقررہ بر ماکسار فو رکی خد مت می حاضرہوااور
آپ سے تخریف لان ےکی درخواس تکی۔ اس دو ران جضمور نے ادن سے گگرٹ
کے آنے کے بارہ میس دریافت فرمایا۔ مجحنزم صاجزادہ مرزا مارگ اھر صاح ب کی
260
مم بت ےت
مم یا ادر ا کہ گرم ید اللہ صاحب لندن سے کٹ بےک رآ رے ۱
ینک کا ظا مکررہی ہے ے ہے
سو رر تک
ً 0ت ال مر ےج ابا ہے
ُ رپوا ا ملاقات می بی مرجبہ حضورتے وا عو رھاب کو فریا۔
آ پکولندن بجرا جم غخان صاحب رف سے چارج لے جوا
کے وی رات مان مارک ار ماع اپ ری ے۔
آپ نے جانا ادراس کے بعدانہیں کجواے_ ××
: دس سس ےت
ٍِ : تھ لن دفو وہاں ناپ امام تھے ان کاخط مع کٹ جضو رکی زرمت
ٌَ با آپ نے شھے گگٹ د ےکر فربایاکہ تبشید میں کلٹ اور غیا میاں
ارک اتد صاح بکودے دی ید شردی کاردا یکریں۔ یر نے کٹ ہم
تہ کہ
جا ار کر ات رون مکی جس مشاو رت کا۱جلای
مرا کس سے کین ون ا کیا درز کے
ِ : دہ دجرکی معردفیات کے انجام دی کے اھ سنقھ نون جانے کی
ادگ شش تھی اپنے طور پر محروف رہا۔ انتقادہ اور دعا کا ساسلہ گی وتوں رے
ای تھا۔ ایک اہم مم پہ ردانہ ہون تھا۔ اتی حالت کے یل ری ینان بھی تی
جٌ طرف فجہ۔ مورخہ ۳۱ مار 21۸ والو ں کی رف تا طلحل
اور سے ہف کے دن مو زخہ ے ایگ کی لٹ برا کرای ہوئی سے او
نج سماؤرھر پت بد رز ۔۔
261
گراجی سے لن نکی زار کے دن مو رض ۸ ابر ینک ہوگی ہے۔ آنے جان ےکی
یک اکسا ر کے سیر کر دمیں۔ وا بی کٹ کا حول بھی ضرد ری تقو
طو ری
کم ایل ے۱۹8 کو میلس خورکی کا آخری اعلاس تھا۔ جن بے کے ترعب
یق کی کارزدائی خحم ہوئی۔ جو عن ین ہو نے تھے شورکی می رک اقرجب
7 تاج ما ا تم ررقت وت
مور ۲ابرنل ۹ے۱۹ء گتزم صاجزادہ زا مبا رت اضم صاحب وکیلی انی
گے ان سے رق ین ملا تاہوئیَ خاصی لی ملا جات تی او گنن تک جا ری
ر1 ۔ جے تام ضروری امور سے اضموں نے آگاوکیا اور ہرایات دیں جو الکتان
را 2 0 ضردری برایا تکونو ٹگیا۔ ے
7 ا ا ا ا ئک
صستواصر صاحٹ مکی تثریف لا او رتیشی کی طرف سے مزید امو ر کے متعلی
اطلارعغ دی اور 8777+ ضردری بت پیٹ ی۔ رم سو اھ
صاحب نے یہ بھی جا اک محژم صاقزاوہ مارک اح صاحب نے ان س ےکماکہ تا
ا رک یں تی ےن تو کےا سے
ار یکیلی اور وگ را خراجات سف رکیل رق بہنچادی جاے۔
مو رہ ۱۳برلل ے1۹ مم عقرت صاتبزادہ مرزا طاہ رام صاحب سے نے
ان کے دقکیا۔ نماکسار وقف جد کی ام ن کا عحی رتا اس وجہ سے بھی ان سے تنا
شوریی تھا اور پاکتان سے پاہر جات ے کی ا نکو اطلاع دی بھی۔ مزید خاکسا رکا
عژم حفرت صاجزادہ صاحب سے پیا رکا تع تھا او رک یکیٹیوں میں بی کرک
کرت زے تے۔ یک بز ر کی حثیت سے بھ کہ ان نے نکاو دجام لک
۱ سں'پسسسسس سس سس
262
وھ انا س ےھ یں یں
ادج لیے کی تضو ری ری ے راع وت ےا وت بات زار ن-
٦ یصو ہر ےک
گیا زم ما قزادوصاحصب کی دا ےکر کے دپڑے رت برا بن
رت خغاذ ام“ اااعضا ک رف آر فا آپی بر ںو
و یک ای ای میں ضس
سے رز کھ ال سرن رین او ےو وو ش٣
ےھ اض لے راید رد نے سر
٦ وریہ ہے حد
مبارک اعد صا بکوبھی جلاریں_
۴ای یل دداگی کاریوہ سے پروگرام تھا گزش نات اضرسے ۶ے اور رر
7ے انت ساد بی ایض
77 سر طقاس رض ریت
کے ملیف ا ساب کرک وا رع
رم فیا مارک اھ اص" ہنیرک اہ کے پان کن کا زم
تاب گی آیااد رداگی سے پل صدق کے طو راز نکیا۔ قد ری امو ر کے
2 کس نس لص کت سی ضر وک ٢
اپ جو رنے رمک ادر حخرت کی موعودعلی الد الا کی ای
پت گی گے وہ نک گار ےی رر ے
رت ات ا شال فی کے کان ےلرک و ہے
راستے مل صاجزادہ ہرزا پارک ا صاحعي بے ال جے لان او رغیڑے
23
صاجزادہ مرزا متور ام صاحب سے ان کے مکان پر دوفو مز رگوں سے ملا تقات
اوروعا لی درخ اع گی۔
٠ ےت رداگی کاپ کرام تھا ند منٹ پہ عضو رکی
نے پغام لوالا رع پھوک ای کی مزا د کی ے۔ خر سے
کہ راس یں لوس ویر یں اور +330+5ھ 0 کی صورت پےا وہ
انل لے آپ جلد روانہ ہو جانھیں۔ میرے عزی: بھائی چنور اص صاحب مبراور
وو رن زی ھ رشح ت کر کے آے ہوتے تھے سب نے خاکسا ری
در خواست پر اجخائی دعاکی۔ گرم جج نور اج صاحب منیرفاضل تے دعاکروائی۔
تی ری ےر ری موا سا وت
چو و را وااو ا۔
اش زا اور ترک و خی مات ے ففضلن خد الہک کیو سی بل
ضز نے ہوکی۔ دامدللد گی زالک-
انرن یں ام
الد کرای سے بوائی جماز میں عوار ہ ھکر لندن پتھرد ایی رٹ پر ریت
اک مز برادر تی الدین شس صاحب ایگ دو اور احاب کے عَات
یرٹ پ اکسا کو 03ہ باکرنے کے موجود تھے۔ اسیک رین اور تے
کو و رك ا
با ای ذراغحت ہوکی اور ان دوستوں کے ساتہ سید ھا پل “ور نقل بنرن 7
ای مٹی بس کے الہ مںپ میں لقال کے مور جات
کل ادا گے ادر رہ برکت سے ےہ موٹیکری کش راداکیاو ھا یکہ ٹیک
و کے مد مت کی و ررقت سے ای دای تونق ید ون ا
264
”سح صےچڈی چہ سو ٴےوےووسے سر سچ ےچچچے
ان دنوں چ کہ مشن اوس خالی نہ تھا۔ اکسا رکا قام اپنے عزی: جیب یم اج
نی کے ہاں چند دن تک رہا۔ عزی: نے ہر رح خدمت وضع کا عق اداکیا۔ ہر
روز کی کے وقت مشن کے دفنز یں کیچ جا اور ممول کے ماق کا کر؟۔
نت معلوما تککرم منیرالدین شس صاحب اد دحتم مبارک ات صاحب عاقّ
کے مال رر ان اکچ اس مفرنے لہ خزاکسنا کو دو باز انعداغ نے کاہم و تح
ما۔ یہ دونوں سفرچند دنو ں کی تے۔ پھلا ف کس رصلیب کانفرنن کے سلسلہ میں
ا۔ حفرت خلیز الج الاک رصلیب کانفنس میس شمول کیل تثریف لے
اور اچپے امج ارہ حواریو ںکائچھی ا شاب فرمایا جو آپ کے ساتھہ منران آے۔ ان
یس سے ایگ ناکسار عاجمز ھی اس سعادت ے نوا زاگیا_
دوعری ہار نل عمرفاؤنڈیشن کے اداارہ نے سو ںکیاکہ اکستان سے اس
فنڑ میں اص رتم موصول نہیں ہوگی۔ حفرت جو ہرری مج ظفراڈہ خاں صاح بکی
تریک اور در خواست پر تو کی اجازت سے اکنا ںکواواز :کی طرف ے لنرن
جوا یانگیا۔ امدللد اس عرصہ میں فضل عمرفاؤنڈیشن کے عطیات وپ وصول
ہہوئے۔ اس غمرضل کے لے سمارے ملک کا رت چو ہد ری صاحب اور جناپ ایام
زی ات ےرپ کر رر کا اس دورہ یش اہم شمروں میں جاے اور
اعباب سے سْے اور ا نکی ضروریات کابھی خاص طور پر لم ہوا۔ یاد آ رپا ے
وو ج فو رخ ےر وا ار
آے تے۔ ایک بی کار یش ہم تیوں فرکرتے۔ ہربار جب کار میں ٹین گت تو
حخرت چو پرری صاحب خاکسا رکو پپط ٹٹنے کا ارشاد فرماتے۔ مب ری در خواست
ہوٹ کہ آپ لے ٹیھیں ۔ گر ہربار بی ان کا اصرار بھی ہو اور فراتے آپ
ور کے نمتندہ ہیں پل آپ ۴ٹھھیں۔ عرکزی نماتندہ کا خاش اترام اور ارب
265
آپ کاشیدہ رہا۔ بہرعالی اس سارۓ سفریس ا نککستان کا١س نیک مقص رکیل دور:
ککرنے اور اپ سے رقوم وصو لکرنے کا مو قح ملا۔
مز نل رزفا شی کے اتکی و ول کے علا وہ ماما جن لس
افصار اللہ مرکز کی ری کگیسٹ پاؤس کے سللے می بھی خاصی رتم ت کی ان
قام احباب کے نام انصار الد ک ےگیسٹ اوس کے با رکی دلو ار بر دعاکی خر سے
کندہ ہیں۔ ان ہردو مفروں میں جو معلومات اس عاج کو عاصل ہنیس ان کے پش
کراشکتان کے مشن کا جار لے ارام سج اد نکی حیثیت سے مض اہم
فرا لت لکی انجام دب یکی اکسا رکو اکر ہوئی-
مازوںکی طرف حصوصی وج
سب سے کی اہم اور خائص خدمت ج سک اش تالی نے ججھے لق د یک
ضر فنل زین کے د۴ردازے پانچوں د تک نممازوع کے لے کھلوا ڑیے اور
"270 رن کا اما مکیا۔ اس سے قحل امام صاخ ب کی رہ اکٹ کاہ
میاروز روڈ دالے مکان میس ظمرو حصرکی نماز اور مقرب و عخاء کی نمازیی عکر
کے جو دو چار دوست شائل ہوتے ان کے ساتھ اد اک لی اتی تجھیں۔ لیکن چارن
یىی ماکسار نے جاکید سے جماع کی خدممت مین درخو اس تک اور ایام ے
مد میس نمازو ںکی ادا می کا ظا مکیا لان سے ہمان نل دا مسر بابیں رت
مھت سر مھ ادف سام ہے
ات 7ی7ز
سے مد آنا شرع ہو گے۔ بحعہ کی نماز اور خطیہ کا یھ جح آر دو او رپ حص
انریزئی یس اداکرنے کاخاحص خیال رکھا۔ مناسب عالات کے پیٹ نظ ت یق
266
ت۳ او _ ان بر اث خطبات کااحماپ جھاعت پر ال
جو سے
مس ےت
شس تہ ں نمازان سے بھرنے گے۔ گھزرکی در ذبائی ور بات و
دج اج ناکسمار کے اس افدا مک و لکھو لکر خر مقد مکیا۔ ابے احباب کی
: وس ہچ لسم
5 رف و ای
عد :
گتھا:۔ > 7
× لی وط آپ کے ارشادات اور خلبیات سے ؟م لوگ لطف
و و رر
سمٍٔ لی و تزیت اور رزعائی ت کی طر فک قد زیاددے۔ الہ
۷۳ء و ےا
اپ صورت
دج ےت تو
رے تاس ما زکواچے خ مورشہ ۹ جولائی ۱۹2۹ء می سکھا۔
دی بی صا جب کے ول سے ہی معلومکرکے ولی سرت کی
سپ کے روح یر ور خطبات اور تک علیٹمونہ سے نناعت ئل
می ایک دو ڑکی سے جو بے خوش آمحد تل کا
رت از لے کی کین کن
یی ماس کو را کےکزصت شی خوش وگی-
)لم زرقزر"
رام دے
ال ک یکو عرکز سلسلہ ریدہ بھی کپئی چنائجہ حم حضرت
بی ٹو
7
2د
من
7
و
کاحضرت خلیغۃ أا فا فرارے ہیں
: 267
پنقل خدا جماعت می پہ شی رسمولی بیدادئی نمازوں اور خلبات مع میں
شمولت غاص بزرے شٹریک ہہون ےک یکیفیت اکسا کے عرصہ قیام تک رہی اور
عا کی آعھیں لی ہی رہیں۔ اللہ تھا یکی اس خاس تائی و فھرت سے دل
ٹور حر ہو ربا اور الل تھا لی کے تضور ھت رہا۔ ۰
ھراکزاد ر من پاؤس زکاقیام
اکستان کے قیام یں خدمت کا ایک خائص مو تع ج اللہ تا کی خی معموی
۱ تاد ونضرت سے خاکسا رکونعییب ہوا ماکز اور من پا وس زکاقام ھا۔ دن میں
اس وت صرف ایک مد ففل تی جھ ۳ ۱۹۴۹ء سے لی اپنے افتاح کے
دن سے الیک تار کٹی اور یا بی مس کی حی تک عائل تھی۔ سار کلک میں
ماع ت کی ضردرف کی کوگی ادر عرکز اور عتقام نہ تھا۔ احباپ ک ےگھروں می
جیااس منعق ہو تیں۔ پربا رگنروں کا ف رنچپراٹ اکر ادھ راع رکیا ج۱٤ آنے دا لے
۱ اما بک تہ ہنا جتی اکرچہ یہ شوق سے سب ببھھ ہو٤ ۔ ایک قریالی تھی ایک
آ ایر تھاجو سالمامال س ےکیا جا رہا نال نیف پالایطاق کا سامنا جھ یگ رکی خوىتن
أآ ادر رٹ والو ںکو تا
خاکسمار کے قیام کے عرصہ یس عید الا تحیہ نون میس بھی دفہ اس عا کو تعیب
ہوگی۔ اس عی پر ندن اور لحقہ علاقوں سے احاب د خواقن اور جےکڑت ے
شیک ہوے۔ عید کے جمواز کے باعث احباب کا ایک مظیم انشاع تھا۔ عردو
ٹواین اور چے سب بی ذدق دو سے شال ہوے۔ حر اور حقہ پل بھی
لی ہ۲ رہے تھ۔ فاص مارک لاک یگھی۔ ہہ عید قریانو ںکی عی دکھلاتی ہے۔ اس
عھ کا یں منففراس با تکو الم نشر حکرن ہ ےکہ مہ حرف ایک فردکی قریان کی ماد
268
_سکشسسےشےےے جچچ ھت ےٹھچ شس ےش چس
نی ولاتی کہ ہہ عید پا پکی قربائی ما کی قرباٰی ' کی قربانی اور نس کے ساتھ
سا یبا تک قربانی خاندان کے جملہ افراد اور ان کے اساسما کی قریالی کاب
عید عق دق ہے۔ اللہ تا کی دی ہو نشی سے ان سب قریانو نکی یاددلاگر
اکسا رکو اہ تقالی نے دیک بر اث خطبہ ود ےکی نوف عطاء فرائی ۔ الیا ال پا
اہ اع کو یہ بات زین نی نکرائۓ ہیس ص وکیت ہگ یک مرکزیت سے
قیام' تزبیت کے اہتمام اور متذرق جماعتی خحدمات اور ضردریا تک پوراکرنے اور
خمازوں کی باقاعدہ ہا جماعت ادگ کیل مساجد اور ھراک کی اس ملک میں
غر ےسا مو ات جماعتیں پریٹانی اور یر/کندگ یکی عالت کے باعث ام
امور غیرد خی سے اخیام دیے سے مطرور ہیں۔ ابر ۱۹۲۹ء سے صرف ایک بی
صیر سے جو لزدن می ہے۔ سارا ملک ماکز اور اہر سے خالی پڑاہے می کہ
بھی اع ضرد یں بات ' فرائضش دبتی کے اضیام دی ےکی ےکوی مرک نہیں-
سب عزبزون سے سب احیاب سے اور بہنوں سے بچوں سے ان کر ,ہو کہ
۱ اس عید کے خطبہ می جس اکہ قرا کی طرف اور اس کے جا رکت ضا سے آگ وکیا
کیاے آپ ؛ننستان می مراکز اور مشن ہس ز کے قیا کے خاس قرب یک اور
پوہ چڑ ھکر قصہ لی اود اموال می یککریں- ہرعرد ہرعورت اور چریچہ بک ان
یو ںکی طررف سے بھی حصہ لی و ابی مان کے پیٹ میں ہیں الن س بکی طرف
سے بالی قزائی و لکھو لکرکزیں۔ نل دا ابی رد اور پش علیہ کاتماعت
نے خی رمعمو اث لیا ور بعد می خواتین نے زیو رات دعھڑا دع یی گے اور نظ
رت مکی وصول جزرفاری ے شروع ہوگئی اور طف م کہ شابیدبیکوگی فو حصہ
لیے سے میم رہ ہو۔ بائوں نے نپڑے بجز بہار شوقی سے الن سو نکی طرف سے
بھی اس کیک مقصہد کے لئ رقوم رمیں جو ائھی ان کے پیٹ مین تھے۔ خسار کے
رن کے ما حول میں
گ سب سے لان پلوس سا تھ پای ش
8ڈانَ
269
سح لے سس تےے٤ے کٹ س 98 - رس ہآ0ولٌٌٰے
اکستان کے قیام کے عرصہ تک ہے ساسلہ جاری رہا۔ مین پاؤمزاور ماکز بنضل
فداجھاعتوں میں قائ ہونے شرف ہو گئے۔
سب سے پ لا مشن پوس سا پال میں تائم ہداجھ ساٹ جار پونڈ یس خریدا
گیا ایک اجک علاق جس اس کاحمول ہوا۔ جو تی ىہ خجرجماعت تک کت یکہ اب
پومنن پاؤمزی خی رکا ساسلہ رو ہوگیاہے بے افقدام مزید تریک اور جرات کا
پاکث ہوا-
سا وھ ال کے بعد بحم کرایژن' رڈ رکچ ور زی جلگرء
ارز اور ای دن اور گلاو من پاؤ مز تقام ہو گے کئی لاکھ پونڑ تی
ہو اور تل خداس بکی فق ادانگی ہوگی۔ نہ قرض لیا اور نہ بتک والوں ے
یک رک بات نی تکیی۔ ان من او نکی خری اور حعڑل سے براعت 7
مان ہی نی بکلہ خا مسرت ہوقی اور اس عاب کو الہ تقائی نے فی دب یک
ون باؤ ںکی خی دہکیے ذاتی طورپہ جدوجم دکرتے کے علادہان مشن او زکی
07 میں حص لیا رہا۔ اس نیم خدم تکو اص نر رکی اہ سے
دکھاگیا۔ پا مشن پاؤم زکا رت خلیفہ الج الا نے اپنے دورہ انکستان
۰ء میں افتقاح فرمایا ادر ماصی خوش کا اظمار فرایا۔ باقی قام مشن پوس زکا
مخرت غلیفد ۱ج اراق ایرہ اش لی ے افقاب فرمایا ادر اتی دعاؤلن ے
نوازا۔ ہرز سلیلہ ربوہ سے مخلف دوستو ں کی یہ علیم مت ہماں یرت کا
پاٹ ہوک وہاں ان کی خوشی کا بھی موجب ہوئی۔ ان دوستول اور احاپ کی
لات میا کیا کے خلدط وضو ہو ےی ححضرت خلیہ لح لات کے زور
جس چکمہ یہ ماکز قام ہو ئۓ حضمور نے خدام الا یہ کے سالانہ اع 18۸۱ء کے
م۱ ان کے قیا مکاضاص طور یر ذکرکرتے ہو قرایا:۔
200
رآ دی جو یک تی سے کا مکرے ا کا یہ اللہ تعالیٰ دا
ہے۔ اس شحین میں ( خاکسا رک ٹام سک ےکر) ج نکی سای کے نیچ میں (
مو وعاہ مار ئن تھا جک مز
قا مکروارۓے۔؟'
زیر تضورے قرایا:۔د
کی ےو اھ ٌکگھیا وی
یں نخس می بے سے پو ایک ہکیادا تی پا مشن پوس قائم
9 0 رت ۱
دس قز ال لی بھی غیت رک ولا ہے وہ شرور برک ت ال
۱ گا جب کام شرو کیاکی 2 اس کا مکیے لیک بی بھی ن تھا۔ اللہ ۱
لی نے) نۓ فضل کے مہ میں سال سواسال میس بای ھراکز ا مکرا ۱
تن( ال ۷۹ اکور ۹۸ء ۸) ۱
٤ 27
مل ۱
1
۱
2 کر ك۰ ععالہ علوەو: 1 ط[كہ/( لمضطغطنلعط٢ ٥-٠٥ ۱
اکور تار یی ا نٹ ادن یکن حا نکی ٘
,لا 184408851 صز 10006 ۷59100 رف۸ 404-78 ص۸
نون جحدہ تی سو نے "ری" عیڈرز فی کٹ کاانفاح رت خیفہ لج نے زرں
گجئے۔ متضور سے کی رو میں لے۔ مور نے ان سے وریافت ٹرایا۔ ١ ۱
صاح بکیاکر ہے ہیں "جو اب میں اس دوست نے حر کاکہ مزید سن با سرک ۱ ۱
خری کی کزشاں ہیں اور بماع تکی تزبی تک بدوصد می محروف ہیں- 7
عضزر نے اکسا رک اس دوست کے زرل پغام وا یا۔ ”ولی بل" ہیں ز بل ۱
0 0ت
إج۔
2701
واج کے متحلق مشن پا و سز کے قیا مکی خجرر فرایا۔ دا مداللہ لی ذاکک
فی کے مشن کاافتاح حفرت خلیقۂ لح الات نے فرایا۔
پڑرز فیللڈ کے مشن ہاو سکی خرید کے سلسلہ مس ہہ لکھن دی کا باعت ہوگا۔
بب اس نار تکو دی اکسا راو اس وت اکسا ر کے سا ڈ اک تا رت اھ
صاحب 'ڈاکٹرعامد الد خاں صاحب 'ڈ اکر سعید اص صاحب اور ڈ اکٹ تماد ین انی
ات ےت ارت نے وت اور ای مو حم و ہر طح
اون ہے۔ قردریات جماع تکیلئے اس وت کی ہے۔ عبت پ بھی فپھل وا
اور جماعت کے ان دوستو ںکو خطیا تکی ری ککی۔ سب تے بڑھ تڑھگ اس
واقت وعرے گے۔ ڈاکٹر تمرالدین صاحب نے غالبا جزار باؤنڈ کے لک بنگ
وع ہکیا۔ یہ نکر ڈاکٹربشثارت اج صاحب جو ان کے دوست بھی ہیں کے گے
ای نے و اپن آ پکو را کی ا شی ےت کت
پانی نئیں ۔گھ رم کاریٹ بھی نہیں۔ کین کک یکوئی اس صورت نہیں بہرعال
لاہ کے احباب اور ہقائی جماعت نے تھی حصہ لیا اور تیر کا فیصل ہکر کے لیرن
واپی ہہوگی۔ سارا راستت گر مندبی اور دعا ٹ شگڑارا ڈاکٹ ترالدین صاحب کی
عاات اور وعد ہک یکیغی تکی دج سے۔ رھ عرصہ بعد اکسا رکو جب مژرز فلڑ ۱
جانے کا موںع ملا۔ نو محتزم ڈاکٹرقرالدین صاحب ابی مھ ان گھرنے گے لی
اھان ےکی دعوت بھی دبی ۔گھ کو د یھا۔ بڑا اما ہرحاظہ سے 0۳01511 77۔ کا رٹ
بھی بچھا ہوا۔ لونک بھی ماشفاء الد اح اندا زکا۔ ڈاکٹرھنی صاحب جھے کن گے۔
لاحب میں میرک کار دیگھیں اور باتھ لائیں۔ خسار نے کارب با رککر
اوح ادن یڑ ھن ہو اللہ فقالی کے ففل وکرم کاجھ ڈ اک صاحب پر وعدہ
ہو اش رادا ]رب جوا دعاشیس منیمک ب+ ھکیا۔ اخلائ اور یک خیت سے وعدہ
212
کیا تھا۔ اس وقت کچھ بھی نہ تھا۔ سور و مشن پا و کی خخری کے ماس قربائی کا
دعدہ ہپ راکیا۔ اللہ تال نے اپنے ففل سے تو لکیااور بت چھ دیا۔ وال ول -
ماکسمار کے قیام انککتتان میس جن جن دوستوں نے اخلامس سے مال قریا یکی سب
و کا
لنرن می سگیسٹ پا سکاتام ۱
ان عراکز اور من او سز کے خیام کے علادہ اکسا رکو شرت سے ا یات کا
اضاس تھاکہ لنون میس مخلف اوتقات میس اضباب ' جم شی عم یداد عرک کی کا رگن
کھج نو لکیلئے آتے جات ہیں ا نکی رپائکش دوسنتوں کے مکانات او رگرول شش
ہوگی ے۔ اک رک وہ ہر طرح غدمت داش خکرتے ہیں باسں ہمہ مکانات کے تک
ہوتے اور ناصلوں کے باعت مممانو ںکو مد لندن اور مشن اوس آتے شس
ملا ت کا سا ماکرنا پڑت ہے۔ صن انفاقی سے مدکی اض ےکی مک پہ ایک مکان
کے سا 8816 ٤ ی۷س
اس ما نکو خریرنے کا فیصل ہکیا۔ خی زکرم ار ار یٹ صاحب فانشل سی رٹری
ےکم اکہ مالک مکان سے بات چچی تکرمیں اور معلو مکری یکل ہکس ف در شیھت پ
فوخ تا چاتاے۔ ہت ےا و سن
اطلاع دیں ا سکی خری کی جلد کر روا یکی جا گے پالا خر ضروری معلوبات
اور ثثت فروخت معلوم ہونے بر مکان خی دک لیاگیاک خماکسار نے اس ممکا نکیا
خری رکا کر نطرت چو بر ری مج خفرارقہ اں صاحب سےکیاکہ الو رگکیسٹ اوس یہ
مکان خریداے۔ رت چو برری صاحب بے عد خوش بہوۓ اور رت کااظمار
کرت ہو فرایا۔ ناپ رکون ین بھی اس کے گے و گا"
2713
سج ہی ا کے ے ےت گے ات جوا مت
اور بن ے عطیات کے ا اک یہ رو کے ا
ہے یہ فوٹ سمل ہیں لین اتالکھنا رو ری “علوم ہو ےک جماعت
نے خاص اترام اور فراغ دلی سے من پا کم یٹ ما کی خ بد کے افلرام
کو حراہا۔ ساحلہ عالیہ ات یہ کے عرلزی عمد یداروں اور دنر متحدد احاپ اور
ہز رکوں نے اپن خطوط می ےر دای سے ان خد مات کا ذک رکیا۔ پا نو حفرت
یی الات فن> پردد مر نے دن عائ کی تو لہ و فزائی فیا اور
دعاؤں سے وازے۔
ایک مشن پاؤس جو الیٹ لندن مس خر ید امیا اس علاقہ کی جماعت کے صدر
گرم رز جیب اد صاحب نے حفرت غلیفہ امج الر اع ای اللہ تال سے ای
کے افتقا حکی درخواس تکی۔ میرے قام لندن میس بے مشن اوس خھ بدا جا چا تھا
لن اس کا افتتاح خاکسار کے اع ریہ آنے کے بعد ہوا۔ تضمور نے صرر صاحب
اما" مت کم یناور فان بی تن وت کا ای یں ا لاح
٦ 0
79۳7 4 )+۹۶ "۶+
بڑے افلا می او رج ہہ کے سا تقاع تکی بھربو ر فد مت کی ے۔
یہ یں بی مین کامال خیب فراے۔''
( ضا مورے ۲۳۴ نو ب ۱۹۸۳ء قُ۱(١٢۱)
274
آتنعدو شس لکی تبیت
خاکما کو قیام ا پککستان میں آنتندہ لکی تربی تکی اص اکر رہی۔ گر چہ بضت
دا رکلا مز لین جماعت کے زی اہچتمام جار یی ٠ی ںگرے صرف لزرن جماعت کے
بچوں کے لئے تھیں نماکسا رکو سمارے اخککستان کے احمدکی بوں اور نی نسل کا گر
دای ن گی تھا۔ ناکسار نے سارے ملک کے بچوں اور بیو ں کیل نز بتی کلام زکا
اپتمامکیا۔ ہرسال الیطکی متیلات یش ایک ہفی بیو کی مقر رکیااو رک رس
کی تعطیلات میس ایک ہضیۃ بیو ںکیلے مقر رکیا۔ ان کے لئے نما پر وگرام “نصاب '
نمازوں میں شمولیت اور چو می ںفٹوں میں ضردری امو رکی انحام ددی کانظام مقر
کیا انی اص گمرانی میں۔ جماعت کے مبلین اور لح دورے اخباب اور
خوا تی نکو اسماممزہ اور گھران کے طور بر مقر رکیا۔ بھی بھی خمائص بز یکو ںکو بھی
دگوت دیتا۔ ان کانخار فگرو١]۔ ان سے در خواس تک را کہ بچوں اور چو نک
اپنے مگجریات اور زندگی کے اش واقعات سے آگا کرنے کے علاوہ ضروری ضا
سے بھی نوازہیں۔ ان بزرکوں میں سے خاص طور پر قایل ذکر حخرت چوہرری
فرارٹہ خاں صاحب ہی ں کہ وہ بطور حخرت سک موعود علیہ السلام کے مال اور
صاحب سحلوت و مت ہو نے کے آپ کے تارف کے سات ذکر حیب کے
ضوع پر چوں در جوں میں گے یگ دز یں تقر کریں۔ ای رح ایک
وئہے بت ڈاکڑ عپرالسلام صاحب سے درخواست کی کر مت ۱
برکات پر اپنے انداز میس بچوں اور ہو ںکی معلومات میس اضاف ہکرہیں ۔ ایک موتح ۱
بر محنزم بتزل عبد الع صاحب لندن تشریف لاۓ فو انییش بھی دعوت دی۔ انموں |
: 275
ے بھاعت کے شاندا رکارنامؤوں سے آگاەکیا۔ چے ادر جچیوں نے غوب ظ اور
لف اٹھیا۔ انہوں نے بتایانکہ ہارے ےکس رح شاندارکارنامے انجام رے
سے وت
الکستا نکی اھارہ جھاعتوں اور شروں سے اےالکیاں اور ۵٭ا لڑکے ان کامز
یس شائل ہہوے۔ ا نکی دہائٹی اد رکھانے پٹنے کے اخراجات مشن تے برواشت
جت۔ نمازو کی بااعلدگی کے ساتھ سا دو یرے او قات میں قرآ نکریم تی
صا کی اور سوال وجواب کے موا دی جاتے رہے۔ کلاس کے مقررہ ایام شتر
کون پہ باقاعدہ استحا نلیا جا راد رکامیاب ہونے دالے لڑکوں اور لڑکیو ںکیے
فاص ابتمام سے فا کش کاقیا مکیا جا رہا۔ انحابات اور سرٹیکلیٹ دہئے جاے
ْ رہے۔ یہ چے ادر چیا جب اپ ےگھرو ںکو والی گی نے لف او جات می ان
کے دالای نکی طرف سے بمت د چپ آراء اور تبھرے موصول ہوے کی تے
ھا صاحب! آپ ن ےگ رک ملغ ےینس کسی نک ماب اس کے زا
دہش کو با کی لو پچہ نے ا جہ دلائی کسی من ےکھا مز م سکو اہ یک نز بجی نے
ولا یکہ اب نماز کا وت ہے۔'لضل دا مارک کارکردی اور شرمت
ا یاکت الفکتان پے غاد ادد قد کا او سے اس دج کر یک اگیا۔
۱ اعت کے اباب ادر خواجن نے اص تھاو نکیا۔ خسار ذاتی طور پ بھی ان
۱ وگراموں لیم دن ریس “سوالات اور جوابات رہ اور خیں حصہ لت ربااور
فاص دی
اشماعتل رچڑ
7 بر ہے تل کی رت یی وی
2716
ا 7 مم
الاک فا تو ایت کر فی مالک میس یا
لف مقابات سے آتے ہیں۔
جائیں اور سیاجوں میں بالضوعی اوہ اعلام
رھ 0 ان تس ںا نے کے
اھت ھاے؟ ای رر رن یع یم لے ۱
+٠ مت انت
ککھھو ایاج با کافرتی یئ یمر تی9
مت صمتاق ۔ابرل ور جو : سام ۶
ہا اتا رکیاگیا۔ ہردد ٹولر اگریزی بے
ھرت لوان شالن سے جاتے رہے اور سیاجوں میں تت ہوے پک
08027 ںکو بھی تضور گا ہداصت پر کھوائے گے اور اپ جپ یں نے
لر ا من کرت نکر مر سے می ص تہ ن بھی ان کی
اشاعت ہو ئی۔
وک و یع تکی اشاعت کے علاوہ ہار
وک 0ج٣ اشماعت کا گی اتظام ہوا
”اسلائی اصوإ 00 مفرت کے مو عو علیہ السلام کا وہ مقمون کے رم
.کے ٹی طرف سے آ پکو الما چان 7 لہ یہ مححمون پالا 22
رکے قام ااکستان کے روران ستخل
7- و وک ات ا
٣ سس رو کے
کاراب ا ا معلوم ما کہ اھ جو ں )تر
مال
س9 میسو ست ھا ادا بس اج
277
فک سے جج میں ہے ہیں
ین ہوا اود اور بھی خامیاں انہوں نے فو ٹککییں نے حر غلیلہ ۱ 7721
کی غحدمت میس اس دوست نے نہ الا ی۔ اس پر تضور نے حضرت چوپرری
فرارثہ خماں صاح بک ار غاو فمایاککہ از رن وکتاب کاعمل تریح کریں۔ ال تھا یٰ
نے حخرت نود ری صاح بکو توق دی اخموں تے کمل تز جح کیااوز ماکسا رکی
1 . ے0 1 رھ کے
رای میں یہ نیا تمہ پپچاس جا کی تد اد میس خائ کر وایاگیاں لف مکوں کے
اص بی مشنرک و کائی ند ادیس گنو پاگیا۔ :
اس کے علادہ جخرت کچ موعود علیہ السلام ک یکتب کے اقاسمات کا اجکی
میں 7رہ 1818 ٤ ۱٥ 7“ کک_ےے عنوان سے دو جلدوں میں اح ہوا۔ ے
مر اور دہ یرے ما میں کی نین ۔ سے خر بین رو
تحثرت چو ہر ری صاحب ریٹائز ہ ھکر منددن یس سھم تے ا نکی خاص جدو جرد کا زنے
ھ ر .-_ ٠ 1 - 2 کے
جو حفرت خلیفہ الج الا کی فناء مار ک کی تھا دیس وق ےئ
الکستان کے جو کی فنڈ سے ال نکی اشاعت کے اتخراجات ادا ے۔ کا
سور ت فاتہ کی تخیرجو حضرت سی مو عور علیہ انصلد تو والساام نے رر قرمئی
۱ ن کا ائسی دنوں اگمری:ی میں شا و ئ۳ ں ضورت ںای 07
.ہے سس ہے
اپنے غیام کے دو ران ا سکی طباععت کا فرلضہ انام دیا۔ 7
*عوت لایر مشمور و معروف آھزیف ے جو جظرۓ غلیہ/ کے نا نے
"یئ نت یی کی کی سض رت کا مارک نے
ت کی مو کور علی اللہ ةوالسلا مکی ؟ ہہ علامات
ترجہ امو
گی صداقت اور ج
1 انحوی من نع سے ۔ این ماک 7
”الام میں ار ترادکی مزا “کنا پچہ ار زی یس نحثرت ہد رکی صاحب سے
82
ام رواب
21718
تا رکردایاگیاادد ا ںکی فاص طور اشاع تک یگئی کنا پچہ یں برلل طو ری ہہ خابت
کیا یاکہ ا سلام ججرکا نہب نیس درا رت رادکی مزا فی خھین۔
اگریزکی زبان میں قرآن یرمع تضیری فرش صے مک خلام فرید صاحب !ج-
اے نے ایز ٹکیا تھا اور ھت بکیا حا جکیاگیا۔
فرانیھی زبان میس ”نقرآن یکا انٹرو کش ن "کی بھی اپکستان کے جوکی فنڑ
سے ناکسار کے قیام کے دو ران اشماح تک یگئی-
یہ س بکتب اد راچ کی کئی ہار میس ٹ کردا گئے۔ جب بی کمنائیں
ضیفرت فا لع انا فیرعت می ک نیت تو نے مز خوش کاا مار فنات
اور لف تجیلسوں می ان کا ذکر ا مان سےکمرتے-
بکرم فیس رسول صاحب جو بشودہ(انڑیا) ےک رے والے کے اور ایک یرت
کے 0 کٹ تم بت سے ا سار رک رت
ام مس می احریت قو لکی اور بیع ت کر کے جماعت کے ایک مزز تقایل رن
ے۔ انوں نے ایت ول کرنے کی روگداد بنام
11٣ صطھ ٤ تەطاد ٭ 06 کیی۔ ماکسار نے بی اس
7تاپک لکتان مِں شا عکیا۔ بے عدعتبول ہوی۔ لف ماک سے ا کی
ضردرت اور مو ولیت کے خط آئے۔ ناکسار نے اور محنزم چو ہرری صاحب نے
.ا کتابچ کی اشاعت سے پل الگ الگ پڑھا اور ش مرن ےکودل نہ چاہتاتھااڑی
دفصضی انداؤیس انبوں تے ہہ زور انی ۔کئی سوکب خود فی ر۔ول صاحب
ہے ا نج ہنروستمان کے بڑے بڑے ارز“ علاء اور مسلمائوں کو
چپ امھیں۔ خماکسار سے تاضیہ او رض دو مسرے مالک سے اس کا مطالبہ 4و٣ را
از کی افادیت کے خاع ذکر کے ساتھ۔-
ایی تر جنۃالقرآن کا تس را اب یش 0110ا پر کا ڈائ رکٹ اکسا رکو مل یکا پی بی کرد پاے
279
چو ں کے تاس بل عو ید
انگ یئ می ان کے رام شا نے گ۔ عفرت بلال کی سوا ز خر بر ایک
کاچ انگ ریزئی میس تا رکیاگیااور گی برا دکی تداد می ا کی طیاعت ہوئی-
ا نکتب کے علاوہ خاکسا کی حگرانی مس ححخرت خلیفۃہ لج الڑالت کے ا رشاد
یلیل می سوا می تیم لقرآن کا رای یشن دس با کی تعدا وی شا کر
گیا۔ 2300ا ین ے فان برااورجنھ 3 ای کے مشنری انجارج کے
پار ار اعرارادر مطالبہ پر انیس کگوایاگیاک بے سار اکام عابقزک مگرالی یس ہوا۔ ول
۱
ا کت بککی طباعت اور اشاعحت کے علاوہ ہر با قاعدگی سے مسلم پیرنڑ رسالہ
رئیش اور اح ہیگزٹ انکر یی اور ارد وم شائع کے جات نے ا
گا ایٹڈٹ اد رکز ٹکی اشاع تکی الک انگ دوست مقر تھے ۔کرم سیر منصور
ماج نے رعالہ کی اڈ یی کے فان امس خل ہے انام ےا
ریس کے لب عنیزوں ن ےگز ٹف کاکام ھا رکھا۔
عقرت غلیفتہ ا جع لاٹ" جب اپتی الس می اس می کے پارہ میں جب
آ پککو الام مکی اور کب میں ق2 خام نترئی نداز می ذکر را پالھوم
الام آباد(پامتان) یش ان دفو ں رم مھ شفع ا شرف صاحب ملغ تھے ڈاکا رک
ورک ان جذبات سے مط عکرتے اور تتصیل سے اپنے خیلوں میں تضور کے
براچے اذر و شفنودی کے اظما رکاذ رکرتے۔ ایک ھرقب کر ممکمال وس صاحب
ا ناردے نے اکسا رکو مبارک باد دپتے ہوے اپنے خط میں عضور خیزۃ الم
اٹ کے نی علمات اور تھریحات سے خاکسا رک 7گ مک رکے مرو رکیا۔
280
ان الا ٹوائی کرت کے اخشماارات سے رااط
یں ہریت ہد تی ڈ2
الگستان کے قام کے دو ران اس عاصی عاج کو ین الاقوابی شرت کے رق
اشجارات جو لندن سے شال ہوۓ ہیں ان سے رابطہ :رہام ٹائهھ زآف لٹرن۰ ۴
گارڈین کے نامہ نگارو ںکو مشن پاؤس میں بلدکر ا نکی اض کرح راو َال
اردان ے اکر مرن دو ا غارزن ند اکانوصٹ ے
گی تی رہا۔ اس عرصہ می جو خوط اور ات یت واسلام کے متق تہرے شال
7 "یت ود
سب سے لہ ۱۹۸۳ء کے می روز گارڈین کے ا ا
چٹ کہ امرمان انان یم فمالی بناۓے گے کے“
00۶ف ان ا ار میتی کرت
گارڈی کاخ ھک اعلام انی مت پر ام وش نہیں قرآ نکزی کی سور *
انخا لکی آیت م۸٦) عم
۵٤٥ مطد عط ضط 1ط ۱۱ز د 0۷۶ ط0ط 01 1:30٥8
,>1 ض١١ طئ٥ا) عقلنبی 1( ×م کر ق یر ام .ذخا یں کہ 1۷یابوں
180.0-۴۱ ۶٤۴ عط) ئ٥ ہ٥ ٤ ۳۱۱ ۵٥(
زدم ا (ت[چھ۸ ٢× ۲۱٢ 0ف .116070000 ھیل ۷ص۲۱۷۵ ۸15
۷۸7 طئ ۶۰۱۷۷181 68(
تل ھکر دضاحت کے ساتھ خط مل کھاکہ اق دہ اور خت جن ککی عالت مس
دک کڑس جا اود ال کے طور پا نکدقی دہف جس ررکھ جاۓے نک عام
9٤۴ 00 و ری نایا جاے۔ صرف ای قرو ں کو 0ج101
ا لام ارت ا کک سے یں اک کر
281
جح ہچیچ سے سے شا ا وا لھچا
ا میں وی ملک یئ ما رون کو میا ا اصلام لے ۰
اجازت کین دیتا۔ گارڈین نے بے اراخط اکسا رکا شا جکیا۔
اغپار اکانومسث تنے جب نان ہکعبہ پر عملہ ہوا اس خ کے ساتھ یہ بھی شا خکی
مہ ان عملہ آدروں میں اجکی بھی شحائل تھے۔ خاکسمار نے فور اس کے روم
انوس کو خط تکھاکہ جماع ت کی شمولی تکی خمربے بفیاد اور سرا سر فلا ے۔
جھاعت اتمئیہ غانہ کعبہ کی عزت و اترام کا عقیدہ رکھتی سے۔ اکانوصٹ نے
خسار کے اس خ اکا ۵اد بر ے ۱۹ء کے الیٹو میں شائ کیا۔ بے خط جو شال ہوا زل
می درن ے۔
6 اہ 241 27 تا 10۷۰ 158 7ہ 0ء 716۔831
0 ۸۲( 1 ه۸و3۷1۱۵ نا110 عط٠ ٠ہ صمونمد اجوہ
۵8 عءعلم٥٥ھە طءنط 58 -88ئ×ّ ]۷١۱ ۰٤مصسدہ
1۲9(1 .مزا مہ۴٥ غطا صز 11۲016 ٥٭ا اطع ت 2۶4وم یئ
۵ ۱۸6۴م 110 نا اعت مطا ۷0 0۷ط 000590 تما
,]1 ۱ ۱۷ ۸31۷۸ ءصطذ۸ ٠ ۱۰(31-11٥6 عطل 00ل
0۰نا عط 15 81[1]
8 3ه ءدوہ0]م3( 10٥٥مصا عطا ]ہہ صسعم] عم..ا]
28 مھ عطا ۶ہ ۲۵ء ء ہت
٥ ٣٥6 دا8 01ط 60601 صن حجانصى اصی
16٢ 18 6 .10ء تمعىٗدہ هہذهاهقعط عنط علادّنمےیم ری
١۸8 10 60622: صطھ عطا ٠ہ ت ۱۵1١ عط حص
6 وط ٥ا 1816ء ۰طث صعلیسط2) 0۷۷1870 1:7-1١
:23168818 ۱۶۱ ۲۱۸1م ٤ د٘هے ز(۸1 18( ۸١۱۶ء ءرورہ
٠٥ ٥0 "0٥0 ۲۱110۰۷ قنط: صم مت ١ مز مز مہ عط 10-00
8 ق(ل1طائادہ ۵ طد ذہاصاضلا نعطا اہ مسا عت
809 چ صلئطء د٭<م طأد۱و× ×ط
٣٥×٢۵ 696
ص3(۸] ا“ ۸۵۶۵٥۱(م مہ
رس ھ۷
282
٥ط ۔۰ ۹151“ دز ا ای ای ا و
ص١ 6٤٤ [ەط ×٥ قصد ۔د۳م مو دہ ٠ہ صمنءّٴنة
٥ 3۸۵۸۵0۰( 51017 ەط٤ ٠ہ دہ1ا مد ء٥٥٥٥ ط)٣ ×0 ٥10 18ہ
717 ۷۷۲۰ .1:5 08ہ [1ج۶[16 1 4 دہ عمصلعط 9۲٥ص ہ ×ط
۳١1: 86 7۲ط مزا صدہء ترصد ٥ات تمہ
۰٥1زء ص1 ٥۶1٥مص عنط٤ -ذ ۱[۷۲۵۵١٣×صذ ص٥ەط ٥٣عط وط
40م ک 310175۸۸( 877171 81718 0100
(15,1979 ٥ء ط066 اعنصمدہ0 7 عط ےت
اپ افدام کے علاوہ نماکیار نے سعودگی رپ کے پادشاہ ال کو تی ا ِ
بماعت کی بریت سے آگادکیا بلہ عحملہ آدروں کے خلاف ا جفخاج کے ساتھ غان
کعب کی عزت و ارام کے عقیدہکابھی اص طور پر ذک رکیا۔ بذ رجہ تار بماعت
کے اس موفف سے آگاوکیا۔ ا رکی لنفل ذیل مین دے رہاہوں-
2ھ 301طم صلّط 110ھ ط ک ع صنکا نوا دہزہ5( 57:18
3 ۰ھ 88141 71782
.۸1811۰ 1800ھ
زط داعمااد مہنع ز[ہ” ۷ء ۶ہ ٭٭٭ط ۶16(٭< ×٥ط ط7
1 089 :2ھ 0٥٥ 1د ×ددہ دہ د 91ص۲۵ 14ا نع مندد
٥د لام طہ چ ص(ددہ 118٥۶ 11د تد +٥ وع ص1818 ٤ہ عمنعطۃ
8 ٤٥۰٥٤٣ہ ۹۷ ری یئ یں
٣٣× ××ەطصسع- فدٗد٥ ٣ء٢ 7×٥ طوەەعطا
1118 10 مصعط(م ۔مرئد صمتطدتا+زہ ط٤ 1۶ 70۲0٥3
٥لا طاءئط ٢ہ ٣٢٥٢٥٢ ٥8ط ×مص ععط ےم
6 463 168 :0۶ط 50 88.111 معنا دہ ٥ط 1 صد آزادہژ3]](
٥ط 48ع طدالھ َرهَّلا( .دلطصعط؛ا 3ه ۶ ەدته×ھم
ر 38ص نہ٥ ,طاع ۲9۸ اہ عصاعطة8 را50 عط٢ ۶ہ دصونائ۲ دنہ
اہ ج ط1× ×دء مسصناصہۃ ہ٠ ۲۵۵۱1۷۰ 00 6٥1]04٥ء10
47۰ ۲٥ہ ةنطا
3 طخ علوط ت5( ط ا و طڈ
283
٣ م3۷18 سزاہ0 3۷( د ٥۸د صطھ
8 7 40 ہ5 ,9ئ7 11عط 6۲:8٥ 16
_اکمار نے اس تار کے ذرلعہ جو افقدا مکیا اس کے جواب مم غاللد بی
عبرالت زی بذ رلجہ تار شاکما رکو مطلعکیا_
0808ء 58 700781 9173ھ12 70047
42 838 0ا0 6816
0 42/42 71۲۸07
,0
7324 .۸ - 777۸0ھم تم۸ھ02۸/( تھی
6:.3:.2758500111 16 0/0.:- 7 311853107 578101(
۲١۱۵ 01007 007710071 ۶0۸70
1220
٣٢٢ 2 ۸۶۶۲۶701۸777 1 70 ۳ھ ۳۲٥۱۱۲۰ 1۸۸ح
٢ ۷ 80۸٦ھ 27۸ ۴2711716 160 ۲5۸(1
6 3۸08.0231078 ۸0م 181۸71 0 0161177
8155 7۲ھ ۶۶۱۹۱۶38 <ا 00۲٥۸ ت0٣۳
.4 78ذ 10ط 571۸10
ٹا زآف لندن نے ایک مسلم کانفرن سکی رییورٹ شائ کی جو کی اسلابی تتک
یل مضعقہ ہوگئی۔ اس ری رٹ میں چمادکی تھ رم یم ہہ جا اک کانفرنس وا رکاچماد
راد یں یق ۔ بکنہ تی و صد اق کے علی اور فی جددجم دکو چما گر دائی ہے۔
کی ریو رٹ کے پڑت بی نماکسمار نے ٹا مرکو خطنھاکہ اکیک سو سال قل بماعت
ائد بے کے بالی سید ناعخرت مرزاظام اج صاحب نے جماد کے ملق وضاحت ے
ال یک نی یکا ھا۔ غوخی ہو کہ ایک اہم ملم نفرش نے جار کے اس
الو کو لی مکرتے ہوئے اب ا سک اشاعت بھی کی ہے۔ ٹانھزنے اکسا رکا
فا٢ فرد ری ۱۹۸۱ءکو شا کیا۔ ننس پرکیر ج کاچ آ فکرانسٹ کے ایک پر وسر
ند
ا
ے7
285
284
۱ کاخط الع ہواکہ امام مسر لنرن شگکریہ کے سخ ہیں جنموں نے جماد کے تعلق میں ا سارک ترار نی دتا۔ مکی ۱۹۸۰ء میں اکسا کے خی شا ہوا۔
وشاح تی ے۔ إ- ائزآن مدان لے حرا بک اہ کاریوں پر ایک رپورٹ شال ی نے
: اخارگارڈین میں زناکی مزا کے متحلق عام مسلرانوں کے اریہ کے یش نرہ || ۰
کرت 2 ا وت وت وش ۱ ا و تی ات
گارڈین نے اکسا رکا مندرجہ ذل خطط شا ئ جکیاننس میس یہ وضاح تک یگ کہ اسلام ا دا سک٠8 ۲ار ۸۸نا کر نار کاخ یرہ
کے اعم ادہ عدددکی ید قرآ نکر ہے۔ قرآ نکریم اس ج مکی مزا سار وہ ہوں شا کیا:۔
کی ججان ےکوڑد کی دا ہے گارڈین نے ذیل کا عنوان د ےکر اکسا رکااس یارہ 46ء ٤ہ عصمام س8
رو یی 8 ۳ 8 صطم علحع ط25 ماعط ہ7
میس خط شا عکیا۔ حج ٥۱ ذاهمطه متا خوںہ 7 ع(مازدہہء )٦([ ,811
۲۸766 77ذ 11530100715۷(
2 9 7 ۱5ء :5 ع دو اد یہ 160 عط 8ع 1٥وہ ۱
23 ط٥إ ۱× م٥۵٣ ے2 468 0 م۶۶۵۵۵وہء 0رہ ۹12 ×لاط٢' ٤ہ ۵۲ مم ۰3۹ ئوہ 17۷ 1 عنام ٥ہ ,8
6ء ٠١ س51٦1 صد چصترلاہ× ١ ۱٥۸۸٥×۰ صعادزعا:ط ۳٤ ہذاو5و180و 5 41::10868 طاعئط ۷ ,20 50۴0(
٠٥ ء٤۰۷٥ء ××. 71۲۵1۸17 ٤6 عچص16841 دہ( ترانءمطاددہ دنط ١ 75818 مز 10 0٥٥۶۷ 1 101 6 8× ء14161 مہ ہ
08ہ م۳۷۰ عط ر118( ص9ض۸۵ عصتہء غعط) دہ +9 9 آ وط 9۰ط 108[د: متلانہ 6 2000 ۳١۷ [۵٥, و
۲٢۵۵۷۵۲ ١ط رط 29 10ا 5د 89 ۲۲٢٥ ٤0ھ 9 صة ٦ا۱٢ بط إ فا ح۱امصه ععلاعہ× عچصنطلمٌءةو 1180۴4٥7۰ 1 نعط منطا
اناط ٥× ہ٣ عادعطء ٥١٥امنصصصٌ٤(دء مط× مم ۰ ×عط] 18 70 1108 ھذ ١ منص 3۲ صمئوییٔ01۰۰۰
4۹ء ط۷1 ٥ ط٥ ۲188۶۰١ 8 ة ١ص٢ ۲٥۵۴ ہہ قیصنطط ۰ ع مصنعاصاہ مز ×ہ وط 6 اط ناظطیئ زط
(24:5 ہم اذھ 6 اط دہ 0 0 9 21م ٤ 6٥ ترحظٹ۸(
۶٥١ ط۷ط ٗ٦٠8٢ طاد٥1 ہا عمنصماە 0 68٤6 1 ٤ہ ۸1عادوء عط ۶ہ 8۹ھ چ ع ند 0۵ء مہ
۱ط عداءء رجدھ ×ہ۲ ۴۸ عط د1ء صمنتا 7 تسد ة دہ اتد عط (دمنہ رطع فدہ لیم میں ۵9٥
7[ 300 : 1 ۔ 2 :.
پچ 0 7ھ م عظا ٥ہ 6 0*0 0 ٹڑ ۴6958111 ط1 ص٥ ٣ہ
۴۲۲٥۱٥۸ 8 6 عط۔ لوط 0 عنام 6 ۸۲م وط
٠ گ007 -النادہ× علنط طا)ں 17 06 0090م ا ر706 0
انالوم اخار نے ایشا ویو ری کے ا ٤ہ 1٥٥ گی لے کا توالہ 8 ۲مد صذ مصنلءہ3 5601005 76 دا قمانھٗ لی
: و - 9س ×8 ۲۷۰1(6 5مہ 8 اط۷ ذمواوحں 1811081ررہ
دپے ہو کھاکہ ”نکی مزا سککساری اور ریم ہے اسلائی شیع تکی رو ے
٥ 86 ۲ 7 ۲ 6 طاعدمعطل ((ہ باناظ زخحاصاہء عتص
اس پر خاکسار نے قرآ نکری مکی آیت کا حوالہ د ےکر کہ اعلام اس جمم ا لو چوس
8 ٛت۸ ٭ ٥× طا ب۷5( ط ءا رنہ ط5
1٥0 3۷۸٤ 0آ عط ٥٤ہ د- 3د11
ء۱١٠١ ٣٢ ۲۶٥۰۵۷۹ 8۱ عط 0او ٤٢
2
۱ 286 ۱
۹م دہ عط تراصہ صدء ]غعط قصد ٤٥۲ ۲۵عطء 131٦8٢1۶1امرہ ٢۲
۔ط انہ ۶۰ء -صزہ ٤ ط٥ ہ١٥٢٣ ٣ط
۱ قنطغ صا طانهةة دا٣ ء٭٭×م عط:] 05۶0۲٠٢83٤٥٥٢
ع[٭ەطء ۲3۱16١ ٠6 ۷اط 66ت فعط اتصعتتا ف1ط رصاصصہ
٣١1٢۹ ۶1۲۱131 ز جرد 1 دد ۶× دص صٗد ٭ٔزا٤٥1 هہ<٥ہ ط٤
0۶ طا نقعہ۱م۶۵< 18 ط٭ ط٢٣ 1 ×× ٤۶ء ہ1 دہ ٣٣ط ۲ ٤عط٤
٤ 81ا8٥ ٤ ٥اط حدەنامطہ1١ ۶ہ ٤٥٥١×جرہ عط) باٗدہ ئ١
×ء ط۲۱ ۱ئ مط 3 1< ق 86٥×181 ۵1۵۸.٤10 1 20717 78م۲۱ م
ا 116565 ٣٥٢ ج ۰ا د۲۳۵ حم ص318] اد۶ دہء × عھ .1118
۶اد و( ٥ء صعا ئ15 ×ہ امطا1:0د ۶ہ ءع م ط۲ ۴6۰ نا6 1م
1٥٦٢ ٠0 د13 ط٭ زط× ,>-صدح ×0 با1 ٭ط٤ صذ 41 م10
اط ۰٭د .....ع صتلاطاصوع ١ص <11۹۱ ,ہ٭٭ەناەط ط٢ ,8
ط٣۳ ×<۱) ہ35 ۔دہ 1٥٤+ ٭نصعا د8 1 صہ عصمنا عص دہ ط5 ۱
(5:91)٭۶۰ہ ۳۱۵ج ×× ۲٢٢٢ اعط٤ ×ط٤ مہ۲ 883
۶ہ چصآقا )<1 عط1 8 ۷۷0(1( ط٣ ع صمصد ×ط٣ ذ1 غعط_'
(۷٥۰(1 8٥٥٥٥ ۃ١صد ص٭مصعغاصا اەمصا8 ە٦ امطہ 41
٥ 8 نا ٥ ٢طز ٥ط ٦٤٤٥٦ ۶<×مط عط ٦۶۰۰1 رہ صەعط ٭عط
٭ط ۶ہ 1858۰٥٥ عط) ٤ہ 5 ٥چوم 1٤67 8٤ عط) ح٦ 43٣۷
آہ صمنعدءہ٭ہ ١م رہ
الاو اہو
0 ۳ منەم8 ١٥ط
۰ 888٤ ٤ ٥
ة۵ فصو 500 ا٥ط 00506 ٤ك عط - اضعطفوظ. .10[عہ/ہ ٥ں
1 (صنط ط٣ 3مەەام ٤ط ط1۵( )1
٠> ۴٣1٥٥ ہ٥ ط:۸8۶( 20.
٤ ۴٢×٥ ٥ہهناطقە×اار
3 طصطم ا۶۵< ط3۸5( :
6و3508 ط6 ,صدہ٦ ٢ ٭ خَّ
)۴۲٥٥۵١۲ 1 7 ۱ 16 2
۲٢٢٢٢٢۰٦ ِ ٌ
35-٥:2 2 25
۱ کے
٤۷ ۱ 0009 ظ 2
٘
5
27 وت
سے وت
یو ارت بن کی تی تا و دا ما کو مہ یز لی
ای ات کہ کی یق رر ام ےکی وق نی
اخراجات شاکمار رفندع سے جو رک اہازے ے
عغرک سز
دن ف رو کا یک ہی فیا بھی رکھا سان
موہ کت سے مقائی باشنرے بھی برع
کے کر سے سے
ئین۔ ری سیت یا 72 یر الا اداکی جس میں احاب
ےھت - سے تے دیاگراؤ ا لوٹ اس تر بای رہ بی یکر
ہاے۔
گادڈین اجار کے تما تن ہکو اکمار نے مے 0 0ت
کن می سے جھائق قاصیل سے گا وکی ہا نے ھی اشروی ایا ا سک خیاد
1000674 صمطک ےت ا کی7 رز نے *استہ 1۹۸۲ء کے
اپ ہیں نصف مفہ پر اسے شا کیا۔ بماعت ور و اک یا کی
او بعد بین میں ا قلاب آگیا۔ جی نت ا راع ایرد الل الی
1 بعر ا
نے سے ارک رپورٹ مگھی ہے۔ جس دن سپ کے بت خلیفۃ اچ الرانع ایرہ
اللہ لے افتقاح فراا ای دن لنرن کے اس فی اور نا الاقو ای شبرت کے )خار
نے رپورٹ
صندمہ 7 عزہ ×و
کید او 6 1816
28
کے عنوان سے فاص امام سے شا کی۔ اس طرح تفضل دا اسلام اور احربیت
کا وب تے چا ہدا۔ اخیا رکی ریو رٹایہ گی:۔
صندجہد <ہ۶ ط چزد 41+6173 مسط 1٣١ ۰۵صة[9]
۶۴۵٥۰ 8۶۰ہ۶۶۸٤ عط صہ 7002 01آ
8٥10890 0٥0۲٥ 56ط
ص٥ چ صا حصنا:ص5( اد( ہ'مندم5 ٢٤و :ہ٥ہ۱<×۷ن٣ عطز'
6 .801680 ئط1492.77 ,2 ترصعسمصوک دہ ۶۸3603< اه
۵ط .18ھ ط۲۳ ,09 ۔88٥۲] ٥٥٢ ۶۰۵ علط ہ٥۲ 1۷
٠نا .ا۶۰ 1۲٥۵۵٥٥ 17ا صد ٣۸8 ٘۶ا×ہ عنط ×ط 1601 ۶ة
,8×ط عنط ١ ط٥1٠ عط نزانه عط) ٭×مطجد ٥۶ہ ۸۰۷۰٥
8ص غط لانه ادہ :۲1 نمجدط- عط ٢ھ علعودط 100(۶
10.8 ٥٣ا٣۷ ۷۵٤ا عطا دم ٥٢ ٥٥× عصزہ دہ(
58 0 ج8 1ما۸0 ۰1 ۱۷ 0۱ مہ اط٤ ,8ة علطا 00م رہ
۸008( ٭ط] ۔٠30۶۰ 161 1۲0 رہ50 1110ا 1ظ: عد ×× ء7(
.148181
آہ ة٥ ہ١ عط 1160ھ نہ ۴۵ا 1000 ۰6 40118طم اط۸
٢ ٢٤٥ ط80۵ ۸1٣ 15 ٤ ص تام( ۲ہ ۰و 800 ۲دمصاد
غعط ۔<16امپ اطعئئفط عا۰1 ۲ھ
ط601 عط کت
89 ٢۲۴ہ ٭ وم اقەص عط نزاطافطا۱×م ٥ة و381 ۸۔اہ
6ط ٭٭ ملاظ طز( ۸۵1۵ ٥۱ء ٥8د ۱ ھہحد عط۲ ا5نی
8 اط ٭ ٥ہ ۲د چج مزا داد 1 11فعادہء طمناوہ
۷ 7+7
۷۰ (ناباطتی قعطم٘ناع0) ۲۸۸ 3ہہہٌہتا
۶٤ 2 5181۸۳8 )٥د صہ ١صد ہمہ هعسط 8 84 ص8ى٥مطا
1689 عنط مہ8 ة٤ طعزلط٣ تد دھھمہ آ3زءنا از
ةك8ك۵ى٣ۃ]۳ه۷“ئ صہ ۲0۱۴ صمتو( ٥۲۶م ععاہ* م٠ طعوسمدہ
٥ط 00۶۸03 ۔فاصعانطعطھا صمنلانہ العط ے ط۳
2ء ٭ ممعاظ صذ راہ ا٥ 188ا عط٤ ٥۱٢ رط ٢٤ہ٣۷ ,لقانچییے
دا و یہ اد وہ 1
289
6 8ظ ۱1۶ج
۵ح٣ ۔3 10٥٥٤ ×ط تجاطماہھ .٭عەدامطء: 5 ط0: 60
اط٤ 181103<ھ۔(د طعدمعط٤ ۳٢ ])ز 3ھ ٥ 0ہ
طءنط٢ دا٥ آدءزدد٥1اء ەط٤ ۰۱۶۰۱۱ہ۵۷< ے00 270
۶٥١۶ 89 ط٤ ۶ہ ةصهاەمطء: عط) زط ×۶٢ دەەط
وزط ×ط٠ ٠٥ 7'١٥۶ ز د١۳۷ ط1118 ط لے اط ھ 7:38٥. 510316(
٤8 ۱۰ءہزنطا دہ 718 .×<دع چەطزط مصدءءط ئ٤٤1 ہ٥۹4
۵۱۳٥۱۵٥۴۶۰م۶۶ ط٭”ئنط دز ےم( 7ء مسنعع د 80٥0۷٥۹ ٠١٥ ۔دہ
6ط ۲۱۰۸٥٠ ×م حصت] سا طء”نط× صدصمنلاالەطہ× 60 ۶م
6 رظ :ا صۂۃصطدنصعط 1ص۱ عصم تا ہ٭×دہ ۶۶ ×66×م
7[ غلعط د تزلدہ حرصا٠صہء ط115 هط ۶ہ عصنصدنعەط
06 1581 ەط٣ مصدء ×6ط7_' ۹۱ء دن۵ مہ۱ عصناع5(
۰ءء 1810 ام ×ہ
1٥٤۶۸۹٥٥. 16 ٢۰11 6 1 دد ۱۷16٥ صندمر8 168٤ 1810
0 علاصعط طعنط ١۱ط ١۱۹عط 8٤ء ط× ج٥٥۱ حصند0٤ہ×
7ہ 1 ص3 4120 151 ] ٥٤۵(3ہ×ھ ّ ٤ ٣٥٢۰٣ ۶ہ ۰ا0۶٥٤٥ہ ط٤
إط ۔.طعلطدہ ×50 16٥87 ھ صذ اہ ع8×( ۶٥۸ ٦(۱۱1ء
8 ,08118 ٤ہ ۵٥ہ ×اہ عط ۸ 1945 صن عصتعوعط ۶مہ
8 8 9118ھ)) ٦5:13. طہ 1×ط صەط) ٣٥ )قط٣ دٌذ ×ہ+
728 صطم ءعط) ۶ہ ۶×ہ×عدو1دءط ط٤ صن اط 5
۷ عط:٣ ۶ہ ا دہ عط٤ ۸۰ 46١8 ]٦۱١۸۶ صہ۶ 2۸50٤٥٥٥٢
06 دصطم سصسحلاعط6 ددع75( ۰.٭-:7 عط ترحعمعاھدییء
آط ۶ هەەطمٗەع×عصمر طەنهدہه٥]( حٍ٘ط٤غٴ ًط مم ٥صصنداء
6 3٥٥۱ء ۳۵ عطء ج415 ط٤ق یہ عط7 ۹ ص8 وگ7
٤8 حط ۔آدہ< رتدعصمنەعند 8٤ز ۔صەعط هعط 7ص٣ م۸م7
+7 .د٥٤ ۵مد ہ۷ همط۔. 7 ترعسامہء × سصسعوط
8 ۵۰" 3د دح ندظھ 4ہج نعدھ ھا ۶۸۵۸ص
.7۰ ۸0 8 2 جر20-00 با تہ طع ٥×ط عصمنععاد
۲۱٢ 6 ٥٥۱ء١زہ٥ة ×د 1945 ٗذ و غعطل ہہ
290
×ط٤ ط7 6۰ م5 ہ۲0 لاع٥ط چصز” ٥ص٣ دہ
طس 8 9 8000:0 :74 ا (3۸0۷٥ ١ط ٥ہ 166
8 [] قط٤ صەط) 1ئ ٥۵٥ ۵عاقنصتھ ×ہ :و مصعصز ٤ہ
10۴ 11 گا ۲.۷٥ حوڈمتمعاد 1 ۱۰6۹4ء8 جحەە ا
۲ ط11 :وک٤ 1008۰ با٥1 ×ط٤ ٤ہ ۲6160
وط نا ٥ط عط غط مل 8 6 ٥٥ ۱۶۸ ءم×ہ
.8۰ء
1ہ 10093005 0 807 8 750 صصطۃ 6ء 2
۵ 585 16 0۸ء۲ کاعوعط و × زمط
٣٤٣ 3 37) 58018110وء صنط ٥٤ہ
ص[ 859 426 66 جا ئنصد ھ۸ ۶۶۸۲۱1۸۰چدہء
٥1۶۸نم مہ 0 08 عط ٥٥٥و اہ ھت
۰ص80۵۵ ص٠ ۶7 مھمنەمتھہ
٥ط ٢٣ط 118م میں ای ھ اوہہ
جادہ ١ط صنەم8 5۰ ٥ط ×ط ۔۷ ٭ط ٥8 ۔۸٥۰ ۲۰(ء۶٥٣0
15۷۵8٥ ۸11160 دہ ٤ہ ۲۶٥٥٥ ط)٤ مط 58 17) ہ۷٥٣
۲٢٥ 4٤ وا 50٥ 6 6 ۃںاطزەءا۶٥ ٥٥ ٥ ۲۵ ص8۹
٦ 3 1+ ٦دمتائط عط چصن×ط 0108
۲ 3 086 ہہ ص۶۲۸ لوزمو
۹ عط ٥٥٣عط عط ۲:0 وٹ یر دنہ کک
عط 9ص عصنعتڈکعمر 58 ٢ ذمہ3 بصندم8 دہ اطع
05884٥۰ 1٦٤ ۵٤8 و وو ۲ز 08 0م] وط غععط <٢
2۷5087100 ۵ 10۴ صنوی) 6 917ء۶ 8ط
٣٥۵6١ 1015168٤ذة ٤1168ءوہ 758 2 نط10] ×5( 8
٥ط ٤أ 2۶1110 86 م8 ٥6ا زط ٥٥٥۱ءء 20٤
6ط ٣١٢ ٥165ط۶۱<م 6 00600 ے۶ و 14٤ 1ءء ا8
٥ 0۴ 8 طعنط .ط٥0( 1017789 طھ
جا مد ١ط صط طہ ٭ط 3+ 758 168 ۲٥۴۶ 8ت2
8۰ا ئذعا2 ہ0 ٤ء (75٥(1 ٥ئ وەیء
291
_ےسمےےےے_ًٌٌَىس....-.-.--سس-س۔۔-صے-۔٠سٹھٹ۔ .سے سے ےس
چر یو ٣<×همطا اعطا ٢٣٢ ٢:01١4 7205 خط0 .ج35
ہی مط اط 43ص8 018810 قتط ۴ہ 100 ترم05
ویعمجہ- ے عاعھط ٤دہ٭ ٭ 1آ .٥1ص ٤. سوءقط:۔
اس ۸١ہ نا٥ ص٥0۲ عط ٢ذ وط 0
و دمآ ٠٥ د۷۰ ۲۰76ا ءدصنط ۶۲ہ مرصدہ ق1ہ۷ عط ,صنط
غعع عِطا ]۶د16 ٭×عط٤ قد عطادٗہھ* کرتهە ہہ
حرمطہ صد عصتا <۶ عچصنل×ہ٣٢ ۰۲× مصست۶ەم
.0۶0۲407
36وج ١۱ز ەط 1948 رط 1 د۸ صن ط8 ٠٥ ۹ ۲۶٠۶ء 7ڑ
جع ۶ہ صمتظ ۸ تلطەم عط ٥ ءصعصذ ہ مصمہ- طعوسمدہ
جعط٤ غ×-ط ١١, صصعط ٤٤٢٢ ۔طمنصومةڈ صٌزا ا×دئ) 11دصطھ
عط 5[ ٥۵٥1<جر ۶۶ہ دہ1] ٤٥۶٤٥ ط1 ط٠ ×ط ٭[٤ ۶۱۶ ٥١۱ء۲
۷108ا ہ۳ 27888 خَط2] ٠ظلا طءنطم ھا طەونعەم
پل 8 ۶٥٥ صز×م عط .دد٥٭٭ دہ عنط رط 1 چ×داہء27
8ء تزطوہدہانط٣ ط۲ ۔لا×ہ×٭ لدەناہ عق صہ٥ہ ٤(٣ ہہ
ط(ءنص0) حصط٤؛غٍ ہهجصۂغ ھًنلطا ۔صە([٢1 ۶ہ 7 'ٴ09٣ھ0ھ*ه٭)۷
[۱×ءجو ٥ھ ۷۵٢ عاہہط عط٤ ١۱ 1 ٥ ۵٥؛۶0×م تزطل۵×<۷×ەنط
٦ جچ متتزااطا10 طء بح ٥٤۸۲ھ ٦1٠۰٤1 ۶718دہء غط ص٦
1ا مددہ× م٤ صد. ددتجرہء 5000 ۶ہ :۰ا٠ہ عط٣ ۱۶۱۹ء
8ظ عط٤ ط٢۳1 جچذ810 010ا ٥)١ صمطغ ٤ع دہ
٭ط اطعچنص ]٤طعجەەمط)ٴ عط ۲1٥ ٭نصەم8 ٤ہ ماما
اوہ ط٣ ط ۸×ط جرہء د ع ط(٢ذ٥٥۲۵ مز 151066806
5 277 870ئ1 -<51۵٤65 ٤ ص عطا نزاع صنملد<ہمصہہ ٥0ہ
6 ٤د 1٥0۶٠۵٤1٥ ٠ہ ١×ط ×0لصس رلاصعاقدہ
8 غعط٢ جصتط۶۱ ٤د ەهصاعصط عنط غسوطو عویم
ط۷۱٣ مع ٥ ہ۲ ۶ہ ٠081. [1ع(ومزد“ 116١ء صدصدہ ٭٭110ء۶
٤ء عط ٤: دہ ۷٠٤٢ عنط ند ٥ء05 ١ صا۶×مم ئ۶1٥3 عط
67 ۰۷8 ط۲ ٠ء ۲۵ط ٠٥ ئ۵۰۱ عنط ہہ ۲ہ برجرہء ہ
عادطا ٣۶٠٢ بد٭(ء2ھ ط؛٤ا×ہآ( طٌذ ٥۱۷۱ء ةقوط مل
292
عاصعط 1 18 7 )ع0 6 ۸و(زدہ ا یہ
0 عط7]_ ٥ ٢۶ 1٠ عط ص ۶ہ حصمبەط عطغ صہ
09 8 7 ط118 007ا 2168
3 ط٥ اد 75 16 8 ٤
شات اس ںہ +)" 118+6
٤۴ 0ہ
2ة 16506 عط سمل
٭ عط ٤ 1965 11ہ
23ء 68 80 8 11108017( ٤٥ 8117ع16
٤ہ ہ ۱ نوہ 0 5ء٣0٣ 6٥ ھ2
اط صطوممپ ۶م و3 [ چصتل[و۲ وم [ 86
۰ع۱1ق1عا0 6٥0ء2 ٦٢ک ۔.۔صعت نلمط یہ 100
58 18 ۵٥۲1ء حلهطا ز۶ہ (11٥٥ ٥ ۱×۶ دہ
88 ۳۴۷ ) ١ط طاز وہ3 76:78 ٥ 01
۰ ہ۸
٥ ظط هعط صمط+ 6 ۵(۴ نو0 707٤8 نط1] (5٦
٭ط صحصەمطب لقطائهۃ طط و 0+8 :00۲1068 ہا
68+ دو ۸+ 6 .+زد”ہ 0 10160108
٥0 ۱۷ء 5 8 ۲ہ 6 کاععط چصخرا
8 اط بەەع ھ 6 1866 6+ 8 ١ عطء عسطء
۵٥ ٤6 18٥68 ٤ ۵۷۲190و ) 116 1۰ ٥٥٥ ۶۱3م
۔صنط×ہں. ٤ 6ءو۱م 76 10ز
٥ط ٤ہ قوئط 0 ٥ط وط ٤ ۹9ھ
۶١ ×ہ 8 2 0ت ۵٥٤ اد٥ہ٥0]( 1128 صطھ
8.) 0 ۴ 1(ط یم 6 ہ1 5 0 10008
58 1 1 1989 آ7 /[۵ ٤٢ ٥٥٥٦ء عط) ٤ہ ۳٣امصوط و
6 188م80 ٤٥ ۶ہ چقصنة01+ 6 ط٣ ٥٥11ء
) ط٤ ٥٤ہ 3 ٣68 ٥ءء مہ 6 ا 01"
حا ا 7۰ (ئصطھ 68 0)
16٤6 10" 0480 نووا یہ 6 76919381688
٥۵ 81 ناطنعغصوء ۶٤ ۶۱6و 0 18 ط۲ 530۱
200,000 0٥0+
نا ٥ءئامھ عط ممسں'
293
کچ سے شس سک ےچے ےچ رر چا
. : 7228
ز ۱١1۰ ٤ء ءجہ ء٭ط ٣11 ط٭نط٠× وہہ سے و
و اگ ودنہ ۱(۸ 21168 081 ,89 ت دَ
1 نع عط+ چ صنطاہہ[۶١٣ہ 1510ھ مز 00001 7
و ۱۵٣) 810 ہے
1 1 8046
عزوعوط ۸۷۷ طحانه ط8 هد“ حعط2' 7 5ز ۲٣11 8٥ سے 6
٥ ×81 وط 0:540 عط؛٣ ٤ہ صّطہ1 ٤ ہے
٢٥٢ ٥ ط٤ ۶ہ مہ ×۰ صە1طہم عط٤ 28( ٥ہ
۰ ہہ ا8٣ مط٣ ج٤3( اہ ٔ8 ےھ
: 8
٠ ی8 1688 810 ٤٥ ٥٥٥ 1٦ 18ا 025 و ََ
٢٥ ۶٢٥ ٤١ 1818 : دہء ٣قط 6718018 ف٠ َّْ
٤ ط118 ۴8۴۸ ٤ط] 7۲68٥ 8سط ّح
ّ ٭ 3ت٥ حدنتھمرھۃ ا 1٣٥
ط1 1 ۶ے ۲۶ہ :
کک وٹ ٥ء ط118 ج ٦۸۷1115
ذفط ٠ہ ۃصەصص امط ەط7۳_'
1 صطھ ط٥
١ ۸/٣ ًُ
1 0 جرز ۔متد 1۳د دہ۔ ا۵ط ناد 1ة کے ور
٤ : 1 )۶۲۰1م ,2م :طةہ
1 زا[ ٤ہ ۶16تجرہ عطا 8 2
115691 ٤ہ 0
ئن ۶ہ ٢<(ط٥ ط٤ 8 8 " ٌ
٦اد ]۶ ح٥ مصعطء ×١حعط ب۵ہ٣۶۲1۳تاہ صتەم ٦
:
ْ عط) ۰×ەط] ٥٤٥٥ء( ۲ا ”٥ء 3۶۰ ٠ ١٠:٥:
ت0 .مہ20۶ ج<( ٭٥<×ەط ٥:٠۷ داہ
08ھ
1 8 51ص م8 ص۲00
31ت َ کے ے
5 .5 6ء 8 ق8 ٠٥٥ د٤٦ 1318 ٥٤ہ ا پت
کا ٰ
١٣16 ۹ 2 جطناەت: ٤ -108×ط را نے
ام(۶× 1٥٥ ۔دہصصحصدہ٣ راعٗر
: ص٤ 58616 . :
: ک 8 ھو ئۓمھ- منعەم8 سٛ٘زً گا ,×ط١ کے
ا 58 8 [۷018( 8ہ بط 7
١ 1 ایت
۶( دہ عزمع ط دہ (۸٥٢۲ ٥٥٥د ٠٠٠ ہج قش ج
٥٤٤۵۰٤1٢٢ ٠٥ × "7) ءطا ہ٭(8 ۳11 ےت
قنط 07 ذ۶1(:۱دی ۶ہ طچسمصدہ تو ۷٠٥ص ٥ه
24
58 168468 ۲116 وہ ۱00۹758 ط)٣ ۲ہ 6ءء بئااەم
١10 طاعئط× رعامویی ۰( صندم5* آ1۵ 0جئ]وء
08 نصعٗد غطعنا مط) 80٥ .ص181 ٤ہ ×40 ٥اوہ عط
۲٥۵1۲ ۳۶ ج و ۱3 ٣۲ ×٭ ٤ہ م۶0۶ ط٤ 1 1٥61
د٥ط ععط طج3( ٤ 710۷۰ .1 ئطئنں عمنا×ہ 9 ٢ز
ھھ 10٢٣6 ٥3 ٤ہ 6 ء ط٤ طاام٭ 116 زعاہء
1ء8 89 تئیہ ٥ع 1115606 165٥: [5 18 ٦٥۱۴6
16٥< ط٥ ۰۱۱۷۲م۵۱< ١٥ م۲۲۱۷ ٣7
(18ئ218 72 0م6۱] رہ8 7[ ص41138×عدع معط_
تار نی برلیںکاکفرس
کت ۱۹۸۲ء میں ضرت خلیفۃ الج الات انکستان کے دورہ پر تے۔ لنرن
می "اکسار کے ہاں از دا ہکرم فوازیی مشن پ اوس میں مح اپنی میم اور صاجزادہ مرذا
اس اج صاحب میم تھے۔ جضورنے اس دورہ میں بہت سے ضرد ری امور انام :
ے۔ اس عرصہ می ماکسار نے لندن کے کینے راک میں برلیںکانفن سکااتظام
کیا۔ بمت اگر مندری اور اجتمام سے گی اور خی کی اخبارات کے نمانیروں اور
و زابیضیبوں کے ساٹھ نمائندو ںکو شرکت کی دعوت دی تھی حور بار با سر
صلیب بانزنس کے تسلی بش نہ ہونے کے باعث خر جےکہ یہ بھ یکہیں غی کسی
شی اور ناکامیاب نہ ہو۔ نمائرے اخبارات ےکم یا نہ بی آھیں۔ حضمو رکی اس
کے رظظیا رت مکنا زی شک را اور ىغان۔ کان ہرہار ور ے
مرن کنا دعاکریں خد اکرے ہر طر حکاضیاب اور جقو رکو بی ری تی اور اشحینان
ہو۔ اللہ تی کے ناص فضل سے غیرمعمولی طور بر نماننیرے بد یکشرت سے اس
برلیں کانفرنس مس جماری دعوت پر شریک ہو ساٹھ سے زار ۔کالم خویہوں نے ۱
بھی شرک کی ۔کھرم مسمود اھ نماں صاحب دبلوی نے خاکسا رکو یر چچوم کانفرٹس
گے مالہ میں ٹا کہ ایی علیم افش سریراان مکل کی ہوی ہے رمضم
دی صاحب ان ونوں سو نر رلینڑ یس ملغ تے ا نکی طرف سے ٣٢ تخب رکا ککھا
جوا غط اکسا کو ملا۔ جتس میں اخہوں ت ےککھا:-
تر مکی ید مت میں فون پ رکامیاب پرلیں کانفرٹس پ زبالی
ارک ا و یکردک ا ور اکاداک خ شر سے
وەو_۲۲
96 297
سح ح جس سس ےج ےے۔۔_صٍٛ۔سسسسسصسسرہٌ
ای کہدہا ہو ںکہ آ پک پ یں اس کے ہیں بیدا سے
الیک ایت مور فرٹچ شا 6 0ج0 56 ا ےکی
منمایت اع ملمون جو راید ہ ای کی تقوب کے سا شاک کیاے _ *
کم ممدی صاحب نے اصل مضمون بھی ایا جو حت غیفۃ ا اٹ
گا خدمت می یک یاگیا۔ ٹل لینٹ کے اخیاروں بی بھی اس ج رین برلیں
کرک رٹ بی اد خوب چا دا کی شی نہ را یپ کاخونس
ری نوع کی اور خی رممول کامیاب پریس کانفرس اور اسلام کی خوب
تپ اسماعت کا بائث ہوی اخیارگارڈین کے خمائدہ خصوصی نے جو نشائی تو
1٤ کے مف پاپ پا کا مکی خر وٹ عضرت خلیفۃ الس نات
شا ی۔ اصل ترائشہ اخ رکاذیگل شس دیا جار اے۔
س۔۔ سے سچ_چجسچجے مد وچ ج کے
هط ۲ہ ]۵۰ء0۶۱۰ 3 دہ ذا[ہ٣۳۵۷ .17831 ٤ہ
وئ7٭ ط×0 ى اط ٤ہ عطامھہ ءعط ٥م لئ0چھ
۷۱۰ ط٣ ۶ہ ۱4ء ەط٣ ٥ہ 4 ط5 ۲۵۳۵٥7 0ت٥
۹ء ذ٤ هذنطجرہەہ ص چصنانھ زاٗصہ ٥ص ۶ہ “٦۷۶١
”ج٭ د”ہ1طٗ۱م×م ×ط ہنا نت ا٥٥1 ٤ہ ق×ە م٢٥۷١
و ×وط-×<” عط؛ 3× 48۲٥ <0. 5ام1٥ ٤٤ ١٠ہا ٣٥,
1 3ء عط × جچدنہوہ×عص) ہا عددەہآماہ٭×طص طءدہ
دمدہلطہ<ھّ ط٤ ٥٭ ۱۵٢۱ ×ط٠ 110 د ۲0۴۲٥٥٥
3ہ حصعط ئ٤ عصمت!س(ہہ عط٤ ٥ھ ١ح٥صصحء تطا
5302 ۵ 1818 323 ,ہ1 ترحد د1 اط
8 8850 8وہ 92 46 صدہہ ٦76 ٥٥ء٥ ٢٢
ط۷۲۰( 70۲٥۴۵۲۰ ہ٣ ۲۱7 3۶و۶ ٥٥ط 66ط 8ط
۰ر 8(۷ 0ء ٥× و حسنو1مء ٤٤ا ۱×418٥٣٢صاہ عنطا ٥٤ہ
1۷1680 مز عطغ عصنھاء 065 ٣٘7
8ء 7 151003 :
10777 ئ 2۰ء 713 ط6 رز صمنانەەم ١1ط ۔ لزا 8٥٥5
۲٢۱۶1 دہ ٤طع 0١8 ہ٤ ط6٥ 7.
(58۶٤5 1ئ15 1[ 65 ط٥ 1 7
10,0 صستصاه طعنطہ ےا مہ صتاد50(
8165 10
8 ٔ صناعىط( دہ کہ ا
8ء کا ۲1۴ ۴ ق( 3ط چصنقحاەمء
165 2 1001.61 6 نب طء ط8 ٣٢ط 0:601۲
3۸57۲729 ٤ہ ترصوم3ء ط٤ صا ب۶٢٥٥ہ٥۲ آئامط
: ۰ مھ ز8×
3٥1778۰ صطھ 6ط ٥طد چصنطائ)خ ہہ ت5
کا 5 .1648 مط طءنطہ 8٥٥٥٤٤ ٭ند٥ا5] مط
ةٴط٥٣۷مط٦٥ل 118 58 ٭ہ 1110+
وت ت0 58ء د۰ء مط× تدثدہ٥ئ:۳٢
58ء ط٣ ٥۵ صاورہ ٥1 1ا8 ٥ا٥ہ ×ہ٥وط٥۶ہ
”زط ۶و <٥ا"٭"٥٤٤٥٥ ٭تہ”؛ عط) ٤ ١۶ ط٤ :189(8
0 32
88 ا5ہ 0۲ط ٣× ٥١ءصطھ عطا ×ظ
1٤٥ٗە 8٤ا چصنصتعاء ,ەعنطغ ۔صعط؛ا ط٢۲
818808 ہز طغانةۃ ط٤ ہ٠ صلنطہہ٥1ا۵1۵۸٥۲
1000 ہہ ×٥ط 15 ,۱×۶[(4ہ× ط٣ ۶ہ ٥ء ط٤ 5511لا
۶)8و۶ جرەوط هع(ز 1٤ صن 68×7 1,100 4 ط8
6ء" رز ہہ ہ٭وطء عط٤ ٤عط٤ ,عصنعاء ٥٥٥٥ عطا
مطاخ ورت8 ۵3× ۰۰۰۳711 20۶۳٣۰ د٥ء :- ۰.1455 ۲8ط
13ء ہ70 آنظصہ 1×9ط٦- لزا ۵٥٦٥ ٥<
صوتلانھ 10 ِ٘ط؛ ٤ٛ٭ە٭: ٭ےٗەدمطه٥ عطا دھ
٤۷ وء ۱١<طنة صندلء ۶<وطص 81٥ صطھ
×وھز ہ۷ء1۱41ئطء [1دصدء عط٣ ہ٣ل" .115ھ ط1٣
٥٭وط ئخہہ:ء ×عط)ہ 11ذ .ط115ھ ۶ہ ٣٥ ہ٣ عطا
28 ہ۱ "مھ سے سے سے سے
6 عط ۲عط ھی صنا 5( ٥نا ۶٤۱ء۹8 ×0 ۶ ہء دہء طعجد۱×ط:٤ غ×ط ة د هصنا 1۷٢
۹.718 صصطھ ×زہ ٦م 3122 0ہ ",ط813ھ ۶ہ [8 ۵ئ ٥×ط×*“۔ ہ13۶٥" لدنزءہء ٤ه ط1ط
٣1 8 ہ1٥ ء٥ 158 ٤٥ ہ٥٥ ٢ ٤٥ 68ء [ج طاطدءط ا صد (و د۱ ٤٤٤٥ء ٠:٠ ٤ء٭ء عط؛ طع ٥×ط
عصنذءزەزہ× 0۲ ۶ عمصستا(ئ35 دمذلانھد 800 ھ70700
012 ۵ ۴۵م ×1 ا50 ءط ٥ ۲٥٢٢ عنمہ×م عط ۲۰۱1ء مہہ ۶۵۵1 نہ ۲٠ہ ےتا ظط ئئ٥ہہ: ط٣
7 ۱اطع زع“ ا٥ا ل3ەءتطامزہ٥٥الطط 8نا 0ت 606
0 6 01) 18 6 لہ زءناەم 1٤8 ط٢۲ غقط جل×ر[٥اہ٥5٦ عصمنوہ اجو دن ات
۱ 7 ۷ظط ۱1ہ" ۱۸۸7۶ صطھم عط ؛صمص ا( 140110۲807
۰:٤8 طودہمط1ہ ۔مصتا(70508-۔صمط ۶ہ ہجعرلہ :71م .صدہ ّ0نا ماصە ہم علط 015+8ط
طءدء۔ مھ ×مطۃ 6 گ مہہ ئا 0 8 ٣١٢٢ 711 ءعط+ <٘ہ چجد ٤س۸ 4 ۱
۶ ہ0 8 ۰068م 58 ٣٥٥۶3156 8× طانہ۶ ەجد<د×ہءدہ آ1٣ ×16 16 00٣0ھ" ۱
8 ایام 3067 ۰۰۷30 ط حزانهة وئلہ 00ہ ى٦ قعصتعاء عط ا٘عط×- جّٛەصہ اوت
۵ بدتھاہ[عاوط ۶ہ ئا یں ہا ہا 7 ٭آ7 .د×<ہ 0110۰۷ ٤ہ 77ھ080"
6 ۔ منط< می 50 6 80۲6 ۲0٢ 0016 ۵٥ [110819116 : 0تیھهھ 1 ہہ 21 ے کے
۵8ء وط ٥ قصنھاء ٢0ہ ۰٥7” ہ6 ۲ذ 2
۱ 9ء عصعتاعنعطہ ط×ەط سوہ ساٹ جب جضور اس کانفرٹس سے والی ںگع رتشریف لا از راہ مریانی میری اللہ
۱ رت ' ٭قصرتڑف 5< رر رات فرایااکہ جْ صاحب کا اس کانفرٹش کے یارەی شکیاخیال
ْ ا و و یھو ظ٣ 8-0 بت 18 ا ٠ وا سو ٍ گے او رکم غی رممولی ۱
٤٥ ۱ ۶ط 1ظ ص 4ص ممنعامام صنئ یی تے۔ تضمور سے اس نے عر کیا وہ او ائے بی رو ریو
ْ ۱ ۱ 1ھ ۲0110۰٥. 00 عقصنداء 0+۵0۰ و ا کی ہی 7 تو ےت ا کے ان ٹگاروں کے عوالوں کا
٤٥ ۱ مہ7۶ ۹ م٥[ہہة 05 8۴6 ۵٥۲٥ء 00×0 ا شیا 5
۱ ۱ 161948۰قطاہ8 حَة 5 10ط ےد مدم٥08دد جواپ دہا اور می نکیا۔ اس کافس کے کامیاپ او 6
۰۳۵ :000 مپارک اج صاحب سائی اور زم مضیرالدین مس صاحب جو ان دنوں شاکسار
۱ ۱ 58 ۸ آ3 ہ0186 اود 6ط عٔہجصصھ ری ار تھ مت امدادکی۔ بد کھانے کا بی انظام تھا حعخرت چو دی مھ
٠ ۱ ۲ مزماه٥٥ 2 0ء" 18 ”جع ۹٤ 8۲ 9 5 7 و گٌ ا یس شال کت مار کے
+٢ ۳ 88 0ئ قنط 07 طف0 ناف مو م ظفرانر ال صاحب 1 3 2 شی اش
00 68۶089 0 کارردائی اوت ٹرآن سےکروالی اور نما ران و نامہ نگاروں ے ورنواست
۱
4186 1۲091صزمہ 6 حاجدمع×ط ترلدہ 0د 1 1 کے: امام ہو یھ کودنحوت سے بڑگی
: 2 ۴ کت رر ظا لیے 3
58 ×زەط+ ٥ ہہ ومطئطد ۲۱ دمطای) طعنطہ یکہ حضور ایک مال ر: . 1ت :
300
ےک چہ کچھ ج6 گڑچکگيِتی_ ے ے ہے
وی سے تضور سے سوالا تکریں دہ آ پکوجواب دیس گے۔
تمرم مور اضر ؤاں صاحب دلو برے الفضل بھی بر کے اون کے
صلی رپورٹ ” ددرہ مخرب'' نی تصنیف میں تقصیل سے اس پ لیں کانقرن کی
ریو ر ٹکو شا عکیا_
مک 89ء م20 6 کے م وضو پ رگم مار کے
اخار یس ایک ایٹوڈو یل تھا۔ اس ایڈوٹو ری یکو پٹ ھکر خماکسار تے ای ٹا تم کو
خا ھا ٹاگزۂ مار ۱۹۸۲ء کے الیو یش ظاکسا کان خا ان ہوا- ڈنل می ے خا
ناد گن در خگھ دہاہوں۔
٥ھ ۲0280 1/8 3ج
2 00۸
1818 1 م20 ط۲
9ھ علدحعدط 5( ططانعط35 <ہ×7
طء۸۴8۲) 8180] 8 1 6 ط7" ۱۶181 81,۲
۱۶14.700" صاد-۷1( ٥ط دز ١۱٥ ہہ ۷۱1 ےط ١1ا ط8 ,1
ص1 3867م مط ٦٢٥ عرّقط بط اہ ۶ صزّەم لغاطج:ء
٣۲۴ ٥ئ مھ :16188 قنام نبا۴۵ ای5( ٦٦ .صداہ٢
٥ء ۱1106٥۸ ٥۶٥, عنط ×ط ١ صنوامءّ ٥ط تتعصد عط راطونط
وت صدء ×مص ترظنلنطنا[ہ و ٤٤ہ ٥ ۵۰٥۵۸×م عط) ٥و
0٥٦. 760 76 ط٤ ۶ونمورز5*“ ٤ہ ء صت۶٥٥٥1 رص
۶۹ ۱۱ء زطاہ 8 ,0866 (٥ حمط۰ دہ ,۹ء ص×صعطت5(
58 1818 71060۲ .0۲ آ10 غطا 0۲ ٥۲16من3
6٦۷ 6٥:0 89 30ء م06۷ 17 1000086 01
آعا٥ 18ء0٤ ۱دعط 6ء 0٣٥٥٥ ےہ
۲01ع صنص08 ×طاہ 18.0.۴2 ۴۵ط ۹11۲6۴٥ 6٥٥
آ8م ہ6 ۱٥ط ٤عطەناطئ٤ دہ ءط ٤ 1نا مطہ ع3110
٥ ط١ (5811-٤۰ صد رط ×٘×٭ەنط صدءناقمذ <ہ ٤1×مط٤ تہ
8٥ 18 عصن([ئ50(-صمص قط٤ ص08 راہ عط)؛ صا
8 ظ چاتصنصعصہ :٤ہ ۲۵ماائھ: دہ ۶٥٤٥ء غصنمەز ٭ہ٤
00
1و٤ ٥ ٥ ۲۱۶٢ ٥٥ء ا!عاەەظ عط ٤ہ اوہ2 ن٠"
قاط ءعدہ٭ھ منط٭٣١٢ ×٢٢ غعط؛ ہہ ةقصد ٭. ×٥٥ یءط
1ظ ط٤× ×مصا عو م ود ٥۱ا ئذ ہ8ق ٣٢ اط 3 د۵ ,ط115ھ
508ا ٣٤٤ ۵×ه٥ط٤ہأ ن.امّّ عماج٤ 0ہ ۶ہ" ط× غعط) ×8
5 .113ھ 16 زط
ر6 688ج ١طا صمط٣٢ صہ [عصسصمسصعطت35 مطہ2 راہ
15۷166١ ٠ط 1 ٦ 08 ٥٥ء٥۷( م۱٣ طج11 ەنط 5٤٤6:٥
٤ ۲61617 عط) ۲0۶ ]اعدم د ۶ہ عصت63( ٦ہ مصوتئاعز0
,طط ۶ه ٥ئعط نہہہ×م عط ہراعدانھن8 ٢<. عطا
جہ ص1818 ٥٠ہ ٢٢۷۱مص 847۲73 صطھ ۱۲۱1-٥
75 0د10 ٗز ٥ء م۶6۴۵ دہء ٭ز۶٥ئئط ٤٤ہ دمزعوءہہ عط
08٤6 ١ط+ ردب <×××ەنط صمنا:ناعط0 ط٤ ٥116ءء ,1978
1 قد عاعچہ[3ذ1 هەمنز<ہہ د <×ہ۶ صوءناچھھ مط) 13
٣ 8ےؿ۲۴×ہ:. تد118ٹمعج عط؛ بععطحصت8ء ےا :]۶٠٥۲ء
+117۰ ۸ہ 8 ص8 86۴181186
6 اہ ۲ہ ٥٥٦٥۱۶ ط٤ ]غاعط٠ ٢۱ہ دہ دوء ]
1٥٥٥٤ 6 عط ١1ددمطہ م0 عط) <×ہ۸ دەمہے ٥1ذ <٥
قتط دہ ا 1ص صصدہء (50٥11 عط ٥ گ[۵مجرہ 9ص8 ]لوہ
۰ا صہہء علطا ۱٥ (ہ(۲ چج صنمدہ ط٥0۴
اعلام می پاپائیت کاتسور ٹیش بلنہ شرلعت اسلام اور قرآن ید کے ا ام اور
ہدایا تکی لقن ہے۔ جو ابی قانون ہے۔ قرت رسول اکرم صلی اولہ علیہ و سم
گی بی کرد اعلی تیم کے بارہ میس عیسائیوں سے باب ین کین ا نکو و وت عام
دئیگئی اور و پک وگگی-۔ :'
302
ایک اہم واققہ او راعلائی عل
ال ناپ گی فاص ٹ سے عاب کی انتان کے قیام میں کونشنل رر یک
یع کا سای مات سے متعار کیا جاے اور کی مات میں اسلام کے
یگردہ مل سے ای آا وکیا جاے۔ ا می کی رواگی ےھ بیع مل
وت برطام* کے الیک دز جھ بت محووف اور قرات ین پا کے تا
مببرتے ہی نکی مسائی اور جددجمد سے ہے پارئی اتخاب جس کامیاب ہو لی اور
مھ راتا کی می یکنسن تھے۔ ان کے تحلقات اتی مر ڑی سے ہم تگرے
یت شس کر جا ےم کر خی
نود عو ون سے سے روک تھا دہ دو رک شمادیکریں۔ ان کے اس
ڈول پ گا ہوا او روم تک پ ٹل ک اٹ نا میڈیا نے ھی غوب ابھل
کک شی بھی کی۔ خسار نے ال موا پ الین کے + ٹا قیروں سے ام
خط لکھا۔ خط کے میمون کے جار یش لض اپنے قری پرکردہ احباب سے مشورہ
ایند نے پ زدر اکسا کی بی کی۔ اس خط یس سے خاسار ہیں ور کر
رہا بے وضاحت نے کا_ آپ لوگ اپ احول می دوسری عورؤں ے
ا یٹ طور پر تلقات رھت یں ادران سے ان اقا تک قائم رک می کو
027 تماد ی الیک این انداذز یکرت ےکوکیوں موب
ک ودای ستے/ وی خی نی دا سے
اتی کا شاو بے غھات یجان ےکا ا ات کور کر کن وا
بات ایا ا ے ان رای ود جا ےکی وو سر شا کا از بن
کے وارہ یش کومت فو رکرے۔ آخ وم نے طلاق دس کے بار می ال
303
طور پر اجازت رے دی ہے۔ اسلام کے بتائے ہو ئے رق کا رکو اختیا رکر کے
اخا اصلا کے علا دا حول می ایک مکی امن د سای قائ ہو جال ےگی۔ اس
خط کا مبروں کے پاس چنا تھاکہ ا نکی طرف سے شدید رد گل ہو اکہ یہ یرایت
کے خلاف ہےکہ دو کرکی اد کی اجازت دی جائے۔ ت کہ خاکسا رک 30ن
کاپ کرام ین ایک رات مکی ماک را با می کے
2 ان کے خواب ون ےگ ران کی ححافت دا کی اور اعلا مکی کر ویو
متا شرکی ضردرو ںکونر صرف پور اکرکی اور اخلائی عال ت کو ہمت اتی ہے اور جن
لات کا عکومت اور معا رہکو سا مناہے ان سے خجات مل تق ہے پٹ یکی۔
اعت دب لندن کے رسالہ مسلم حور وم ۱۹۸۳ء کے بر چہ ماب
ذیل از کے سے ما ا۸6 515807ا[71۲ ۶ ھ0"
ناد معن شا ہدا۔ یع دوستوں نے اسے 00کیا اور پچھرسے سار نگ
چھ 0 میں پروگرام کے ووران ہوگی کی اور نے کا ”آپ ان پ توب
عادکی رہے ادر بست م لی رگ می ا نکی پال ل کاتواب ویا_ '
278۷ھ صمعصنعاءوط مج"
۲۲1و طا رہ 6ط 4د آزہ۸م تہ آدءتاناە" عط۲
6 طعدمعط ۱٣۷ ۱×۶۰۱۱۲۰قصو0 ٥ط زط ۱
6 ٭ 0ط 1ہ '(و٤ھ صمممصزاعوم 08ء۔ہہ
70 رعاصدہء عط) ۲ہ 18 6 88ط 18۲60×ہ
۲۱6 طعدہ دہ نمو ٥ للا دہ٭ہ١٤٤نة ١ صوء+
٥ عص×طم حعل×و ط5( ططاانعط8 تعصملاح]5٭( 8۰ع 1ص مر۱معط
111٤٥٥3۶ 6 :6٥۸0۔2 ہ٢ عط)ا ٠ہ صوہ]
6“ ٤ہ ۵م ذ9ص ۱۰:650( ۵٥ لعا16 جدذ۰٭۲۱۱(0
سا50( عطل 9 ۸10رہ 8 طءئط غعۃصەصوناءومٴ
"1 5 15931087م×٥ ا٥ء وا 16667 7756 .۶011ح 50:310
304
سسسحسےجے سے ٦ے ہچ شسحیس-سسےحجىمو-سصسیےے
٤ ۶٤ 1ا ٦(ہ8 د٥٣ زع -6031 11 تاج ۰۶ ٥٠٥ ۲۵۵۵م
.حدہ(طاہ×م
27۰ 7065 16 .01×3 ت1
6 6۴ ۱ء 6ء ط٤1٣ یٗٔذ۰٭01[0١ ەەط وط۲
آ .<ەەصزعاوط انموں 7 ج1××۵۸۸۸۹۸(2د ئ٤ دہ ٢ہ )ہہ
+568٥6 6 86ء ط٤ زط ۰ د٥4دد ام٥٥ خحدہ
٤ ۵٥ 1٤ء صەعط ععط ٤ط ۵۵× ادن ط)٤ قد صملہ
ع٥٥[چآاہ< عط غعط 006 00نا 18 6]. .5۷۱1۲63 8۶ مطل
اط ×ط 6 عاصدہء عنط ٠ہ 1۷۵ لتءمہ قد
7 88 31658 طعہ سمناھھ عطا 108٥ ٤٤ مط) ×٥ط
.08868865 917 6) ما 4010 صن 80ط زعاءوط
١1 86086 ۵ ر٢۶٣ × هذ عنط طع×و0ط0تھ
8106 ٭. الہ اصتەص ٠٤ 1161ء ممددء ۲٥۱۸: :391068
اط ءومط عط دہ 1518۰ رط ۲6ہ ہام
785 ت۲۲۱ ۶6۷8م عط تع صمناعت ]1ہ ععانصته
58 08- 6 8518 منص[ ۵۵ای عنط ا دصتان فطل سا
58 د٥ 1114111011081 ط٥٥ ۶ہ دنز ٥٤ء ق1
صز تنزائز٥٥ ٢ہ ترظنانط٤ء 0 ۶٥۲۹ہ عط+ حمصندچد |ەعط
٥ ب؛؛ك ۰ 1 قھ .د۰ دہع
ح٥ 15کا۶ ۸۲( 6 ۰ ×د دہ ءہ ععط. ۵ 00ہ
٥۹ء ٣٤ ةئط مط 6 حدمنائەەم د ٔذ 1863م وو
طءت8 ۰ئ 8٢6٦٤ً٘ همنط قد ۸6( دنط ٥ہ ہم
)]٤9 959 0۱ 18181 1 ٥18ھ ۷۵ط 01 063 100 نہ
۶9۶۹۰ ٗز ٥٥ط و
145 58 ۲58 ص( ٥(ءذاعد مطا ہ٠ عمنا۶٠٥ءھ۸
0ء٥ط مت عاءو2 ۲۷ ١د .د٥76 دہ50( <ہ 80× ۱.١۹
وط م۶٤۲۸ ٥ .قاط رر((دع18 81ط ۰۷٦۶۵۶
م×۰٦٥ دہ ٥٥٥ زط ٥ طط .د٠ء صعافمسیا ط۶ز ۶ہ صمناعصنطدی
۷×عط) صسهاہ] ٢۱۱14 طع×٥ ط٥د صنط مھ 118٥ ٥ طء نہ
اگ ککّثٹگےگکگکگکے ککػٹسگٛ گے
۲٥٥11258 118٤٥88۶4 0ز ٣٥۱۶١٥٤٥٣عط] 1 385 3581856 ٥8
۱لک ٥(ەمطخٴ ۶ہ دہ[ 53د ٭ەنانصدد عطا
وت ٥٥ط ٭٭قز 0۲د ۱1ہ طاصہہء ط٤ 15106608
8510 نام٥ ٭ ٴخ اہ ہہ۱۰۰۶7ع ط٤ د٥ د8ا عطا ٦۷٥۲٢
: .17 3 ۶۰8۰7 ٢۷ط ٢١۷۱٢1٢1
”0×<مط٣ وع زا م ۹غ[171([ <ہ 1٥٤ ذ٢۰۱٭مّ 518]
اود ]ونم ویر( ۰×<×ەط٣٢ ۹طد ×٤٤ د دز( 6ط
0 [1182 117ج اطم ەز وط٢ ٣٠٥٢ ۵,ہ(مہہ××ہ <7۳0
سو وط <ہ ةصوطعط ×عط .ط1 اون 0-٤
وع م۶۰<دء طط دا جرزو”وہ<× ٣٥١۱14 ہ'<1انطء ۶ قعط
وط "0٤٥۴ اہ ٭ -هە اةاصعطسط ×ط ٤ہ وہ
01ا
×و" 405715 5535 8ػٛ٘وط اط ×ط سا رر
ت اٗدہ ٤ط ٤٢ 50٠٥60 عطناد٥ 5[ "1
×ووہہء ×عنطغ ععط ەصتا اد٥٥٥۲ 6000861177
0 108 مہ ٥< طخ زط× 300۶١ ٤طع 13٣۷۰ نزاہ٥۶
٤ 1و .8× ٢ذ ٥, صعغئطذ ×7۱ .ج٥ ۲٥٢٢٢ 1400 سهافا
8 سا رع جرہ ط١۲۷ ٤3ط٤٣ نا٥٤ ت
0 160 0ص ھٗز .-ر[ ٣ ا رح دہ ٥ خاط ج1 [متو١ ۵ 040تپ8
ثط. .٭٥ا صوطسط ×ندط) ۰٠ہ دطلاق46 دہ 0٦ط( ٣ہ
٥8ط 08+007 وط وو”× ٥×٭×<ہ٣11 طءن ط× دہ 8٥۵48
۵٤8 16 [081ہ[۴۲ط ب٥6٥1 7ەصد صہطط تر(ادہَ٭× دا۵
4111٤677 1 6مم ٤0 16 م20 م ×صةط: ٢١٢ 760688877
[٠٭٭ غص(ط) ,×٭و× ×ط٢ 41۲٣٥۶٥٥, و صنعغ(ہ ئج] ١۲٥۶
08]) دا ڈصوہ , راحد1انصدنڈ .۷۰ہ دہ٭٥طا جن
× 0 1 ط٤ جذ 18:61ھمّ ٥٣ا۶ ×ط٤ 1108
کت ٥6683 ٥۲ہ ج 3575ا جطغ ۶[ ٥٥×٥ط٢١ ۹٥01٤61008,
٥ط ٥ی ں363 .1٥16زہ٭د ×ط ١ا ہء ٠٥١ عنطا ,ل٥ع٥! ۲۷۵۲٢
6م م [ج ۲ہ ٤24ر ەط٣ ٥62طد ٥0ط 18٣ 10٥ 6۵65
11301316 ۷
ڈداود۔و
٤۶ ع(ء1 ٢ 18و
20 58 0+
قلطا َء
0 [عاءو م ٢٣٥۲ء
08672 3
7۴ء7 0 2
585 ۱٥٥م
7راو
۵ء او 6 1
ا قتطا 10.16
ا1ء تا ٥٤
مج ّ0"
5ء ۳
2 اتا(
9 008 0 م۔
168۰لنصوع
۸ء ےج
٥ 004 ۹
10 معاو
وا عنط0ی
ء٤858 0 ۵۶
1وج ما
ئ2 ات 11" طاعئط ,موی
037 5اوہ 7) ۱۷[8۷×|
8٤8 0و لاہ ۹۶۴ ً طمنطاں
٤۶٢و"
جا 07
1-01 3
,9و
1[ 4
005 60 2
6 /01 1108[8ئ ن0
0۶۱۰16 طء دہ
ا اع
3و 58و۲
+۲10 6 481
۲۰6۵م] 6 110
فاظطل۸ح
5١000 ١] ہ0
: 69017
٥
6 311 1٥0ص 8 وہ
۹۶ 6ط) :ہ٢٢
003 70ء
0 د سی کہ
۰ع+صاوء "٤
80 ۱٥وہ
8 فا٥ .10ءون
۰ء0 ے٥1
۰لت ۴طزوع 8ہ >٭
۸1۰ ح8۸
ت3
8185 (002۸
19
000۷ ۷ 8۶8108ہ"0"
و
9" 1۵0114058:
7 140ئ0
0 1117ء
307
7 اس عللہ من
سلسلہ فضل خداجاری رہا۔
ٍ : کا ٤ پ
ا تب : کے متعلق معلوبات
٘ ک0 ھت ہے
: ے2 : 20 ےت صرب
-فك90۳ 0 دفودانی آدگی
: اتا کے ود سے روں بی زدۃ چس سر
۸ 5 مر ب باہرے آتنے والے ؛سول اور 0 ّح
ےج ققی سے ٴأتے رے۔ خوائین اور
نت اھ رد
74 و پچھوٹے ہ رش مکی عرکے افراد ان وفود میں شا ا
سر ٠ کوت ا ا
لت اکسا رکو ان ادارو کی وت اور ادار وی
2 سے فکروں۔ اگر اع سب گُولوں ٤ و
ا 7 1 وو رو
7 ہے سور
- : : 7
راہ لد شا و راے : ر قربوں کے زرلچہ
1 لاد کت ا کے بالات کے وپ می ا فراسب لئ
کٹ ْ رک ا و 5 .
2 ھن ۱ء اے
2 ً سے با ہر کے علاوہ ٥ از ط ۷آ غ٤ 11688 ہے
1 0 عیسو ۲
ز0 عبت لنرنا مل( ٍ
مت یس ان کے اساجذ ہی موجو دگی بیں اسلام کے بارس -
ار 7 یم سی 7
گی۔ لندن سے ج
308
کے بعد سوال و جواپ کا سلسلہ جار ی ر۔ ایک بار ڈفمارک کے ےا طلباء بح
ااخذہ ین کول کے مسر لندن دیھٹ آئے ۔ اسلای ا کان اور لمات کے پر
انموں نے سوالات س۔ اس دن بعہ تھا انموں نے وا کی کہ اسلای
ماس طرع اداکی جات ہے دہ اس سے بھی وا قلیت حا لکرناچپاہت یں۔ ہر
گی نماز جم دہ بھی شریک ہو ھے۔ خعب نعل ور بر اتگریزنی ہی غاکسارنے
دیا۔ ماکسمار کے پر نظریہ طلاء ےب تی یع سے من نے نین
اع ہوگی۔ محزم جحخرت چوہرری مج ظفرادلہ اں صاحب اس بجع کی نماز مل
اد خید کک دوران شیک ھھ۔ نماز سے فارغ ہونے پر عا کو لے او جک ٌ
کی ری کی تن لس ت7
صبارکیاد دی۔ ابسے دفو دکی داد جھ ار سماڑھھ چچار سال میں سد لنرن آتے
ہے یا ان کے ہاں اکسا رکو جانا الا ملف کی درجن اہیے وف دکی تقداد ردی۔
جن اسلای للیمات سے آگاوکیاگیا۔ ابیے وقود اور تجلوں کے دو چارفوڈ زی
و کے رہ ہوں۔ خاکسار کے دفقاء کار ان دخوں مم مبارک اھ صاحب ماق اور
گرم مالین ٹس صاحب تھے۔ بعد تقریر یگنگو کے ان وف دی خاطر ارت
گی جائی ادر اسب عال مرا نک بی کیا جج ۔ میرے رفقاءکار خاکسا رکی ان
0 "59 00
ایک وف 68 :3 ۲۱۰۱ص0 ول کے ۲۵ علباء مسر فحضل ازرن
دیھے آنے غخاکسار نے پالیس نٹ اسلام کے یارہ یس ان ام وور ان کے
آساتزہکو ری معلومات کم بہچاہیں۔ بعد میس لاو کے سوالات کے جوابات
ے4
ڑےے۔
فا ضر ان ضر رت ھت ان ون
ہ لنرن رہل میں
لق اراروں کے ظا
۴. .ً
: ۴
چم جتہ٭ے ۔
الکتان کے سکولوں او رکالوں کے طلپا کو اسلام ے تارف ص. آرپاہے اسطرف اعار یور پکا عزاج نبض پھر حلنہگگی مردو کی ناگاہ زندہ وار
سے“
1 ۱
309
5 ہرموٹع سے فائدہ اٹھ] رہا۔ ایک مو جع بر بماعت لمندنع کے ایک اعمدریی نوجوان
مزی: ندریم ملک نے جو امریل کا اند نکی الالک سوسا کی کے مبرتھ ناکسار
کے ساب طلباء کی میلنک کا اتظا مکیا نس کا متصد یہ تھاکہ ان طلبا کو اسلام و
اریت سے آگا کیا جاۓ اور ضروری معلومات سے ال نکو وان کفکیا جاے۔ ہے
۱ ینک کان سےککرہ میں ہوکی سے نماز وخ ہکیلے طلبا کو الا کیاکی تھا۔ و نکھنغ
تک بے ملنلگ ری- حوالات کا مو قح لہا کو وا گیا- ا ر ال تایات ے
من ہوگۓ کا
علادہ ان وفود کے جو اسلام کے بارہ میں معلوبات حاص لک رن کیلئے آتے
جساعت لندن کے زی افظام باقاعدگی سے پرافز ار نڑے کلاس منعق کی جاتی تی
جس میں مندن کے پچ اور پچیاں شال ہو جیں۔ والدین شوق و ذوتی سے اغش
مود پال میس لات او کلاس شخم ہونے بر لے جاتے ۔کئی سال سے بی کلاس لگا ر
جاری ردی۔ ماکسار بھی اپنے دور میس اس کلا سکو ہر رح کامیا بکرنے میں
مد رہا۔ .بھی بزرگو کو بھی جا اور وہ شریک ہ کرای مفید صاع سے متفید
گرتے۔ گرم خواجہ بی راج صاحب اس کلاس کے ذمہ وار تے۔ ان کے علاوہ
ویر اساتذہ بھی ران مجید نا ظرہ پڑ ان نکی مقر تے۔
بھوٹی رو ںکی تزدید
انکستان میں الوم اور لنون میں بافنموص بماع تکی تزقی اور نخو زکیے
ٹماکسار بطور امام مسر لنرن خاص جدوججہد میس مصروف تھا۔ مالین اور معاندی نکی
پاکتتان سے آر تصوبا مولولو ںکی آمر و ریت سے فقنہ اگیزوں سے اور خالفانہ
نقریروں اور کانفرنسوں سے لنرن حخالفت کا ایک خخاضص عرکز بنا ہوا تھا۔ رسا تل
310
سن شی ےت مو اتاضات سے پھر پور ہو ے۔ شارت میں
7" ارات تھ پامتاو کی زی ادارت پچھپ رہے تھے "یل *
ود اد جوٹ سے پہ یں شال ہد شردرم ہو ہیں۔ اکسا کی
یں مق رک ان گااذالہکیا وا اد روفاح۔
سج فو را اص جب اہارس وی کے دوروسے اون
ات رت اہ
. 6 ایا ہوں۔ ات سو اجھریوں نے احری کو شیا
سرپ امولنانے اسلام فو لک لاہے۔ ایک دع آٹھ سوک تقد ادا
ىى نباراتائت الناکے چھوٹ کے ازال کے ان اشبارا تکو کی
ری بھوٹ پہ جن ہیں لن مس ذدہ بھ بھی صصدراقت نہیں ۔ ایک
سے زی قادائ اع بک کیک سو خی مرف آڑ
ےپ بی تا الناسے پچ جات کے تادیی جنوں نے ان کے زرییر
۶۳ء رو کر
ری نیت ہے 3 یشون کا لی جو اب بھی شا
کیاگیااور یہ پچفلٹ زنا 02
ا طرس>““ کی کو ایک خطککھادہ یہاں د رج کے دتاہوں۔
دشر ان نا
001
ںویرضا
جات کے سب
بسماللەالرحمن الرحیم
1۷808۹9۰06 50۸005
1-8-3
حنزم جناب بر صاحب روزنامہ جنگ
الام علیکم ورص الد“
آج مور کمارچ ۹۸۱۳ء ار تک میس صقہ خر ال و خریں “لا
رر صاحب ک یکو ضخو کی ہدوت ربز قادیاخیوں کا قول سلپ کے تنواتا
سے خر خائع ہوئی ے۔ اس سے پل ڈرین' ساؤتہ افریقہ کے مفحلق
ا سے7 تر خوش ار اق خرخائی کی تاس دق تھا
آ پکی خدمت من سکھاکیاتھاکہ یہ خ رس رتپ افلط اور جحوٹ پ بی ے اود اڈ“
پختوں میں ار صد سے آھ با ری خ بھی بھوٹ اور افزاء یر نی ہے- الا ->
تل شائ عکیاکہ *۸ فیصد اجدیوں کے مشن بن دکروادتے ہیں۔ سی بی غلط<
افو ری اب اوران سے یرون وی کرو کک
زرہ ب بھی دیات سے _ ار صدخمیں' آٹھ زار نہیں صرف آشھ آد ہس
ام ہی مع ان ےکم لکواکف اور و تیلوں کے پی یکر دی جنوں نے ا
)ےا ا ا مک مو سر و نی
علی الکاذبی نکی وعید سے ڈرن جاجے۔ اگر مولانا ورای ا ا
.وھ جو وہ روہ
ماصل لکر لیں نز بم انیں پچ خکرتے ہی ںکہ وہ انکستان ےکس شمیں گے ام
ےھ کو رج مود
312
الزاع محلہ پر جو ات ریوں اور
بھولی یں شا رن پوماری
بج ٹ کیلع تا نہ ہوئے لو اۓ ان ماناے لم 1
َ ار مسسھس تزر ت٢
دالاع۔ چا رک١
اما مجع لندن ا میرجماعت امب برطاے
یش مزید خدنات ار نی
ےت و ا ا
یر کت ا
حرت خئہ ا ال نے خالسا رکا دو خی توں کے لے نزو
اذہل ا ودای می بجی تیرکے سللہ می چندہ کے مو لکیلے گچجایا۔ اکر
ے رولوں گو کی امو کادورہ کیا درایاب سے ت یکر رد سایق
"00ھ ری ککگا۔ تخل دای جزار ایک سو پچیس ڈالر وصول
کے او مرگ یں کواۓے ھئ۔ اس کامیاب ددرہ پر صخرت خلیہ سی ڑا
نے اشمیفان ادر و شی کااظمار قربایا۔ ول رڈ
ال ددد یش خالسا رکواود رب یکئی غدمات کاااستان میں موق تار مر
ا ا کم کس کی ادا ئگ ی کی بار بار لو رای
5 عہ رد نو7
ا ماک ران و اک یں کی ےر مات
مرن سر
2ھ یراک در مان ہیں من ظرہ اور بج کرلیں
اور مودری را ےکر اود الیک ایا رق ہوگاکہ روز رو ڑآ ےکم
رت پہ ارک طرف سے ککھا جات ہے ا کی تق یا کڑےر
کر تہ
313
ہیں۔ ہم سے تجارتی اور کاروباری طرلق بر معالمہ نمی ہون جایے۔ اس اسال
اور گر مندری کے دوران جب شی نکی گی تو معلوم ہواکہ ہارامشن ادر سد
رز یں۔ ضروری قواخین اور ضا مل ور معلوبات حاص لکرنے کے بعد فیعلہ
کیاکہ مسر لزرن بطور عبات گا رج کروائی جائے۔ ضردرئی کاغزات ٹادن
کوضل سے مگ گواۓ گئے ۔کونل سے مور ٥کیا اور قواعر و ضواا کے مطالتی
فارم پر ئے گئے۔ لبلوراہام ید وٹرٹی رجٹریش نکی درخواست داخ لک یگئی۔ چد
پنؤں کے بعد صسچ رکی رجڈیش نکوض لکی طرف سے منظور ہوک ہآگئی اور ضردری
شی ٹکونل نے جار یکر دیا۔ اکم قییس سے اس طرح دہائی ہوئی اور گر
ند کی دور ہوئگی-
مز رکونسل نے اپنے کانزات می سیاحوں کے لے قائل دید مقامات شیل سد
ففل کا بھی اند را حکر دیا۔ اس کے ساہ اھ زائزی نکی آسان کیل کنل سے ٰ٘
لے ےی کے مراف ری اج کک نات ۱
69 0( 030 کی تخختاں لگائی جانھیں۔ ایک ساؤجھ فیلڈ نیشن کے باہر ۱
کی سک پر جو مس رکی طرف آتی ہے۔ ای طرح عض دوسرے اچ مکوٹوں اور
مقامات پر یہ غختاں لگا د یگئیں مسویرکی طرف آتے ہو زائرین اور مسافروں
کوکوئی مششکل بی نہ آئے۔ بہ نان ار وگر کے ماحول می مسی رکی شہرت کاباعث
بھی بی ۔کونسل نے اص طور بر اس محاطلہ میں اعدادگی-
34
سسسسسح-ٴ -دٴ[إھکھس__ ژسسسس سے سے نے سکےمن .ال ٰلٌٰ
برطالو یو ز و راغل ہک لنرن “رش آپر
ود تد ید کہ
یک یی ردری خدمت کا اللہ تقالی تے اس عاب کو مو تع دیاکہ
متان اور در ممالک سے جب مہشن نکواۓ جاتے میگ رشن کے قواعد اور
سفارت ناو ںکی طرف س ےکن مکی تو احعہکی پاہنریوں اوردهنانلہ2×ہ :کی
دج سے بی ایک مال او بھی ایک سال سے ڈائک رکا حرصہ 18۸ کے صول
مس لک جا تھا۔ اض او قات اس سے بھی زا راو رج وفہ اکا ر۔ اس وف کو
دو رکرنے لے اپے علاقہ نی کے مھ ریارلرنٹ مسٹرڈیوڈ مار سے خاکسمار نے
کچ ہے بات کی اور خروری خُورم اور رو لا ار اکسا ز ےے ما
کک کا رواب اور نعلقات ہو گے تے۔ جب تتعیل ے ان
ساتے اس مشک لکو رکھا تو انموں نے سجمیدگی اور پرے خلوص سے ہ رمکن
ادا ”کرنے کا ود ہیاس ا نکی خاش جددجمد اور اداد سے عکومت کے ممہ راخلہ
سے ددخواس کک کہ دی مشن ٭٭ برس سے زاکھ عرصہ سے بہاں قائم ہے۔
ا نشین کااحول پ تیک اث ہے۔ اس شن کے متلقن ععومت پ بج نہیں۔
یررا"'"و مب مت ماف ران رون کی حا وت ا
مار لیے عرصہ می اعت ک ےکی فرد کے متحلق عم تک وکسی عم کے کو ا
مو میں ما۔ جھاعت تعداد مم بڑ ھک ہے اور دن بدن بڑھ ری ے۔ ہرقم
اود پر رٹک و مل کے لوگ اس جثماعت مم شائل ہیں۔ ان کی دیق اخلق
ردعال اور تی افرا رک مش کو تیم یا یکا مشنیو ںکی ضردرت رق
ہے ران کے بلانے مس تومتی توعد اور ضابطو ںکی وج ےکئی ش مکی مفولات
315
۔_-سے۔ سج ۓ! ۂ ہْْٛٔٛ ُھت۳ککگسکستتتتج
پچ اتی ہیں اور سغارت انوں سے ویزا کے حول میں وت وس ہولی ے۔
اض اوقات بروقت ویزا خمیں “تا اور تس رفعہ انار تھی ہو جا ے۔
011:٥ 16×6 ے ان وشات بر غور وگ رکیا۔ فارن آضں سے کی
اا نے ین فاز نو رو کیالہ ا ور وھد کے ہین فار ےمان ک ہر
پا ری ٹک یکوشخل ے وزے واغلہ 768800 نط٤ 0720 .7۸7 تی
وت محر اور مشن خود اکر یں لیے اور عالات مشابد ہکرنے کافیصل ہکیا۔ صب .
فیصلہ وز داظلہ مجع مھبریارلرنٹ نے اپنے آن ےکی گی اطلاع دی۔ دقت سے
اد خاکسار نے اص امام سے ان کے امتقبال اور نو اشح کا انفظا مکیا۔
ت طاب س ےکی فو زی کی یرت 7ھ لیے عم چے دی جح
ظفراشہ خاں صاحب جو ان دٹوں مشن پوس کے ایک فلیث میس رچتجے تے دہ گی
اتقبال میس شریں ہوے۔ محتزم ڈاکٹرعبدالسلام صاح بکو ان دفوں ول پان
ٹل چکا تھا اخبارات می جے چا تھا۔ ا نک وبھی خاکسمار نے اپنے ساتھ استقبال ادر
اضح میں شا لکیا۔ دونوں پزرگ شاکسمار کے سام وزبہ موصوف کے ساتھ
ضرور یکختگو میں شال ہوۓے۔ حم ڈاکٹ عبراللام صاحب -ن الفاتی سے
سونے کا تمضہ جو اخمیں نویل براتز کے ساتھ ملا تھا وہ ساتھھ لے آے۔ وزھ
موصوف اور دوٹوں ہدرگ اور حم رپا رلیرٹ ناکسار کے فلیٹ میں تخریف لے
آے۔ وزمر موصوف اع سب سے م لکر بے عد خوش ہوئے۔ ماکسار نے دز
موصوف کا پاوتود مصروف الاو تقات ہہونے کے مد میں تشریف لانے پر ان کا
اص شرب |واگیا لن رت نا ا ا کے ا یس
ضردری اور ربا تکی۔ بڑی توجہ سے اضموں نے نپاکسا رک یکذ ار شا تکو سنا
انی معلوما تکی بناء پر مارگ پاتوں کی نیدب کرت رہے۔ اس اشاء میں مکترم
316
ڈاکر مبدالسلام صاحب سے بات کرتے گے اور ان کے حم ہکو اپنے پا می جو
بھادکی بھ رکم دزن کا تھا باز بار ادبر یچچ کے بت را اور رو وہ تے۔ بالا ز7
دز موصوف تے فرمایاکہ دہ ہماری مشکل سے پوری طرح آگاہ ہیں دہ ایک خیا
اپنے سفارت نان ہکو گھھیں کے او راس میں مک ری کک وم کی طرفت
کے ا سی یا نقرر ات یہ مشن کا ھک زکرے گا اور ان کا خط تقد یق کے
طو ری ین کر ے گااورلندن مشن جب بھی اس تقد لق خ کی بناءی کسی مشنٹر یىی
نیکارا وک کی
دیزا جار یکر دیاکرے بے خلاصہ ہے اس خط کے مقمون کانس کے لکن کا/تہوں
090 لصر ِش۱٥6::٤٤0 6 کی طرف سے وزي موصوق کے
درتخعطوں ے جو خط سفارت ان ہکو جوا یاگیا ا کی نل میں بھی بج ری۔
اور مشن اس سے راوگی کے وقت وزی موصوف اص گر ے
اظیار ر کے بعد رخصت ہوے۔ بہ امرموجب مسرت ہ کہ جھاعتی مسائی اور من
او رم کے معاطا فکود کچھ او رر نکروز مر موصوف معطمٹن ہو ہے واف رنڈ
خاکسار عاص یکی ان خدمات کا جماعت الکستان کے عردول اور عو رنڑں اور
مات یموں نے پر جوش رنک مس شگریہ اداکیا اور اپنے نا مکو رعاؤں
سے نوازا۔ گنزمہ ناصرہ میم صاحبہ نے تے الع خحدمات کااختقمار سے وگ رکر کے خاض
انداز یش اپ نوم کلام میں اس عاج کو اپنے پا راد ر ا تزام سے نوازتے ہو ے
یا دکیا۔ اس منظوم کلام کا عنوان انموں نے ویا۔ منرت نا صرنے ہم پر لطف و
20
317
حخرت نا صرنے ہم پر لطف واحما ںگرویا
خرت جا صر نے یم بر لطفب آو احان کر و
27 - 0ن سز
سے ا خر زی وت
ےچ ا ان 7 کک کت
ایت و مالغ پل یا
87 0
ہروقت سے تج ھ کو لگن ہو خدمت دین عدگ
ری فطرت میں خدا١ نے جو شی ایا پھر دا
۷۰90
اوت ںآ کے 2 07 ۷۰۶
ٹ
ا
وتواوؤوں ٘ ے ۔ہ مت اور و رکون سے پار
سب کی الفت سے د١ نے آپ کا دل بھردیا
جو ائھی کمزور ہیں حر سے بھی یھ دور ہیں
+٣ "/
مت می ری ای کت امن رتا
اب لے نے ہیں نے کے تر یاں
شر کے اک کا من ہر تا
پ- و ھی کی رر نے
تم اق کروی می وو
ا ا ا
2 بت ٠تت 00 8“٣008لس۳ی۵)
2 رج یں اَا غداعم زور تا سا کر
کت و یک
وق
اور و 2 کے ق 7 دا
کے
شب گر ڈ چو نڑیں ق3 ہف میں بی پانیں شک
دینغ گی خدصت میں گویا دات ون اک کر ویا
تی یر مان کال اور تج ۷وک
بج وو
319
یوجسسسسسھھو1کیےسالاڑاسسھشڈ
ہر کوئی تو من جا گا اپ اسلام کی
لاریسب کوششل نے تی امانق 6( کر ئا
کیا ہی اعگے ہیں معاون سای و شس وط
کت ا کے یں می اس شیا
کل اشن
ب 1پ روا یں یت ای
ان کی برکت سے خدا نے کام ]سان کر ویا
اے غدا وائم رے مم پٍ غلقہ کا وبور
ال و جاں قرموں میس ان کی نر عاز اکر ویا
ہے دا نے زان رو رت کے تی دام
جس دا مریاں نے انا عابیہ گر ریا
عابز ٤نا صرہ ند یم ناب صد در وسر ٹر ی تلیم د تر یت لہ اماء اللہ انکستان
اس اس رغضان "یس رم عافظ تر رت اللہ صاحب سالقی مل انڑو شا دبالینڈ می ففل منرن میں
ترا و پڑھارے تے۔ :
۴۔ ان سے رادرم میارگ اہ صاحب مال رم منیرالدین صاحب شس او رکرم انی
ال تین بگالی ہیں جورم جن مارک ات صاحب کے معادن ملغ ہیں ۔
٢۔ گرم و زم چوہرری مر ظفرارثر ان صاحب اطال اللہ بقاء
320
20
۱ 7ض وت
مو ئا لود اعت میں داخل ہون ےکی وٹ ھا۔ نٹ پول جولندن س ےکی
۱ لام مک پیل بر دقع ے ناک روک دفعہ گنزمہ یکم ڈاک حمید اج ماں
7 لکوت پر جانے کا موقع طا۔ وہ بھت امام سے خواین اور مردو ںکو
یڑ وین مز وق بی انی فالن کے ہین اور حزم جک
کو تحص قوج سے واں سب سے پپےے ایک غاقون سزہام ملمان
اپ نز مکی باقیدہ نہ بین کیں۔ چ عودوں نے بھی الام قو لکیا۔
0 0 تل ایک ماع تٹلمی نکی جن ہوگنی ہے جو سب انگ ری ہیں۔
موم ای رت نے کی اعت قولکی۔ ان ام اب
اور ڑم ایک ریزو نےسلام قد لیکاشنکافم سٹررشید ھا
ای ڈوستو ںکو لام قو لکرے اور جناعت میس شال بہو نف ےکی نول
رپ لاس کو ارت ڈر٤ے۔ جب بی خاکسا رک ناک لان
ا کو م۷ ےبوص ىہ احاب بت تک سے سے ہیں۔
کا اور ااب اور توجوانوں گا تزمیت کے سلسلہ میں ناکما رکو
۱ 27 گال می جانے کا موقع مت رہا۔ من پاؤسزکی تید کے سلسلہ ش
0ر ال سس چو کے پا میں وصو یکی رخآ ہک بڑھان ےکی خر سے بھی"
۱ : ار اتقاجوں میں ش و کیہ بھی نل خدا خاکسا کا باعت کے
۱ گا عوافوں سے واقی تلق پیرا ہ وھگمیا۔ ان کی خوخمیوں میں شال
۱ : ما8" نو سے رور ہو کپ دھاک ہت اور نکی ری کے
اکر
321
7 ا کی کے کا
حضرت تا تجح المااٹث کی چاری
ادن قام کے ووں می حقرت خلیفۃ الچ الا کی نار یکی جب ا اٹ
حیژم ڈوک مسعور الشن وری صاحب اہرامراض تل بکی خصوصی سار پ
ےر ا ہے وا یکین کو سے برای ا تک
اسلام آباد (پاکستان) موا گیا۔ نو ارک سے محترم ڈاکر شاپر اص صاحب تھی
ا یر ری
رد ایی رٹ پر ۷*١ 61 کیا۔ ڈاک موصوف نے حضو ری علالت کے پارے'
می تا کہ 170ج +181 101 7۔ بہرعال ال تال یکی قضاء بپ ری ہہوگی۔ تضور
کی وفا تک اطلاع بعد موعول ہوگی۔انالل واناالیەراجعون۔
وفات سے پعلہ صاجزادہ ھرزا الس اح صاحب نے جقرت خلیفۃہ سج الات
کی طرف سے فون ب عات کو ہہ پغام دا ابابمت بمت شگریہ اداکرتے ہیں او رکم
ہے کہ عیرے عا کیل آپ نے انگ اور ما ہر ڈاکٹ کو موایا۔ "اور رعاے
اتا۔
غلافت رال ہکا ناب
حعضرت خلیفۃ ایج ال راع کے اجتاب کا وقت آگگیا۔ لنرن میں حضرت یف
الع الا کی علال تکی خزوں سے بے جینی تی دعاہیں بھی ہو ری تھیں مین
322
لے ای ری وئی۔ حخرت چو ہرری صاحب نے اور خاکسار نے فو رین سے
روہ جانے کیل ہکیا۔ ہم دوخوں الیکٹرول کان کے معبرتھ۔ خاکسمار نے لندن کے
جس مقدوش عالا تکی وجہ سے لزرن ٹھرنا ضمردر یی متھا اکوکی فتق نہ راو
جاۓ۔ بعد می اللہ اتا ب کی خ رآ گی کہ عخرت صاتجزادہ ھرذا طاہراحد
صاحب غلیفۃ الچ ااراع شجپ ہو گے ہیں۔ دی اظھینان اور سرت سے اس نک
نا اور پذ ری تار حخرت خیفۃہ ال الراع اید ال ای کی قرمت میں جاعت
انتا نکی بجعت اد رکائل فرباخجردار کی اطلاع گجوائی-
ٴ حخرت غلیفۃ الچ الا کی ىی نات کہ سد ہثارت کین کا تح خور
کے و نک لق مین وو ر لع دوب سے امو ز کے یارہ عحرت
خیۃ ای الراڈ اللہ تعالی نے عاج کو فوری طور پر روہ لایا۔ رم اقب
ایر غاں صاحب کو بی لایا۔ لنرن سے جاتے ہوۓ گرم ھرزا عطاء ال می
صاحب نے مھ رداگی کے دق تہکھاکہ جب آپ ہبی تکرنے گئیں نز جھے بھی
شا لکرہیں۔ حفور نے خاکسار او رکرم قب اھ خاں صاحب کا ٹن کے
گیٹ پاؤس میں قیام کااتظام فرایا۔ جب حضو رکی ید مت می عاض رہ وکر ہین
کے بارہ میں ضردری معلومات اور رپارٹ بی یکی و تضورتے مزید ہرایات افتاح
کے سلسلہ میس اکسا رکوریں۔ ای عرصہ میں حضور نے اکسا رکی بجعت بجی ی۔
خماکسار نے ہرزا عطاء الرحن صاحب کا بھی ذک رکیا نذ آپ نے فرایا۔ لنمیں تو
تممارے ذریجہ مارے انکستان کے اجم و نکی بجعت لے ربارع۔“' ارش2
سعارت لحیب ہو ئی۔ ۱
323
کكٌَّّ-۔ً٘]1ل. .-- ک کک کککعکْکککعک
مسحبرجڑین کے ا فقتاح کے اتظطادات
بعد یں ضردری بدرایات ل ےکر ماکسار انکتان دابیں آگیا۔ مد بین کے
انان کے ضروری امظطامات شروع ہوۓ اور فشل شا تضور انور نے خود
ریف لاک رسپ رک شاندار انداز می اختاح ڈرایا۔ رت غلیفۃ اچ الرال یہ
ال کادور خلافت با رکھت اندازمٹش شروع ہوا۔ آپ نے اس ددرہ کے قام میں
پقہ مشن پوس زک بھی افتفاح فرایا۔ جلنگھم ہشن پاوس کے اخققاح کے ساتھ
تضو رکو اص ×ہ 7:6:٥0 ایال جس می جلنگھم اور شمعنم کے میترز
شال ہو اور دونوں شبروں کے اگری: متززین نے خاص طور بر شر تکی۔ بل
ان متززین سے بگرا ہوا تھا۔ انا ڑا 0 نا کا
مت پلڑکی تاد کے علاوہ ہردوشمرو ںک یکونسلوں کے اقسریوں نے بھی شر تکی۔
مب حضو رکی عمزت و اترام کے طور پر پال میں وت طاقات و ماف کھڑے
رہے۔ ان شعرو ںکی تارج می یہ پھلا مو جع تھاکہ یک نی را ماکو اس عزت د
اترام سے ان ول ے ۷٥ ذ٥٥٥11گیا۔
اس دورہ کے اخقام بر تضمورتے عاج کو ککھا:ے
یت خوش ہوک اتکی کے می ات سے دو وج
اط سے کامیاب بنا مااورقوت عمل می تزقی دی۔امیدہے آپ پچ
سے بذہ دکروعائؤول اور مت اور نت سے بماعم تکو ایک سے ایک
بد ھکر اپ مظام تک لے جات می ںکوشاں رہیں گے-مارے
اہ دانے آپ کے بے حر خلوضس سے متا شر آتے ہیں او رآ پک :
324
ار تی ۔ آ تپ کی مم مصاضبہ او را نکی سای مین باغا اہ
و ا رت کے مانےڑن
ڈعلی ہوکی ہیں ۔ ان کے الام کا شر ا نکی نسلوں گرا ۔ ال
تقالی ے ففل سے سارا نان ان ىی اظر یت ک عاشن اور ذرائی
ے۔ے"' "٠ (۵ ۴ا و بر ۱۹۸۲ء)
ہمان یہ ذکرگھ یکر دول کہ جب جور اپنے لہ دورہ پر ادن غلافت کے
مب پ فائز ہونے کے بعد تشریف لاۓ و اس فلیث (7181) میس ہی آ پ کا قیام
ہوا جس میں جم رچے تھے اللد تھالی کی دی بہوکی آونقی سے اکسا رکی ای اور
عزیزہ بٹی فدہ حھاالل نال نے تضور اور آ پکی یم صاضہ اور صاجزادلو نکی
ہر طرح خدمت و فواشع میں برکت محسو سکی۔ چنانچہ حور نے اب خمورمہ
کم جنوری ۱۹۸۴ء مس عات زکوباد فرایا او رکھا:۔
”عزیزہ فرید کے تو ڑاساسو جن علو او را کی ائ یکی اچار
کی الیک ول موا رہ ہوں۔ دوفو نکو بہت بہت عحبت بچھرا علام۔
الکستان کے سب نماتندرے جو جلسہ بر آتے آ پک یاددلاتے گئ۔
ین وی رق بت آپ بے رتپ اک تق
ان کے دل پر بت رہ گا۔ پڑ ےگرسے پیا د سے آپ کا ذک رکرتے
ر ہے ہیں۔ آپ ح بکو نا سال مبارک ہو۔ آ رج سال کا پعلا ون
15 0۳0۸08 ٢٢٢ہ, 7۳:٥3, 7۶ط٣۰۳۲ 260 1982
حت* ۱ ۱
رای تر کو الیک دو صسرے خی می سںککھا:۔ افنکتان کے نی رام ٹر سے ملاقات
”اللد تقال یآ پکو صحت دعافیت سے رچے او ز لے بز کر ۲ 1
عدمت سلسلہ کی فی عطا فرراے۔ ہرقم بب آ پک راہ ماق
325
فا اور ہے فضل سے پک یکو خوں کے ہمتین متا پا
فرماے۔ الکمتان میں جن ووستوں نے آپ سے تماد نکیاے النا
کے ام جا کے ل ےکک ےک رآ پ نے اچھاکیا۔ الناکے احمان کا بی ایک
ٹیر لہ ے۔ ال تی اع ریم میں بھی آ پکو سلطان نعط فرباے
او را کی٠ تر ونھرت آ پکوعا گل ہو *
اکسار۔ مر زاطاہرھ
و رن
مو ا ہمت
ازکستان کے تا میں سوشل امو ںکی طرف بھی نوہ رہی۔ بو ڑھھ اور یر
ری جو س بداو تے اور نی کے علاقہ رہے ہیں ا نگ ادا دی ہار ےھ
من نکی احری نوجوانو ںکی ٹیم کاکھیلوں میں مقایلہ ہوا۔ اس ذراجہ سے ۵۰۰ اونڑ
کی رق ج ھی ہوئی وہس شریو ںکو ایرد ہکونسل کے ذریہ گی ای
تقریب میں بطور امام صسجد لندن خاکسمار نے شرکم تکی اور ماکسار کے سانش
رو رک احاب ےی 0 کے متعلقہ ارکان بھی شریک ہوئے۔ ہقائی
1ج :30 کے اخیار تے اس تقرجب کا تذکر:۵ فردری ۱۹۸۲ ءکی اشاعت ٹل
فوٹو کے سا ج کیا۔
ایک اور موقع ب نی کے علق کے ندجوانوں کے معللات کے تع می ڑپ
رائم غنغرصاحب تخریف لا ان کے ساتھ نی کے مبرپارلنٹ میا تے۔
غاکمار بھی مدع قھا اور بھ یکئی اضباب ان تقریب مس بد عو تے۔ نوجوانو نک
ری کے لے ضروری اقرامات کا اتظام کیاگیا۔ مورخہ ۲٢ فردرکی ۶۱۹۸۲
326
کی حشڈأٹچ۔ےرڑش۔۔ۃشڈ ر۔۔د ۔-۔۔۔۔۔جج ار_ ] جج ح چخش٠ش٥٤-
[ج 0700 کے اخیار نے اس کی تفصبیل فوٹو سے سماتھ متررچہ زیل الفاظ مل
-
۰ ہام نصت -7:0۰ط ت رصساو_مرہ0ص 506“
05ط ح؛ج عصٛء ,۷ ٥ا٥ئ ط٢٢ مصدہ(اا٢۲
×<٦٥٦٤ 8 ۶۹ہ٢٭۶<۔هط٤٤٤ہە ّصة دہ رلاغچڈدہہء
10681 عط٣ صز ١هصمط] 0۶ 911108 ۵0× م۵ ط×
علجرہ+ّ عصدہ ر7 ط۲× ۳۱۱۷۰۱3ھن رض نمسصصی
صط ہہ 1031 +١٥ همصدء ۷٭داءانط٣ عق(
6۵ط م۷٥ قط٣ غسەمطد صمنصنجرہ دک ماع
6 ۲ہ ۶۰× عط+ ص( مداج 14 ۱طد ؛) صہ صصدظ 60٢۱
ورنطعدہ51 ۶۹18 عط؛ +ٛسمطد ٢مم صدصءوء8
6٥ہ ٥ء ذ1ص ط٤ 53 076ھ جدہہ۲ ٥۲ط
8688۰ 011۲ ×56ط5] ×7
ج٥۱١ص عط٤ ۵د خ ددم (همط5.: جة0صھھ۸
]۷٢ 1٦٥٥1 ٭<×ەط٥٥٤]) ٤اط جج18 ہ٭] ×٥
187ھ عط٤ ۶ہ د٥ ناجات۵٥۶مہ× ۵3 ٥, 1ء٥اء
4)٤ ع 5ت8 180ھ607۰..۵ ص705 کت تچاتعمسلاصصی
<[ا١ءصہہ0) ,34۶( ب×م([ا٥5( ن×عدصا ”ہم
٤۶ہ ٭>١٤81٥16 ط٤ ,ط0 .ەممط0 مل مطومافئاعط0
×1[10ذ١ءصہہ0) -٭ بلنعصدہ“0. طا×<ہ٥×:1 ۲۲٢١
صطا ۶.]هەہ صعطہ×نعط0) هط٤؛ د۸٥۶۱۸ھ نزک
تالصساصهہہ0) <8 لزا صہہ4)0 ط٠۶ہ٣٤ ہ٣۳
7618108۰
1۷عطئط ۳ 5۶۰( نود85 .5( .+5( 36 2:۶60
023۲٥17۷۸۸1۰ 1 صد بحادع×وط ب5( طعانعط8 .7۸۲
چ2 8714 بااہ صدەظط
188 15ا26 7۵<۲< ط٥7 7۶:٥1۰, ,د٭ آ7 طع×وظط عطت
)
: کی تیم کا روگرام بنا اگیا۔ جس میں ذو و شوقی سے اجاپ بماعت شک
327
رن میں یوما سی
ان کے قیا کے رو ران ملف أوقات می وم اتیل معظم طور بر منائے
بات رتے۔ وق بماعت وی سے ان ونو ںگروں سے گئ لکر لے مر
ادن می جح ہوتے۔ ڑیپ اور چفلٹ لیے اور دعا کے بعد لف پا رک می
مقر ,ون جھ تل کیلنه مقر کیا جا ان میں گے جاتے اور زائرین میس سلسل ہکا
زی تی مر کے.ہ پ رکے عز او بھی شام سے پل والپں می اکر خاکسا کے
رنورںکرتے۔ اکم بھی ان ایام احراب کے ساتہ چا جلیفی فرالنل انام
دنق ]۔ ایک وفعہپائیڑ ارک می سیاہوں می اسلام داحدبیت کے ڑچ
-.
ہو ہے_ اس وم اتیل کاخھو ا فوٹو دیا جا را سے شس مس اجاب ا جنارات کچ
ک0 270
وت ما ظار
نوم ر ۱۹۸۳ء تضور نے ماب زکوان الفاظ سے منون فرایا:-
بت خوشی ہو یکہ اللہ تھالی نے آ پکو قیام انکتان کے
دو ران تر تی کی بت سی منازل ٹ ےکرن ےکی اور بت سے نے نگ
میل رک ےکی تو غق عطا فرائی۔ آخرىی انعام جال تا یٰ نے آ پک
مسا ی جیلہ کاعطا فرایا ذہ مشرقی لندن کے لے مشن پا س / مم کا
328
غیام ہے ۔ جز اکم اللہ ا تن ا جزاء"
اب انگستان سے امریل ہیل روا گی کا وقت آ نیا اس عات کی حضرت لیف
ا الرائع نے انکتان سے اھریک ہکیے بد کی فمادی۔ جیساکہ جقور کے اور
کے خط سے ظا ہرہے۔ تضور تے دا سے بھی نوا زاکہ اھ ریہ یس عات کو ”سلطان
تصی'' نیب رہیں۔ انککتان سے امریل ہک رداگی پر حتزممہ ناضرہ مم اح
نم برادرم مھ باین صاحب ند یم کی اید نے اکسا رکی رداگی کے موقع بر چند
اشعار ے۔ ان کا ذکر تار تی یکی دی کاباعت ہوگا۔ ان اشعار می دعا کے علاوہ
خاکسا ری مت خدما تکابھی انہوں نے ذک کیا ے۔ جزا ا اد ان الجزا ف
يہ منظوم کلام منزم چو رر ی مجر شاہ نوازخخاں صاحب اور ا نکی مم صاحب گی
طرف سے اکا رکی دداگی برا اعریکہ کے موتع پر دعوت کے وقت یٹ یکیا
گیا۔ اس دو کی کارڈکے الفاظ بے تے۔
70 10ط "٥۶۷ ٥
صصطذخ علد×و ط35 طحانعط8 1180م( 73
8 4 -طم ×27 طا 3750 ج26 20
۶2ھ ۳۷ھ538 75۶۰۰ 1 دہ گ73
٤ہ تیمدُّ حدہء عط۲ ۲ہ ۶۰٥٥٤16ھ عطا 6٥٥ دوە :7
جہ . ۔جر 7:45 8 01556 ٥0۶
.3 ط353 ط191 ٥ط 8٤۶۸
7.65۲177
۲١۱. 01-049-10
01-049-4
329
حتمہ ناصرہ یم صاحب گکھتی ہیں:۔
حم ول گر نار تم
اق ات کے ا ای کی ا ا ا
جھ حر مہ شاہنواز صاحہ نے محنژم وکرم ش مارک اج صاحب امیرو
می اخوارج پرطام یکو ج وک حضرت خلیف: ال الراع دہ اللہ تال بھردالھرت
سے ح کی قیل میں | ریہ یل ہ کرجا رسے ہیں بھت بڑے چتاہپ اک شا
اجس می حت چو برری س مھ تخراذر خاں صاحب نے بھی ش کت فرائی۔
: ودای اپ رلیں می سکرم چوبرری شاوفوازصاض نے اپ اد راپ یم تمہ
کی مرف سے معز رانوں کا شی اواکرت ہے مز اتب ےار نے
مایا ںکو سراہاجوکہ موصوف نے اپنے ددرامارت مم یماں سرانجام دئے-
: اس تقر کیل عاجزہ ناصرہ ریم نے ایک مع مکی ج دک میرے ہت زیم
ا سرع مرف نے تک تام معز ممانو کو حظو کیا
کت شر تھا اک کات کا انا
ا مت ہی و اک ا و
آپ کی عھت تتے ماع کا رما ان تہ و
اد ان سے آپ کی دائم رے گی اپ یمان
جال اک بپھیلا دیا شنوں تا انککتان می
نے کر ریت کے ا سے کروان
اے دا ان ممدوں سے معرفت کی سے لیے
رظ ا قوم کو آپ جات چاوراں
ان کے ول مور ون وا ہک
ای مخرب کو لے پا رو سن و: ا میناں
اق راع مم رکب ول ری ری گرم
قای 0و 1اخ ری پایرہینوں
آپ جیے گر ماعد قرم و لے ریں
پت الام اونیا ی رے گا ماں
331
اک را کے رک ےھ تھے
رگ لائے گی واں بھی آپ کی ہمت جواں
انثاء اش ارت چار سو پچ لے گی اب
ہی شا سس سہ میں
قاظلہ سے حی برستوں کا رواں من کے گے
بسن مے ہیں حثرت طاہر اھر کارواں
کین یی مخز :وس ہا گی گ رک
بت
ضص ے ساپ ہو دا ے ذوا چلال و میاں
ارگ ےت :ماب اے امداے انا
باعث رت ہو ان کا نر ے جانا وہال
ناصرہئرم
سی رٹری تز یت لن اما ء اللہ انگّتان
332
انککتان سے روا گی پر لندن مل آ خر یم
مجر فضل ایرن می اجلور امام مسر لین آخزری خطبہ اف اضباب '۶زی: اور
ددست اور جماععت کے افرادبڑ یکشرت اور بھاریی تد اویس شائل ہوے۔ ا نکی
سے تع تشگ کہ ام رہ جانے سے پیطہ اننیں ری وت ان اتا کے
اپنے اس آخرئی خطیہ میس تشد و تعوز اور سو رہ فاتج کی حلاوت کے بعد نما ظور
پر اس جات کاذکرکیاکہ لند نکی بے مد جو بی مسر ہے اند نکی۔ بیہ مد بہت سی
برا تکی عائل ہے۔ اس مم دکی یاد جماعت کے محیوب ادام عرت غلیفۃ ال
الا نے ری اس مس دکی زین حخرت سج موعور علیہ امعلو ۃ والسلام کے
ایک مفلص ععالی حخرت چو ہر ری ں مج صاحب سیال نے خریدی جو الکستان کے
لے بھام تک طف ےسب سے پل سام رودے۔ خی خلق کرام نے ال
محر میں خلف اوقات مں نمازیں ادا گیں- تعدد صحابہ اور تالتیان ے ان
ہزرگ ففاء گی اقتذاء مین اس رین عبارت کے فرلی کو انجام ویا_ خلف
اواقات یل احاب مال آکر ذکر الی سے اپنے قلوب اور فو ںکو منو رکرتے
رہے۔ نوائل اذا گئ۔ رمضمان البارک میں اعتکاف اور تزاو کی اداگگی ے
اس مس رکو مزید کین بھی ان خصوصیا تکی ہناء پر یہ صحچد امن و سلاٴتی "
روعاضیت اور آسالی برکات سے معمور ایک جز یرہ سے کفرستان کے سحند رمیں-
۹7۳ ۹ ۶ ہ" ۷ت
ہونے پہ مکی ىی در خواس کپ ہو ںکہ جب بھی دوست یما کسی کام سے یں
اس کے قرب س ےگ ری ما انی ںکوئی مشکل ٹیل آے او ز پر انی کاسامنا ہو
333
سی میسں ا یودن اد او ان ال سے حا ا اف کے
بے لقن ےکہ ہہ دعا ا نکی الد لی کے حضور خخاص قبولیت کا شرف پان ےگی۔
و رات تے لو ازت جامس ےے۔
تھی لنرن یے رخطت ہوتے ہو احا بکو آخ زی شحیحت اور خفر
یٹ
الوداعی وعو تی اوران متان ے رواگی
انتا نکی مخلف بجماعوں نے نماکسا رکی دداگی براۓ ام ریہ کے مو بے نہ
ضرف عو تی ں کی بللہ بڑے خلوص اور محبت د پیا ر سے ای رلیش بھی بجی کے
زع کا کر آتند صفیات میں کر رہا ہوں۔ جز اعم الشد ان اجزاء۔ لن ن کی
باعت نے با فصو خاکسا رکو بڑے پار و اترام سے الودا عگما۔ لنون کے
ات کٹ نے مندرجہ ول الفاظ میس اکسا رکا ذکرکرتے ہو نے لکھا:-
حضرت غلیفۃ ا تج ال راپ کے ار شاد مبارک پ ساڑت چار
مال تک کامیالی اور خرو خی کے ساتھ فریض جو کرک ان
لشضلہ تھی بصاع تکو مبوط بیادوں بر قائمکرتے کے بعد محتزم تن
مبارک اص صاحب ۴۹ فوخ رکو اع کہ تریف نے گے > بای آپ
امرس انچارج وو اس ھا سس
انقرادی اور اجتائی طورب حنزم جن صاحب اور آپ کے ابل غان ہک
تمرر موا قح بر گوگیااو رآپ سے مب تکااظما ریا 9-9
انتا نکی طرف سے اجتای طور بر 8او مب کو حم جن صاخب کے
334
اعزاز می الوداگی تقریب منعق رک یگئی نس میں انصار اللہ ' غدام
الاضر یہ احریہ سٹوڈٹس ایی ایشن؟ میڈ یئل الیوی اشن ٴ
جنیر آ رکی یٹ ایوس الشین اور مل کرام 'الککتان کے
ما ئن گان اور شٹل پر یی نٹ نے بادری بار کی حتزم چّ صاح ب کی
خی رمعمولی خدمات پر اتی تر تی یں ا و او 6ے
خصوصی ڈ نز کابھی اجتما مکیاگیا۔ محتزم بی صاحب کے نمایاں کاموں
میں سے سب سے اہم نے من اوس زکا قیام ہے۔ چنا نچ ہگزش
سماڑھے چار سال کے ققیل عرصہ میس تین لاکہ بونڑ سے ہے مشن
قائم سے جھئے۔ ساءتھ پال “سح کک رامیڈن “فو رڈ ب ری فورڑ“
ائچسٹر' بٹ ز رفیل میس مشن تقائم ہو چچے ہیں ۔ الیسٹ مندن مل عمارت
رت سی مرو نے ری موی میں ےتا سے
دعا ےکہ محتزم جن صاحب آ تند ہا م ریہ میں بھی بین از یی غدمات
دینی کی نف پانمیں اور اللہ تھالی آ پکو صحت و سلا مت دا ی طویل
ھرعطا فرماۓ اور آ پکو اور آ پکی اہیہ محتزم کو ا جر عٹیم عطا
فو ہے
(مانامہ اخبارام ے رگ ر۱۹۸۳ء)
عزید احربہ نیشن کے اگری بی حصہ میں مندرجہ ڈنل ٹوٹ ناکسار کے متخلقی
شائحع ہوا نماکسمار کے فوٹو کے ساتھ ۔
۲٢۱ 08۸ ×01 7۳70(۲
٤ 186 5730ھ عادعدط ت35( طکازہ طھد
جز ۱٥1 دجو ك۱ صعسط رخ عزلدحدطہ5( ططانەطة 3۸۱1853(
٭ەط ۲٤ہ ٭ج×عطء ٭ د٤ ٣٥٥٥ ٤ج٥ ٠٤ ٢ہ .1.تا ءطا
335
جچ سس جچ یچ ژژژچچچہشہچشسٹشٹش ٤٤٤ چچًٌچ طس
طط ٣ہ ×1٢ 80٥ ٠٤٥ 16٥8٢٥٥ مطہ ٭مج (٥ 6 . دصمزەەندہ
صنسرے عط+ ٥٤ء صجعندعد٘ہ< صہءط ععط عط ۶۶ط 58.۸,۲۷.ت1
رعاصدہء هتنطغ طز ۱۱٥۱ نصہد طئنطدة ططنەطڈ دم۔ط٢۲
6. 8۸186 ج۶۰۱۶ ٠٥ ۷۱۸۰ دمنەەدنحہ عنط ,ەچد ٥۵×۵ ×دہ
الام ہ٠ ١قصد عاغصدەہء عنط صا طد عصہک ۲۵ ن۱9 صطھ۸
0۴48+ 2× ۲ (۱×مد 4 صد تَزالصت ا تضاجرہ تا تصسصحدہء ط٤
.8130۰] ۶ہ ۃ۵٥٥] ط٥
ج٤+ 78 ٠ہ ۸[۵<۶۵×ہ" ط٤ <16ص ا۱:ء۰ ۶ة جدنعا× ہ٢۲
٥1٥صص( طانطہ8 ططانهط8 ,11] ط )ع58( 1د نائطک
7 وط۲ نحص ہ٠ صعام ەنط صمت۶۸م مہ ماص( غلدم
8 ِ هصعطء”٭” منط2 من دصول آد-ج10 × ہ۶ ۵5 وہ0
و 14-01-۸4 جعصٗنعنمزعطة حصہ ھ1 ١ طءسة( 11۲ ن:<ہة
71 7 ہ٥٥86
٤ ×٭٥141نطء قد صهصہ٢ ”٥د ٠٥ 316 مم ء157
8 ہ۶ ہہ ۰×۱ دع 2ظ دطاز×خغدہء ةقصد ۱۲۵ 0×۰۷ مصصہ
61٤+ ٠طق ] ۷۲٢٥ زاعدہ<؛ہ ٭ ۲٠. ذاءەزطاہ ط×
ہزعاصدتء هً٘ط٤؛ 1١٥< دہ جزنا ادہ٥ ہ51880گ(
حرەہ٭ طد ٥٤٥٥۴١[٥ ۰۵× 11126 ۷۰۶۰ +۶ حعصدل ەط٣ ۶ہ ۶ہ ط 5ء ×د
8 )۱ءء 10ص عصنذاہحد [۶۵خدہء د جصا٭عط ۓ زط تبادہ
٤۰. آتط۶× ءط دہ ۸× م4 صد ۲غ لص ٥ہ ٥١ص٥8
7[ بەع ناجہ٥ءعۃ ×صع× ہ٣٣٣ ٣<هط؛ زاامنازنط]
۶6 0 ۰۰۹۱ ۱< حط ٤ادہء 418ص۶ ×عطاهط٢ ٤٥٤٥ ط4
اط5 ططانمطڈ دم عاط06 (۷18۵(٥ عط+ 11د ۶ہ ەمعطءصام
بقلتط٤ نا ۰×< 1٥٦٤٠٥+ تا .٤٥41٭٭<× ×١ ٢< دا٦٥٥4 ٦×ط
7 ط۸(18 6+ اد مسدت؛ دہء ۶۰٘۶۱<م طانطہة طعانہ ط8
لنازہ ط8 ۳۶١٢٢ ٠١ 1130 1117 طنع758 11031 عطڈ .دہہءء دہ
٤ مہ عط] 0۶ہ ج صا تم×م ×× عط غعط+ فزندء: ١ص طانطہ8
آلاەط٣[٣ ١۱٦×ءەط× ۰ع ۱114 مطد ەط غضصعط)+ اد ح٭ءطہہ عط ٤ہ
.6
336
٤ ٤ مس سے ے سے سے ےجچچش
پز اٌإصعج ةءط 30ا ۳٢ ۃوەزءء عط؛ قلط
884 ۲ا٥0 1 وط۲ 86.۲ ور ٥٤6 ًط 11٥ ٤٥[7
۴1173٢۳8 816٤88۰ وج .و ٤ قط٤ ]اط 530٤:6088 8
15 1و ۶۷و۶ ٭حصوء 14ط اہ
6[م0٥ .20567 ۶" ةّططاۃ 18۲8٥ چ 1٥۷7(7 68ط
6801871 8ء <×ەط 18ط رەەط ٥0ط ة٥ عط ط۳
طخ جا 86 مٌ61 31ط 2.(۱ة۲0۲۷۰8۹۲۵۳3 ٥ددع د٥٥1٥ط])۲٥٤٢76
486٤1٤8 8 480518560 وو۔٭ 27٣٥7۰٣۱۵ .٭ ”ط٥3
2ئ و یج و٭×٭ط×ّٛم٭”×َطم 5۲۵8٥٣ تر<"ە ج اط
ججنئەەەلطا ط وط ×عط٤ہ چصلط20 ٣۷1٥, ۷۰ط ۲۷۹٥
۸115
٥٥ط ۲8۶ نہ ققّط 300,000 276871 ۸15086٤67
2ئ 6[ ط۳ ,۵1860٥۴ط ×رو ٤٥٥ب٥٥1ا١٤ ۶<٭طاز٥
1ج ٥ء1187ط ١٥٥٥ بەەط ٣×ط 6708 ر0٥ درہ0 1587( 1٥26
,0×۲0 جص چ×اەط 1364 ط٤ 7ا٥ہ ۶ئ
ڑوت ٦٥110468 دو طط مو ٭ەووطهعدام عطا
90 و
اجاوردت وی 7ھ 7۸۵7151۷7
8چ رنط۶ 78 8 1[15طا ئ٥٥١ ود( طانطہ8 طلاتەهطة5
٭وپچط طط۷ :(867088356[8) 8 نع ٦51 ة۶٥طا ۱۴ 0188868
عط) ج5×[< 0 8703117 08 ۴0117 510666 رجیمں! ب٥ ٭طا
×م ا8ط 2۶ دودصط]داصط6
1٤۰ ذامط وط8
۲٥5( ٥نائآ ٣٥ز.
010 8٤ج 59511538010 لوط طنطعة ططانەهط5
چرہ +ر[ ۶٥هط٥٥۵8٥] اط ٥×ط عقط 10ت ط3 !زنط ٤ط
ق8 6" وز دہ ا وط ئا 85د ۲ص73۸8 6×0۱ ج(ئ0108٦3 181816
ہو۶ مزرو جرەەط 8٥٥٥٥٢٥ (8٥ 585۲683 و ۲جو ٣٢٢ عطا
6زط٣ ٤1885٥8, ٥٥ط چ دنہ نصج×ہ زط ۱41×0(نطء ×نەطا
عط 8٤ ٥٥ط جردرں .)۶۰ ٥11٣٤87 ۲ ٤٤ ٣(×ح 7×ہ×14نزطء ٭ط]٤
337
٦ ٥٦٥ ٥ط ء188836٥8۰
7(7 ھ017۸ 77
ط(تطج8 ط 8617 .7.5 عط صا( ترجہ منط دہ چ 7:6۱٥۷.
۲٢٢۵ ز3١ ط٥ جو٤ 31٦ ×ہ ط٤ ٤عط٤ 8810
ب×ە٭ط ٤ز 7٦ .صنط <ہ۶ رراطاەندو 8۶٥ ٣٥×× مّ ٤١ط 1 ۵5
ہو محصتا. ۵<دجھ نرصد ل4اععط طام ترعسط ہ٠٣
٢۱×[ . 76 ۵۶٥ حدمنەەندد عط) ارہ د×ہ ء٭(ہ چصنطا مہ
٣٥7 1ن عصنلا ×ہ× صہ٤۶ہ ,مم 11 ٭۱×۶ہ٥٭ط ٥١ط ٠٥ ]ط٥۷٢
66510:85 جط[8 8۲۲۵ :۶8٥ا ز8[ ٤ 8656458 18568
6061
7 4 .7.۰
ەط )ہہ سد لا عط؛ ٤غسەطهھ ةٌعلهده ط۲۷
ون8 .[ہ ×وز د دد۷٣ دعط صصح ۱×۲ ا ئعط) ۱6١ دہ 3ہ
9 ۹ءء ہ۲۰۱ -ہ<×ەط٤ہ صعط٤ ٤٥٥ ط5( ”ا ٢ ٥٢×٢
۶[7 ٥1ء وچ غ مج ٣٢×٢ ٭<×عط٤ہ عانط٢× ,ها٣ علعطا 8٥٥
×زەطغ ×<ہ ة٥ءطئنئلەم ×ط ٢٥ ۱3×ن وہ نعط لا 6و حر مہ
٣٥ ×ط٤ ا ۔ہ([تطازەنزم عدطدەہ۴ء٭ط ت٤ عءەہاج ٭تاا
٣۵[ 8 وط )٥ 1[:اه دہ ۷۷ز ١8٥لعطا ط20
صنودہ× ئ؛ عنذ انصسمەدحصسدہ0 ٭ط ٦١٥۷٥٣٥ ٠٥ 132
مرنقطع دہ( ×٥١18 عط عو ج رہ[ 80 ٥٥٥4٤۵۵۸: 53ص ١16ص
را(ص٦اصصصہ6 ١ط ,عصہ×اءہ غ رہ ا دز غ۲8حائط لا عط؛ ط1
۲۱٢٢۶٥٢ ۶ ط٥ ط) 8ہ۶۵ ٤ہ ٤٥ طاجچہ<اہ مہ مع ۳111
ة٣ 8014٥ (ط) ۶ا ٤اطع ×ط 8/٥٥ [3 ٣٢× 8ل کا تا ٭طا
3ھ ×0 ن زا510 طخ جرزأ ٤۱ط زہ ہہ ×م ٭ ط× 848
اط م٥۲ م ہا عط ۶ہ عاوصسو×ہ عط زط ٥ تام
۱110۸۰ ۶۰د رصلط دہ 5٥ 686ص
28ھ .07777
8و6 1166ءء 13 صعط0 .تا عط عصذ ترچداہ عنط چصلعصسسط
ربقتط ج۲۱ :٠3۲ھ و 300 ×ہ٭ہ ×ط 15۶۱٥٥ ٣٣ط
338
ک کل کے الا ھا مت ےت _ ہچ ھے
ص1 710801168 عط([ٴ 0۴ ۲81860 جرەەوط ٭٭وط دہ 18۲85٥
1۴53116301 :57182753 ہا؛: ط٦ا .اج1 8ء حدتەم8
١ انطةة (طازہ [3 ۲6٤ ۸×ظ فص ترالق٥٥ ٥١ط ٢ 73۸98
مق و ةررہو۱1٤۶۵×وجرہ٭×ز 2666858877 ٭(طع 811 85×6ل<
, ٥تو508( ۷ء٭ ط288 ط٤ ×ہ۶ ٤٥٥3077 2222
87100717 )ہ٣ [113ش ٦٥ 85۲366 مطغ رط طهنط× ,صتوم5
8801830.
[108 [ رد [310583< عط٤ ط٣ 8٤ئ٤ رہ٤ ٥1ط۰ ۷۵۱٣۲
330 [39 30+01 :61 (15[ظا ٥٥٥٥ ۵" 206018
.88ز 28٤10881 مغ 15 ٥1, عطہتاطا 0اط 8د ,ہا ۲۷۶1٤٤67
ططانەمز8 1×٥٥. ط٣ ٤ص8 :603۴90 508 ط708
و ىضزا ×رو آ8 158۴0۶۵۰٥ وو[ج ة۳ تانطةة
11 ط58۷( 01 1183عط <5782 زم زط× دہء د٥۲6۶ ہ٣
0 ںہ زنط ؛٤8 ,1980 ورڑ ر10 5ہ] ×1 88٤٥6
جرز 3ئغ[ہ× طءنط× 2طد :6865ھ “(٭<6٥5۳٤۲73118 ت٦[
ور مغ رز ہج<×٥ ٥٥ ٢658[۷ا5
7006۰۷ ججوزول ٥ ص×ئ×م (٥< اط١ لوط طانزو8 طمانەط5
٤ہ دوہ طخ 0) ۶6۲6۲7٥ ٥ طخ[ 68۶03 ط٤ ٥٤ہ
٭ٍِطغ آل8 سط جصت٭نع ,صنتەم5 ہز ٭ںوەہ]( ٭طا
مِطغ ررز ۶٥۵81[٤٥٥٤٥ 8ن ٤8۹ 4٥٥۵۰158. ۱چ ٥ط
6ط ہرر و( ذ٥<×ع ٭عا1ط ۲۶۹۲٥٢۶۵ ۷۵۲۷ و ۲و" دصہت٤وءنتاطھ
!جع 5م مہ ۸۸08۹108( ٭وطخ ٥۶ہ 187 ٥۲٥٢٢
8ھ707۸ 0ج ت77 00ظ۸7۳۰7771 ٦۸8
8ء طا[8ءط ۱0٥< طّ جز صوط 712-708-014 و ۱ءء 5170۷
٣٢۵٥3. |مەج 66+] ہ٥7700801-.َة 0۶ رز ہ[اعج ×ظ 6٥
١ء٥5۷١٥ ٥ ×7 ۲۷٢ط طزطزەطة ب,صمت و ئەعط
برەەط ٥ط اط )زع وط موہ طانطۂةَڈ 3:5 ۱۷۰۰٥ 8
زجرہ 16 طا ت٥٥ 6ى ہ٭ط ٤ط×٭٥اہدجط ٤ط م8٥۲٥ ٤
571378: ط735887 13ط 111 8×٤ ٭طع 810:616
339
۔_ _ سسسںاسسکستتتسپپسپچتچک---- ×٤ض ٹتٹسٹٹ سس
۰.تا مط) ۶ہ ”٭ءطا دہ حد ٥ط 71 510(0 600766۴8 :26810118
”ہق ۱۱14ء جچصلتط< 787٥< ا وط٤ ۳۷٢: ٠٥3۰ص3
٤1. ٦6ط
٤ 5848 عطاصعط |<وعبرزعە ەذنط ٥×٤٦ 46٥ 116
ر٥ 8114085 ہز( ×و سصسصعطظۃ 78۶13 4 همط0
و وط عط دہ ط۷٢۲ صرلەط 4 صد ب۶۵51 ہ-ہء
617 .17106018 ٣ا٥ ہ۲۳ انطوعت ط0 ,صعاطہم
ہ8٣ 76 .6 14035 نج ےد جرہ2خ3٤18×ددہء 97 ذلط 2۹٥18
۶" ٥د1دء ×ط ہ٠ ہمذ ہ٤٥41 ٤ 16م ×8٭ہ 910 165جرزۃ
ح778 300ططھ۸
وخ ھطلاصعط) ۶۰ء صذہ عتط ١5565948 و18ع طانطوة8 ططانەط5
4 و و(غ ہ٥٥1 دزّەط٤ وع ٥ں ج٥ ٥1ا ةەنط اا8
×۷ ×و٭ط۔-۔ہ0۲816 ط٤ )زج وع 3180 3صد ,ہ11 ۶۵ہ ٥٥-٥
×زەطغ 0۶ ح٥۶ 8ص8 ط٤ ۶م ٭×ەط ہہ۸( ٢٣ا ×6٥ 828
دم ور٥داہ 3 ط٦ 16۶۵1٤
7 1ء"
٭ط٤ ٥ ٣ہ عنط دہ ٭ط جرموع ١111 طنطەة طعانەط5
×ط6 ۷18۵0( عط۲ ٠ہ ٥٭ج×عط٤ ٥ء[ج) ٥ 8:3۲68 51660تا
ہجاہ عنط چھصما ×٥ط ۲0۶ رن0 "ا 06 19 16 :1 0805×ط ٤ھ
8 ظ8 مہ٥٥ عط 818٥ ۲۷11 جم ٤×ط ,×ط٤ ۶<٥٥ہ ءط ٣111
جچمتتردعوء صذ صاعط 4 ط8 ۶۲ہ 500 ەەوط ہرانصۂ۶ عنط زط
68ج1631 ۷۰ ط× ا:٥ 859356017 ەط 41٤1٤٥٤ قآط ٥٥ہ
می ات (ط) ٥× 811 38ل رہ تا صد٭جد ٥ط 5]
×نمط٤ ×دہ×م×ہ 8٥ ٢٥آ ٥٥ 11110108 [8, ٣(ہطلصچ ٠٥
,ه٥ نا٥۱ ]25م عط ۶و ×زصرھم ×نعط٤ ١ا 8۲۵18046
٤٤ ٥ ٠٥: .156016351[008 0 75168ص0ا005 ٥ اج ہہ ٢٣ط
0×ط ٤ہ 81٥٥ مطغ ەج صلتط طز ١×۰ صطذ1 ٤٥ہ٥٤٤3
6۶٥008۰ تہ ط٥ط ٥٣ط
8[8] ٤ہ 85٥٤ ٠٥*٣٢]. ا6س ,٥(طاصساط ەنط_'
340
سسسسسسسسسۓَٛٔٛسجم۷مھُمٗم"ٛسسسسٗ٘میٗممسمٔٗٛسَٛسسسمپمىیٹہجگڑػمںثیؤ|چأسپکپسسسإستئثیسسُپپپ“ٔسسسپ-مسسسسسپسپپوٗکدمّسسىح×سی--
ر11۲68 جم ۶۰۹ئ۶ دہ چ>(×عط <ہ۶ ۸۰۶۵×م ہہ 1٥8٥٤:٠٥٥٣
ر108 جم 8ت 22۱168 ھ(×م۶۵ :صومحدہء تہ ا مہا
وہ 0ط :دہ قعط !1 .دہ طخ ة٭+اەز 93د٭٦ 8ت 10٥۷٥1
163۲(6 و) 5اد دز ەط ×٭× ط 3< ٤] ٭]ا×ہ ٥ج18۶ 11۲٥8 ٤٥ ٠
۰-.
دہ ةچدنہەەەہاط ٤ دہ نزەطء 1:8 ٤٥× ٭ەط ط118ھ 3ل(
عط غط) [[د ×۶ ١ صطذ علادصوطمل5( طمانہهط5 3530185(
حصلط ام8۵ 76 رح :٥8۶۵ص8 :کا تا ەط٤ <0 ٥ہ هعط
دہ1[ہ] ۲ہ م(۷٭ہہ: عط؛ ھا ہنا چدہ(1 3-١ طاائءط 80۱
طخ 18۵6م ×ہہ عط 76 تعصد ٤ صد اد ٥ع صطھ ٤ ص۵
۶٢٣۵] ۱۱ 7:8 ہہ پاطاصسط علتطا
ریز سی میکزی نکا مم
مولا ناخ مہا رک ام صاح بک ا نکستان سے ام یل کو روا گی
چار سال قل مول نا مبارک اھ صاحب انکستان می می
من نکی صربرابی کے لے ریف لا ۔ اب وہ عخنتقریب ریا ستمائے
ج۱١ م یہ تٹریف لے جاتے وا لے ہیں ۔ جماں ان کالن بشیت
ای رعاعت۱میلہ و اے۔
ار سال پل جب جناب تچ صاحب اس لک میس تخرف لاے
تو ان ہے شی نظر بر خصوصی مقاصد کہ اس ملک میں جماعت
١ص کو از صرنو مع مکیاجاۓ اور افراد 7ہ َ7
اغلاقی عالت کو اسلائی تک مطابق عزید ترکئی دی جاۓے۔
حفرت غلیفۃ الج الثائٹ “کی ہرایات اور ا اما تک تقیل ش
341
جناب ج صاحب نے عقای جماعتوں کے لے عراکز خر ید سے کے
نصوہے کو فوری طور بر گلی جامہ پہنانا رو عکر دا اود ا
نصوے کا باماعر: آغاز ۹ے ۱۹ء میں عیر الا خی( کي تتریب سیر پ>
اسیک پر جو شش لے کے زرہ فرایا۔
صاحب نے تقمام مردوں خو ا مجن اور بچوں سے ام لگ یک
و٥ اس تک اور اعلی مقر کے حصو لکی غاطرمییران گل می ںکود
پڑمں اور فراخدلی کے ساعھ بڑھ چڑ کر مالی قربانی میس حصہ میں۔
انی اس بات کا بڑی شدرت سے احاسس تھاکہ جب تک ملک کے
طول وعرض میں جھا کی رکز قائم نکر دیے جانھیں اس وقت تک
افرار جواعت عحض منترپھیٹرو ںکی ماعند ہیں۔ ا فراذ میس اصاں
07 08 0
عرکزئی عقامات کا ہو نا ضرد ری ہ ےکہ جہماں ماع تکو جیا ہو نے میں
ہولت عاحل ہو
ای امیس نکی مترض تے اور ورک و شہما ت کا ا ظما رگئ یکیاگیا
7 9 و
صاحب نے نشاند یکی سے چندہ تی بھی ہو کے گا یانکہ نہیں ؟ کن
جناب تشخ صاحب اع قمام اعتزاضات ' ش کوک وشمات سے بالگل
بے نیا ز ہ ھکر با رگاہ ای ٹیس فا تر کے ساتھ دعاشیس مصحروف رہ ےکم
اللہ تقالی اس تیک متصد کے حمول میں جماعح تک وکامیالی سے ”نار
زو دا
عفرت خلیزۃ الع شال نے بھی تج صاح بکو تر ا مع
342
فرمایاکہ جو راس تری ککی کامیالی کے لے دعاگو ہیں او رج صاحب
بے خوف ہوکرا بنا قد م آگے بڑھاتتیں۔
اس رح اس ا گی مکی ابق ا ہوگی اور مت جلد یہ بات نمایاں
طور پر سماتے آگ یکہ نہ ضرف کامیالی بلکنہ ایک درضتاںن کاما ی
را ہکھڑئی ہے۔
اس کار خ رکے لے ممردوں گور قوں اود بچوں تے جو درجوتقی
آگے بو ھک رکش رر قییں بین یکییں۔ جو لوگ عموئی چتدو ںکی ادا گی
ی سکزریر تھ دہ بھی اس مالی قربانی میس شریک ہو گئے۔ اود ہرایک
نے پوس تچب سے محسو ںکیاکہ الیک جیب قد حور یم ہو رپا
سے سگمرور حقیقت ہہ عحض اود تھالی کا خاص فضل وکرم بی تھا اور
اس کے ماصو اہ اور تہ تھا۔
اس وق ت کل تین لاکھ پوانڈ تک کے وعدہ جات با و صولیاں ہو
ھی ہیں اور ربا الیک درجن عراکز قائم ہو گے ہیں ج کہ سارے
کلک میں مخلف شمروں میں بیلےہ ہو ہیں ۔ ان میس تا زہ تین اضافہ
آکسفو رڈ میں ہو ا ہے ماں ابھی عال بی میس مشن ہاو سکیل ایک
مکان خ بی لاگیاے ۔
تر یت یلا سیں جناب جن صاحب تے اطغال اور نا صرات کے لئ الگ الگ
بر بت کلا ہیں شرو کر واکمیں جن کا انعتقاد بڑئی کامیالی کے
مات ہرسا کر کحس اور ایٹرکے ایام میں سکولو ں کی نیا ت کے وورا نع و
راے۔ جناب جن صاحب نے محنو سکیا فھاکہ بیو نکو اسلائی ماحول میس اکٹھا
کرنابے حد ضرد ری ہے ۔ اکٹردالدین ے اس بات کا اظما رکیاکہ ان کلاموں
343
کے ذر ہی بچو ںکی تز بی ت کابمت عمدہاتظام رای ہو چک ہے اور پچ کا دی
کان غا کہ وا نکلاوں کے اقم پر وا لی ںگھرجانے پ ہآمادوی نی ہوتے۔
ات نی تی افکستان میں اپ چار سالہ قجام بر ججصردکرتے ہو جناب
صاحب ن ےکھاکہ ان کا وقت بھت پر الف لیکن بہت
صرعت سےگز را ہے وہ بت زیادہ محروف رہے ۔ انی مشن کےکام سے
شیع نت انی تی رھگ ےت بای ا کرس کان
جاتے تے۔ وم ر تک مممانو کی دکھ بھال اور لف اجلاسوں کے اخنظلامات بش
رر ر23
ہو کے جاحت جب ان سے ہو - کے جاعت کے بارہ میس پا پچھاگیا تو فرمایا
تع حا و بن تناد
ہیں ج نکی قرر و منزلت او رگراں مان ی کافے ری طور پر اندازہہو جات اور
اع ضکم پچ ار ج نکو میق لکرن ےکی ضرد رت ہے کہ ال گا ا اک وت
ماباں طور بر مزی لا ہرہہو کے سگرہیں دہ بھی ہیرے بی صرف ا نکی جنیقی قمت
کاندا زو نیس لایا جا کا۔
افراو ماع تک ا نکی فمیحت ےک وہ سب متمدہ طور بر اور متتعل ھزاتی
سے کام می مکن ہیں اور جب تک خلاقت کے سا ان کا نت مخیوط رہ کا
مت پر۔ کے جماعت کا پیل بمت بی درختاں ے۔
کہ قرآن پک کے خبری اصولوں اور رسول حول غکڈ کے ری کارکی
الد یکی جائے۔ ٠
1 237 اع کے تا کے دوران چترہ جات وصو یں ٹن
ون 2020 ک9 7 22
344
سای فقیرکے لئے ز ریرش صاحب نے تع کید حضرت لیفۃ الا لاٹ
ے اتی طور بر ا نکو برابیت فرمائی ش کہ وہ مسر بثارت ( کین )کی افتقای
تقرجب کے اتظاما تکری ہج وکہ الد تقالی کے فضل سے پر وگرام کے مطالقی بہ
قومی اور متا ی ذرائح ابلاغ سے مضبوط رواربا قائم سے گئے' توئی برلیں'
و دی گارڈین اور ٹاتھ زگ کئی خطوط کے ج کہ شائحع ہو ۱۹۸۰ء میں لنرن
منعق ہونے والی ین الاقوابی کانفرٹس کے دو را جناب تن صاحب نے حقخرت
غلیفت الج الثال کی ملف برلیں کانفرنسوں ک بھی انا مکیاجن میں درجنوں
اشمازی نمائننرے عاضر ہو اور متا وس پانے پر پرلیس میں اشاعت ہوگی۔
دی گارڈین کے نمائتندہ مسٹرجان روی کو جناب چن صاحب نے پل ہی سے کین یں
سی کی افتقائی تقرجب کے بارہ می خماصی معلومات مس یاکردی میں جن صاح بک
مسائی آخ کار ایک بت عدہ مواقن وشت مو نکی اشاعت پر مہ وکھیں۔ می
ممون اسی ون دی گارڈین مس شائع ہواکہ جس دن کین می مس رکی افتتای
تقریب دقوع پزرہوری تی۔
تا مکامیابیوں کے حول کاؤ ریہ _ ما حطر اک کچ عالہ عھر
رحرہ نس ؛ بی صحت بھی
اتی نہ ہو ان تا مکامیابیوں سے بمکنار ہو سکتا ہے ؟ سی تدوکے جناب ٹچ
“ ٤ یی س۷۶
اور جماعت انتا نکی خحلصانہ اور بر جوش معاوت سے تکرح ہو سکا ے۔ وعا
جناب تخ صاحب نے حخرت چوبرری ظغرارنر غاں صاحب کی مو
345
رامائی “تمادن اور ضردری معاونت کات ول سے ش گرم 1داگیا۔ جب گھ یکول
مل مرعلہ بی 1 حخرت جوبرری صاحب ٹوری طور پر اچ مخورہ اور
راہمائی سے نوازتے ر ہے۔ ححضرت چو ہر ری صاحب ام بی تکی خما را خلا اور
نے لوت محب کی ایک درختاں شال تے۔ جح صاحب نے اپنے تام رفقاء کار
عیرہ راران تماعت اور ران عاملہ کے پٍ غلوض اور وفادارانہ تھاون کا نی
شرب اراکیا-
راج کت الس چان خر جات تح ات رات
جج تہ املل روائز ہوۓے والے بن مان وہ
جماعح تک راہمائی ف انیس کے ۔ ںی الوقت پہ معلوم نمی ںکہ وہاں ا نکاقیا مکنا
میا ہوگا لکن وہاں دہ اپنے ابل غازہ کے سا جار ہے ہیں جی معاوت کے بھی
صاحب بیشہ نون و مترف رس ہیں۔ نی الال سارے لک ے ملف
جھاخِ اورا فرادجناب جن صاح بکوالود ا ع کن کے موا جع عاص لکرنے میں
مصروف ہیں ا کہ دو بے معن کا شحگکریہ او اکر میں جننوں نے چار سال تک
اسم کک امارت کے فرائش ادا فرماۓ ۔ ممان خصوصی کے طو رب رکھانے پ
تریف (انے کے لے انی بے شا ردعوت نا سے مل پچ ے ہیں ۔ اسل م کا ملس
او ر منگسرالمزاج خادم ہمار ی انتمائی دعاؤوں کا تن ہے جو ہار ىی ز ندکیوں ش
آ ا ین سو تے سے جانا ہجھارے ات ز ہاگ ہیں 'تتھایا بھی ٹوک اد زی
نسایا لین بیشہ ہم سے پیا رو حبت سے یل آیا۔ ا سکی و جہ سے ہا ری ز نگیوں
یس ایک تی رد کی ید اہو چچی ہے ۔ اور اب دہ تم سے جدا ہو دہاے۔ اللہ
نما ی ے رعا ے کہ جو رت مولانا چّ مہارک ام صاحب تے بماعت
افکستان میس کارہاۓ نمایاں کے طور پر مرانجام دی ہیں ان کے بدلہ میں الد
.346
۔سےسلسٹٹ]شص. -.-- سس کس
تقالی یں ہے خی ر موب انعامات واکرام سے نوا زا چلا جاے۔ اسلام اور
رر ےس کر اذھ ےت
ام سے اللہ تھالی پیش را گا رے۔آین۔
ایک ا دعوت ردا گی
انگتان سے رداگ اجاپ جماعت نے النفرادی اور اتی طور پر اچے
ارم کے اگزاز شش وعو می ںکیں اور ای رٹک پٹ ھۓے۔ محتزم چوبرری مشاہ
از اں صاحب اور ا نکی جم محنزمہ آ پا یرہ میم صاحبہ نے ساری جماعت لندتن
کو گمود پالی ٹل بااکر وت دی اور وہر ری صاحب کن یا ات کو
نت ہو یر رلیں بھی یی ںکیا۔ چوبرری صاحب نے ماکسار کے قیامم سے
07ں کر نت
۹ھ 28 8 7 مم و
یی می میں رج اور لکرجاتے۔ جز اعم اللہ ان الجزا۶- اس ریب کے
تعلق میں ازرن نکی رڑی تیم یت نے جو موم کلام ھا ال قرب
میں حضرت جو برری مھ ظفرالہ خاں صاحب بھی رون افروزتے۔ گنزمہ ناصرہ
ریم صاحہ کے ے عزیام الوب ام ندم نے تغخم سے من اکر معز ممانو ںکو
می لکیا. رہ ضف مگزشن صفحات میں در خکرچکاہوں-
بررمجررگ +ر[/ |/ //۱۷۷,وم,ل_
٠رہ یمم( ہا :سم جر اہ ا۷۰ا< و /ءجہہ ۴۳ ماااہ٭ ؛ە۱:۱۸۷م۷:اگ5 :۷
۰۲۲۰:گ1۲۷(۷۰۱۶ :ہء٘ء جا ۷٥۲۱(: 4:1101 ۷ا٠۰ |]:٢۰ ۷۸۲۷( :۷[:ء:اگ ۷۱۸۷م(
۰٣۶۳:ا1 ؛:۷۸ 910ء۷۲1( ۱۰ا1 ٥٦ )٥( ءا:٥۷٥۷ج٤۰ ١۴۶٥ ظ۱/94 ءہا/ 10 ١
٥٥ ٦ ۸٤۳٣5 جچ:زرامجہء 3أ :4|11 ۸۸۷۷۷۸۶۷۸۸۲۷( ٢11(۷۰[گ 0
۔۱۷۱۱۷۷۸۷۷۱۵ا۶ .:() زا ۶۶۱۱1٥۸ مر
٠
347
رردا ی
بسماللالرحمنالرحیم نحمد٭ونصلى علی رسولەالکریم
۸۰۶۰۔١۔٣۳
رم و حتزم جناب شخ صاحب محلم ال تھالی
الام یکم ورمتہ اللہ ویرکا<
امید سے آپ ریت ہوگے۔ الد وی مت ےکی رت
اضیار احریہ اور جاسہ سالانہ پر تشریف لانے دالے ووستوں سے آ پکی مساگی
یہ کا علم ہو ربا سے اور اس با تکی بے عد وی ہوگی ےکم آ پک قیارت
أ یی لندن مشن ے بمت تر یکی ہے۔ فامداولد۔ اور ج ھکد ریاں اکسا رکی نااگی
ا یی ع یی دج ے مین می داع ہوک ھی وہ را قال ے غقل ے آپ
نے ہمایت تھے رنگ میس بے در یکردی ہیں۔ اس عابقز کے لے دعا فریاومی کہ ال
۱ تقالی احصن رک میں خد مت دی نکی تق عطا فرمادے اور با مگ ابا عر وٹ
ان ےکی یی دے۔ آمن
والللاع
اکسا ر غادم
یراع رنقی
348
وط6 صعط (عة235.(718
83 ,21811107
مم اللہ ال ر معن اکر جم
ع :روہ ٤٤ 18ص0850 طزمہ عنطخغ معاج٤ ٤٥ ەکازذا ۲۲٢۰۸0193
8 صط ۸ھ ۶ ل×8طا 50( ططززەط8 ٥٤×عوآ ع×ەطد ۲٥٢٢ ۰۱۸٠٢٢٣۰٢
60 1581166 جد ٢.٢ ب٥8۲۵ ۸118 زط ,وط۷ طالنطة5
٥ 0 7 ۲ صعط۳ ۵۲ اف3 صطھ 0 6 ٣٢٢٠٢٢٢)
ہزور جزہ ٤68015688 ۶ع صا ٥ط ٢١۱18 اذ 858 ,1٥ا١ 76908
۔۵×< با ×دم٥1 قلط برہ ٢۱×۶۵ ۶۱۷ د آردہ 50٤ 010 ] 1۶ اقم
182×۱۲٤ ئ٤ دد801+76 ۵0× ٦6ھ رد ٦٤ آآدہ جع 700
۔طانطح8 طعانەهط5
دوعط عط طءئط٣۳ دہ٥ 86۲0 انطح8 ططانەط8 +.7118253
٤و ۓرخنصتا ٠ہ ٥٥ہ([٥ہ مطخ ×ہ ٣٣۶١٢ ذ٥1 ہہ٥۶8ہ ٥0ل
,صد×ہ[8] ٠ہ 18۴لت [وئ رہ مط ,جچوه ٤٤ ةذ اط٤ بط118ھ
1 0 0 8ج ٥٤۶۱×ءط دہ مہ٥۶ ٣11 5٥
×ط باعطنا وز 1 صاعلا صححہ جع صتا ٣١٥۵ ۶ ٥م م×تام 27'76
جط ٭حہ*٭ط 8ت8 ہوخعجن<ء ط٤ ە زصعجہ٥< د٥ط
۹118 برع 10 16 ٥۵: اط تصاد وط ۶و 7835168635101
رج 6006 <ّز 857۵٠٥ هںطغ غععط٤غ ٥٥ ۹ ن”×عچ١٢٥ 81
٤ع د ہہ انطة5 طعانەوط8 82×۵۲ ةصد ءازرە٭”ّ ٭<×٥طلة
ور 8( ا ز<ہ 5(5 2ہ 16[عتاو عاّط 68٥7,۵8 8 16346
رانصة عنط ئا ۵<وم ورزہ ٥0۵جد ة( ٥آ بصنط ×ز ٥ص8 صا ظا
۷0089( ۵۵م( ہ٠ )اص۱ صصدہ ط٤ ٤٥٤ ,ط٤1 ةقلط ٥٥
٭وط( ×× ۶3117 ٭ ۸۵00( طدذہ٥٥١]( ٤ 3ص8 (٣8ھ)
18+۴ ط×1 ٥ا 8وصع مجع ×نصطغا ۶ہ ۲٥8٥۲۸1٥٥۵
وو جزہ ۲٣٥٢ × ةذ طانطہظ5 ططانہه ط3 ٢د×تد7 :صهنا سا نا 5ل
6ج +٥۶٥ 24 32۶٥٥:6۱ 2ھ ۷۵۲ بەعط دعط 76 :181651
349
ےس۱۰ ٠ ٠اا اک:.-ک-ک۔-۱کِ-ثٹْ ھک --:- د۱ '-۔ُ 0ت آ١آ٢آڑ٢چ002.۵-92028 ئن / 20 -.
8 8 48ھ ٢ ط٥× ٣٥ د٥٥۰ 1 ہ٥۶1 قنط ہا
0 820 کت ص د1 از 4ص اہ صعط؛ صلعط ٤٥ ٥ەعط ەنئط
۴ 16859.51051 13ل ٥۶ط صدء٭ط ماد عط غعط معصٗمۃ
1808۰ :
8ا٥ہ تپ 9 ۶۲ا۶ 0 1 نت
تن ٤ھ 18 عط بعد غاغعطا قصد نان ہەعدنزہ ءعنط غسەمطة
7٤ ۸۶ء ۲۰۵۵ع عنط ,عنط ۶ہ 10ء عدٗہء ۱۲ 33۶۵
۔صضلط ط1× لدصظعص مز ھ( 7.5 .نا( ہء صنہ ۶ہ عطلاط1ی٤1
: : .6 810 ٤18ال 1(8
.حصنط ط] .تہ× دچد ×1 عط ط113خذخ تل(
30
جو و سے یھ مخت ہہ ہے
ای رلیں لن اما الد ا فککتان
اعوذباللەمن الشیطن ال رجیم
بسماللەالرحمن الرحیم
معزز خوا ٹین وحظرات
السلام میم ور حمتہ انشد د پ رکا
ج کہ ہہب س بکو علم سے ک کی اس میلس کے انعقا کا مقصد ینہ اماء اللد
برطامی کا ائیا او یا جستیو ںکو الوداع اور ایگ میاہد اح بی تکو خوش
ا 7 ری مرا موی دککری حضرت چو بر ری مج ظفرالل خان صاحب'
رن ناب جج مارک اھ صاحب او رگم عطاء ا جیب صاحب راشد
کا 5 ۰ ۰
مگ حقرت چوری صاحب آج بوجہ مجیوری اس ملس میں نفس ٹس تخریف
نیں ا کے ۔گ رآ پکی ذات کسی تحار فکی تاج 8میں۔ آ پکوو بے فو دینادئا
سے رولت کے عظیم بین ام عائہلی ہوئے لکن نب سے یم ا
اعلیٰ عرتبہ جو آ پکو لاو آپکاصوالی حخرت سج مو عوو علیہ السلام ہو نا ہے۔
بماعت امری برطائ کی خوش چتی شھ یکہ ہم میس وہ مٹیم وجود موجود تھا جس
نے امور زمانہ مجاے زہاں علیہ اعلام کے مقرس پاتھو ںکو پچھوا تھا...... پان
وہی نت تے جن کے پارے می معحبوب ما صلی او علیہ وسلم نے مسلمانو نکو
کر فرائی شی کہ ”فبایعوہ" کہ اس درس کی مو عو دکی بیعت ضرور
کر مرا ہم نے اس وجودکی یعت اور ان مقرس پاتھوں کے سکی پک
31
صخرت چو ری صاحب کے وجودمیں جلوہگر ہوتے ونکھی ہے اور ہیں بی ٹھرے
کہ اس برککت سے عالنگ اعت اجربے موا اور جماعت اجرے برطانے تحوصاً
تع اور مستفیض ہوئی ہے۔
آ پکی یرت کا روشن اور قائل تقلیر پماو خاافت ے بعر دل و جان وا گی
ہے اوروار شی ہے اور خلیفہ وقت کے ساتہ رق وصفا کے سا اطاعت ووفاکا
جذبہ ہے۔ اللہ تھالیٰ نے آ پکوعالھی عدالت کا رحبہ بھی عطا فرمایا اور ھی طور بر
اتی دستزس نٹ کہ آج متعددکابو نکی صورت میں علم وکرفان کاذ خر موجودے :
خرت چوبرری صاح ب کی گھیینں۔ شفقتیں اور دعائیں پرلے اعت اھے '
برطاض کے شال رہیں جس کے لے ہم تمہ ول سے ممنون ومکو ر ہیں اور جماری
گروئیں آپ کے ان احسانوں سے گی ہوئی ہیں-
حخرت چو پر ری صاحب سے ماراب روعالی رش ے اور آ پک دعاو نکی
تار ےکہ آرج جب رخص تک یمگھڑیاں قرجب ری ہیں ت جمارے دل مین اور
ادس ہیں گر ہم شی نکرتی مہ کہ آ پکی دعانی بیشہ جمارے ساتھ رہ ںگی اور
جعارانحانہ دل بھی آپ کے لے دعاؤں اور کیک تھمناوں ے مور رے گا انٹاء
ال تال ی ١
اے خمدااس مٹیم اور با بت دوجو دکی عمراور صحت میس خی رمممولی برکت عطا
فرمااور ترک ر نول اور کنل کاسمابیہ پیشہ ان کے بر رہے- آمٹن
ہاری دوسری مشفق و مریان اور مزرگک تی جو ہم سے جدا ہو ری سے وہ
ھرم ومنزم جناب جن مبارک ام صاحب ہیں جو آج سے ٣ سال فل امام مجر
نون اور مشنری انچارج برطاض کی حثیت سے تٹریف لاۓ اور شی کا یمان
ریف لانا آپ کے نا مکی طرح بست بی برکات کا عائل خابت +وا۔ آپ کے یماں
:
352
قام کے ران ما چتزہ جات میس موی اضافہ ووادانقا(۳) ے
شز تا بی علل میں آبا۔ جس کے لے جماعت احد یی بطان یآ پک ایت ا
7ل من تر ےک
ہو ےمم لیک جماع تکو رق کے ایک بن تقام پر ایور ا تما مر
ک0 کے ےی
چو ںکی تزبی تکو نماض ایت رتے ہوۓے آپ نے ناصرترشتی کلاس اور نحمرت
ںی کا س کالہ شرد کا ج کے یہ فو مال دی کا اع لیم اص نک
ےک لیکو جداع ت کچھ اب ےکندوں بر اٹھاکھیں-
سپ نے انی تقارر اور خطبات می یٹ بتاع تکا زیت اور غلیفہ وق گی
اطاٹ کے پہل وکو ب رظ ررکھا اور بجنات وناصرات سے کے جانے وا لے خطایات
پیشہ اس بات >ٍ زور دا کہ پچیاں اور جنیں اپے اغلاق' اغعال"ائمال اور
اطوار ہے اسلا مکاکائل نمونہ نظ رآہیں۔
کی نوز شنقتوں کے زار ار شال کے سور
انوہ ںکہ دہ آ پکواو رآ پکی خیم صاحبہ اد یٹ فی صاحہ کو جز ا جرعطا
فا ے۔ میں آ پک شخقتیں اور عبات پیش یاد رم ںگیا- نا رن امیا
آ پکی خدبات چا ہی ہے۔ ہماری دی دعاہےکہ الہ تالآ پکوداں ریت ے
٤ ۶9 ۸ لج
واسلا مک آپ کے اتھوں مزی ترتی نضصیب ہو۔ آشن
۶ؤ ۶ھ
>4 اق دوائوں می باد ریں۔ اللہ تھی نک اس ماحول کے برے اشرات ے
حفوطا ر کے اور و اسلام واحربیت کے درخژاں ستارے بت اک رچچھییں۔ آئین
353
ہمارے آ جع کے تسرے مان خصوص یکر عطاء انیب صاحب راد ہإں-
ای رحاعت رامک حقیت سے تریف لاے ہیں آ پکواس سے تی
لین مشن میں کا مکرن ےکی فوبی مل ہی ہے اور ہر فرد جماعت انان آ پکی
زات وفطات سے بی اف جے او رجاپان میں ات سنا کر
رق کی سی لن ا کم رت ا
گے ا پکو خوش آ دی ھتی ہیں اور ین ولا ہی کن آپ کے ساتھ رم
ادن می کوک دی خی کی اداد الام ادص کے
کی تق کے لے دھاؤں او ری موہ کے اتآ پکی مد دمعاونطابت پ دگی۔
انَاءاش تا یٰ
بم خداے باربی تالی کے حضور وعاکرکی ہی ںککہ داش صاحب جہارے لے
ای پامسی ہوک ز ورای تکاس وجب ہو ار جھاعت ام یہ رطام کی مق
اور اصطا ںکاساما نکرتے وانے ہوں۔ آئن
واللاع
ھمہیں رات نہ اما الد
لترن۔و۔ہو۔ کے
(بروز مہ ۸ او ب ر۱۹۸۳ء)
ایم رلیں بف اماء اللہ علقہ ساوج یل زلترن
بسمالل٭الرحمن الرحیم نحمد٥ونصلى علی رسولەالکریم
: وعلی عبد٥المسیحالموعود
حزم درم شی مبارک اح صاحب امام مشنری انچارج یو۔ کے آپ نے
34
سس ىک ھگٹ ٛ لاٹ 3ھ
ہماری اس چھوئی سی تیب میں شمولیت اتا رکر کے جو ہماری عزت ا فزائ یکی ہم
زی کے بت ممتون کا نزک اصع اج2
حژم کرم شج مبارک اھ صاحب دہ تی ہیں جنییں خاص طور پوس کے
اور لؤرن بماخت کے وہ افرازھ رق افریقہ سے یہاں آۓ وہ ہت سالان سے
جات ہیں۔ اسلام اور احربی تکی فرصت اور من کا جذبہ آپ یں تروع سے
کا کو کرپھرانے او ابی جذ نی کے حت آپ نے کک ملک شع رش جاک راپ
برا ظارر سے لوگو ںکو متائ رکیا۔ ساری زجرگی انتائی نت ٴ لگن *خلوص اور
ما بزنے کے حوت مسلسل اور ان تنک عن تکی۔ آپ نے ہو ۔ کے کے مین
یس قر“ا یچ سال کا وت یگزارا جو جماعت احربہ انتا نکی تر می منرت
مروف میں ھا جا گا۔ آپ کے دورمیش بت سے نمایاںکام ہہونے بین میس کے
مشن پوس زکا جراء سب سے زیادہنمایاں ے۔ يہ مشن مزح کے میران مل
نے دانے وقت مین مک می ل کی جیث یت کین سان نی نایا کی یذ
اناج آپ کے دور میں ہوا اور آ پکو ہہ سعادت لیب ہوگ یکہ اس مجر کے
اتطابات میس بون جڑ ھکر حصہلیں۔ تی نکی مسر جضاعت اححری ہی تارج یٹ ایک
بہت برے کاربانےک حقیت رک ہے وہ زشزن × آح ے سات “سال سے
زا کی زا زکو سس زی تھی الل 1ک کی آواز سےگوج ا شھی۔ جماعت ارب
انتا نکی جداعت اور اص طور ہر ملف نکوبے سعارت تعیب ہوئ یکہ دہ تین 5
مسی کے افتاح کے اتنظھامات می بڑھ چڑ کر حص فی -
خنلف اونقات می تر کلامزہوتی رہیں جو بیشہ خمایت کامیالی سے اخ مک
ییں۔ لف اوتقات میں میلے' اجلاس اور اہنع یرہ ہوتے رسہے جس مل
آ پکی پر اش تقارر سے ہماعت کے لوگ فی ہوتے رہے۔ اللہ تعالیٰ آ پکو
355
اس سے زیادہ اور زیادہ کا مکرن ےکی قوش دے اود جس رع یہاں کے لوگ
رآپ کے سب کاموں سے ستفیض ہوۓ ای طرح آئیدہ آنے والی ت یں تھی
ول ریں۔
مو کی مناسبت کے لیاظ سے ججن ملین نے آپ کے سام لک رکا مکیا۔ نچ
ادی علی صاحب “سم اھ باتوہ صاحب“ ید اھ سای صاحب اور مبارک اھ
صاحب ساق اص طور بر قابل ذکرہیں۔ مبارک اص صاحب ساتی عرعہ دک سال
سے لزدن میں خد مت انام دے رس ہیں۔ اضموں نے نماض ور بر اجلاسون کے
انا ات نے مل ںار مت خی ا نت کے اتلاباتٴ
خطبات جمعہ اص طور بر انگریزہی یں“ اخبار الا حر یہ اور ام یہ کی اشاعت '
لہ سالانہ اور دو سرے اطلاسوں کے امنمظامات میں خماص عحبت کے ساتھ بشہ
وش وٹی سے حصہ لیا۔
آ خر می ہماری ولی دعا ےکہ اللہ تقالیٰ آ پکو صحت و عمزت دالی لی زندگی
خطاکرنے۔ جس طرح سے مان کے لوگ آپ سے سض ہوۓ ایک کے
لوک بھی ہوں۔ فد اکر ےکہ آپ صحمت و سلاشٴتی کے ساتھھ اسلام اور اص بی تکی
مزید حدم ت کرت سے جائگھیں۔ آئمن
م ہیں محبرات بللہ اماء الد علقہ سا فیلڑ زلندن
(۱۸ی تل ۱۹۸۳ء)
ای ریس نہ ماء اللہ اوھ فیل ز لن نکی طرف سے محتزم می را جیات
ً کے گھریڑھایا اور یہ ای نیس خود حنزم بی راج خاں صاحب نے پڑھ
ا
36
را ۔سےسسستٹسس یٹ سح سس
ایی ریس نہ اما الد علقہ مس دلنرن
ا ےج کی سیل
بسماللەالرحمن الرحیم نحمد٥رنصلى علی رسولەالکریم
ز کے فضان :زم کے جا
عوالئاصھم
بارے قابل صد ارام امام دامیرجماعتاۓ احری انتان
جناب مارک اھ صاحب وم صاحہ جناب تن مبارک ام صاحب
امام یمور حت الد و برکات
ھم رات نہ اماءاللر علقہ مس لنرن جناپ مولاا مہا رک اجرصاحب اور
آ پکی مم صاحہ کے بے عدممنوان ہو سک ہآپ نے باوج د اتی بے عد مع ردفیات
کے ہعاری اس ورخواس تکو مظور فرایا۔ آپ جماں بیشہ دی غدات کی عرانجام
دی می ججاری مرو راہتمائی فرباتے رہے ہیں ای رداگی سے عم بھی یں بھ
20 قباوی اور جار لے وعافباو ںکہ اللہ تا میں مقبدل خدمت دی کا
زفق عطا فہارے۔مارافدم تل کی خز لکی طرف بڑہتار سے او بھی ان تضل
ی90 >>
وہ قلہ بے کر ےکی اولہتوالی نے حضرت سی موود علیہ لص ة والسلا مک
مبدوٹ فراا ھا جو ظا رائھی کائی دور سے مم رہم محبرات لن اما ء اللہ جو اس پگ
مت کے حول کے کے مردوں کے دوش بد وش یل ےکی کو کی ہیں ال
تال یں اس فامستقواالخرا تکی دوڑ می سوقت حا“ لکرل ےک وی
عطافراے۔ آئن
357
جب سے انگکستان میں احریہ مشن قائم ہدا۔ چجئے بھی مغ آے ان یس سے ہر
ایک اپ اپنے دور میس اپنے اپنے عالات کے مطالق بین ور یر اپنا ریہ اداکر
کےگیا۔ گر ان یس سے ہیں صرف دو کے دو رکااپی آگھوں سے ویھٹے کا مو
عیب ہوا۔ ای ککرم بنی راج خان صاحب رٹ یکااو رد سا آ پکا۔
تمرم نی راھر ان صاحب رق جب تخرف لاۓ نذا لککستان میس صرف ایک
بی مشن تھا۔ لندن مشین۔ آپ کے دور میں جمبوں تہ جماعح تکی شاتجیں گیل
گھگیں۔ جب آپ تخریف لاۓے نو صرف ایک مشن پوس تھا نین میں آپ نے
ار سال کے قیبل عرصہ میں وہ کا مکیا جو تیبوں سسالوں کا تھایشنی جماعتو نکیل
مین پوس زک خرید نا یکوئی مممولیکام زہ تھا گ و آ پکی عمرچبرانہ تیگ رہمت جوا
از جادد اث زبان۔ تی الفاظ آپ کے منہ سے گے ان سے بد یکر بوڈ لین
ین بوں سے لی نے آذ رین نے ا مال یی نین وکس ا
مارک صر مارک۔
ہیں اتتائی خوشی ےکہ آپ جس فرلیض کی ادائگی کے لے تشرییف لاۓ جے
اہ لکو باصن س انام و ےک رکامیاب وکاھان تشرییف لے جار ہے ہیں۔ الد تھا
آپ کا جانا اور امریکہ بنا آپ کے لے مبارک فریاونے اور وہاں کے قام ش
اف ےکی کہ دض تک ون عطا فیاد نت این
ا خر ہم درخواس تکرتی ہی ںکہ ” آکھ او سیل بپباڑ اتیل ہے دای بات نہ
ہو۔ _ییں ابی درومندانہ دعاوؤں میس تصوصآا جم شبی دعاؤں مں ضردر یاد
رھییں۔ جز اکم اللہ ان الجزاف واللام
بهم ہیں محرات الہ اماء اد
علقہ سر لنر ن
38
757 یھ ہج" ےےےے
ایک عبت بعراخط
بسماللەالرحمن الرحیم
رم محترم بز رگوارم جناب جن مبارک اج صاحب امام سر لندان :
ژُ الام علیکم ور حم الد و پرکانت
٠ ج271 ہ رطرب ریت سے ہوں۔
اکسا رکو یہ علم ہو کہ آ پک تب بی ہوگئی ہے اد رآپ جلد ہی ام ریمہ جانے
وانے ہیں۔ لیا امیر ےک مل قات ہو جا ےگ لیکن چو کن یں تر جک برا
یح ون دز اعفانات رے چک ہوں اور پر وجیٹکر رہاہوں اس لے
شا لاتمات نہ ہواس ڈر سے ہہ عریضہ فرش درخواست دعااور اپ جذ بات کے
اظیار کے طور رگ رہ ہولیں- 2-
آس کے نے سے بے کیک جماعت الکستان مم سکیک جانیت بیدا گنی گی نہ
صرف احباب بشاعت می پپگہ بماع تکی بلگگز کہ اصل جھاعی میادی ہیں-
٦س کے جدوجدد جس می تو (۹) مشنو ںکی خریرو فروخشت سے لےکمرا نگ بر
نے جیا زی ےکی ےت یك ین
کیل ایک نمویہ ب نکر رہ ےگی۔ وو
لا از آپ نے جماعت کے ہرفرد کے ساتھہ ایک ذاتی راہ قائ مک دکھا
اجس سے عائز بھی کانی صتفیض ہوا سے اور آپ نے انی عمرکے فا اور
زتی بس ول تکو اعت کے لے قریا نکر رکھا تھا ای وجہ سے احاب نات
آ پکو اپ ولوں میں عز تکی مہ دپے تھے اور اب دورکی ہوتے پہمزید دی
39
کے۔ مماورد ےک
۸۲08ء مع ×ط عط٣ دعطامصر ےطہ8طصھ
مچھڑرنے پر فذ کی ہے جو ابھی میں محسوس ہوئی ہے۔ مد اکر ےمہ نے ملغ آپ
گی ہ رگ یکو بو راکرنے دالے ہوں۔ من
بھرعال ماکسار ایک طر فآ پک کی ادرددری جو سںکرے گااوردد سرک
رف بک ادر دددی آپ کے کادنامو ںکو جب جال تی سے تی جزیات
شی میں بدرل جات ہی ںکہ آپ کے ساھھ اس ناچت کو بھی داشتگی شی اور اور
فد اکر ےکہ یہ اپیے بی رہے۔ آپ بے شک بی ام ریہ اکر بھول جائیں مان
جھم آ پکو نہیں بھولیں گے۔ برعال خاکسا رکی دعا ےکہ خدا آ پ کا د ہا گا ہر
طرح حافظ و ناصرہو اور معاون ہو اور ا نکستا نکی بماعح تکو آ پکی ائمکی ہوئی
نیادوں پر اع عمارت بنانے کی ف ںیقی درے۔ آئین مم آئین۔ اس اس دعا اور
بات کا اظمار ب یکرنا تھاکی کہ اصل جز بات لم میں ہو عتی دہ تو ول میں بی
ہژں۔ نمداتعالیٰ آ پ کاو ر آپ کے ابل و عیا ل کا محافظ و معاون ہو۔ دالرین (ایاگی
۱ اور ائی جان) کی طرف سے خالہ جان آ پک اللی ہکو بھی سلام۔ دہ بھی مہرے
۱
سا بی جن جات کا اظما رک رہ ہیں۔ اخااب اجازت دیں-
واللاعم
آ پ کا تح دعا
او دالایی اق
30
7777س مجسخجچجچچچچچچچچ
ا رلیں جماعت امب بر زفلانلتان
ہے ےچ ےک مع تار ہد
(برمو الوداگی لرب)
بےماللۂالرحمالرحیم
ہر مم رت مولانا شی مارک اح صاحب ایرد مشٹکی انار جو کے
کے نون ہی کہ آپ نے ہواری دو تکو تو لکر کے اپ یں مر دیو
کے وج سفرکی ملیف اٹاک عحض ول رو عبت کی خاطربئیں ے کے لے
ترر فا ہیں جو ہمارے لے اث خوشی وافقار ے۔ جم اوت
: جب ک حت غلیف: الج الراع :الہ تا بھروالزیک ارشارے
لاق آ پکی دو مرے کلک میں الا ے کرت لیے جا ےک یجکڈیی قریب اک
دای سے قب کے عرصہ سا از سال ایام صن نار اعت معلدم)
0 ۶7۶ ۶" ۶ )۸
نے بھاز کی تل تی کیج اقرام م کاو ابد قامکرکے سے
یس بر شتوراور درمداھدی کے ول سے آپ کے ىے دعائیں لق ہیں۔
ُ ج0 کے ففقل سے لع کی زی تعظلموں انصار اللہ ' خدام الا تمءي"
اطقال لاجر 'ناصرا ٹک ققال بانے میں ہر رگ میں بدد اور داہمائی فراتی۔
اع تکو بیراراو زاضاس ذمہ داری ولا ےکی شا رپ نے جرذ رہ بروئےکار
لاگرون رات اش اور بے لوت دم تکی۔ اعت ک ےکرد راوردست اقرا دک
صن طور یق ولا کہ عزت ن, سکونشمیں نہ گے وخیر نماع تکامی
جو بنا دہا۔ جماعت میں :ال ای کے لے دو روح چوک یکہ ہرفردنے جرم دنا
361
اور تریک پر ہشاشت قچی سے حصہ لیا۔
زم بزرکوار شی صاحب آپ کے رفاقت مارے لے ایک شقی اور مرن
کت یت ات ہمازے دکھ اور مکی کو خود انا دکھ اور درد جھااور
ما ریہ کے او او ات رای تارف لے ارتا تن
اترک جھائیوں کے عمزی: و ا قار بکی وفات کے صیدما تکو ولی طور بر مسوم ںکر کے
پماندگان سے لحزی کر کے ا نکی ڈعارں تر حائ اور +وعاد طرلقہ برک
تلقن ڈماکی جو مشکزات کے وقت مشعل راہ غابت ہوگی۔
مخزم ش صاحب ىہ جو چند امور بیان کے گے ہیں الس میں ری نمی بک نہ
صرف پڈرز فیلڑ بشاعت کے افرادنے ہہ امور مظاہرہ اور حھوس کے ہیں لہ
بر ۔ کے جھاعتوں کا ہر فرد اس کاگوا, ے۔ اب آپ جلا جاے دالے ں اور
ہارے ول مغموم ہیں لین حوصلہ اس بات سے ہ کہ چم ای جماعت میں شال
ہون ےکی وجہ سے خلاف تکی لڑی میں غسکک ہیں آپ جماں بھی خد مت اسلام)
میس صصروف ہو کے ہیں ابی نیم شیانہ دعائؤں میس سب سا اد میں ہے۔
آپ نے جو جوت ہار ووں می خلافت سے داگ ناسل کے لئے
قریانی اور آ یں ٹیس پیارو محبت اور الفت سے رہ ےکی جگائی ہے آپ کے بعد میں
نے وا انشاء الہ اس نا کو مسو سکرےگااو رآ پک وعمل بین ذزلاتے میں
م اس کے معاون و یر دگار ہو گے۔ انشاء اللد۔ اللہ تال آپ کے ساتھ ہو اور
صححت و تن رستی وا لی گی عمرادر خدعت دی نکی فذڑقی خطاکرے۔ آن
میں افرارماعت ہژرز پیل
(۵ نو مب مر۱۹۸۳ء)
ایر رلیں ماب اص یہ مشن پر زفلڈ
لت ویک
بسماللهالرحمنالرحیم
رج کے الوداعی تقریب کے معزز ما نککرم و محنزم مولانا مارک ات
صاحب امیرد مشنری اخجارج و ۔ کے ای خوش تعیب سلسلہ عالی اح" ہیں
ج یکو یر توای کے فطل سے تین خافاۓے احوی تکی قرہت میں ا نکی باىات اور
۳ "می مت تین خدمت وی نکی نو گی اد مل
ر ے۔ اللھم زدفزد ۱
٦ .تم کے ووران اس مل ک کی ز ہ رآلود سوسائ اور
خ اک مار میں اع تکی ریت و مکی راکزومسا یق مک رکے بل ریب
یں عظیم ما مکیا ے۔ مم شی صاح بکی فراست نے ایک لیے عرصہ سے ب
و کیاہدا ےکہ اید او رم ماکز قوموں کے بنا می کس قد را مکردارادا
کرت ہیں۔ شر افریقہ می ناساعد عالات مس درجنوں مساجد و مشن با سز
تقر سىی زندہ شی جاک تو ے۔ :
تواٹی نے آ پکو ای ماکز و مدکی تی کے ساتقہ تل ھوس بھی
کا مکی بھی نمایاں طور پر غدمات سراخیام دی ےکی نوفقی عطاکی ہے۔ و کے میس
شائۂ ردب و فا کی صورت میں آپ کے ساتتے ہے۔ رامعم افریقہ
میس ۸۸ ع مالک سے زائد بولی جانے والی س انیٹ زان می ورجتو ںکتب کے علاوہ
363
قرآن ید کا جم ا کرنے کا روشن کام بج سے تھیں سال فیل آپ نے
سرانجام دیا جو دہال کے لوگو ںکیلے سای مائدہ ہے جس سے اون 'غیرون اور خر
مساموں ے اسلا مکی سج نعل مکو جچھن اذر اسلام کے بارہ میس غلط یو ںکودور
کرنے میں مفید ایا ہے ۔کیغیاکی آزادی کے بعد لے صمدر اور تک شمرت افرٹی
لیڈ مرجم وکنیاٹا روم محتزم ولا نچ مبارک ار صاحب سے دوستانہ امم
رن تے ا نکو آپ نے قرآن مجید س اج لی تفہ بھی دیا تھا۔ اون نےکوست کے
علات میس متحدد بار اپنی نظاریہ می تحریہ میا نکیاکہ میں ن ےکم ازم تین با قرآن
اک کایتور مطال ہکیاے ۔ اے مسلمائوجچھے نواس مس جاد و پونے ٹوگے او رگند یی
رسموں کا ؤک ر خیں ملق مکیوں قرنی تحلیعم کے غلاف احقانہ فو مم پرستی میس علوت ہو
کر گی ترقی کے ساجھ قم نیس ملاتے۔
جناب عبدالل الصاغ الفاری ھرجوم ج وکیغیا کا مسلمانوں کے مسائل کے لے
یف تامضی بھی را مکرم جن صاح بکی اس کے سا اضلانی مسائنل پہ حر ی
و زبا یکنفگو بھی ہوٹی ری ہے۔ جس کے تنیجہ میس اح یہ لڑنچرسے تار ہوکراس
نے وفات ض کا ف کی بھی شا ئ خکیااد رخمام ان مرا سلائی دسومات کے خلا ف تاب
بھی کا جو اریہ ع مکلام میں جماع تکی طرف سے شائ کرد ہکتب مین مق ہیں۔
محتزم مولانا صاحب اپنی تار می اکٹر یچ ںکی تعلی مکی طرف قوج ولاتے رچے
ہیں۔ اس کے بارہ ٹن بجھے مشرتی 'فریق کا ایک واقعہ یا دآگیاہے دہ بھی من مجے۔
فیا س ےکا لے ڈسٹرکٹ میں ایک مو را کا“ (ہ )٦7 87٥ شی اج ری ے۔ ان
کے پچ ا لی رکارکی عمدردں پر فائۂ ہیں۔ میں نے ایک دن ان کے باپ ے سوال
یاکہ مارے علاقہ میس رف تتممادری ایک ٹھلی کے بے اعلی نایم باقن ہیں ا سک
گیا وجہ ہے؟ و علی وراکا صاحب یھ خاطب ہوک رکنے لگاکہ مشنری صاحب بے
34
صرف احری تک بدوات ہے۔ جم نے احدیت قیو لکی مشرکانہ رسوم سے محجات
١ عحڑم ارک اعد صاحب دمارے ہاں تخرف لاتے و اسلام می تی کا
ص90 ھ8 و ںکو نسائج فریاتے جس کے تج میں
نے بی یں کہ یراز جھاعت اد خی رمسادوں نے بھی فرق نی نا
ۓ ب و عرفف اور عرفِ اجری تا رت اذ زاصالن تد :
حم مان صا بکو جس طرح آپ نے انکستان میں قام کے حر مر
ازجاعت اور خی رمسلصوں کے ساتھ تی کا کیلع تار او رجہ وقت مستدایا
سے اوران کے بضاعت کے پرہ میں غل دعوون کے جواب می رہ ریس جا
گر تو سا تر ان لی ان پا کی
ار کے اق کامیاب مرا نے اور مناطرے کے چرچ اچوں آد یو یا
ہیں عیسامتیت سے مشیر منر کل یگنہم آف ام یل ہک اسلام اور عیائی تکا
سےا و ای رف ے وت نات فو ا
زبنوں می ای کک ما زہ سے جب پیکرا نے اپ ددرہکو کر کے راہ آراز
یر ایی دا کات یا مت ور
ت0 تو ا ٹکیا
ک ر یفن یا داع ے شا رم ےک متین
یہ رھ کسی پا یکزدری مار یا آحضرت مل ال علیہ ما
76 و وش کی طرف لج دلائی-
22 موازیا ضاح تی ذاا ات ماخ کا مکرنے والو ںیل بھی ایک دہ
شا ےک ببس طرح شفقت !و رحب ت کاسلوک ان س کرت خی - جیا
ےآ بکیگزشن پیاس سالہ ز گی جو ہپ نے اور مشٹری امچار جگزاری سج
365
نظ رڈالی نے جے یہ محسو کر کے بے عد خوی ہو یکمہ اس سے عرصہ میس ایک بھی
وائٹ زنلدگی ما ملغ اییا نیس جو محتزم جج صاح بکی رپ رٹ پا سلوک سے شاکی ہو
کرساسلہ کے کام سے فارغ ہوا ہو۔ جز اکم اللہ ا صن الجزاء
محتزم مولانا شْ مبارک ام صاح بکی خلیفہ وق تکی اطاعت و فرانبرداری
ش کی حد جک۔ ناندان رت سض موعور علیہ الصلو والسلام سے پیار و بت “
سلسلہ کے لے تقریا یکرنے وانے افراد سے مشفقانہ سلوک و دعائیں۔ احاب
برع کیلع خلوص و محبت۔ ان کے دک اور سک میس برای یکا حصہ دار۔ باعع تک
پھر یکی تمناو خوابئش۔ تل اسلام کاجوش “مشن میں مممانوں کے آ رام و آسائنشل
کاخیالی۔ فراع دلانہ مممائن نوازبی'دحتزخوان دسج یو ںکی ت ممیت کے ساتھ ہر
جائز ضردرت و آرام کا خیال اور میمیھوں اہے امور جن ن کا راد جماعت نے آپ
کے عرصہ قیام میں خود مشاہر ہکیا ہے جو ہمارے لئ ایک عمدہ و اعلی تمونہ ہوگا۔
اکم اللہ ان الثزاء-
کات اوت الا رام پک تق وہر زمت کپ رت قایس
الراع ایدہ الد تالیٰ کے ارشاد پر امریکہ تخریف لے جا رے ہیں۔ تم آ پک
بروقت لصا اور مصماحبت سے دور ہو کے لان کے امیر ےکہ احجاب بماعت
رز فل اور اپنے سا کا مکرنے دالو ںکی' دعاوں سے عدد فرماتے رہیں گے۔
یش آ پکو بن دلات ہو ںکہ ہم سب نے آنے والے میلع انچارج بھالی سے اسی
روج اور واولہ سے سرشار کا مکریں گے جو آپ نے ہم میں دیکھا اور اہاگ رکیا
ح۔
مم آپ کے پپار وشغقت اور صن سلو ککی یادیں یں جو رکری ںگ یک
آ پکیل دعاگو رہ کہ اللہ تقالیٰ آ پکو می از می متبدل خخدمت دی نکی نی
ا 367
۱ 36
سے ابی و عیا لکو ابی حفاظت میں رک ادر چ رش
رج چلا جاے۔ آ پگواد رآپ
لوا لو
کی ا الوداگی ریب
واللا : :
ا ا ا ا قا ت ہے رر
۱ سا ا ا پک وم ےا
۱ یی یسل ا ٦ اکب ۹۸۳اء بروز انذا رگرم حنزم چن مبارک اہ صاحب ایرد شی
۱ ا یا انجارج او ۔کے' جماعت اعرے پیٹ فور ڈکی دعوت پ> بر فورڈ کے من اوس
“٦ وہ اھ بیت ام می تخریف لاے۔ آپ خقریب بی نت خلیفۃہ الج الراب اید الل
۱ تعالی کے ارشاد مارک کے تحت تن اسلام کا فریضہ انام دینے کے لے ام رکم
۱ تخریف لے جا رہے ہیں۔ ۹ اکب کی تقری بکرم تچ مبارک ات صاح بکو ا نکی
۲ : رات کیل می وی جس یں کر لے و و ںا
تیب میں بر فورڈکے علادہلیڑز اور کھت کی جھاعوں نے جو یر فورڈ من
سے ععن ہیں شرک تکی۔ اس تقریب کاافتا کر میم اللہ ابینی صاحب نے خوش
انی سے قرآن پا ککی علادت کے سخ ھکیا۔ آپ کے بعد مقائی پریذ ین ف رم
متا اح بٹ صاحب نے محنزم جن مبارک اجھ صاح بک الکتان اور خاص طور
پھ پریٹ ورڈ جماع ت کی خدمات کا احترافکرتے ہوے ا نکی ندمت میس اظمار
۱ 00002+
رم مبارک اج صاحب نے اپقی پیرانہ سالی کے باو جو خحد مت الام کے
لئے جوا ہھتی کا شوت دیا ہے اور انکستان میں ا نکی زم گگرالی تھو ڑے بی عرصہ
ا کردود دی مشن جشہ ا نکی باددلاتے رہیں کے او رولس ےاان کے لیے
2ھ ہیں گی۔ انموں نے فبایا ان شنوں کے پقا مکرتے میں محتزم مج
اح بکی تابل تنظیم زاتی شخصیت کابھی بمت بدا دخل ہے۔ وہ تمام انکستا نکی
38
سی کے وس کی ا وک ایا یت کک
ہیں رکاش وی کی خر پک
پرخات ہواتے۔_ :
رہ تق حر اح کے ما ماکز ید سوک ساب
نے میمش صاح بکی نات کے اعتراف میں ای تاج تین می یکیا۔
انبوں ے فرایا:- ٠
زم ام بک ڈاقی طور بر ایک عرصہ سے جا بں اوران کے
یر مت 0ک سے را اک
ا کت و و مت
اعلا مکی فوپق ھی ے۔ انروں نے ایٹیا ا فریقہ اور ورپ میں خدمت اسم
و رر و کت
7 2 تح
چماں بھی گے وہاں بی نامساعر عالات می بھی خوبصورت مساجد اور مشن پا
ےھچ ھی وج کت سوہ
کل و فا رہ
سے گے زی لمکا وٹ ہں۔ ری دا ےک الہ تل کر ا
: ای تمرم بزکت ڈائے اورانیں وی سے زیو دم وکا
وف عطافراے۔ آئٹن
اق ہک وف بت
۶۰۳ ×۰ رت
رت ےت تک و کر تک
39
نات
اک کا رن کن ا ا
کے او غرم کے لے آپ کے ول می عبت کے جات دا ھ۔ آپ نے فیا
کا انان خی ںک رسک جب تک اس کے زی سای ہماع کے احاب
نہ کریں۔ مب ری عزیز بہنوں' میرے بھاتیوں اور ۶ي ہوں رہ
ای خرچ ہے ہووتے وم ھی نی ںک تق ان سب
نے ایک جیب موہ رکا ے۔ میں کا ری نے خداکے فخل سے ایک
الاب یکا اور برا یکو ایک جیا سے۔ آپ نے مز فا ہیل اور
پچول کا لگ لک رک بت ہے۔ انگ الگ شکل ہوتی ہے لکن ہیک کیا مزا
ے۔ ای طرع رفک تی یت سے جس سے مت کت ے۔ لے
رو سے علق عفر تفہ ساٹ رحطاالل علیہ بار بار و چتے تھے لی فون
کے بے سڈ ا تج
994١ 4 - -+70
دی میں رت تے۔ 33
میں ایک بر رکہیں گا کے یر ع زا یرس خزدیک چو ہوے؟
پانتھ پر جم سک تا
کو می یہ ایک خوبصورت مشن پا و کی مار تکی شمل میں آپ
کے سانے ہے اس لے آپ بھی خوش ہیں اور بھی خی سس ہو رہ 27
رولف یچ ارت وا صاشبن لے ای قر جاری رن ہوۓے تزقہ
جو نے سے ریو سے ہہ
92 0 و
370
الیک امام دہ اس سے خروم ہی ںکہ ایک انا مکی اطاعح تکرریں۔ اسی لئ ان
می اڑائی جھھڑے اذر نااظفائی ہے > اکر ایک فرق مس بنا سے تو دو سرے فر کو
وباں جا ےکی اجازت نمی لیکن جماعت ا یہ ایک اڑىی جماعت سے جو رای ککو
اپ مد میس عباد تکی دعوت دق ہے۔ اس جماعت یں انفاقی بج اس ل ےک
جمااحعت نے ایگ امام کے پاتھ پر یع تکی ہے۔ بہ مد انال ی کی الیک لت سے اور
جب تک ہم ایک ہیں اور الیک امام کے بئع رہیں گے خداتالی بم پر رق مکرت
کے کا
آپ نے مس پماد اور حبت کے سا مھ نا کی غدمات کا ذک کیا میں اس
کے لئآ پکاشگ رگزار ہوں لیکن نہ حض حقرت خلیفۃ لمع الڑلت وزالع سے
رگد ہکی دعائول اد ر آپ کے تحاو نک تہ ے۔
مخ ایارک اج اجب نے چون کا نار ین حا کا نکی وہ
داریوں سے آگا :کرت ہو فرمایا:-
یہ چے ستتفیل کے لیر نے دالے ہیں۔ ا نکی تی تک بھت بڑی ذمہ داری
مم پر عائحد ہوکی ہے۔ اس لس ےگھرٹس والمدی نکو یو ںکی ترمبی تکی طرف خاصض
وج دی این ا کہ متتتیل میں ا نکی کچ رامائی ہو کے
رت خغلیفۃ* اح الراع آیدہ ال تما لی کے ایک عالیہ ارشاد کا وک رکرے
1 بن فیا یں ابی انان کا ایک نا کٹ وا کیا ہے۔ اپ
7نا 2 00057 کا وقت ش حم ہوگیا اب <0[ ٢ہ ۷٥ہ کاوتت ے۔ اپ
یی کو شش کرلی چا ےکہ دو مرو ںکواجعری ہنانھیں۔ اس طرف بھی ہیں خائص
وج رت چا
آخ میں آپ نے فرااکہ مج امید ہے ننس طرح آپ نے محبت سے بے
371
خوش آمدیدکمااورجنس طرح عحبت سے رخحص تک رہے ہیں اىی محبت سے میرے
لے دعایں بی یکریں کے۔ میں بیشہ اپ کے لے دعاگو زہتاہوں او رآ تن دہ کی
اناء الله رہو ںگا۔
انس کے بعد آپ ے اتتاگی دعاکراگی۔ دعا کے بعد عاضرین نے جاۓ نوشل
گی۔ اس تقرحب کاپ وگرام مصقورات نے اپے پالی میس بی ھکر سناماں چم رکا
ا ظا مک دیاگیاہو اے-
نوٹ: چائۓے سے پل هہکھرم جن صاح بکی فربائٹ بکرم مشقاقی اج بٹ صاحب نے
خوش اامانی سے حضرت سک موعووعلیہ السلا مکاکلام سنایا۔
کس فور ظاہر سے نور اس مپرء الانوار کا
)۰۶۶و
ماکسار اص اور
جتزل بر ری
ماعت ا7ے ورڈ
372
ایر رلیں متخانب جاعمت اصر ىہ الیسٹ لترن
بجچ) لا رلرلیتی رکم
کل جب میں نے فو رکرنا شرو عکیاکہ رت جن صاح بکی مات سلملہ کا
وگ رکروں مو را خیال آح ے تقزی]آضف صری تل چلاگیا جب گزم تن
صاح یکو ۱۹۳۲ء میں حطرت می موعو رز نے بطور مخ سلہل الیسٹ| ریہ گچگوایا
سن نون کے رک یا ماف لئ ا ا ات شی اع سا لن راڈ
اس عرصہ میس جو چو ٹھائی دی سے زاکد ہے جو خدیات سسلہ محتزم چٌ صاحب
نکییں۔ میں ا نکی تفضیل مس نیس جانا تچاہت اک و کیہ اسے یما بیا نکرن نا ئمکن
ہے ادر عاریع اس سے پاشجرہیں اور اس بات ک ےگواہ ہی کہ اور نیس اس
مشرقی افریقہ حنزم جن صاحب نے ہہ عرصہ اننائی طف مزاتی سے ایک کامیاب
مغ کی طر حگمزارااذر بے شر دم رکارہاے نمایاں کے علادہ جو اخ ول تے پڑاکام
کیا وہ قرآن می رکا سو اجکی تجمہ جے جوااس زبان میس ٹین الاقوئی طور یر سخ کی
نیت رتا ے۔ اپنوں اور بیگانوں میں جساں مقبول ہے۔ جا شھوت ہہ ےکم دہ
واں کے غیبراجرىی بر ٠۰۰ خلنگ میں جخاعت سے ل ےکر ۰۰ھ شک میں بازار
می فروض کر ر سے ہیں۔ میس مزید ا سکی تفصیل میں نیس جانا چا بتاک تمہ ہے باب
تا رن احریت میں تقصیل ہے ساتج حفوظ ہو چکا سے اور انشاء اللہ قیامت تک
محفوظط رے گا جس کے ساتہ محتزم تج صاحب کا نام بھی ارس اریت میس ایک
کامیاب جرنْ لکی حقیت سے ا قیامت زندہ رےگا۔ انشاء اللد الھزیے
زیت نے زان زی مز ٹن سا سال ان
373
مخلف ای عمیروں پر فائ زشے ي؟ارج سے چا زعمال:خن جب ھجنریں غیطہ اع
الات “کی نظرا تاب برا مغ انحجارج برطاضیہ آپ پر بڑى آپ ال وقت
ربوہ می انل نا ظراصلاج دارشادٴ سک رڑی حدیقےہہامہٹرین کے علاوہ ناپ
صر را ضار اللہ لے جے۔ مضور نے جب مکتزم جن صاح بکو مل اجار
برطاضیہ بن اکر یجان آپ کے زمہ جو سب سے بڑی زمہ انی لگائی دہ برطاضیہ مل
پاچ مراک ز کا قام تا۔ محتزم شی صاحب نے اختمائی نامساعد عالات میں کام شرو عکیا
اور جن کام کابوجھ آپ بر ڈالاکیاتھادہ اتی تین تھا اور بماع تکی ایت اسے
افکن بج تھی۔ زی زاتی طور بر جانا ہو ںکہ جماعت ک ےکی اہم لوگ بھی
ہے نام سن بت تتے) کر عضرت خلیز: الج الثالت کی دعائؤن اور حم تح
صاح بکی ان ککوسششوں اور آولوالعزی نے نہ ضرف کام ان و علئ کر
اکلہ وہ ھراکزجھ زمر تید ہیں اگ رعمل ہو جانئیں فو برطانیہ میس ھ راک زکی تحداددل
ہو جا ۓےگی۔ انشاء الل- رت مج موعوو" اور غلیفۃ کت اتال ٹک طح
حفرت خلیفۃ الج الرائع ایدہ ال تالی بھرہ الخری کی نطراستاب بھی آپ بی پہ
بی اور انوں نے مم چن صاح بکو ام ریہ میں اطور ملغ انچارج مقر فرایاے
ہماں عنقریب منزم تج صاحب اپنے عمرے کا چار جع لیس گے۔ وہاں بھی حضور
ایرد اللہ تمالی نے محنزم جغ صاح بکو ۵ مراکز کے قام کاکام سرد فرایاہے اور یل
نل لقن ۓےکہ محتزم جْ صاحب وہاں بھی اسی طر ح کامیالی حاص لکری مے۔ ہم
سب دعاگو ہی کہ انل تھالیٰ ان کاعائی ناص رہد او ز اشی ہرمک کامیالی وکا مال عطا
وت7 2
یم بھی محنزم جن صاحب سے درخواس کرت ہی ںکہ دہ ہیں بھی ای دعاول
می پیش اد رکھییں و اایسٹ لندن جماعت کے ھرکز کے قا مکی کہ خداتھالی
374
یں جلد از جلد انا ھرکز ءنان ےکی ذف درے۔ آین ٹم آشین۔ ہھاری ولی تنا اور
وائشل سے کہ غمداتعالی ہیں توفق رے کہ ہم اپنا مرک محنزم جن صاحب کی
موجو گی بی میں بنالیں :جس کا مکو حم جن صاحب نے شرو عکیا ہے دہ الن ا
کے پاتھوں پابہ تی لکو بیج ۔ آمین
375
مسلشن مگانابماعت ام یہ کے تقامحظام صد رکاخط
بسماللەالرحمن الرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
وعلی عبدالمسیحالموعود
رم و محتزم حضرت مول ناش صاحب اعیرد مشٹری انچارح
السلام میم درجم“ دوب رکا
امیر ے آپ ہر سے ہریت ہو گے۔ خداکرے۔ آشین تم آمین۔ پل و
ین نہ 1ب تھاکہ آ پکی ٹراضفرہو جا ۓگی عح اس ل ےةکہ نس جو 'جذبہ اود
رر سے آپ نے جماعت الکستان میں کا مکیاادر جو جو کارہاۓ نمایال ک٤ اور
جس جس عم کے وسع منصوبے اس ججماعت کے لئ آبے مد نظرتے ادرہیں ان
تام یز ںکو سو جکرفے ین بی تھاکہ مور پر فور آ پک وکہیں اور نہ کچوانیں
گے۔ لیکن اب اپنے علاقائی می بکرم مرزا یراج صاح بکی طرف سے خی ہے
اب انا گنا ےکہ آپ دا تی جانے والے ہیں فو عالت مہ ہ ےکہ جمال اس یا کا
فیس نم ےکہ آپ یہاں سے سے جایں کے و اپنے ایک شذق “دماگو مرگ ادر
سلملہ کے ایک تیبل القلہ ر عا مک یک یکی دجہ سے ایک بست بڑا خلا نظ رآ ہے گر
اس کے ساتھ سانھھ اس جات کابھی ااس ےکہ گر مور اقرس نے آ پکو
امریہ مجنوانے کا فیصلہ فربایا سے و ضردر دہاں بھی آ پکی شدید ضردرت ہھگی۔
لا ارد ناچار دعاگو ہو ںکہ اللہ تقالی آ پک بیشہ بیشہ کے لئ اہے فلوں سے
نوازے اور چ ران ادر ہرگھڑی انی حفاظت میں ر کے اور لہ سے بھی پو ھکر
پکو اسلام د ات بی ت کی نہ صرف ام ریہ بللہ دنا کون ےکونے میں ای سے
376
اعلیٰ حدم تکرن ےکی نوف نے او رکامیالی سے نوازے آمین خم آئین۔
ججاعت احریہ میلشن مگانا کے ہرفر کی یہ دلی خواینل ےکلہ آپ تج ابل د
عیال ہمارے ساتتے ایک وفعہ پھرل بیٹھییں او رکھانا وش فربانھیں۔ امیر سے ماری
اس ورخواس تکو ضرور منظور فر اکر منون ف انیس گے۔ جز اکم اللہ ان الجزاء
سب ووستو ںکی طرف سے مورپانہ علام اور ورخواست دعا-
إ۱ ٰ 0 ا واللاع
انکستان سے امم کیل رداگی
حفرت غلیزت الم الرابع ایدہ الل کی برایت بر وکالت تشیر نے سقبر۔ اتہر
۳ء کے وفوں میں اکسا رکو بدابیت مجواگ یکہ حضمور نے غاکسا کی تب بی
ام ری کیل فبادی ہے۔ ارشاد ہواکہ نخاکسار جلد اھرکمہ جان ےک یکو شت لکرے
او رکرم عطاء اللہ کیم صاحب سے مارح لے۔ دو تن ماہ مرن امیریشن کے
قزاعر و ضواربز کے مطابقی ضروری کار روائی ہو لی ر: ۔ اھرمان سفغارت خانہ سے
مطال۔ ہورکہ خاکمار جن ہن ملگوں میں رہ دہاں سے ہز سکی رپورٹ مگوائی
جاۓ ناکسار س ےکی یکر وغیر: کے متحلق ۔ الیسٹ افریقہ سے نیدی سے رپورٹ
کچھ عرصہ بعد می اور چجھ عرصہ بعد ہنروستان سے تقادیان کے نا ظرصاحب امور
عامہ کے رجہ وا نکی لی سکی ریو رٹ گی ہرطیج 0376.9[ نکی ٹی۔ تام
ایر و ضواىا کی تعحیل ہے بعد اھرین سفارتحانہ نے اہی طور پر ناکسار کا
میڈیکل چیک ا پکروایا۔ نفضل خدا ہرطرح سے ححت مند ہونے پہ انمول ے
زا جار یکیا۔ خاکسا رکی پلیہ بھی ساتہ تھی۔ مورخہ ۳۳ فو م م۱۹۸۳ کو احباب
بماعت او رلنرن کے مجاغی کرام نے اکسا کو مشن پوس لنیدن سے دعاوں کے
ساتھ رخص تکیا۔ ککرم مولاناخطاء ایب صاحب راشد جاپان سے لنرن آگئ کے
ا١ی دن چارج دیا۔یا وآ را ےکر چو برری انور اص صاح ب کابلوں تو الن
ونوں نشنل صدر تھ وہ ابی کار بر نخاکسا رکو اور اکسا کی ابی ہکو ایی رٹ پر نے
کر آے۔ رو ایژپورٹ > لندن کے اجباب سرٹری جنزلکرم بدایت اللد
صاحب بگاوی اور مجاشی نکرام بھی تشریف لاۓ ہوئے تھے ۔ ان سب بھائٗیوں نے
378
ایت لوس اور پیا ر سے دعا کے بعد رخص تکیااور امک رشع وخ کی کار ردائی
کھل ہونے پر چماز میس سوار ہوا۔ ا مرن اٹل ایٹریارٹ بر اسی دن ریت مخ
ھی ےمم چ ریا
صرارت ماس شو ریی کااجلاس منعتظز ہو ز ہا ناف سمارے میک سے چپٹین خیں کے
قریب نما ئیرے اس شورئی مس شرک تکیلئ موجو ر ےج ان ین افرداعرمن
بھائی بھی تے۔ نماکسار بیماں برا رم ھرزا ہنارت ام ضاحب منیرکی کاز بر شنل
ایئرپورٹ سے آیا۔ ضاجزادہ مزا مظقراصر صاحب بھی اس شور ی کی میلنگ مل
موجو و جھے۔
واشکشن میس پسلاخطاب اور اقرام رم یم صاحب نے خاکمار سے
تج ۔..._سسب سس ورپ کے نمائزرگان کو خطاب
کر کاارشار فرمایا۔گھرم محتزم صاجزادہ خرز ا مظفر۱ص صاحب سے خطاب
سے یل اکسا ر نے مو ر ہک یاکہ اکسا ر نے مو امات کے قیام کا فیل ہکا اور
مت ےآ براو ربھرم مظفر اض صاحب ظف رٹل پر یٹ سے
مواغمات تقا مر نے کاارادہ ہے۔ محتزم صا جزادہ صاحب نے نماکسمار کے ا
ا"'""" مرک ھا و را اک کنا ات ےپ یٹ
اعلا نکر وی اس موامات کا۔ ناکسمار نے اپنے سب سے پل او ر حخحقم رخطاب
می مل ج لکر ری ؛ رک و نل سے الا ہ دک ربھائی جار ہاور بابھی پیا زو عبتکی
فضاء اخ مک رن ےکی عق نکی او رمواحات کے تام کے ا دا دہ سے مھبمران شور کی
کو مطع کیا صاجزاوہ صاحب کا یراور مظف١مر صاحب پاتی معالتہ اور
مواغات کے اعلان کے بعد ٹماکسما ر نے لہ مھران ججلن خماطہ کے الین مبردں
کو ا فرو 1 عریکن ممبروں کے سا مواغا تک لڑی میس پر و دسیے کایاری باری-
379
الا نیکیا۔ ان متحلق نماکسار تے پرادر ر ححت بمال صاحب آٴف لاس از
سے موا مات تقاخ مکی۔
اس مواغما ت کی اس لے ضردرت یٹ ا یکہ ۱۹۸۱ء مس جب حظضرت غلیق-
الس انا کی ہدایعت پر مس ای ادر برازہل کے چندہ کے حصو لک یمکوش ل کی
خماکسمار کینیڑا اور اھربلہ آیا قے مس ول کیا کہ افرو اھرنن اجرلوں اور الجن
یں بش ایک ش مکی ٥< ذنا٭ 71 پائی جاتی ہے اور لحض او ات نی اقیا زی
وجر سے غفشار کی صورت پدا ہو جالئی ہے۔ جچو کہ اریم کی ئل شور ی کا
اجلاس ہو رہ تھا۔ الین اور افرد اھرین ہردوگر وپ اہن و ریش موجور تے-
ماکسمارنے مناسب سبچھاکہ روز اول سے بی بابھی اعت کی فضاء کے تقاغ مکرتے کا
امام ہو جاے۔ جن جن احبا کی مواغا تکرائ یگئی ان سب کا ایک دو سرے
سے معائق کردا دیا۔ اس طرح ہرد آپیں می ہف لیر ہو گئ۔ اس اقرا مکو جو
الا تح انل جو تے بی مما ساوت اٹھایا یی کے سا سے یں پک سا یا
بقاعت نے سراہا۔ جن جن دوستو ںکو موانمات کے بد عن میں ریو طکناگیا ان
ین سے نتلق ایز
ایی ےن نے وآ شید تو ذکے بعد سور فا کی
تس ٹڈ سس شس سس طاوت ہی اچاب دماعت و
ید فقل ١ مریلہ مس بح تے ان سے قطا بکرتے ہوم ےکما رج کا بحعہ اریہ
نے کے بعد اکسا ر کا پسلا جعہ سے ۔ سو چاکیاکموں جال خر فیصل ہکیاکہ اللہ تال
کے مقد سں کلام او رپاک محیفہ ق رآن مجی دک آغنا زیم اللہ ال من ال رجیم سے ہو:
ہے۔ حضرت رسول اکزم صلی اللہ علیہ و سم نے مم الد کے برکیات کے ذک نیل
خاش ارشاد فرما یا ےکہ ہراہم عرعلہ او رکام مم اللہ سے شرو عکرو۔ تخل
30
اسلام اور جماع تکی تز میت ایک اہم کام بے اور بھست بی :از کگمر ضروری
فرلیضہ۔ دعا کے بعد پا خطبہ ام ریہ آنے پر بحم ال' دکی برکات اور عظمت پ
پڑ ھن کا فیصل ہکیا۔ اس تیم ملک میں اپنے فریضہکو مم اللہ سے بی شر کر تا
تناد
امت مسلمہ کے پزرگوں اور خود آحفضرت صلی ابد علید وسلم نے ملیف
اوقات میں قرآ نکر ی مکی مخلف آبیا تکو ا نے عرفا نکی بناء بر خاص ایت اور
حظلمت دی ہے۔ اس عابز نے بست دفعہ اس بات پر و رکیااور علیٰ وج ارت
اس ننییہ بر یئاک سب سے مٹیم آبیت اور خاضص برکت والی آبیت کم اللہ ال من
ال تیم جے۔ الد تھالی نے اپنے مقدرس کا مکو مم الد سے شرد عکیا۔ قرآ نکریم
یس ایک س دہ تہ اس آیتکانزول فرایا۔ بے وہ آی تگریہ او رآییت ما رک
سے بے انی مڑبی تگرار کے ساتھھ الد تعالیٰ نے نازلل فرمایا نت سے ہہ گرار ہی
اس جات کاخجوت ےک بت برکمت والی یے بات ے۔
رتقور ازس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تے فرمااککہ ہ رکام میم اللہ
ال عی١ جم ے شرو عکرو۔ حضور نے یہ بھی فرمااکہ جو کام خی ربمم الد کے
شرو غکیا جاۓ وہ بے برککت ہو ہے۔ بی دہ برکیت والی آیت سے جس کے
متحلق حضرت موی علیہ السلام نے خیدا تھی سے علم پاکر اعلا نکیاکہ مموعودعا م
الل کا نام ل ےکر پرکام کلام شرو عکرے گا۔ اس مت و ابعیت کے پیٹ نظر
خاکسمار اپنے ہم مشینوں عزیزوں دوستوں لے جلے والو ںکو ماکید سے ح ق٣ نکر
ربتاج ےکہ اگ رکسی اص وت 'خائص موقع کے لئ دعایادنہ ہو توم اللہ ال مل
ا تم ی ٹڑھ لیاکرو۔ یہ ان سب دعاوّں کا تم الپدل تحو ینز ے۔ ناکسا رکا انا
مل بھی ای لقن کے مطابق راے۔ مسفونہ اوعیہ کے سا مم ال کاو رد رکتا
381
ہوں۔ ۔ احاب جخاعت سے السا رکی آ جع کے خطبہ کے ذربعہ لی اور ابترائی
ددخواسصت بی ہ کیہ جم اللہ ال رحن ال رج مکو سوج بج کر ترز جن بنا لی ۔ پر
دیھیں کس قدر اللہ تال کی برکت اور رمت سے ہم فوازے جاتے وں کر
آیج تکریی کو مصعمولی آیت خال کریں ود عضرت رسو لکریم مو بھی
الہ تل کی طرف سے بی دتی یس بی ارشاد ہو امہ ایل تال کے با رکت نام سے
پڑھھ۔ نہ دہ بابرکت نام ہے جس میں رححاضیت ور مححیت کے تیم اور وسیخ دو
کندر مو بمزن ہیں۔ میں جو رمحانیت و رشححیت کے سمندروں پر قالو پا لٹا ے
انے پل رس یکاکیا وف ان دہ رن اللہتقا کی یہنا رتو ںکامو رہد جا ےب
رمعم ماس چومسرفاکص یچ سے جن
اپتے سب کام ائی با مرکت دا سے شر عکریں تا پییں کامیالی عاصل ہو 1و ہم
سب اللہ تالیٰ کے دی نکی ملغ کاکام مم الل سے شرد عکریں۔
جماعتو ںکاوو رم امرکلہ ایک میم لک ہی نمی بکلہ براعشمم ہے جو پیا
۶ سم و ہہ می
ریاست ایک ایک ملک کے برا بر ہے ۔ نماکسمار نے حتز مکیم صاحب سے پارن
یا اور ائنیں عزت سے الودا ںعکیا۔ ماکسار تے اپنے قام اع ریکہ میں اقراد
ماع کو منفظم رن ' ھرکزیت اور اخما یت کی رو حکو بردان جڑہاتے۔
جماعتی نقاصدکی یل با ففوص دبنی فلیم د تر بیت اور درا خر کیل ماکز *
من او عزاور مصاجدکی ضردرت شرت سے محسو سکی۔ اکسا رکی آمد کے
دقت اس ملک میں دو تن مقامات پر بی ماکز تھے جماعتوں کادور دکیا۔ ا نک
آراء سئیں۔ اع کے ة 71٥۷۷ سے آگاہ ہوا۔ ا کی پر ینانیوں کا مشاہر ہگیا۔
اضام ہذ کہ راک ون سے پاح نف اعت ناو رف راز میں کسی
382
یں ککرے لے جات ہیں او ربھی ا قرو جماعت کےعگھروں می مان کک
ای ے۔ تی ونوں1م ری ہک فک بی اعت دی رک می شر تگا۔
1ے مخ سی اک ا
ا یں رر ہے
حر بھی سے میس ہے ہشن سے ےکی بے ح اپ بیس ۔ اید کک
جس کرماکنا رکو؛ و وا نے خاص توق پنٹی ا نکی تی ا شیا نک
زا اک انا اعت جا آ کی شی وروی کپ ہے
پک باع تکیے آدام گا در مرگ کا
صورت پ اگ !
گ بھی میں رہیں گے۔ بمت جلد آ
لا میا جا ۓگا۔ انشاء الله -
سن اق سے خطرت خلیفۃ الراع ایالد تال نے سارک آمے
نچ شروں میں مز کر اد یں اھ لت کر کاٹ
وم ا رت ہہ
غاکنارنے اس تی ککو یلت تھا۔
مھع رکا مسا مرعلہ ۔ زمینو نکاتصول خاکسارنے پر زوراندازش ھاکت
رر تپ ند حخحت بے ہو الا تانج اور
عضو کی خاص ےج کازکرکرکے دعاسے مم کا1 فاذکردبااد رای قیا یک کرک
٦ رر و ری ی4
و و ےا ا ۱
و 2 و رھ ار ۱
یک کے زا را لاق وا شکین یں دیس ایکٹرکے ری با فینا زی کئی۔
یرے خوشی ہوگی۔ مزید حوصل ہوا اور خواقین عردوں ے
”سسسے
بماع کا ال
383
عطیات دج میں خوب خوب ممقیدی دکھائی۔ وا شگٹن کے بعد (۲) شیاگو ہو
ام شر اس میں باج ا زشن کا تطعہ خر یی رکیاگمیا۔ اس زمین یس ایک وس
کان بھی تھا۔ مکان شس فور ی طربب نممازوں کے پٹ ھن او رم کی راکش کا
افا مگیگیا۔ بعد ازاں )٦( ڈیٹراہٹ میں مات اجک ز ین عا صصل نکی گی ہوک
ایک اتھ علاقہ بین ہے ۔ (۴) لاس ایس پا ای0 3+ کے علاقہ میں
تطعہ ز ین خی ہکیاگیا۔ اس قطعہ زین پر ایک وس مکان بھی تھاجو فو ری طوریر
نکی در ہائش اد ر الیک لحاظ سے مشن پا س کاکام دیتا ربا ان شمروں میس حضور
۱ ابد : ال کی فقاء کے مطابق تفضل دا زین عاصح لک یگئی۔ ضردری دستاو۔
او دا نکی رجٹریشن بھی ہ وگئی۔ ان ز مینو ںکی خر ید سے بماعت میں نہ صرف
تقر بای کاجز یہ اد ر بید ار کی مزید پیر اہو گی بلگنہ وب خوب جو لہ بھی ہو اکہ ”اب
ید کے نع سے یھ نے ال سے “کا زن صا ات می تو دا رو نے
لگا۔ زمینوں کی بت نل خر اعت عطیات سے ادا کر دی گئی۔ متا
دوستوں نے بڑکی ڈیر قوم دس ےکراحدادی۔ ان ز مینوں کے صمول می ں گرم
ڈاکٹرد ادا مر صاحب تے با فصو ا مرا دکی۔ ا ئمدلل پسلا مرعلہ خی و رت
کے ئے 19د ۱
مم کادو را مرعلہ ۔ ماج دکی تقر اب دو مرے مرعل ہی طرف 9چ
ا ےج نے ا یٹ
یس مشن اوس اور مد تائم ہوگی۔ نماکسا رکی آمد سے پل یماں ایک کان
ولیک ھاگیا تھا ا نکی خی کی بیز شی درد بک سے قرضہ نےکر ا سے عاص لکرنا
ہے تے۔ حعترت غیفتہ الع ال راع اید اللہ بتک سے قرغیہ سو ری لیے کے
خلاف تے او رش فرمادیا۔ ماکسمار نے اس مکا نکو دبیکھان رو اس تقابل نہ تھا
384
ےس ۔-کمؤ|گخچع ج؛ چجُ ھچ تتے۔ا
ت ے رد نہ سے عو :
کا نکو دککی کيا معلوم ہو کہ عیساٗیوں کا الیک اداد ہا بقی مار تک فروشت
کر را ہین فأاکسما رکو نشی اش نکی رو ری تقصیلات کاعلم ان باعت کے
مشورہ او رو کلام سے با تکر کے افو ری طر بر اس تمار ٹکو خر ید نے کا پیل
کیان اس کے سا ایک اور عمارت تھی و بھی فر و شت ہو دجی تی دو بھی زی
کین ان رو عمازرتوں می سپ حیاب کے ؤار عم کے طور پور چھ
کا رککروں کے وریہ ضرو ری ردو پر لکرکے بمت ان انداز می سحچداد را
وڈ را ان کی ےکر لاس نات وس پی یکا
ام صچ فور رکھاگیا۔ اس سااری عمارت کے تار ہونے اور باقاعد اتال
ہونے بر احیاب جخاعت نے ججماں اص خوش ی کا اظما کیا واں احاب مب
ہبی و 1ہ اب ففضل 1او بھی مس میں بتی گی اعت میں ایک نی
امک اورھ غٴپُراوا-
آبادئی کا شر جے۔ ا خی بھی ایک عرصہ سے
۱۱۶۹ مم
زین بھی نز مل بھی حضو رکی رایت تش یکہ اس شمرمیں بھی مرکز ہوناجماجتے۔
بیا رکوشش و ور حلاش کے پور معلوم ہو کہ 1ے صاف ستھرے علاقہ یں ایک
کو لکی عمارت فروخت ہوارہی ہے ۔اسے دیکھاگیا۔ احباب نے دیھا بر بار
اکر دیھا اوہ او ر یچ ال دوکرے ضرو ریا تکیئے اور قب میں خالی مین
کا ایک معقول رت ۔ اعت کے سا مشورو ہوا۔ پرضرد ری بات کاجائہلیا
گیا۔ بیار ور ذ گر کے بعد چچھ لاکھ ڈاگر میں ىہ مارت 7
385
ایک آبار موک ے۔ فیصلہ ہو اکہ یچ کا پا عردد نکیل اور او کا ہل
۱ ت عوئ مع نع التد2 اسيت ے ا ہت
بی ہانھیں طرف سے بطور وغنز فی ککرایاگیا اور اد بر کے پال کے ساتھ جو دو
۶ ال را کے ےت ایک وت وت اض رمسن
عمارت کا تصول براعت کے لئے سکون کا باعث ہوا۔ اللہ تا ی نے ا نکی بے
یکو دو رکیا١اورا نکی اخلاقی 'روعالی تبیت گاہکااتظام فرمایا اور ملزیہت
کا۔ جخاع تکو اس عرگز اور مشن پوس کے قیام سے خاص خو شی ہوگی۔ اس
١ تعلق میں چنر تصاوم بیت یکر رہا ہوں جو اس خمار تکیصی قد ر تعیلات پر
ری یڈ
(۳) ولنگبرو زیو جری) کے علاقہ میس متزم ڈاکٹر ان اوند خفرصاح ب کی
نا اور خاضص قریانی سے اڑعاگی انکڑ زین کا رہ خر بکیاگیا۔ اس میس سے سے
ایک ممکان ھا؛ سے مس کی شل میں تبری لکیاگیا۔ نما ذکی ادامگی کے لے اب اور
نے سد کے دو پال بنا گئے۔ او کاپال عردوں کے لے رییزدوکیاگیاادر یچچ کا
ال خاش نکیل ۔ یک آدھ فرلانک کے فاصلہ بای رقجہ میس ایک ال ہے جو کی
بڑا ہے جس میں بیو ںکی کلاس ز کے استعمال کے عل بھی جماکتی اجلاسو کے بھی
استعا لکیا جات ے۔ فضل خدا اس علاقہ کی جماع تکی دی ضروریا ت کو انجام
دی کاخ ا تظام ہوا ککرم ڈاکراصن اود طفرصاحب اس بلہ اور سو دکی تیر
کے تج کے ملاوہ تھی بہت فراخی سے اکسا رکی جھاعتی کاموں میں ادا دکرتے
رے۔ فلوڈلفیا لیک بپراناادر خاصا ڑا شمرہے ۔ افرد اھرمن اسیو نکی جماعت کی
۱ خاصی تعداد ہے اور اشن ارایو لک بھی۔ ایک ممارت جو لب مک شھ یکوضل
کی منظطوری سے نماکسمار نے اسے مس رکی شکل میس تتبری لکردایا۔ اس کانام ناصر
385
ایک آباد ہرک ہے۔ فیصلہ ہو اکہ سے کا ال حردوں کیل اور ادیپ ک ہل
عو رن نکیا وف ہہو۔ ای ککھرو جو پالی سے شک ہے او رسک سے اند رآتے
نی انیس طرف سے لطور وغتر ھی کک رایاگیا اور ابر کے پال کے ساجھھ جو دو
گت ا سے رک کے ہر ہہ ہا
عرارت کا تحصول جماعت کے لے سلون کا باعث ہوا۔ اللہ تالی نے ا نکی بے
یی یکو دو رکیااو را نکی اغلاتی ' روعا ی تز بت گاہکااتظام فربایا اور زیمت
کا۔ جضاع ٹکو اس رکز اور مشن اوس کے قیام سے اض خوشی ہوگی۔ اس
تحلق میس چند تصاوم بین یکر رہ ہوں جو اس ممار تکی کی قزر تقعیلات پ>
ری ای یں۔
(۴) ولنگبرو زیو ج زی کے علاقہ میں متزم ڈاکٹر ان اللہ خفرصاح ب کی
مسائی اور خاص قریانی سے اڑعائی ائکڑ زن کا رقہ خر دکیاگیا۔ اس میں چس سے
ایک کان تھا سے مم کی شل میں تب دی لکیاگیا۔ نما زکی ادانگی کے لے اوپر اور
نے سد کے دہ پال بناۓے گے۔ اوپ کا پا مردوں کے لئے ریز دوک یاکیا اور یچچ کا
ال خوات نکیل ۔ یک آدھ فرلانک کے فاصلہ بای تہ میس ایک پال ہے جوکالی
بڑا ہے جس میں چو ںکی کلا سز کے اتال کے علاد بھی جماکتی اجلاسو ںکیے بھی
استعا لکیا جا ہے۔ تفضل خدا اس علاقہ کی جماع ت کی دپٹی ضروریا تکو انجام
دی کاخائص ا تظام ہوا ۔کمرم ڈاکرا صن ادقد خفرصاحب اس بلہ اور مو کی ٹیر
کے خر کے علاؤہ بھی بمت فرای سے اکسا رکی جھماعتی کاموں میں انا دکرتے
رہے۔ فلوڈلفیا ایک پرانا اور خاصا بڑا شمرہے۔ افرد امرن ا دیو ںک جماع تکی
طاصی تفدادے او ران احمریو کی بھی۔ یک عمارت جو اب مڑک شھ یکوضل
کی منظطوری سے ناکسمار نے اسے مس رکی شحل میں تبد بل کردایا۔ اس کا نام :اصر
36
مد تجویز ہوا۔ اس کے کچل حصہ میں دو ری سک پر مکان ہے جو مشن پاوس
اور در ضروریا تکیلے استعال ہو ہے اور اس کا یلا حصید جھا شی اجلاسوں اور
ضس دیلر ضرد ریات اور خاص اورقات میں نمازو ںکیلے بھی استعا لکیاجا] ے۔
(۴) نیو ج رىی کاددعلاقہ جو نیرک کے جوب ٹل وائع ے وہال ایک موزوں
نی ایا رق کلم وت ا کی ے کو نان اھ کی
خرید میں نمایاں حصہ میا۔ زم ڈاکٹ مھ اقبال صاحب نے ایک لاکھ ڈلر اہ کی
خری کی دیے۔ جزاہ ال ان لزا ہ ردربی تد یوں کے سا مس کی شحل
ری ا و کی تی ےکی مو رک
(۵) کیولینڑ مس عیسائیوں کا بجر ج تھا جو وہ فروضتکر رس تے۔ تضور نے
اع ججھ رط ےا کے خری دک رن کی اجازت د یکہ اگر وہ گر کی طور بر یکل ےکر
دی ںکہ بعد می مسود کے استعال سے ال کو ا عتزاض نہ ہہوگا۔ چنا انہوں نے کی
کراڑیی تب ٹن یکر دی۔ اعقیاطاسب سے پل ہرم ڈاک متخ رعلی صاحب جو ایک
رت سے کیولینڑ میس رے ہیں انہوں نے یہ ملڈکک رید ی۔ بت اتجی صاف
ری اور وسج ہے۔ بعد می جماع تکو شنفقل ہوگی۔ اب بہ عمارت مس کے طور
بر استعال ہو رہی ہجے۔ علادہ ازم جھاشقی اجلاس بھی اس خہ منعقد ہو ہیں۔
کی شور کی اھب ہکی جماعتو نکی یمان ہی منعق ہو پراناالرا نکرم سیر
عبدال رتشن صاحب کے عزیزوں کا یماں من ہیے۔ ا کی خرید مل جماعت
ام ریگ کے علاوہ کیو لینڑ کے اجمری ڈاکردن اور اضیان تے بھی خوب حصہ لیا۔
نز اعم الہ ان الجزاء
)٦( 381813ة] میں تو آئر مین جو ایک بڑا شمرسے خاکسار کے عزیزوہاں رتے
ہیں۔ تاج جھاٹج ۶:: ش رشید اج صاحب جو اب فوت ہو کے ہیں شر تے_
٤
.۵ 8.ل بهنصەمۂنزون رممنط60 1/٥٥۹0۰: -7001۔-ا]ب(:ھ
387
گے سے ہے ہے ےچس ژ سے
بتماعت نے بھی ا نکی مددکی۔ جضور تے بھی فربااکنہ فی الال ایک مکان لے لو
چا ای کان خر کیا جن جن اعت ےد سن زار رت
ہیں نمازو کی ادا گی بہما کر لیے ہیں-
)لاس امن جماں پا ای کا رہ خریہکیاگیا تھا دباع کونسل میں اعت
ادر مسائیوں کے اعتراضات اور دن پریٹایوں کا اگرچہ سام اکرنا پا لن
لاخ اللہ تھالی نے کامیالی دے دی۔ فضل دا الیک دسج و عریض سودرکی تیر
ہوئی۔ عو رتو کیل الک اور مردو ںکیلے الگ پال تقیرہوے۔ وفائز نقیرہوہے۔
دنر ضردریات کااتمام سے اتظام ہوا۔ عزیدبراں مسج کے ساب ایک الگ پل
۷۰ کا لی رکردایاگیاد۔ اس قلعہ یش می کی رہاک کیل انگ مکان ہے ۔ اس
سک نام جضور نے بیت اید تجوی: ایا۔ پارکن کک دس انظام ہے۔ کرم
ڈاکرحید ال تن صاحب تے مالی قریائی کا خاص نمور یڑ یکیا۔ 2396 10آ ان
کا مل کے اخراجات کے سلسلہ میس ملا۔ ویس ٹکوسہٹ کے احباب نے فرا
دی سے اس مو دک تمیریش حصہ آیا۔ بای ا خراجات تق رعرکزی فیڑے جو ساہر
کے جمول کے لئے عاص لکیاکیاادا ہوئے اور آرکی کیٹ کے بھی ۔کرم چو پر ی
می رات صاحب ششروع سے لن ےک ہج وف ت تکو سس نکی کار رذائیوں میں حم
سے رہے در یرک دو ران ران بھ یکرت رہے۔ ۶یز ما شرف را جیورت
نے مکی حصہ می فا دٹپی ی۔ بنزاعم الہ این لزا اس سو کاستک
بیاداور افتاج تضور غلئہ| “* الرائع ایدہ الد نے فرہایا۔ امرش
ممیت افمی ہکاظار ہک کے احاب خاعنٰ خی محسو لکرتے ہی نا جا
اوت ال امداد گا رہ جمائقی فنڈ سے جو مسا بد کیے کی اس سرب کل
دس لاکھ ڈ ال آیا۔ مو رکافونھ اتا بک زیار تکیے بی کیاجار ا ے۔
س ےس ےسسچچےے جود
38
(۸) شکاگو مس ایک بہاڈڑی نما زین پ پاچ ایک ڑکا پلاٹ ہے۔ سر سے نقغ بن
گے میں حضرت لیف ا“ الرائع اید ائلد سن ےگذشنے سال اس کاسنگ بیاد رک دیا
ہے۔ چار مین ڈالر خر کااندازہ ہے۔ اکسا نے اس مد کے لے دوروکیا۔ دو
لاہ ڈالر کے دعرے ہوے یھ نقر بھی دصول ہوا۔ رہل مکان میں اس وتے
رود ہے۔ مقائی جماعت نے نصعف خر برداش کرت کاؤعدہکیاے۔ الل
تعالی یی دے اذر جل مسی کی تقی رکھل ہو
(۹)ڈیٹرائٹ مین ایک برای عمارت مصچجد کے طور پر استعال ہوتی تھی۔ جو شع
بو گی تھی۔ اسے از سرفو 0۷ہ کیک بھت سا کم د ار گل کے طور یر
واج ع زیم زم حقی احد یٹ صاحب اور ان کے دومسرے ساتھیوں نے امجام
دیا۔ سمات ا یڑ کا رک مال خریداکیابے۔ مد کے نے بن کے ہیں۔ انثاء الل
مکی دقت مدکی تقیرہوگی۔
(*')دوچیسڑشی بھی ئمارت خری دک یگئی۔ اسے می دکی شکل میں تب دی یکیاگیا
ون و کم قیر نے رک ای رن ان یت کے ہے رد توں ہے
خائ طور پر ححللیاادر مالی اعداد ےکی او رکھرم ڈاک اح صاحب نے سب
سے زیادہ حصہ لیا۔ بنز اعم الد اصسن اجثزاء-
() لوسان می رم ڈاکٹڑ ف رقریٹی صاحب نے مد کے لے بڑبی رتم زین
7 ۰0۳9:۔؟ھ ۰
زی کر نے کیل لی کےا کرک وا مکل ضرف وک روز
ار وگ اندازش تی رہوے۔ خسار نے ا نکی اد دھی۔ قر ایا لاک ڈالر
ا کی تی ریہ خر ج آیا جو محنزم ڈاکڑ طر قریئی صاح بکی زی نکی فروشت ے
ال نوا وا ول نے نی سکالتائ خگا۔ اس سو ای خرس
ًحو0 )۳
۱
۱ .2.۸ .ا بعصہ ض۸ بدہده-ت' ,۰تو0د77(۸0 ہ۷
39
نے تضور کے اھ بر اسلام تو لکیاعبدانقد نام وج ہوا۔ موجودہ صصورت یل جھ
مچ تقر ہوئی اس کافوٹودیا جار ا ۔کونل نے ہ رع مکی سمولت عم یای۔
)٣( زائی میں جو ڈوگی کا شمرتھا اور حضرت سب موعود علیہ الصلو والسام کے
مقاللہ می کر تا ہوا اس شمرٹیش جرا نیل اک پر ایک نمارت دو مخزلہ خر یدک
گئی۔ ابر دفاتر اور یچ کے حصہ میس مد تا رک یگئی۔ ضردری ھرمت او رکارچٹ
بھاۓے گے اور سار تمار تک 1:۷٥:٥ گیاگیا اور .قائل استعال بنایاگیا-
جہذبمشن اوس کے قیام بر حضورنے خوش ی کااظمار فرماتے ہو ئےککھا:۔
1 بمیں مش لئے عم ر تکی خر بی کاٹ کربت خو خی ہو کی
الل تا لی آ پک یکو خشوں میں بت برکت ڈالے اور اچ مقبول
رو ریخات کیا ما ا
(۱۴) سان فرا کو میس ایک عرصہ سے ملاش بجاری ش یک ہکوگی مناسب بل یا
کان لے۔ آ خر ایک رقہ تین ای ڑکا ملا جس میں مکان بھی تھا۔ کان لطور مشن
اوس استعال بہونے لگا اور مجنلغ کی رہائیش کابھی اتظام ہوا۔ بیماں کے ووست
الففھومص شس برک کے احباب اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اود باقاعدگی سے
مازی اداہوری یں
(۴ا) بالٹی مور میس ایک عرصہ سے ایک مکان کو بطور مشن ہاو جماعت
استعا لکر ربی تھی اور یہ مکا نکسی ا فرد ارین کے نام تھا۔ جماعت پ نان تی
کہ دہ ابی زنرگی می اگر اعت کے نام ٹرافرنہکرے گان مکل یی کآ ےگی۔
الد تالی نے نماکسا رکو نے ںیقی دی ۔کمرم داد اص صاحب سیک رٹری جائحید ادکی خا
جدروجد سے یہ عاتز اس افرد اھرنن بھالئی سے سا اور در خواس تکی۔ اکسا رکی
ترغیب و تلقین بر اود تعالی نے اسے نیقی د یکہ جماعت کے نام ٹرانسفرکردیا-
30
9207 :جب -->فیےیپی ےےےےے
اس کے آکے تی کا یی زین ہے۔ ایک عرصہ سے بعد مغ ساس رہ جج ربا
سے اور عبات اور 1جلاسو کے بھی استعال ہو ہے۔ والدللہ
ان ضز مساجد اور مشن پا سزاور زمنو نکی رید بر جس لاکھ ڈال رکا خر
یا . نضل مرا ام ری کی جماعت نے وی خلوص سے سار کی ساد رت چٹ
کی۔ زا عم الہ ان الجزاء
(۵ا) 10560 میں ایگ اتما + ىق ھ تشخ
ارت سے جھاکتی اخراض اور نمازو کی اتعال ہو رہی ہے اور نکی رہالٹ
کان میس ہے۔ اتی عمارت می اعت اجلاس اود نمازیں اداکی جا ری ہیں۔ یہ
سمارارقہ بضاعت کے ھرکزی مور فنڈ اور لوکل اجاپ کی مسائی ے عاص لکیاگیا-
(11) رٹ لین می ال تالی کے اص فل سے ہعازے ذد زم ڈ1 ول“
5 صَٰ ۰ ۰۰
کارتہ جو شی تھا خری ہکیااو راس یر خوبصورت مسو دکی تق رکا خر بھی برداشت
کیا۔ اس عاجز نے مس رکاسنگک یاد درکھااو رجضمورے اتاج فرمایا۔ اس مسج دکانام
مر رضوان تضمور ے وی فرمایا ۔ دیکھیں یہ سیر جماں الد تما یٰ کانام بلند ہو٢
ہے۔ اس مسر کے قریب بی ایک اجک بھا یک را رما شش کامکان بھی ے۔
یو کین یت کیہ
وِشلژن میس می رکیے زین خریدری جاچگی تھی او رمسی کی جیا و حضرت خلیفۃ
بح الراع نے کچھ عرصہ پل رکھ دی تھی ۔ تضورکی ہریت پر نماکسمار نے تضور
کے بعد دوعری ابینٹ اد میس رکھی۔ صامزاوہ ھرزا مظفراصر صاحب ے اور
صافزادی امتہ الوم صاحبہ نے بھی مو رکی ہرابیت پر ناد شی ائیگیں ر رہ
.7.3.۸ بدہعد 0 ,قص1۸:ہ7 .٠۰-و:ہ۸/( ص۷٣7ن72
ایک افرد امرن احری پھائی نے جماعت کے نام مہ مکان شرانسف رکیا۔ جنزاواڈد صن الجزاء
ہے جح 005اکاتتف ۰|
391
1 تقریب پر نماض فنکشن منعقد ہوا کرم پر ری عبدا فی صاحب شائن آف
نرک نے ای ہیا دکی تقر میس شر نر کے طور رک رتعداد میں لڑو تتیم
می یی را رت ضر نے روش
کی منظوری کے بعد موجو دہ لہ پر بیت الر تن مس دکی تق رشروع بہوئی۔ اس مسر
یی یرس کے صاتچزادہ زا 20 صاحب کی امادت کے دوران مل
ہوئی ایک دیدہ زیب خواصورت وس عمارت مسو کی تقیرہوئی۔ ۔ تام ضردریات
٤اخال رکھاگیا - 88606 ں ا رر کا
ہنائۓ گئۓے۔
106 98 ماگ کے بائئیس طرف اور صا ط0 3788 کےکونے میں
سور رو نزلہ عو رتوں اور عردو ں کیل گنبد اور ینار کے ساتھ کھمل ہوئی۔ تضور
لی الع الراع نے اس مس دکے انتقاح پر خصوضی پزام کجھایا۔ اللہ تا کی دی
بوئی شی سے ناکسارتے اپنے عزیزوں رشن دارو ںکی طرف سے اور بھائُوں *
بنوں اور دامادوں کی طرف سے اور والدین کی طرف سے تن لاکہ روپ ے کی
گرانقر رم مصو دکلئے بی کی۔ محتزم لک مسحود اج صاحب جنزل تل رڑی
جماعت ام ریہ کے سط سے حضور نے ے ٢ جون ۱۹۸۹ کو تب ذیل خط ابی دعا
اور تولیت چندہ سے ممنون فرہایا-
تنم ملک صاحب نے ککھا:ے
ور ایدہ اللد کی بر ایت پر بندہ آ پکی مد مت مں اطاماً
و را کہ جحفو رے آپ ار آپ کے تام :وا قارب
کیل دعاکی اللہ تال یٰ آ پکی بے خدمت قول فراۓ۔ آپ کے
انام میس برکت ڈانے ادر تقام عزی ا نکو مزید حدمت دی کی
392
سجش 9ے _ . ۶
وق عطا رے۔ آین۔ تضور تے فرما ا کپ کی بے دنم
وا ششٹن میں جن عکرداکی جاے۔''
راس وت ازاکیگنی نب مدکی تقی رہ رچی بی ادن
ا یرت امیر ونین خیف الج الرالع ایدہ اللہ تمالی نے اتچن اس
زان من جو مر بی لن کے الا یمام حفرت امیرصاخ بک
پا ور اضہوں نے صحی کی باہرکی دید نک مرعرکی پایٹ برکنددکرداک ×ظ
را۔ اس کا وہ حصہ جو قرا یکرنے والو ںکیے خحموصی اور شکری کاٹس میں
کر ے اس جا عاصی کابھ کہ باوجود اس بڑھاپے کی عم رکے اس مو کے
0 ا ٠ کام لیا ٴ حضمور نے اس میں خائ طور
اکسا رکی ای خد مت کاان الفاظ می کر فرایا-
06 وز ۰×ط ١×661081۷6, 0 8۶8
) ۴ یئ 08 ۳۷ ] طء ط٢ 36
2726770٥ تط" ۶ة مط] ۶م ]:اه(1 ٤٥_56
هعط(خع ےا ٥3۶ق٥۶ ازم م ا×ہ٭ 5٤870415 تہ
0 ئ ۔8ابرںء ۶ہ دمذ٤٥ہ11ہ١
جرد 18صھ جو( طخ ,طانطہ8 ١ صط۸ے ط250
تر 5۸ا .۶ہ ٥ ج×عط8- 18 ۔ 877 7/18810
بط ٥ط ج ۶81815 8 ۶0۶ 8٤۴5768٥08 ٥۸۶۵
0 ج2628717 وط غ٭<-<--× ٭آ۶ ٣٢٢ )۸ہہ×”حط( 0(۶ ا
1155ھ 3٥6 ٤ ×ع ٥ط) زط 0٥ 88 ٥ط ۲٥٥. 7688
زط ەە٥اط 600 .ص8 7058 ج [1(٥ ئ([×ہ عط
٤9867 "و وط س<ہ ××ہ ٣١× هط٤ 811 898
٭×وط ج٥ ۲67 10 0٥6٥6[٤ م ۷×١٢[ ۰۹ [۷٦ ر٥طا
وز(غ ۵١ ٥ط روط دم ە×م ط1 حرط
ہنع ×ہ ة٥8۵۷٦8 ×زعطخغ ۶ہ سمنادہ: ە(×ط
393
8٤٥٥ ٤31816
(×تڈدہ ×80 20-1894 عچوص
اس مس دکی تقی ریہ چار مین ڈالر سے بیکھ زا مد خر ج آیا۔ جو فضل نا بماعت
ا یہ اھ رہ کے کمن مردول اور خوا تح نکی مارک کاوش کا نہ ے۔ داد
٦ی ذالک
ان مساجد اور مشن پاؤ زج نکی تقیبرادر خری کا اد بذک رکیاگیاجے اور احاب
کی مال بای کا۔ ان کے علادہ انککستان می اسلام آباد کے مرک کے قیام اور ت
کی حضور خلیغۃ الج کراب ایدہ ال تال کے شاء مبارک پر ام ریہ سے ایک
لاہ ڈیں ہرار ڈال ٹچ یکرن ےکی بھی سعادت ی۔ ىہ رم ٹٹاکسمار کے ور امارت
می تنک یکئی اور کچجو اک یگئی۔
ف رن می کے وآ یریک
ان ت رات کے علادہ ایک اور بھی آسانی تریک حفرت غخلی اھ الرا کی
تھی۔ فور نے قرآن ید کے تاجم لف زہانوں ج سکردانے کا پر وگرام بی
کیا۔ نحضل خدا ام ریہ کے احباب اور جھاعتوں میں اس عابز نے تضورکی اس
تی مکو گی جامہ پہنان ےکیلنے طباعت کا خر برداش تکرن ےکپ زور حقی نکی۔
الہ تھالی نے جماعت کے افرا کو مند رجہ ذیل ذبانوں میس قرآ نکریم کے را مکی
زی عطا فرائی۔
ات گریک زبان میں کرم ڈاکٹ عامد عزی: الرتن صاحب نے اخراجات
ہرداش تکرنے کے علادہ میک زبان می اپتی کم سے جوگریک ہیں ترجمہ بھی
2007
ا ا ا ا ار ہے
سح ۔کو رین زان مل
۴۔ مینڑے ذبالنا جیا
ن_ ز ,ضس زبان کےا خاجات اد۸
ھا اعت وش کات ا لا
رہ
مت یی پا ا کے
رق می ایی عخی اقآ نکی اشاعت اوران اتا تما
و تت۱
٥۲۷۹ھ 9
بر خو تین نے اپے نے ح کی تی لا جزرضن ور صن الجزاء نٗ الديا
وی سے تن کر مکی غرمت کا اک ذرلیہ جا سے کہ
سر ہہ یں تی کون میا ام نک یىی جاے۔ صد سالہ
سز ںایز ری عم سے مقر نکرک ری کک
1 پت 1
و ا
ہے رت ور تو ا ہک
وی ےک ےکا ای چان و اوح
لو ا ا ےت
فلوڈک فا مش افرد امرن
رورس شی نکو ق رآ نکریم اوراسلائی رج
یی ںکیاجار
تھے
٦
جانوحالو0 ۲۲۱٢ ہ: مصہو) نبا:7 عچصناصدہد٭ج حتصرھ _٠٣5-
پسھ سم
7
۱
روٹس رگابرجتھ سے 2 ام کے میٹ ٹڈ یپارٹمنٹ میں اک ا لی عمدہ سے اضشرے
ےک ار سمل کی لضف ضروریات ۷ ماما ت ھا ہول رتی۔
یں ق رما نکرم می کیا مار ےآ کل سفارت کے فرائ انام دنےر ہے ٹیما-
ہے“ س_۔
٠ کو ان کے ۔فارت خاشہمیش قرآ نک ری مکا حدبہ شی یکیا۔
.0ہ کے فی لن ار یا 7 نک ریم کا حد بجی لگیا 30 ۵0۵۶ / و00 ما 00۵و بر(10 8ص
۶۵۵۵۵8 نصسصۂم عط_'
جما حعت ام رمک کی ت بی تکاخاص اجتمام
نل ند١ اس عاب کو بماعت ہا ام ریکمہ کے ا فرا کی دبتی تربیت اور صلی و
اخلائی بر ترک کنا خیال رہا۔ اس خر شکیلے تقار مر 'خطبات اور خنلف ماس
می ںسکنفنگو اور زاتی ما قاقوں کے ذربعہ نی تق ک کی راہ پ ہگامزین بہونے اور اسلائی
روا تو ایا ےکی سمل اع و الین اضراب و ای نکو ان کے اہتا ںیشن
ججلسوں میں اور در فیشن میں جو جماع ت کی خر ضکیلیے منعق رکرتی ری لج ولا
رہا۔ غلافت و نظام سےگبری دای ؛ ٹرمانبرداریی اور اطاعت کا نا چہ ہہ اور
عمریراروں سے مجلصانہ تماو نکی روح احیاب و خواقن اور توجوانوں ٹل پدا
ہوکی جو سلسلہ عالیہ اریہ اور غلغاء وق کی خریکوں پر ھا لبیک کنے سے ظاہر
ہے۔ الو اسلائی تمذریب دجن اور احکام ق رآ یکی پبرد یکی تری کک ہ من
رق پ ناف زکرن ےکی جدد جم دکی۔ شاکمار کے اس ملک میں آنے سے ضیل عردوں
عورتو ںکی خلوط میلس کاازتقاد ہو ت تماد ریہ ان کا ایک عام دستورتھا۔ اس نت مکی
لس سے کی اتا بکی کسر نے سمل تر ککی در روکا۔ تل دا
کو شش جار ی ربی او رکامیالی ہوئی۔
اسلائی برددج کی طو رب مفقور ہو رہ تھا جو رکی اس بار: میس خصوصی یہ
کے پیٹ نظراسلابی پردہ کے معمولا تکو انا رکرن ےکی بر زور فجہ دلا]آ رہاجھ
بت حد تک فا دہ مند مابت ہو گی ۔ اسی ط رح ج 21830011 700117 کے کت
می اندا زکو اختیار کیا جا رہا تھا۔ خاکسار اجاعوں میں اور سالاتہ جلموں کی
نقرروں مس احیا ب کو ھا ربا اور ا ہیں آگا ٥کیانکہ تتحض ممانک می جماری
396
لی بدروجد بر قرغ سے اور آپ لوگ نے بھی ای تکا ترئی کے اک امم
رر ےر تر ہے ہش
رو اڑا رشارے اور اص عھرے ”دزوجواالودودالونود“(با اج
ا خی ا اص ٣و ای خواتین سے شادیکروجو خوب جن دای ہلاو ود
بھی۔
ری فضل مد۱ مو ثابت وی
زاب ٹپ کی ین ترک کے اب ماناک دی ہیں
7 تے ہے
ا رش تک کس
ص0 ب- 6 ]٣ء نیرون اور خطبات فی انس کاذکرکاا ور
۱ ۱ 7 کی سا یں
"۳ ا ےر وا
ا جرح نت دو ان ا ا رہ
۱ و سس یں ا 1ھ ضرورو ںکا
زاعتق خراض و مقاص کاخا خیال رکھا۔
او ر٭
کی دوستوں کے فاکسا رکوفون آے۔ تن
ماشاء الد کے رے
ور970
1
ا
ا
ا ایی سعاوت
۱ نات ا بعیدد ات
یھ
ربڈڑانڈین ےاالطہ َ .
5 ۲ 7
خززہ ملح الرع ابیدہ اللہ تا یکی برای تک یل مم ریہ انڈین لیڈ کو قر نکریم کا تحنہ شی کیا جا رہ ے
راپلہ کے علادہ رم براد۸م زم صاتمزادہ صاحب اود ناکمار لیر سے مح رکفو میں
15131 207 إشروں ے ذالی
397
رید اھ آف موا کی ماس ڈادئی لات ی کہ ا نکی طرف فا 3ج دی اور ان
تک اسلام کاپنیام بپنچانے کاسلسلہ جار بی رگیں۔ ان کے میک اہم لیڈ راو را نکی
2۷ط لیگ ےھ چیا ہے رر کی
سے آنے دق مارے ساقھ رہے۔ا نکد قرآ نکرع کاذ بی لکیا۔ ا ری
کے اح کی ا نکی ددایک تقو بریں بی لکررپاہوں۔
ری یلاس
ا کی یکا یم ین سح کی وا
۱ اج دتی۔ بے بڑے شمروں میں ہماں جماعت کے افرا کی داد نیت زبادہ تی
۱ وا ان کی رمیت کی اور تی تیم کے سلسلہ یش خصوضسی کلاس کا ام قائی
جمائوؤں ے زے الام اور مقائی لین کی گگرانی میس جار ی رہا- نے
۱ اشن می اور ارک اود لاس انز بت پ کی کے ساق ہے خر
گلا مز جار ی ریں۔ اص تقداد بش ناصرات بھی ای کلا میں وا ئ نکی ران
یش تلیم کے ححمول کیل کرشاں رہیں۔ خرت خلیفۃ اچ الرابع ایدہ ایل ے
اپ ایگ ا٥۷1 کے دوران ورک
گلا کا معاحتہ فرمایا۔ بچوں سے سا قات
ے
ا ا نک اچ ہدایات دسا سے آوازا۔ تہ اڑی تی کا ڑک وڑرے ب۷
ا- بی کلاس زین پا سی اور مساجد یش ہضۃ دا قجل از نماز رای مل
علادہ ٹچ احبا پکی گرا یں جاری ر
چو کو وت پر ل ےکر آتے رے اور ہرنحکن
انھول ےگیا۔
ہیں۔ والاین ذوئی و وق سے ای
اون ان کلاس زکوکامیاب بنائے میں
ا فا درس نیعت پا ام رز کی کی یں
۱ ما رم-
۱ نے وو ایک عم ت٭
۱ ٣کت ۰
١ ے تو ۰
۱ کے وی
داز تکاجوا کی دا ٢۶ ۸<
لا کا عنطد عط؛ ١٥٥88 1۷ ط[كہ (۷۷ لاصظالعط۴ 2٥٥ إْ
۱ تٹت
1 سے
عرییہ کے اعم ضام
6٤ء( غطاعتها داءمزماں5 کاتملا ۸٦٥۷ ص۔ دعول عصنمنہہ_ ۱
7 11:6 نصجھا:] ١ص اھل80 بطا ز11 ٤١ ,م۳۵۵نو) بزا10 عط ا
ا :
۲ ارات ری" 2
کے سرد اماز تا تک مار یر3 اکنا
جس حرف میں ماکسار 7 0 : ا
> ث ا2 .7 ۹ ا ھا 1 ۱ ا
سے را ا سا نکرنا ا نی نیل ِ ۴۰1 ۱
7 نیم برا کوجو مشگلات ٠
یل وا ان ا و ٰ
۱ تمکلیف دو شی ہے ہک نکی مدامات می ٰ ٠ ْ
1.۹ رثات 29 5 تَ حترۓ ظلیفۃ ا ا کا 7 ابی 1 : ْ
۱ ۱ ]جوالداات 8 اکتان ھا 4 و سی و ١
ْ می مہ اور جعیت کا اضاس جو گے : : :
ٰ رٹھاۓے گے انا
۱
2 ل۷ سس
۲ تق یقت ارت ے اذیت نان ع 71 .:.
ٰ ۲۳۲ .ا خیب اس علسلہ میں اڈ
یں میس جق کر دانا جا رہ تھا یہہ
239
جح چچ چک جح ے جح ےس سے
انف کے ایل او روص داد اشرزن رمیا رود
ےم کر اتا نکی عکومت کے اس خلاف انسایت اور اضائی خیادی عقز ق کی
خلا دد زی پر پروش فکیا اذہ ٹل اخ تکاکیس خی یکرنے ادرانہیں رد رق
افراما ت کی لج دلاانے کا لان ر ان سے م لکر سلسلہ جارئی تھا۔ کی.اخبارات
ویش دنر صانب الراے اباب کے ذرلعہ بھی عکومت پاکتان کے غراف
اضانیت طور و طریتوں صرددکی افرامات کے جاے رے۔ ای رور یں
اشن پاٹ جو امری کا ایت زم دار اد مو تراغیار ہے اس کاخاص مرا
دل ے ربوہ پا اور ئی شمادت کے طور پر ج عالات اس نے وہاں کے اور
انان کے دی شیروں کے جماعت کے متعلق دی ایک مفصمل رپورٹ اس تے
اپے اخبا کو جوائی جو شا ہوتی۔ یدارک ٹات بھی بت بی اہم اور حا اخبار
ہجوز دی کے می انان نمیادٹی تو کی لاف ورزی اور اذیت ناک
واتقات ہو جماعت کو پاکتان ین در یل ہیں ان کے نامہ نگاروں تے ٹوب
اپچھالا۔ ممارے ملک کے ام اخبارات نے ہے رپورییش شا عکیں۔ پ عونت
ڈہپارنمن ٹ کی ہماری لگا تار لاقتوں اور امہ نگاروں ادر اخبارات کی رورؤں
ےآ را نے ذرت دن کی الات ریو رٹوں می لگا تر اکنتا نکی
وت کے خلاف انسائی و کی ال پذکر ہوم رہ۔ لا ملق اکسا کان ال
ام اور افروں س ےکی درجن مرحبہ لے کا موقع ما۔ خاکسار جب بھی لے جات
ود کی صورت می ٹے جا اور وفد میں ہریار حتزم صاتزادہ مرزا منلفر اع
صاحب' پراور مظثر اصر صاحب ظفر اور نبنض خواتقین ماس طور پر سس ٹر شور
وریہ اور مسزعا کت شری فکو ساتھ لے جا اور یہ سب مناسب انداز می با گر
یٹ ڈیپارٹمنٹ کے افو ںکو متا کرتے۔ ان مطا او ںکی با قاعدہمرکزش
400
۰ لاح حائی رئی۔- ۲١
تیر می ای مات
ڈےے کا ےس ےچ ے
۱ 2 شا 5
۱ دی خلیزۃ امج الراع ایرد اللہ ار دک اع تک دی اظلال
ٰ ۰“ ھ0۳018"
۱ شا جن لم بج یبھہ غرم ت کا مو لا َ '
۱ لت ا یں 6 ھ7
"۲ یح ا 02
إ کن کک اتکی حرف سے کا
۱ 1 زی حور ےو ف ودنا
۳ او وٹ
0 ما کو ا جے خلا می ںکھا:- تی | تر چخوڑک رآ نے ہیں
5 7 ل7 ) تا بت بی جا
دی زی ںآپ لعفلہ ل و و
ک لے وا ےآپ
إ ا ھی وش را یں وت ات
٦ ۱ ۶و 2000
۳. ےار ۱ 2
۳۳ وی یڈنم سے کی آ7 ئھیں محل کی دٹا۔<
٦ وپ 0 990ر
5 ور و ا
ً۱
۱
* و اف رہ لی زاکک۔
ا _ ور احافظ۔
تصوص] فرید کی اکا ۷ ط[ك۸/۵ اامطنلعطکا ہا قنع مندە ہم ع00 عماودہ8 78
401
و شگٹن علشن ہو مل میس تضو رکااتقبالیہ
ححفرت غابفزۃ الج الرابع یرہ اللہ تعالی بنھرہ العزی: جب بھی سار کے دور
ارت می اع یہ تخریف لان کو نابیاں بھی و یں مان عاب کی ا
یکہوور: غ فیا وو مو من ا کت ناج تقو رکرو ےار
ہوں۔ جب حضور لی وفعہ تریف لا پے مززین شمر جن میس میٹ اور
کپگرلیں مین بھی حضو رکی ملا جا کیل عاشن ہل میں جو تضور کے تشریف لانے
ہ3 :716 ھا تخریف ا ہے۔ فضل خراکثڑت سے معززین اھران اور
گان اتی اجابپ ہے علاوہ خی راز جماعت احاب بھی شوقی سے مال
ہوے حضورنے ولا تکرے کابھی عا ری کو وع ریا الع کے جوآیات گن
کر وحاب ملین ہوتے۔ اس موٹع بر مضور نے مخ رمطاب بھی فرایا۔ سے
۰:ن*چڑ نے خضورکی طحزت میں فہ بھی پٹ لکیک اس مق برا مظفراجر
صاحب ظفرجو ان دنوں خاش ال تقریب میں ڈیٹن سے واشگشن آۓ ہوۓ تے
اور تضور کے لطور چیف میکورٹی آففسرتے |نموں نے جضو رکاتار فکرایا اور
جو ری اجازت سے ناکسار نے عانشرین سے بد رخواصت کی کہ اگ ری کرت
لان نے یھ دریاف تکرنا ہو نز بڑی خوشی سے سوا لکریں۔ تضو رکو جواپ
ری اک ا ا پروقار تقر ب کی دو ایک ضو ہیں
۱ قا تین کے ماحظ ہکیلے پیش ہیں اور ری واقع ہک یادکا ر کے طور رتھی۔
ا رک دم و کے کے وا وہاں براور مظفراجر ظفرو
4۰02
ڈٹن میں بی ایک مجگمہ کے رکن ہیں ودہاں کے مین رکی صدارت میں تضمور کا
اتقیا لکیا اور جحاعت نے اس موق بر سب شال ہونے الو ںکو عصرانہ کی
وعحوت وئی۔ پراور مظفر نے حور کا تار فکزایا اور تضو ری مساگی جمیلہ کا
خوبصورت ان اڑطیں تزک ,کر کے سا شی نک وم تی ضکیا۔ جھا گنی خد مات کا خوب
زگ رہواے
مرن شروں میں تضو رکا تتقبالیہ
: اس دورہ میں جب تقور یدارک تخریف نے گے تے جماشی اجلاسوں اور
بو ںکی کلاس زمیس شمولیت کے علاوہ ماکسار ن ےکولمدیا ینید ری جو اھ رک کی ایک
ام یووری ہے وہاں کے پ وفیسروں اور ططباء سے لٹ کا ظا میا۔ تضور وہاں
تشریف نے یئ ۔ لہا کے سوالات کے جوا بات میس جضورنے من رتطاب پربایا۔
یہ سب سیفئ ربا تھے جو 11.10 کی تیاری میس محروف کے
ھرزاطا ہراچ کی نیویا رک آمدس یر لی ںکانفرٹس سے خطاب
ا کے وف و ای نی کی کے
: ای مد یکی شرکت
7ئ انام
واشکین می ںکزشت مت الیک ئی مین کے اکا ح کی مخریب مم میس
آئی۔ سیکا نام بیت الر تن رکھاکیاجو لن ساڑ ھے چچار مین ڈال کی
ات کے معمل مو یت ےر نے ای سے اوت کے موک
٣ ۹۶ 9
نزاندہده۷نھتا دنطسمام دعلدەجرہ 1۷ ط(ہ/۷( امصطظنلعط۴ :<5
403
توب اجکی د را جح کی احاب سا کی دنا سے شریک ہو ے۔ میری
لین مان بہ مد تی رہد گی بے کے کانگ ریش مین اور دجگر سیا کی و ابی
ہن ماس قریب میں شال ہو ے ۔ تقری بکیکارر وائی تمام دنام
ڈشی اناگ ذ رمع بی کاس ٹک یکئی۔ اس مجر کے قام ا خر جات
جماععت اجم تہ ام ریہ کے ١ر الین نے جع ئ۔ جماعت کے م یراہ
نے اعلا نکیاکہ اس مجر کے درد زے ان سب انسانوں بر کھ یں
جو ال کی ذاعداخیت پر لین رت ہوں۔ اخوں تے اعلا نکیاک
مار اپغام انمانی تکیلیه عبت کاپغام ے او رب ےک ماری تقر اوزوڑ
بروز بڑھ دبی ےکی و کہ ہم جن پر ہیں۔بعدہ حخرت مرزا طا ہر مز
صاحب مورضہ ۱۸اک ب رکو نویارک وارد ہو ے۔ مور ۱۹ اکر
9 9 8
ھ گی سگی د سای تحضیا تکی طرف سے ری گے استتتالیہ میں
اشبارئی نمائندوں سے بائیں کرت ہو نے سو ال و جوا ب کی ایک
ثقست میں بھی شرک تکی۔ اس امتتبالیہ تقریب میس پاکستا نکی ایک
5ھ شخمیت اور تار انم ا و ہک لواسف
ار وع اور اسعلاٹی اریت یکو نل کے ڈائریک ناب ایم پی مھددی نے
شرک تکی۔ انی امتلیہ نقریہ کے دو ران جناب بیانف پار ون تے
بے زد دا راو رٹل الفاظ ٹین اس جات کا قرا رکیاکہ پاکتتان کے
بنانے میں جمااعت اجب کا بجر رادر قائل ند رحصہ ہے ۔اىی طرح
آزادی مشیر میں بھی جبماعت کا بدا حصہ ہے۔ جماعت کاکھنا ےک
ات بے زی 1قام تبز لآ خابرق غرضت يد
44
قرآن ید کے بے شار زبانوں میس تراجم سے عزین ہیں اد٢ ازیںی
لف مرا جیب کے کر ام طالادہ کے لعد ان مرا ہے کے نا تۓ ذالوںی
کی رد جنمائی کے لے ہر طر کالہ رس اکیا جار اہے۔ تحمو صا عیراعحیت
سے متحلق وا فر مقار میں رر موجور ہے۔ یاد ر ےک بماعت
اج بی لو رپ ؟ ام کہ کنیا ا فریقہ ادر بے ار رو رے مالک
یس اسی مکی عالیشان مساجد تقی رک گی ہے جو دہا کی مقائی آبادی
کیلنے رہہمائی کاموجب خابت ہو ربی ہیں او ر مخا لین جماءحت کا کھنا
کہ یو رپ ام ریہ می جماعت اچم ی کی خمام ماج دکو تا نے الک گے
بت
۱
405
۱ جب جضمورکی خد مت میں خاکسا کی یرٹ ین ہوکی تو فرایا:-
نز اکم اللہ سن الجزاء جب سے آپ نے کام تتبھالا ے غدا
نے قد م آکے بڑہان ےکی فو بی نٹ ی ہے۔*
(خطبہ اافرو ری ۱۹۸۷۲ء)
ماکسار نے اپے عزیزوں اوز دالدی ین گی طرف سے خجین لاک روےے کا وعرہ
صیر وا شش نکیل ےکیا تھا۔ تفضل خمدا وہ وعدہ را ہوا۔ اور جھی جو وعدرے ناک
اص دوستوں کے تھے عابتز کے ذرلجہ ا رے بہوتئے۔ اس عرصہ میں دائیین الی الد
کا بھی اضافہ ہواں میعتیس بھی منعدو اطاب ت ےکییں۔ حضو رکو جب ان اممور کے
ون ایک ان بد پاچ بی بات از ایا یک رر
ذیلی چ پر رجو عکیاجا سا ۔
7۷18810٥ 1006
7 -۔--781-101
1701118, 71.۴ 86-71 ۲۶۸1۱ 78323
۳١ا: 118 410 5
جماعت اجھ نہ نیوما رک نے اپنے صدر تر مکرم نے اج ایا زکی گرالی ش
اس استقبالیہ اور یر یں کافس کااجتما مکیا۔ جز اعم اللہ ان الجزاء-
مساجد اور مشن او سز کے عطیات کے علادہ جو جماعخت نے فراغدی سے ہل"
تفضل دا لازی چیدو ںکی طرف عائز خاص تج و] را۔ جب خاکتار ۱ا
لک میں آیا اس دنت جماعت اریہ امرمیل کا سالاغہ یٹ لازی چندوں کا تنآ
لاکھ ڈالر تھا۔ جب نماکسمار نے امارت کا چارج دیق اس وقت ۱۹۸۹ء یں سالان
یٹ لازیی چنروں کاپند رہ لاکھ ڈالر سے زا تر تھا۔ گریگ دی اوز ونٹ ہدید اد(
دو سرے طوگی چندوں میں تی غاصا اضافہ ہوا۔ وکالت بال انرن کی طرف ے
پاروٹش اطلاع طی تو حصب زیل خط حضور نے خی فزایا:-
بسمالل٭الرحمنالرحیم نتحمد٭ونصلی علی رسولەالکِریم
پارے برادر مکرم تچ مبارک امر صاحب
۱ الام علیکم و رح ایدو برک
پ کاخط محرر٠٭ ٠ ۱۹۹۰ء موصول ہوا۔ کس ےآپ
کی تجلبفی و تزبق مائی کا علم ہوا۔ ۸ میعتو ںکی اطلاع بھی گی۔.
الحمدلِلَءاللھمزدوبارکوثیت اقَدامھم
ان :جات سے خی کی کہ وا کین مس نے لے پت ایا
وعدہ پور اکر دیا ہے۔ جز اکم اللہ تھالی ان اجزاء۔ آپ نے ککھا
از لے ای عم رتنم 0 ۱1ک نے یں
زا عم اللہ تھالی سن الجزاء۔
اللہ تقالی آپ س بکو انی حفظ دامان میں ر کے اور جزاے خر
عطا فرماۓے۔ آپ نے لکھا ےکہ ڈ اکر راجہ نصیرامر گور صاحب
آپ " : ۷- اش قالی ڑے) اماررت یا
کاس ماف ور رس رت چپ 7 شک تبدٹی
رت ۱ اس ماب کو مففلہ تال نوس ر۱۹۸۳ء سے جون ۱۹۸۹ء تک امارت کے فر ئن
داللام ا مہ داریان انجام دینے کی لی لی ۱۹۸۹ء می عاب کی حم تک یکزو ری اور
ڈاکرار ری زیادکی کے بائث حضور نے مناسب کہ اىار تکی ذمہ دای سے بے
مر اھ فیک رر ن ججپے ے ےت
1 دا بں ور سے وایشن مس رہ رہے تھے اور ماکسمار کے ناتب امیرتے انہیں اب ج کہ وہ
موی معروفیت لگا ادر جماعت کی رت ول تک اور دو ھرے اداروں سے فاررغ ہو گے تھے انی امارت کا ارح راوا
۱ ا ا ۶ من مرف ز : یت مقار
۱ خرن ےس و ا ںی ۱ ار لے فوددی طور پر مو ز کے ارشادی فیک کی زم ضا زار مان
۲ 0 7ت ایک گی ارجم تماعت ا نکو خاس عزت د اترام سے دچھتیق ے۔ غی راز
. ات لوگوں میس ان کا ایک خاص مقام ہے۔ خاکسمار کے ساھ انہوں نے ولی
و کیہ توق فھاا کہ خمابت انت ےۓے فرمانبرداری کاسلوک رھا۔ جب
5 گی خاکسار نے الن کے ہپ دکوئی کا مکیائشی ری حیل ذہجت کے ٹپاری مور
کے ائے انام دیا جن وفع خماکمار عثرت خصاجزنادد صاح بکو خا مور کے
ای لاس تا کر نے کی درخو ام تکر؟ بے عدکی سے میری داوف ات
اور ان ورڈ ںکو تا رکرتے۔ جب بھی خاکسار نے انی بلایا کسی مخورء یا
إ| کے کل می فو زا تحرف نے آے۔ اطاعت ار فرا زار یکاپمتین
اد عاحب خدش کے مات شی لکرتے رہپ دو ایک وفعد خاک َ
وا کدا۔ مشن اوس عیادت کے تخرف لاے۔ اکسا رکیل دتای۔ عیارے
ے عرفٹ ایک دورہ کی دو اف پان کر
48
گی۔ بض وہ اروے نج کیہ ہربار مامت مفید اور شی مخورم ریا۔
خاکسار لن کے الن یگ رو اور جذیات کات ول سے ش رگزار ے اور ان کا
حون جزاہ الله احسن الجزاءفی الدنیاوالاخرہ
سْ-
رٹ من ٹ لالہ
امارت کی فمہ دارئی سے فارغ ہوئے کے بعر جور ار ے ارعاد پ>
خاکسار دو سال تک مشنرکی انچارج دہ۔ اس عرصہ میس خاکسار یہ مس وس کرت راک
تضمور اکسا ر کی عرکی زیادتی کے باعث يہ چات ہ ںکہ مشش ران ہو چاؤں۔
ماکسمار نے دعاؤں اور امتماروں کاسلسلہ شرو عکیااور بی مناسب معلوم ہہ کہ
اپ ریائر ہو جاوں۔ جو رکی ید مت میس درخواس تکی اد رکھاکہ یں نے نواپتی
زندگی ام آنخ تک وف کفکی ہے۔ ریٹائزمنٹ کے بعد جو یھ ہو سکا سلسلہ عالیہ
اتی کی بی حدم تکروں گا انشاء اید وباللہ التو تی حور نے محتزم ام رصاحب
گوارشاو قرمایا:۔
”صاح بکوعزت داتزام سے ربا زکیاجاے_ے "
7 رت امر صاحب نے پورے وٹار اور امام ہے خاکمار کی
ریلائزمنٹ کا فیصلہ فرمایا اور ۵ می ۱۹۹۱ء کی تار مقر رکی۔ ملف اوتقات مں
لس عاطیہ کے ممبروں اور دو سرے اواقات میں یاددلاتے رے-
ماکسما ری خوائنل ہج ےکلہ ان خی دنوں میں جو ریٹائرئنٹ کے سلسلہ میس خط
وکتابت ہ+وگی اس کے لت ضروری اقتباس ہارینی باد کے طو رپ در جگردوں۔
خالسار نے دعا اور اسجارہ کے بعد جو چھا اور و چا اس سے حضو رکو اطلا ع کی
جور نے اس پر حضرت امب رصاح بکو خاکسار کے بارہ میس عزت و اعزام کے
اھ ریٹائ رکرن ےکی برابیت فرمائی اور اکسا رک وککھا:ے
آتے ےت
۱
40
411
سج ےت اعت سے ہے سے
۱ کے ا اب خی ری ور ےہ
سان و ۱۹۹۰ء 1ے مایا جاے۔ اچ رم صا تا مزا مقر اضر صاحب کے نام
ات یت کے ایل وکیل امنشیر صاحب نے لنن سے کھھا:ے ۱
۱ ھت : لام علیگمؤ رح ل3ی کان یم دترم صاجزادہ مرزامففراجر صاحب امیرجماعت اح یہ امک
7پ کی رق ت۱ضا نکردہ خط ین ےھ لا ےن دعا الام مم در حم*اللہ وب رکا
رورض رک شیع ےن ھکر ےون ا سا و یا مارک مر ساب سے رپ وروی
وت وا ا سو 018 0)0( ایالد سے در خواس تکی ہی ےک ہکدری گحت اوز جب 89 ۸4۲ اور
سا ار کا ای رت الاک اج اسر ےا ج ہو
١ ۱ کن اتی نے اق رین کے مین پناس انز ملشن نود نے راہ ےک رم کی ضاح بکو عزت افزائی کے ما ربا کردا
١ ْ 0007ء وش یر و تر
۱ اکر چہ ایک ملس اح یکی طرح وف فکی رو کے ساتھھ لو بیشہ گی زیو کے پیٹ نطرا نی ریا کر دیاکیاہے۔
۲ عا ضراور ممقعد رین گے۔ این ا گر مناسب کججھھین و اس بار وش واظام
۱ سے خی رک کس کر تی کا رت ض تع عال از ماکسار
- 2پ 90
کے ایک مخورہ کا رتک ہو۔ ملا آپ لگ تع ہ ںکہ جھ پر جو وم مارک اج مات
داریاں نے عمرکے تقاضا اؤ رکرو زی بت کے باعث مھ دش ا نل وکیل اتیشیر ادن
9098 کی جن
انف ےہ مھا جا ےک کہ میں بیشہ غدم تکیلئے تار ہون-:٤ ہم
ان یو رون کے یی نظ رآپ سے مخورہ کے طور پر ورخواست
٢ ۱ 29
۱ اس کے مطااق حضمو رکی غدمت میس خاکسار نے درخواس تکی جس بر تو رکا
412
سم اللہ الر جن الر تم
عوالناصر
ا مار جج ۱۹۹۱ء۶
یح حفرت غلیفۃہ الال راع ا یک اللہ تالی بتھردالعن:
السلام عیکم رح" اد ویرکاھ
میرے مارے ]16آ پ ۲۴ ؤار شاذ مض ۹امازن بر دحتم وکیل الیفیر
یں یی نک ییحی ان کا ات
آتدہ کاکیا بر وگرام ہے" اس وقت رییائرمنٹ حضور کے فیصلہ اور فظاء مبارک
۴ے پک ات ا ا یا
ہے۔ یہ عاجز سلسلہ عالیہ احریہ اور خلافت حقہ مبا رک ہکاادل غارم ہے ۔گزشت خطا
رت ا وت لت و رت تن
تھا جاوں۔ انتاء اش شی المنقدور اس کے انام دیے ٹن رات اور ون
رت صز تل
طرف ررجخان ہے۔ زمر نظظرہے وی ای بر حتحصرہے۔
عزیزہ فیرہ ہئی۔ اللہ تمالی اسے جزاء تردرے۔ اس کااصرار ےکمہ تم ان
کے ماس رہیں۔ بوجہ اس کےکہ نیہ دوفوں اپھ یکم عم رہیں۔ ان کا تقاضا ےکہ بج
عرصہ لن کے پا رہیں اور ہار بھی اس عرش جو بڑاب کو مم سکر دپی ہے
0ھ
43
ایی صورت عال ہے کہ سکیا نہ می ع زم کے پاس ریں۔ جحور ے درعاکی
درخواستہ ہے۔ اللہ تھالی ہم س بکی ردب کم تکی صو رت پیدا فراے۔
حسببااللەوتعم الوکیل۔نعم المولی وتعم النصیر۔
روگرام ہے۔ اکرچہبیشہ سے بی تنا رعی ہے اور ا کی اتی اور والدی نکی
کی اور ےہ زندگی کے آخری مہ ت ککی نی رنک میں خدمت دی نکی
پا رہوں ۔ کی اور مخفلہ ےک یکوکی دپی نہیں ہوئی نہ تھی نہ اب
ہے۔ صرف ایک بی تمناکہ متبول حد مت دی نکی سعادت زی کے آ ری لے
تک لفیپ ہو۔ وماتشاء ون الاانیشاء الله رب العالمین
اب ج بکہ رشحتی ہو ری ہے۔ حضوراہہ عاجز آ پ کا بے عد ممنون اور شگر
گار ےکہ اس نلالُ اور خطاکار او گنا گا رک آپ نے بیشہ اپے دور خلاقت
یس شنقتوں سے اور پیار سے نوازاادد میری غخلطکاریوں پر تشم شی فراتے ہوے
اکچ اس قائل نہ تھااب بھی اپنے پیار سے سرد رکیاہے اور زم ارت اىر
صا کو ارغار فمایاکہ خاکسا رکو تعزت افزالی کے اھ رطائ کر دیا جائۓ'"
کی ٹیل میں انموں نے جھاوں اور موی نکرا مکو مرگ جاری فراویاے اور
_اکسا رک و بھی ہآ ج ہہ سرکلر حور کے خیط کے سا ہرمت زایاے۔
دی دعاجۓے اور یش سے ہے۔ جب سے وش سنبھالی ہے۔ خلا قت کا با رکت
اظائ کیا بے عد برکنوں سے قائم ود دائم رے اور ہے بھی پیش پیش رحت و
قاظت کا موجب بنا رہے اور تقور کے زور سعاوت شی اسلام و احریت کو
موی اود نھیاں فڑعات نیب بول اور عم ایت اتی ری شان کے سا
آز_
414
اری دا راے گے اور داکے ول وپ کاو مدکی خیے الاک
ےر ا زع ای و شا ارت اتا بن
والسلامے ماکسار ۱
ع رتے_ و رک اد لی غادم
تاج دھا۔ تچ مبا رک اجه عئ اللہ
" زل خی( مصول ہوا۔
اس کے جو اب میں حضو ری طرف سے مند رجہ زیل خط ختوصول ج
بسماللهالرحمن الرحیم
لنرن
2391
ارے پراور مکرم چ مارک اص صاحب ٰ
: ]لام علیکم و رح الد و برکات
1 جن 5
آ پکی 79 حررہ٢ مارج موصول ہوئی۔ جس مم .2
1 کم متی یک مشن پاؤس خا یکر ذیں گے اور آ پکی بقی سار زندکی گا
بجہ
ساسلہ کے لئ وقف ہے۔ بت ز1کم ال تالی صن الجزاء فی لخاد الات 7
یزرمت ۱
45
اطم می ھ عال پا بر یر کے
او ددوں جما نکی لاخای سعاروں ے وازے۔ے
مان الا رک یا ا مش خاکسادکیاد رگیں۔ زم الال
وا للاع
ماکسار
5 7 اطاہراھ
وڈ و جوا وی ہہت
کے زا کا یں ا
کے وہ
ایک دا سے بعد تہ زی شی و ما
دی طور پر یاد رہے۔
کے انار ارروں
فداکے ٹفل ور تم کے سا
الام
یت یدک د شی اھ ال ین ای ہکم اللہ لی بر اب
الام میم درجم ایل و برک
ا لپک مت ان ہی ہی با رک ری
کی بھی ماتریناپے اور خد اک ی تاب طس آپ ]ز لا : :
تھا 1 کے شال عال رت ۴ کرت مز یدہم صامہ اور عنوری سا وزرو کر ےت
ری کی راو اٹآ - "
یس حم ادا ی عیریں نعی بکرے۔ آمن
2 2 عطا . اے۔ 84 7 7 میں
١ "00028 ہے بی وف عر تل ورہنڈے
اتی زیت مخلص اور فدائی رفیقہ حا تکو مرا بر خلوص سلا مکی اور فا گا تھے اور اب عقیرت حبوبیت میں شال ہر 080917
416
سس -سسس-۔۔--سی- س-س-سملس+چوجح-ىو-ى- سک کک
۲ پ کی باقاعدہ دغاو ںکی فی می ے۔ اب رمفسان السبارک می خد سی
وچ سے عق رہ ے۔ اسلام اص ی تکو آپ کے دور ناوت میں خی مو
عفمت و شوکت عاصل ہو۔ ین ما رب العا لن :
سیر ی!إحضو رککرمت نامہ مورخہ ۲ ارچ ۱۹۹۱ء ما۔ فور نے خاکسا رکا
رختی بر جس شفقت اور پر کیک تمنائؤں اور نمایت تی دعاؤں سے اس ماج
وو زا ے۔ 1رہ خی ضکروں تو یق کا مار ہو گاکہ اس رجھت یکرمت نام
کی شال اس رنخھتی خ کی سی ہے جو ایک ہد ردیاپ شف باپ' خی رخواہ باپ انا
ٹکو سکی ری بر تی رکے ساتھ و لک یگرائیوں سے اپقی تموضصی اور تی
وواؤں سے عتط کر کے بٹی کے حر پاقہ رک ھکر اسے پی یک رجا سے اور رخصت
ےن ےکنا لو بی ماک سر خضو زا آپ نے جھے اس وت ری
کے وت اس س ےکم سلوک نہیں فراا کہ بڑ ھک رھ بمت بی دو رص اد ر تی
او ں کا خفہ و ےکر رخص تکیاے۔ تیگ نت بٹی انس خ لک ا تی راہ اور ِ
مت پپارا سرانہ ھی ہے۔ سین سے ڈیاکر کھتی ہے۔ با بار ڑم ہے۔ پچ تھا
کر کا کچھ حال اس عائز عائ نکی تیک بنت رفیقہ حیات اور جک رگوش نار
کر ںا کے وھ سے
آپ نے بے ساسلہ علیہ اضریے اور لات کے ری خادم۔ ۵۸ سال غاد )۷|
ووتوں جمانو ں کی لاخانی ٤ ؤ 4 ْ7+۷ہە" و
الزاء
حضو راہ عاتز غارم ے۔ نادم کی رے گا۔ بی اس عاجکامقام ہے۔ اا۷
انام نیک انجام کی تنا اور وعا سے۔ تضو رآ پ کی ای وعاوّل کا حا
417
واللام
ار
: با رکن۱ھ
تضورکی طرف ے ماکسمار کے مو رہ کم می ۱۹۹۱ء کا تب یل جواپ
موصصول ہوا۔ از راہ ہہ ریالی اس خط میس بھی تضمور نے دعاؤل ے توازا۔ من
بسماللەالرحمن الرحیم
تحمدوؤ لی علیٰراکوت الکریم
پبارے رادرم چ مارک ام صاحب
الام یکم ور ح“ اید وبرکا٭
آپ کاخط ھرسل ہکم مکی بذ رجہ فلس ما۔ اللہ تمالی آ پکی سحت
اور عمریش بکت ڈالے اور زندگی کا نا دور بھی پل کی طرح
میارک فرماے۔ مد اتھالی کے نفقل ہیشہ شال عال رجں۔
عمز بیز فرید ہاور عزیزم خو اع کو بہت ؛مت پیا راو را نکی والرہ
کوبھت بت سلا میں کان الله معک "
والسلام۔ خاکسار
رز( اطا 2۱ھ
17-5-1
٭
امت
418
ا رین جھاع تکی طرف سے عزت افزائی
جیسااکہ عرش کر جکا ہوں عخرت ام رصاحب نے خاکسا رکی ریٹائ من ٹف کی
رن ھ می ۱۹۹۱ء مقر فائی۔ جماعتو ںکو اطلاع دی۔ خخاضص انتظام فرایا اور
ننس بجماتتو ںکی سالانہ شورئی جس میں نھام جماعتوں کے نہمائندگان اور
جس عالہ اع رہ کے نمائنیرے شال تھے۔ محتزم امیرصاحب نے اکسا رکو اپے
اص ایل رب سے مندرجہ زیل الفاظ سے یاد فرمایا:-
۸ ا350۸ ۲٢ ح705 00ذ اتا 7۲۸77۷۷
87 137۸10م کل مل خ۸ظ3110 51171181
177 1118 0(۸
0٥8۸ 1۸7 ۷ط
حاعانەعط8 حص ھا١٥۸( ٠١ص رط مد ا آ81 ۲۱٢ دجھ
۸ ٤ع وطے ط5 ۲× ہ1881( ,طناطة8 3ا صط ۸ ء3۸053۶۵(
1٥8 8 ٥٠٭6)؟۶د 1991 ,5 ئ5۸( دہ ٢:٥ ٣٥٥٣٥ 806 ة1
8 1ع 48٦٥١ ه١ ٥11815
1١٢۲۰ (۲۸0۲٥٥١٤ صطھ
08.0 ++ +90
4× ص عط' .ط18:] ل×دت
1 ٥ہ ۶۵۶58311٤٥۵ ۲۷۰م٥۴ ۶ہ ء ٥۴ھ ط٢۳1 صمتاء 1۲05
۴٥ 158 (18105131 ۸8۸18 60168 58 م05 36 .2-۰2
۰<ہصمط ىّط 15
8٢ط ۲ہ 10ء صا 118 ۶۱3۶۰ عط) ععط طنطع8 طعانەط5
صة ۔ ١ 60 ٥٢٥۶ 108۰ء ۶<ہ۲ ترانصد صحدہء طط :٦ة
1ء ۶ہ ل۱م۶×م ءعط ١5ہ ءءنمزہ <×دء عط طء زط ×مدصوط
٭۷۰۹۶٢) 1٥٤٤٥٤٥ دج عصدءعط ٭ 1 ۔صدمنا ۶ ئناہ8 11ن
عط ( ہ11 ٭نط جٛٔ(ع3٥16م عہ د۵٢۲ ٭ 8٥ ((21008
49
صےے_۔''۔"لے_۔۔ہےتےز۔۔تیتسصسٹتسصسصسسسسے ۃےٹس۱جب
8 0111168 عنط قد تانصسصسحدہء عغط٤ ٤۲ہ و زطوء
318۰ 8 ١816ب 110[ ط× 8٥ (م
7 ٢۶۲ھ .788 ص۸ دہز ہہ88:[(11 ٢٣۰۱۲۱عء 6ا
٤ہ ٥٦ء 0لمٗ ط٤ 30008 ۲٥9۹٢ )1934-1962( 81 ۳٥
08 4ص ۱ دہ صتا برہ60.: ص3 (ھ عط ہم 6٥ 1 ممتہم تد
6 ٥ہ 510 ۶۵۸۸۰10) عط٠ ہ۶ ع صتا مظزدندہء ۲ہ ×مصوط عطل
ہ۲ ۲۵٢۱٢٢ 0 گچحعما( نلنطد×5 ھٌذ و راہ5
طط1 .٭داہ[٣ طۂٴذ ۶۲۰٥ ہ٤ مط 3ء 21ص۸ ]مو7
٭صط ۶ہ .1.9 .7ہ ذا :06ا1 عط ٥د
8ء 2۶۰۶ھ ٥٤ ٤۵ دہ مد ع(مقد عنط م۶ 0٥ط .٥۵٣و7۸0
01983:18 200.1979 .تا صز ٭ج ×عطع15 نر×ءوصمنەئنٹ7
۵۹ء معط ە٭ط ٭×٥ط٢ .ش.5.آا ئ٠ ٥۱۲۷مص صعتععم ×6
١ط 0.5.۸ 4ج8 .تا طاەط 15 ٥0× 7 ٣٥۶۶. ٤98ا عط
٭طا ×0 ٤ععط ة٭ ×۶ ہ٣ قصہ ٤ہ ۴×٭ظصذ لوز ٥وہ عا٥ہ
ج ٥۸و د٥35 ٦3 د 70086 ہ5188( ٤ہ غۃدهصطەناطو٥:ہ
60 ھ1[ د٭ 3× ءطءہ عط۲٢ ۲ہ ۲۱ دص عم :0157(1 ۸1 :د٥ہ
.7۷6887 11831ح طک 177۶۸٤
131 ٠ہ ٣٥ [۰×:: صز 1۶6( ٥امط× ۶ہ دہ >٠ زا٥1 ەط۳'
700 110:00 ط5 8 5 ٤1۵ا 050 106086م:6۴ 89 8.9
نة1+صطۂ ٭ ہہ ۶ ٤ء۱ مدہ< ا صد ×<وصمط عط+.41۰ صوەصصی
٥6 لز××دء مط سهاہ٢ ٠ہ ۶۵ ہ[۱۱۸ہ عط ٥د ترعطل
۸8 ٤ہ ع منٗ(1<ا عط) 468ص :۸(1 ٥ ٥ ع0888دد
۶ بط × دصەط؛ ۸۹ہ٥۶×د ٥٠۲۵ء ٠٥ ۶۱ چع×عطء ١د 13
8٤'ئء ص٠ ع× زقمط؛ٗ بلمنالىھ ى٤ م”عطماہ111 [09]*“
٤٥ط 4 ءصطھ ٥٥× غعط؛ ہ٭ ۶0۱1(4 نصہط<
6 عط ط۰1 ٤ طز ھ( 1ا صد ص1818 ٤ہ 01ا8 هدطا س۸
0 لىععصالعط مہ٤ عط عذ عو 0ت۸ نمرەصذ 3ہ اوہ2
30 58
1 18۰ ص×ط ۶.۸ 58165:0م ر188(
ص لها ا-د مسعط!؛ ٭امدلدە اصه ٭<٥صەط ۳٢٣٣
420
نس۹ ہ_ہسسصصٹتتٹتتٹتیسٹتٹیتتسسسسٹ سس سشسس
)۷ 8 ظض۸ ×ط۸( طعازہ ط8 35881852 7830160187
8ء ق105 و ×جەخعج ٤غٛ ط1۶٤ 1٣8٤٤ ٭م٥ا٥
ظاعتر>3٥۹٠ہڈھ 8و د×8[8] ۶ہ 41181158018٥١٥8 ٥۰٢٥٤
عتط 85 زط جن ٤3٥صو .8ت ۶ہ ط6 ۲٢٢
زط سا دہ صنمرمصعط ٣٥٥٥٣ 8و ط1+8وعط ۱ہج نزانصة
۶٥٥۲۵۳٥٥
جرند ّ٥۵۲۷۵۱۲۵ 1[٣ 8 ×٥ 8۹ء ٭ ط8 د٥ط 007
طانطو8 طعانەهط8 ۶١٠٢ ٦1×۰ ط٤1١
٭(طغ ٤ ٥83۶٢ 178٢٥ رہ٥2 دہ ۱۸۶ ۲ہ ٠37۶67 8۰ھ
7۶ ۸ دہ 8(٤ )و-×: ج ۶۰۵۶٤ ٤٥ ۶١۸٢ ٥٥٠ع٥1۷[1×م
۶۴:3۸ ۱ دع صةآ ۰ (334دصطش ٭ط٠ ۲١۱١
(30 ص××طھ .0۷۷.2(۸)
.7.3.۸۰ ] 3د صدل ٢2۶۰ھ
"اکنا زکی و رخ ا سا گرم چ (٦ك+٦ە5:ھ
صاحب کے اس اہ رلیں کات جح ہکرکے دیا۔ جز اہ الد یہ ترچحم بھی وی می در
کر رپاہوں۔ ۱
7 3 ا
مولا ناش مبا رک ار صاح بک ر یٹائر منٹ کے موم بر اعت |
کا رر و شس ےہ یں
ا می ام بک کی جاب سے
الوداگی ای رش
جی کہ آپ ترام حا بکوعلم ہے جناب مولانا تچ مبار راع صاحب ر۴
امبکضین ام ری “ساسلہ اص بی کی ایک سی ہے لوت اور متاز مد مت کے بعد ۵ کم
۱8۱ کو ریلائر ہو زرے ہیں۔ ج کاہ خصوصی انناع جنس می بیس ججماعوں سے
مدان ور قوی مج عاملہ کے معز ا رین شمائل ہیں آخجناب کے اعزاز جا
421
منعژ رکیاگیاے۔
ناب شا انب ۷ج ایک فی رشحموی تیاز کہ آ پکو صا مال نے
قریب خدصت وی نکی فنق بی ہے۔ یہ ایک ایا نمایاں اشیاز ہے جس پ" دوجس
رن نے رر یہر مس کا
یس ایک دافف زن دک یکی حقیت سے ماع تک دم تکرنے کا ع کیا اور اختا یی
وفادارئی اور اغلاص کے ساتھ انا عیر تھایا۔
میس مال سک مرن اریت میں لیت ایک مغ کے حد ات
جڑھتھھو وج
تھے۔ وہاں آ پ کو قرآن باک کا س انی زبان میس تح کرت ےکی سعادت تی
عافل ہوگی۔ مشرقی افریقہ سے وائی کے بعد جھماعت کے شین الاقو ابی عرش
لف اہم فڈرا ئک نکی ادائگی آپ کے سپرددرہی۔ اس کے بعد آ پ کا نین انککستان
یس بہ حقیت امرجماعت اور ملغ انچار عکیاگیاادر آپ نے ۹ے۹اء سے ل ےکر
۸۳ء مک بے فرلضہ ادا فرمایا-
بعد ازال آپ کاتاولہ ریاجماۓ محدہ ا مریلہ ہوا جمال آپ نے سات سال
ماع تکی خر مت سرانحام دی۔ انکستان اور ام ریہ ہردو ممالک میں آپ نے
بپٹی مراکز اور مسابید کے قیام بر خصوصی اوجہ دی اور عقرت غلیفۃ/ کسی جاری
گردہ ریا تکوکامیالی کے سان یل تک بہنھایا۔
: اپٹی تام زندگی اسلا مکی خحدمت کے لے وف کر وینا الیک مقر عم اور
تیم با انت ہے ج سکی قرو ضزلت ہرا ری کے دل می جار و سار ی رونی
جاچے۔ دا ٹین زندگی اسلام کے سپاسی ہیں۔ دہ پغام ت کو تام لوکوں تک
جات ہیں اد راد یو ںکی یت اس رنگ می ںکرتے ہہ ںحکہ دہ اپ ےگرد داشان
422
ای اللہ کا ای کگر وہ ش کر لیے ہیں کہ ا نکی عنت مزید تقو یت پلڑے اوز رق
بے رہیے۔ اس طرع دہ ہرائیف اعم یکو الا مککا فی ینانے می سکوشمان رجے ہیں
اڑتاغ کی زی جات خوش پر اکرتے میں جو احری ملین کا تق اقیازی
نشان ہے ۔ متام مبلی نکرا مکو عزت د احزا مکی نگاد سے دیھتے ہیں اور خوبا
بل 2 جار رف( نام ر/زاق راو غکزسرف ٠
اظما رکرت ہیں ج کہ الام ا در اھ بی تکی ایک لیے عرصہ تک خد عم تکرنے کے
بعد ریٹائرمنٹ میس دم رھ رہے ہیں۔
ھم جماعت احمدبہ امریہ کے تھا ااراکین ا نکی اور ان کے ابل و عیال کی
خر شھالی اور ححت مندری کے لے دعاگو ہیں۔ چ صاحب۔! ہماری نیک تمنانیں اور
دخائیں بش نپا کے شال عال رین ی<اجازرت :داو نین جو آپ سک لئے
اترام ہے'ٴ ان جزجات کے اظمار کے طور پر میں جماعت اتب اھ ریہ کی جاب
سے ایک چو ٹا سا حنہ نی مد مت کر ہوں۔
ام۔ام٤ ھ
ام رعاعتاھے
ا ید اک
انس ایل ریس کے جواب میں خاکسار نے اپنے جذیات کا ان الفاظ میں اظمار
گیا۔
۷۹۵۹ء 0.71 ۵م ور768
٤5 ا5“ااائطج3 ٤۱٤0۹جھ
7(5 0:٥! “6٦ عط؛ ١ص اصدء دام(اذ٤ل ٠٥ ٥ 8جع۲۵۲٥۲٢۱
5
ا
ِ 423
667.980008 6 ۲۵۱۸۵۲ ذاع 0مططل +6 000016:- 00ھ 766
(58:)27720 ۶ة 058 ۲00
8ے 808 طائطو8 ندصوهە ×تصصھ ٥۲ہ
ر05 ٤٥ 809٥ 8یا 165و268 طانطدہ ١3فصصظف: 520107(
,۸3018 6 100131وم 6 ١٥ - ۰ ۲8 6ظ00٥
+8687 2 صد سط8 عطہ 58 عطمتع صنائ1ط
:81868 0 71 ص1 8 ء6ط8:0
الام صیکم ور ح_* ارد وب رکا
۶٤۹ھ مط؛ ٥٤ہ 8۴٤٤ عاطصتط و چھ
7ھ ۷ط ۶۵۵۵م ہ 501 1 :005 ۷ 1 ۵ ا ہ0(
7[ 0 م0 ۷٥۷ ١0د ا طوعط رص 6و 689 ۲۱٢
8٤8 د8 58 ۱ء ماط0ہ ك٥ طا١- ۱۱ء
عاطصسط ٤ہ ۴۵0م مه ٤ ھ× 53ہ 58 8٣
۲)0 58ء ۱11 1 ملظ .صن ۲ ٥٥ء دہ
سب ہبج تورکی عطارے گھمر سے آو یھ نہ لا کے
809 لا ۸٤ء ۶۵ع عزطا ج ٥ص٥ ٥٥ط ععط ط٢٦٢
۶ہ ٤ء ص دع نمہہ 1 8 <[3۶ 0۲14 ٤69 ۲ وم ×مطہ
۶۲ء طئد٥×طا 6 دىحاءءط عوط دی زا0 مہہ
ُ0 7958ء رہ ١ۃ طدلازلہ۸ ناطا ج(ھ۸ ٥۲ہ ز×0
حاجد٥عط 9 ,عصذا 0٤ ٤ط ٥ ط881( 1188101 طک 52۲۵ا
8037" ۱:546 .4ص بد1 5 7 68 180ندع ×نەط)
٥ ٣٥٢۲ ۴۶" ۰ مل ۵ءء ٥٣عط ۲ ×9ط
0 858 ہ۲ ۲٥٥۸۷۴ ۹1۲6۴٥۵1 ص1 18722 ضط ۱٥ ما
ان 6 .ب۸85168ذم ہوندھ اھ ,۲۱ں مط
8 118ھ ×ط 16886 1 ہ6 1۷۳۷۵۸۶ .۵ئ مھ
71 51۶۶+ 69 کہ ۸۵۸6 ئ۵ حامءہ 89 ۶۱م ممداہ عط
۱۲10٥ 0 0 815666 ]1081 69 .5011188
ڑچ حدہ ,مھ دہ ١٥ ۱۱۰ئ٥ 8٥ط ٥×ط مر ۲٥۷0۱۸۶ عط٤ ۳ہ 2
48 1ءء 7۶ 0 ۴۵ء م106 عھ ُعصھز ۶ہ 0٥ج ۹
1686م ۳11 ٤ط ؿة×ا×ہ ١١ج ٥0.460 0 :9۶68م اد ٦
424 إ 45
78 47٥ةصسطھ 8 1518 ۶ہ ٥18٤ء ٥ط 1 10810
۷ 01177 ہد 1 ,۵×ع )دنہ ا صد ۃ×ەط٤ ٥×ط 41٥< 57ل( 2 سے .. ۰
۰ : حعقرت خلیغۃ الا لرا کی ردان
تا ۱ 33ای وا ٭عچدندہ۴؛×ەمطہ ٢ط ۶ہ
جرہ مت ص8881 ا صد صنوع× لد ہہ ٣١٢ 70546761
نت رہ(د10ء دوء عط) ئ دہ ٭×عط ۃ١ دح عدہھانصتا حضرت خلیز* الج الرائع ابیدہ اللہ لف اوقات می عاب زکی اپے خطوطا کے
۰ ر10ا 8318 27 ۶و ٥ء صجہ: آدہ×< ٭ط۳ .قصط٤ہھ غلاط ك٣ ررے حوصلہ افزائ یکرے ےر ما غدم تک چو نے ےی
اس 4 ۰
79۷7930 جھز ٥ہ ۲۲٣٢٥۶۵ 8 113ھ ۶ہ دع ءعط: کی نل 2 2
7 8ء ×<ەطعءد٥] حلد 0 3229 رماؤں سے لوازے رے۔ مور سا صچی ۱۹۹۳ء کو تصور ایرہ الد تعالی ۓے
8٤ 701188 ۲۷٢[(. 11ج صەط) ٥٥ە(ط 118 ۸ 58( ۲۲1٥ 4٥. ناکما رکو سیر و شگٹن کے خطیات ش کرت پر گر فرایا:-
رعط 66۶٥ 25ہ 07د ۵8۵ ز×٥ طوز: آ ,دہ ط٤ 15 2ھ یں 2
۲ کے 2 3 مر ا 1 2
پ0 0ا [1ج 1 صد طنطع8 ×نسھ <جح16 ٣٠٢ بط ۲٥ ٢١٢ ۱ و ین یر ا رلورٹ ی۔ باشاء
ن ٤58ا ۳٦ ة٥, ×٤ط ٥6 .ئ٤د ۶“ەعصوەڑ .8۸ت عطا ٥١١ الد ۔ جنز اکم الد - اللہ تمالی نے پکی اڑل میں جذ ہہ پل اگیا۔اور
۶۰۰۱٢٠٢ 1 28× ,ط113ھ ٤و ٥ءج2) مط) زط ,دہ11ااحاه ٦7007 ہچ آپ کے و 1 کے یت ان
128 ۷او٭ط ۲ظ" ۶ہ وعط8 ٭عطا 0 قال 5 5 جک ری دا ہر 27
وم عطا ھت ٥۷ طڑمگا آئ۵55انلمطلا ادس پیش ؛ز پیش مقبول دم تک وج عطا فا اور ربا رکت
پ8 ۰6× عنطغ ٭ج>صھ رط - 3١٥صص ہو۔ می مکوببمت بست سلام- ''
ہ۷٥۲۶ ہ(ط ٥+ م٥۳۵ پچ ایک اور رپورٹ بر تضورنے 1۲ک بر ۹۹۳ا ءکوعاب کو گر فرایا۔
یو ےت ۱ پکی ریو رت ہابت مسر وا ٹن موصول ہوگی۔ جن زاکم اللہ
تمالی ان الجزاء۔ اللہ تال ی نے اس معا مہ میں آ پک پا ا عطا
فرمایا سے ۔ ال دکرے کامیاب دو رہ ہو اور تا ری حدم تک نل
۱ لے۔ سب احیا بکو عبت بچھراسلام - '
چلرمورضہ ٭انومبر۱۹۹۵ء کے خطا میں حضمو رت ےککھا:ے
تدم فی اکٹھاکرنے میں آپ نے بھت بم تکی ہے ۔ باشاء
اللہ ۔ مسا تقایل قر ر سے۔ جن اکم اللہ ان الجزاء"
حور تے از راہ ریانی اکسا رکو شید رانتل گی اور پ وم کا تفہ یہاں
سے
غ تا
اریہ میں چو اہا۔ غماکمار نے حضو ری غیدرمت میں ا عقائیت پ
کلم حضورنے مورغہ ۴ا ور۱۹8۵ کو گر فرایا: ات
7 0 او ۔ آ پک ھپ اک زیادہ
مت و وی مین اج
ا رر
او اگیا۔ بجرعال جزاکم الله'احسن الجزاء ٹی فی الدنیاو
ال٣ضرہ۔ مگ مکوسلام اور فی ہکا چا ردیں-
واللام
ماہسار
عرز اطایر 27
2-٭٭.ك٭80
:
427
نوبارک اورواشگٹن جماعتکی
رف سے عزت افزالی
حانط د5 ١ئ ضط ذ۸ آ۵ ط50( طاعَلزہ ط8 ئ٤ ۸۹830۵۵ ہھ
1آ ×[×0 لا 716۰۷( ×ط )ا صہ دم ط زا108 18ط دہ
۸8 َلوصدطن 95 طلانهط2ھ 19901 بطا5 تروگد <ہ
:٥٥۴ ٥٣٥ 8 ٭٣ذاء٥ هدنط حدہء٤ دا٥ 111م جنباوہ
3۷5.1 ۰ ناد صطھ ١ذ۰ ٣۱۱۶۱۱ عط ٠ہ 51881009۴۳۲(
6 اط قزہ ٥۰( مہ مٌرمع ٠ہ ەچد عطا ا ترانسصدصہ
ٴ0 ة٤ -: ٢ا×زہ ذادمصاد ۴١٥ ٠٣ہء ععط 6 .۱4ہ ۶٥ہ
۲0٥۸۳ ۷۰ہ ساط صہلع+ فعط غعطظ 11160۵ اعد ٣حعصمنتدعندہ
6 ×ہ د٥(نعاصہہء ہھ ×ہ د٥۶٥ د اصد خدعمنتبدہ
83
,69ط 21-5[ ٢٢ عصعط۷د 131لک ع×ازءدٴ' عط) 850٤0٥
ط١" عصملد طنطد8 ١۸ءصطخ علءوطت5۸( طعانمہرة
(3۷٥۵ 7 ×نەهطا ۹٥ح ہ٥٤٥1 1 صد ۷۱۶۸×<ہ۶ مصددء ×عطہ
177۰٥ةصطذے ۶ہ عمادہ ط١
٤٤: ٥۰ 6 7۶(:۵م ا٥28 ×٥ ہ٥د ٤٥ طنطح8 طعطنمطة
قلاط 4 صد د٥ نعاصدہء معمط صا در ن4ةۃءصطھ ۲ہ ٤٥ء
.1858 ×۷ صعلصد ط٤ ئ٠ ٥1ء ەط
نہ تع مد د7136ھ .ح28 صزذ ١٥ ١9ہ عط ٥۵ء ]وط2
1۴10820 ا٥ ۰۷ ۳۰۸٥٣٥٤ ۲۰۵۸×۶۵ عطا ٠٢ہ طع؛لط:٣'
٥7۲8 1112[] صطھ ۶.ەه ٥ه؛ چمز۔معع × موہ عطا
4428
,×ز ہء[٢۲٭“ج ۲۶ہ ۲١٥٢٢٢ ٥۲د آزا د٥ ٦٤ ٢٠٢٠3ط×۳۱محر مہ
چص(غ13 1٭ٛ<٭” علادءععلطادد! رصعطھ 16٤ عەعط ٣٣٢ھ
٤ہ 18510عت7۰٤ عط صا دمتغم-ط(۶] دہء ة ت1 .دہ(۶ہ ط×
ط٠[ برحاد 11ز ه٥ عح ع د1( لائطد ×5 دز( ×<لا() زا10 عطا
٤ط ٢١۱۶104 11116 ۰.
ڈ ًہ[٤٤ہ ٥×ط ٢ذ٣ ٣٢× ٠٣٥ ٤طع ٢١۱۶[31 عتط ۹05
طحانهطة بطد ×ط3 ہ ٤غاتصساصحدہء ۸٥۲٣۳ صطھ ەط
هط؛ ٤ہ 15781٤808٤68 مز ٤ ٠٥٢ صقزددہ ٠٢ حائنطەة
8٥٥٤٥٤٥3۶7 )۴٥۱ ٥۶1 28 ٥6ء1٤١0 10 ئط 178105..16 85 ۴ہ
08 ہ 781 182 ,ص10 18ہ" تا ٣١216 ٤ہ
اھ 18 انطحة طحانهط5 .دصہ۶×عطئدطا١3۸ ٤1 5183411 د4
صع مداج عبط ب اعد صدل ط٣ ٤ہ <۵۱۱×ہ ہہ × اہ
٤۶ہ عه٭صممنادناطام ئصە(اهەء×ه ٥صەء۔ ۶ه ×مطد۹
.1106853106 141778ص طھ
٤ه د٥1 چ 15 ٥٥51ا ٠٥ ا ہہ ٣۶ عط ,1979 ۶17 ٥ 15+۰
١۰۰ 68.8 ۲ہ [۱ء جرد ۶۲<مطاہد د ط5 ۰<×نتصھ 4 صد 73۸188105۲
جزت ع صزمر م٥٥ 83۴۲٥٢۸ ٥6ئ1 وط 8۶۲٥۴۵1 188(٥ تا ٦>
ئ١ ۳۷م صا ٣١۱×۶۱1 عط۲ ٤×۲۰ دہ اعط) ×۶× ٥٥ہ آ41
٤9 ق٘ط بلاغص٥٣۳ عط <×<ہ٣ ×ط٢ ہ,رااطدةة طمازنەط8
بہ[8 8> ۶ہ غ-صهصطہدن(طاح٤غده ىهِطا تر 155٤٥1٥
٥ ٦ 4 0108۰. 00ط
۹ <×نصعھھ ٤ہ :۶1ہ عط عا[٥٥٤ 116 ,83 (٦٦٢ +175
٤ ت8ؿ٤٘3٤]8 .٥٤ن ط٢ا: ۶ہ ٭ج×عط6-ط رر حعدہ :351188(
16٤ عھط عط : جحاصہہء ٣۵۵٢ قلّطة) ل15 :8 261ھ
٭لامہەم عط٣ ۶ہ ما ححءط عط دہ 0 > ۳۵۵۲٢۰ ٦0×1 م170
ہ٦( <ہ ٭ہ(ةدءصطھ ۔صنط ٭مصتا .جح ١صدء مط٣۳
ا ام ٦٠١٥٥۶٠٣ ٤دہ”×عج ٌد×<٭ × ا۶١٢ ×ط ء۸٣ ۔٤٠٣ذ١ہطھ
٥ ءہء ٤ہ ە( طالنطومة طلامطة رط ٣ غصہہء عتطا 156
.4ء دہ ح×ہء 1 ۶د 16ط 1×۵ مہ٥۲
ساب لغ جات سدئت ات
49
۶,۴ تظ۲۶8حائطذ ٥٥عط) 6اا 58 <0٣٠ ١٥٤٤٥٢٥٢
ماعەمدە ۶ہ 0م ۶م 2 4٥٥٥٥٥8. ×زذهە 6دمصراة
طاعانهط 5 عصتحا ہ00 6< قد دا دہہ٣عنطءد
8 0۶ مط ٣۸11 ط1 ۶۱۱ ماصط دمجھاد اانطوة
: 4187۰
0ع ٠ ١صدط 'طانطاو8 89ھ عل۴و ط50( طعازہ 8ہ
6 ٢ہ عصہ ۸٥ ۲۰۵۲ رنۃصطھ ٤ ۶۲م اعئنط عط 0ة
قط طط( ۵ ٥٥ ممنم عطا 6ے ط۷ 2718810031۵٥
198 01 581010 نجازہ د5( :84 ٥٤ہ غا15ا18111ن)
6 ط٢۵٥۲ ٠٥ ہ ع وہ عطا 6 وط ۲ ۔رءمطمہ۶×م
۲٤٤۸۸ ۰ ۵ مد×وء
٥× ]818 6 8 88 ہ٣ ,انطو8 طعانمدرہ
8 ٭× ًھط طوتافطہہ ٣۵٣ ١1 ن١ەصط۸
نی يا1 نماد
٥ ۱أ( ٤3ہ ل عاءنں٢ ہم 6ط ٥أ د۶٥ ط ء۷۸( ٢٢٣,
0ظ 3ص5 ۰۱۷ ۰۴۶٥۳۵۲٥۶۵ ۲٢۴ زہ لاہ ۰٠۲۲ہ
۸٣ 11 دم ط1ط 10385۰ (5٥ ۲٢٢٢ 103۷٣ ۔طوطانطاوە
ل٥٥١ ۲٥۱٢ ٤(٥ قد 11168لہ۲ عط ەهعطئم اط0
۹۶۷ کے د٥ط وط تہ ۰۷ا دہ ۶۲× ٣٥٢٢٢ ام صصح
58 لاہ >1 ۱11-۵0۸7 43 صد ا۸ هعصول ١ط ٥ دہ
59 8 ٢ہ۲ ط10 ٭6 ۰٢٥. 3۸۸ 60٥ ۶ہ) تم اك وہ
10۷0 08۰
135۸ ماصہہ لا ۱۱١۱۷ ۱۲وطەھ موہ
7 26 ۶٤ھ 20ہ
.7 8 78 ط۶۱ہ آط طاع ط7۷0 بد 6ی05 .۷۸
1 ,0111ھ
ما رک اص صاح بکی ریٹائر نٹ پ ْ
ہي یی جس
نومارک جماعح تکی طرفے اپ رش
تیں اہ جھ۔ اہ عسسمقععت
انتائی فعال غرات سر خوام ریے کا جناب مارک اع ضاحب جھر
كیاسی سال با می ۹9 رکون الاوائی جماعت اب کے ایک می نکی یت
کے ا اض ےا کر ا یی خدمات
تام دی ہیں اور ران انی ں چا را عون میں ایک درشن سے قریب
عرایک می چاک رتحلع اسلا مکی تن گا ۱
ضا رر رات ےکا
سے رف کے بعراہ خو دک ری کی غا ردق فکر دیاتھا شی صاح بک جم ریا ۱
سے لے مشرق فریقہ جیاکیااو راس طرح !خی مان ککی طرف نکاس حدم |
.
ا
ہوا۔ ۱ :
شرق فریہ میں آپ نے بیشیت رم امبلین احری تکی ج تم ریا کا
إ
۱
:
اس کے تہ میں بہت سارے صرسزراور ھت ہوئے در خن ںکو خوش ضا نتہ گچل ۱
2 کو 71 ۲۳
گے۔ افریت کی سرزمین بر ا نکی ے٣ سالہ مسائی ن ےکی نک تل اور بائی رج
دای گار چیہ چھوٹڑی ہیں۔ قرآن اک کا سو ایی لن یش ترجہ نے تا
ا نکی خدمات ٣ قامت اس دیاش قائ رہ ںگا- ٦
افریۃہ سے والبی بر بضاعت کے ٹین الاقوائی عرکز ریوہ می جناب تا صاحب کا
41
تین اہم شبہ جات جس اع عدوں پر ہوا۔ جن میں فضل رفا یی کے زی
تل نا ظراصطا بح دارشاد و علیہ امٹر ین شائل تے_
ضا امت ت صرف الیک مشمور مقر ہیں بللہ لنض انتائی حج مکی کے
مصنفت بھی ہیں ۸ء ۱۹ء کے ادا می میں آ پکو ہہ حیقیت اعیرد مہ نان کیں
گیا۔ چند سالوں کے نظ حرص میں ا؛فکستان بھرمی تلفی مراکز نظ رآنے شر ہو
کی نی ام ری مو انا کے تاپ شی انب را کی بھی جھے کے
یعاد ز مسا کے قام می مرک عبت ہو یں ٠٠
توم ۱۹۸۳ء می ا نک ریاستماے تجرہ اریہ می جماعت کے امبرادر ری
این کے عدوں پ فائ کیااک اس وس لک مس آب نے لوکوں کے رنوں۔
ای گھراائر چھو ڑا ہے اور نس سے بھی سے 'چاہے احری ہویا خی راجری وہ آ
گی حصیت سے متا ہوئے اخیرضہ رو سکنہ جناب حج صاحب نے جس عنت سے
ای مگ میں ماع تکی میم خدمات انجام دک ہیں دہ بے عد قائل تتریف ہیں۔
آپ نیا مانٹھ سال تک جن خلافوں کے ححت تیم الشان کارہاۓ نخمایاں
راکیام دینے کے بعد آپ و رے اع زازدد قاد کے ساب ریٹائرمن کی زندگ مض
دم رھ رہے ہیں۔ مارک امھ صاحب کا نام می تکی تر می ون من
گرا مکی فرصت میس شائل رہ گا جننوں نے رت سی مو عو علیہ السلا مکی اس
ینوک کے پور ہونے بی جراول دس کا کا مکیاکز:۔
تنم تی کت ہنچاوں گا_"
مع صاحب! اسلام اور اح بی کی اط رآ پکی قریانیاں انظاء اللہ تال
اد طور یر یل لام نکی۔
م وا رک جماعت کے مھبران افتائی الا کے ساتھ آپ کے اور آ کی
432
یی صاحہ ے گے دحاو ہ کہ ال تال آپ دوفو نکو ا زندکی عطا فراے۔
ے رے_ ترام کیک تنائی ری فیا اد ہچ ریٹائنٹ لی کت
سے ری رع للف انروز ہوں۔ آپ ج کے ےیک پت سے
کا و و دع
یں گے۔ اط تا یآ پ کاو رپ کے تقام عو کا حائی دنا سد۔7
بی ا رک جماعح تک مامدگی شش
چم ملغ ٹا رت ائینٹ رگن
بز )از صررقاعت'ائم۔اے۔
کے 22 ط 2 ظط
رشن میٹ رولیڈن جماعت نیو ز گن
ے
(ی۱۹۹۱ء۶)
1186-16 [قط[18تاع 5آ
وط ۳11 ۶٤ 8آ رم چ صاط٥۵ ۲۷ ط٤ ,وخ وہ 3576767
81 رووڑ ہ5 ب2352 505487 ہرم <صمعطء ا1 و چ7[<ہ876
۷ل |زغع 8٤ ة٥ا١٥ط مط 1( ×ہەط6طتا ۱
5725015 101 ٤ج 10٥8٤60 طء8
6رچ ج6ا 6 (ڑھ ۔(3110(
عررہه عنط٤ ط3ط
آبائیں طرف جتزم مولنا شی مبارک احد صاحب “رم جشراجر صا مل
: حب رم
433
تھب اک اپ ات ا ا ہیں
عت امرب وا کش نکی طرف سے تقریب الزداع
مورضہ ۵ می ۹۹۱اء استازگی اترم موان جو
کہ : ع) انا ارک اضر صا
"یچ ار ریب کا اہتمام جماعت ام ۶ 5
کو و مسبت .
ٹل ارام عالی عرعت ملغ رن٠ کی رس جس رج ہی
: ےن سا چر ما سلل ۳ 8 3۸
وچو وو مو سر وک
۱ ا ام ہہ ورلئ مویت گی۔
َ یں حترم صاجزادہ ہرز مظف راج صاحب ام ربھاعت
١ کر یہہ کہ
رٹیم اللد اں' متزم چوہرری اللہ تی صاحب صرر جماعت آ ا
: ر٠ 2ن اور
کس یا وع می رہ تقریب کا
ز اوت رآ : ۱ ج7
و قرآ نکریم سے ہو اج رم فو زان ات یال صاحب ت ےکی گ5
2 ر2 ٢ ۰ - إرازاںل
۶ ت صاحب مرورے ححخرت کب مو عو علیہ الصلو ج و السا م کا خنظوم کا
ہے 3 2م لع
اك 2 دا اے کار عاز و گیپ پ وش و گررگار
٢ سی ری آواز میس ٹی یکیا۔ عا ضرین ححقوظبہوتئ۔ ان کے بعد غ
اللہ مان نے مار احریت' محتزم تچ صا 1 نت ا
ار 72 ش تچ : اسیج"
٤ جا : ٍِ عرصد دراز پر می ہوگی تلینی
ور مالک میں غدمت دنن کی چدوجمد اور دعوت الی الله کا اگک
434
وھ ےر ےت
۱
. فف اکا اس ز رت کے خر میں شا کرات سی :
کر ذٍ نے )ور وان تر نے والو نکی خاصی نعدادعا ک۷
سات سا ایی زان مین خی کا لا
جر صاحب نے اس الوداگی تقریب کے موب ۱
نر رخصوص انداز سے شرو عگیا-
س شْ 2 یھ ضر
نے بات جو صاقب کا تہج ووحف گی
اس کلک مں پا ہوے دا
تی ان کے افادہکیلئ ارد وکا ہے کارردائی
حاتی رۃ _ بن زا نکر شر
اۓ چزبات اور اضاعا تکاا ۰
اس خدمت دن بی ۱
جار بر سک بات کی"
کی سا سر جو لت صر کی سے زاتھ جا
تی تا تحت تب ا ٢
ود ات تر شک ا کے ٌ
ا کیا ا ا و۶
رو کٹ ۱
رجہ پھاری موس ہونے گے لس نت
ام و ا او کا نیع
8 یب فلز تکو را ناک ٣
ِ,: کم بلو لے ہو تے سے تا ْ
سے جو مزا کپ ا /
وھ ا و رت :
5 طس مر قنقے بعر گگئے۔ فضاکا تا ٠
3 ا ےت
خھ سا گا : - ے نر میا
و 1
آ وش شکوار لا
مت تا کن میں ور جگررہاہوں۔ائں ت کا
میں گرم جو رری اللہ خی صاحب 7 ً رت ماع تک
09"80ْ بپٹی کرت ہو ےکراکہ ان کے تر تن صاحب
سے صسب یل ایور رمدا تج
۔حرم مبش راج صاحب نے ای با تکو جاک
435
۰۹ء سے لحلقات ہیں ج بکہ و گور تحنٹ کا مات مور (فیل آیاد) کے طالب
عم تھے اور اریہ ان رکائینٹ کے صد رتھے_
ان دتوں متحددہار محنزم تن صاح بکوکا یح کے طباء“ اساتزہادر وکلاء او ر شر
کے مخززین سے قطا بکرم کے بج وکیاجا ا رہگ آ پ کا اص موضوع ”ا فریتہ
یں اسلام اور جماعت اح ی کی اسلائی خدمات* کے کر بر مشققل ہو تھا۔ مشرق
افریقہ سے آ نے کے بعد جماعت کے عالی عرکز روہ می سکئی انی عمدوں پہآپ
فا ارے۔ اپنی اع ذمہ دائزیو نکی انام دتی کے ساسلہ میں کئی بادآ پکو لا تل
ور آنا بے ادر اکسا ر کی ان سے ماتقات ر ۱۹1۵ء میں حضرت غلیفہ لس
الثال نے نل عمرفاؤ نڈلیشن کے قیام کااعلان فربایا۔ حطرت جو بر ری مجر ظفر اور
نال صاحب صدر اور گن مگرخل ئر عطاء اللہ ضاحب ناپ صرر اور گزم چٌ٘
صاحب اس ادارہ کے بے جیکرڑی مقر ہو ئے۔ شاکسمار ان دنون کاعرل ہک
لاہو ریس می رتھا۔ خاکسا رکی درخواست پر عخرت خلیفۃ اس الات نے جمارے
٤ 6 ٹن کی مات ع رت زا ری۔ ال
ااء میں کئی سالوں تک جھے محتزم جن صاحب کے ساتتھ کا مکرتے کا موقع ملا۔
فاؤنڈلش کی تقام رقوم میری برای می ش عکرائی جاتی تھیں۔ان ایا مکی خوشگوار
ادیں میرے زبجن میس حفوظ ہیں- چ صاح بکی جددجد سے روزانہ اج رق تم
٤ ےا رین حون وذ نے مز کان نے رق تے۔ تح
صاح بکی عرقری:ىی اد رکاوشوں کا زاکی طور بر شابد ہوں۔ بہت سے امر کی ووستوں
آگی اس داوس تقریانیو ںکی داستائیں بھی مس نے جن صاح بکی زبای کی ہیں-
آپ کے ام ریہ نے کے بعد بھی ینہ وا شیگٹن جماعت کے جنزل سک ٹر کی
"ےآ بی راو نماکی عاصل رتی۔ آ پکی راغ دی ؛وسعت نظظراور قد
46
اد راک کی خولصورت یادیں جاگزیں ہیں۔ ہم ععمدیداروں ےکی غلطیوں کے
ْ
ھم و شم میس براہر کے شریک رہے اور فلا و بببود پر نظررہی۔ مسا اورقات اپ ا
ارات سے بڑ ھک بھی احاب بماعح تکی مر دکی۔ اع کے مساتل عل جئے۔ ان
گی معاوخ تکی۔ ا نکی از متوں کا ہنرو بس تگیا-
کین کودہ اب ر یٹائر ہو رسے ہیں۔ یقت يہ ہب ےککہ ۹۹۵اء یں کی آپ فاررأ
ہو کے ےگ رحفرت خلیفۃہ الچ الالث "نے آ پک وکام ار ی رک کاارشاد فرایا
جت سکی تق مین آپ ہن جن مصروف رج ۔ اور متعددذمہ ذازیی کے عیذول پ
فاتز رے۔ اب دوصری م7 ان تیم زمد دارإال ے فار بب رے ہینں۔
وا شگٹن میٹد جع کی خوش شھتی کہ آپ نے کہیں رج ے کافیصل ہکیاہے اور
مکان بھی کراب پر کے لیا ہے۔ ا پ کی راجمائی ' آ پ کی دعاَں اور آپ کے
ناون سے ہم سب متغیز ہو گے۔ اس وع پر میس اپنی طرف سے اور جماع تکی
طرف سے خدا عافظط کن ےکی ججاے اصَاہو سپاو مرحب کت ہول۔ مار ی
جاعت کے مزز زرگ اور عالی مرجت فرد ہو ےکی حثیت سے کم سب آپ کا
بے عد ا زا مکرتے ہیں اور ہ رش مکی مد خواہ ماع ہو ما زاقی کے لے عاضریں۔
آ پکی محبت ہز رگانہ اور نصاکع صالحانہ اور دعاۓے شبانہکی ین یادی اور دگر
اٹ خوش گواز وش ماری زی 0 8ت یی پت
انشاء اللہ ال
جار کی مد اوند بگانہ سے خلصانہ دعا ےکہ وہ آ پکو مت و سلا شی وا ی حیات
جاویز عطا/رے۔
آخ پر منزم جن صاحب نے مخقروم و محتزم امیرصاحب او رکرم جناب چو ہرری
437
ار نشی صاحب اور بماعت واشگٹن کا الوراگی تقریب کے اثعقاد اور ان کی
فدمات کا ان انداز میس محراتے کا شحکریہ اداکرتے ون ےکما جخاعت نے اتی
قاٹل خر ددایات کا خا خیال درکھااور اپنے ینہ غاؤ مکو حطر غلیقہ) یج
الراع ابیدہ الل کے ارشادکی تقیل میس با وص عزت و اترام سے الودا عکماے
جس کے لے یہ خابز آپ سب کادل سے ممنون اور شگ رگزار ہے۔ اس تقریب
کے موئع پر چند یں عف ضکرن ےکی اجازت چاہتا ہوں۔ خاکسمار نے اپن مارے
دود ندمت مل جماں بھی اور ینس ملک میس بھی خدمم تک توق نیب ہوئی ے۔
ابا ںکولازی طوری ید نظررتھا۔
اول۔ امریمہ میں جن صد سے زا تد خطبات ویے۔ تقریریں اور رز ان
کے علادہ ہیں۔ ہرمرجبہ پرخلیہ و تق رکیل موقع ول اور عالات کے پیٹ نظرنی
تیاری اور مطالع کیاں خواہ وبی مخمون لے بھی کی ھرحہ جیا نکر کا ہو٢ ۔ ی
وٹ بد یک کوئی ناک ؛ خی بات اس تلق میس ما نا حوالہ بی یکرسکوں۔ ننن
والوں :کی معلومات میں با وص دی اور موی معلوبات مِ اضافہ ہو اور ان کی
دی کاموجب ہو اور علم و محرفت مس زیاد تی کاپاعث ہو-
دوع۔ تہ صرف نار و خلبات کے زریچہ یہ عام ملا قافژں اور مجچکس ینطو
می اور ملف موا بر اسلائی عطرذ زندگی کے انان کی تر خیب و جلقن برا خاش
ید ہا۔ اسلا مکی اتا زی جیب و تقرن کے انتا رکرنے اد راس خر ضکیلئے تی
الام ذاتی لور پر بھی ہرموئح پر خودبھی گی نمونہ سے احباب کے زین نو نکر
مال کے طور پر ہم نے انت ٹئھت لے لے آتے جات ہھائے السلام علیگم
گے کے ”ا عافظ "نا شرو ںکر دبا ہے۔ دا عافط بے شک دعا سے لن
کر عز لکریم ساھن کا ارشاد در آپ کا اسد کیا تھا۔ آپ نے فیا
438
07 وی لا ص ۹م )کہ العلام می مک عقاو
و نے | ھت مت ان کی تی کی تب پت یتفم8 7یہ اور
اسلام اور ملمان گا ناس اقیازی شا نکی حائل ے۔ ائی عر بت کیا دنگ
٦٦ -- و و ہے ہرموتع یر
وش ی۔
سوم ۔کوکی قوم ادر ّ
عی۔ امرش جوف باری تعالی ہرموئح می
اص ودتی مقاص رکیل وق کی قریی ا لکی قریائی 'جذ با تکی قریا کی جس
۷ء" "مت" ہ رن"
ین ور کے اپاپ مقاصد می کامیاب نی بھ
رک و
کرت اور مضمورکی محلصانہ یب دئی یس کاب ٰ
تین وبیوں' رام وانْمنا رک آگا
کرام "اور صحابیات' کے شانداراد
کو ہر ہیں ہا
و ا یا را تی مت کی رج
الو پل ریخا کو کت ا اج پچ
ا اک تا جرا کر ول
کہ چماں چماں گی ان خ مات کا امس اٹ ہواب جمائتون نے کیک رم
ک2
چچارم۔ے عا
ر سے نظ قرانی کے ابس داتعات ما ن/ |۷٣
جز اکر چہ ہے حدکنز ہے بای ہم بھی ا بات سے تہ فا
می کی نے و یکہ جماعت کاروعالی از اخلاقی معیار لن
ہوااورٍ بروھجد
در کے مل سی م ذو دکی اعت آ کے خناء ما رکا
نر تر ہو. چلاجاے
کے مطالق اور ہر ضرورت اور
49
یتیل مش کی کے ای مار یکا بو۔ اوراخاقی و
ری روں دا ہو۔ گول کے الات' زیاء عظام کے عالات اور
قرت سو لن اکرم کاٹ ور حفرت کی وگ ودکے اگ موا اور خلقاء بقاعت
کی تصوسی لن سے ا ضا پک اکر ارات
ماس ماج آپ کے ارم نے بی اود وگنام سلیلہ س ےکر کاو
مو ضسی واج یکی تی نکرنے کب کی نی کی۔ بی بات ملف ز ئن
رب ما تک ذن شا نکرانے کی کی میری جددد کا مرکڑکی حصہ رہا
حلافت سے دا ری اور کا ے دو راب ےپ رگ اعت اپے عالی
نقاص کو نی پا سکی۔ دناے اسلا مک حالت دی اگرچہ نکی آبادی کے
پوٹائی حصہ میں الس سے زا مسلموںکی یی یں۔ کن نظام جو سار ی
کہ مضبوطا رک ک ےکوگی 7 ە/) 2ے
ملماوں کی زیوں عالی کا باعحث ے۔ ممسلمانوں ک ایک زاس طقہ کی کے
لن کہ عدم خلاقتکی دہ سے زا ری اعت خر
و خلاف کی لقت نصیب ہے اور جماعت بل خداای فقت سے تع ہو کا
سے اور یم ر موی رکون سے نوازئی جا ری ے۔ اس مائز نے نے ہارے
مت یا بان کی 21+ 0
تیب دی اور مل فا کامیالی سے پوازاگاگہ تخت بجالت میں نظام خلاقت
سے وا یکو اتی ز نی کاخاص متقصد تراررے۔
1 گن لے تا لات ووران مت بدظررکے اور اب اس الوداگی
اک ھے۔ خمالھتا اس غرض س ےکہ برکا کن اود ہر خی اور
: ھت کے زمہ دا افراد اپ اپ در می ان کال رکیں تانماعت کاترم
40
تر کی شاہ راہ بگامزن رے۔
اور آخر یں بہ عابتز اچپنے پا رے زرگوں بھایوں اور عمزیزوں کا اص طور
پر شکزی اداکر یف مر کی سان کے قیام کے ذو ران ہر طرح جھ سے نان
کیا۔ جھھ سے صن سلوک کا رویہ رکھااور اب رح ادا کان دلایا۔ ىے آُپ
کی نوازش ہے۔ د لک یگبرائیوں سے آپ کا منون بہوں۔ اللہ تعالٰیٰ آپ س بکو
جتزاء تردے اور آپ کے لفوس و اعوال میں برکت دے ۔ اس دو ران اس عاتز
سےکوئ یکو اہی ما زیادتی ہوگئی ہو۔ اگرچہ اپنی استطاعت کے مطابق ہ رکام کیک
تی سے اور ہرفیصلہ خدا تزسی سےکیامگر انسالی ض ربھی بھی اتب نیس ہوا کوئی
بات خلاف مزاع آپ کے ہوگئی ہو اس کے لے معائی کا خواسگار ہوں۔
اس خحیقت سے ری رح آگاہ ہو ںکہ جس و ر زم صر ر صاحب جماعت
واشگڈن نے با نکیا ادر جو یھ اس عات کو مدرم تکی فذفق لی حض ال تھالی کے
فففل سے اور میرے محبوب حخرت ملح موعود اور خلظا کرام کی خصوصی لج
اور شفقت بھری دعاؤں کے شقیل نعبیب ہو گی ول المد۔ آپ سب پیاروں ے
ورٹرامٹٰ ے۔ دعاگریی عاج کو عادم وابیں وف کی روں > تام ا
سعادوت لی رہے اور ظدممت اسلام اور ام یت پر اس عات کا ات ہو۔
ات ام ا یں ای ا
حتزم ن صاحب کے اس شحگرانہ ساس پہ محنزم چو ہبی اللہ بن صاحب صیدر
ْ جماعت اتدہہ واشنھٹن نے محنزم تج صاحب کا شگکزیہ اداکیا اور اجباب بماعت اور
نام عاضرینکاکہ دہ اس خائس تقریب میں شائل ہو اذر اپنے منزم خاوم علسلہ
کو الودا عکما۔ آپ نے ححضرت صاجززادہ مرزا مطف رام صاحب ام رجماعت اع بے
امریکہ سے انخقنائی دغاکی ددخواس تکی۔ اجخائی دھاکے بعد تمام احما بکی شمولیت
441
کے باعث دوپبر کے کھانے کا اتظام ماس عاللہ تن ےکیا۔ اس اش سے سب
احہاب محظوظط ہوئۓ اوربہ باوقار اور خوشگوار تقریب الوداع اجنٹ لٹ ول و
دماغ بر چو ڑگی۔
ماکار
مرج رارٹ عةا
تیم الد غان
اسمنثٹ جتزل سرٹری
42
١س ا مز صاع تکی طرف سے ایر زلیس
0۷۷۵۸۸ 707 77 7۸77۳ 7170777777 5اط
778 5۸ ۸70۸0 ۸ 3۸75۸ .511
و 6٤۸اط1< ×9ط ہ٦ !×وز ٥۶۱<ہط٤8ج ٭×د ٣٢ (4٥٥7۳ٴ
وط ط٢ ح1818 40۴ ۵8ط حرد ×٭ہ٭ دہتھم ٭ط٤ ٥ہ دہ
1881 ۱٥ط) ۲0۶ ح 3٥17778 صطھ۸ ٤ ٤213ء عط) چ ۶ۃ ذ”٥٭ط
”ہ۶۶0۱ ط٣ ۶ہ 8۸70 ۸٥ہ ےوےغ ط×0 ۲٥٥٥. 58
جرز 7:1٤ 1001 ٠ہ 8 هط) دہ .8818 عنطدا5 ۸768878
جج حانطقتة ۱0 صطھ ع(و” وط5( طاعانەط8 ,1910 ۲۰٢۵٢ عطا
دن[١۹"3 ۶ہ .ہ٥٢٠١ ۹× ع8ق ٍِط٤؛ ذذ ۲۸18٦٥1
کت مہ۲ ءَ(ۃ<ھ ص٦( ۶٥ ج٥4 ۹1ع ٭عنط ٥٥٥۷٢٢
عنط 16٥٤۸4 مہ (ط ×<ئئعت ۔طوزص ۶ہ تاز× ۷٥ ھا
.۹0341 391778 ططھ ونصوۃ ٥د چ 5ن7( 7188105837(
٤و ت زدهہادلط 6و7 ۲:01833094 ٢76906 56ل
رام 38 ٥ء ت168 نصعآّہ ۶31رہ ٭ووط ۲۰۹٢ 1 صطھ
وط 180ج 1 ص4 ل٭م 8زج 8ج٣ ×ط۸ م٥۲ 70
81 ٥1د د×اہہ×ط٥"7' ۶و" ر<ہ عط؛ صٗء صھام 6
دج طانزدہ طعانەط5 76988 133 031
92392 ۔حء ٤ھ 8٥6 18187 05 7838٥ ع۵م۱×م ٥٤ د0ط
,ہ٣٣1٥ صصاطھ وزصوەكذ ۶ہ ئ دںا:×ج ٤طعنعط دہ
1 ط۴٢۷ جون×مع جج ٥۲٣10067ا
1٥٥3٤٥08 0<
3ط :ط۸۸ |۸ ۲و :هنطء ١ط طااہ ۶۸۵نقص50(
1٭[۷۸0 ۶1 7 0۷ 65 مقط) قٗه ۲۳و ٤ططھ دزہ٭ اتا لھا
و1088 ادا ط٥۳1 میوط٥1 ط7 ۔صعطلا 11ھ 53۲38“
6۰.6 ]106583 زا8۶۱[ ٥ه ۱٥۱ ط118ط 8 م وط ععط معھا ط اھ۸
"٤ ٭وةكوطء: ط٤ 4 ٘ہ ز٥ط ۶۵۲۰٥۵ هط جو٤ ط٥1 ٥٥8عطا
43
۹“>ژیػٛ٭ك٘]ٛشٔ_أسھ٭٭پمممس×سسس٭سسسسسُسسسٗسکٗہسہہم سسٗسی_پسپ-ٗأپ_وس”بسب٤ص ٤ -ص۹×س×س٦س--سچپےج-٦س جح -
۲۴۱/۳8 عط؛+ا ٥٤ہ ٘18ه٥> عصا]1 عط؛ غعط؛ اط٥ا
٤۶1۰6 ۷18907۰ ط۲ 15 ص۵218 101م ط وہ568(
8 ٤١٦و310( جع ص111نئنط ٠ہ ۱د٭× ا مانطح8 2ص18 س۲(
طط ق8 ط×م([عق٥م ٭(لطا طز 8٥8۶۶۹ 008۵ صماہع 5(
8ءء ×مرعحد ×نه عط] سا دحعغعدٗدہ0 ×مزعصد ۱١۱ء(امہصی
88185. 08اط08 بوڑ صال ,حصستمنک دہ ۸دط ص0٥3۷( چ صتا ب1ز
8۰ ٥ط8ل' ١1 4
181 غط]ٍ ط1ا ٥۵1٣۱٥٤ 0۶۰٤٤ء٤ ع۶8 هانا دز
۰ ئص٥ 1 1ئط د33۷ صد د0<×۵ا() 10[۲ ٠ہ ر0 تائائطہ)
ج <٥ہ هطاەەمط ×هطاہ ۷۶۵ج ۸136۰٤ دا١ ء57
٠ہ ع٥0 د16تہ اصد16قئندعچآہ <عط٤مھٔذ .ەهصل٤ ۶ہ ٥۶۱۱م
6ء چ 1٥۶(ٗٛ عئط .د۱۷٠۸1[:3۰۱ذ اد8 صز <۶ دء هعئط
۶٠۰۰ 717 ہاذزا6 جچ 7٢٤5 صمتاف(عط0 عقسمصد٢ عطا ئا
٥ 1۷ط مچصللاء مطہ د غسمطد غطیسمعط طءنط- صعطوء
7۳۶٥ [دط ۸۷53۸۶۵ .ص۲:13 اعصنمچد ۱۵× ہ٤٥ء تزد۶< ٥ا٥ عنط
۸٥6۲ص ٥ہ ٥اطد دم ے ,صسصعط۵<٢) ۰811۲ ۔عاەمط عذط رز
٤٥٥37 1 1011.06: دء ح حدہء ۰٭د 85 ی۱ ط778
سعط۶۶۶+) بع ٔ۶۱۹۲ مزا اعصمنمدہءہ ءععط) 11۰( وہہط*"
5[8] رط ۶۱ع د٥(1ئطه رلاٹٗماەنتهە×ەمط ٥٥ا8 ٭ە
٥ عصزءط آددو0م۱<ج عدہ ۔ع(هدة عق طصزلدعط ٥ وداج-٢7
.ھ۱۸81 صرەمط 30 صعط ذ٥۰ ۱۰ط َرللعداو٥ 41۲1046
۲8:6-۶ ء((ط دم 1 ۶< ع د ۶ہ 1[ ط۱× دم طذ ٥۱ء ص0۶00
١ط ہ۶۲8۵۸ئاد٦۴) ںہ .ط113ھھ ةد” ؛]٤٭ەنجحص×ط60 دہ ۷٥ط
رم۳80 ,٭<عطا دہ ہہ ,ە×عط٣ ص عط6 ۱+ نصدصحہہہءہ 1ط
1 48 ص0 16 جرہ۳ م دد×ص ,ع صاع صا ۲۱۹۸ ۶داد دعصمم ع١دمطا
٦ عصامع ہز زبراانظط ٤عط٣٢ ٭٭ھصط ہ٠ ع مت ص۱۵ صا80۲
۰٤۰٭صحط اع ط۷٣۱ ۶0× ۲٥٥۸ ٥ا ع صنصصنعەط ,صعطد63 80
حا5ہ ہصح00 ۰۸10 ,16۵عزہ وط7 آ(د ہ٠ صد ھ ۸< ہد ۷۱1٥
۵۹8۹ ۰۱۰۷۵۰, 6081500 نرہ اط1 ا5٭ءصطحہہ٥ "٢
444
٣٢۷۲٥۵ ١٤ 16668 2 ”٤غ 811 ج10٤ا٦ 8
[و٥8وء٥6] ٥۱ عطا ۰ [160187 58153868-8۶ هطغ جرذ > اءقط
”ع ہ٥[31ط0 هط ]ا0ھ اہرن ٢0 ٠8ا 5611158۔ ۱[[8ا
11٢68٠۰ 7+ 1ہ 5711(4 6:٦٥ ١٥ مطخ ئعوط؛ سط ×ط5
73۴8351٥ ٣ “ووجەل ج٥۲ ۹8078 اجرہط غەناڑ 111۷ظ
ای رو طخ زەھ ٥٥٥, ط۲۶۱ هطا 72۸086٥88019 +50 -<×وعط لزەطا
2-77-9۷۷۰ ججرو طزجەەط) 7968034٦1, ەط ۰َرعطا
0ج٣٣ 4٥1٤
و) وط ۳٣٢ ٤٥1160 (نززو8 طعانەط5 بث 5٣8٥٤۴۶
0ط1813 م٭زو3م (3( 34106ط ۲۷۵٢ ”ہز ن×هط[٭ ط135۷3
7031660601 ۔8وز(ہ٣] مط818] 78218ط 7"خ138 851 ط15
٥٢1ج 2933۷٦ 31338 ط١1 ا13۶]٥۶ ز٥ ۲۷8۹٢
۶٥37 7" 82[60 ہ5 11[6 88[(58 39 و
185107۰ صنتا17"0 2۰
2 ِ۷
ادت
810 16 00
یئ
کر
۵۴06 .18305 ص760۱ ×وسرتا 73216 عو وع(٤۲ہ عط] 8708
508 ,ہمسعطاع صن×صصلظ ,8ط 7۷585 ء8٠ 116006٤8۲1618,
,۔سصسعطچصناآہ:6 ۴3160:۰ق 00۲۸٥۰۹ 08 تن([0×80+38 ۶۵۱
35 ٤٥ہ ٤٥۰: ق×ح٭ ١ ء۶٥ 07۶ خط١ 1۳7[۲031رة ٤881518
٥٥ صص×طش ١۱۹٥1 .تا ەط 15 برہ1087ئط0) 80388.
718753: ھ08" () جصونط غ د٥ۃ 375881( 13۲01 11وط>1
00آ 7518810 .1983 (۰1]ص33صدل 868 ٣٢۷٢٣۴٢ ۸ہ م1٥8۸
183 116۴٥ ٤ ط]ا جرز ومزخ زء 8٤3:68. 1[5[ئ1ء 2 ور٥٥ ےج
کے لے
مہ
45
<ک جح سجج سگےوحًََِہَھٰڑھع۔۔وجِِِٔوقجسحِىحىس۵چچِِتتِِ
٥656100 8 806191 6 7ا 1
وھ 0 ور سس ا جا اھ
8٤ طاام ٹن :۲ مدوں۔ شای تا ہت
یں 002 ٤ 10ء تاعاددہء طط دو چجتھ
1 8 طعانوط8 089 ٠٣٢ بیں وہ سو نے
09 قوط 16 ٥ہ ع3 ج جو سس ہے
٤ ٤ہ ٥16٤ء 6ط ٦
۶ ۶م ءط+
کے 1082 58 08 10 1086ء
7ء" ۲ذ ٣1٥٥8.٤0 آ۶ہو]ء
۲ ا
: : : 0 .-16110م۸ہء 131ا
۷٢٢۰ قتطا ص٦ فا۶٥٥٥٦ ۵۵٥امءن تحت ٥.6 6ا1ہ
٤ ×6ط
: 6 عط٤٢ آ1 ٤ہ 18
تا عط ظط صٔہ ہہ
×ے 88 تاماتفمد 7 ٢ 168 6چ ٔھ ء ھ 2
و 16 ٭نط ۶ہ سصنط کے 7:7
٠ کت ل٥٥٥٦ء صزہ ۹1۲۶ صطھ پوا یہ
7 ط ۸115 1 ط٤ ۵۲م 1180 8 و امو
دع زنط
70۰ھ 168 : 1
تر 7٢ 8
۲۲۱۰ صمصط7:6۔×1-1 نصٌ تا
56717 آ۶3 ہ8 دہ ط۔> ہت
. >5
58 ئ0 ۱۱۱صو
01
8ھ آز 3٥٥
موا ا
مارک اج صاح ب کی ریا منٹر الورا لالارتەقنع
0 یج
331 ۴ :
ام بے یی سو مشح ہے ایپ ایت وج کا خراع میں
نا ہوے ہیں۔ جس نےمگذشتہ اٹھاون سا ل کی دراز یرت
7
رما ےس عصسم ے ہے
بی ور تک صب(اھ ,لزا ول تا ً :
ج0 اور وو
٠ ان چا سفادھاال مم جامعہ اتمب
و و
قیان کے ہے تو
جک وس ہو
اک ا ور وت
زوروں یر اور ساتھ ا سیت کرو و .
سو سو ا
ےک نت
0ت کے ات مار رت سا
۱ اوران کے ای مقر مود علی خاں کے ہُو زہ
٠ ویسو ا رنروں نے تھی ضوںب یڑ
حم عل مو مکل طور بر حمت سے
٦ وت
سن
رہ کے اس خلہ می جناب ا
صاح ب کا مساجد اور کے فی عراکز بنا
ِنبوں نے مھ بڑے کردا
۱ کے برجوشل َ راسصست :او تحلیی مرک ام تا
۷۳ 1+ بم 3 3 ےرات ہت
/ م۱ کو موں “تھا دا رالسلام اور مو7 ترجہ رع 6م
3 و شک تا
کی ۳ئ
ا 3.3.3000 فریہ میں قیام کے دوران!
و رکتناوں کا تج کھ یکیا۔ مصمرٹی ا ری سارہ
١ نکی صلی
۱ انموں نے کئی!
یچ قو لکرد اور ا نک تا د کہ ”علیجاہ کا خدااھی بھی نرہ سے * لین بی
47
اور ائم داقعہ جو ایک سک می لکی حیثیت اتی رک رکا ہے “ان کا مشمور حیسائی من
دی ڑب گرا مکو رات مندانہ ٹچ کرنا ہے نس کے ذرلجہ الام کے غلاف
نے دالی سنا یکو ایک ککاری عقرب گی مارشل فریڑے ان کاب
0٥2ھ ۶و سطوءة رازم
۵887 ذ۰ 6۱ ط718
مر اح ری کی ایک بای ںو تر ٦
١ 2-0
بھی بھی ہوتے دالے اظار کے عطاد گرا مکو لت کے سا *اسلائیمنار*
ریو ںکی محت مندی کے لے دعاکے ذریعہ دحوت مقایلہ رے رہ تھے۔ تو ٘
کہ پپقال سے میں لاعلاج مریخو ںکو تمہ اندازی کے زرنیہ تی مک سے ۳0
چناجاے۔ دعاکے ذریعہ ا نکی کح ت کی دعاکریں نہ عوام الناس کے سسائے ہے
ا تک لکرآ جا ےک ہک سک دع قو لکر ٢ ہے۔ کی ال سگراہم کے اھ ان
دفول راے گستفسن صاحب موجودتھ۔ وہ اس وا کو یوں یا دکرتے ہیں۔ ا
نفد اکی نا یلیفو نک ینٹوں نے بنا شرو عکیاپریں کے تمائز گان اور ہرم
کے لوگ اس بات پر اصرار سے مض رتھےکہ ب یگراہم اس سلسلہ می سکیا تم
ٹھانے دالے ہیں“ لی نگراہم فقررے شک آکر ہرای ککو بی جواب وج ۳
۲ 29 72 00
اھ بھی نمی ںکنا چاہتا۔
ای بالاخ کا ہے۔' مھ ام ریہ سے لوک نکی اروں او مر ہے
ام ال کگیاج ھکہ ہیں ابھار رہے تھے۔ خصوا) ہن یکوٹل فرتے کے دوگ کہ
ھ۰۰٠٥
ا ام کھائی سے جوانے می کر اہ اکر انموں کے وش اور ھا کی
48
بات نیس سی ےچ راگ الیک عردہبھی ز ند ہکر دبا جاۓ ىہ لوگ نہ سئیں گے_*
( صم+ي.۳۰۰)
بعد ازاں چٌصاحب کانین ربوہ میں لطور نات نا ظظراصلاح دارشازہوا۔ ال
کے بعد وہ نا ظراصلاح ار شاو نایم القرآن مقر سے گئے۔ ججماعت کے ھرکز میں
ان کے سرد او رئی ام فرا ئل یئ مھئ جن میں سیارٹڑی فحضل رفا نڈلیشن اور
رٹری حدیق* ا مہشٹر بین دغیرہ شائل ہیں انموں نے مسہ ا شھھ یکی تق کی گگرانی بھی
فرماگی اور اسی طرح غلافت لا ری اور فقل عم رپا نڈیشن کے رف کی نمارات
کے تقیری عرح لکیگکرانی بھی فربائی۔
ربوہ می ےاسال خدمات سرامحام رین کے بعد عحقرت خلیفۃ الم الثلت *
نے آ پکو ہو ۔ کے جماعت کا اھیراور ریس الین مقرر فرایا ۔ انستان میں قام
کے روران آپ نے “1ھ ہال ے2 سا پریٹورڑالیٹ
رن جلنگھم ”کراوڈن او رآ : رڈ شائ می سگیارہ تن مھلیتی ھراکز قائم مگئے۔ ۱
علاد داز یں ا سرک بیو ںکی تعلیم و تربی تکیلے کا سز کے اعت میں قئمکیں۔ ۱
ہال ۸۳ء میں حفرت غلیفۃ اسم الراِخ ایدہ اللہ تھالی بتصرہ العزیز نے
ناج ضاح بت کو1 کان ردانہ فرمایا۔ چماں تبردشمروں میں لی عراکز
قائم کے گئے۔ ہم خصوصی طور پر ان کے ممنون ہی ںکہ انموں نے بت َچہ اور
خلوص کے سا ہماری مد بیت ا می رکی تق رکے لے مسائی فرماکھیں۔ تقیری.
راع کے دوران جب بھ یکوکی دت ٹپل آکی وضو رکی بدایات عاص لکرنے
کی ہم چن صاح بک بیشہ اپنے قریب ہاتے کر کے سے مل زین کے ا ات
سے نک ےک رص کی تی رکیل ہونے تک آ پک ار ہارے شر رف
لائے۔ ہم ا نکی اس سلسلہ یس ان ھک مسائی کے لے بے عد ممنون ہیں ۔
49
سس ٌٛسسسمسچسسسسسشھتی
آت پ نمام ممبران جماح تکی طرف سے جناب چ صاح بکی عم رب رکی
پر حدما اعت اھر بج ائیکن دل ما رکباد پچ یکرت یں
اور خراع صبین ۶ر نکرتے ہیں۔ بھم ا تقائی الاص کے ساتتھ ا نکی صحت کے
گے انز شال ے رتا لرت ںگراھقال انی سان یت
قبول فررائے۔ آمن
لس
ڈاکرحید ال عحن پر لے نف لاس از
ان رام گھووبزل تارڑی
(۱۹ی۶۱۹۹۱)
۱ 40
منظوم0] ثرات
6
3
ریاستتماۓ متر۱ام یل ْ
اوداغ ۱
الوداع اعلام کے گو مر ستارے الوداغ
الوداغ اسلام کے جم یپارے الوداغ
ااداغ اے پزرگ و ا گل اوداغ
۹70 ھ۶
طفل بی تھا جب سے فو نے زندکی ےہ و کی
ففل بی روں نے ہی تجڑی زندک ماوعف کی
6
شی تے جو بت اور عاخشقان رین کے
لم ر عرنان سے مزین کر دیا پھر اس قر
ایک پاتضل بن کے لھا نیک شاگرد اس فور
ا عر باب
الک معقرر بن گیا ق اک عرلی ایک خیب
نک من ظربھی بنا نے ایک دائی ایک بی
جج پڑی این کی کی تھ بر نظر القات
ام زآپ ےم کل مات
یں تین یھ می ےکن 7ار
: ایک ان می جن صاحب محزم تے ہاں ژار
مور تھا تاریک تر جھ پراتظ مم اس زاں
آپ کو جا گیا بپھیلائمیں نوز مؾ وہان
تھی سے ہے شا
ہر ندم کپ میں یں رت کے تا
ال رر سا 126ر
ایی رھت تھا دعا کی من ت از
بے ممروساماں تھا من لم سے وہ ملا مال
انا بجر5 را دیں کی رولت لازوال
رک طات بھی دی خی ا سک ابی بے مال
تو صلہ مند اد ر بھی ہیں پر ان کے جیساال غال
اک ججوں تل کا تھا اس مارک فرر کو
رہ یت 7 ںات اون ا و
452
بی اف "بی سا ا
و ری کھومتا 4ر ربا دہ ام
وشت و ما و مایاں ٹن ۸
کس اص کا پھر خدا نے کاسا بی سے گ۴
چند لغوس باوفا سے پر بنا دی اک جماعت
جو خلوص و صرق سے رق ری آپ جات
ویک 2۷ 1 2 سد پرے و
"8ھ" ت ٦
مر علی مس لم کاب میں لال اخڑ سے شت
صاحب کے بی ہا تھوں بی نگئی ا کی قلست
جب کو نے کی طرح اٹھا دہاں ہی گرام
گر کی|مامند کٹھا کر اونیا کیا الد کا نام
یت سے و ا اک
ری اسلام رس بات ما ا
۷۹۳ )۷
٢ 2
کیفیا کے ساعل شفاف ے جڑاے داراللام
مت کے طالب پا گے دی دودال کا یام
گنڈا کے سگلاخ میرانوں کو پاٹا چند بار
دکوت رین کی دیا وہ تا رر
43
لک عدرن مین لوک تو ڑعو یڑا کے ور عزان
وہ می زتھو مل تھا جن من ےون کا ین
روح انتک مار ووار
کے
یبیوں رکز بھی کھونے مسیری اق رکیں
اغیار جار ی کر ویے چندا نکتب گر یں
جا با دورے کے اور تربیت بھی ان کو وگی
اختقاد پر ملا اور دعل گی ان سے بدی
ار و مت سے جائیں خویاں اعلام گی
بن گی سے قوم سار ی اب بت جی کام کی
قوم ؛فریقہ بے بھاری ہہ تھی اصاں گر دہا
ا 1 ا ا ا ا ےرا
رہتی دنا تک رسے گی حون ہے قوم یلال
رت دتا رے رپ علال
۷ ء۰ ""
مرصماااے شچخ صاحب “صد مارک “صد تار
آآ پ کی کاوش من کھت دی خداتے بَاغدا
بن را سے اب بے خط پا صفاو باونا
۴ ۳"
کو ری اب لاکن ہر طرف ری
٦ 01
45 ۱ 241
ہو ےس ژسسسکےھہے ہے
ال اھ میں ون ہہ آگیا دم ت گذار
ا کف رکا سب کر کے ایا و جم
پ امیر اون کے سر لندن کے متیر
گ وھ رم یاب ہیں ہہ دین مالس کے سر
ین برسوں پیر لوٹا ے دا۸ یر ے بس لد دیں کا درد تھااس قزر جذہ لا
ہےر ہش جن کے آکسو میں اث تھا ان کو ہے رجہ لا
لو نے ہر رھ سی نے
ری لس فا سیل لو ان سے اواے طاعت و فی تی
: یی پھر خرت نا صرنے سو بی فوج لند نکی کمان
مت اعلاح میس 'ارشاد کے بھی کام می نے وت نے لاب این امن وا مان
7و و رت قد چے بن کر دیاا در ہا یں دی ابی ڈعال
کن سے اور بھی بڑھتا ر| ایر جو پراعمیں سے ڈ لی ہے لو در ےکم کا مال
۔ شا یہ سیاو دین کالل رکھتی میں تق وج
یں ؛زر تعٹیف کا بھی کام کیج کرت رہ یت 2 ھی ہے دلائل پاس ہے عبط د ہر
ین بیادوں کو سکھاۓے عوو کے ہز
۲ 2 قوجہ دی یکی طرف مذو لگا
'"وسڈ دہ سیک رنمار ہیں اب مخاق بھی اور باشر
۴ 0ن طرف ںی
۲ یں و ٹَّ کا یں جا
۳٠ کی ین ا ا ا کت ریا تما ے کت پچھر ملا وہ عال باز
۲ ۱ ش2 >5 کے5 ہے٭
سس قابی تر تھا وں چاثثالی کا در جو سے عخاقیق رکل اور یارعا و پاکاز
سال جکسوں میں تی تقر کاجوش و خوش ِ 1 اک پان اعد ہے آھرچڑاتیاز
کرح رہ سے صد برا را نکو وہل علقہ مو ا گیا جب سے نا گور کا پادا ایاز
١ و جز ارت حواری رت ناصرکے ساتھ ماجلل کے ا ز رشن اک را دہ الار
۸ )ىٰ۷)ُ س۹۹4'ھھھ ''"
رو رر یس
خی کے سے
رں موا بج نگیا دہ+:ان گا
اوک انار ا گر گے اکار ضف ١
رر رس 6 ۱
ویک وکیا چھر رد شنانی .
080290 ٦
تو رر سو
2ت
7 0 200ج
0 تہ ے
و وی و ا
و و او ح0 ھا کک
یت ۱
سح جوم میں بھی علیہ و دا رے|
ہر چٹ
و کارگا
روم ا ٹا رے
و سے ہے
بھ ان کی مس ل می ز٭
2 7
47
جوبھی اس نے عمرد یی سے او ر در ے گا سب عطا
شی ربا میرے مولا اس بشرکی سب خھا
سے اس فر مت جوال ”یی رانہ عا یش ال
اعت موس و غزار انماں' اللہ تر یاں
ا ساہ دین اھ کے لغ خوش خصال
اعتتقاعمت کی ررھی بے سو نے اٹ ز دہ عتال
زی تری کی سب غدمت اسلام مس
جج کول جا خمدا کا قرب اس الام شس
دی کی غا رق نے دسے دی سے ماع زندگی
ا" بر ہو ایا ادا نی
0-2
۶٣ کو
یس نز عاجز ہوں کھاٗ پر سے میری الا
پا وکر لیا یج بھی جب اھ جوشح وعا
اك دعا
کیم الد خان۔ا مریلہ
ان بر و ٹیسرحجیب اللہ غان
روہ
۵ ۱۹۹۱ء
49
کیو کا نیس کہ ح پک ون جوا ل خر
گلپ ہو گی جار ی بی میں سہ درد خمان دن رات ت٠یں
اب گ کوک زان جن
حم ول نا مارک اج صاحب عابق امیر نجار نکی ریائرمنب
کا سرت ھجت وو ہی کے وہ
777004 ََٰٰٰٰٰٰ٘ ۷ ھ2
صد شک کہ اتی رانوں میں اب ”گگ رک یکوگی دا ت یں"
کے فون میں ؟ بے وق تک ملا مات کمیں
*صد شف رکہ ای 27+
ال جا
انت
مبشرا مر وا جگئن
۱۹۹۱۵ء۶
اپ تم شی
دو رات یئ لاس از سے اب وفف ٹوک بات "مل
اور وقت تیر لنژن سے فرائش کی اطلاعات سج
مج می بر راجٹر میں نز شام تشگ گنی می
روپ رخییں اب ڈیٹن مین اوز بینٹ لوگی ین رات کی
سب نلشن یک بی دن رک ھک رکیامھینچا جا یکرتے تے ِ
اب خوش ہوگان ہکوئی فا کوکی جمیت نمی ںکوکی مات مج
مت
ہے ےش ور رر کت
7ئ 07 تھ". و سے
رو رونا کا و اک ا شا عالات کی ۳۴۳ 6۶ صنطء 75۸( ع 5ہ 8۷×۷٘ھ
7۱ھھ7
9:00
41 ۱ 460
رچچے دنا کو دگی سے و×ؤزات ا اح سو وی ےت
او ہے یھت رہ ہیں
نیب فراغخت ا زکارم دم تجگرابی عرجبت کو رح رر سے
سس سس سس س سٹش شس میدان کار نا وہ 6ار آپ یں
حرت مل نا مارک اع ممیلغاعلام اضر یت رر او رہ
تید یوون ہے ہے یس وشن ےس زاظار ران اق یت و لک رک کے
وع ا اھ ہک ان یھ
کا کے تَ ات قرآں 1 نکی 7 3 اث ات باون
انت یت را کو اج
۱ ازرار 1٦ 227 0 ر آپ یں
۱ نیف کا بھی ام بہت نے مک
یں
یی کا غدال سے ہزار آپ
ای مغ کا کا شر
ا ا کک ا
اشر ول سے جن کا وہ ممار آپ یں
بر انا کاب ہے خاصا تم کک
سب رے ہیں جن ے دار آپا یں
0 0
چھوکی بھری سے جس کی دہ نادار آپ ہیں
لاس از میں ہے ہیں یرت کے العد
رن سے ات با راد کا لدارآ پ
اب خی کات یں بے
7۶ ۃة77 )"مھ
463
ک2 کت اط ۱کک گ ٣خ سے
گرم را ہے جم غزل سر
اک ض حمت و زار آپ ین
اث دعا
سید جم شاپچماوری
یت میتی
(۱۹ ی۱۹۹۱ء۶)
1
ا
464 465
وی رر ات ہے ا شش
اط لاوز نے سوسر رہ
منعتی ماگ و کے موئح پر ات اض اہ ہہ
یی خد ممتامیں
خم میں.بوشیرہ نشی میری مناجات میس سے ِ
مور مس مل ایا ہوا سوغات ہیں ج
سو"
1ے ال عرام 21 مارک 7۱ھ تب ہواۓے وج رممت ہو فضا یں دہرکی
رین و دنا کی فلا ا نکی ددایات مل کےا ماف لے ہیں زین و آساں بھی نی ری
ش3 1ور خر ب م وو ری ہے ۱ دہ جر کیا بدتا ہے وجود زنوگی
1 تث جا ے
احریت کی نک آ پ کی جر جات ما ح ال کا ٢ ہے عطا پھر دست شان حیدری
وت وت کے و "یں فور فرابت ار لا یز ری
ارت ککاعلم اب بھی ترک ذات مم تچ کی می وش مندریہوش میں رنہ وی
و وت ان مک تن ہیں ار سب ھن بے ال و بے نظیر
۱ ا و کے کے
وی کے تی یسیک اح 77 ,+ )/
2 رر اھ و ہیی نے ظا مر ایگ تارے جن صاحب جو بت مور یں
میم می عا ات مم کر رر اپ پا سے دوریں
الد دا عکیسی ؟ ول و جان ہوں روش تھ سے پک طینت پاک خلت پاک ان کا کام ہے
ْ 2 220 رے من مالات میں خ۴
۱ جو لے م تک اگ و بھی سے اک شرجناں
ْ ْ ه23)( زکر اس کابھ یکہیں احرىی باطات می ہے
۱ ملک سعدر ۱ھ (۱۳جولا گی ۱۹۹۱ء۶)
إ ١ 1
صاب وم و صلوم مارک نام بے
نیدی میں ؛ن کا جھ بر اک ڑا ا اتا ٭
کی ضنائع نہ ہوگا سے مرا اھالنا حے
رات ا ا ا
رت کو ہوکی :31ر ان سے کی
و و لک
جیے :ام لنرن کے آپ اس دو ر کے آغاذ جم
ٍٍ ۳ 2 رت
و تک
و و می ا ا ا
٦ 2 2772 ہوں عاضریی 01
کی
یی کے رت ہر ڈالا
وہ
"و ہر
گا رریان دو بمادا
آ پک لکقار بے فید یا ئ27
ہس یں میں اک صاحب پاد دج گا
موتچپ رت رے
467
کے اس جج پان کا ۶دا ہے دل ول
گر گیا ملیٹ کا خود اپنے مر انمرام
عیرت دین میں کا اس ئںزر تھا ولولہ
جو رکھا
مہ سے دہ
ہیں یی رات ات ہی بر روج
وت میا وع تی لت ای یا ھا وا :5او
جیما لت ام تن ات ک5
ٍ ٍ ےب ین ا
پچھاور گھمر ہاری۔ خرت اصلاعم میں
آپ ای مج کا ای ا نا
48
و کے ا ال کے کت جاہت۔۔ گڑس شش ہےسےچچچے
رتس ا لص ا م ریہ شامبارک اج صاحب
ا ریفکت
کی الودای تقریب کے مو ماپ
2 ساحف ؟ کو مارک وداگا تقرب
رعوت می کی سعادت ہوگی سے جن کو ٹھمیپ
+٥٣ بت
رر ےت رک ہیں ن گے
0د اد امریلہ ک
ر لے ون یت لوک مدان ہے
یقرت یق سی یی
روشنی جس سے ہوئی افریقہ کی ج ری می
سن سے نے فی مم یٹ
٦ب نے ا س کو جو للکا را عم ہوگئی ا کی
ساٹ برسوں ے زیادہ رم میدان ٹش آپ
کو در ران جن کٌَ
ورتوں چ رک کک آپ ط2 اتھوں تم
دن کے باروں سے کوگی سے حا کی مر
ے ؛ن کے گے بمکریں سب مل کے دعا
ق ا ا ا و و لد
آن 001
ززیٹائزمف کک مامت
عقرت غیفۃ الس الرائع ایدہ اللہ تقالی کے ارشا کی تل مس ناما رکی
ریٹائزمنٹف ۵ مچی ۹۹۱ا ءکو نفضل خدا اص اہ تمام اور عزت و اترام سے ہوئی۔
ائمیدریلد گی زالک
زم صاجزادہ مرزا مظف اضر صاحب جھاعت ام ریہ کے امیرنے ناکما رکی
ریائزمنٹ پ جماعت ام کک ہکی ماس خورکی جو کایولیننیس منعقر ہوئی اعت کی
طرف سے اپنے اض خطاب اور ای رلیں سے خاکسا رکو نوازا۔ اس موقحع پر
امرین اجری احاب نے اپنے انداز یش خاکسا رکو الوداگی ممریایوں اور پیر ے
مو نکیا۔ کرم غاب اج صاحب مکل نے اس تقری بکی مناسبت سے اپے
مظلومکلام سے خاکسمار اور ماس شو رک کے تام مرن اور دیگر احیاب بماع تکو
مرو رکیا۔ زی حنزم لق احجر صاحب یٹ نے ىہ موم کظام ای اص آواز میں
سنایا۔ جمز اعم اللد ان ائجزاء
زم صاجزادہ صاحب نے جو ایل ریس بن یکیا اکسا ریز شنہ صفات میں اے
در خکر نکاس او رکرم قب صاحب مل کامظوم بھی۔
ریائزمنٹ کے ابع جھمائی کاموں سے بچجھ عرصہ کیلئے زا رن
فرافت ماکسما رکیل باعث ازیت جتی رہی۔ سالماسمال تفضل ما اکسا رکو جمائتی
کامول اور دی خدمات کے باعث اض محروفیت ری اور بہ اڑسی محروفیت تی
جھ صرف دن کے اوقات تک بی محدود نہ شی بل اکر رانں میس بھی جمائتی
حدمات میں مروف رہتا۔ اس سار یی مصروفیت سے فراخت کا عرصہ ھیرے لے
471 470
سے جار نا زیت کا اٹ ہن کیا۔ ندا تا کے مخورش د روز دا ددم تاب ایی اعادیٹ پر مشقل ہے جو انسائی زندگ کی ابقراء سے زنرگی
تہ ہش گے خر کک کے عالا تکی زا نماے۔
کی ہو سو ہت ا لکنا بکی یہ بھی ایک خصوصیت ہےکہ اعادی ٹکی ممققد اور عقبول عام
زا رم رک ال تائی نے اس جا کی عال تکوویکھااو رکز ید زی سے دعائل تپ سے اعادیٹ کا تخا بکیاکیاہے ۔ بی بھی وجہ ہوگی ا سکاب کے استقا کی
ور قول قراا و رج مو کیا تماری ایک مت شی اسے پو راک "جا .ا کہ اعادیٹ کے مشمون کے مطااق قرآئی یا تکوامام نودی مول فکزاب عزانے
زی کہ جوخی خدا تا کی وق سے خاکسار نے قرآن بجی کاسوا می زین شش اماریِدڈدے در عکیاہے ادر مزید اس بات نے بھی حا طور بر اکسا رکو اس
بس بج کیا خوائش را ہوگی اور فاص اندازمش مناکہ اللہ نایا ماج کے ترجم کی طرف وج دلائ یکہ ایک بار حخرت خلیفۃ الج الثای نے ان می
ےک مت ا ٣ے بے ہت
بت کی کل بں مان2 رو ر ا سکاب تی و ےک ہے سن
رض صن کا سو ام می مہ ا . کامطالعدکرتے۔ عابجز بھی اکر سکاب کااس تر خیب و ترلیش پر
کے رج ا سے ان دوہ کی بناء پر رو زانہبامازام ا سکتاب کات جمہ رد عکیا۔ دن کے بعد
ری و ا و یت وا۔ بفنۃ کے بعد ہضۃ اور میینہ کے بعد مین گزرتگیا۔ انار ا سکام ک ےکرتے
72وا سے رسای عرمہ می جن دنوں خاکسار ریہ می تا ا کاب سے الا شی ایا و ہد اکہ بے کار کی اذیت جائی ہی اور طمیعت مم حوصل اور ینان
-٣ ار ہے ہے اور صرت۔ مزید برا نکہ اللہ تال کی دی ہوکی قوٹیق سے ایک تی ک کا مرن ےکی
انکر الین زی ما کی ا تطائی خ کات یی ہعاات ل دی جے۔ پالا تر تزجمہ کا کام دو سال بعد تب راک بر ۱۹۹۳ء میں تم
وو رک ےہ نے ادا۔ فماکمار نے مسودہ حفرت امب امو منین خلیفۃ ال الرا عکی ندمت می پیٹی
کنا کو واؤں کے بعد مد اتزاٹی نے متوجہ فراااو نیقی دی نا کنا پ کا ا حور نے نو شگوار رت کا اظمار فرب یاکہ اس عمرادر لیے عرصہ سے مشرقی
لت رٹ ائرقہ سے باہر رچے کے بعد سوامیی زبان ابھی تک آ پک یادبیش ہے۔ فرایا
ا ما ٹکو چک ارت اس وجہ سے خق بکاکہیہکتاب عالم اسلام مما ا صاب ود عی اس کوٹ خکردائیں۔ الل جزاء خجردے' میرے بھائیوں
ما سے وی وا سے لف کون سپ زینول اوج دوستوں نے اکسا کی لی اداد کی۔ جماعت کے پریس اسلام
اسلابی ارس میں ا سکی تیم دی جاتی ے۔ آیاد لندن میں ا سکی طباعت ہوگی۔ محنزم صفدر ین عباسی صاحب نے خاش
ا ا
رذ کر مراف وا مھ نون راس مر
خی رکو الد نعالی تے شاص قوے|* ج : : : : :
و رہ ہو ےت ا سکاب می خالع تا قرآ نکر مکی آیات سے مخلف اہم عنوانوں کے کت
لااقا بت ۱ ے کے 1 : 2 2 :
ُر نےکی سعادت چتئی۔ وللہ ا فر ےت کر ا تر ا را کی
42
ام مھ انال ا کی اع تکردائی۔ جن با رک در
. لی خسار نے عماعت کی خدمت یں بے یکر اور مشرقافتہ
ھواتے سادا تچ می برداش تکیا۔ می ہکتاب اب ماع تکی کلیت میں
اض شاعت شرل ار نے ا ماب کے لے ب خی زا زامان می
ج یہ سے بت بت 22 اد فایا۔
کے ھت شریہ کے ساتھ خاکسا رکو یا قرایا۔
403
مممومس”مودصوصسد ژژسسسسسسسمژسجووسدسولص-ص٭دى٭٭د×ص×صص-سح جس سصر×رِدحج_سسکے
مزید بی خد مم تک نیقی
رطائزمنٹف کے اس حرصہ میں لففلہ تھا یی خماکسا رکو مض اور تیذا تکی گی
تےفق ہی۔ اکسا رکی تنا ش کہ اعادیت فی ج نکی تعدا دلج علماء کے مز د یک
کی سو کک ہے۔ لض کے نزویک اس ک ےکم و می ان اعادیث می سے چا ل
کا اتا بک کے ای ککتاپچہ تا رککروں۔ چنانچہ خمسین “کے نام سے پچچاں
اعازیت قرسیہ کابھی سو اجکی زبان میس تجح کیااور با قاعدہ طباح تکی غرتل سے
کپ ڈرائ کرو اکر تراحیہ بچنوایا۔ جا وہاں جماعحت کے پرلیس میں بی ا کی طباعت
ہوجاے۔
وی زان می ایی او کنا کابھی تر رن ےکی انس حو میس تی
گی۔ جماعت اج ےب لیرن نے 1ی کف کاب وساموں اور ووارد ا7رلوں اور
نوجوانو ںکی تعلی و تزبی تکیلنے ش کی نس کانام ہے
مز د::/۶0<۶:17 ا د ٥۰ذ ۷٥ہ ۲۷۷٣۶٣
دوستول ے یہاں
وا ہو یی ےہ
: 22 اضان ہے کہ قرآ نکریم کے سو اہی
قرجمہ کے بعد آپ نے عد یٹک یکماب کائھی سوا جلی میں تج کر
کے ہیں بے تفہ حخای تکیا۔ "و غیرد غیرہ
: را ا ا تےکر ےس تک یک اک ا
ہکوہ ور کا
مو ری قد مت می شکتاب چیب بی کی لزفورآباقہ میں نےکر خاک ارس
یع انتا ہدام رق و رک یٹ رین
میں ار ا ر2 تر مز اضعا یر ا سکتما ب کا سو اجکی میں نام جو کیا
چلاپوچس ۱
۶ کا مت ین بھی و کی دک اذ معلو مک ک کہ ریا لان 0٥ ہاج تا عص ح ع16 ۴۵ ہ7725
ای می تجمہ ہے آپانے خو گا ران ازیں فریا:۔
شا کی بماحعن :ور من نے عواہ قاعت کے سا اپنے لیس سے اس شال
کیا۔ اسلای معلومات' مخلف عقاتد اور اعمال کے متحلق ا سکاب میں آیات
ےد
راف یں بے کام اش تھالی خابحت کے کی ورام
عطاکرے جے اس اماک سے ریا ئومف کے عرضۂ میں بھی زررے قرنی بی یک یکئی ہیں وہاں کے فو ابو ںکی اخلاقی روعانی اور عمی ترمی ت کی
دن ایام دی میس مک رچتے ہیں _ *" اص طور بر بی کاب مفید عابت ہو رآ ہے ۔کرم وحم اص صاحب چیم مشنیی
انار نک یگگرانی می شع ہوئی۔
یا
کی نمیو ں کاجو اپ
پان
پی کہ چو کے معانین اج
بت اور
خی رج
8 نان گرم
لقی نی 0+0"0""0" شاو صاحب سیادہ نین بھیرہ
کات تعید ج ہی ار مت تو
کت ات ری کا ا 5
نے کل رکا ٰ ہے مسا ےا میس مکی ور
نعلق رازگ ٠ ےرت
و 1 00ر اہو ر'" کہ ز اکنا کے
: رس تن بے اہتما
0٭ا سرت 2
و اور
مت کید و کک
پل ا تا سے ان نکی اشماع ت کی 72
۶ 05 ود می ا کیا اشماع تک فی ہکیا 7
کر مو ما رد دج 2 ۲
5 ہد ك ا ا نے
تہ کے ات
وت ان تحت
روچ پا مقای ریڈی پ رلل
ےت ا بت با سلسلہ اریہ کے
ور کت7“ ا قد ری ھ1
کچ وت
داکراہ فی اشن کا رآ ظز
رک
ذ 475
سسجکجتبتھشسششک __ر۵٥۵٥ةہع۔7۹3ٌ۔
عوان ے رہالہ شا ئ کیا ۔گیارہ امور اسلا مگ رواراری اور آڑادی تیر
آخضرت و کے اسوہ اور تر نکر مکی آیات سے اسلام کے متحلق ہہ عابت
کہ اسلام جرد اکراہ کا رہب شمیں۔ اتا چھ کھٹے کے بعد رسالہ کے آ ری
صفیات میں اس نے ب ےکلوا- اعلام ھرت کی سزانفلی قرار دا ہے۔* اس رسالہ پ4
نے امک مل اد رمموط تع وکیا اور جناب طاہرالقادری صاح بکو گوایا
جو ان کے تضاداور قرأنی تقال کے خلاف او رمسلم علاء اور ج ری داقعات سے
ان کے ری کا یرلل ر وککھا ۔ اخیار ”لاہور''نے اپنے بر چہ میں اس تبھ کو شال
کیا۔ بے تعرہ طاہرالقادری صاح بک پراہ راست گنو ایاگیا تھاگ رتواب ندارد-
ماکسمار اس تبصر کو یہاں اہب
صاجزادہ مرزا مظفرامر صاحب
امیر جماعحت ات بہ ام ملک غدمتش
4۸77
406
ک۔ الین کاہرا یف
لیت ای ٹرآ
ی6 دض ناقری امن کا
ص۱۳۱ دے مفلقی کب جو مال الذکرکے نام ۲۵ اکور
ھ] کل 7
ا0 ١ اھ سس کاجو اب مو صول مس ا۔(ادارہ)
٦ لان آن لقادری صاب
ا ان" م ناہرا ٠:
الام میم در حمے ال وی رکا
۱ ح سی ریاست (131802ۃ) جائے کا موق لا۔ ایک
۱ یذ انس 7 لااکراہ فی الندین کا قرآنی ظز “نظ
۰
آیات قرآنی کے بھی خلاف قرار دیا۔ ۹۷ سے کک آپ کے گر رکردہ مضمو نکو
پا کرزن میں بے تشہ حم بد اکہ اسلام دین رححت وشخقشت ہے۔ ہجرد اکراہ
جےکوسوں ددر ہے اور اہب عالم میں ىہ پل خریب ہے جس نے آزادی خی
اور را اور رداداری ادرنھبچی معا ما تکو جبرادر زور دکی سے دور رک ےکی
تن فربائی ہے لیکن بے عد جرت ہوئ یکہ صفہ ۹ کے 1 خر ی ضف ص ےہ کے ؟ نر
تک ک ےکنا پچ ہکو پڈ ھکر جس می ںکزشتہ ۷۷ صفحات کے تن کو آپ نے اپنے ہی
و رم سے زا لک دیا۔ هک ھک کہ مع مکی مزا قلی ہے" حرت پہ رت سے
گآ پکی بہ تاد انی اور اپنے بی دس سںگیارہ مفموموں کے مرا سرغلاف-
ایک ابیے شف سکو جو انی خی سے اپی عق د داضت سے اسلام سے لگ لکر
کی دو مرے نرہ بکو انقیا رک لا ہے آپ اسے تن یکر دیے کا عم سنا رے
یں در اپنے اس عم کے بارے میں ولیل یہ وت ہی ںک -
چ کا 5
”از ادردد روز عا مکی بفاوت موج بقل و جرم قرارریا
بے ےک رر تی اک دو مک ار ےر سے ڑعا۔
٦ جم ات ون >7 2 ك
رھ
۲
مم
"٦ کے نصف تگ آپ ےلااکراہەفی الدین ے
لا 222
ےا اد“ رلل اندانجم 2000
٦ 30 7
ئن تر ور صلاخحت کے زور سے اسلام می آزاری
یت یا اک 0 و
ک8 ٦ ٹا ین زواداری۔ اللہ تال ی کی اپنے بنقروں کے لے
7٤٦ +ہ++ + + + ٤ ٴ ۷ "ھپ
ا ٣× بے سال یں تس رس ا
ا گا سر جیات قرآمیہ سے ان سب امو رک ترق
اہ کب ھلاے
7 انان ا
پک , پالا
اذا : ور الد کے عنوانع کے تمت واعظ وتت کا
وی | ناو جرد اکما وپ تل ہے سیرت مو اود
ا ڈ5
-- ََ ما
5 الا ت
جا اور عائم میٹ و تاور علق سے ارترا کو ھی من ا
جا ۔''(سئے )٦۸
مزید چند سطورادپ ای صفہ بر آپ نے گر فرمایاے
لمت اچپے وش حگردہ وا نکی خلت ورزئ او ارت
ای کا مزا رت ہے و کوگی اعتزاض تمیں کر٢۔ گر قوانیں
حد او ند یکی کل بندوں اور سرعام مخالفت پر پیلے وش بی نہیں لیا
جا اور اگ رکئیں الیا ہو جاۓ نو یہ سیگولر سوچ کے عائل شور و ون
گا تے ہیں کراسلا شض دحت ور ریت ے۔*
جخاب پر وس رصاحب آ پک اس سوچ پہ بے عد جرت ہوئی اور اضمویں۔
8ھ
وا کے جو
اپ ا کاچ کے شر کے و مات می قا ین خدا ون یکا لاف
درز نے والوں کے متحق بار با رککھا۔ اوٹہ تالی کی صفت عو 'صفت ستاری'
و ول ایت
: سدقت کا ہی اس مزا کاو رد قراریں دب یں ھی تریس
"اجس مھ ہچ
۱ دی نک اپکی عقل و دانْ کی رو سے اپ لے ذریجہ جات قرار دا ے
ور اے و لکرا ہاو رکون یکر ےہ اس کے سلاق مل پکرے۔
لاس کا و دیق می داش کے ماق اچ مرتو سے خا ْ
د کت ھتاہ اور اس وی نکو اختیا رک لیقاے۔ ایک
و سو سن ای نے
یی 0ت 3 -- را پل
ۓسومس کسوے بی ہو سے
رو کے ور وت
: چین / ا
دای سے مور قابل قرعلاء اور مرن نے | بے من سک و بھی ؟
کی ےکوی نی یا سک 7 لت
آ شی اگوی ای حای سے اور دی انار لے
۷٣ء امت یی بی ہی ںکہ مومین ے
خر فا کرنے می دین اسلام افقیا رکرنے کے بعد اسے تر ککردپے :
ىً اک تن از یں کاپ ضف ضا ےک کا
ای ا رک تھے یئز وت کک
.رو رو ہے
پر 1 ]-. و ب
یادیر بج زم قائ بے ا کی تیدی قکی ہے اور ا سکی طرف باربار ۱
-.------..49مے ستےسہےیسے
ک2 بجر نکر مکی آیا تکو پل میں ایک نمی متعددآیات آپ کے
موق کی تعل مھا وی کر ردی ہیں۔ غخدا تھا یٰ کاىہ فان اور دا اطان آ پکی
فظروں سے ہج اصل مقموم کے اط سےکیوں چھپا را۔
×لإاکراەفی الدین قدتبینالرشدمن الغی ”
فان ای ایک اہسے قافو نکو ٹپ یک را ہ کہ دین می دا ہونے میں
کی یر خیں ور نہ اس سے باہرچے جانے می کوئی قد ہے اک ہکوگی چچ دی سے
ور یج معنوں میں اسلام قول خی سکرےگاادر خوف د برا کی با یہ اسلام می
اخل رے گے اس کی سزا زیادہ بھیانک ہے۔ اس محصہ سے پچ کی اعلا مکی
اشیازی شان ےس ون کے قو لکرنے اور نہ قو لکرن ےکی آزادی دیتاہے پا
کہ واں بھی اور جس وی نکوبھ یکوقی اخقیا رکرے خلوص اور د کی ع زکیت سے
وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیومن ومن شاء
فلیکفر"(سور: کھف)
ہق و صد ات تمارے سانے تمارے ر بکی رف سے
کر ۴کیا سے اب جس کا چاہے ا یمان لے آے اور نس کاچ
چاے اؤارکررے۔“
یق حق ری ے ؛س کے ل ےکس یکو جو رکرن ےکی ضردرت نی جو چاہے جن
گوقو لکرے بور مان نے اور جو چاہے اس کا انارک دے۔ پردفسرصاحب تور
فراتیں رس ہی تکرییہ می کے فدی ومن کاارشاد ہے۔ ایک شس اتی مر
سے اور اہج افار سے دی نکو انا ہے اور موم نکھلا ہے۔ اس کے بعد اکر
اس لی نییں۔ رل میں سی رین کے لے عزیت پیدا میں ہوگی اور انا رگ
40
طرف مال ہ وکیا 3 غمن شاء نے فلمیکفر انا رکرت ےکی گی اجازت
درے دی ہے ادر اس پ کسی عم کاقدخن نیس لگایا۔ آ پکون ہوتے ہیں اللہ تقالی
کے دیے ہوے اغقیار می دخل دسیے دانے اور اتی طف ے فلیکفری
احجاز تکی عد لد یکرنے دالے اور مزی دکنفرکے اتا رکرتے پر مزاتے تل وارد
کرنے دائے۔ الٹی تقانونع تے یہ اعلان عا مک دی اککہ جو چاہے ائمان لے آئے اور
اس کے بعد میتی ایمان لانے کے بعد فربایا ج چا الگا رکروے۔ ہرد جملو ںکیلئ
اللہ تھالی نے انخقیار دیا ہے۔ آزادئی دکی ہے اور آزادی خی رکے سخبریی اصو لکو
قائم ددائم رکھاے۔
راس منبری اصول اور انسالی فطرت کے نقاتے کے مطابق اس تانو نکی
ایک ادد فربان سے اید فربائی ہے۔ ای فرمان ہے۔
ان الذین امنواٹم کفروائم آمنوا ٹم کفرواٹم ازادداکفرالم یکن
اللە٭لیفغرلھے ولالیھدیھے سبیلا(ص رة ناء:۳۸))
کیسا فیصل ہن فرمان ای ہے۔ پروفسرصاحب اپنے خود ساختۃ نقانو نکو ش١ را
0 مر کے پا رک میں آپ کے اظریہ اور موفف او رد علاء
9۶ “9 اور وضاحت سے بہ فرمان تر دی رک را ہے۔ اس ای
فان می کی فردداعدکاذکر نی کہ بہت سے لوگوں کا کر ہے قرایاامشوا اور
بجر فرایا کفروا ئا کے مھت ہیں اور لھم اور لیعسدینھم میں جع غاب کی
گیبریں ہیں۔ ان سے معلوم ہو ںا ہ ےکلہ ایک بڑامگردہ تھا جو پل ایمان لایا۔ پھر
انا رکر کے عمرنل جو اادر برا پنے ار رادشیش بڑھتا چلاگیا_
اگ ار را کی مزا فی ہیے۔ فو ان لوگو کو مر ہوتے بیکیوں نہ تل یکر دیا
گیا؟ بچھردو سر دفعہ مر ہونے پرکیوں نہ ف یکاگیا؟ پچ راتمیس ار ترادیس تزتی
41
ُ٘ججَسًسہم سس ۔مے۔-۔ے۔-ے-عععککککٗآٴ,-س:.ستسکت
کر کا موقع ب یکیوں دہاگیا؟ بر وفسرصاحب شور فر بای ىہ آح تکریہہ ننس مات
ریت اتی یت نول کے زان کے :رک تھے ود اپ کے
جا ہو کیکوارزم کے ولمرادہ نے نہ تے۔ وہ لوک خلوص عبت سے اور پور ی
عزعیت سے اعلام کے تال اور اسلام کے ہرپلواور ہ رم کے عائل تھے صرف
عالم ہی نہ تھے ۔ گرا نکوکیوں احساس نہ ہو اکہ مد اکے اصول سے آپ نے اپے
ہو کا وا ا
کی علانی نخان ے کے ایزارین اضان کے ١س نقصان >ٍ اے
کے کے لیے قاراے ہہ ( سخ )٦٦
کی خطراک یز اسلا مکی طرف مفسو بک رہے ہیں۔ ”وین سزا لگا راس '"
او رکس دین می یہ مزا لال یگئی ہے۔ سادا قرآ نکریم بح جانھیںکمیس بھی قرکن
بی یکزدہ زین ین توب عزا جو آپ مرت کی توی کر ر ہے مو نکہین بھی نظ ریس
آئی ۔کوئی ایک آیت بی یچ یکریں۔ خور صاخ شرلعجت کے روا ع اود ال لگ
تروع سے انی عاقب تکو خر اب نہکریں۔-
اکر وین نے ہہ زا مقر رکی ھی جس زمانہ میس اس آبیت کاڑزول ہوا ۔ کافر
مومن ین اپنی مرضی سے پچ رمومن نے کے بع دکافر ہو ےپ رمومسن ہو پھر
کاخ ہو اگکز رین می آ پک یچ یکردہ مزا می اس آ یت کے نزو کے وقت
ملاسلا اور سای وو دک رح کون ےئش رت ینآ پیا کات
رہ موقف بی صا صرغلط اور بے فیا ے۔
قرآن نس وی نکو بن یکر ہے اس دبین میں ھرت کی زاقل کا وک رک مئیں۔
یی آی کل مکھلا آ زادی تیر رداداری اور اسلا مکی اتا ذئی شا نکو اہ رکر
482
تک ملف نوز میں جس کاذک راہ اور خ بدکیاپے گی اعل زین ہے۔
آپ نے اپے موق کا تئ بس عدیث یئ یکی ے_ ٠ ٭من بدل دینەۃ
فاقتلوہ" کہ ۶ انا دین بدلی دس اض تل ی کرو * مات افو سے ے
عر کر ہوں۔ آپ ققرآ نکر مکی تی رگھے اور دی تق ۔ یی کے
کے 0 *008۳ئسو نو
فرامو شکمر دی اک دہ ٴ۳
ا تو عریث قرآ نکر یدام گت او نمی کے خلاف پو ور ور
ازس شا کلام ی نہیں۔ رآ نکر مکی تد آیات چرداکر ای کے
مونف کی تزدیدڈ ےکی چوٹ س ےگ دا لیا اوران کے مال آپ ایک۱ ای
حدیٹ یٹ یکر ہیں جن ک بارش من نے ہک درا کر
حور زس گل تک ا سک دی نی لی 3 رمک
2-02 ٤
۴۔ راس حدی ٹک گر درست ا سی کرس تر یی عمومیت ہے۔
الفاظ مل ”بدل دیںە' اج فادہا یبن رباے
پیک مین ”اسلام دخ کر ریا 2-2.0
دا ۔ بر وفسرصاحب آپ ججیساعالم دیع ار "گل ؟ا کی مدیٹ می نا سلام کا
02
۴۔ید دید اکر سے کی حدیی تکاس کیک یا ال"
ایک تفص عیساکی تھا اور عیسائیت 2 002
اور انادین پل لیا 2 سے بھی شل کردا جاتے سوئیں ادرف رکریں۔
رسی ہۓے۔ آپ نے ات ےکمابچہ راہ فی السدی نک قرآلی رز *" سے ص ےپ
43
نتر عیسائی مسلمان ہو ےکی حیسائی علماء نے ان کو ض کردیا۔
پ نے اپ نےکناپچہ میں میک ھک رکہ ”یکو لر سوج کے عال شور وط وغاکرتے
کہ اعلام یش دحشت و بربریت ہے *' یمان پر آپ نے نلاف ققت باتک
یت ای ععز سے ۔ جس کا ذکر نہ قرآ نکریم میس ہے نکی حدیٹ
جج می اور نہ بزرگان علف سے اس کے رق کا رک شبوت ملا ے ے متورر علاء
تما اور آپ بی فالی انسانو ںکی خووساخند شربیت ہر عقل و والْٹی رک دالے
ارہاب اور علما مکبار اور فانضل دبدار لوگوں نے شور وخ واکیاے ۔ غدا رااسلاعم
و نونیوں کام ہب نے بنانکین۔ اع دید ار ہز رون او رعلاء نے نک لظرفقماء اور
نشردعلاءءکی خووساخ شریعت کے خلاف آواز اٹھائی ہے بی آپ کے کتہ لگا سے
رج کے علاء ھی ز تے۔
ا- مولانا اإوالكلام آزاد: کر ےرم 7 کمن
انیوں ے اتی تنیف ت جمان القرآن * می اس مزا کے ا فکھا۔ ”لااکراہ
فی الدیین* اس اصل تیم کااعلا نکر رہی ےکہ دین داخنقادم شس طر کا
جرد اعگراہ جات تھیں۔ دی ن کی راہ ول کے اخنقاد اور می نکی را ے اور اعقاد
دگرت دوموعظت سے پو اہو کماے کہ تو اگرارے۔" ا
(۲۹۹٣ لوآرلج(
زیر مولانا مو صوف ے آرمایا:ے
ث قرآن جا ےکہ ماگز مر صورتتیں تین ہیں ۔ تک۔ تھا
ا ز امم جم ائم جن کا مد او یش ا نما نی مزا کے کن نہ ہو۔ الن جن
صو رں کے علاد کسی عال میس بھی اسلام کاخدا۔ دای نال ہوک
وق کا خون بھانا برداشت نمی ں کر سکتا نس کا نام انسان ہے۔ جھ
44
اس سے زیادہ فی انی کاب ۶اذ ا کی طرف عضو بکرم
ہے۔ دہ یا و اسلام سے تا بے خرہے یا الام پر جحمت لگانے مین
ا ےکوئی مار تین ۔ ضف٠
عزید بر ال آپ نے کیھا۔
یی تی ون جب سم ماشر را وت رام
شاف مکی دخ رید ی کا تب سے بڑا اٹ قوالین ا سلام نے
مر ہب واعتار آ زادی کااعلا نکیا اس ئے مر بی روا دا زی اور
ای وت کی ابی فضاہ پک دکی جس کااس وت دنیای نکوکی مر
موجو رن کے (نض رات آ زا دمکتبہ اشاععت ادپ لاہو رف ۱۵۲)
۴ مولان ھی جھ اپنے ددر کے ذکی ہو٘شی عالم و فاضل اور خصوصی لیت
دانشور تھ۔ ایک دنا ان کا دی بجھ بوبھ اور ان کی ثافت و فتیل تک
ْ
۱
45
۴ نوا ب اعم یاررنگف۔ مول وی پچ اع علی صاحب م روم اہن دورکے تال
صر اتزام غا اور فاخل تے۔ ان تاب ” اعم الام فی اختقادالاسلام "یش
کت ہیں:۔
لن رن مین ارمروو ات تر قح میں ×
ایک عیائی مدکی اسلام رکٹ کے جواب می ںکھا۔
”ار تاد کی زا موت اگی جاتی سے تو سے کوگی بر اسلام کا
قاون نہیں اور نہ قرآن نے الحاد کی کی دنیادی مزا کا فی دا
ے۔
رککھاک :ے ۱
قرآ نکی کسی ایک آیت میں بھی ار ترا دکی مزا موت خمیں
۶٤ ۶ھ
گی ہے ان کے ایک ا کاؤکرکرتے ہوے جناب ری اع ہنفری نی تعزیف ۴۔ مزم سیرت ڈثار مولانا شی نال ی۔ مشمور مورغ اور دا نشور کے ان
انا رٹ علامہ ضید سلمتان ند دی بھی ار ترادکی عزا فی کے تقاتل میں تے۔
۱ ٰ می مراں۔
لان نے اکٹ ربما کو گھا۔ مولانا عپدالباری اور مولانا
سے تب رضم نکر یی نے
شتم ادر گا ر کے تام احادیٹ کو تع کے اور سب فقمام کے
5۶ھ "0
را عادیث ' پھر تما کو پر بکٹ فرب لج انشاء الہ بی را سی
کی کلپ مر ”لا ادا نی اللدین "کے ماق اور ترام
ہے۔ الب شی محارب جائزاو ر بسااو قات قرض _ ٦
(بیرت مھ عی صفہ ۸۲ جلد اول )
یرت انی ال جلد چمارم میس کھت ہیں۔
وین می لکوکی زبردست نمی ۔ برا تگراجی سے الگ ہو چی ۔
يہ ٹیم الشان عقیقت سے ج سکی تلقین انسائو ںکو صرف مج رسول
ظا روس لسم متا نے
سے ہس ری و سی ہے
دےکہ بجی تمارے پروروگاری طرف سے سے تہ چاے ول
ککرے اور جھ چا اکا رکرے ۔ ایمان او رکفران دوش ےکی
انی کگکو اخقیا رکرتے پرکوگی زیر دستی خییں ہے ۔ عقل و صیرت وا لے
46
سے ۔۔ط۱طهثثههےےطسے ےےسےتتتتپتپٹے سخمح۱ ہہس 8س گە-لٌٌٰ
اسے خود قو لکریں کے اور ناںمم اس سے محروم زینک کی
گر ون و2 ا۷ن 2أ ام
یا ری و (جلا چمارم صخُے ۵ ۲۳ )۳٣۳
۵۔ اور اپ اپوربیث کے مشمور عالم وفاضل اور یر اخبار اپایر یٹ کاموتٹ
عاعت فرانھیں ۔ کھت ہہں:۔
نع ا امنوا ٹم کفروا ٹم آمنوائم
کفروی تی یں ”جو لوگ پیل یمان لان پل رکا ف رہ وکر عر
ہو ۓ پیل رکنفریس بڑھ لئ خ دا ا ن کو : دک رت رک ا جا
ری ہےکہ مض لوگ دددد جن دقعہ مر ہو ے اگر حض ار جرادکی
زا نی ہو تی فو پل بی ار راد کے بعد ا نک ماش ہکردیا جات وو ضرے
ار ترادگی فومتای ن آتی۔"
ا ۔ جناب رر ”ظلوع اسلام "ظا م ١ت صاحب پر و وی:۔- ثرآن
کریم کے صاف اد د دا جع فیصلہکاذک رکرتے ہو ے کھت ہیں :-
اما نکوسہ پو رای را اخقیار ہ کہ ایمان اخقیا رکرے پاکفر_
جن ایمان او رکف رکے معالمہ میس انان رکوئی ز بد سی خییں کی چا
عق ساب ق رآ ن کاخ جم ضات آزر وا تج نما تۓ۔ قَل الکو
من ربکم فمن شاء فلیومن ومن شا فلیکفر کی
چا ایمان لے آآتے اور جس کابتی چا ےکفرا خقیا رکرے ۔کفراور
ایمان کے معالمہ میں قطعا ز پر دستی خی ں کی جا عق ھ0
اور ایمان کے معاملہ یں طچی فقوت“ اسقبد اد کے استعا ل کو اناعیت
کے غراف گگین 2 تار دا ہے۔ الا اعاۓ دنا یر تور کے
487
ترف سے کے دبا لا اکتزا فی آلندین دین کے ما میں کی
ٹم کابرد اکر1: جائز خھیں۔''(الكر::۲۵۵)
فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکضر ہنس کا گی چاسے ایمان اٹیار
سے اور جن کی چا ےکفرکی راہ پر چٹ لست علیھم بمصیطرم ان
پر دراوفہ مقر نہیں سے گ ےک اننیش ز بردستی ملمان با2 ہہ سے قرآ نکی تعلیم
ین قرآ نکی اس ف رکھ یبھلی اور وا تع تلیم کے خلاف جمارے مولوک یکا ہب
یہ کہ
وت ا ا تک یت
(مطبووات ظلو ا سلام صفّہ )۱۵۰۱١
ے۔ علامہ این حیان اندگسی تے اپنی تی بک رالییط میں کل لفطوں میں اس
اصو لکو ٹچ کیا ےکہ شحض پر امن ار ترادکی بنای ری شنص کا خون ببمانا جائتز
ہیں۔
۸۔علامہ جن مھ شلزوت۔ اض از چریونیو ری اپ یکتاب ”الاسلام عقید وو
شراوہ "میں گے بنروں بہت نکر رے ی ںکہ:۔
حا دی جا ری شف کو یکری او ہیں٠
محنزم بر وفسرصاحب خاکسار نے چند اہسے علاء اور دا نٹ رو ں کاو ڑہب ے
فائ لگ ریت ہیں کے حوالہ جات سے ہہ ایا ےکہ رت کی مزا فی خی ۔ بی ان
ا کم مت مونف تا۔ الام گی اتیازی غّان آزادی گر اور زی
رداداریی کے بے تقاتی۔ زبددست عائی اور رت کی زا فی کے مرا ص رخخالف
تھے۔ یہ دہ بزرگ علاء تھ جو عام سیکولر سوج کے علاء نہ تے۔ لیکن جو دا نشور
آپ کے نزدیک یکو ار سور کے بے جات یں الن کے بیانات تھی بڑی وضاحت
1
ا
48
س ےے۔۔_۔______۔_۔۔ رن ےہ ۹سس کحجح0۔لآ_-وەٌٌٰ
کے سا اود قرآنی آیات میں ات ھکر کے دہ اس لقن بنا ہی ںکہ حرتدکی مزا
بی کی ہاں اسلام یش فو خہیں۔ داد ہرگ شہیں۔
رد اضموی کہ آپ نے اپ ےکتاپچہ می "لااکراہ فی الین" کے ظفل
کے اتی داد ضفیات می تس شک الام کیج زی و کی کک سم
اد تھی رکا قا مل اور ذبردست ہے دین کے معاللم می بجبرد اکراہ کا ہہگز ہرگ
ال نیں۔ لن آخری صفجات می اما مکی اس ایازی خصوعی کو آپ نے
یک ھک کہ اسلام مر رکی مزا تی قرار دتاہے۔ اعلا مکو جرد اکر ادن قراردیا۔
اس فقئ یکو پڑ ھکر اور اس فی یکو ج سکی تحصیل کے سا دو تین صفیات می
یودہ اور رکیک دلیلؤں کے تما داش کر ن ےکی س کی ہے۔ آپ تے در یقت
اعلا مکی خظطرناک عد جک ڈںس روس 3183-867۷168 کی ہے۔ اور اسلام کو
جرد اگراہ کاخ ہب اکر اسلام پر شلم نی مکیا ہے حزید آپ کے اس بیان سے ىہ
بھی معلوم ہوا کہ آپ کا زین تفاد کا ار ہے۔ ایک طرف بڑے اجمام سے
الا مآ زا دای می ا عانی تقر ےکن در ئل ر رون سے جات
کرتے ہی ںکہ ججرداکراہ س ےکوسوں دور ہے۔ دین کے معالہ یس اسلام زی دس ق کا
قائل نی اور اس موقف کے لے دای د برائین کے ابر ائی صفیات ا ےک
کے آپ نے پر زور انداز یش تکبند نے ہیں اور اعلان عا مکیاکہ ایمان دل کے
ین کا نام ہے اور ایمان می اکراہ نی پایا جج ب ہکس طرح محکن ہے کہ جو مس
یس چےرکو پیند نی لک راس پ دی کچھ لاز مکردیا جاے اور زیر دس ایس اے
ازم رک کیل نگوار ا نک یگ دن پر برک لی جائے ۔کیانہ انقائی وت 26ہ
ےد
١
جھ ایمان د لکی خوشی سے اور خلوص سے عاصل ہو با ہے۔ وی قائل قر ر ہوم ۱ ۱
49
ہے۔ اسلام اے بی ایما نکو اترام سے د بت ہے ۔ ایم بی یمان دالا الام گی
ھفمت کے تا مکی غاطربڑی سے بڑی قریالی کے لے تار رہتاے۔ ے سعارت
لوس سے اور رضامندیی سے جو موقف ایا رکیاغجاۓ لعبیب ہوکی ہے لن و
شی اس خلوص اور عز یت ذانلے ایمان سے عار ی سے او ری اور دی نکی راہ
ایا رکرنے کا ارادہکر لیا ہے اسلام نے اسے انار دے دیا ےکہ ای ھ رگ
سے جو دن چا انتا رکر لے اس کا اخیام اور آخری فیصل ہی طا او ری
لوم کو یس دنگ یاکہ اس کے دبین اسلام سے نگل جانے پہکوگی رن لکائے با
اسے سزادے۔ مد اتھالی کے فرما نکی رو ے ؟ خرت میں ا نکا محاسیہ ہوگا۔
آخ میں ہہ لکھنا ضرد ری تا ہو ںکہ اسلام کے ٹین یکردہ احکام جو دین کے
معاللہ یس قرآن یم نے بیان سے ہیں ہا بے معقول اور ولاویذ ہی ںکہ انیل پڑھ
ا مم رانور جو لن تق رم ع۔ ٹوب بارے۔
۴۔ ۱۹۸۲ ءکی بات سے محتزم س رعمر خفر رنہ مان جو ان دنوں جن ککی ین الا تو ائی
عداات کے چیف جج تے انرن تشریف لاۓ اور ایک تقر میس انھوں نے ہہ خاش
داققہ مان ایا کہ :-
”ا یسٹرڈم لو نیو ری کے قائل تین الیک ڈ پر و سرن تا یاکہ
رن تلم میس جب لا اکر اہ ضی انی نکی یت ایکون کے
پارے می سکوگی جج نیس ۔ وین کے اختیا رکر نے میس تو ا ہکو کی دین جو
گوگی ز بد دس نی ق ان کے دل بر اس کاگھرا١ نر ہوا اود ای ایک
با رکیت تائون اسلام کے اتیازی قافو نکہ اسلام آزادی شی رکا
اعلا نکر ہے نم بی آزادی کاڈ نک مھا رہاے۔ اس اتا زى خّان
کے انون نے اسلام قو لکرتے بر آمادہکر یا اور بالا خر وہ مسمات
۷۷٣ ٠ سڈ سسسسنشسسسے
490
چک 3چ 272 کدولأٛژجعچ ہج ۔. _
ج
زم پردشمرصاحب آپ فرماتے ہیں اسسلام میس مر کی عڑا کی ہے۔ اس جو
اکرا ہو آپ اسلا مکی طرف مو پک کے دتیاکے سان یٹ یکر رہ ہیں۔ انلے
الام سے لو دادور بھا ےکی اور اسلامکو ان و ملامی اش در رواداری 6
مہب مین ےکی بائۓ لم ادر جو رد جفا کا خر ہب گر دان ےگی۔
: فدا را اپنے مونف اور اپے ال غلاف عقل خلاف قرآن جو کرو ر
متقل فزیٰ پ نظرمان فرائیں اور ج تاد آپ نے اپنے ی عم سے انی تر
پاگیاسے اسے دو ہکریں۔ اور امام کی اصل شان۔ اتیازی شا نکہ ےرس
ان و ملایقی کا دیع ہے ا کی تا رکردہ شاہراہ ایی ہے جو خود بد پر کین
وا ےک اتی طرف مو ہکری ہے اور تپ نی تی دواتی راوانی مج ے
ماب افقیارکر کے ابی عاقیت کا تد مہ دارہے نہکوئی دای تم کر
دنیادئی علومت اور نہکوئی پر و فسراور ما۔
0 بقل 7ع ات اف روم
قافن اسلائی کے غلاف ہے پ اظرمان فربائیں اور لا اکراہ فی الدین ے
ستبرکی اصو کو اپنانھیں۔
واللاع
اکسا رج مبارک ار
(فت دو زولا ہو ر ۲٢ مکی ے ۶۱۹۹ ۱و را ٣۰ مکی ے ۱۹۱۹ء
41
ڈاکٹرا سرا رکی خر نرہ
_اکسا رکو ایک اود تجصر ہک رن کی بھی نشی عی۔ ڈاکرا سرار ام صاحب نے
ہام ممدری کا خہور ہو چکا ہے" کے تحت خرشائ کی اور لف ذرائع سے اس کا
اطا نکیا۔ نس انداز یٹ بے خبراخہوں نے شا ج کی اور سنائی اس پر نماکسار تے
مندرجہ زیل تبھرہ شا عکیا۔ یہ تھرہ وا ٹن کے پیک ۷7 نل 56پ یٹ یکیا
گیاادرلاہور کے بفت روزہ ”لاہو ر نے بھی اسے شا عکیا۔ یہ تبصر و بھی تق ر نین
گی حدممت میں ین یکر ہوں۔
بسماللەالرحمنالرحیم نحمدہ٥ونصلی علی رسولەالکریم
وعلی ال٭الطیبین
مم متین وبا ظرین پا کین السلام علیکم و رحم2 الوب ہکان
خماکسار بّْ بارک اص سللہ عالیہ اممری کا ادلی نادم ا وقت آپ کی
عدمت میں عاضرہے اد ر آپ سے خخاطب ہے۔ خطاب کا عنوان ہے ” ایک خر
بل رت اتی ٠ وو ملا ےکک آپ میں سے کے ں12
ویارک سے نے دانے د اخباروں ننویارک عوام* اور ”اردو ٹائھ ڑا میں
بڑھاہہو۔ لیکن اس وقت تبصرہ کے سلسلہ یں بیہ خی بچھرسے سنا دبتا ہوں-
ناب ڈاکٹراسرار اج صاحب نے یہ نید سال یکہ ”امام مدکی کا ظنور ہو چکا
لی الین جھے معاوم نی ںکہ دہکون ہیں اد رکماں ہیں۔ قرائی سے گلا ےکم
گا ور وکیا لیکن پچھھ نی ںکمہ سکناکہ د وکس عالت می رہ رے ہیں۔ ''
ی سصاضب نے فیا اکا:۔
492
صرف میرابی د عو نی بلک تی جماعت اور دو سرے س کر دہ علء بھی
ای ایپ شی کلام دی کا رود چکاے۔ سے موق رک حر
مہ سے مگ آئیں کے اود ممدی مو عودہو نے کا دعوب یکریی گے_ ۰
ملزذ سان آپ نے یہ خجربیا۔ یا رک کے ہردداخاروں نے صف اول ر
گی حروف می اس خ رک شا عکیا۔ اس خجرکے الفاظ پر ےجہ فمانئیں ایک طرف
ڈاٹراسرار اھ صاحب فیا ہیں ”ےشن ہےکہ امام مد کا مور ہو چا
جے "اور ساتھ تی یہ فرمارہے ہیں۔ ”یکن جھے ہہ معلوم خی سکہ ددکون ہیں اور
کان یں ' اور رآگے پلک فرایا موی می مور سے ک رم یی سے
اور دگوٹ کرے گا" مزید خجرسناتے ہہوتے ڈاکرصاحب نے فرایا۔ ”شاید مور ہو
گیا *۔ آپ ہف ددانئ رکنئے دالے احباب میں پڑھے کے بحورارہیں۔
تو فربائیں جس بات کے مت ین ہو کیا ری با کو جھے معلوم نمی ںکہ وہ
کن ہیں اد کماں ہیں" اورپ رفریاتے ہیں کوئی شف آ ےگا" او رآ خر میں ان
ٹا مر کا کو کیا انآ کن سا نے
الفاظہ لی الاعلان تا رہے ہی ںکہ ڈاکڑصاح بکو تطخا لقن خی ںکہ دی موعور
اہر ہو گے ہیں۔ اکر ملین ہو پت یہ الفاظہ ہرگز ریس استعال 2200/2
یھ عم نس دوکون یں او رکہاں ہیں ' اور "کوٹ نخس ہے" اور ”نشای ظبور
ہدکیاہے "اور یھ خی ںکمہ سکتاکہ وکس عالت می رہ رہے ہیں“
نت می دجہ الپورت ہو ہے۔ اس سای خ کو ھکراور جھے لقن سے
آپ نے بھی جب پڑھا ہیا اب ج بکہ آپ من رہے ہو گے و بے ایا آپ
کی زان پہ یہ الفاظ جار ہو گے ہوگے یس کہ مبرکی زان پر جاری ہو ے۔
١ عق ست اور گرا پ سے ''
493
م٢سمسسسیسجٗبعسحص ص جس سے
رت مہ صد جیرت۔ جس مدکی کا ایی تک بی عم جی نی ںککہ وہکون ےکیاں
اود اس کے دگو کی تعیین کاعم بی خی اور نشائ مور ہو چاۓ فراکر
اک صاحب نے بے ثاب کردا ےکہ دہ شی نکی عققت سے سر صرناواقف ہیں۔
ای لم مرو ںکوا چھالناٗسی داش ور کاکام خی ہو سکتا ۔کوکی دانااور زی ہوشی
ام ایر کی اخ یر 1
گواڑیی روں سے ملک نک رسلا ہے۔
ری عم د دای ملمان اس بات سے خوب واقت ہ ےک مامت کا نصب
سے لج اور ائل امامت کا مضمب خدا نقالی ی عطا ت١٢ ے۔ قرآ نکریم
فا طور پر اس کی نثانری ف٢٢ ۓے۔ ےُ وجاعلک للتاس امام اے
ایم یش جج امامت کے مب پرفائرکردہاہوں۔ امام معدی نڈ ایک لیم امام
ات مسلم گی ہرایت اد راہ نما کی غفا انام ہے اور یہ دہ امام ہے جس کے
این مد ا کے ول رعول گے رووسہ وی ے7
یی موعود ہو گا اور پھر فربا کہ ”ہیی امت کیسے بلاک ہو عق سے جس کے
ال مس جھے تی چاکیا اور آخرمیش سج مو ودج امام ہمد بھی ہے "'۔ ابی شحان و
ات امام ہد در اس کے متحلق سے جیا جا راہ ےک دہ اہ ہو چکاسے لین تہ دہ
ہے اور نہ ی اپے دعو کی سے اطلاع دیتاہے۔ پاکستان کے شراسلام آباد
ا ان امرار اخ صاحب ا نکی طرف نے بے خرن فریاتے ہی کہ اس کا
ور ہ وی ہے '' لین ساتھ ہی ہہ فرباتے ہیں ” جھ عم نہیں کہ دوکون ہیں۔
ای یں ۔کوئی مس ہے۔ شاید مور بدکیاہے او رکہ دودکس عال میں رہ رے
ایی دی یا بے بی عم میں۔
مز این د نا ری نکرام! آپ می جاک نکیا دا تھال کی طرف سے نے
44
ولا فرتادہجھ مس ہو اور امام ہو۔ اس کے عالات وکوا کن کیا اس تم کے مم
ہوتے ہیں۔ دگھیں جو مد اکی طرف سے٢ ہے کس ان سے اور جرات سے می
الاعلان جنگ کے عالات میں گی ہے سا کہ انا النبی لا کذب۔ انا ان
عبدالمسطلب (ہخار یکاپ الغازی باپ قول الله تعالی ویوم حنین جلد ٣
صفحةا٣مصری)
ں کے خداکا کہا ہو انی ہوں۔ میں عبدام مطلب کابیٹاہوں۔ حضور اگرم
نے مس اک ابی أ ھی ٹردٹنے کا واسطہ نیس بنایا بللہ نود اعلان فریاتے ہیں۔
یا یھاالناس انی رسول الله اليکم جمیعا اے لوگواش خر ای طرف
سے رسول ہوک تممادرئی ہدايم کیل آیا ہوں۔ سب ع رین اور دا تھالی نے جن
کو امام کے منصب سے نوا زا یی ححضرت ابرائیم علیہ السلا مکی نے یہ خوداور نہ
کی واسطہ سے بھی بھی محعم خی ریا ج88 ذظ خرادر متضاد خجراپنے دعوٹی کے
متحلق نین دی۔ نہ سنائی۔
کن ڈ کر امرار امھ صاح بکی سماری خر میم مین سے عاری اور متقاد
کوا کف پر مشقل صاف نا ہرہے يہ خمرگھڑ یگئی ہے۔ انیس مصددیت کے دعوئی
کرنے وانے شف کاکوگی عم خی خود ا قرا کر رہے ہیں۔ ”ا نکو معلوم نہیں وہ
کماں ہیں کون ہیں او رسس عال مس ہیں۔'"
ینان رن ت2 ضورو م کیا اب دک ار ار ضا
تیلبقی جماعت اور دنر سرکگردہ علاء جو اس خ رکوابچوالے می ڈ اک صاحب کے سا
شال ہیں انمیں ملمانو ں کی اصلا نکیل ادر اسلام کی عفمت کے قا مکی
بھرعال ایک مد دا الیک ابیے اما مکی ضرودرت کا شر ت سے احسااس سے و
فداکی طرف سے آے۔ لکن دہ موعودامام و آ کا جن سکی خرحخرت رسول اکرم
495
کڈ نے دی تی اور جن ابات اور نشاات کا ا سکی آھ کے مات تلق تقارن
کی بھی حخرت رسول اگرم گا نے چودہ سو سال تل نان دی فمادی تی۔
اوراسل نے کے بنمروں اعلان عا مکیا۔
رتے فا وت سیا ےی اور کا وت
و سا و ا را رہ
لن آگھھ کے اندہو ںکو اتل ہہو گے سوسوقیاب۔ جب وہ خھاہ رہ وگیانڈ اس کا
اگ رکیاگیا۔ ا کی شمدید مخالف تک یگئی۔ ہ رھ مکی افزاء پرداڑی اور ازیت کا
اسے نشثانہ بنایاگیاادر اب ایک مو ہو مکی انار یس دنا کو می نیگھڑت تروں ے
ملین کرن کی نکا مکوشش شکی جاردی ہے۔ اڑیی عھم خیروں “ماد خیروں یرکون
لی نکر سکھا ہے۔ محتزم سا من ا آپ جانا ہیں کےککہ د ہکان سی عامات ہیں جو
۸ دی کے ظبور کے ساتھ تعلقی رھت ہیں اور ج نکی خ رحقرت رسول اکرم
بک ع رص بس سے رس ر [٦
ام عمدی بن کاوعدہ دیاگیا ہے ان کے ظ مور کے زمانہ کے
ملق حضور ارس علیہ الصلو والسلام نے فرمایا۔ حثرت وذ یقہ بی
بھان مان کے ؤں۔ قال رسول الله صلی الله عليه
وسلماذامضت الف ومائتان واربعین سنەیبعثٹ الله
المھصد یکہ جب ایک ہزار اد راس پر دو سو سال اور مزیر چا یں
مال یپ ٭ ۱۲سا لگ ریس کے و اللہ تقالی مد یکو بحوت فرماے
گا۔ مچنی تی رعو یں صد بی کے آ خراد رو دہو میں صدی کے شروش
امام مدکی کا ظ مور ہ وگا_''
( اتمم الا تب جلد ص لہ ۲۰۹ مط وھ پڑھ ]لف ۱۳۰ء)
کے فرا ئن سراخیام د ےگ"
496
پچ رتضمور اقرس علیہ الو ۃ والسلام نے بہ ھی تا کہ و ہکماں ظاہرہوگا۔ آرایا
”عصابۂ تغزوالھند وھی مع المھدی اسمۂ احمد۔ ات نام کے ام
مدکی کے ساتھ ہندوحتمان میں ایک جتماعت ہوگی جو چم دکر ےگی میتی تن اسلام
(ا جم الا تب جلد ٢ ص٣۴۱۔۴۲)
حور اف سک بتاکی ہودگی اس علاصت تے امام ممد یکا نام بتایا اور یہ گھ یک وہ
ہنروحتان میں ظاہرہوگا۔ و
ار رت علی کی روایت ے کہ حخرت رسول مقبول گان نے فرانا
پیخخرج رجل من وراء النٹھر یقال لہ الحارث ححراث۔ ایک شس د وی
امام تکرےگاادردہ الیک دریاکے پرے سے شرو کر ےگاوہ بڑا ز مین ار ہ وگا-
( مو ۃ یاب اشراط الماھ)
ایک خاس علامت آفضرت گن نے امام عیدبی کے متخلق بے بیان فرائی۔
”یخرج المھدی من قریه یقال لھا کرعه ویصدقۂ الله تعالی
مدکی ایک ائی بی سے ظمو رکرے گاہس کانا مکدرع ہوگا''۔
( بھارالانوار طلد امہ ۱۹ز پا ق گی مطوے ار ان خوال ۱۳۲۶ئ)
اللہ تما ٰ کی تحدلق سے ان دا علامات کے مطاای ححضرت امام معدبی کے
ظمو رکا مقام ہندو سان دریا کے ماد راء بہت یکد ع سے اور چو دع میں صیدکی کے سر
پر اس کے ظمو رکا وقت پتاپاگیااد ر مزید کہ دہ بست بڑا زمیندار ہوگا۔ بے ار یک
سار علامات خخرت پر نا رذا ام اتد صاحب قادیالی کے د عو کی مروی ت کی :
تعدب یکر دی ہیں ۔کسی اور مد یگیل یہ علامات ات نہیں ہوکھیں۔ قرت مرزا
صاحب نے امام ممدکی ہو تے کا الاعلان دوب گیا اور فرایا
497
فانا ڈالکئ النوروالمجدد المامور والعبد المتصور
والمهھدی المھودوالمسیح الموعود
(خطبہ اامامیہ روعا لی خزائی جلد ٦اس ۵۱-۵۰)
یش بی وہ ممدی اور سی موعود ہوں ج سک اتظا ری جاری
ی۔
کدعہ جو قادیا نکی جکڑی ہوکی صورت ہے۔ درا رادیی اور دریاۓ جیا کے
درمیا نکی تی سے آ پ کا نمور ہوا۔ اور یہ اعلان آپ کا تخل ری طور یر بی نہ
ھا لہ علفا در دا تعال یی مکھاکر آپ نے اپنے دع وٹ یکو دٹیا کے ساتے بجی
گیا آپ فرناتے ہیں:-
نین نے لے بھی ناویا من ون کو ئن ینان ینبم
کے ساجھ لوگکوں پر ظا ہ رکیا ہے اور اب بھی اس پر چہ میں اس غدا
تال ی کی مکھاکرککھتاہوں جس کے قضہ میں ھبری جان ہے میں دی
کی مو ود ہوں ہج نکی خر صول الل صلی از علی و حم نے ان
اعادیث می میس دی ہے جو بفاری اور کچ سلم اوردد مر حا
درب ؤں۔وکفی بالله٭شھیدا
( فو طیات جلد اصفہ ۲۱۸ضقخ دوع)
اتی نکرام ور ف رای سکیاسی موعوم اور مفتر یکو اڑسی جرات ہو حتی سے
کہ خداۓ ذوا یما لکی ان طر ح ع مکھاے۔ مد کی طرف سے آنے واالو ںکوہی
ایی شی صعرقت اور جرات فیپ ہوتی ے۔ اع کے اعلان می ںکوگی اہام
سا و)۔
لیکن یہ تبصرہکمل نہ ہوگاجب تک ایک اڑی علامت جو امام مد ی کے ظمور
498
کل سن را رت
چچہيہےے_ ۔ سے
ام ادر خاص الا علامت ہو
حثرت رسول ١ 72 جوا راس حطر
ہب سے زط
سو اک کک ا کک
7ظط ہی ھا1 کتیںں
۳"
مس سے اھ ا
والارض نت وی یا القمر لاول لن من رمضان
(ددار فی جلداول سے ۸۸
تو دک انکر دوغلامت ترجہ اعت ق اہیں۔
اف دیرم لان ان ا نی رشان سے
مان دی کی ےپ کی ظا تد
می ا2 کان خنص بی جو
اور ای بافلوا بھی فو یر کل رومان
ار 0
0
ان تفہ ا بک ماق ور ضرق پت
مل وق مخررہ اور نع کاروں 4 چاند کی میں رات اور سرع کو
۲ تھگااووھزولئوگ بوے ور یر
اور واقتے کر شا کیا۔ امام مدکی کا دم ٹ یکرۓے دالا بھی موجورلڑنی حرے زا
7ر کی ان
سے ز من و آ مان پیراہہوۓے
499
گردولامت کے مطابی اد اور سور کو ا کی تمدی کی گر جن بھی ا۔ اس
خفائ نان میں ئی ایم با یس ہیں۔ سے
چو رہ
7 ھوکرے رای کید زی دض مفمو عو
جچھھہ تج تا
رر وٹ
”سور ربا رش رر یہہ
کچ موھد وہ
ہوم م یسیو
کک وت
یھ شھم نے 7
آعالی و زینی نشانات سے الل تعالی نے نوازا دہ ا سکٹڑت سے ہیں شم ۹
کرو ارس انان آپ کے دا مبدی او رم و ہونے ار می یکر
کھا۔ حخرت مرزا صاحب نے قز بیہاں تک لوگوں کی لی کیل الا نکیا کہ اکر
تو سم ہر یر سے
رر 0ت رھ جرض نعط وط
کی 6یاضا ئن
ٰ رو لاق ا
اے رم و مان و غا
ار رو ہے تا ہیں
٦ 38 اپ ےا ا7
تی افشا' یھ در ور داز می
وم باتئی و تاہ مین کار مین
: (خیقت البید بی صفہ ۸ مطوع ۳۱ فرو ری ۱۸۹۹ء)
: ای پت جیے ساف اقا یآ یف ین
کر جھو اہو قة مھ تا کردے اور دنیاال سے میرا نام دنٹان منارے۔
نی کرام د سامن! دا آپ کے ان الفاظہ پر نظ ڈالیس اور پھر سوجیں۔
سم گا بدا پت موی سے ددخاس کہ رہے ہی اگ یاصسی جھونے اور
میک ای مگ بددعااو راس درد سے بروعاکرن ےکی جرات ہو عق ے۔
7020003 ا : از کے ۱
۶ کین 090
ا سک ود ا ود ھے۔ ا ہکرس بد اک رس اہ ال نے
7 ہوثیت سے فوازا۔ ایک تھ اور اب ای کرد سے زا آپ کے دعوئی
کک والے ہیں۔ شحدید خالفتوں کے باج د کامیالی د کامانی سے خیر
ستموٹی شمان سے فوازے گئے۔ ایک خی رمعلوم میتی سے اٹھے اور اب دنا کے ۵۰ا
و شیداس کے عقوت ماد رای ہا خکرنے والےاو یناسل مک
أ عت لپ بے دریق تی یکرنے دالے فدائی پیا ہو گئ۔ سے تقققت سے جس کا
7۷۳۰
51
صہجھسجپگک نت ٹڈ گے
وشاحت٭وری ے۔
میرے معزز نے دانے دوستو! با شیک وشبہ آنے والا موعود ہمد آ چگا۔ سے
راز مکومٹس دق ربھی جا چکا۔ مد اکرے ا کو چان ادر اس کے داصن سے
ال ا ا و ا
اتفار آ پکی عاقی تکو ہرکز ہرگ نہیں سنوا رےگا۔ لی دعاہے اللہ تال آ پک
تو صراقت کی ناخ تک سعارت نی بکرے۔ واللام
گرم صاجزادہ مز طف اح صاحصٔ نے نشرہونے سے پچ جب ایل برک
بغور بڑ ھا منررجہ زل وٹ اس تھرہ کے یارہ 7
ا شاء ال بت اھ تیم رہ ہے۔ مہ تبمرہ جوا م37 کے پر کرام میں شال
او
یرس تبعرہ میں حفرت سج موعور علیہ السلا مکی جھ دع لکھی ہے اس کے
تحلق میں صاجزاوہ صاحب نے مر فرایا:-
؛طکوگی مفتزی (نعوز بابند )ای پر درداور> سو زدعا اچ بادے
می ال تالی کے حضمو ری کر تا"
یز رت حتف عان ر جقی کے لس یں میا ےک
مفمون بر نماکسمار تن ےکیا لاحظہ ہو۔
ںب+-بف- ف - --پِ-.
502
خلفاۓ راشحدی نکاہابھی نقابل مناسب نہیں
7
ماب یع مبا رک اع صاحب اع ریہ
امریکہ کا مشمور اخار ”ارد ٹاگمز' جدیارک سے شائع ہو ہے۔ موقر جریدہ
کے ۱۹۹۹ء کے آخرىی ہفت کے شحارہ جس الیک حوال اور اس کاجواب شائ
ہوا۔ والل بی تھاکہ مولانا سید ابوالاعی مودددئی صاحب نے اٹ کاب ” ظلاقت و
لکیت' می مع ہکرام" الس تحخرت معمان عی “ بے تید کی سے اور آ نکی
فی يکزد ریو ںکی نشاند یکی ہے۔ ج بکہ ہیں تو محابہ رضموان اولہ مہم مین
کے بارہئیش ای تید سے رو گیا ے؟ ا
میائی کے ایک مشمور و محروف مفتی صاحب بن کااس گر ابی سد مض
ان سے انوں نے عا گی کے جواب میس مولانا سید ابو الاعگی مودودگی صاح بک
آ الا ۱
ٴ" معرت عثان * میں نہ ضرت مر“ می طات شی اور نہ
فاردی سیاست۔ نہ ال درجہکازپرواستفنا۔ ا سکروری سے بتضش
لوگوں نے فا ند ا ٹھایا اد رد نکی طلب می لگ گۓ _ *"
جناب مفقی صاحب نے عزید ےلھک :-
503
تج حٔەە جچ ٭هةح0؛َةَء؛ َ وژوُوُھُچُچوج 84
ت رت عان کے عز: 2ا ارب جو ان کے دو ری عید بآ
بن یئ تے |نروں نے فقن کو جگایا- '
ماکمار نے مفتی صاحب موصو فکی ندمت میں ان کے مندرجہ بلاج اب پہ
کر یک کے کا اھ را ےھ دہ را
لوص غلیفہ راشد ب ہککتہ یٹ یکی سے جو ہرگز رکز اسب خمیں۔ رات مک ھآپ
کے اس جواب سے حجرت بھی ہوگی اور اوس تھی۔ ایک خدا تس عام اور
نل سے صابہ رضوان اللہ عم اگمٹین او ربا كضو سکی غیفہ راشد کے متحلی
یہ امید خی سکی جاعک قکہ و ہکسی رح بھی ان ہز رکو ںکو لن وشن کانشانہبنائے
اور ا نک یکزد ریو ںکی نشاند یکرت ہو ان بر تقی کر ےکیوککمہ ا سک یک
ورہیں۔
ول: میں مصحا کرام" کےکردار کے بارہ مم سککتہ یی کاجن اس لئے جس
اک آپ بی یلم اور نال خلفذاۓ راشدین اور کاب رخوان الله
جھعین بر جخیص و تقیدکری اور ہہ تقید اخباروں او رنتایوں جش شال ہو ادر
چون می بیا نکی جاے تیر :نل جو علم و فضل میس نی مقام نہیں ھت
7 یپاک ای کے کی
اور خلناۓ راشری نکی علمت و عمزت جاگزی ہو۔ اس کے برع ان کے اقدام
ومتقام کے لے ای جسارت تخفی فکاباعحث ہوگی-
اللہ تمالی نے اس بارہ می بجی ایک صاف ستتمرے اصول سے اشنا فرایا ہے
اور وہ کہ س بکی بیکہاں عمڑت و حلمت کا اعترا فکرو بے تک ففیلت اور
رہ میں ایک دوصرے سے بو کر ہوں لان تخیف اور تنقید نہ و۔ ارعّاو
راونر لی ے۔
504
تلگڈالرسل فضلتابعضھم علی بعض منھم
و ( سور 3 القرہ ۲۵۲:۲(
تح رسول دو مسر ضس رسولوں سے زیادہ فقیلت رت ہیں۔ ہے ورست
کچھ وو رت
بین احدمن رسلہ (سور ۃ القرہ ۲۸۷:۲)
ین کیج می لیف یا نی کے انمار کے سب رسولو ںکو پورے اترام
کے ساتھ حداکے رسول اور مرکزیدہ بی ھی اور سب پہ ایمان لامیں اور با
لی ای مد امامتول رسول تل مکی ضس پیاارے اند زی غد ا ال نے
رسولو کی ایک دو سرے پر فشیلت کاذکر فربایا ہے گر ایے انداز ی شک کسی
رسو لکی تیف با فی تہ ہو۔
. دوم: حخرت رسول کرم گل کنا اس سن بھی اس رگ میس ری نر
ہے جب ایک مسلمان اور بہودئی کا مکالمہ بداو ید ی نت ےکھا عخرت موی
السلام ای ہیں آحضرت ال نہیں اور ملمان ککاکمناکہ آنفضرت سک
ا ا کی ا اکا اوت
رسول مل کا نے اس طر) اخیاء کے بابھی مقابلہ اور موازنہ کے ری قکو
مت ناپند فرایا اور اسے گن سے روگ دا اور فرایا لا تفضلونی علی
موی جشھے مخرت موک علیہ الام پر یلت نہ دو۔ عالاکمہ آپ' بے توپ
دا جج تھاکہ آپ سب میوں کے سردار ہیں ادر نات ال ہیں اور غات نین
یں اور سب خیوں پ فا ہی گراپیے موازہکی جات نی د یک کسی رسو لکی
حثیف ہو۔ پل رآ پ کاب گی ارشارے۔ لا تفضلونی علی یون سکہ گے
خرت بس علیہ السلام پر بھی فضیلت دیتنے کاچ چان ہکرو اور ال طرح آپ نے
505
٠ گت کک َ لا چج چھھ
ے8ڈ).
ھی انتلاف اور انا رکی فضاءکو پیا ہونے سے روک دیا۔ ہیں سے سیق کھاا
کہ سب خداکے برگزیدہ ر حول ہیں ار قائل اترام ؤں-
قر نکر ی مکی اس نورای برایت اور رت رسول اکر م' کے پاکیزہ سوہ سے
لی وج البعیرت ہہ با کی جاعتق ےک صعحاہ" او ربا وص غاغائۓے داشدی نا
وی طرح سے ازع ک کرد ریو ں کا مقابلہ اور مواز ۓکرنا قطعاً اہب
بک ادا ای ون زی یی مل بجی اب
یں پھر نا تی کے محبوب و مقبول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کابیہ ارشاد گی
قائل نج اور قائل اتجاع ے۔ آپ نے آرایا:۔ علیکم بسنعی وستہ
الخلفاءالراشندین الممدیین اے ملمائواغم بر لازم ےکہ میرے طور
و طریقو ںکو اختیا رکرو اور غلفاے راش من جو خاص پرایت بات ہیں ان کے طور
طرلیتو ںکو اختیا رکرو۔ مور ارم و نے اس ارشاو میں کی لیف ہك الگ
خی خیں ذرائی کہ کسی ای ککی سفت اور ریقہ کا کی تو ند کرنا اور
دو سر ےکی اس خاص رگک میں پابندی نہکرنا بللہ فیا ”علی کم" سب پ
ازم ہے مجن تم میں سے ہزایک پرلازم ہے۔ علیکم کے زوردارپنام پ۸
فانھیں۔ ہرخلیفہ راشد کے اخقیا رکردہ ربق کا کو لا زا افقا رکرن ےکی ملین کا
ارشارے۔ حقرت عفان “ بھی اٗی پاک غلغاء مس سے کے اور علیفہ راشر ے
1ے رتے۔
سوعم: اگ ر حضرت 271 صرلق انم ور حضرت فاروق* نے مفی صاحب
موصوف کے خیال کے مطابق اپنے اقریاء با رش داروں سے صلہ ری اور قرامت
داری کا لوک روا خیں رکھا اور حضرت عثان “ نے مخت صاحب کے خیالی کے
مطالق رشن واروں ے صلہ رگی اور ثراہت داری کا سلو کفکیا۔ گر حضرت
56
چپ ٗجٗجھر وو ہک ۔
ہوا اس لہپ جع کہ کہ سی خیفہ نے بھی رش داروں کے رات
کت ک ددجم اپ ادرقہ لہ کیک اد رنہ ہی قرابت دای کاموابل
انس ےگیااسی لے رشے داروں کے مات قراہت داریی اور لہ رتی کرنابی
سس کت
سم فرلیض سے اٹل جو جاتی ج بکہ خدا تال کایار بار ناس
لک اجار یی ایضای ڈی الغردی کا موجوررہے۔ خور جرے
ام تک صا می کاذاقی لوک منبری جرفوں سے کے کے ایل ے
ادرک اعاریث آپ کے اس ہاور صلہ رگی کے یاروی جکیدی ارشادات سے
رکاپ ہیں۔ عخرت ند کی شمادت کی العلان تاری ےک حضور مگ
کی کے معالہ مس متاز یت رھت تھے۔ آپ 3 ری رشتوں کا ای
ال رک ہں۔ حجت ہے محی ماب جے ام دی شور ور ول ے
ات کہ ےکیٹ راد شادا تکو جھ لہ ری رش داردن کے مساق صن
ا کے بارش ہیں امھ کیوں لخد ہکردیا اور امس بج یکوہس پ دا کے
یف داش سان ا کا نے ان از کے کی
اش بقل ان کے
مل کی کاو سے کرش دارو ںی شردرت کے دی دای
رت تلان گنی کو داد دی کہ انہوں لے رن )کی جاکیدری ہزایت
کسی القربی ام سی ارم موی بت ای
اش وا رد نان یت سے وٹ آپ نے مانب رٹک من زا
لی ادر یہ امداد آپ نے اپنے ذاتی اسوال س ےکی کہ قبی بیت المال
. ٍ ط کے
507
کی۔ خداوند تال ی کے ع مکی نیل اور درا تھالی کے متبول رسو لکی سن ت کی
پروی مس حقرت عثان “کالہ ری اور قرایت دا ری کے روہ ہکو ا نک یرد ری
بین اور فقتہکا سب بگردانناکس قرجمالت'نادالی اور زیادثی ے۔
محژم ملتی صاحب !پر رت رسول کرم کیہ مشبور اور مارک فان
آ پکی اظرےکیوں او تل رہا۔
اصحابی کالنجومبایھماقتدیٹتماھتدیتم
پک
کے خ رایت پا ے۔
از و زا نبراک غرم رقر ل رع ل۷زران ےاورضدال مآ
بی کا فان ے و حضرت عخان غنی ایک عام صحالی فو نہ تے بکنہ ایک میم اور
یل القد ر شمان کے عمالی تھے۔ اگ نیک عام صحالپی خعداکے رسو لکی نظ رمیس ایک
روشن عتار :کی مامنر سے تو حضرت عثان شی جعیسا زاہر و پارسا صھالی و بت ہی
پت ہوا روشن عتارہ تھا۔ ازع کے طرلق کاد او کردا کو اپنانے اور اخقیا رک رن ےک
کیوں باعحث پرایت نہ مچھاجاے۔ مہ اس کے رحس ان ک ےکرداار ار ری
رن دی وت مق جیا اتک رت رسول کر مو ان
لیم الشان صحابہ اور خفاء راشد بین کے طرا کا کو رشد و ہدرابیت کا موجب قرار
ریں۔ فی صاحب ' مولانا سیر اإوالاگیٰ مودودی صاحب اور مووودیت پپٹر طیقہ
کے لوگ ان عحایہ اور غلیقہ راشر کےکروار اور طریبقہ کا رکو فتتہ کا باشث
جھھیں۔ آ3 آپ بی فررامی ک سک بات ٹپل مکریں۔ خداکی بات مکریں۔
دا کے رسو لکی بات تل مکرہیں یا ان لوگو ںکی بات سلی م.کریں جو ار شماد نیدی
کے غلاف انی عحل و بجھھ سے با تکمہ رسے ہیں اور دین میں فساد پیر اکر رہے
508
مولان سید اپوالاعی مو دودی صاح بک یکاپ خلافت و لوت کے مندز جات
گی مفتی صاحب آپ تا دکر رس ہیں عالاککہ ا سکاب کے مطالعہ سے لو نے
لم و ناک عو لخب الع زی امن ے کے ول میس ماب رضوان
الد م١ اشعی نک یکوئی اص عظمت نہیں ہے پلکہ ان کی تننیم پ2
کرام اور عخرت عحثان سے متعلق وفل۱٘ٔکصصححَْسن
مودددکی صاحب بذات خود تحیعہ ملک کے بت زیارہ ےت ا ا
مترض تھا۔ - ات دراصل 'مچھانے کی تی سے کہ خدا تقال ین ااضاات آور
ادا کک مکریں او ران گی ادا کی کائی رآ نکریم گم دیاے۔ ایز
اپٹا اس آرائیوں کے چیہ ہچ لکر بز رو ں کی" تن کے ای
چاۓ۔
پچمارم: ارشاد شراوٹری ے۔ وات ذی القربی حقه رش واروں ے
تقو اداکرو۔ بھی ساکہ مرکارہ الا سور جیان ہو کا ےکہ رت عثان غن <
ین ےو نا حر کیا لیکن بیمان ایک غائن بات خاصی
ورپ قائل ذکر ہے۔ دہ یہکہ رت عثان خی کی خلت کے زباد 071
تو تن اٹماوہ آپ کا رشن داروں کے سا صن سلو ککی دجہ سے تھا۔ یہ ھن
رام خلٹی اور زیادتی اور تاریتی علق سے زوگردائی کے رارف ہے۔ ٭>ائن
مو ذدا بھی شک تی سک یہ تہ اعت مسلمہ کے لے انتائ کرب و اطرا ب کا
پاش ہوا اس ف کی بھ ادر وجوہ تیں اقریابروری رکز تااننلاافط
ںوہ کہ عاہکرا کی وہ پزرگ نل جنوں نے براہ رات خٹرت
رسول اکرم کو سے ون و و کا کش
509
گزارے۔ آپ کے ایمان افرد زحکمات طیب وش و وش سے سے ب اپنی آگھوں
کے آعای تا و انوار کا مشاہرہ کیا بکلہ ان کے مورد ہوئے۔ عسرو یبر میں
آحضرت ٹا سے سا اتی کان نع کرت ای نی کے رر
غزافت باضرص آ خی یئم میس یوون تی سوا شاو کے اور اعلام
سا روزافزوں تزقی رشان اسلاام کے سے ایک کان بتی بہوگی شی اور وشن ا
تک میں ےک ملمانو ں کی وعر تک پادہ اد ہکریں اور ان گی برای گی
حم تکو معدو مکریں۔ پہودیی انی سمازشوں میں سرگرم ہو گے اور نووا ردو ںکو
خخلف رلیتوں سے بکانے لک گے۔ ادعرعبدائلد بن سپا ابی فقنہ پرداز جرکوں
ی لگا ا رکوشتاں رہ اور ہتکن فتنہ اگیزی سے نوجوانوں میں پروی پھیلا را۔
اس طرح بہ فتنہ خطرناک صورت میں نمودار ہ ھکر امت مسلمہ کے سے باعث
ازیت و اشنفظار و اشزاق ہوا اور ہائھی نملط لنھیوں نے امت مصلہ کے خرن میں
1ید
یم : حضرت عثان نی“ کے زیر و استتغنا کے بارہ میس بھی مفتی صاحب آپ نے
جو تقیدکی رگ انقیا رکیاہے دہ آ پکو ہرگز زجب نمی دبتا لیکن جب تاریی
اك کو دیکھا جاۓے 3 آپ کے رححات تلم یر 270+ ئئب.]
کلانے وانے عم اور مفتی ین کے عم سے ہے الفاطکیو ںک کے گئ۔ ذرانظر
ڈالیں رس خصوص تلق بر جو حضرت عنان خی کو آفضرت و ہے ی۔
اغارت نے انی دو صاجزادیو ںکو حضرت عنان شن کے عقز مس وا اور جب
دو ری صاجزاد ی کی وفات ہوگئی فو فربایا اکر میربی اور یٹ بھی وی و اس کی
تماد بھی ان س ےکر دیتا۔ بے مظا مس صعحال یکو حاصل ہوا
۲۔ اس تصوضصی قرب کے باعت ”ذوالورین' کے پایزہ ادر مق درس خطاب
حم
51 50
سے اک جات ہں۔ وشمنان اسلام جو کعات لگا ٹیٹھے تے اور مو تع کی انتظار میس تے اخمیں
کات عخرت عنان کو پر شرف بھی عاصصل کہ آپ نے سب سے پچ ات ادر فوعات ایک نظ رگوار زہ گھیں۔ پالا خر سائیوں اور یو دنوں نے جیا
اھر تکی اور عشہ تخریف نے گئ۔ اتک رکیا جا کا سے مر مت پاف اود اون اور آووارروں کے ہو نک
۳۔ مرت عثان عمشرہ نرہ میں سے تے۔ مو مکیا۔ ان ندواردو نکی پان لکو بی یکر کے یہ فی دیناکہ حقرت عخثان خن ۶
۵۔ نی خحد مات یل الن کے اس یم کار نم ہکوکون نر ندا کر سکتا سے چو ارات سکم یت کی روا ر سے ےرت وازون ال و روا کے
تار اعلام کا سب سے ائم کارنامہ اک ہللاو ں کو ایک نقرات اور اک نوازتے جے' رواداری کے طریقو پر گامزن تے اور عفو و ورگزر سے کام لیے
تفر 5/ راد تے۔ ان امو ركو فتتہ کا باع ٹگرواتا عمالت اوز زیادٹی ے۔ فقنہ کے
٦۔ یقت رضیوان کے موب پ جو راف نے اپ مت مار ککو حضرت وراص لکی اسباب تے۔ علومت کا جلد آ جانا۔ فوعا تک یکشثڑت ال و رولت کی
ان کی کا اھ قرار دم ےکر ا نکی بجعت ی۔ رٹل کیل بای رقابت و حیدر امت مل کو نتصانع بہنانے کے اور ان کی
ے۔ عخرت عتان کے زہدداستفتاکے باریس نت مل نے را کہ شی رخ ارک جن ارم زاد وط رظ
فرش ںکو بھی ان سے شرم آ جاتی اور عضو مکاۓ نے متعلق بھی ایک القرض خدا تا یٰ کے ران رضی اللہ عنھم ورضواعته اور خر
دو موب بی فہایا۔ رول 7ات ضا نکیا ات عتر تج نے ام کے تام سھابہہ
۸۔ فراغ دی تھے۔ فا اور متھرتھ۔ جب حخت قط ڑا ا علائی فوج کے ۱ عدول ہیں۔ عدرل و انصافکرنے دالے اور جن و صدائت پر ڈٹ جانے والے
ایک تھالی اخراجات اپنے ذمہ لے آ پک فرانطدی اور رفای کاموں میں یر اور انی خواہشات سے ایا بکرنے دالے ہیں۔ ان تام ارشمادات سے و بی
معمول اداد کے او بھ کی داتحات میں جن سے تار علام ک ےکئی باپ روشی م مم کت ہک ےن ان کی رن کی ا و
ہیں۔ آگھوج لان اور تین کےلبادہ میں علامہ * مفتق ور مق ہکم اکر ١ نکرو ریو ںکو
الخرضسش حفرت عثان غمنی “ز جیے مٹیم عمالی اور غلیہ زار یک سکس صفت اچھاٹے سے بنا چاچے ادر ہرگزاڑی راہ اخخقیار خی سکرلی چا ےکہ غلغاء رشد بن
او رم سکس شان کاذک رکیا جاے۔ اتی تیم عفات دن ے مزین شخصیت تھی۔ کے ککارناموں اور ا نکی عفات ک بابھی مقابل ہکیاجاے۔ ایک دو سرے پہ ال نکی
خنداکے رسول کے محبوب سحالی اور آ پک غلیفہ راشر رنآ اسلام ان کے کر نیل و تن سکوا ماگ رکرنے سے اجقناب ضردری ے۔
خی راور یل اق ر صفات سے بھرئا پڑکی ہے۔ اس مزرگ طیفہ کے زمانہ می سک رت خلیفۃ ال لان اش امو عو رضی الہ تعالی عنہ نے بھی ”اسلام میس
فڑعات بھی ہوممیں او رکئی دی لیم کار نے بھی انام اۓے۔ اخافات کا آغاز' کے موضو پر بوبی تفصبیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اور ت ری
512
انی سے عاہ کیا ےکہ غلفذاۓ راشمدبین تے اپنے اپنے دور غلافت میں ہمامت
اخلاص' تی “نکی اور سوہ نکی عمل یرد یکرت ہو اپ فرش منمجی
اخجام دیے اور پرخلیفہ ای کگھش ن کا پھول ہو ہے۔
کونا پھول چچوں مگشن سے
مات ےتک وکنا کے
کل یعمل علیٰ شاکلشہ برایگک غیفہ نے اپنے زمانہ جن عالات کے
پیشی نظراسلا مکی لمت کے قیام اور امت مسلمہ کے اسکام کے لے بمترسے مھ
انداز یش دم تکی سے اور خو بکی ہے۔ بجز اہم اللہ احسن الجزاءف
بی دہ ارگ تے جنوں تے اپ اموال “فو او قات اور جذ با تک تریالٰ
سے اسلا مکی غوب آبیاادر یکی۔ اور ار داننک خالم می اسلا مکو ناف دکیا۔ غلفاء لو
بسرعال خلغاء تے اور جلیل القد ر صحابہ تے۔ دا تھی کے مقدس رسول آحضرت
ولا ۓ ونات سے قبل صحاہ تک متحلق اص طور بر وعیت فرمائی اور امت
مل کو بے برابیت دئ یکہ:- 1
27 77ص ٤
تم میس سےکكوگی اعد پیا ڑ کے برا یر سو نا خر جکرے نے بھی میرے اہ
کی "ھب رض ۱
(التو ا عم مین القو ا عم صخّ )٣٢
سی طرح سد نا عفرت غلیۃہ الچ الراع اید اللہ تھالی بر العزی: نے بھی اس "
ممو نک بیان فرمایا ےہ پر خلیضہ کا ابنا ایک عید ہرک و ہے ۔ وا وت
مین واشھات الات کی دش ین اک ےکن کے یی یا
۴ے اذہ سے سا تن سک جا اور ہی کی چنا ےکک
5ٛ3
..:.- +3 4+: وت تج نت گ گ کک ٠
کی ےکہ فلاں خلیفہ نے اب اکیا تھا پکوبھی الاب یکرناجاہئے۔ الخر ض می بھی
ناو سے غلغاء کانہ تو مواز کنا جایے ادر نہ بی تقائل بکلہ ہر خلیفہ کے اجکاما تکی
صدق دل کے ساتھ کال اطاخ تکرنی جا اور اسی میس برکت ہے کسی مع مکی
حخقیص ؟ مقر ووز تخیف کا نز سوال بی پیا نی ]۔ ان وا ہدایات اور
ارشادات کے ہووت ہو ہم عا کون پہوتے ہیں جو صحاہکراع "اور ہاو
غخااۓ راشیدری نک یزرد ریو ںکو ڈویڈ نے والے اور ا نک امچھاتے والے ہتیں-
ا تال خی وق رر ےکی جیا او ز کین اہج نل سے لو لق عطا
فاۓ کہ تم غلاافت کے ران ے واہھ "“"“"ئھ
غلاف تک برکات سے متقع ہو کی رہیں۔ آمن
خو ما ا تی شاعرے:۔
خلات؟ وین جن کی برکتوں کا اک نتاں زئدہ
یی 0ی ا پت حا ا رط
وت اور غلافت لازم و ل'زوم یں رووں
جن تک تج را ور
فا کرح سے ہے ففل سے تائم غلافت کو
ای کے مر اک 11ج 9ر وا ات
"۰ٰ )۹9۷۹ ۹ 7٤
غلافت نے کے ہیں وین کے کون و مکان زندہ
۴ 0ھ"
غلافت ے دا عم کو غراۓ مہاں زرہ
راک ور ی کے زور ریں؟؛ گور اور نار
---۔حے
۔ سس --
44ھٔٗ5
ضدا ٢ ور یں طاہراب مارے روریاں زئرہ
قیامت تک رس گی اب غلافقت احریت کی
ات اک ا وا ںہ
خدا کے دین کا لب غلات ے ے وابت
76ع نر کی ا یت رر
اٹھو ا دن خدا کو جم زماتے بھر میں پچھیلاتیں
ھا کر ریں مد کے نے سار( مان زظرہ
(عراع الکن تریقی الام آباد)
15
ا ہنام نم جناب امیرا جن اص یہ
سسسمسومسففکحکوکوٗٔم]سىجؤٛگژسبمبسسبسس+مسسسسستنخکتعکعصصسسسسسسسسسسووکہت.-.۔۔۔_.ممُمٌمشسسسمٗجووُْٗوُسساجہے--
اشماعت اسلام۔لا ہو رکید ممتا شش
بسماللالرحمن الرحیم
تحمد٥ونصلى علی رسولەالکریم
وعلی عبد٥المسیحالموعود
مت محتزم جناب ڈ اکٹ سعیر اتر صاحب۔
السلام علیکم ور جن اللہ دی رکا
سے !پل مرا ہر طرح خردعافیت سے ہوں گے ۔کئی دنوں سے
آ پکی مد مت می خ کن کا سوج رہ تھا۔ مزید ا ام اس سوچ میس ای ککماب
۶ )۶ "ورک
حتزم ڈاک صاحب یاد پڑت سے آپ سے ۱۹۷۱ء سے ۱۹۹۵ء کے عرصہ کے
دوران اعیٹ آبارمس خٌ کا افاتی ؛ا- آپ ان ٦ ھ-ھ7
آپ سے متعد ہار مل کا موق ما رہا۔ آ پکی شرافت ونجاہت کااث لیا۔ آپ
کے اں جناعت اصربہ کے نحض خاص افراد کا قیام بھی ہو تھا۔ میرے والد
سوا ھی وین خر میدن کے ھی زوا اد کے کے کپ کت پر
علا ج کی 4+7 / تھے۔ اس اضاس کے پیل ظر
کی ونون سے ان ناج کو ہیک تیبرت یکلہ آ پ کی غدرمت میس خی کھھوں
وی من وج بماعت اترے قادبان ادر آ پکی جماعت جس کے
56
آپ ؟ بل امیرمیں کے بابھی اختلاف نے ایک دہ مرے سے دددری پیداکروی۔
اس کے باوجو دی سعید الفطرت احباب جن کا تلق آ پکی اعت سے باعرعہ ربا
جب ال بر غو رکیا۔ عالات وکواکف پر نظ رکی اور اللہ نال ی کی اص تد
ونصرت کا مشاہرہ نی شمارت کے ذ رمع کیا در جن کا آ پک جماعت میس اس
اترام وعمزت کا مقام تھا۔ بالا خر خلاقت حق ہی ہبص تکر کے جماعت امرب قادیان
یس شائل ہو گۓ۔ ۱
اول فرب خاص بزرگ حفرت مولاناظام تین ماں صاحب نیازی تے۔ ان
کے علاوہ رت عییم مج نین صاحب مرہم حلیلی ' حضرت ماس رفقی ارڈ صاحب '
موانا مج یتشوب صاحب او رگئی اور باوج دب کہ آ پک جماعت نے اہےے عقاو
افقیار گے جن میں بط ہر نی تھی اور مہ آ پکی جماعت کاخیال تھاکہ اس طرح
آ پکی جھاعت زیادہ مقبول وگ ادر اس کے بامقائل جماحت اجہہ کے جقاتر
مس آ پک اخقیا رکردہ زرمی نہ تھی۔ اللہ تھا ی کی فی شمارت نے جماعت امرے
قادیا نکی مقبولی تکو شاب تکیا اد رک د اہ ؛ بس آ پک جماعت کے۔
تم جرت جن ماتد سے این عاج کو یے اور جن کا کرای غخط ین آن پک
خدصت سک رن ےکی اجاذت چاہتا ہو ل کہ آپ خحخرت سیرنا مرزا لام اجر
صاحب تقادبانی علیہ الصلو والسلا مکو مد اتھالیٰ کو برگزیدہمامور امام الزمان اور رد
افظم دور کیم موعود تل مکرتے ہیں اور اسلا مکی یم یدص تہکرنے وال گر داتے
ہیں۔ آپ کے سب بذرگ قرآن و اسلا مکی خد مم تک اض چاشنی اس متبول
ای اد گزیدد سے پاضے کے مگ یں ادد اس کا انی گرنوں اور تقرروں من
اختراف مج یکیابے ۔ اس کے باوجود اپنے اس بمۃگزیدہ پرد مرشد سی موعود علیہ
الو ۃ ودالسلام کے داع ارشمادا تکی تل سےگریذاں ر ہے ن عثال کے طور یر
517
ناب مولدی صدر الدین صاحب جو سی دقت آ پکی جھاعت کے ام ری رے
جب ووکنک مشن اور سد کے امام تے اور یہ مو رآ پک جماعت کے زاخظام
تھی۔ خیرات اما مکی اقتر ایس جحع کی نماز اداکی۔ جناب سید سلیمان نددیی جن ۱
رنوں غااقت مؤومنٹ پیل ربی نشی مسلمانوں کے ایک وفد کے مھب کی حیقیت سے ١
لندون گئ۔ انہوں نے اپنے ایک خط میس لنددن سے ککھھاجو اس وقت ”برید ف رگ ''
کے عنوان سے ہندوستان من خَال ہوا۔ بعد مم ںکماپی صورت میں سیر صاحب
موصوف کے تمام خطوط جو لنون سے اس وقت کیہ گے ”برید فرتکف“ کے نام
ان ہو من تین اجب کے ایک خ ا کے مین و صن سے الفاظ میں ۔
نے ۴ فروری ۱۹۲۰ ءکولن رن میں بجع کی نما زس تے پڑحالی اور
مولوبی صید ر الد ین امم کی نے یر تہ نما زی ھی۔ و وکنک آ نے
یبھی انھوں نے دعوت دی۔"
(زر و2 ك۸ف۴۹۴۶)
نیت کنا نے ا کپ ےب رگن از تر اضاب ہے عو ریم
کرت او ر حم اور چا دد امام الزمان نات ہیں ان کا فرمان فو ہے تھا:-
(ذ) دو آدمیوں نے ہییم کی ۔ ایک نے سوا لکیانکہ یز جھ ہی
کے تیچ نماز جانئز سے پا ضھیں ؟ ف مایا ہلوگ مک وکا ف کت ہیں اگر جم
کافذرخیں فو و ءکفرلو کر ان بر ہج سے ۔ مسلمانو ںکوکاف نے والا
خو کا فرے۔ اس لے اسے لوکوں کے تیچیے نما ز جائز نیس - بل ران
کے رر میان جو لوگ نا موش ہیں وو نی ای میں شائل ہیں ۔ ان کے
کے بھی نما ز از نہ ںکیوکلہ وہ نے ول می نر ہنب مخالفانہ رکت
818 ْ
ہیں جتو ظا رما رسے سا تہ شماعل نیس ہو تے_ ؟
: (مفو کات جلر ۸ صفے ۲۸۲)
مزید ماحظہ فربانیں۔ حضور ارس عم وعرل سج مو مورک ارغارت
اق ا نے و اع کيا فا رجا یو ایت
فرمایااہاں الگ اور جمایڑھ لیاکرو۔ یہ سلسلہ شد اکا ۔ وو جا بتاے
ین کک لت وت کس سدقت کے تی اعت 6ر
رے کت
: (ملغو طمات جلر صن )۳۴٣۴
عاشیہ حنہکولڑویہ عف۹ نے ٢ بھی یڑ لیں۔ فرمایا:ے
(ڈڈ ”مار سے رام سے وو ر تلق مرام ہے ب کی جنر
اد رکب یامترددکے چچچہ از ہو۔ مکنہ چا ےکہ تماد اوبی امام
ہوک سی کے اتاج
ایس ہیں جن میس مرا سر خدا تعالی کے متبول فرستادہ“ سک موعود امام الزمان
جنمیں دا تھالی تے اس زمان کی عم بنایا۔ جس نے بطو حم ا رشادات فریا ے۔
ہدایات دیں۔ ٹیل جے۔ ا نکی دا مخالفت اور نافمانی کے عرکب آب کی
۱ جماعت کے عام افزاد ہی نیس بکمہ مق ر بھی ہوئے کیا آپ اپنے دورامارت مین
۲ ان ا مو رکی اصلاع فرما یت ہیں۔ امام تو ہو۰ ہی اس خغخ کیل کہ ا کی پیرد کی
جاے۔ آپ خودبی دک یں واقعا تکیا لا رے ہیں ص7۶ ہہ
ما یکر ری ادر ک حظمص می
سای یک اکا رآ مک نون او خدائی ضرت رکید سے
59
دستسےےےلصےكےککےہےے۔۔ےےزےزژےسشےچزۃزرج۔ ےج سج
زی راہ گامزن سے او رکون جھاعت اریہ کے خصوصی عقایَر اور روایات
ےمچوٌٗسمہبیبھہروضن رق يک عاعت
کی آ مد نیس احریت سے وابستۃ ہیں او رس جماع تکی آتندہ میں اص یت
کی اتیازی شان سے اجقنا بکی راہ بر گامزن ہیں۔ ىے سب نظارے آپ کے
سان ہیں۔ آپ ماشاء الد یک صفات کے عائل ہیں اور شرافت و خجاہت آپ
کا ا 00 0 رر ری تے۔
آپ سے اکسا رکی درخواست ہے۔ بہ زندگی ند روزہ ہے۔ دا تھالی سے درد
منرا: نے اندازیٹی جھیں اور دعاکر او رح کے طالب ہو کیل اد تال سے
قوت اور رن چاہں اپ لو 1اا ون نت قاریان ۶
ا ےرت سکیا نم حون یم سے جات یکا
واج شبوت عالات بی یکر رے ہیں اعری تک آغاب پا ری پچ ے بماعت
مائھین کے ذ ریہ خلاقت حقہکی راہ نمائی میس اسیک دمیاکو منو کر رہا ہے ۔گ شن
ووں اھ ریہ می آپ کا جلم۔ سالانہ عالگی رکا انعقاد ہوا۔ صرف پپچااس آ دی شال
ہوے۔ باہرسے بھی آ ے پجھ مبائھین بھی فظارہ لیے گئ ۔ اوھ رمبائی بھی جلسہ
اریہ میں ہوا اور وو صرے مگوں میں بھی جلسہ ہا سالانہ کے انعقاد ہو ۓے۔
پاوجو شر یر مخاافتوں کے لتض مکوں میں عکومت کے رخنوں کے بزا رو ںکی تقداد
میس ما مین شال ہوے۔ جس جلسہ میں آپ کے پچپاس شال ہو اىی سال
اع ریہ میں بضاعت اریہ واشکٹن کے سالانہ جلسہ میس سات جزرار اجکی شائل
ہوے۔ والمانہ انداز ٹین ج ےئ ہوتے ہیں اور ای تم کا نظارہ
یدخلون فی دین الله افواجاکانظارہ مشاہر ہر رے ہإں۔ معادت متدول
کیلئے ز بی ایک نتان جن ود اق تکو جایچ کیل ای ے۔
520
سے گے سے سا شش ہہ وچ جح جج ڈ +-ے
"۶
رک نےان کائی س ےکر ول میں سے خو فگردگار پان نکی مشمورمورغ اور شر یکی تق دکارد
مم اک صاحب !ری خلو سے آ پکی قدمت میس ی کش کی ہے خدا ِ ٌَ
کڑ ےآ پکی خیرات اور خات آتا ر عقیقت زوش کے کناٹ پوت
' والاع
خاکسار
مبا رک اھ
۱۹۹۰۲ء۶
اس تربرىی خدرمت کے علاوہ اکسا رکو اس حرصہ میں ال" تی نے اپتی خائس
تا سے ٹائن لی کی تقبی رکا ر وین کی نیقی دری۔ اغککتان کے مشمور عق اور
مصتشرق ٹائن پیک ی کاب :1860 ٥0٥ 8097 لہ یس میں مولف ے ریا
کی لف اقوام و نراہ بکی نار اد ران کے زوال و عرداج کے فلسفہ بے تر دکیا
سے جو جیر: جلدوں بر مشحقل ے۔ ا سک خائص شر تک باعحث ہ کتاب بتی ے۔
“٢ ےی ان ا سکاب میں ٹائ لی نے اسلام اور آحضرت مو کے ارہ می بھی متقبی دکی
ا کے ا کا ا کا ماق ےرت ےی ہت تک پک
میم رہے بنمبرکیکاپاکیزہ اور شاندار فربیضہ انام دیے رہے۔ جو بھی ججر تک اور
ینہ کے آپ نے یراو ربا شاب تکالباد ایا رکرلیااور بی کے را لس نظر
اندا کرد جئے۔ ٹائن لی انی مرو فکا بکی جلد سوم کے شحیمہ فی رہ میں ”مدکی
۱ ضاسی زن ری" کے زمر عنوا عککھتا ے:۔
١ ط۷ 068888۵ 1ا ظط ۱ط قاط نا٥٥ ١٤٥ ٥د15
۵۶98 16 ,ا٢۲1 08٦٥۰ چھدزدٴدہ٭٭ط زط ٤٦ہ ا1ط ٭تط
7۷۶0137 080-17۴۴۱6 1٥٥اآطصت ٠٤ ٤ہم 86نہہہ× 8
صہ عچ ط٥ط زتطا 688٥ ز6 طرہمء×م ذنط ٥٥5٥۹٥
۶۰ء اط +د: 686 7835ط35ھ
یی قیص کا شکارم نکراپنے خون سے اپ یغام رسمالت بر ہ رتتتیل لان ےکی
باۓ اس کے ععین ب رحس می کی قسمت می خود عر ب کا قیص رناککھا تھا سک دجہ
] ےیپنام رسالت کے صن م سکی پیدا ہوگی اور ایک بد نمی مور مس آگی۔ (جلد
_ گے ٢ الد رونا
گرا تے کی
×ط لاتھساعوووو ۲6 09ہ و 9ئ00
1م 1 ٥ع صنم
یں ا وت۲
کرد کت سم پک پر
( بل سم گے م)
8 ط1 _۳۰ٌ1.,[۴.۴---0و0
203 وم 6ء
0٤ 6ءء 89
1ئ 6 ٹر یہ
٤ 101٦+ ٥ء ش
471-2 15102 ای
523
مر اما یراہ لت کا رول اداکرنے پہ راشی ہو گے جک ایک اوڈا
اعم ر بہت امیاب مس
کام تھا ''(جلر ٣ سخ اے ٢۔ ۲ے )٣ :
اور سعمولی کام تھا“ (م : ہے
ِ ا ر تحت
اور اسلائی روایات گی ری ا کات کا سو
ری کے فرائن زیادہ شاندارطو ری انجام دیے۔ اروو میں ما ٍ
کے مدان سے شا کیاادر اگگری:ی می
28 : ٠
58 ,90 ۸۶۰۱۸۸۸ :7 ۰ہ ا
٠ 1 عط ۶6ء مز : 5
ےھ ۲ ط750
سے ےت
2 روہ کا و ین سا
گ دع بیو وپ ویو یر و
ا ا مرکو ا
کت ٠ تھے 00۵
تحت ہے مو رت 8 ۲۰۰۱۱۸۰ ۱۶۱4 و
دن ٹا لی تاب" کے
ارد جس ا کنا کو ”مور پرطانوئی مو رخآ نل ٹائ نکی کات :
ا سے ال عکیا۔ : ا
٢ی 4ھ
ّ وف ہے ےپ رت
٭ہَ*8۳“*""0.ھ*“*"*
عتتتے
770جگ0۸ ۰(+!٭'"" نا
524
فائ لیر دالی سے ذکر فمایا۔ جز اعم اللہ ان الام
تھے نم شی نکاس بایان تق راز
ند اود ذائی دی س ےک رن کی معادت لی :
نہ بین آموں کا
ات پاستان مس آموں کا موس ہے اور خاش بار رت رای رر و
ھجب ھتاپ لا پور رو وت ہو ایک می مکی خرغائ کر رش ے
جآ ا ات ا وس ےل سے یر
ا لا تن ات یک یں رت یں و کا و
اسان کر آ مرن کی وا لوف“ فا کیرک ا کے
یت گی ارک اس سیا کر یلست ارات یں مت رم
رک ا ا ا ا ا اک کک
کس ور تا
کین خائس خومیات اوراماض کے متعلق۔ الک نکی اہ تال
ای ال لیذ اود مڑے دار آقت ے ٹواز ہے۔ پاکتالی آموں کی
کت نشین 7ء ء0 .0
آم فرادا ی سے وستیاب یچ کی دای بے نین نے یں پر کھائے کے سر
کو ا کت نات لے رر جات ےرپ
اکاوو ہس سی یر
000
جا ادن کے تام ہی انا دفوں بن پرائی یں بھی قل کی مامضے آنے
525
آگییں۔ چوک آمو ںکی بات بل درہی ہے اس لئ آآج دل چا کہ ”نین آ موں کا
"بھی تار می نکی خیرمت میں بی کر دول جو دراصعل پاکتاتی آموں سے ہی
لقاق لات
تن دنوں ہے غاب جمائتی زمہ ذا زیو نکی انحام دی پر برطاشیہ میں مامور تھا نے
ا۶ے 47و کے رن کت راع نع ران کت ور
مامت کی بات سے تا یا دوہست باکتان آتے جات ربوہ سے ضروری
اک تےکر آتے۔ عحضرت صاح بکی ڈاک اور پغام بھی نےکر تے۔ اس رح
ماس حفاظت سے اور فوری طور پر پغام بھی مل جاتے اور ڈاک تھی مل جاتی۔
لنرن سے جات والی جھائقی ڈاک اور پغام رت صاح بکی خد مت میں
احفیاط سے اور بروقت ىل جاتے۔ اس شال کے سلسلہ میس الیک دن رم پراد رم
للیمان طارقی صاحب جو برشش اوہہ میس ان دنوں ملازم تے کا فون آیا۔ ”خ٘
صاضب حخرت صاحب کے پچتھ پغام آپ کے نام ہیں اور خطلوظ تھی۔ میس ڈاوئی بر
7٤0 >> ھا نے ین ےی نی
ہی ادر براہ راعت آپ سے ڈ اک بھی وصو لکروں گااور پغام گھی۔ چنانچ رم
۳ یی 9 ۶ئ
اور ساوت پا ل گرم سلیمان طارقی صاح بکی رپائنٹ گاہ بر کی گن سائ تھ ال
کے دوستوں کا سے طرلی ر کہ جب بھی ان کے ہاں جانا ہو غا رو تذاضخ سے
فوازتے۔ ساوج پال تو الیٹین کاگموارہ سوسے 'کباب ٠ ہرز فوری طور یر میاہو
جائی ہے۔اس دستور کے مطال قکرم سلمان صاحب نے ہیی خوش آیدی تچ یکما
اور ا طرد شع کے دوران ڈاک بھی جعارے سیر دکی اور رد ری پغام بھی بنا
دچے۔ بحم جو بی الع کے ممکان میس داخل ہو ے اور جقتنا حرصہ ان سے باتی کر نے
526
4ہ پاکمقالی آمو ںکی خط ناک "لین اٹ کے لفاط سے خطرناک خوشبو نے
ین ایک امس حم کے ممردر اور حویت کے عالم میں یاشچادیا۔ جب دن کے کان
رت رج ے ےت
بھی بڑاسا تھا دیا۔ چ صاحب !يہ پاکستان کے آم ہیں۔ تھو ڑے سے لایا تھا۔
کو بھی ش ری کر زہاہوں۔ قول ف راتس ه٦7ھ2ََ ل٭ھ“۰
ان کے گھرسے جی ہیں آموں کے خیال میں بی گن درکھا۔ اب سج کے
لنرن مشن مک کار کے سفر ن ایک یاکستالنی آمو ںکی لزت آمیز نو بد دانے تین
مم دو ساؤ ت پال آئے۔ دو کار بیس ٹیٹھ ہیں۔ بی ہو سکتا ےک کوئی اس
لذیے نہ اور مزہ سے تھروم ربے۔ ساوت یسر سے
مارے سفرکے دوران نماکسا رکا ذ جن ال مکش یں دہا۔ اگر سماقی صاح بکو ایک
آم دتاہوں یو مس رت
سیت یں نے سرت آم بھی ایاج پاکستان کا آم ۔گھ رک ےکی فردکو حروم گ
بھی نا کن جو سے رت
گی اور میرے متتا کیا بھاجاے اہ اس مخ نکو عم ہوتے ہو ےکہ دو مات
اور چے بھی ہیں اور خود ساقی صاحب ھی۔ اگر میس ایک آم لول اور اق صاحب
کو دو آم دوں۔ اکر چہ ان کان یھ بن جا گا۔ بگی بی تاشیی ںکر کے سب اللی
خان ہکو پاکستانی آ مکی لزت اور خوشبو سے مت کر بھی کے لکن میر ےگھرمیں
اکر چہ یم ایک دی ہیں من دو مسرے عزی: اود چے ہیں۔ یس ایک آم نےکر
کی سک سک کیادے سکوں گااو رکتتا۔ آخ مشن با کی عمارت میں بم کی گئے۔
ساقی صاحب نے کاد روکی اور ماکسار اترا۔ لفافہ جھ میرے بات می تھا۔ اتی
صاحب کے پر دکر دیا اور ان سےکما سای صاحب یہ آ پگھرنے جانیں۔ ان کا
٦
527
پار اور خلومص سے اصرا رکہ تچ صاحب آپ بھی نو بھ لے لیں - نماکسمار فی لہکر
چکا تھاکہ لفافہ معن وعن “خیوں آم سمیتٴ ساتی صاح بکو ٹن یکر رین ہیں۔
یت رین کاریں ۔ جھ سے عزت واتتزا مکاسلوک روا رت یں اناتے ان
غانہ کا زیادہ تن ہے۔ از راہ عنایت انہوں نے ناکسا رکی پیک کو قبول فرمایا اور
1+ ےئ اور ما کروی رت ید
اسی دن ا مک بر ورڈ سے جماعت کے پربذ ین ٹ کا یغام آیاک دکرم مرغاٴ
ال صاحب کا اتال ہوگیاے۔ ا نکی خواپش اور تنا نت یکہ خاکسار ان کاجنازہ
بڑھاے۔ لا عرصہ می رصاحب مرے ساتھ مشرقی ا فریقہ میس سلسل کی غدمت پر
ا مور تے اور ہار آپیں کاخاص تعلقی تھا۔ جماع تکی طرف سے اس اطلاع پر ٹم
بھی ہوا اور جماعت کے پر یرنٹ صاحب سے ل زیت بھ یکی اور ان سےکماکہ
الد نے چا با کل تج لنین سے پر فورڈ کے لے روانہ ہوں گا۔ دوپ رتک چ
جال گااد راس کے بعد جنازہ پڑضایا جاۓ گا۔ جتماع تکو اطلا ]کر دیں-
اگیم رم جرباشی۲ن صاحب ندیم سے خاکسار نے وک رکیادہ فور تیر ہو گے ۔
نریم صاحب بھی لیا عرصہکیغیا مشرقی افرییقہ رہے تے۔ ان کے بھی می رضیاء اللہ
صاحب سے لعلقات تے ۔ ندیم صاحب انی کار لے آے اور کے سا چھھ بٹھکر پریل
نورڈ نے گئے۔ رم ڈاک قمرالدرین ائینی صاحب پڑرز فیلڈ میس ڈشٹل رن کے
طوریر مٹیم تھے۔ یہ شم بر فورڈ سے آھ وس میل کے فاصلہ پر وائع ہے۔ ا نکو
اطلاع ہوٹ یککہ ماکسار پرٹر ٹورڈ آ رپا اور جنازہ اور نشین کے بعد لنرن کے
لئے والیی ہوگی۔ انموں نے پغام موا یاکنہ ان کے ال سے ہو جال اورووی مک
کھانا ان کے ہا ں کھاؤں۔ بر فورڈ سے فراغت کے بعد جب کھرم ڈاکٹر اتی
صاحب کے ہاں بے کھاے کا دقت ہو جنکا تھا۔ انفظار بھی نہک رن ڑا عیزی رکھانالگا
528
ہوا تھا اور آ مو ںکی تقاشوں سے ٹرے بھی بجھریی ہوکی تھی اور ىہ قاشتیں بھی پاکستانی "ٴ
مو نکی نفاشہیں تین ۔کھا نے اکی تما سے سذ یز تھے جھکان ا نک کے ۱
سا آ مو ںکی تقاشوں کا خوبصورت پلک گلالی رتک' خوشبو اور للزت نے بییں
زبان عال سے وعوت وی اور نامعلوم وچ کی یناء پ ابی صاحب پار پار اصرار
کرت رہے۔ شی صاحب ب باکستانی آم میں فمایت لیذ مع او رکھاین خر ای
استطاعت کے مطاقی یکھاناتھا۔ ہھرعا لکھایا کھانا بھی لذریے اد آم بھی زی اور
مزے دار۔ گرم ندیم صاحب اور نماکسار دونوں ڈاکٹ ابپتی صاحب کی اح کا
حکریہ اداکر کے اور وعاکر کے رخصت ہونے گے۔ کار میس ٹیشھ نوکرم ڈاکٹراینی
صاحب نے بجھ سےکما۔ جغ صاحب آپ کے راستہ میں دو فرلاتک کے فاصلہ پر
67 ۹۹۹۰۶ "۷
جائئیں ت2 دک دازآ پن کے سرد اپ کے کا سے لین۔ ڈ اک صاضب کے دوات
دہ سے روانہ ہ وک جب اس دوکان پر یئ فو انس نے آمو ںکی ایک مٹی مار ی
موٹ میں رکھ دی۔ ڈاکٹر صاحب کا فون ھاکہ آ پکی خدمت میس مت یکروں۔
بے پیا ر سے اس چٹ یکو نریم صاحب تے اٹھایا اور ڈگی میس رک لیا۔ سارا را
اللہ تال ی کی ح کر آیا۔ شا مکولنرن ت گیا۔ میرے جز بات تظگراو رم کازرہ
زرہ اللہ تقالی کے مضمور رت آمی زشحگریہ م سلگزرا۔ نریم صاح بک سا پل "
کے 1 موں کا عم نہ تھاکہ ان آموں سےکیلگکز ری جس طر کن ش کش کے باوجود
خاکسمار نے خودیر ساقی صاح بکو تر یع دی۔ ھیرے اس معمولی سے ایثار جو ححخل
تیک نیقی بر جنی اور جن الد تھا اور اپنے بھائی رق کار اور ان کے ایل غان کی
وی کے لئ تھا اکر چہ بط ہریمت مممولی تھا۔ آ خر تین ہم ہی نو تھے ۔گ راد تعالیٰ
کی نظرے خلزص پر ہوقی ہے۔ ینوں کے مطاب معامہ ہو١ ہے۔ ان جز بات تظگر
529
پسٛسسسسهژػژدصسس- -<تچ_-ص-س---<-ص٠-..٠.ص.-۱-_۱٠۱١٣3٥صا.۔ ٛاکنلڑ ھگ ٹ”“ٹگگکے
اور اج ر بکریم کے فوری اصن انداز کے اج بر اللہ تال یکی جاور ش رکرتے
کرت بہ سفرنے ہوا اور عین شام کے وت لندن مشن کے اعاطہ میں داخل
ہرے۔ مقرب کا وت ہون کو تھا۔ ممود پالی کے ساھہ ک ےکھرہ میں موٹر سے
ان و ض وکا ور حید عانحق رت کی 1ای کے لے بت الفصل لاہیا۔ ٹریم
صاحب کار میس ٹیٹھ رہے۔ چند حے اتظا رکرنے کے بعد آ مو ںکی خی اور خماکسار
٤ر تی اور تو ےک ح یلان ای ارت اوک کے
کے بعد جب ناکسار ابی ام گاہ یہ نا نو البیہ ن ےکماکہ ندم صاحب پہ ٹی دے
گئ ہیں۔ اب میں افو سکرنے لگا ۔ اللیہ ےکم یہ ےآ مو ںکی ئی ہے ۔ پاکتان
کے ام میں ڈاکنینی صاحب نے ہیں سان آتے ہوئے دے دگی تھی در ندم
صاح بکو بھی اس مس جج آم دینے تے۔ اب نہ ندیم صاحب کے ذز ہن مل آمول
کاخیال اور نہ میرے ذہن م سکہ یت الزکر جانے سے پل ند یم صاح بک و بھی ھ
پ یکروں۔ عبادت کا وفت ہو رہ تھا۔ وضو اور عیاوت میس شمولیت کے اس لحہ
سب کبھ پھو لکیا۔ بسرعال ہہ سب چھ غیرارادی طور یر ہوا اور دا ر گل مت
ای اپے اخداز یش اس عائز کے سا معال کر تی تھی۔
لم یو رکرر ےکہ اس عاسلہ مل ہہ بھ یکو ںکہ معمولی سے ایار > کر جو
سس وت قا رین !جانا تقصود کہ چھوٹی
سے چھوٹی نکی بھی ہو خلوص سے محض ادلد تا یکی خو شود یکی خرس س ےکی جاے
ائی کا یھی اج 1 ہے۔ آخر نہ اللہ تال یٰ کاىی تو فربان ہے۔ ”جو ذدہ کے برا بی
رن گاوہ ا س کا کیک اج پا ےگا"
530
ناض١نومم
کچھ عرصہ پل سازیدال جانے کالفا ہوا۔ اکسا کی وہاں بی زی :کر حوظ
الدین صاحب ایڈووکیٹ کے عقد مس ہے۔ ۶یز حطیظط کے ماموں متزم می رمنظور
اد صاحب سے بھی طاقات ہوگی۔ ایک دن خلومی شوق سے ساہیدال کے واج
یی ا ام زی سے ےت ان سے نے ورای ماس ا یں نے کے
کہ تاٹی صاحب بت زر تیزدماغ رک ہیں۔ رو زانہ ٹظم بر نشم لکیہ رتے ہیں اور
رٹ لینڈ سے گحتزم ڈاکٹرمیاں ھ طا ہر صاحب سرجن نے ایک ون جب کیٹی
صاحب کا ذکرآیابا فصو ا نکی شماعری کان کنے گے ہنی صاحب شاعری تھوک
شمائرئیکرتے ہیں۔ بے بھی خموت تفادما کی زر غیزی کا۔ لین اخبار اخضل سے لے
نے سے نے عنوان تجوی :کرنے اور ان پر کھ کی تحریک یہ بھی دماٹی زر نز یکی
نثاند یکرت ہیں ۔گزشت ند سال انی ادارت کے ددرا نکئی عنوان تو ے
ار میدن نے ان کے نکی میں وت سے موب تر کھا۔ ا می ۷
کاددر گل رہاے۔
خاکسا رکو شروع شروع میں منون ان *' کے تلق میں چجھھ کلت بر جات
ای کہ جو دا تال کی رضاء اور ا کی خوشنودی کے حول کے ل ےکسی سے
جھلاٹ یکرت اور احسان کا معاط کہ ہے ا سکی ہرگز یہ خواہش نی ہوت یکہ اس کا
چا ہو لہ با اوقات ری رک ا ا
اود عزیزوں کے خاش اسان ہیں لیکن جب کبھی ان کا شکریہ بھی ادارکیا سے ت
51
اون نے اے اعت انداز مین خی ن لیا نہ اسے اکا ر تھا او رکھاکہ نہ گرب کی
یت تے دساف اذا یا
00 0 0 0ا0 0ک
گے ار اور لعل سے ان کے اضانات کا شکرہ ان کے لئ خائص دعائؤن کے
ا کی ےک ات ین ا جا لفنفل میں زکر
کگروں ۔بھی اییے پیاروں کے لے حخرت غلیفۃ ال الرالع سے ذک کر وا ہوں
رت صاح بک دعا روج کت ا نکو نیب ہو ۔ لیکن اضر الحضل میں جن
وستوں اور عززوں نے ”نون اسان ' کے مت جن بسن و ں کا ذک کیا سے ا
وہ اس دنا فالی سے رخصت ہو پیے ان کا ذکر تہ وکیا اپچھاکیا۔ یا ایی ےگنام اور
شیدہ ہی سک کس یکو ان کاعلم نمی اور اسان او ربھلاکی کاواقعہ درس ت بھی اور
لاو ھی ے۔ اسے واقحات پا کراس جاب کو ترک ہوئ یک حفرت غلیۃ ال
ناف کے ایک اص احمان کا ذک رکروں ج سک بر ولت سالما مال ماکسار شع
ہو ر)اور نپ آرام پیا اور کون لیب ہوا-
مشرق افریقہ سے اکسا رکی اٹ اور ریدہ می آم پا من ۹۷۱ا کو ہو گی۔
ال" ےر کے ناریا کک یت ماک اک ا
تح یکوٹھیاں ہیں ان میس سے بب یکونے والی اکسا رکو الا فکی۔ کی خرصہ بیمال
قام رہا۔ تریک جدید سے غاکسا رکو صدر انج نکی طرف واپیس جوا د یا یاکی کہ
ماکسار اصل میں اشن کا کا رکن تھا مان ڈء نیشن (مسنقھار) مریک می تھا۔ ا جن
تد نے کے قد ری کے اداد نے لااو کمن ےک شی ای
کا نم صادر ذرایا۔ خاکسار کے پا سکوئی مکان نہ تھا۔ ھیرے والد پز رگد ار جس
کوارٹرمیس رت تے پچچھواکوا رٹ تھا۔ اجمن کے پا ان دفو ںکوگی مکان خالی نہ
832
تھا۔ خماکسار انجن کا کا رن تھا۔ حضرت ت خلیفۃ ال انا کو خاکسا ریہ یغالی اور
ترک کے مسکسل ع مکی اطلا کسی رح ہو گی۔ ال جات ےکس رح انمیں
اطلاع ہوئی او ریس نے کی < ایک دن مھ بڑے جعدردانہ انداز می فریا ”خ
صاحب! آ پکو مکا نکی تکیف ہے اور پ یی ۔ آپ کے ایا کاکوارٹ پکھوٹا سے_
اب آپ کا نغاندان بڑا ہوگیا ے نی ات نی وک یکرت ین۔
نل اور بی (داتم کے بھائی ہیں )کی یہاں ربدہ یس دوکنال زین سے انی ںکھیں
کہ دہ مکان ہنادیں آپ انی پا روپے ماہدا رکرایہ کے اداکر د یکر" ڈاکمار
نے عفرت صاح بک زبان سے بے ک نکر قد رے تی سو ںکی میرے انام اور
آ کو اپنے نادم کے لئ گر سے ئن نی سے با وا مار سے ان کے عرض
کیاکی ”نیس اپنے بچھا نون کا بدا بھائی ہوں یی نے جع تک بھی اتی ضرورت
اور پر انی کا نہ ان سے زگ رکیا جے اور نہ کبھ یکوئی مطال 2
کاو تی رت سض بر اڈ نمی ان سےکموں گا اکسا رتے
رت آ پکہ یت ہیں آپ ان کے لئ با پکی مہ ہیں“ چنانیہ حضرت
طز( ات تر زا مزان کور ا ا
کر ا اک ا × ان نیک بت بھاتیوں نے حضرت صاحب کاار شاو یکر
قرت صاح ب کی خدمت میں اطلاع گگوائی کہ منکرایہ لے کا بڑے بھائی سے
سوال ىی نمی پیا ×۳ ہم مکان بنا دسیے ہیں '' ال تالی جذاے جردرے۔ میرے
یہ دوفوں بھائی ان دفول سپلائی کا مشت کہ کارویا رکرتے تے۔ اس ارشاد اور فیملہ
کے بعد انہیں پیل بی کسی شلیکہ یں ۴۵ برا روپ کا نع وا۔ ہہ رم نموں تے
امن کے تزانہ یں لاک بش کرا دی اور سمارے داققہ سے ھیرے ا اک بھی )نموں
نے اطلا کرد ی۔ خزانہ یس بی امات میرے والد صاحب کے نام رکھوائ یگئی اور
533
چتت--__-- سسُح ح ييسؾچژ .جج وژإ+ 0ح+< >
زان کے اض رکو ىہ اطلا عک یک مبارک کے دججخط سے چیک الیثو ہوں کے اور
اسے پہ رت اداکی جائے'' اس کے مع بعد عخرت صاحب نے مییرے بھا تو کے
اس کان کاسنک بیاد خود تشریف لاک لہ دا رالصدر شی میں رکھا۔ رت خلیفۃ
لع لقاا کی امامت میں ىہ پہطا مکان تھا ج سکی اد آپ نے اپنے مبارک
انتھوں سے رھھی۔ دوکنال ھا کشادہ اور پچھر ضرور تکو بیو راکرنے والاب مکان
جب تار ہوگیااور شید رکت سےکمل ہوان ا سک تی۰ قرب جڑی جار روپ
ہی اس وت خر ہوۓ اور میرے والد مز رگوار نے 7ا کو اطلا ]کرد ی کہ
اب مبار ککواس مات سے رتم لوان ےکی احجازت نہ مدگی- اللہ تال کاشگرادا
کرت ہوۓ نماکسمار نے تحریک جد یدک یکو شی خال یکر دی۔ اللہ تال کی عناتت
٦ی "۰م" لگا ارچ رہ سال تک اس مکان می تم
ینف یو زا فان ےت تل اک
وہ راکش کا سارا عرصہ سکون سے زندگی
زار کاا وپ توالی ۓ حضرت غلیۃ الج الثالث کے رہہ ا تام ربا ولی دعا
ث7 ہردم الل تا یکی بے شحار میں ان راس دیاش بھی نازل ہو کی رہیں۔
ہے خدام کا سکس رگ می خیال رکھا ۔ ا عات زکو اللہ تعالی نے ات ال
ے تین ات کی شفقتوں کا مور بنایا ہے۔ ہرایگ نے اپنے انداذ میں اپ ارد
شفقت ے نوازا ۔ الد تقالی جزاۓ خردے میرے ان عزی:بھائیو ںک بھی جتموں
و چس سر
بے شار برکؤں سے نوازے گے۔ بوے وص سے طوہیلی عرصہ ت فکی بای
کے گے مکان مس اکیا۔ اور جب ۵ می ۱۹۹۱ء کو ام مہ میں جمائی فلت
زاریوں سے ریائر ہوا حفرت غلیۃ الع الرالع نے نیت بی شی دقادی" ”الد
۱ 0
64 ۱ ۱
ای آ پکولا ا تھاسعادنوں سے نوازے اور ومیگر خاش دعاوّؤں سے ر حص ت لا
نی 7 کت سے الل تعالی جھے خاص اضانا 2 اور نضوں ے وازر
اک اکا ری نیل سے کے ہت ۔ الد ے چاپالو۔
سے سس ج
_اسےکس---سحص۔۔ ےم سے '-ےےک۔کےےے ہہ لسْ
55
العام
بت ونوں سے ایک نا انعام کا شگکریہ کے ساجھ ذک کرت ےکو دلی لان
07 را۔ ین آج اس انعام کے ذک رکی رو کگکو ول نے دو رگر دیا۔ ۱۹۹۵ء کے
"مم ا نکی بات ے۔ حفرت غلیفۃ ام الات نے زم حضرتے
ری ظفرارشر غاں صاحب او رز مکرل ملا اش رن تک
ورخواست بر فضل عمرفاؤونڈیشن کے قیام کا اعلان فرہایا اور ان دنوں پزرکو ں/ و
فاؤونڈشن کاچیٹرشین اور وا اس یٹرشن مقرر فرایا۔ ححضرت چو بر ری صاحب 3 سال
اک زیاد ص انی ذمہ داریوں کے سلسلہ می بتک ( الا رچے تے۔ حم مکرل
خطاء انڈر صاحب لاہور میس رجے کے باعث گلا فا نڈ می نکی زمہ داریو کو انجام
ے کے لے روہ آتے جات رے۔ مھاکسارہ سی رٹری فا نڈیشن تھا او ر می
رشصت و آزادی تھی کا مکی اور فضل مدا ہر طرح دوفوں بن رکوں نے اکسا رکی
کارکری سے بیشہ اشحیفان بایا۔ اللہ تعاٹی کا شر ہے۔ اس خدمت کے دوران
نیشن کے بورڈ آف ڈاٹریٹر زکو الوم اور دونون جز رگ چیٹین اور وا لس
ینز نکو ىہ خیال آ یا کہ پاؤونڈ_شن کے لے و عطیہ جات وصول ہہوں ان پ4
عومت تکس وصول نہکرے۔ جھائی چندوں بر عکومت ×۸ لوصو لکرکی ے۔
تد ےی تی مات لا سے یک
عرکردہ احبا بکی تحریک کے باوجود عکومت سے بھی "1-5 کی رعاعت ان چتدوں
کر و ہہت
نے کے ےکی مک ۔ اس وج سے ضروری بھاگیاک پان
836
کے چچندوں پر ×0 لکی رعایت کے بارہ مس عکومت سے بات چجی تکرنے سے ٹل
سلسلہ عالی کی منظوریی حاص لکی جائے۔ جب ضرت غلیفۃ الج الال سے اس
بارہ میں اتتصوا بکیاگیا ن3 آپ نے فاؤنڈ یش کو اجازت دی کہ وہ ×9 کی
رایت کے لے کو مص لکرتے۔ اس کو اخجام تک نے کے لے مسا ما
یلرٹری کی ذمہ داری قرار دی گئی۔ محنز مکرنل صاحب اور ھخرت چو ہرری
صاحب ے نروررث ال رز فرح کچ ان نے ای تن
اور راہنمائی سے متعلقہ ادارہ ریوئواورڈ آف پاکتان سے رابطہ گیا۔ ارہ
درخواست دب یگئی اور صتعدد بار اس پو رڈ کے خاص اراکیین سے لے جلنے کے لئے
الام آیاد آنا جانا ہوا۔ ان ونوں زم صاچزارہ عرزا مظئر اع صاحب ڈرل
فائس سیارڑی تے خاکمار ا نکی خحدمت مس بھی حاضرہوکر ضروری مثورہ اور
راجمائی حاص لکر دہا۔ ان دفوں ریو یوبو رڈیس نفصور کے رت وا نے ایک جح
بھی تے (ن کا نام یاد نین آ ربا) جو خائص بھدردانہ روہ رت او زجب تھی ان
سے سے جا یادپڑ] سے مجتزم صاجزادہ صاحب نے بھی ان سے فون پر با تکی
خماکسما رکا تارف کچ یکرایا دہ ما فوجہ سے جماربی اداد کے خواہاں تے۔ بہرعال
وی نواعر کے مطالق انی صروری 8 7×81 ا تام دق تھیں کن
عرصہ لگا۔ انجام کر اس 1810ا ج8 یں کامیالی ہوکی اور حومت کے ای
پورڈ نے ایک 101٤1:8100 جارب یکر ویاکہ ففل عرفاؤ نڈیشن کے مقاصر
کے لئ جو عطیات دیے جایں گے ان بر 7'8 نہیں ہوگا۔
آنری بار اس فیصلہ کا علم پاکر ریویواو رڈ کا خاص گرب انج صاحب کا
افو ص کر کے وائیں ربدہ آیا۔ شام کا دقت تھا۔ اگ دن دفتز کے کام میں
محروف رہا۔ ظبرکے لئ بیت المبار کگیں میرا ان دنوں حخرت ظلیفۃ الس
537
الا کی اجاز ت کا ىہ ربق تھاکہ ظبرکے بعد فو ری نو عی ت کا معاطہ اکوگی خجرم کی
پآ حخرت صاحب حراب کے رروازہ سے باہ رللتے اور ماکساراسی دقت ساتھ گا
داد ار کے وروازہ سے پاہر لگ لکر خرت صاحب سے گل لیا اور جو ضرد ری بات
ہوق یکر تاور حخرت صاحب سے راجنمائی حاص لک رلیتا۔ فضل عمرفاؤ نیشن کے
عطیہ جات کے پارہ میس ریونیوبورڈ کے فصلہ اور 18٤361813000 جار یکر
دی ےکی اطلاع دی۔ حفرت غلیفۃ الس الات نے میہ س نکر خاصس خو شی اور
مسرت کا ظمار فرایا اور سے خخاطب ہ وکراز را وکرم فرایا۔ ”يّ صاحب آپ
کو انام دوں گا" ىہ س نکر حقرت صاح بکی عنایت کا شک ریہ اداکیا اور عرت کیا :
کیا افعام یں گے“ فبایا ”نتماری شاو یکردا دوں گا" مریی بی بیوی میا رک
کیم فوت ہو پی یں او رکاٹی عرصہ ہ وکیا تھا۔ حضرت صاحب سے میں نے عرس
گیا ۔کماں شاد کردا دی کی نے کے نمو 5 نے'' ساجھ بی فرمایا
نی ا کم صیہ مم عضرت اتی عبراللام صاجپ پھئی جو پررسہ
ای می استاد تھے ان کی صاجزادی ہیں جوال یم چیوہ ہوگئی تھیں۔ حضرت قاصی
صاحب حظرت صاحب کے بھی استار تے۔ صا جزادی حنزمہ طیبہ میم صاحب جم
صاتزادہ مرزامبارک ام صاحب حخرت صاحب کے درپے ایک عرصہ سے میں
”بھائی جان آپ نے بی کام ضر رکرنا سے صفی ہکی شادی جن صاحب سےکرا دیں'''
صفیہ اور صاجزادی طیبہ صاحہہ کا ےکی بنا تھا۔ صاجزادیی امتہ الباسط صاحہ اور
صنی. میم آپس می بہنیں بی ہوگی تھیں۔ جب بھی صاجزادی از راہ شذقت می
فراتی شْ صاحب می آ پکی سالی ہوں' عر کر لی لی آپ میرک سینش رما
ہیں“ ہروفعہ ان صاجزادیوں نے سب تے خماص شفقت کا سلوک ہم دفوں سے
ْ7 رکھا۔ ان ا نکی ہزرگ خواقین سے جب ھبری دالدہ 2ک رک ری میری شادری
58
کا س ب کیک زبان ہوکر عفیہ می م کا نام پنتیں عحضرت صا کے ا را دی تل
یش نغخاکسار نے استجاروکیانو خواب دیکھاى زدد رنک کے زنر ہیں جو جھپ بھاروں
طرف سے تل ہکر رہ ہیں۔ لین مج ےکی زور نے ڈسما نیس پریٹان ضرو رکیا۔
اور نمالمار برافعت کر رہ کرت ات نے سے جن رون کے او
000“ تھا۔ عرش کیا۔ اسحمادہ کیا تھا ہہ خواب دیکھا۔ خضرت
صاحب غاموش ہو گن۔ چپ ایک ماہبا بچھ ڈاکد دن غاموش ری اور بے سے
اس بادہکوٹی بات نہ کی۔ اگرچہ حخرت صاحب سے خاخدا نکی ۶ب اور ہرگ
فان اصرار سکھتی رہیں سے کام ضرد رکرناے۔
آ اڈ یداہ بعد یھ سے ححضرت صاحب نے فریا۔ ”شع صاحب اب ا ارہ
کریں“ چنانچہ خاکسمار نے حخرت صاحب کے فرما نکی یل مل دوبارہ ارہ
گی و خواب دیھا”میریی کی فوت شدہ بیو ئی بش خواب میں میں او رکھاکہ اتا
صد ہکرد۔ (ایک غخاص مین رت تلائی) اور فی سے تاد یک رلو اس بر حضرت
صاح بک اطلا رد یکہ اب اس ہا 9 89
صاحب فوری طور پر فان گے تخ صاحب! آج بی حصرکے بعد مکاح کا اعلان
گروں گا۔ تا خلپہ ی سکیاکہوں۔ ہے عخرت صاح بکی فاص شفقت اور فوازش
تھی۔ عر سکیا فو لات ت جلد فلاں بس ححخرت بالی سلسلہ کا ایک خاص ارشادے وہ
بے بت بی چھلا لگا سے وع بت ال کی فرمایا لا دکھاو''
سم ےککیا۔ پڑھا ما ”ٹھیک سے بی یا نکرد ںا" چنا نچ رت صاحب نے اس
عرصہ میں اس عابمز کے لے خاص دعاکی اور خاندان کے بذرگ افراد اور خوا تین
نے اس فیصل ہکی اطلاع پاکر خو شی اور سرت کا خاص اظلمار فرمیا۔ نظقرت صاحب
نے ناج کااعلا نکیا اور خائص جذ یہ سے فرمایا۔ ”مس بے اد یکردا رہااہوں پر
59
ولیہ یں بھی با ر سے شمائل ہو اور جب رخحتانہ یڑ ی سے ےکر آیا ولیہ بھی
ہوگیا قے حضرت سیردہ امتہ الحفیطظ حم صاحبہ نے پغام میا صفغیہ جھے کر مو۔ صفیہ
کم سلےگئیں۔ دریاف کیا ہکیالیاس پہنایا ہے۔ دہ حا میا جو شمادکی کا صفیہ
کم نے پہنا ہوا تھا ریا بے عد ٹوش ہوکیں اور لی پاکر مین ہوتھیں۔ حفرت
سید فواب مبا رکہ میم صاضیہ نے صفیہ میک مکوبلاکر اپنے باس جلایا اور گن لگایا اور
صفیہ میم سے پا رکیاادر وعادی۔ حخرت بای حلسلہ کے ایک رٹ قکی بو کی حضرت
قاضی عبرالسلام جو خور رت پالی حلسلہ کے زمانہ یس پیرا ہو اور جخرت بای
عاملہ نے ان کانام عبدالسلام رکھا اور رت غلیف* امم الات اور اس ماب کے
اعتادا نکی ہنی اور برا نکی ترک بر ج بک دہ نیردلی مس سک رٹریی دعوت الی اللہ
ےکلہ می ایا جاے مرکز می در خواس تک یی اد ریا خرصہ جماعت تیولی کے
صدررسے اور خاکسمار کے قیام میں اص شغقت کا ساوک او راس عابمز کے کاموں
یس خاص یددگار تھے صفیہ میم ا نکی صاجزادی تھی اور نحضرت صاح بکو صفیہ
یلم کے مین جوالی می بیدہ ہو جا ےکی وجہ سے اص کر مندی دج اد راس مو
کی علاش مم رہ ےکہ ا کی ھرسے شماد یکا تظام ہو ج ئے۔ ہیل ند ارت
یت ارت مر ور رق ا ات
رض ہو ے ۔ ایک فی رمعموی فداکی اھ بی کی اور امام تی گال اود اھ
تعالی نے بے اعی بکی حطرت خفیۃ انج الما کی خحاضص عنایت اور دغاؤ ں کی
برکات سے نیجھے از تقالی نے رت صاحب کے لو سیا نے ہے ”العام فی بآیا۔
اللہ تالی ان تام بزرگوں اور بزرگ خوا تی نکو جنموں کو وہہ بر احسان تج
مر سا را سو ا ا
>0
83-9
ا اع موی وس
541
قھارت ان کے جماعت نان ہکی تھی۔ اتی دفوں جزہائی لس آغاخا نک یگوئڈژن جو بی
کی تقرییات کا انعقاد ہو دہ تھا۔ ترازو بیس ایک طرف بہاکی ٹس اور دو سری طرف
عون رکھا ہوا دیھا اور ارول اساعیلوں اور دو سرے لوگول نے ہہ نظارہ مثاہرہ
ا می اناج نے ہمارتے ایک جرگ زوت حضرت شی خلا ن لنق وت
صاحب جو اریت کے فدائی اور بے عد مخلیس اور دعوت الی الد کے فرض کی
نس بات کا ذکر مقصود ہے اگ رہ لگ یگ نصف صد یکی بات ےگرابمیت انام دی کے لے دن رات اپنے آ پکو وف رت ۔ ایک جنون تھا فکوکی موتمع
اور افاریت کے اظ سے آ جح بھی اسے ضروری جھتاہوں۔ ا با تک یادان ٣ وہ جانے میں وی تھے جس مس دعوت الی اللہ اور پغام جن اپنے انداز یش
چند دنوں میس آکی اور ا سکی تقریب اس طر پیدا ہو یکہ خماکسار کے ایک ع7 ان می ںکو بیکرت ہوں ۔گولڈن جو بی کا مو تع اشییں سنبری موقع نظ رآیا۔ رہ
جو پاکتان سے جخماعت احیہ برطانیہ کے سالانہ علہہ میس شمولیت کے لئے آ ے من تھے ۔ گثراتی زبان ا نکی مادری زبان تی۔ اساعیلیو کیل اپنے انداز میں
540
یر ات راز ات
تے۔ انہوں ن ےکتاب بئی کے شحوق میں مند نک کیک شاپ سے برہائی نس آغاخان اس موچ بے انموں نے گجراتی زیان میس ایک پفلٹ شائ عکیا۔ ا ی تک اتیازی
کی لا تکف پر ایک اگگری: مصن فکی ککھی ہوکی شی مکناب خ بد بی۔ اس ک ےکوا کک اوں کے علادہ اساعیلیوں کے عق مد بر تتقید پچ یکی اد راس انشاع میس اسے تیم
سے نے کی بیٹھھ تایا۔ بر کی اس صرسلطان شاہ ج ہآغاخماں کے 7وک مت کرنے کا ا تما مکیا۔ ہرپاگی ٹس اور ان کے عقیرت مندوں کے پا بھی ىہ پنفلٹ
بات می زین میس پورے طور پر آ موجود ہوگی۔ خاکسار ان دنوں نیردلی شمرش ۱ یا یفن نے اسے محسو سکیاوو کی طراق سے ححضرت خلیزہ ا انثا نک
تیم تھا۔ نیردل کنیا کا داراللافہ اور شرتی افریقہ کا مور و مروف شر ہے۔ ا ںکی اطلا کی او رای ناپن یی ڈیلدیک انداز یس اہ رکی۔ رت خیفۃ امج
خواصصورتں آصاف تتھرا۔ اع دنوں آب و ہوا کے اظط سے خاص شش کا شم ربچ الال یکو جب یہ اطلاع لی نو آپ نے فوری طور پر ایکشن لیا۔ ماکسار ان وثوں
جا تھااو رہہ مشور تھا۔ ان دنوں جب اتگریزو ںکی حکومت تھی- مشرقی ا فرییقہ مم مور مربی وامیرجماعت مقمم تھا۔ کہ فرایاد۔
8 عط؛ صز هءصمط ××۶0 ٥ءھام د٥ط عط؛ ةز زط صزة٦* مت میرے انام می ام بی کی مخالفت می سکوکی اشتما ریا
ہندوستان سے اگری: اع ہام جب ریٹائرڈ ہوتے نے بالوم یہماں کر زمینوں کے پفلٹ تی مکیا جاۓے قز آپ لوگ اسے پن کرد گے۔ ابایوں
بڑے بڑسے رجہ 11181:1895 میس ےکر آباد ہوتے۔ اساعلی کیو نٹ ی کی بہت ہوا۔ ج بکمہ الیک اہم لی رک یکونڈن جب یکی تقریب تی اور ان
بڑئی تخعراداس شمری اور اروگرو کے شیروں اور حراش اور پوگنڈامیش آیا تی کے عقیرت مند مج تے ۔ ایی 7کت سے اخلاف پراوے اور
اور تجارکی کاروبار جس خاش حصہ دار۔ یردلی ش رک یگورتحنٹ روڈ بر ھت بڑئی موجب فساد بھی جتی ے۔ آپ لوگو ںکو اعقیاط سے کا مکرنا اج
ےت
چو چو ہیں سو ہے اع ےچس مسسچجچ سج سچچج ہت
2 شر ور ون شس وی وک سی
اور وی
7 22 ۔ حضرت غلیفت* الج کا سان ات
تسی فاص وقت یا تقریب کے لے بی رایت کاباعت ٹیس بلہ ہر موق و گل اور
٣ کک۹۹۷۷۶9۹9) +۶ "ٰ۰ 0"
دنا جا ج۔ کی اللد تال ی کا فرمان ےک اگر سز ھھ راس کی طرف بھی جلاناہو ۃ
عوت و دانائی سے بلس جن ب بھی سے مل بے مو ئن با تکی جا ےکی بے اھ ہی ن
ہوکی ملکہ نابیند یدگ کاباعث “اختلاف اور جھکڑے کا باعت بھی ہوگی۔
لیس کے تعلق میں ایک اور بات بھی اب بادآ ری ہے جس کامفادیہ ے
کہ جو بات بروقت اور بر کل نہ کی جا اس کابھی فنقصان ہو ہے ۔کئی سال بعد
مال یکی ڈائمن جو ہی ہوگی۔ دارالسلام شمرتو تراضیہ کادارافلافہ سے بڑے اجتمام
کے ساتھ جزار پا اما عیلوں کی موجو دی میس جو مشرقی افریقہ کے علاقوں کے علاوہ
نز امران اور دو سرے مگوں سے آۓ اور عکومت کے اع ا ضرا ن بھی شال
ہو کے تر ان مت کی یکو از کے ایت یز یح مھا کان مار ی
کم جم والا یم انسان اور دو مرے یڈہ می میروں کے شھیلے۔ اکسا ر بھی اس
تقریب میں بد عو تھا۔ ان دنوں ماکسمار حخاضیہ کے می عصوبہ کے عرکزبی شب رو را
میس متیم تھا۔ اس تقریب میں شمولیت سے سارا نظارہ مخابر ہکیا۔ اس عیلیوں کی
اپن امام سے عقیرت کانظارہ دنا جھرنے دیکھا۔ خماکسار نے بنرپاکی ف سکوٹہو را سے
ڈائمن جو لی منانے پر میا رکباد کا تر دیا اور لے کی بھی خوا ئن لکی۔ اخہوں نے
وت دیا۔ جوٹ یکی تقربیات کے بعد ان سے ایک دن ملاتقات ہوگی۔ ماکسمار کے
جن میں ا فریقہ کے مسلمانو ںکی ری کے لئے ایک اص تجوی: ھی ان سے اس
543
ازم زریاد
”و رہاقی فی اہ پک مسللمافو نکی سای تق او ران کے ما ؤکا
خیال ہے۔ آپ نے؛ فریقن مسلم ویغیٹرسو سا کی قات مکی ہے او رکھل
دی سےا نکی اما دک تی کیا ہے اور ین دلایا ےکپ نڑ 0ڑ
ننس قد ر آپ لوگ ر تمہ عکریں گے ای رر آپ ا نکو انی طرف
سے ریں کے جو مسلمانوں کے مفاد میں ایک اص کیم کے مطابق
8000۶+
ج7ا تک فا ارت ہس الہ
7 الا نع سرت کے یئات وت
دا لے ہیں ۔ مسلمان نتابی فا طط سے مت لیتی مم ٣٣٣77
۳ٰ0
سے وس ملمان طااب ل مکینیا سے ۳ دس ملمان طااب عم ب گن ١
سے جموں نے بیماں کے مین ری سول سے معلیم سے فراغمت
عاص لک ہو انی ایک نماض نظام سے فو ری طور بر غیر حماتک میں
اعلیٰ تحلیعم کے لے کاو میں ۔ چند سمالوں مین اع تحلیع اص یکر کے
جب ان مگگوں میں وابیں ہیں گے 3 زادی کے بعد نے انتا بات
ہوں گے۔ ان عمانک کے باشند و ںکو لا زی طور یر یڑ ھھ کس بج
دارلیزردںکی ضرورت ہوگی- نر بی اور 132ا رات ای ان
علاقوں میس خاص اتا ز نہیں ۔ ١س طرح ان مو ںکی عومت میں
مسلمانوں کاخاص ول ہوگااودردہ ۶و ام کے علاوہ ملمانوں کی تر
کے ا رس نت
544
سس س-ٔ - دصسگکےگٌکٌءٹکٌکےںگکگُگُِککلگُٗص<-ت-سصحَمٌححھصعَ- ژزژ ] سمّٗٗگ کے
55
رت وک
اتی زس نے اکسا رکی اس تج :کو خاص ق ر سے دیکھااد رلک اکٹ سلطان ےر میں ابص اتا مفیداد رکا ٤
بخشی صاحب جو وا ںکی مصسلم ان کے صدر تے اور عنم لک عم ری صاحب رے تچ وھ اور ہے ہم سے
کوک رآف مان کے ماموں۔ اور جن ونوں قرت نی رصاحب لنن کے اہام تے ة۱ کر رر ے میٹ
ان ونوں ڈکنڑی تلیم کے لے ہہ میم تھے۔ حضرت نی رصاحب سے ملاقات بھی وت بے
ہوتی۔ اریت سے بانوس اور تارف تے۔ ان سے بر گی ٹس نے خاکسار کے ا
ار میس معلوبات حاصص لکییں کون میں اورپ موی جائی او رکمایست ددر انی
سے انس نوجزاان نے کا ےکر ےتوہ جائی سے او رمعم ورای کی در
وین 1 را ہو ںکہ وو اس جچوہ کو گی امہ پمنائھیں اور خائص فوچہ دیں۔ بعد
یں محژم رک منک سلطان نشی صاحب نے یہ سای بات بائی اور رای لس سے
بب یکیاکہ جس خوجوان نے آپ سے اس ججویکاذک رکا ہے بی جضاعت اتحریۃ کے
ان خلاتوں میں می ؤں۔-
افو سےککھنا بج ےک مسلم ویر سوسا کی نے اس طرف لج ن دی۔-
بر اتھری سو لکھولے میں مصروف رے۔ ہے کرک لیت مظامات بر ماج دج ہوا
یں لیکن جن مسلمانو ںکوسیاسی علی او را قفادی تزتیکی شا ہراوہ ہگامز نکرن تھا
راس کے لئ جھ طیق جاک یااسے ایر نایا انام کرو مو ںکی
علومت زیادہ ت عیمائی ماکھوں'وزروں کے سرد ہوگی۔ لان ہماں بھ یکو قائل
تعلیم ازۃ مسلمان تھا فضل یر١ دہی انتقاب می کامیاب ہوا جی ےہکرم تن اھری
عبیری صاحب۔ ج نکی قابلیت اور صلاحی تکی وجہ سے تڑانیہ کے صد ر عوصت
اتی انا 1٤0 اج[ گنت اور ہرائم تقریب اور ہرائم ادارہ ]کہ
0 میم کک نمائندگی بھی ان کے یرد ہوگی۔ بمت وفعہ وہاں کے مسلمانوں
٥ ا پوت اس تجوزز بر اکر عم لکیا جات نان معگوں مس
کے نپ کی علاشن سے
انل بفت اخیار لحضل کاجھ پیٹ بذ رہ ہوائی ڈ اک ملا۔ اس میں مورنے م
کی فا رو سے پڑھتے پا حتے سب دستوز شوق اور خاکل
گن سے جب مسق۵ پ بنا عنوان دیکھا فورالین اراس کے او ای کو
مو پ7 00۴+
' نے فدرالدین ”کے مارک نام سے تے خحصوصی طور پر حعترت ابام
سب و رڈ توی: فا ہے شا عکرنا شروحع
اے۔ ےپ ہن رہ جب کالگم مب رہ کے تصف میس یمیا یہ الفاظ رب ھے_
عقرت تل گر ایک نیت محروف اعلان بک میرے خیال ىہ اعلان الیک
اچم اعان تھا اور خوجواخوں اور ہم سے الا تو ں کی زیت کے لے ایک خوت
راو اد تقو ری تھا بج کا عنوان خو ری فقل نی ”یھ آ پکوحطائش
ہے" گے ریا اس ح ہکوپڑ ھکر خاکسا کو لیک داقہیاد آگیا۔ اگرچہ ے وا
ی 0 نر ےد
قب ےطان مھ آ پک علائی ہے' ال یں چو کط ی شا وھ
تم رت ےر
رش گی یں یں با سے او وپ بادہے۔ ایک شب بھی تی
ا آپ اپ کھرک مماسض ےکا ڑگ پر بھاڑد سے کت ہیں۔"' بدی ڑج
سے پیواں و سارااعطان پڑھااد رای شقمیں بی اس ش مکی تھیں۔ ملق علق ھیں
دب اک کی تو کر کے می ریخا تک ار کور
547
تی مل زندکی اور بلا لف ز گی کے اطوا رکو ابنایا جا او رک کا مکو اپنے
ےس ےکرنے سے شراا خر جاۓے او رنہ تقی رکچھاجاے۔
زاکسمار نے حطرت فضل عھرکے اس اعما نکو یڑک ایک شی نس کا ایر ذک کیا
ے اس برع لکرنے کااراد ہکیاں خزاکسار کا قیام اع دنوں اس مکان میس تھا جھ
گوگونی سٹریٹ میں تھا۔ ہو رائمیس ماکسار نے اکٹ دو مکان 1101 1٤٥ زٹن
بر یرکرداۓ تے۔ یہ دونوں مکان شمریش بت ائچھے مکان جھے جاتے تے۔ ایک
یس نماکسا رکی رپائیش شی اور دو سرے مکان یں جو ساتھ بی نھااس میں مسٹرحنسن
لی ااہاسحا رکی رپائکیشی شی جو مو راکی اساحعلیہ جماعت کے صدر جے۔ اکسا رکاان
سے روسان تعلق بھی تھا۔ بساہ ہونے کی وجہ سے مزید خوشگوار تعلقات کی
تے۔ حضرت فقل عرکے اعلان ” یجھے آآ پکی ططاش ہے کی ش گن رکے مسا نے
جھاڑد دہ وا یگمدگمدانے گی او رآ خر 1س بر عم لکرتے کا نت فیصل ہک رلیا۔ چنانسچہ
انار روزانہ چند و نگھرسے لے مگ کی نماز کے لے خی نمی رشدہہبیت ال کرجا جو
تن ف رانک کے فاصلہ بر تھی۔ والیں اکر صب وستورعلادوت قرآن می دک اود
اس کے بعد چھاڑو ل ےک رگھرسے باہ راکرس کو چھاڑو سے صا فکرناشرد کر
ونا۔ و را کا موسحم ضتاگرم ہے ہسایہ سط رصن علی اپنے کام پر چلا جا ادر النا
کی پیم کادستو تھاکہ دو سڑک پکھلے دانے دروازہ کے اہر جھڑے "پ ہک رس
کی ہوا خوری کے لے بی جاتیں۔ ان کے با رآنے سے پلہ کسر ارو بی
کا فریضہ اد اکرنا رو کر دا ۔کئی ون جب اس محتزمہ خائون نے ہہ نظارہ دیکھال
ریٹان بھی ہوسھیں۔ آ خر ایک دن اپنے اون کو ىہ سارانظارہبیا نکر ک ےک ماک
”نج صاحب پاگل ہو گے ہیں دباغ و رکیا ہے ' مسٹرن علی نے انی یک مکی بات
مس نک رکید ضییں نہیں الہ بھلے ہیں۔ ہمار یکئی دفعہ ان سے ماقات ہو کی ہے اور
548
جس ماس میں شائل ہوتے ہیں۔ ہیں لد تی ہوئی ہے۔ حتزمہ میم صاح
نے اپنے اون ھکو ساراداقحہ نا یاکہ جن صاحب روزانہ مع اک پر آجاتے ہیں
اور بچھاڈد دے ہیں۔ مسٹرتسن کی بھی مجران اور یر ان ہوے۔
آ خ ایک دن جھ سے پو پچھ می لیا۔ میرا بڑا ا تزا مکرتے تے۔ مسٹرسن علی
کین گے جن صاحب مم ایوں بیا نکرتی ہے ۔کیاچ ہے آپ ماک پر بچھاڑد دتے
ہیں۔ میں نے ائمیس جا اککردہ بالئل کتی ہیں۔ ان کا بیان سو فصد درمت ے
لوم کات ایر ہت یڑ سج
ایک جماعت کے لیر ہیں۔ بزرگ ہیں۔ سادا شرادر ملک اور حکومت کے ا
اض رآپ کا انطزا م کرت ہیں بے آپ نت ےکی منظلہ مرو کر رکھا ہے“ ان کی
مارک بات جو بہت جرخوابی اور گر مندی سے اخموں تے نے ےکی “م نک رکیا۔
کر ا ا کے تا اخبار الضل !ٹھاکر لایا اور
رت فففل عم رکااعلان ”یھ آ پکی علاشی ہے" پڑ ھکر سنایا۔ نس میں یہ شن
بھی تھی جس پر خاکسمار عم لکر دہ تھاف سمارا اعلان مس نکر ران بھی ہوا ےگ کے
گا۔ چا صاحب آپ کے انام جزاردں می دور یھ ہیں۔ د وکیا آ پکو دسر سے
ہیں۔ یہ اکر آپ کام ہکرت فوکیادہ آپ سے ناراض ہو جاتے۔ یاا نکو نے عم
ہوم کہ آپ شی ںکر رہے۔ آپ نے بڑھ لیا تھا۔ بچھراس کے مطابق جھاڑو رے
یکیا ضردرت تھی۔ خاکسار نے اس ےک ماک پچھرا ما مکی فرمانبرداری کے خجوت
مت فربانبرداری کان مزا تب ىی ہ ےکہ امام دک بھی نہ رہاہو۔ اسے عم بھی نہ ہو
اور پچ راس کے رانما اصولو ںکو اپنایا جاے۔ گُ ل کیا جاۓ اور فربائبرداری کی
جا کر کی یی تا کے یت کی جات یی مد رت ور ےت
امام سے دور رچے ہو ئے ا نکی عدم مو جو دگی میں اما مکی اطاحح تکرنے بی سے
549
ےڑگھج جس ہہ ہے سے
ومک کامیابی ہوتی ے۔ مسٹرضن علی میری اس سار ینگ ھکوس نکرا رکیی تک
کرت اس وقیتماکساز یہ طاری تھی بے اغقتیا رہ وک رن گے ۔ ای اعت جو
ای ا مکی اڑی خلصاد فماتبرداری کا وم بھرتی سے.بھی ناکام خمیں ہو تی اور نہ
کَّ این کا بے با ڑ ضا سے''۔ آ پ کا امام کییا مہارک وجود ے اد را کی
اح کسی مارک جماعت سے جو اس روش پر قائم ہے۔ جی نکی انقریہ د رھ جس
ہے جسرتتا ر۔ بڑا طف اٹھایا اور اعلان نمو رہ پالاگی
ری شتوں کا ”آ پکی حلاش ہے" یں نک ہیں بر بھ یکئی دہ عم لکرنے
امہ قع ذا۔ لیکن اس وو الفضل کامخمون نو الین *' بر متقل بڑ ھکر فو ری
طور یر ول چا اور چنر سطارس تلم برداشنہ لکھی ہیں۔ بالا خر یہ عابجز عمرکے ا سے حصہ
ا وی طرف دن بدن گج را ہے۔ عزیزوں سے میوں سے
رات سے وعاکریں ایام ب٘ رہ اور ہیشہ بی حبت فداحیت او راطاعت کاجو پر
آپ امام وت ے فیپ رے۔
50
سےےحجےمسس ےے ےھ ے._.ے__
بات سا مل اور مو ٹکارکی
نا ما یل اور موٹر کے تلق می چھھ کھ کول چا۔ بج یکمال بھی
ہے۔ بھرے لے دیپ ی نیس ائھان افرد ز ھی ہے ۔ الب خیال ہے تا رم
بی لف انددز بوں گے۔ مال پ بت سار کی اود ھت عم ہکی۔ ایک وہ
52 860 ص59( چو کنیا 02 مز جٹل ہے ایک گا وں مین جماں
اعت کے افراد تھے ا نکومطے اس جلگل س ےگزر ہدا۔ شیروںپچیتوں اور گی
چانوروں کا مور معن ہے۔ نام بی ای کا 067 لت (آرم فور یڑگیا۔
کا نہ شی میٹرک کے لے اس پا مکی ای ککتاب بھی اگریزی می تھی د6
دق تھا۔ اور ہکا عالم۔ سای کاجھ افریقن مم تھا سا کل دد ایک بار چ رہ کی
اور ای رع اس خطاک گل میس دو الیک دفعہ ہرمت کے لے رکناپڑا۔ یر
یا ال رت مان تن ا حر تی
ریت سے گاؤں میس یچ ۔ ایک دہ زمانہ بھااد ایک دہ زمانہ بھی آیاکہ ریوہ مس
مر افریقہ سے آک ند دہ سولہ سال یہ ںگزارے اور سال نے خوب ات
دیا۔کھرسے جب بھی دفزمی آنا جانا ہو ۳ سا گل خوب کام آ۔ بڑالیا اق ںا
در خفب مات دیا۔ حخرت خلیفۃ الم الا کی دفات پر حضرت تہ الم
5
فرایا۔ مز مکرل عطاء اللہ صاح بکو یہ تجوی: او ہب یک ححقرت خی لیم
کی قارت می جو غیرسحرو لی کام ہوئے ہیں بقاعت کے اسم اور اشاعت
دن عداوندکی کے لے ا نکی اد ایک فاؤنڑشی ٦ت
51
تک ےم سشسسش۔ بصحچ ےھ
یت ای خیال کا جنزم عفرت چبرزری عھز ظفرازڈ خان ختاحب سے دک رکیا نہ
مفیدکامون اد اداروں کے قیام کے لج ہروقت اف جار رسے تے
بت مرا اد دوفوں حنزم ہرگوں نے حضرت خلیز* الج انال کی غرمت مض
بت تچوی: ڑکیا عفرت صاحب نے بصد اشقیاق اس مخلصانہ اور مفید جو :کو
ظور فرمایا اور فا نڈیشی کے غیام کا اعلان فربایا اور جٹیں لاکھ رویے کے ڈی ڑکا
ان فرایا۔ تحخرت چو ہہ ری صاحب عییک میں رج تے او رکرنل صاحب لاہور
ہیں۔ بابی مشورہ سے اور جحخرت صا جزادہ مرزا طاہراضر صاحب کے مخورہ ے
اکسا رکا نام جلور سک رٹرکی فا نیشن عفرت خلیزۃ لج الال تکی مت میں جو
گیا۔ ححخرت صاحب نے فو ری دی اوریہ عاب کی سال تک فضل عرفاؤیڈمیشن کا
مرڑی رہا۔ بنضل خدا میں لاکھ روہ ےکی ہجاۓ پٹس لاکھ ردپے نع ہوتے۔
کئی متقاصد کے لے اس رق کو بڑی سوج اور عگی سے مز مکرنل صاح بک
گرانی مں 15۷٥٤ کیاگیا۔ ا ےآ جاے اور متعلئلہ کاموں
کے لے فاونڈیشن نے اکسا رکو مال میں جتنا حرصہ فاؤ نیشن میں کا مکیا
عائیل نے دیاضت دااری اور وفازاریی سے ساتتھھ دبا کئی سال کک۔ یماں سے
طخرت صاحب نے خاکسا رکو عدیقۃالنٹرن کے ادارہمیش تبدریل ڈریا۔ خاکمار
اي تيدنی زطئرت صاخب جن ازراء شقن ت*لم رۓرریاق ت (٘ ۴ک کا
فا یش ن کا سی رٹری مقر کیا جاے۔ نز مکرخل صاحب نے بھی جھ سے اس یارہ
یش جا تگی۔ ہرد د کی خدمت میں خاکسار نے زم بریلیڑ یز مھ اقال یم
صاحب کا نام بی یکیاادد جا اک دہ یئ ہوکر ربدہ آکریہاں رتتنے گے ہیں اور ہر
اط سے فائؤ نیشن کے کامول میس مفد ثابت ہہوں گے ۔ حخرت صاحب تے ا ن کا
نر فی ۲ي صاحب اور خرت وبرری صاحب خظرتے صاحب کی
72
5852
منظو 2 7
مو سس َو نے
دم اھ سی جج ہش رو
٤ سر دکیا۔ بھ یی یتر صاحب کے پا ایک سا ئل بھی تھا کے ےج
. چ 4م وہ 1
ہمہ سس ہے ً
سے آماغا د ہجار ان کاشکریہ اد اکر رہ اور خر کہ سائگل بھی وا ذ
ری کے ۲ میں گي دا ا
نوں نے مائول بھی ارچ میس وصو لک رلیا۔ جس دن ے وا ہوا
وھاجئیہھ مھ بت
ا : ۔ رورے وروازم
مو سور و ےو
1 ا نیا ھا۔ ۰ لاہور سر ےہ ا۳
تک خ ہو ر سے اٹھی آ رہا ہوں۔ چ ففل ار
حا نے آ پک لے ما وا ہے۔ سای سوا اک
یسیو پشم ات
2 ۳ یک پت و کت
س ےد رکا رگن تھا ا کی تع کی اور شردری رپا کا تھا
٠ مل پاکر اللہ تال کے حضمور شک انے کے سرے کے ات ۱
۱ ٍِ ِ ”صمح یرت ہو
ح و تب یر یہ
.ا دا ںگر آیا موں او کل پل ہی دز جاؤں گا ۔مگر میرے مریان ا
٠ و ور ہت
۔ ذرییہ جشھے سال مچوایا۔ ائی اتظام اس کے رن
چا 4م ےر 32 صم 5 : : 1
عفادموں کے لے دہ تد ہرآسالی اور برا کم غفرب؟ ہے۔ اس دن لہ
مات اللہ تال کے لف داحسان پر خوپ خوپ ملف انروز ہت ر ی .ا2
0 رباب تی سائیل
ڈاار 7 ر5 مر
نے چا دی ادز ماک دای ںکیااسی دن شام کے وقت اسنا رکی ققام کا ۱
553
چچو وچ سوچ سو و ہورع مت
آع کیہ میں نوم م ۱۹۸۳ء میں بطور ام رجماعت عری انچارج مقر ہوم آیا۔ الله
تال کی عزیائی سے سات سال تک بای اتظام کے مات مش نکی دحیب
کک ا و ا ا ہو رکا
شییں لاح ا لان س کے بوجو و کی یسیج کی لیت بای کم او
دوروں میں موس نہ ہوئی۔ می 1891ء می اکسا رک ریائزمٹ عزت دا2ام
سح ایا مکی یر پا رما
یا ےک یف کا ر سےگزا اشک ۔ ز نکی دوب ہو جات سے لہ عضیقت یہ جےکہ
ری ایک ای ککاد سےگزارابی میں ہو تمہ ددندد اور جن ۲ن کاردا سے
ماوند یا پاپ کام بر جا سے انقافاصلہ جےکہ
بیاں مخلف سمولوں اور کاو ادہ
ویورسٹیوں می ڑج زی ہی ا نکو انگ الگ مقابات اورفاسلوں بی وت مرا
سر نچنا ہوا ہے۔ یو کک کے نظام چلانےگرومری ادر اش کی خر بے کے خے
ویچھو۔ ج سک کو دیکھو۔ ہرک رکے ساتنے دو دو جن مین
کاری یکھڑیی ہیں۔ 2ور ازاون کے ایک ےگزرو 3 کارو ںکی پارکنگ
گرا وی سد رخ سے اب دن زم صاشجزادو مرز مرا انب کے
سے ذیانے گے امریکہ میں ایک تھی کاریں کو پر روا دداں ہیں سنا
کا۶ رہن سن کاظام اس مک کاایا کہ یش موشکا رای ۔ سوا
ریا تک بھی سیون بن کارمیں دو ڑا بر ہیں۔
ماش ارہد ال عکان کا نظام درب گی رد رات اتا
روڑ عرہکاکام ہرنغاندا ن کا چهاے۔
کار سے بغر جانا مشکل ے۔ بجی اور
جانا ہو تا ے۔ جمال
نتاعوں' جلسوں میں شمولت اور بیت الزکرنیش ججعہ بہ جالے کے گے لو پول
54
اک ا اس سد
”وی چو جا کسی سے
و ور رش ضا ا رت
7ع جمور رہ نے ضر
می موشنوں او ز ارول اودرپوں کے تی سال چم کون سا مان ذرییر ے
ےت حم
کائر مرو ا
ا ۔ اکا شرورت کایک رس تی از ور و ل لی ۶م
ہے بی ہدوت با ان انی پازت ے خر
کیا و
607ر و رک
01رف می رو رر
تر ا رت
ا لن تھے پیٹانی تھی کہ انکر ڑود من کارو کی قرورت ہے اس کے
روہ یل عی فی یے اور نے خا اتال کی کار دنے گے ہیں۔ لین
7اض رر گیا دہ کار کے اخ ڈو بر جاپی ن کے
می رش مت
ا اک تر
کے مب سر
ہجو مت ھی کسی ےج
7۳ء عرظاسمتو ےد دی حر
555
ھکار لے دمیں ما رم دے ریں۔ ا نکی طرف سے انموں نے چے جن جار
رج ووتے 2 زرنچہ گگوا دئے۔ خاکسار نے رئم چژدل اور کر کی
: کا سے اک و ا کے ایا
٤ ٤ک کے انا جات پورے کے جائیں۔ ای لک میں ریا
1ج تحالی سے اتتصواب کے بعد رۓ کا ٹیل ہکیاادر میرے 2
: جا ہے تج
0 5 فرمائی۔ جب سان لکی ضردرت شی و ایند تعالی نے عنای تر وین
حر تہ کو کے
دہ یس پڑا رہوں تو شک ربھی را میس ہو۔ - ان کی ای ہے :
مادادیے پک اردی ہے۔ بی تھی ھشکمای ال اورکاری۔
1
1
ماش حاظ سے خد مات
باصق پاظ سے بھی اس عرصہ می سکئی مکی خدما تکی توف تی رہی او رٹل
ری ہے۔ ۱۹۹ کی میلس خو ری نے مفقہ طور پر اکسا رکو جیشنل سی رٹری مالک ڈیڈ
کے ععزید :کیل مج کیا ۔ زم قرت امی رضاح نکی سفارش بر ارت خی الج
الرائع نے نماکسا رک لئ ہہ عرہ منظور فرمایا۔ اس حثیت سے ناکسار تے سارے
ملک کا دور ہکیا۔ ملف او قات می الیسٹ سے وینٹ جانے کا انقاقی ہوا ۔کئی لاک
ڈالر مساج کی تقی رکیل تج رن ےکی توف می۔ سور بیت ال رن وا شگٹن جو چار
ین ڈالر سے کی لکو ہنی اس کے افاں کے موقع پر حضورنے اپنے نماک پام
یس خاکسا رکی دوج دکاخاص دماکے ساتھ ذکر فربایا ہے ۔ بے میں ان صفیات میں
در کر چا ہوں۔ اس شدمت کا ساسلہ جع تک جار ی ے۔ مساجد اور ماکز
مرک یس تی رہ رہے ہیں۔ ہرسال ایک خاص ٹارٹ مقر کیا جا ہے۔ لحض
خاص ماج رکیل خاصص تریک کے سلسلہ میں فنڑ زگ عکرن ےکی سعاوت مت رہتی
ہے ۔گمذشنہ سال شکگ کی مسحد جو زم تیرب نجس کاسنک جیاد تضور ابیرہ ابڈر نے
رکھا۔ اس کے لے خاکسار نے ولیس ٹہکوسٹ کادور ہکیا۔ پاریچ لاکھ ڈا ار کے وعرے
ہوے اور وصو کی خاصی رٹم وصول ہوگی۔ ا کل ورجینیاکی مصچبدج سکی زشن
خربیدی جاچی ہے اور مقائ یکونسل نے مس دکی تقیبرکی اجازت بھی دے دی ہے۔
اس کے لئے چندہ اکٹھاکرنے کی جدوجد میں محروف ہوں۔ فضل شرا رتم
موصول ہو ری ے۔
ان اص خدبات کے علادہ عحخرت ام رصاحب ملف کام اس عاجز کے رد
557
گے رج یں بت لکنیو ں کی صدارت خاکا کُوتوت بمھاوؤں
یکاہ ہہ سے رھ کہ اس اھ سر
جوابات دریافت کے جاتے ہیں۔ ان کے جوابات سے )میں ستفی کیا جا
٤ سے ملق یی یس ناس یکر ےکی می تونق مم رق ے۔
بھائتی اجلاسوں میں او رض حلسوں میں صدارت کے فرائئل مت مر
صاح بکی برایت پر انام دا ر ول 07ء ات
ات نے یی اور لح یل اض ل کرت یک رتس سی تار
اج صاحب مغ واشکش نکئی بار مت سنائی د نے ہیں-
کی طازمت سے ررییائر ہو ہیں حاسلہ کی غحدمات سے لو ریٹائر نہیں ہوتۓ۔"
آ کل محتزم امیرصاحب نے قضاء بو رڈ کا چیٹرشین مقر فرمایا ے۔ فضاء تک من
مرا تکیکبھی اس عرصہ میں حاع تکی ے۔
ای ہعادت پور بازو ہہت
کا تک شید ات ہا
اس عرص اور ریپائزمنٹ کے بعد کے دو رکیل میرے محبوب آ ما رت غلیفۃ
الرایع ابد ال تالی نے اکسا کو دعاء سے فو اناج سکی برکت سے اس
از کو ملف خدما تک یت مل ری ہے۔ حضمور نے فربایا:۔
”اللہ نقالیٰ آ پکی صحت و ریش برکت دے اور ژندگی کنا
دو ربھی پل کی طرح میارک فرمائے۔ فد اتقالی کے فضل ہویشہ شائل
عال ریں۔''
”ساب صرراگن
رط 1625.ء)
58
چس سے سا ہت سے ےا ہہس ےچ کے چُچ سے
رتضھور نے اس عاج کو اس دعا سے بھی تو زا
”خی رلک من الاولی*
(۲.7545ک
مزید اس دو کی حور نے بحاص دم سے محظ پا 87
ال تحالی آپ کی لکیہ زم کی بھی اسان اور 2
آپ تدم آخ واتف زنرگی مار ہوں۔ اللھ کی رضااور پار
ینہ آپ کے شال رہے۔ اللہ آ پک فدما تکی بھتین جزاء عطا
فرمانے۔ ال تال ی آپ س بکوا تی خفظ دا مان رکے او روتوں
تما لکی اختنائی سعادلں ے توازے_ *٭
(لند اع ے ۲ رچ۱۹۹۱ی)
59
وکالت تی رکا حصرہ
ایک تخصیت ایک تارف
زم مولا نا تما رک١م صاحب
اے لوگ جنننوں تے انی ذزندگ کسی اعلی و ارفخ مقصد کے حمو لکی فاظر
ولف فکردی ہو ا نکی زندگی اس متصد کے حول کے لل ےکی جانے وال یکو ششوں *
ان کے ایا ان کے اغخلاص و فدراحیت اور ان کے مہہ قرانی کے تعل قکی وجہ
سے ہہتوں کے لے نمونہ اور اکٹ کے لے قائل رشیک شھبرتی ہ ےکی کیہ انوں نے
اق نف ام ھ وانائیاں اپنے نام تر و سال اور تام تر استعراریں و
ایی اشن حول کے تعیو کے کے ضرف ری وی یں کے اوک 2
رقرد ہوتے ہی ہیں ہنس جماعت یا معاشرہ سے دایستۃ ہوتے ہیں اسے بھی شا وکام
گر جات ہیں۔
بسااعت اتب الیک للہی ججھاعت بے اس ناٹٹ دا تعالی تے اس بماعت میں
ای لص خادم یراگ ہیں ج نکو دا کے فضل سے خی رمعمولی خدما تکی ل فی
ا رپ ر ھی زن در یکزارنے کے مواقی میس رآ ہیں۔ اس تن میں ایک نہیں
چیوں نیس بللہ کجگکڑوں مشالیس دی جا تق ہیں ان مس سے ایک مم مول ناش
مبارگ اھر صاحب ژں-
مل افریقہ میس جس طرح سب سے پل حضرت مولوبی ععبد ال تیم نی رصاحب
از تحخرت مولوکی نذ ات علی صاحب مم ی سلسلہ کی حیثیت میں تتریف نے سے
0
اتی رح مشرٹی افریقہ میس کم مولا نا مارک امھ صاحب سب سے پل اج ی
مل یکی یت سے وہاں گن آپ می ۱۹9۲ء ین ماشہ مال کک خیرات مل
پا لے کے بعد سا لکی حرف آپنے اوران می کے کید دش ہونے ہیں۔
“سمل ساٹھ سال تک خدمات سلسل ہکی تن کالفا ہی بذات خود ایک بت بدا
امزاز ہے جھ دراصل غدا تقالی کا الیک خاش العام اور اس کا فقل سے اور نے
سعادت جھاعت ات یہ میں بتکم خوش آعیو ںکو می رآکی ے_
زم مولانا شی مبارک اص صاحب ۱۹۰۰ء یی ناب کے عطاتے یس پیا ہے
اور ۱۹۳۱ء یں جج بک آ پکی عمرا سال نشی مولوی فاضق لکرتنے کے بعر شر بات
ساملہ کے میدران میں قم رکھااد راب ا۸ سا لکی عرکو کے کے بعد دم لے کاؤ را
وققہ لیا ہے۔ چند سال ہنزوستان میں قدمت ساسل کی توف پانے کے بعد سینا
حفرت ففل عمرکی نطرانتاب نے آب پک مشرقی افریقہ کے لے تب فرایا۔ اس
7- مٹرتی افریقہ کے چار ممال ککیٹیا پوکنڈا" مان بکا اور ز نجار برطانویی کالون
تھ۔ ان مالک میں احح ی تکی داع بل ۱۸۹۹ء ٹیس اس وقت پڑئی تھی جب
سیدنا عفرت پالی سلسلہ کے لع رفقاء پومنڈا ریاے بی بھرتی ہ ہکر امہ گئے
ین بعد میں متخ مشن کاقیام سب سے پل کتزم مولانا مبارک اد صاعب
کے وہاں جانے سے بی بداجواا نوم ر۴ ۱۹۳ ءکو قادان سے روانہ ہ وکرے ٣نو ہ رک
ردلی چچے تھے اور بر۲ سال تک ابی ار بلال مس دمات سلسل کی تافق و
ہعادت پالی۔-
ھٰ ك۸"
مال ک کی برطانوی تسلط سے آذادی اور و ںکی تیم سب آپ کے سان کے
داتحات ہیں۔ آزادی سے عُل آپ ان چاروں مالک کے مشن انچارج تے۔
561
۱۹۹-۷۲ء کے عرصہ میں جب کنیا لوگنڑا آزاد ہوۓ اور انا یکا اور زنر
متاح کی شحل میں دنا کے نقشہ پر اجھرے کم می ۱8۷۱ء سے ان مالک مس
جمائتی نظا مکو بھی مہ اعد ہکر دیاگیاادر جنزم مارک اج صاحب عر ف کنیا
کے امیرد می اسچارجح مقر ہوۓ اور ب٣ ۳ اپریل 1۹۷۲ء تک ىہ خدمات مسرامحام
دے کے بعد وابیں پاکتان آگ۔
مشرقی افریق میس مشن تام ہوتنے کے بعد آپ کا ہی ہکواررکیفیاکے شم نیدی
یس تھا۔ بیت الا ریہ رو ی کی چچلی جاخب داع الیک پھو ٹا ابمرہ نس میں صرف
ایک لیک ری ہوگی ھی آپ کے دفڑی کل ا ات .من ے تلق تام
مور یں مسرانحام بات اود تام پر وگرام بھی کییں تتی شکل اخقیا رکرتے تھے۔
۳ی جم
ہو اور ام ر گی پاددی ڈاک یٹ یگراتم (صد9 <0 3 کٹ آ پکی رف
سے دی گے دعا کے نج اور اس کا فرار تق افرلیقہ کے اخبارا تکی شہ عرخوں کا
عنوان نے رے۔
2 29 مکی عبیدری (سالقی وزے الصاف تزاغہ) سے کون واتف تجیں۔
آپ فوضب ۱۹۳۷ء میں مجحنزم مولانا شی مبارک امھ صاحب کے ذرلہ بی بیع تکر
کے سلسلہ حقہ میں شمائل ہو تھے۔ جن کے الیک ہیی ھکر مجکرعبیر صاحب جامعہ
ادن سے فارغ اتیل ہونے کے بعد خراغیہ مس غدمات سلملہ می مح روف
یں۔
مشرقی افریقہ یں مم مولانا مارک اج صاح بک ایک غد مت اس رنگ
یس بھا لان ےکی وی کہ خناضیہ کے دو شمروں ھورا اور دارالسلام ین لوگنڈا
کے شمروں جنہ او رکپالا میس اورکیغیا کے شمروں ا ا ا
562
سسسسسٗسسوسسییتةااسسھسشات
مین پ الس ادر یت الاک رہ آپ کے ذریعہ تی رکے عراعل س ےگز رکرہایہ کی لک
بیھیں۔ علادہ ا زی اپرٹل ۸ء میں یرد لی میس یی اس خدام الام یہ کا قام
بھی آپ بی کے ذریعہ عل میں آیا تھا۔
ایک علیم سحادت جھ حخزم چ صاحب کے حصہ میں آئی دہ قرآ نکریم کے
سوائیی رج کی اشاعت ہے۔ سای زین اس وت خلا رسمیں تیرح بولی
جانے دالی زبان ی۔ ادر مشرقی افریقہ کے ٹیش زحصہ می سے زبان بولی اور ھی
عائی گی۔ ترجہ کے کام کا آغاز عضرت ففل تھرکے ارشاد پر نومب رہ ۹۳اء میں
رمفمان کے بابرکت مینے سے ہوجو مارج ۱۹۵۳ء میس پایہ حم لکو بنا نظرمان
اور در علق امو رعمل بہونے بر ۳ا مکی ۱۹۵۳ء کو سے مر شر ن گرم شال
وا۔ اس کا دیاچہ خود سینا عخرت ثفل عھرنے رق فمایا جو سواملی میں تج
وئے کے بعد شال اشاع تکیایا۔ سوا ج لی مہ قرآ نکر ی مکی اشاعت ایک
لیم داقعہ سے جس سے مشرقی افریق کی رن احدیت می ایک سے اور ضرق
دو رک آغًاز ہوا۔
سو ایی تجمہ قرآ نکریم کے علا ہکیٹیاکے قیام کے دو ران ۱۹۴۴ء می آ پکو
سید ناجخرت بای سلسل ہک یکتاب تی فوح "کا مو امیلی ترجمہ شائعکرن ےکی بھی
ذیقی ی۔
اشماعی امور بیس ایک اہم کام آ پکوم ہکرنے کا موق لاکہ آپ نے جنور ی
٦ء سے صو ام نی زان یس ایک ناہوار ر سالہ دا جر ص2 1۷5 ۵ 021٦7 2/20 کا
اج ا گیا ای کے پنلہ ار ہکی اشاعت ایک برار تی ج بکہ دو سر ارہ ے
ہی یہ رسالہ دو برا ری تعداد می شال ہونے لگا۔ یہ رسالہ ایک عرصہ سے جاری
ہے۔ پل هکینیاسے سے رسالہ تا رک اب ہہ تزامیہ سے شا ہو ہے۔
563
اچوصسطص۰حصسٔکٔچ جج چمسچھٹ ھ و ججس چ کے
7 اخبار محتزم شٌ صاحب نے 8ہ ××71 ھ۸ 81 کے نام سے
جار یکیا۔ آغازمیش ىہ رسالہ ماہوار تھا۔ بعد میں اسے بڑعق ہوئی ضروریات کے
تحت پندردہ رو زءکر دیاگیا۔ سے رسال بھی ا عا لکیٹیاے جاری ے۔
خرس مثرقی افریقہ میں آپ نے ٣۸ سال تک مد مات سلسل ہکی نل پاگی در
اس ددر سے تھام داقعات تر اج یت کا۱ ہم حصہ ہیں جآ رن احریت جلد تم
کے فیات ۰٠٣۲۲۵۴ میس چھورے بڑسے ہیں۔
۳۲ء میں پاکستان والیں آنے کے بعد آپ ناب ناظراملاع د ارعًاد*
اپڈیپنل نظ راصلاں و ورشاد (تلیم القیآن) سرڑی ففل عمرفاؤیڑیشن اور
میرڑی حدیق* ٹین جیسے اہم عیدروں پ> فا رے۔ علاوہ ازیں آپ نے یت
انی ربوہ خزافت اایجرری ربوہ اور ففل عفان یڈیشن ربوہ کے دفائ کی ٹفقیرکی
گرانی کے فرا ضس بھی زمایت خوش اسلولی سے سرامجام دیے۔
صتز: سال تک عرکز حاسلہ ریوہ میس اہم خدمات بھا لائے کے بعد ۱۹2۹ء مل"
1 اب کے امیر می انحارج مقر ہوۓے جماں آ پکو دک ر ۱۹۸۳ء تک
فدما کی نف گی۔ اس چار سالہ قیام کے دوران برطانیہ کے ثو لف مقابات
ٹور“ ساس ال * بر مگھھ اکر میژن' ابر فور “پژرز فلا جلنگھم
اورالینٹ لندن میس نے مشن پا وس زقاظمکرنے کا مو تع ملا۔ بلاشبہ مہ ایک شی رسجمولی
کاما ی تتی۔
۳۴ء می آ پکو امریکہ کامشن انار مقر رکیاگیاہماں آپ نے مات
سال سے زا کو حرصد تک اس جقیت میں غدنات سرانجام یں اور اس عرصہ مل
: خخلف منقابات پر مشن پاؤس زکاقام اور پیج وت الک کی نفیبرکی نٹ خداکے
فحفل سے ہآ پکو میس رآکی اور امریکہ بی ۱۹۹۱ء میں آپ اِچنے فرائحضس م جی
54
ےت سصصتتس سس ں زر ںے _
سے سکمدوش ہو ہیں۔
زم کی صاح بکو جماں جماں بھی خد مت کا موق طا آپ نے کامیالی عال
کی۔ اٹک عنت ' سمل کے ساب کی دفاداری دا کل کی اللہ الما ہگن ؛
بے شا لکو کت اور سب سے بڑ ھکر جخرت ام جماعت ا کی کال ا طفاعت
صوتب رے ہیں۔ محتزم شی صاحب ساٹ سا لکی خد مات
۔۔ رات ہو ے ہیں۔ ۸مان پے ۔ اللد تال کے مان ےکۃ وہ آ پک
تحت عو رک سے رک اپ کو اور جتوں سے فواے او رای مرا
لہ اور داعیان الی ال کو آ پکی ند کی کامیایول او رکامراخوں سے استقاوہ
گی نین دے اور ای تکو قاممت تک اپھے بے ٹس مربیان عطاکرم رے۔
امفاظزروفوھتض ومارمزی
565
۔سدجحستشت ےکس تھے
ہوشیاریائل
ورس سال قب لکی بات سے جماعتی نام کے ساسلہ میں اکسا رکو سان فرا و
جانے کاموقع لا۔ جب کا مکی کیل ہوگی نچند دن کے بعد دالی کاب وگرام تایا-
پور پر پنیا کٹ وخیرہکی چینککرائی در 7 ذ78 20 پاس لیے کی
متیلقہ این ٹک یکھکی 20٥٤, کے پا بنا و ابنا بی فکیس یچ ایک طرف
رک دا اور ایینٹ سے با تکرنے میں مصروف ہوگیا۔ جو خی ینگ تم ہوکی اور
گی سے واہیں ہونے لگ نو پری فکینس غائب۔ دامیں بانمیں ک یکھٹرکیوں می
ووصرے مافرامریگن وغیرہکھڑے سے اور چچینگ وخیرہ میں محروف تے۔ بجھ
انظا رکیل لائی مم سکھڑے تھے۔ بری فک سکو دی نکی جب ادھرا دع رنظر
دوائی اور بری فکیس نہ دیھااوربرنیشان ہوا۔ میریی بریٹائ یکو دک ھکر جو قرب د
جوار م سکھڑے تھے مھ گئے۔ ایک امرین جھے کنے کیا اپنے بر فک سکیا
تلاش می ہو۔ میں ن ےکماہاں ۔ کن لگا دہ و ایک عو رت اٹھاکر باہ رگ لکئی ہے۔
غناکسار ہھاگا بھاگاعور تکی خاش یں باہ رگیا۔ دیکھاکمہ ایک سفید ام عورت تھ
دو رکھڑی ہے۔ خال ا کی انار میں ۔ ھی دیھتے بی اس عورت نے بری ف کس
ق الیک فٹ کے فاصلہ بر اس تے رکھ دبا اور مہ دو سری طر فک لیا۔ جا شور
جانۓ کے پلہقے میں نے بری فکیس اٹھایا اور اس عورت س ےگ ماک ہک قد
افو اور شر مکی بات ہ ےکہ ایک ماف رکو اس طرح اذیت تم نے دک ادر
ریا نکیا۔ فور وی میس نے تذ میں اٹھاا جس کے اننطار شش کیڑی تی۔ تھوڑی
56
سح و۔۔لللسس۔-۔-س۔ے_۔۔۔ےےمحجےکسسسس۔س۔
بھی در سے پا عورت بی فحکیس ساتھ نےکر فاتب ہو جاتی۔ الس نے
اکسا کے تلق یا ہکزیخایاسعودی رت کات ان ا
ای عاات میں برلی فکیس اپنے اھ یس رکھنا جا بے ما لیے انداز میس رکھنا جا ۓ
کہ سامے رہ کہ چور اور سقید فام لیٹرو نکو چنا ٹھانے و زاین کے کا
شون تو کے
دو را داقعہ یا عادے چند سال لے اے۔ ناکسمار کے ایک مر جن بتراصر
صاحب لاہ در سے اپے جا کی کاروبار کے سلسلہ می دا شگشن آے۔ اپ ےکا دبار
کے اع بد کر چتد دن ار واجچی کا ہدگرام انموں ے بتایا۔ واشگٹن 2
ایرورٹ پر یئے۔ تلق اکینٹ سے ابنا اسباب چی ککروا رہ تکے اور انا رف
یس انگ تچ الیک مرف رکھ دا جب چینگ درد ہو بی اد ائیں
308۴8 پا وخیرہم گیا اور والیں ہو نے گے تو بزلی کیس ضاب۔ اس
مت کے پانچورٹ اور ضروری کائمذات اور تحار ی کاروبار کی وستاوں۔'
-- 99 /۷"ٰٔٔ "۶
گا۔ ایر ٹکی ول سکو پور کی۔ انہوں نے فور طور پ اوھ اوھ ملاشی
شرو کی پکہ بد یکی لیکن برلی کس آف جک نہ مل سکا۔ پاس و رٹ کے الع
ہو جانے کے باعث مزید پر بای کاساما۔ پاسپپورٹ جچوکمہ پاککتالی تھا۔ فو را سفارت
خانہ پاکتان سے راب طکیا- خزدزی انراتا مھا و خر رداپیا ے اطار
دئی۔ خدابھلاکرے سفارت کا رکا جنول تے پاسپپورٹ بنا دیا اور خیرسے مار ا۶ء
واپں پاکتان چان بی رکو شی کے اس نقصا نکی دجہ سے امرین سغارت
خحانہ تے انمی ں کئی مال کک وبا نہ دیا۔ الےے عالات میس مفرکرتے والو نکو 1نا
رف یی نے بت ین با نے طریق سے درکھنا چایے کہ بی انی کاسامنان کر
567
مر رات ما عارغ ۱۹۴۹ء کا ے۔ نماکسمار مشرقی افریقہ سے رخصت پ
صن ری چماز کے یی کرای ہنی کرای نے بر معلوم ہو اک حضرت غلیفة
الج ثانی ”کو ضنہ میں تخریف رت ہیں۔ حتزم چوہرری مھ عبدرادند غاں صاحب
مرحم و مففو ان دو ںکرا پت کی جخاعت کے امیرتھے۔ از راہ رای چم کے اندر
تخرف لاۓ اور ناما رک 1[۷٭٥٥ گیا اور ٹایا کہ تورکی ہرایت سے
ناکسمار رزوہ جائن ےکی ہیاۓ سید عاکوملہ یچ ۔ اگ نے دن بز ری ٹین خاکسا کرای
ےکوئ کسلئے روانہ ہواں میرے عمزیزوں نے اور لی( پزرکوں ن کول ین
بر استقبا لکیا۔ اتی طرح ماد سے ان رو ںکی شفقت اور عابیت بھی خییں
پھولتی ان میس حضرت مولاناعبرال رجیم صاحب درد ”زم میاں مر برست صاحب
برائیو یٹ مکرٹری' زم ش کریم بش صاحب اور ان کے چے موجود تھے۔
سماموں بر تضو ری زارت و ملاقجات سے آرگھو ںکو ینرک نصیب ہوگی۔ چتھ'
و نکوئنہ می قیام رہاور پچ رتضور کے سائچہ ہ یکوملہ سے رد اگی ہو گی جن ٹرین
سے حضو رکوی لہ سے ریو ہکیلئۓ روانہ ہوۓ نماکسا ر بھی اسی ٹرین سے روائہ ہوا۔
کی ووسر کیا رشمنٹ میں ماکسار نے اپنا اسباب رکھا_ مضور )نو رکو رخصت
بر ے یئ اما بکوئ کا جم خی رٹیشن بر موجور تھا ماکسمار اس دو ران ایا
اسباب ٹرین میس رک ھکر اور نی یگ اوی کی یٹ پر دک ھکر ات آیا۔ حور
ارس کے الودائی نظار کو یھن کیل ۔ ا س کا رشمنٹ می ندب چتائی بھی ٹیٹھے
ہن تھے۔ ا نکی ہی لی ذاڑخیاں تھیں۔ شکل زضورت سے بڑے مومن نظر
آے تے۔ تھوڑی دم می ٹین روانہ ہوئی اور اپتی یٹ بر اک ری ھکیا۔ خاکسا رک
ال تک نہ آیاکہ اپنے بی بی ککو دھوں۔ ٹین جب نغازیدال مین پر کی و
ا ںا
وی رین
کھولا۔ ویکۓا
خاکسمار اتی
نین فان بے
ضال رکنایمتے شرد رک ہے۔ اگ اڑی خوے
کی سنا ہونں۔
دیٹھاکہ مدکی نی جو نکی
راد ردپ کے 012
کٹ پر اسراں و ٍ: ٍ
: 7 د تیر ھکر سی الودائی ظا ہک 2
نا نے ر دی کی
مدکی اور عمات! با سے پیک
پبرعالی اس ش می خفلؤں
58
۸ دہاں سے کالہ ا الو عیال کے ہاں جان کے ۱
ھا سوا ہوٹے کے انظار میں تھ۔ اماک خال آیا اور ہنڑ بیکی
وھ ھی چیک 0٥٥6 ھا ار تی
'اوطط یرب ر ہیں -
کک/ 7 ا الیکا ان ای می بت ماس نین را دو رآ ن رات سک لے
ما گا ماکاک جکہ یر رکو ریا فا کرام کی ہدایات لیب وی رہیں ادا نکی قد دانی ادخ خودی سے بھی
پھا- ما 2823 اپ بات میں
ہے فارسا ےو
زادہ و جام ہے۔ سریں انی ہو
اتی ز۔
ظا ہر ممولی رآ ہں
ا اور اساب کی تقاظت پا
ان کی یہی رر
واج رہا۔ پرا دم ت کے انام دی پر دعائؤں کانماص تفہ مت رہا۔ حضرے
یت ام الا کے دور خلافت میس زندکی وق کرت کی لف ق کی اور ضور
متمدد ا ظا مکی تقیل ان اند زی سک کے جو رکی دھاؤں کا سفق رہ۔ بل
عالانہ ۱۹۳۳ء کی تقریہ میں تضور نے ناکما رکا اص انداز می ذکر فرایا۔ تے
گزشتہ مفیات می در نکر کاہوں۔ الفضل میں بھی حضو رکا ارشاد شائج ہوا“
۹ دی ۱۹۳۳ء میں۔ اور بج کی موائع پہ حضو رکا تر دای کااظمار ہوت را
امیر ہی کہ کا اک ہز شند سطور بی ذکر ہوا۔ اللہ ای کااجسان جھ پر رہاادر ا کی ستاری۔
۱ وللّر 2
رح نا نے اہی اعت سے عایض یں
گرتے ہوے ۲۵ تب ۱۹۴۲ء کے خلبہ جمعہ می فرایا:۔ ٌ
مھ کام بے لو گکررہے ہیں دہ مارگ جماعت کاے اور اں
لاظ سے جماعت کے بر فردکو اپنی دعائوں میس ان مب نکو پاو رکھٹا
اچ ۔ اىی حر اد می دو مرے خلف مالک میس اخلا اور
قرائی سے کا مک ر ہے ہیں۔ صونی مع ال رن صاحب ام ریکہ میں
امک ررہے ہیں اود عض لات می ہیں ۔ موادی مارک امھ
9و
70
و یت یز
ےت
(دالفضن کی ام م0 مم
0 2
کی مشاورت ۱۹۴۵ء کے دو سرے ون مو رخ ٣۱ مار جکو نما
سے خطا بکرتے ہو بے :نے
رٹ .0
۳ می کے فورصم چس ا
رو یی ایا اور
و ٹا ۸
یری کت جماععت کو دے ےر (رلورٹ ا مخاورت
۵ء ۰م :
اک مو اتور نے یھو دوستوں کو رای وک
یلپ عضو رک فدمت یں تھو یچ ضسر مز
برازاادد فو شنودی کے ا ظدار ے :
رآپ نے خلبہ پمعہ مور
مم
در تے ورام رکی
در نے بھاعح تک شرم کو
۷ ۔ھھ فاص دعاے آو از
۳ای ۱۹۳۸ء میس فریا۔۔
اٹ افیقہ مم عاری سو ا ای رک ا
بانھدوں می و میں کی جاتی تا کا جا کاو
شھ سے مارکا کات کا لی ھا۔ یں لی سی کتا کر 7
یی کے جا ا ےک ا ای و
کی کر کنا اذہ آسان ہے۔ ہندوستانیوں میں رین ڈیادہ
مان ہے۔ میں نے مارک ٴ
ٌَ کَّ ر اتد اہب کو پرایت وی کر
اثرملھنوں یں می اک لف 3ج دیں اور خدانقالی نے تی
تن کان شوری
ہ لتشھ چٹ 2
51
ےس سسسسوواسچچکھچوچچھویوئو٭ھسسساشسساسھسھسشھاڑ
فو دی۔ ہمارے ایک فوجھ ائنغ جو دہاں کا مکرتے تھے آنیوں تے
زندگی وق کر دی۔ بی نےکھاا نہیں دہیں رک لو..... مارک
اج صاحب نے زاتھ آدبی مل جانے پ ھبری برایت کے مطالق
ائئیں افریلقنوں میں خغ بے لگا دیا۔ بھ سات ماہ کے بعد دو چار
افریی جماعت میں داشخل ہو ئئ۔ پچھرا نیس چچاٹ ل کگئی ۔ اب خط
آیا ےکم دہاں ایک آدئی کے ذریعہ ایس ا ذرلقن احریت میں
داخل ہوۓ ہیں۔ دہاں اب ہمارے کاٹ مغ کا م کر رے 7ئ ۔
ولیسٹ ا فریقع میس ہنراارول ممقائی لوگ جماخت میں داغل ہں _ *
( ا لفضل ۳ اکمت ۸ ۱۹۳۰ء ص فی ۷)
مشرق اذریقہ سے جب بھی رخصت پر ہرکز آنے کا موقع مت الوم حضرت
غلفہ |“ الا جب دس بارود نگزار ینا خماکسا رکو فرماتے۔ ” مپارک کے
کے ین رخصت کے کانی ہیں۔ تشیبر میس زمد داری کاکام سرد فرنا
دی ”الد کااصان ہے آپ خاکسا رکی کا رکردگی پر معمشی رہے۔ رقصت تم
ہونے پر والیں مشرقی افرییقہ گجنوانے کا ری ککوارشاد فربادہیے۔ ایک خاص واتہ
کاذک رک کے آ گے چتاہوں۔
دارالسلا مکی مس دکی تق مل ہو چی او رکئی سال وہاں قیام کےگیزرے ت
رتصت پر رکز ربدہ میس آیا۔ دارالسلا مکی مسو داجس شیکیدار کے ذریتہ تی کا
: کا کردایا تھا اسے کچھ رشم دی باقی شی جو جم نے اداکرنی تھی گویا قرض تھا۔
خماکسار کے تقائم مقام نے جو رکی مت میں بار با رککھاکہ جن صاحب قرش پچھوڑ
جے ہیں اور یگیدار مطالہ پر مطال کر ہے اور کفکر رہ ہے حضورنے تیشیر
کو فو فربایاکہ تج صاح بکو جللد واپیں مج واکیں' اور خاکسار کے تائم مقا مکو
۱ سے 027 وو 7 ۔ ت ۳ 7پ سم لہ یت ایا کہ
۱ راد و نمایں ےو ےب دم ای کپ تی تھی اورپ یں کانقرضنس میں جب ؟ یئ
وا
ھت سو میس ادا شی ایک مال مل برطاخہ می با مراکز ا جریت قائ ہو
.رہ لی نے بے سو کربا کرد کہ اپ انیول نٹ ےکعہ دی
ا سک سو ےج دا تالی بھی یرت رگن دالا سے ذذ قرو ز رک ت ڑا کے کان جب
دیے۔ ً ام شرد ا2ا کم کے لے ای چیہ بین ھا۔ال ال نے
۱ اید یں تل اپنے ففل کے تہ میں سال سوا سال مس با ماکز ئک
اعم ابرکشوالر ہیں :رف میس ا دعا ے گے
۲ سو رھ ری (الضل ۲۹ 1ک ۱۹۸۱ء سے ۸)
ا و اور چلرجب ان مراکز کے قیام کا سلسلہ بڑھتا رہاتے ایک ووست انرن سے
سے ”سرت ان کب حض و تھی وہ یس ے۔ تد کا ریا تاکن ولاک
ا مہ ک0 خریدکابی افظام تچ صاحب ن ےکیاہے اور جماح تک تزمیت
ور مہرم کے سلمل میں چھ کوشا ہیں ور نے اکسا رکوس دوت کے ذ ریہ ام
سک سس گیا ”ولی چچل "کس اس اعاد اور خوشفودی کااظقرار ضور کے ان رو نتلوں
ا 3ہ 3اد بھی اپ اس خادم کی مد مات کر ماود ای پر فو شفوری پ - 701
وک سام لف دوستول کے خلوط بھی آ ۓےکہ حضورنے الام با یکسی میں میں
۸۱ء ش فیا خائس طور پر جو خدمات الکستان میس انام دکی جارجی خی خاکسار کے ذرریہ ان
نال عھوی سی رو خاش فوشقودی کا اظمار فہاتے ہوے احباب کو گیا ان خدیات سے آدکی-
حو کس شور کے خطوط میں خاکسا کی کا رکردکی پہ اھعنان کے اظلمار کے ساتتھ ىہ ضرور
ابر ہر ا کر ہو ”اللہ تال یآ پکی جدوجمد میں برکت رے۔'' بی ”اللہ تال مز
تے ایک سای کے اخدر انور ران شا باطأ من واڑس قا کرو اما سے فوازے ' می مہ مھ فراقت ”نم آ پکیے فدہ دماگر رہ ہوں"
دی جفور نے فمایا کر ضر اسر باول ی۔ے اور بھی اللھ قالی ہے سے بھی بر کرد مت دی نکی یی سے نوازے۔"
54
و اھر نوم دی اور اکا ایک آپ ۷زاز کو
91 0 ایام کمن کے رز کر ہے اد بھی عدم موجو دی میس ملف
وا ای سے انی ظیات ۷و این ےرم بح کر
"گززطاكزاو مہم نے اجس ہداس
یس سسلہ گا فدات یل سحروف رکھا نر دوست اور ام طوری با آراے
حنزم ملک سیف ال ری صاحب بے سکتے سنائی دس ”ہماں دیھو ش مارک
-
رت خی ایال ال ابی اس ماوڑے بج تخاس
حت مرف ارعاسما ر ےترک پور ہے یم
7× تجد/ لوھامی؛ جا ےر طرں۔
رات ھی ہن اش وی کے رت کل تکس یں ۔ ہاں
طلال 2 سام تسار کرت کےا بد و
خلافت ات یہ سے آپ کے پر خلوس وفااو راطاعت کے تلق
گا دی ھکر یراول ال الک جھ سے ب رکیا۔ خدا ال ان کیل
یذیاتگوقول فرمائے اد راس عمد می تک ؟ خر ساس تک کال ون
مات جھال ےکی یی ٹہ شھ بھی اتی دخاؤں می یار رت
چو کہ ال فی بی تیم ذمہ دا ری کو انی رضاء کے مطاق
ھا ن ےکی تو نیقی جن _ *
(خط مو رخ ۴ ولا ی ۱۹۸۲ی)
انکستان کے قیام کے ددران آپ نے مندرجہ زل خط ے نوازا۔
پر ےککرم کتزم غ صاحب
الام یکم و رحث اللہ وب رکا
”امیدۓے آپ خداکے ففل سے ریت سے ہوگے اور صب
ا نی غدثت دین مسا مرف و ےھ برک یہا ںآ
کی کی موس ہوتی ہے لین جب اکتان میں آ پکی محروفات
اود تھوس دبنی خدمات پر نظھرپٹڑتی ہے ق ا کی کے اضاس پہ
اشھینان اور رت کے ج جات طااب آجاتے ہیں ۔ میری دعا ےک
اللہ تالٰٰ آ پکو بی مت وعافیت والی نو شیوں ے مور قعال
ز نکی عطاکرے _''
تور ارہ اللہ تھالیٰ نے الکستان کا خلاات کے منصب پر فائز ہونے کے بعد
یرحب جب دوردکیاتدا ہی پ ماب کویاد فی او رکھا۔
منبمت و شی ہوٹ یکہ اللہ تقالی نے شض بے ففل سے دور کو
ہرفحاظ سے کامیاب بنایا سے اور جھاعت کے اغلاص و ابمان اور
وت مل میں تق دی ہے۔ امید ہے کہ آپ پک سے بڑ کر
دعاؤں “ عمت اور نت سے جماعح کو ایک سے ایک پو ھکر او تج
عقام تک نے جانے مم سںکوشاں رہیں گے۔ سارے ان ے وا لے
آپ کے بے عد خلوص سے ہتا تر ہوے ہیں اور آ پکو با رک
ہیں آ پکی میم عصاحبۃ اود ا نکی سا دک بس ناشاء اللہ اخلا ص کا
7ے اق ا تی 1ط سی
56 57
ٰ ان کے اخلامص اث ا نکی ضسلوں پ گرا ہے۔ اللہ تی کے فقل سی کی ذمہ داری بھی ننظرانداز خی ہولی جا یۓے۔
سے ساد ا نادان بی اھ بی ت کاعا سن او رذر الیٴے_ '" ۱ بے مسلسل ىہ ااس رہاکہ فوجوان ضرذرت سے زیادہ یف اٹھا رہ ہیں
(فط حررہ ۵ ۲ ات بر۱۹۸۲ء) اوردو تن دفعہ پا ر کے سا روک ےکی بھ یکو ش کی او رآ پکو بھی مچھان ےکی
اکستان کے ددرہ سے والیں تخریف لے جاتے ہوئے آپ نے اسٹڈیم سے کو شش لک یکہ فوجوانو ںکی بے ضردرت ملیف چھے ملیف پنپاتی ہے لیکن اپنے
عاب کو مندرجہ زیل اکم خیاے نوازا۔ جزہہ محبت سے مجبو ر آپ لوگ میری زبان کن سے تقاصررے یا جھے بھی نو ابیے
بسمالل٭الرحمن الرحیم تحمدہرنصلی علی زسولۂالکریم گو نہیں ھجے۔ آ سن اناءالل تقصیل مس جار جوزہ نات بج ےک یکو شل
علق علا و الححیت الم عرد کروں گا کہ اگر اتظام کاکوئی حص بل رورت وس ہو نے خود ور ہوٹ ےکی
پیادے برادرم ںّ صاحب ہت ات و یرون نت
النلاخ عم و رم ال وکا اب اازت چاہتاہوں۔ آپ کے لے جوکام پچھوڑ آیا ہوں بست زیادہ ہیں-
یہ چن سور ایسٹرڈیم ہوائی اڈ سے ککھھ رہاہوں۔ احباب اور خوا تن جماعت تی النقدو رکوشت لکریںکہ ہرکام کے لئ ایک ایک مم تار ہو اور آپ تام
کستان ار ہچیوں اور پچ ںکی انا پر خلوص حبت کا شکریہ ادگ ریا لفاظ کے بس ٹھیں تا رکرنے اور ا نکی بی تکرے کے بعد ٹم اسعوی علی العر شگا
۱ گیا بات نئیں۔ ان دعانؤں کے سوا میں اظمار تا رککوئی ذ رید کم پا ناج الفاظ ۱" متبعت می عمویگگرائی اور رایت کے لے آزادہو جائیں کان الله معکم
ًَ“ یش ڈعے میردل سے عفارا تکی عرح) اھ دی ہیں۔ فو اکم اللہ سن الجزاء ن ام تن زیادہ ہ سک ممسلسل محخلصانہ اور عاجمزانہ دعا نکی مددکے اق رم
۱ انا دالا خرہ۔ جدالئی کے جات بڑے صرآز ت _ ایام پانے نا کن ہیں۔ سب بژو کو زمایت محبت بھرا سلام او ر سب بیو کو بے
میری طرف سے ان سب خواتین کا خحموصی شکریہ بھی اد اکر یں جنموں نے 1 5
حر پار۔-
کھانا پانے می اور تقام متعلقہ اتظابات میں بے عد محنت سے کام کیا اور ان 3 واللاع
یز کو اور وجوانوں کا گی جوں نے ضرق انظامات کے سلملہ میں توب ماکار
اتی اتطامات کے سلسلہ مس حت شاقہ کے ساتھ کا م کیا اور بہت لیف ۱
(( "فو غمھ ضی ارت برے زوئر زان میں 2"
)0 آتعدہ جب بھی دا تھالی موئع پیا فرہائے جفانتی ا ناما کو خ بتاک رھیں۔
٦ مضصب خلاف تک ذمہ دارئی کااحساس اپٹی کہ بر لن بے ضرورت 'لیف ے
ً
عرزاطاہر۱ھ
0ے
مو رف کیارو دہ ر۹۸۳اء فرت خیفۃ لھملرا اید ال تقالی نے ارہ
لی خاکسا رکی اہی ہک کی
پیادی زم فی پیم صاحر
وف امام میم درمز اث ویر
5 کک سلب جو ہبی کے ع ہی
شال نے تی لم ادر دہ سو کش فد مو نے دای ہرک کا یش
عددگا داد سجن ادر ری دی عطای سے اور آپ بھی وم خوش
دی ا مو کم ظا رس نا ےی
وم اح ہک ایت گرا سلام او ریا ری فریہی زسم
اویہار۔'
خر اعافظ
٠ اطاہراھر
ورڈ مھ کنا سے قام کی جب ورک او بھی می
و ات کے ما و آپ نے مو رخ *امحی ۹۸ا ء کے خی گر فرمایا:۔
و آپ کا پڑ کربت خی بوتی۔ ال قالی نے آ پکر ہوک
٦ ہہ"
71 00ہ فاما ہاب کو بے مو سے
گا ا ہے اد را نکودعاے شلوط گے رپاہوں_ *
اشن سد کے لے نز ترک الام سار و ری خر یں
”قرد فر ماں ے ضر ضدن ںی
579
دماوں سے بھی نوا زا اور خوشنودیی کابھی اظمار فرایا۔ مطاعظہ فررانیں۔
”وا شگشن مر کے لے فنڑز ش کرت ےکی ری رٹ گی۔ ماشاء
ال - بجز اکم اللہ - اللہ تقالی نے آ پک ابیل می جذ ہہ بد اگیاادد ہر
مہ آپ کے ان اور رسو نکی بچالی سے د لکل رۓ ہیں۔ اللہ
تحالی بی از بی مبول مد م تک لق دے اور عریا رت ہو۔
یک مکو بت بت سلام ۔ '(خط ا می ۱۹۹۳ء)
آ پکی ریو رٹ بات صحر وا شگٹن ہی۔ جز اکم اللہ اصن
ازاء۔ اللہ تالیٰ نے اس معاملہ میں آ پکو بڑا اث عطا فرایا ے۔
ال کرے کامیاب دورہ ہو اور تا ری خدم تک نی لے سب
احا بکو محبت گرا لام ۔ ''( خی ۲ اکتزی ر۱۹۹۳ء)
مجر واشگٹن کے انتا حکی تقریب سعد بر حضور ایدہ اللہ نے جو پغام گجوایا
او رکند کرو اکر زم عخرت ام رصاحب نے چک داوار ھ چچپا ںگردایا۔ ال
مس بھی نمائص کر مور نے اس عاتمز کا فرمایا۔ جتس کا ذک رگم زشند صصفات می نک پا
ہوں۔ علاوہ ازیں جضور کے اظمار خوشفودی ک ےکی ارشھادات سالقہ صفحات مں
در جا چگاہوں-
مورخہ ا فردری۱۹۸۷۹ء کے خطا می حضور ابر اللہ تقالی نے گر فرایات
ایا نیا راورٹ حررم ۲٢ وہر ۱۹۸۷ء ٹی۔
جذاکم اللد۔ آپ خی نز سے یی پٹ جانھیں اسے پوراکر کے
چھوڑتے ہیں۔ معلوم ہو ہےکہ اب آپ جن کے چیہ پڑ سے
ہیں ۔ ائمدلل ۔ اللہ تقالی اس کے یا رکھت ماک ظا ہر فرماے گا اور
آ پک سب غحدمات میس سے یہ سب سے سنہری با بککھاجاے گا۔
50
التاء ال *“
خاساد کے ایک خط کے قواب میس حور ایدو
۳ گر فممایا۔۔
ان مر ری نے
اد یا مد وو آپ کا سا رآ انان 3 ما شاء الہ بای جال نے
دا نت اور خلافت سے بدا اخلا رکتاے۔ ا نکی روعائی زیت
نہ کی ا و و ا
:1ز وا عفب ابا شک بت ہے رت
ھا سلام۔ *
می یہ ک ھا کنا) فر یا رت زرط کے
7ے ٹک ۱
یفاص وراد رم گرم مارک طز طاحب!
ال تال یٰ نے مورتے ا۲ ومر
الام میم و رخ اللہ وب رکا
آپ کے خلا ہو سے تا دی پائی اتی اس سے گنا ے
نی تی ک نکر آپ کا مخت دل چاہا مو گاکہ آپ بھی اس
سے با ہرر ہنا ییاسی ہے تیے مھ یکو تھ د نکیل پان سے باہ کھج دیا
جاتے۔ بین 3 آ پکی کی صرف لس پر بی لی بللہ آۓ ون
شف مالس کے اجلاسات ویرہ کے موق پر اد رد ہیے بھی موس
۱ گا رکا ہے ربدہکو جن چتھ حضیا تکی عادت ہیاپ بی ہے ان
581
کٛػژٛسممہسمعمعدککسُُُُٰٗٗٛٗٛجٛيمج تھے ____ ےم
خلا رکرنے میں ہمہ تی مشغول ہیں اس کے ملق دوست احجاب
ھت رچے ہیں اد ردل سے دع لق ہےکہ خد اتی آ پکی ریس
اور ھت اور خوش اور استطاعت میں برکھت دے اور ند
تو شھوں اد رد مت دین سے بھریو ر ز دی عطا فریا ے _ *"
اناد مت پاپ نے فاکمار کےا مات وت ےکی
پکی مسقعدی اور بے بناہ قوت گل ماشاء ال تقائل رک
ہن می ات ناش قاق ا شی سے مر مت
عافیت دا کامیاب خد مت دی نکی فو یی پانے دای تیک انجام ز گی
عطا فرماے۔ دست باکار رہے نو دل با بار بیشہ ذکر ای ے پیا
ہونے والی عمانیت قلب لعیب ہو۔ آپ کے دور میں انتا ن کی
جماعت میس جو پاک تب یلیاں پیدا ب* دی ہیں ان کے عم پر ول سے
دعا لی ہے ۔ بز اک اللہ فی الدار یی شرا_ "
عقرت خلیفہ ال ال راع نے ے ٢ می ۱۹۸۹ ء کو خاکسا کی بٹی
عمزیذہ فریدہ سسمماکے نیا کے اعلان کے دو ران اس عاجز کے
مق راا۔
رک ات تح ترک و
عزم۔ بے لوت اور علئی خمادم سلسلہ ہیں ۔ پییشہ پرعال می مد مت
ےر رت اور لے ا کے او کے
پڑئی بمت کے ساتھ ساسل کی خحد ممت پھچالا ر سے ہیں _ '"
اس مو پر حضورنے خاکسار کے وال گر ائی مھجخرت تج جھ وبی صاح ب کا
ڈگ رکرتے ہو فراا اور ایک دہ قادا نکی ایک متاز اور ہزول عنی: بت تھے_
582
الہ بی الن کا تیگ زیت ۷ای مر
گی اولا رک گ/ بھاھت
لا اور لٹ فو کی معارت لی ے_ ٦ 5 ت
(الفضل ۰ ۱جون ۱۹۸9ء ص ے0
یلاک ماف ول مان ای کے سیق کاپ ڈراو اکر
سو و ں2 ےج اور اغلاشل کے
ا ہھارکی خمد مت"
و رت ار یلوا نے جس ادا ے ماک
اف ای ایک اورک ا کس
ای ایت افا مز ناکم نے ادا زازی انار و ا
کا رر ۔بزاگم اش ۱٣ن اہزاء۔
ال می 2 من دائم
والسلام
خماکسار اع
اما رک اخ
۸ اد ۱۹۹۸ء
وا ای ا
583
ژہان فلق
ناکما و وم سے روج یھو
ہھربیوں مس اس عاب زی حوصلہ افزائی فرمائی ا در اتی پیر بھرکی دعاؤں اور تک
ناوں سے تھے ممنون فایا۔ ال خطوط کٹنگڑوں ہیں او رگ زشنہ نصف صدری ے
اا پکی طرف سے گل رے ہیں۔ یہ سارے خطوط اگر زپان لق کے عنوان کے
تحت در عکروں تو ہہ ایک تل تتصل یکا بکی صورت اخقیا رکرلیں گے ےر
تحونہ چند خطو ط کو خاکمار نے اس رو تیراو میس جوکیفیات زندگی کے عنوان ے
رت ب کی ہے ا لکرے کا فیصل ہکیاے۔ الد تحالی ان س بکو اور ا نکو بھی جن
کے خطوط درج نمی سکررہا۔ اتی خو شود اور رضاے نواڑے۔ آمین
میں تر کر ےا2 گے تح ح اسحخاب
ڈاک مت وین صاحب ایم لی لی الییں پر ڈیڈ نٹ کپالہ (یوگنڈا)۔ حضرت پاو
قام دین صاحب ام رجعماعت اج یہ ضع سیاککوٹ۔ قانضی اسم صاحب پر نچل
لیم الاسلام کا ریوہ۔ کلک سیف ال رن صاحب پر نل جامعہ اجریہ۔ پر وفیم
وب عالم صاحب غالر ائم اے پر وھ گ ھا حفرت غلیفۃ الع الال ی_
اھ مدا تل ضاحب زرڑی ل اے اب رڑی ان اھے وثٹ ہد رود
ولوبی مر ا صاحب سر قغداع 0ر2ت چو ہددیی جر ابرائم
صاحب دفتز انصار الشر ھمگزے _ صاجزارہ مرزا و مم اجر صاحب ام رجماعت اجرے
7-0
584
لنرنں۔ حضرت جخ مج اص صاحب مظمراپڈووکیٹ ای رعاعت۶۱ ۔ مع نعل
آیاد۔ کر مکمال یرف صاحب میلع سجیڑے ندیا۔ مج رحیر اص صاحب کیم
را ئیویٹ کک رڑی حفرت خلیفۃ الچ الثالث ۔کرم جن رعحمت الل صاحب ساب
امیر جماعت اح کراتی۔ حخرت چو پر ری جج خفرامد خاں صاحب سالقی صدر
عالی ا ہبی وج عالی عرالت انصاف بی٠گ' جاپ افقار ١ صاحب دارالسلام
(مشرتی ا فریقہ) ریب رآرجڈ میلع اسلام گلاسگو۔ وہر ری شابنواز غال صاحب
سرے (لنژن)۔ محتزمہ عزیزہ صاحہہ (شیرو)۔ حطرت ام مین سیدہ میم صدیقہ
صاحہ ترم حقرت سم موعود و صیدر نہ اماء ال ھرکڑرہے۔ مولانا ھ امجر صاحب
جلیل سالقی بر وفسرجامعہ اریہ ربوہ۔ محتزمہ طاہرہ روتی شاہ صاحیہ لنڈژن۔ مر
0سسھ۹ء۹ی ہ۷ ۷ 08 .0۸+7 ماکرەری ٹاتھز
لزرن۔ مولانا نیم سنیٹی صاحب سالق تائم مقام وکیل اتبشیر ربوہ۔ متزم خلیفد
عبدرالوگیل صاخب نار یارک یکنا چوہدرری سیا مات در
انصار اللہ ھرکزیہ و وکیل اع ریدہ۔ ڈاکٹر تمرالدین صاحب ابینی سالقی صدر
جراعت امیہ رز فیلڑ (اپکستان)۔ محتمہ ریا مم صاحبہ چو ہرد یکمائیڈن
(الککتان) محتزمہ سابدہ حید صاحبہ ہار پل ہو۔ کے۔ متزمہ کیم صاحہ
چوہرری شانواز مال صاحب سرے لنیژن۔ مولانا رشیر ابر صاحب چخائی سال
مار ہلاو عرہے۔ جحنزم ڈاکٹجھ طاہ رصاحب پدرٹ لین (امریگہ)۔ ڈاکٹرحید اد
مان ایم یا ۔آر۔ یپ ہار پل (انککتان)۔ جتزم چو ہد دی انو راھد
ماں صاحب کابلوں سال امیرجماعت اص یہ اظککستان۔ چو بد ری مم رام صاحب نی
الیں سی (ممک یا ال ال لی (ریٹائرڈ ا نٹ لین ڑ' ریش ن اس ای دوکیٹ
ربوہ۔ رت عرزا عبدرالن صاحب اید کیٹ امیر صوبائی سگورھا۔ گتزم لک
585
شریف صاحب مگ رڑی اصلائ و ارشاد راولپنڑی۔ لگ و ر۱مر صاحب
خیٹنل جنزل سسکرٹڑی جماعت اریہ اھ ریہ ۔ حتزم عبدای بٹ صاحب اسلام آیاد
پلتا)۔ کزم مولدی مر زنس خالد صاحب سابقی ملغ سیرالیون۔ پر وفسررٹم
رشن (د نا 7587 ۷711:8 پچیٹری۲ن راس بیو ری غکساس (ام ریہ )۔ سید
ڈاکٹر مارک اج صاحب ریف موروگورو حخزامیہ۔ ڈاک محید الر تن ان
صاحب۔ (دامادڈ اکٹ عبرالسلام صاحب نول انعام یافنۃ)امیلہ۔ مولانا تیر الدین
صاحب انل وکیل لصیف و اشاعت لنژن۔ مرزانصی رام صاحب فازی روڈ
لاہور پھائرئی( اکستان)۔ نوابزادہ منصور اجر نماں صاحب وکیل اتیشیر ربوہ۔ زم
ظف راہ صاحب اھریمہ۔ صاجزادہ مرذا مبارک ار صاحب سابقی وکیل اسبشیر و
وکیل اع حریک جدی ربوہ- طاہ رتو غاں صاحب امیرر شزى انچارح تزاتے-
مہ زابرہ راحت صاح برمٴ نع نیڑا- مولانا عطاء ا جیپ صاحب راد ائ)۔
ےدام یت الفضل لیژن-
586
بسماللالرحمن الرحیم
کپالہ -۔ لوگنڑ ا
19-6-28
برادد محرم ج صاحب سکم ال تقالی
الام مم و رح“ الل وب رکا
آپ کاگرائی نام اود حبت سے برا ہو اخ طا اکم الل ان الزاء۔ میرے
پیارے بھائی فداگواہ ہےکہ آ پ کی اس شماندار اسعلائی خحدممت اور خما کر
تین شکل میس قرآ نکریم کاچھ پکردنیاکے سامئے آ جانایہ الہ تال ی ککرشم سے
ادا کاخاعس الا فقل اور عایت ہے۔ اس پر بیس قر بھی آپ خوش ہو
اد ر آپ سے عبت نے دانے دوست خوی اور ھرکاظما رکریں بس تکم ہے اور
آپ کے دالدین اوہ دی یچ فوش ہو کم ہے۔ یہ مونٹ الو رینٹ پ کڑھ
جاے سے بمت زیادہکام ہے جو خدا تال نے اپےکرم سے آپ سے لیاے سب
ریف ای زا کو ہے جس نے آ پکواپنےخلوں سے وا زا ہے۔ میں نے جس
روز ٹینڈرڈئش موب دکھی شی اس کے دو سرے روز میگ می پا سک دیا و
کہ ماع کی طرف سے شکریہکا تار اورخط فو را کیا چارے۔
آپ کا تمہ دل سے مور ہو اور بی ان ک بھی نہ بھولول گاکہ آپ
نے جقو ری قد مت میں قرآ نکریم لے جانے کی جو یک کی تھ یج شومتی
قعمت سےکو می نے بس تکوش لک کہ مکا نکو فروخ تکرسکوں ابھی کیک ال
587
تما یی یت سے بات روکاوٹ ے۔ رمضان می اکٹ دعاؤ ںکی نوڑی اللد
تی نے عطاکی ہے اور آپ کے لے بھی دھائئی ںکرن ےکی یق تی رہتی ہے۔
میس آ خر میس پگ رآ پکو جا نکہ آ پک اس انار دی دمت نے میرے
لی یس یک نا صمری اور حبت پیداکی ہے ادداس فر خوائشی ےک اش مس
بھی اس کام میس آپ کا پاتھ با تذ مر بھی آخر می کامیالی ہوتی۔ ال تھالیٰ
مہری اس خحبت اور میری خوائت لکو بی قبو لکرے اور آپ کے اس کام میس ججھے
اس مب تکی وجہ سے بی شریک فان اور یر ےگناہو ںکو انی رم تکی چادر
سے ڑحاتک نے اور قیاممت کے دن متتارہی سے کام لے اور دا تھا اس کا مک
ان حمالک میں موجب کت اور حاسل ہکی تزٹی کا ذ ریہ بنائے۔ آ ین اعم آشین۔
اور ہ مکو اتی اپنا حادم اود حب تکرنے دالابیائے اور ہمارے پیارے آ تا رت
جو کو ج سکی برولت مھ ہوا سے اپے اع سے اع عضنلوں سے وا زسے ادر
اد کے رو زحرت می طف اور اس کے سب یے کے مت کے نزدیت تی عطا
7ا کے بے ا ےار ای کا کے
ماندان اذر اس عات زکو بھی قیامت کے روز ان کے دربار میس جہ عخطاکریں۔
-
والاع
آپ کنا جزھالی
مل الدین
سے ام اوح انرحن
0807ھ
6 3
جرادم کم ریز صاحب
' الام میم ور حا ورکا۔
ولاو ےی می ےر ری
7 و اپ ایت سا ای ما ےم
ای او اکر شی ددائی اڈ اک رک ئل اداکرنا ےق شور رہ تر جگردی اور
شے اطلائ یں می ءال اداکردوںگا۔ اس ات سے ملق کی
یم کہ کا یھکد گے یں اورہقاراو کی جا نی۔ بے ہی کی
ہا لھا یف ہے عقارے ملاک رکے شکن ہ کہ یما ے لا جو
کا لاک کیا سے اک پا کی یک
شزدرت ہے لو دطا یس اور اگر 7103 2و شیر ضرددرئی ہو لح یکرانھیں۔ اور
ا و و و سے
٦ 8ھ
یی بے ای د فا کی کو کہ را بی ایان ہے کا تل
لوت ما پاپ فا ہوا ہج کی دا سے ا دای سے خلا بی
نو نے اس بل کو ھی اذ را کرم حقور کے علاج کے لے مز جو
00 پت
اتال کیاکیاکہ نہیں حور نے تھوڑی سی کستوری ادر الیک تیض عنایت کی
9
ہے۔ الحدلل۔ام حم ہکی خد مت می مرا در می جیدی کاسلام اد ر۶ز ء خی
دید ہبودکی امید ہےکہ عزیزم لام تین کے لے آپ نے سیٹا ب کر دی
وگ در دوائی بھی لے دی بموگی۔ بز کم اللہ این الزاء
واللاع
بسماللەالرحمن الرحیم
لامور
21-38
کی رت ہچ صاحب
الام میم و رح الشدو رکا“
اپ کرد دی دج سے ڈ ارد نکی تال وی رام کی مدت پور یکر را
وت ےو فار 1۸وک مرا ھ ور گی سخ
بی می روز عرہ اشھنے دالے ندبی اور جم خی مسائل پ ہاری طرف سے بھی
جو کتا۔ یر زیادہنہ پڑھے تب بھی الا ار مفی ہو ؟۔ ہمارے اپ وت
ان مکل اور مباحث سے متا ہوتے پڑھتے اور فا کدہاٹھاتے اور ان کا عم
چا اور جماعت کے عکی علقہ میس ککھنے بڑ نے اور نت و نظ رکا خوق بڑھتا ربتا اور
تحخرت سی موعودعلیہ السلام اور حضور کے خاطاء کے سکھائے ہو ئے معارف ۓ
نے روپ شی دای ٹیش ہوتے رہے۔ اول 3 ہارا ریو اگریزی بالک لکزور
: ات جس ہے۔ دو سرے دہ اکر معیاری بھی ہو جا تب بھی ماہوار رسمالہ ہوت ےکی
50
سس سس خچےے ۸ے چچھتتتتھا2ي2ي020:-.
حیثیت سے یہ ضردرت پور ی نی ںکر کت آ آپ ے تر
دوبارہ اباءکی ر نلرب جن کے جلجہ لاج
گیا؟
والسلام۔ خاکسار
بسماللەالرحمن الرحیم نحمد٥ونصلىی علی رسولەالکریم
خداکے فعفل ١ور ر مم کے ساتھ
عوالناصر
عم محزم
الام مم ور ح2 ال وب رکا
آپ کاخط مورضہ ۲٢ جون “٤ے ۱۹ء ما۔ الد تقالٰیٰ آ پکو حھت و تد رس دالی
گھردے۔ ججملہ نیک خو اہشما تکو و راکرے اپنی دمتوں اور مرکتوں کے سای ش
رَسفت
واللاع
نط) خلیفۃ لح رای
لاو ر
21-2-4
ری حضرت چ صاحب
0 208
آپ نے رمالہ انگریۃںی میاں ببوىی کے حقوق کے متعلق پیک خاکسا رکو یا
فرایا - اللہ تال آ پکو خوش رکے اور مات ذینیہ جس کامیالی خطا فراے اور
آپ کے بائی سب کام بھی اپنے نل سے استوار فراۓ۔ ۔ بت ایچھا ہوا تقر کا
اگر نی ترجہ بھ یکیا۔ انزیزی لنیچ کے سلملہ مین بت یک کن ےکی ضزوارت
ہے۔ تضور ایدہ الل کی جہ بھی اس طرف ہو رہی ہے۔ انثاء اد ھکوئی انال
یم کی وت - اض آ جا ےگی۔ ہرکام کادقت ہو ہے۔ میں رسید ویر ے
دے رہاہوں معاف فرمامی ںکوکی اص وجہ نہ شی ۔ مشاورت پر انٹاء اللر ا قات
گی کی باقں سو جھ دی ہیں امیرے آپ یرکون رک کے
بسماللەالرحمن الرحیم
لاہور
10-10-5
ری ححقرت ج صاحب
۱ ال لام میم ورحۃ ارو ر٢2
آ پکی نقریہ ”اسلا مکی لیم عا لی زنرگی کے متعلق * امگریزی یج مل بی
یا روز جب آپ نے پا پچھا بات یادنہ ربی۔ معاف فرباتھیں۔ ای وقت
انی رسید گنی اہ تی شھ اپنے دوستوں کے 799٤6 ج تنا دہ ۶
اعتراش رجتاہے۔ لیکن خر سوال در ہے باوجود صرف زر جح ضکیاں رجات
یں۔ یس اپکی پچھدئی پچھوئ یکمابو کو ھی۔ اس می پر ف کرنا چاپچے جس با ہ
انید ری پردشمروں کیکتائیں یا ج شائع ہوتے ہیں۔ نھوتے موجود ہیں ا ن کو
دیکھا نیس جات لیکن اب ایک تمایت۔ ضردری بات !ا نکستان میں طلاتی ہوتے پر
یو یکدگزادہ تاج جاکہ دہ بے سمارازہ دہ جاے۔ خصو ]اس صورت می ںک
لا قکی کر ردائی اون کی طرف سے رد ہو۔ عدالت لاق کا بھی فیصل ہکرت
ہے او رذ ار ےکی رق کابھی جو اون کو دینا پا ہے۔ انکستان یں جم سے اگ ری
دوست پہ چھاکرتے تے اسلام می سکیاصورت ہے۔ ہ مکماکرتے مق عر. عق مت
بای بھی ہو سکتا ہے اور وقت کے متا ار چڑھاؤ کے رم وکرم پہ بی
الکستان کے قانون میں ماہوا رگزارہ رکھاگیا ہے۔ (جو غالبا بعد می عالات کے
ات بذربیہ حعدرالت بڑھای مٹیا جا کا ہے یھ ہپ را معلوم نہیں آپ کے مطالد
کے لال ے۔"
593
برادرم تقاضی عبرا رید صاحب نے (تو آ کل مخت بتار ہیں) ایک دفعہ جے
نایا اور یہ ردایت ا نکی سرت مگھود(میاں طا ہراب صاحب دای )ش آ ری ے۔ ٠
ک کہ قرا ایک ماہگ را اون نے حقرت می موعور رضی ادفر عنہ کے متحلق
اج ثرات مولوی بوسف سی مک وکھھواۓ ہیں )اس دقت نہ صورت ہےکہ تن
ھی ےتا کر بن و ات > از ے لکش جک
کم اخلاقی دبا سے ہوتے ہیں اس لے ہارے ساسلہ میس بھی ا کی مشالیس میتی
ہیں۔ آپ کا مخمون بھی اس کے متحل قب 7 ہے۔
والاع
لاہور
28-10-5
تھی و محتزی حضرت بٌ صاحب
الام یکم و رح ابد وی رکا“
اس روز مصتفنجرشین کے احتراضات رکا مککرنے کاارادہ معلوم ہوا اس وقت لو
سر بات بوئی بعد یس سوچتارہاہکام بڑا رد ری لن بھت نت کاہے۔ اس
روزٹیس نے جلدی می یہک یکسا تھاکہ بر ان مش فی نکو چچھو ڑکر سے مین
کی طرف زیادہ نجہ دی جاے۔ اب مبرا ریہ خیال بد لگیاہے۔ ایک وجہ وہ سے
کہ جارا شی لیر جو اس سلملہ میس حضرت کی موعور علیہ السلام اور آپ کے
94
اہ کے ری شا ہو چک ہے۔ ا کی دہرائی ضمرد ری نی کہ جمارے اۓ
ذن آذہ ہو جاھیں اور دو مرو ںکو معلوم ہو جا ےکہ ساسلہ احریہ کے زرل ہکتا
لم ناک دا جا کا ے۔ دو اتی نک ماش تا ظا تار
2 اع قرافڈویذ اد8116 بدا ےے۔ تسری وچ کے ج
یہب تو بت7
داز بڑھ گا۔ اس لے مرا خیال بے شقن نئے اور پرانے کے ہی
.۶ ی۔ اتزاضوں کی یم 6970 1ظ زہهذ(0 ہو جاۓے اور ۸ر
2 اض اور اس کے مل کان اور احتراضو ںکی تقیم اس وق جو
ذجن می 0ت شی سو رقول اور آیا تکی ار نزول “گی لف
رن می مب گر یمرسے ایض کہ اخراف 'فسفانہ احتاض ویر تضور مل
ےت مکی سی شادیوں وفیرہ کے متقلق “نک اور ھن
.ہہ رما یت
55
س۶ت ڈ3 جج چک کپچ ےل چپ
بسماللەالرحمنالرحیم
نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
الکلہالاسلامیەہ الا حمدیەبالجامعەالااحمدیە۔ ربوہ
22-16
ککرم مم مولا نا مارک اج صاحب سابق رحس ا میٹ مشرقی ا فریقہ
الام ملیگم و ر جن اش دب رکا
جامہ اتی ہکی سالا کاو ںکی انی تقریب مورخہ ۲۸جنوری بردۃبدھ یا
؛ا ہے منعظ ہو زی سے۔ آب سے درخواست سےکہ “مان تحصوصی کے ور پہ
شولیت فرائمیں اور طلب میں انعبات تیم فراکراپی تی رات سے نوازیں-
جز اکم اللد جا
واللام۔ خاکسار
8297
گھرر
اکلہ الا سلا می الاتھءے ۔ ( لوہ
بسماللەالرحمن الرحیم تنحمد٥٭ونصلی علی رسولەالکریم
183-76
تمرم و جحتزی !اچ مبارک احرصاحب۔ روہ
الام یکم و رت ابد و رکا
سج حضرت غلیفۃ الج شالت ایدہ ال ای بنھرہ الھزی کا سفرکاارادہ ہے۔ از
اح جم ا
596
راہدکرم وع فا 0 تال سفق رآسا کر وے اور اے برفاظ ے با رت
اب تکرے۔ آمین
اس سلسلہ مس آ پک وکوگی خواب آآے و اس سے اڑراءکرم فوری طورے
واللام ۔ یوب عائم غالد
بسماللەالرحمن الرحیم تحمد٥ونصلی علی رسول٭الکریم
ضا اتل ور رح کے سا عو الناصر
زکرم السلام میم و رح اللہ وب رکا
ححخرت سید و واپ میا رکہ مم صاح کی وفات پ آپ کاخط موصول ہوا انا
للەواناالیەراجعون
آ پکی نقزیت اور دعاؤں کا شکریہ۔ جز اکم اللہ ان الجزاء۔ جم سب اللد
تال یکی رضا بر راشی ہیں۔اس پر ہارانقکل ہے۔ اد دوہی ہارے لے کاٹ ے۔
دعاکرتے رہی کہ دہ بیشہ ہی اپنی رضاکی راہوں پر یل کی نف سے واز رے۔
اور نت کاكژ حا نت مزا اشن :
واللام !
(د نا ) غلیفت | مج اشالٹ
0010 7
597
اللالرحمنالرحیم تحمد٥ونصلى علی رسولەالکریم
وعلی عبد٥المسیح الموعود
سم
22-7
رم دحتم جناب مولا ناش مارک ام صاحب
ابڑیشل نار صلاح دا شاو (نعلیم القرآن)
٠ الام عیم و رح ایدو کا2
اسر ےکپ نحقرم بر عافیت ہو گے۔ آ پکی قدمت می اطلاما رم حے
تج حفٹ ام یراک ومن الہ تَا نھرہ اعری: نے از را شطقت و رای
ےکو حقرت مولان ا اعطاء صاحب رو مکی تمہ مجلں وئف جدی رکا مم رنامزد
7 2*۷ فرہاۓ او رآ پکوونف جدید
سے ام میں ضتک ہوک بھی عم لشان خدیات دیزی کے سراجام دے کی
پیش ,ور ۓ علیہ فضملوں سے نوازے۔ آجن
آ واللاعم
مالسار
آ پکافادعم
2
سی ٹزی ا جن ۱ص یوتف جدید۔دلاہ
98
١نمحرلاەللامسب
لرحیم کک رمق می موی رین
14-8-7
۷ت ئا و تق و
۳ 00
نت
گرا اد سے خیری بحیت ممازے خر
کے بعد مج مارک میس آپ نماز
اذہ پڑھاریں اور مبری رف سے الن کے عزیزوں تک پغام حزیت بھی نا
ا :'
داللام۔ خاکمار
وٹ مرٹڑری حفرت خطیف: ا یم
وا ا
بسماللالرحمن الرحیم حر مل عق سرت کی
تمارک مات الام میم در حم اللہ و رکا
ادس امب را وین ایدہ اللہ تقالیٰ زمرہ العزی: تر
خمدممت ےکلہ تحفورتے ارشاو فا ؤاکہ قدام الا رب کے میزر کے لع سے
انا جاک رکرواکی ٭ اور پچ رتعمور کی غامت مں اورٹ کھوا کر منون
فرمائیں۔
داللام۔ ماکمار
پانیوٹ میگرٹڑری عرت یز لیم
7 0ہ
اللهالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلى علی رسولەالکریم
بپسم
وعلی عبد٥۱ لمسیحالموعود
-دتت السلام میم ور ص تالق وی رکانۃ
نے کو ا سنا جا خر ام الا ھے
مور ایرہ الد تھالی بتصرہ العزین نے عیشت -
5 ×2 ہے ما و
کے لے ابنا مار مقر ف ایا ے۔ یہ ا ماب شو ری کے اجلاس مل 27
ج وو 1 قت تشریف اکر ممنو
کو ہو گا قاعر اب شیک ہں۔ امید سے آعگرم بروقت تشرف
و 8 اف
ایس ہے۔
للالرحمنالرحیم تحمد٥ودذملی علی رسولەالکریم
۱ 2
0 وغلی عبد٥المسیحالموعود
1090 رک
ڑم مم ا صاحب
7> السلام حلیگم و رح قد وی رکا
ِ زم صاچزارہ مرزاطاہراھ
کر تا لعز کی مظوری سے مترم 7
حور ایدہ الد الال یٰ تصرالعزی عٌوو۔
کر می تک
۱ یت یتر بب ۱۳۵۸ھ /۹ے۹اء نامزد فرایا ہ۔
لور با رر سور
عاصیلی ہے۔ اس مشن نے اب تک بت بڑٹی نمایاں خد بات
۳ء نازلگ ۱
"600
اس )ا سے لینۓ
تعالی آپ کا رپا کک ےادر می از ہیی خعدممت دی نکی یق پش آمین
واللام
لرحمن١ل زَ دو
پوس سک سس ےت ات و ات یا
کے ئن
مدناکںل
29-4-9
ندمت عالی ہم ری د مجنئی جناب شش مارک اضر اب
7 الام یم در حم الل وی رکاۓ
خھ نہر رت
۶ دممت د تل رسکی دالی بھی عمرعطا فا زیادہ سے زیادہمتبول خدمات بیا
لات رت ےکی یق عطا فرائۓ۔ آن۔ :
ےکی ہوئی الیک اطلاح کے مطابق رت امیرلوستین اید
لی نے آ تر مکو ادن مس کاامام نقرر ی
ہدی۔ میری طرف سے پر خلوص مبارک
: اللہ تھا یٰ بتھر
ٹرایا ہے۔ اس الا سے بڑی نوٹی
۹00
کے وم ے یہ ے ٠
ٌ بل ال کے لے ادر جماعت کے لے ہ رحاظط سے باب رککت قریاے۔
اپ کان جات اعم ےکس زم یت میس لین یش نکوین پدئی کرت
یئ بیالائی ہیں۔ ما کر
ددر میں اس سن نے جھ اہم پارٹ اداکیاہے دہ رن احریت
601
-۔-مچچ شچ م ەےٹیییٹینجکسسےےےىے_ىىہےے
رر بی بے آپ کی ات تی ای کے و یا
ے بد کر یدبات کا موقع لے گیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی آ پکو ا سکی نی عطا
ناد آین۔
امیر ےک ؟ تحت مکی صحت اب بعال ہو گی ہ دگی۔ جب میں ربدہ میں تھا
ںی جار کی خر یک رپا لے کے لے ول ھا ین کے
وف ےرم تضی عبرالسلام صاحب کے ذربیہ ہ معلوم ہو کہ آ پکی مت
ای بھی سے وزر زفترجانے گے ہیں اس لے اور می دک اہم محزدفیا کی
نا بر آپ ک ےگ نیں 7سا قھاں عا کہ اللہ تعالیٰ آ پک و کال سحت عا
فرراۓ آمین۔
میری اللہ سید: اعتہ القدوس ہم آبرٰشن کے بعد اب تک ہپتال می ہج
ہں۔ اکن ےکرا ےک اس ممینہ کے آ خر تک ہہ تال می ہی رہن ہے جن
٦ تب وو ہے
کزدزی او نقاہت ہے۔ آ ریش نکی کہ رکھیاو ٹ ھی ہے۔ پر ہکرم خو+ بھی دعا
فراکیں اور شاب جماعت می بھی میرا سلام ناکرا فی یکوا تف اکر دغاکی
ریگ فراتیں۔ :
امیر ےک ہآ حترم انی صحت اور جماعت کے عالات کے بارے میں ا
اتا ران یا نے رن کے اور 7"
وا رو لت
والسلام۔ ماکسار
عرزا و مھ
بسماللكالرحمن الرحیم کی رقطلی می لئے
لنرن
9390-4-09
رم د زم جناب رت تچ صاحب سکم اللہ تال
: السلاع میم در مزا رکا
خاکسار آج ام مشن سے ر نت ہو را ہے۔ کل اناء الم نکی چلیاں
آپ کی خدمست یش ٹی یکر سکوں گ۔ ایک لے عو کے قام سمش اوس
کے کو تی تھب لوا ےس کر
ات رفا ہہت و کت کاٹ بت یے۔ می تا کپ راس مل
چرسیر از ڈو یر کر سے رکا تکرب ۶
آپ مھرے زرگ یں اوررم نے یم آپ سے ایک تی تق مر یس
یے ای مت ھی ھک ہے یی نے پک کنل مس یی کک
وعال ان ہد کے می آپ بے مائناضہ طو راڈ ٹر
ہولں۔ آپ برا کم دعا فمادیں کہ اللہ تقالی مرگ کرد یں 'پ مملوں اور
کو تویوں پہ پردہ شی فربادے اور مھ متبول فدص تک ول ملا آرے اور
مرا انمجام کی رکرے اور میرا عرکز سلسلہ می جانا میہرے لے لئ سک
کلت کاباح ٹکرے اور بے خیفہ وت کا قرب نی بکرے۔ آیي
شھ ا بات کی بے حد وی ہےکہ آپ بے بزرگ کعال ا در
کے تم غادم نے جھ سے اس نشن کا چا رج لپاہے۔ مھ ای :لد
سے گیا خوہی ےک مرک می اود ید می نے جھ خلا ای بات مکی
ن اور
١
۱
۱
603
وچکڑکُوچچجوومودووھوسےموحکججکےچےکےکچےوے
ہے دہ آپ کے وجورے انتاء اللر رع ہو جاےگااور د ہی جو یر یکم عھی سے
دا ہل دہ آپ اصن رق پر انقاء الد رس و کی ےک
وعاول ادر لچ ہکا اع رہول گا_
مھ اپنی دعاؤں میں نہ ببھولیں_ اللہ تقالیٰ آ پ کو ان رنگ میں متول
فحدمست دی نکی فنی عطا فرمارے۔ آین۔ دا مان
بسماللالرحمن الرحیم
لاہور
1-8-9
ےہ ساب
الام صلیکم ور جن اث وب رکا
آ پ اسب لند نکی امامت پ فائز ہون ےکی مبارک با ا پ متا ہوں۔ قول
ائیں۔ مور رہابوں اس لے رمکیا۔ معذددری برسلھ دو ںکہ الہ تقالیٰ کے
ال نل سے یں اب پالل ا پچھا ہویں۔ محت بل ری خو ھی ران ہوں اور
دوست زی گھی۔ دعا فرامیں الد تالی ابی مت در ےک کام وت کرت
[۲) آ پکی مرسلد داد آ ٤ہ * 288 تھے لگنی۔ نس طرح اور نس پھرتی
تھے آپ نے خاکسا رک یادکیادہ قائل صد شکریہ ہے۔ ال تقالی اس کا آ پکواجر
دے۔ آئدہ گی انثاء انٹر ای رح فوازتے رہیں۔ ۶:ہ: شاہد ات (دو سرا بٹا)
اہی
604
آپ سے ملا ہے نا نہیں۔ عزی: اب فو خوب تلق رکتا ے۔ شابد اح رمیا
ہے۔ ال کرے ہآ پکی حریر سی می دہ انا ذ ہنی مطالعہ۔ ممقول عد ج کعھ لکر
نے۔ آآ پکو پک ھہکھنالقما نکو حکمت سکھانا ہے۔ عزی: شماہد بڑا یرہ“ زین ناش
ٹین با نوجوان ہے۔ ایک خط سے معلوم ہو اکہ قرآن شریف پڑھنا شر عکیا
ہے۔ اگریزی ترجمہ میں ہوگا۔ مھ خیال آیاکہ اسیے نوجو افو ںکو انی بدئی انگ ری ی
تی رسچ رکی لاجر ی سے متتعار لٹ ےکر بڑھتی جایے۔ اس کا حصہ دوم سورہ
اس ےکیف تک تق عخرت مع موعو کی تفم رکا تزجمان ہے۔ اد اج تھے
جوا نکیل ای ۰ذ :×2 خابت ہوگا۔ واللہ اعم
٤1818: )۳( ::8882 3 میں ایک فاش لی ہوگئی ۔ آپ نے 20016 ےکر
لی ہدگی۔ دہ لفظ :33 کا استعال ہے۔ ٹائیٹ لکور بر بھی اور اندرتی۔ اث ہے ہو
ہس ےک 1ہ3168 ۶۲0:186 کوگی اور شخُصیت سے اور مرزاظلام ام کول اور-
اس کاعلاج مھ ہہ نظ رآ یاکہ لف :23بر ایک تی لگا ریں۔ نی کاخ ز کا عکڑہ جس
سے پچمپ جاے۔ ابد او رکوگی عل آپ نے سو چا ہوگا۔ ہہرعال یہ ایگ بست بڑا
کارنامہ ہے۔ ححضرت چو پر ری صاح بکو مبارک ہو۔ مرا لام ا نکی حدممت مل
چیا ریں او بہت ممنون ہو نگا۔ عزی اہر“ ضحخرت چوہرری سے متعارف اور
چو دی صاحب اس سے بوئی شفقت سے یٹ آتے ہیں۔ مین دىی جات جیا تا
کہ اع سے گھ یکم متا ہے۔ انشاء اللد آپ کے 3+168 سے متا تر ہوکاں لا ہو ر کے
زمانے میں میس نے مشرتی افریقہ سے آۓ ہو نوجوان دیکے ہیں۔۔ ان بر آ پ کا
گرا اٹ تھا۔ یہ الد کا ففل ہے۔ اللہ تال آپ کے ہرکام میس برکت ڈالے اور
٢ آپ کو پ رح سےکامیا بکرے۔
۱ واسلام۔ اکسا رہ مرا سم
605
بسماللەالرحمنالرحیم نحمد٭ونصلى علی رسولەالکریم
8-8-9
ار ےکمری م_نزری جن صاحب
الام علیکم و رح الد وب رکا
تل ؛زیں آ پکو شگکریہ کاخ ککھا کا ہوں تس میں ذکرتھاکہ جو 108167
آپ نے عمزیزد شوکت جماں سلرما کے لے کچنوایا تام لگیا تھا جک نکی ہز بھی
ے۔
بست ىی س بکیٹیوں میں آ پکی عدم موجودگی خاص طور بر حسوس ہولی سے
آ پک باددلاتی ہے۔ جما نکمیں بھی ہوں اللہ تحالی آ پک بیشہ شی از نی
متقبول بارگہ خحد مت دی نکی نشی عطا م١ رے۔
رمضان البارک سے استفادہکرتے ہوئے آت جھائتی تربیت میں پل سے
تک رز مصروف ہو میں تا ہو ںکہ الککتتان کے مزدو زان مس تضوعیت
۹ی۹۹ ٰ۷
شدید ضرورت سے اور یہ کام اصل ین سے شُروم ہو نا جاہے۔ جس پچ کادل
ال کی حیت مس مکڑا جاۓ اس پر جوالی اور بڑھاپے میں کی من ت کی ضرورت
میں پڑاگی۔ یہ ایک بامرکت ین کے طور بر کی ہے جو خود ود بڑحن ادر یی
گی ہے۔ ہکن عخرت اققزس سی موعود علیہ العلام کے اک شع سے اہ رہوتا
ے۔
اتداء سے تھرسے می ساب میں میرے دن کم
۹ ,9
آخ پر رمفان البارک کے آخری مشرہ میں خصوصیت کے ساتھ دعاکی
6006
بسماللەالرحمن الرحیم
یھ ل آباد
1789-9
محتزم جن مارک ام صاحب زاداللہ می رکم
الام مم
آ پکو اللہ تالی نے انککستان میس حل ککرنے کامقام عطا فربایا۔ مھ اس سے
بت خوشی ہوگی تھی ۔گو آپ کا جانا دم ہو اور الوداع نہکمہ سگا۔ اللہ تایٰ آپ
کو مظفرو منصور فریمائے۔ آمین
انکتان کا رستور چند دن ہو کہ ہم (وکلا ے) تر تیب دیا ہے۔ عنقریب انٹاء
الد آپ تک تی جاۓ گا۔ فیصل آبا دکی جماعت کا ایک مس اور زین نوجھ ان عزء:
افقار 3868 جو بیماں پر وفسرتھا اور بیشہ جماعت میں اول ربا اور جخرت صاحب گی
اس سے خوش ہیں۔ سرکاری وظیفہ بر قن سال کے لئ 1:0 ھوکرن ےکیلے ا نگکستان آ
را سح 1*8 ۷۷ می لعلیم گاہ ہے آپ سے متا ر ہے گا۔ خائص اخلاعصس رک والا
زین اور لی نوجوان ہے ىہ تخارٹی خط ہے ۔ انقاء اللد آپ اس سے م لکراور
راب کے بعد خوش ہوگے۔ اس کے لے دعابھ یکرتے رہیں۔ خلا ر فی صاحب
سال ام لندن اس وت لندن میں ہیں۔ ان کے پاس مہا دہ محر تکاے۔ "
607
۰۹ صف" کاہے۔ دہاں چیوانے کاارادہ بی راخمی ہو سکا۔
اللہ تالیٰ آپ کے کاموں میں ہپ رآن ترقی درے۔ میں دعاک رت رتا ہوں۔ لم
پیرلڑ بہت عدہ مضاین پی اکر را جبے۔ جو دو مرے رسالو ںکوکم مصرہیں۔
انگمتا نکی جماعتیں نفضل می خوب منظظم اور مخلص ہیں۔ افھم زوفزد
بسماللەالرحمن الرحیم
68 1919ء
کی دحتم جن مارک ام صاحب الام سم
جضور سے ططاتقات کے وقت عضو ر نے آ پکی اشانعح تک بکی مسائ یکو نھرینی
رنگ میس مراپامبارک ہو۔ ماکسار باوجودخیت کے مع لنددنع سے رداگی کے وقت
پکی خدمت میس دق تک یک یکی وجہ سے عاضرخدمت ہ وکر آ پک دعاؤں
سے رخصت ہونے کا موںع نہ لے پر اضسردہ بیگمیاک خاکساز آپ کے لے دعاکر
رہقاے مد اکی فی سے آ پک غی رمعمولی در مت سلسلہ اور مد مت ق رآ نکوابنا
ای راہ مھا سے آپ سے دعا نا لک یگزارشی ہے۔ آپ ک ےگ بھی میزے
چو اور یوک کاخیال تھاکہ یھ مزید مو قح ان سے تتارف کا ما2 اھ تھا۔ بے سے
تی تق کی ری۔
طااپ رعا ےکمال وف
سسےمم۔ یم ت_- -۵سبیہ۔ "لے" ےتسج س٣ ۔سس۔سہہسہسسہسے
۱ بسماللەالرحمن الرحیم
0
866٤٥٥7۰ ط۲
3۸06 010 ٭ ط۲
6۶٥۵۸٥8984 078 ,16
.تا 5.۲٣509
929
۷ 0,0 حد٥ەط ععط 111 ط( ع7758 [۱ ۸ اط5 599۲ا
۱ ۱ ۳ أآہ سع2ط1 (ط) دد ١عصطم علدحع طت75۸ ط5 .×05 غخصنم مجة ہا
0 ور 6ء ت رحعدہز د518( ٥ ص۵ ۵تاوة0]( 13٥0 ط1
0 8 ھم ع نطععظ علا ٤ہ موھج ھٗذ ھسمنەمل( کت
0 18 16 .۸ء7 ۱۶٥ .٥( قعط مط× ٥و۷٤7
5940 عط؛ ٤ہ ۲۲۲8٤٢ صلط اصنمم”ممھ ٥ 1۷85م
.710 ك ظ .۲٥ہ :18ھ صز ٣۶۸۵٤ ءاوەو75
<6 ٥93۲ تحعصد صم ا۵ (688٥ ط٥ 8 1+ ط٥
0906 54 ٣٢ 3× ەط 15 70۶۰٥ 8: 6۴7۰
٦٦00< ۵٢٥۴ 11عط
7۲1۲٥٥٥ 86 7[٭
لاہور
24-9-9
مر اب
الام یکم ور اللہ وبرکا<
اب صاحب اور ا نکی ٹل کی خوب روف رہی۔ ان کے امھ سے خط تا
ہوں ۔کل شام ش فحضل اج صاحب بھی آ گئے۔ آپ کاذکر رہا۔ آپ کے گے دعا
گی۔ ال تھالی ہر طرح سے کامیاب فریاے۔ ساسلہ قرتیکرے۔ ا پکی نیک نی
اور نیک شمرت میں اضافہ ہو چلا جاۓ۔ آین
0٤7818 868:08 کے پان لکور میں جس غلض یىی طرف میس نے پسے
خط میں وج ولائی ھی اس کے متخلق آپ نے یج ھ کیا ہوگا۔ اکر یجھے اس سے
اطلاع دمیں و عاجز ممنون ہوگا۔ غلط بی ہےککہ ایک لفظ 33 فالت آگیاسے اور غلط
کب ھکاس جس سے ٹاتٹل کا مفروم بالئلکھڑکیاے۔ مغموم مہ ہوکیا ےک
یکذ عو دکوئی اور تی ہے اذ رذ ظکام اع ھکوکی اذر. کی وو دکی خر وں
کے اققیاا تکو مرزاغظام ا نے مخ بکیا اور عکیا سے !!
٦ سے ریت نے الل تحالیٰ آپ کے اتنے عِزم کافیاب
غرماے۔ آ ین
کرر۔ اگ پر جیپی لک جاۓ نے خی کاازالہ ہو جا ے۔
60
جو وو تنحمد٥وتصلى علی رسولەالکریم
20-109
محبی)ز رگوار پچ مارک اتر صاحب
7 0 نم ور ماش و رکا
ےت
انل خبارمیں آ پ کا کون پڑھاادراں رح اٹی خوائش کو جلد بی راکرت ےکی
ایک کریک پیداہھگئی۔ آپ سلسلہ کے بت پرانے مبشر خادم اور ہنی کبیل
ال - آپ جیسے لوگ ق3 فدا تال کے قرب مس رہچے دالے ہیں ج نکی خدا تال
ھت دعا میں تا ہے۔ الا آپ سے شس ہو ںکہ خماکسمار کے لئے فاص طور پر
دع یں فرمائی ںکہ خداتالی اپن خفل سے کی کو ضف او انی ور
انی تک کے لئ اپنے ففل سے کامیالی کے سامان بیدا فرائے۔ آن
خالار
َاكّرعا
( شارت ال
611
ےس سے سے اسوسمسمسسمسھمہ ےےے
بسماللەالرحمن الرحیم
لاہور
ا٣و بر2۹ے۱۹ء
حتزم جناب اہام صاحب
السلام عیگم و ر مت الد وب رکا
خاکسمار بگھ للد بر سوں دوپ تذریت یہاں ک کیا تھا۔ سف رآرام س ےگ رگیا۔
یہہاں م وحم اع تال پر ہے۔ آ پ کا والانامہ کت ہی عزی: ید نھراللد خالنا کے پپرد
کردا اک جلد چان کا تا مکردیں۔ امیر ہے موب الیہکی فدرمت میں ا
کا ہوگا۔ حفرت امیر امومنین یرہ اللنحرہالعزی: نے اکسا رکو ۲۴ نو مبربفتۃ کے
ون روہ میں عاضر رت ازس ہونے کا ارشاد فرمایا ہے۔ حنزم جناب جس
صاحب کی غرمت من بعد علاع انا رکی طرف ےگ زار کروی کہ زرل
عاضری کے مو تع بر ان کے کت بات انشاء اللہ می یکر دو ںگا۔
جیے آ پکو معلوم سے ناکسمار ا یتب کے متعل قکسی سم کا عوضان طلب
خی ںکر٣۔ اللہ تعالی اہن فضل و رم سے اس خدم تک فونیقی عطا فراً ہے۔
کی رضا سے بد ھک رپچھھ تو جئیں۔ البتہ چند نے اص احبا کو یکرنے
کے لے اکسا رکو صب ضردورت خطاکرد ہے جاتے ہیں جن کے لے امابیت منون
کر رر مت
ہاں کے بر ع زیو امتہ الھی نے مندرجہ زی مطبوعات اپنے لے اور اپکی خائل
ین کے لے جن کے نان وہ وط 1ک ھی ہیں طل بکی ہیں اور شک وکیا ےک
خاکسما رکی طرف سے کب اطمعیں میا خی ںک یگنھیں۔ اس لے آ پکی خحدرمت
612
ہم>متممم._مکتنح6-۔ےے_]ژ ڈآ9پتنک"۔ہ۔۔۔یسیسسسہے
سگزارش ہ کہ آپ از راہ نوازشی منددجہ ڈی لکتب کے مھ بچھ شۓے اکسا کو
قائل اعد اجاب کے اھ جو یماں آنے دالے ہو بپھوانے کا اتظام فرمادیں۔
غمایت ممنون ہوں گا_ نز اکم اللد رک ےک ا خماطرریکارڈشش ان را گی
ضمردرت ہو لو اریہ لوڈیش کی طرف سے اس لوان یا ماہوار جو اس پش ادا
بہوتے ہیں اس کھاتے میں شا رک لییں_ عزی فیاش ام کابلوںن سک رڑری اضر
ونڑیشن سے اس رت مکی دجن یکی تق فربالییں۔
58 مہ ریائضی السا نین) 6106 00 1-621803070727
) 858 .181301 47 7658788826 ط7 1١188 صسطھ.2
0٤ 161801۷٥۱. :6 )58 7886666 .3
سہ اعقیاط ضردر فربا لی کہ جن احباب کے پا بیہکتب ارسا لکی جائیں وہ
اط اور پدرے طور پر قابل اعماد ہوں۔ ۶:ی: فیا امھ نے میرے مر ے
رشصت ہونے کے بعد ذک رکیاککہ ان کی کچھ بات محتزم جناب ڈاکٹ عپرالسلام
صاحب کے ساتھ مساجد ڈیڈ کے متحلق مل ربی ہے۔ نماکسار نے عز :انور اص کے
مکان سے تیلیفون پر آ پکی خدمت می ںگزا ر کرت ےک یکو شش کی تھی لان
ات ت روز آگی۔ لع ہے می“ فا اب نے ھکرپ ےی ء دنہ اکر نی نکیا
قے آپ فود عزی: سے دریافت فرائیں۔ سب احا بکی خد مت میس اکسا رکاسلام
چچچادریں۔ الد نعالی آپ سب کا ہ رظ عافظ دنا صرہو۔ آیین
واللاع
:
613
0 ج گ زيَ گزچ ۂخڈھڑڈعجیھو عع>۰و[* 0۱
بسماللەالرحمنالرحیم تحمدہونصلى علىی رسولەالکریم
وعلی عبد٥المسیحالموعرد ۲
واراللاع
2-12-09
بعاہی عرمت پزرگوارم مامت پیا رے بّّ مبارک امر صاحب انام و ام رتماعت
ارب ا متان
السلام عنم و رت اد وبرکات
اللہ الل تعالی سے فقل وکرم سے یماں ہر طرح سے ریت ہے۔ جب
آپ کے انتا فی نکی خی تی فو بمت خوشی ہہوکی تھی۔ اص طور یراس وجہ
الب ادتقا نے آپکو دا کے جزررنگ ول کے لوکون بک رت کی
موعوو علیہ الصلو , والسلام کا پیام بہشچان ےکی ذف عطا فرباگی ہے۔ اس سے مل
آپ دنا کے ساہ فام اور اٍائی ھمانک میس محروف عمل رس اور اپ .لہ
تفالی دنا کے سفید فام لوگو ںکو پپیام جن پنپانے میں مصروف ہیں۔ اللہ تمالی آپ
کو اعلی صحمت عطا فریاوے او رآ پکی زندگی میس خی رصععولی برکت عطا فرماۓ اور
آپ کے ززلہ مخرب کے اندمیرو ںکواسلام کے نور سے منو رکرے۔ مین
ات لا ےا بن ا نے ہی اچ ان ضا کے
ات مغ را ہے جس سے ام ےک جح تو کے کات کت
لن میں اض سرکاری ارات اور اتک مال اننس می شرک کی
بے جانے کے ل ےکھاکیا ہے یہ بر وگرام وسط و بھی رس شمرو ہوا اور قرببا چار
نے کا ہوگا۔ آپ دعا فریاوی کہ اللہ تھالی اس سفرکو میرے لئ بہت مبارک
گرے اور اسے مزید تر قیا ت کا یاععث بنائے۔ آمجین
لت
۰ یمان داد الام اور لنڈبی کے علا قوں مین جراعوت )
راد الگا مور وگورو کے علاقوں کا لم الل تال
دی علاقوں می ۷
ہے الد تال لاح ی تکا ادن دکیائے۔ مین
فتا۔واللام
آپ کا ری
کک
: بسماللەالر 0
او حمن الرحیم
6ر م919,
کی چناپ امام صاحب
: ۰ الام مم رع 2 اورک
اپ کادالانامہ مرقومہ ۴۸ وم یررے کر ظرے وا
ایا۔ آپ انال وو س ےت کو
۱ و رورس
قد مت ہے۔ اکر اسے ا فا کو پ راکرنے والؤ شا ًَ
ساتھ تا ہگ گزار شی ہ کہ اع تکوجونتان بی کرے از
کی لت
کا کر انا نان ادر شرت اور 9ات کے سا جار اتا
و مس یک یل لی
. چٹ ک ےکر می کیاکی میڑسے ما یکر یکچ رر
رکریں و سے کام یی نے
پ نڈ ادر سرگرم ہے۔
: ِ لد لوڈ دے گا۔ عھموئی طور
حم ا اہو ما ے- مورک علاقوں بش يْ اثال کور کیڑے ۱
615
دو سر یکرىی پر جو دروازے کے قریب سے اکسا رکی ایک تقر زی منوان
73188886 68] :1818 کت ریا دو کاپیال دو ہے
کانذوں اد رکتب کے اوپر بی رکھی ہ کی مل جای ںگی ان می سے ایک جو دونوں
یس سے اور رکھی ہوئی ہے اصلاح شدہ سے اسے خطالعہ فان ےکی ملیف موا را
ف امیس اور اگر اسے اس تائل ججھھیں و اسے بھی احریت کے نف ریفلٹ کے
ماع ہوتے کے پچھھ عرصہ بیز یفام کی صورت میں شا ئ کرنے پر ور فرما لیس کو
اس کا جم دو ورقہ میں شش ورقہ ما ہشت ورقہ تک کچ جاۓ گا۔ آپ نے جو
جواب ڈ لی خکیگراف میس مسشر+* ہ001 کے کالم کے جواب می ںککھا تھا ا کی الیک
نل ناکما رکو جوا وس کن ےکہ ہفنۃ دار ”اہو ر'' می ا سک اشاعت ذائُدہ
مند ہو گے
جملہ احیا بکی خدمت میں ناکسار کا مودبانہ لام نتیا دیں۔ اللہ تمالٰیٰ آپ
ہب کاعافظ و نا ھرہوے
۔بسماللهالرحمن الرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
16-1-1959 '
پاارے برادر مکرم جن مبارک اص صاحب
الام یکم ور ح2 الشد وپ رکا
آپ کے خط می جو بے قراری پائی جاتی سے اس سے کنا کہ جل ہکی میں
66
لےيسسیچ ہے ہی
یقت ےت ان 7 ّ۳ : نے
اچ دلوں بی راوہ سے پا ہرر”نا ایی ہے ہیی کی 7 ٍ
لے پا سے باہ رگج دیاجائے۔ ےت
یں نو آ پک کی صرف جک پ ہی نہیں مہ آئۓ دن ملف بیالس کے
الات دگیرہ کے موںع پر اور ویسے بھی سو ہوتی رہتی ہے۔ ربدہکو جن چتر
شیا تکی عادت یا پٹ گی ہے ان یں سے ایک آپ ہیں-۔ 7.4
ہچ ہے سی ا یٹ
ا و بکی ضردرت ڈی آئی آپ بمت یاد آئے اور ان نکی جماع ت کیل
بی ون تن دعال کرای کادخشش ادوسب شال ہو گے نوس نے پ قنت ا
گی ۔ بج اعم اللہ ان الجزاء
چجھووس ہی چھتی
۱ 7 : 8 پ
متحلق دوست احاب لک رچے ہیں اور ول سے دعا نکی ےک غدزا تال
آ پکی عمراور حھت اور خلوض اور استطاعت مل برکت دے اور تاور خویوں
اور خعدمت دین سے پھر ر زندگی عطا فریاے۔ مین بک
نس ےسک ور ی صاحب
اور و یر احاب جات ۲ /
باب حت او رکا رکنانع ساسلہ کی نید مت مم بت ؟ :
با ر- غراعافظ- "7 حےں
واللاع
617
کچ سے عم َِلَقّتکتتگکگتيگٌے
٥ 03 615880۰۰ 6841 5 [ ط٤1( 152
.1980 ط٦" ط٤ 19
۸78 <5083( .ط5 106۶
ررں م1877 ۸ 0 ص88318ھ
0ز ۶۱×۲ غعط] ۲٥۵26 )عو وص ء( ؛ ٭حدہء ٥ط 1
و٥ۃ×م×ہ ٥ تاالآط2 ٥٥ہ ]اط ۲٥1٢ ×1٤طنص ٣١٢۶۶
2 بروعوہ۶< ٤ قط٤ ۱۶ہ ٥ہ <×ہ٦٥ ەوز [18[ع صظ ×1 861٤ 7007
دج طز ہ355 8 3٤ ط8 آ ہرز 3× ورز ع(دمجرہ تزالد۶ە ہ8
[60) وط ی ۶۸۷م ہەط ٢٣ط 7011 اهط ×وطۃا آ 150ھ
7ج 1820ھ ط8 ەل <700 ۶ور ہہ صلەط ×ط
]٣۳٢[8 800۹ !زهو د٥ط 81٣٢۷۸٢٣٢ وط طہ[اع صظ 700
ں۶تا مہ۲ عصنط٥ ٤٤ ء(5ج٣۵۲ئ1.6 7010 0× 8٢۱٤ اتا
2ئ 000561 1و مو رہ6 ط٤ جچط() 4٥ ہاج صظ ٥ا
إ+وطغ) ×داہ دہ ] ۷٢۶۲ ٢٥١(1. وھ چ(٥4 ×0 8180 850
٥إء 71040:65 ہ١ ٠7ء ٥٥د٥٥٥ 10 0 وج ات
8ء اہ اچ صظ جرز ۶۰ )۲د چصغ:40ہ٤ ا و چ اناجوہ ص٦
3 ۶ ××0 ۷ہع ط٤ ٥ہ عنہ [ومزخ۵۰×مّ 8 ٥٥ا ٢٢ 16
٣ئ ۷طخ 0] ب٤٥ م۵٥ 7 27837678
۴٥٥16 ۶ 0 ەطغخ 3ئ٤0 ۲٢٢ 26610158 ط٤ 11001:18
روط ٥٥٥< اتا[ ەط ج٤ 05ا17 6ہ[نطل /1 دط۵ا٥50
8ئءءءء58 رز ؛غحعسوآ ٭ط٣ ٥ہ ۲٥7۵۶ ط٤ 9000.770308
٥ 8111 8 زط مصیاوء٭ط اہ 300 ۶۱۱1 8٥٥٢٠١ 18
تورتسی۸ٛم ×3 ص693 .77( 1 ۱۵ء5 جرز غ 4٥٤81 ١٤٤1٥”
مط) و ٥۷د ععط عط 20٣٢ ع سط ۶۱۱۶38 5000 ۸71860٥ھ
×ەهطع0 8 8150 وو ×ط7 33٠ 3ل 51:0101046<8٤:0
3۳۲۲87 غ رہ۳ عط طط 4 صن۱"ط 1۰۰[00×ہہ<ھر ط۷٣ 268807
٦8850. ۲۷6 وه ٥٥ط و وچ و( سذ ط٤ہ5 ٥ا
٤57 6 6<×ەط٢ 1 ا٥50 جز ح8وصدل 835٤3:5٥ ٤6
618
58 .0 0۷ا 6 ×عطزہ1 58 ٥
7,009 36 6 60 6م 7[ 16
٦00۴ 717
.8 08 ھ.م
کی مج رک
بسماللالزحمن١
لرحیم تحمد٥ونصلی علی رسول+الکریم
کم و محتزم
السطاع میم در حت او رکا
آپ کاخ مرسلرھ فردری ۱۹۸۰ء ط۔ا دش آ پکدا بی پا و ا
وی دگا۔ لی کے لے دہ دن دلو ںکوالل تال بڑاۓ خر ے۔
د یا گال تایآ پک زایدسے زیادہ اد اشن رٹ میں تر
گی نی دے۔ آمن
واللاع
(دجخجط)
غلیز: ا لح ڈالۓ
0+0 ۸/۸/0
شالت الرحنن ازع
نل آیار
21-4-0
رادرم محتزم چا مارک ات صاحب
خاکسا رک و آپ سے دلی عبت اور الفت ے_
حا
آپ کے لے داکرا رہاہوںک
"کی میرم سے
کو مدان میں بک کاشننی ہیں۔ آپ کے اد ربیرے ع زس حر
َ ان کے گے بھی آپ دعا ف رای کہ اللد تا ی ال سم
و و و کک
ےج ٠ کے پاس موجو در ے۔ عزیز سعید الد صاحب کے پاھ دائیں
ع تا وک مب
بج ت۔
نا منا سیب ب والسلام
ماما
رظ
ا ا یک
ل١ ٍ
لل٭الرحمنالرحیم وچوس سی
۱ 9
بسم
5108767
21 ی1980ء
ککری و حنڑی ش صاحب ملک اولہتھالی
الام علیکم و رح الد وی رکا
ےچ اش ٦ ملا۔ جنز اکم الد
آآ ب کا ام ی کاواز نامہ و ہت
عم جار 2 5
گی نوان ےکی ترام رم می برداشتکرو لگا اس جار جس مرک جیب ٠
ع2 یرہ تو سیت
2 4 و 0ب کی 3 : ََ
: کم اکر و اک کوٹ پک ا ا مر
یی من تم جوا رہو ںگا۔ اس کون ٹکو 037256 ۔ صاپ پ
سا رت لی 0
60
کا وگ تھے اس س ےکوی فرش میں کی دی موی رق ک۷ااسقوال صرف اس
مر یلج یج مازی طرف سے انقاء ال بنائی جار ےگی۔ امیر ےک آ بک
ال سے انفای ہوگا۔ بہرعال می کسی دن حاضرہوں کا مزید اس بر و رکر کے
طراق مقر رک سی یں۔ آ پکی دعاؤں کابست شکری۔ الہ تال اسان ےک
ان نے ےل ازم سے یق دی وت عون لیک ول آفانہون۔ 1ڑ
قائی کے اضابات گے نس جانے۔ الہ تل آ پکی ری ررض رت
نت ان۔ آپ نے اکر اعت میس خی ز نکی کروی ے۔
واللاع
بسماللهالرحمن الرحیم
بد مت جناب ممیرے پیا رے بھائی تن صاحب
7 السطاع مم و رعت ایر و رکا
فد انال آ پکوٹھی بھی عحت دای حمرعطا فرباے اور ہم آ پک پارکی آواز
کش لئ ریں۔ آئین ٦
کے ید وانے دن امقہ الیل یٹ نے لفافہ یگ رآ رکولا رجش زارد ار
27 نما بائی جان قادر کے زندہ ہو گے اپیے ہر عید یر الیل اس طرح
سے می بن فافہ بالئل اییے بی میرا نام ککھا ہوا ہوم تھا یں آب بر سے صرتے
جال بات پونڈو ںکی نیش بات آپ نے بھ ٹکو کے یاد رکھاہدا ہے تیران رہ
آن۔ باشاء ال اتی بڑی جماعت می سے میں آ پکو سے یا آئی نے عرف الله
61
تال یکی طرف سے ایک مججزہ ےکم نہیں آ پ کا بمت بمت شگریہ شھے امید سے ہج
لیک سک آپ بیضہ دعاؤوں می یاد رعھیں گے آپ کے سے برودقت وھ ارت والی
ب نکی طرف سے صخیہ اور بیو ںکو بہت بھست پا ر- “ آپ سے ا ققات کے لے
م رق ض نت بوگیت
واللاع
آ پک :کن ۶ہ
12-8-0
71 کن ا رر
بسماللهالرحمزالرحیم نحمد٥ونصلى علی رسول٭الکریم
71
9ات 1980ء
ری شی صاحب سکم الد تال
الام یکم و رم“ اللہ وبرکا<
چھم س بکی طرف سے آ پکو اور آپ کےگھردالو ںکو عید مارک ہو۔ اللہ
تقالی آ پکی زندگی اور صحت میں برکت ریں۔ آپ ہمارے لے دعانھی ںکرتے
ریج ہیں۔ ان کاشگریہ نو ادا ہو نہیں ستا۔ اللہ تعالی جزذاۓ ردے۔ آمن
٤ و نڑاف ہیں۔ اس کاہماری طرف سے عییدکینے خمفہ خر ید لیں۔ اور ا یکو
قول فرماوس مفگور ہو ٹا اللہ تا یٰ عافظ وناصرہو- آمن
والسلام۔ ناکسار
+8
"22
510۲۲۶٥
4الت 1980ء
ککری شغ صاحب محلم الہ تولی
السلام میم و رح الد ویرکانۃ
آپ کا۵ااگست کانوازش نامہ لا۔ جتزاکم الد ۔ آ پکی دعائؤں کابمت شگرے۔
یس تے بتک میں ۲۵ ہزار بونڈ سر کے نل دنین کا وعد ٥کیا ہوا ہے۔ آپ نے
فربایا تھاکہ ایک مد انقاء اللہ ۲۵ ہرار ٹڈ یش بین جات گی فو میس ن ےکھا ای کگکی
میس ادائگی ۳۵ زا کر دوں گااور یہ مج یس اپنے دالدین ادر یرہ کے دالدین
کے طرف سے موانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ اس بارہ می امیر کول
اعتزاضس خی ہوگا۔ حخرت صاحب سے تھی ٭ 1688 1گر لٹی سے تو لے
لپ میں انا ال تام رم ںیت عوکر ون ماک پک سک
اطلاءً عرش ہے۔ ججھے کل بین جانا ۓے اور برا م ریہ بہرعال ٣٣ تقر سے پل
انقاء الد تام رٹم آ پکو مل جاور ےکی اور اس وت یں اپنے ادر یرہ ے
والدین کانام بھی جنادوںگا۔ سب چے جوگرمیوں میں جمارے پا رسہے تھے دالیں
کرای چے گے ہیں۔ باری بھی پت یگئی ہے ا سکی اسر ےکی ری رٹ اتی ےک
ا سی صحت فضل الد ترثی بر ہے دعاکی درخواست ہے۔ دعا فرماتے رہاکریں الد
تال ی انام کی رہو اور مرج بھی عطا ہو دہ کام والی ہو۔ اللہ تا ٰیٰ آپ کا عافظ و ناعر
ہو آین
"23
بسماللەالرحمن الرحیم نحمد٥رنصلى علی رسولەالکریم
اتی
10-10-0
قدمت متزم چ صاحب
ال لام یم و رح ال ورک2
ال یىی روں سے آ پک کامیالی کا یڑ کر خوشی بہوگی اور اہ تھوڑے
وت میں آ پکو ڈھ رسارے مشن پاؤس بنان ےکی فذطق کی قائل خرکارنامہ سے
فدا تھالیٰ آ پکو ہہ اعزاز مبار گکرے اور آئندہ گی زیادہ سے زیادہ کامیاووں
ار وراے۔ آمن
یہ عابجز آ پکی دعاؤں کا ہروت متاح ہے۔ امید ےک آپ ضردر مرالی
ناس سک ے کے ما ری کم ال تک
اپنے قرب سے نوازے۔ آین۔ بیو ںکو کیک اور خادم دین بنا اور زندگی ٹین
پ رگ میں کامیالی عطا فریاے۔ اکسا ر ہہاں دقت متاح دعا
رححت الد
بسماللهالرحمن الرحیم
0ر اتل
٣اد ۱۹۸۰ء
الم دز جاب تب صاحب
: الام میم و رن انشروب رکا“
آپ کے ار شاو متعلقہ رم صد تک تقی ل کرد یگئی تھی۔ جز اکم الل
604
جناب ساقی صاحب متزم کاوالا نامہ مرقومہ ۳۸ نومبراپنے وقت ب م لکیا تھا۔
را انت اکا رج ےککرے ضس بھی سورہ نون سز کت کے ایی تر کے
کی ثول موجود ہیں۔ ساقی صاحب سے ارشاد فمانئی ںکہ ماکسار ےکھرے میں
سوفابر جو ول ہیں ان میں ملا شکری ںیک آیا سو رہ ماتدہ تا سو رہ لب ہکا رم موجور
ہے با تہیں۔ اور اىس کے متخلق اطلاع ومیں۔ ان مس سے می تر ےکی بیہاں
ضزورت تییں۔ نماکسمار خرت اھب رالموسنین ابیدہ ال بخصرہ العزیز کے ارشاد کے
مات سورہ فاتجہ کے تر ےکی انظرغال یکر رہا ے۔ سورہ ببقرہ؟ کل عران اور ناء
کے تزا مکی مقول ربدہ میں موجود ہیں سورہ ما دہ سے سورہ نوہ تک کے تھے
کی علاش ہے۔ 5
رم جناب خوری صاح بکو ارشاد فربامی کہ میرت رسول اکرم گل
(انگری:ىی) کے تن نے جلسہ سالانہ بر آنے دا لے کسی قابل اعیاد دوست کے اھ
اکسا رکو مغ ومیں۔ اگر اع دوست کاگ ر لا ہور سے نہ بھی ہو فو جا سالاتہ کے
موق بر اکسا رکو یا سک رٹری ففل عهرفو :یش کو رے دہیں۔ میا قیام اس وق جلسہ
سالانہ کے ونوں میس صدرائھن کے پہلو میں صصدر ائجھن کے ممان نانے میں
ہوگا۔
میں فل الد کثریت ہوں۔ امیر ہے آپ اور آپ کے ال و عیال اور جھلہ
امب بماعت بھی نضل اید کثریت ہو گے۔ ناکسار کا خلصانہ صلاغ 02..,
خدمت میں نانچاریں۔ اللہ نَا ٰٰ آپ سب کاعافظ وناعرہو۔ آئن-
625
بسماللەالرحمن الر حیم
5-1-81
رم و حم جناب شی ضناحب سکم الہ تل
ال لام میگ ور “او ر۴<
سنا تھا آپ جلسہ سالانہ پر تشریف مادریں گے لو بر طاغیہ میس بای مشن پوس ز کے
قام اور تیم تغ تزبیت کے میدران میس مل عرصہ می کارہاے نمایاں سرانجام
وٹ بر مارک ہاو بی کر سو ں گا من آپ تشریف نہ لا و اس عویض کے
زرییہ آ پکو وی مارک ہاو بی یکرت ہوں۔ ف اکم اللہ ان الجزاء
آپ کے لندن مشن کے عارج لیے کے بعد دا توالی کے فضل سے اخکستان
یس ایک نمایاں بیداری بیدا وی سے اور غاصا تحود ٹوٹا ہے فامدللہ آ پکو
مارک ہو۔ ماکسار کے لئ دا فریات ہیں ۔ بی عابز آ پکو دعائیں باد رکا
کمرم شی فضل مر صاحب وکرم ور ام من رصاحب سے ماقات ہو لی رمق
ہے۔ بلہ جل کے ایام می گرم شی فل اج صاحب مک ال و عال اس عاجنز کے
مکان بر تشریف لاے ۔کرم ساقی صاحب “رم ور ی صاحب او رکرم کم باجوہ
صاحب گرم ار یٹ صاحب او رکم ٹاچ رشید ترصاحب او رگرم ).7
حیات صاح بکی خدمت میں اس عاجز کا اللام یم عرت کر دہیں۔ککرم ہنلوىی
صاح ب کو بھی ۔ ککرم ملک عپدالعز: صاحب کی وفات کا بہت اض وں ہوااے۔
انموں نے بیو ںکو قرکآ نکریم بڑھانے کے سلسلہ یں بہت خیدمم تکی ہے۔ فجز اہ
ال
گر ہار غماطرنہ ہو نان کے بیو ںکو اکسا رکی رف سے لحزیت کا ظما ری
626
دوست با خط کے و رجہ فر اکر ممتون فرماویں۔ جز اکم الد
والاع
خاکسار
ارام رٹقی
کاشانہ دانش ۔دارالصد رو ی۔ روہ
ل۰
ےل وت
لاب ر ٹول
۵ ری۱۹۸۱ء۶
محتزم جناب تچ صاحب
السلام صلیکم و رحنء اللہ وی رکا
ارچ گرم جناب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب سے طاتجات کاانفاقی فو یں ہوا مین
آپ کا دالا نامہ ھرقو مہ ٢ نے دی 7002381 کے بر چپے کے سام اخوں نے
پتیادیا تھا۔ اہ اللہ خراً
تق تن خرن نے کی کان رات در وپ
کرنے والا اسان ی سے مض رخیین ٦۴۔ب رصورت اللہ نما یکی عطاکردہ نشی سے
جو بیج مھ میں آیا ارسال مد مت ہے۔ 176030336 کا مشمھون نمایت اتم
ےت تھے نا اه ےت
760008 کاادارہ گر قام کا خمام الع ن ہکرے و ا ھا سا خلاصہ بی شائ کر
رے۔ سم پیل یش ت چپ ہی جاۓگا-۔
یسے خاکسمار نے ٹیلیفون رگزا رق کی تی حضرت اھیرالم ومن ایدہ ال کی
627
تچ گَےےصَُلَلََُْۓُُْْکعحژجحجچجھ29ء۶ ۂٌوے۔وے٭وََوھِ۰یسىسىگككككٍىك09ك20-×ٗٗ
منظوری او راجازت سے خاکسار انشاء اللد اپ پل اندازے سے دو ہف بل لن ا
کیم مار کو عاض رغرمت ہو کے گا۔ واللہ الم وْ۔ پواز اور دق تک اطلا بعر ۱
یس ارسال خدمت ہوگی۔ جملہ اخاب کی خدمت میں خاکمار کا علام اور
در خواست دعا نیا دمیں۔ اللھ تا ٰیٰ آپ سب کاعافظ و نا صرہھ۔ آمن
واللاع
بسماللەالرحمنالرحیم
19-2-0
کر و محتبی جناب تن صاحب
الام ملیکم ور جم" اید وب رکا
آ پ کاخط ما۔ بجز اک ال - جھے نو یماں شی بی آنے جانے والموں سے معلوم
ہو زا ےک آپ کے جانے کے بعد نمایاں تبد ہی یا ہوئی- دی کامو نکی طرف
رد عو رقیں لڑکے توَجہ دے رہے ہیں ان میں قریالی کامادہ پا ہو رہا سے اب جو
کلاس گگی سے ا سکی ریپرٹ الفضل میں بھی اس کابھی نماياں ان ے۔ آتندہ
70 2 ا
آ پکو صححت کے سا کا مکرن ےکی فوفق عطا فیا دہ کام جو اق تل یکو پند
دنت ےا اد لن زاون کک نان با ےک لاف ین
ہے۔ بے بھی اتی دعاؤں میں اد ری مود ین اور اس کے بیو نکوجھ یکہ اپ
"8
ای لئ می کامیابیاں عاص٥ لکرہیں اور دیداد خی ئیں۔ صفید بی نکو السلام میم
ہگ یکویار۔
واللاع
خاکسار
ریم صریتہ
کت کن ا
بسماللۂالرحمنالرحیم
تحمدوتصلى علی رہولەالکریم
روہ
6-6-1
پا رےکمرم حتزم حضرت بخ صاحب
الام علیگم و رح" اد وی رکا
آ پکی طرف سے آح عزب: مود اہ سمہ این میرضیاء اد صاحب مرو م نے
جمایتق اہھیت کے مر مشقل سلاغیڑ ز ری جج نکواسی وقت دک ھکر طبیعت ھت
خوش ہوئی۔ آپ نے بھت اپچھاکیاکہ تصاوم ےکاتخارف سلائیڈ ز کے ادپ دی در عگھ
دیا۔ نے دا لےکو بڑی سہولت ہو جاتی ہے۔ در مالک سے بھی سلاحیڈ زی ہیں
لین یہ حم تک بات آپ کے سو اکس یکو نمی سو بھی۔ ماشاء اللد
آ پکی مستعدی اور بے بناقوت عمل ماشاء اللہ قائل رشک ہے۔ مر دعا
ےکہ اللہ تعالیٰ آ پ کو خوشییوں سے معمور عحمت و عافیت دا ی کامیاب غ مت
دی نکی ذف پانے والی تیگ انام زندگی عطا فماے۔ وست پاکار رے 9 دل با
ار۔ پییشہ ذکرالی سے پیا ہونے وا ی ماننیت قلب نیب ہو۔ آپ کے دور ٹل
"29
انتا نکی جماعت میس جو پاک تجبدیلیاں پیا ہو دی ہیں ان کے عم بر دل ے دعا
لی ہے۔ بجزاک اللہ نالداری یا ٰ
واللاع
ماکسار
رز اطا ہر۱ ھ27
بسماللهالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
۶۰۴١ اگست ۱۹۸۱ء
ری شی صاحب سکم الہ تال
اسلام علیھم و رصن الد وی رکا
جا ری ح بی طرف سے آ پکو اور آپ کے ابل و عیا لکو عید مارک ہو۔
دعاے اللہ تالیٰ آپ س بکو اتی ا نگنت پ کنل اور رمتول سے فواز تا رہ اور
کہ یکا مکرنے والی زندی عطافریاوے۔ ین
آپکی مامت میں اوغا کی درخواست سے دغالؤں میں باد فریاتے رہاکریں۔ ئیدہ
اور ار یکی صحمت اب اتی ہے دعاؤ ںکی اور تاج ہیں۔ ایک تج ری رم ارعال
ے ماری طرف سے خمہ شریر لی اور ول فماؤیں۔ کل آپ کس ےگھرے نمایت
نز اذر خوش رگگ زردہ آ پکی می بٹی ل ےکر آئی۔ بت پیا مدکی ہنی ہے۔ جذ ام
ایل ۔ می نے خو بکھایا ہے۔ الد تال آپ سب کاعافظ و ناصرہ+د۔ آمن
والسلام۔ خاکسار
60
بسماللالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
وعلی عبدہالمسیحالموعود
پر ورڈ
کھرٹی و مھنڑی مولانا تچ مارک ات صاحب
الام میم و رح اللہ وی رکا
امید جیکہ آپ سب احاب ریت سے ہوں گے۔ ناکمار نے گا قدام
الا یہ کے انا ہضلو میں شرػ تگی۔ اس مرح جھ خوگی میرے دل میں پیا
ہو گی اس کا یا نک نا مر ا سک جات تییں۔ اس ل ےک نماکسا رکو خیا وخیرہ ککیتت
کی عادت تس ہے میں تنے واقعات پڑت ہیں حخرت کی موعورعلیہ العلام کے
صحابہ کے زمانہ میں۔ آپ کا ہم سے بمت بی شفقت سے نا اور آپ کا پیار اور
آ پکی ممانوازیی سے مھ ہوں با ہو رہا تھاکہ آپ بی حخرت کی موعود کے
صحالی ہیں> اىی طرح آپ کے ناب سائی صاحب نس پیا ر اور محبت سے ٹے اور
لن می ایی ابناحیت نشی مس اپے آ پکو رم نمو رک رآ رہاکی کہ میں بمت ب یک مو
ول اىی طرں میس رسنل اک جادید صاح بک معحبت سے مث ہوا۔ ہہ سب میں
اس لے لکھھ رہ ہو ںکہ میس نے پل بھی لندن مس انتا ار نمس دیکھا۔ میری
زاین آپ سب اناج کے لے این کہ آپ کا مار ادر عبت بش بعٹی سے
لئے ہمارے درمیان قائم رہے۔ میس ایک بہت بیگناہگار انسان ہوں آپ سے
درخ است دعا ہے اللہ تحالی مھ نیا لکرن ےکی فی عطا فریاوے۔ میرے والد
صاحب کی مففر تکرے میرے کارویار یش برک تکرے ری اولا وک یگ اور
صا بناوے اوز احریت کو یش بیشہ کے لے قائمکرے۔ آپ کی دعاؤں کا
طااب۔ آ پکاغادم ررضااشھ
61
بسمالل٭الرحمنالرحیم نحمدہ٥ونصلی علی رسولەالکریم
روہ
69۹
خی مم شی صاح ب کان ال مم
السلام ملیکم و رح" اد و یکا“
: ارگا: ای سے اعید ےکمہ آ حر مم اپے رفقاء واحاب .لغفلہ تما یٰ ریت
سے ہو گے۔ برازرم چ یراج صاحب سے اور بھی الفضل سے اور عموم نین
نے آ ےلات ایاپ سے اآی کی شیب رز دق کا مکی مھ وفیات کی قر
لم ہو رہتا ہے۔ الفضل میں یک تقری بکی رہپارٹ پڑھی تھی جس میں آترم
او رگم اص صاضب رف دونوں نے حصہ لیا۔ اس سے بھت خوئی ہوگی۔
ہارے مبلشی نکی حر میں ایک تکلیف دہ پھلو ىہ ربا ےکہ جماں دو ملغ اکٹ
ہوتے تاور ہام تلق اور زاون لتض وفعہ خوشگوار نی ہو ا تھا۔ اور ایک ایبا
مغ سے سبا عرح کی علقہ میں کا مکرنے کا وع لا ہو۔ ا ںکی جکلہ دو سرا آ جائے
قڑان کے نفلقات کا درس رہنا٥ت قایل ریف اوران دوتو کی دصعت فی
اور اڑا کا اع دار ہو +ا٘ے۔
عمزر: الد از سے آپ کے عالات لو چا رہ۔ اس بات سے ہزیر خو شی وٹ یک
وہ برانے ملین جھ آ جکل کام سے دہ ہو گے ہوے ہیں اور مشن سے زیادہ
رایط نہیں رکتتے۔ مل مواود اھ خخان صاحب انموں تے بھی مشن میں 'آنا جانا
شرو عکر دیا ہے۔ پچھریہ بھی معلوم ہو کہ اب وہاں پاچ دقت با جماعت نماز ہی
ے۔ اللہ تقالیٰ ا مِں استقَلال اور مراوم تک ذف تشتھے۔ الین کی جماعت
و لے بھی بیرار اور مخلص جماعت ہے۔ آ پکی ماگ اور فجہ سے اس مل مزید
62
7 ودب ا بر تح
شا آپ کو پلو ران شدرمت وین کی وین سے جال و رک کے
کت اور زی شش کے ا اوہ اع اور اچک
ات اپ دغاؤں یں یارو رکھاککریں۔ ہراددم گرم ور یی صاحب' و
٠ ہ صایانغڑ ددم زار صاح بکی خدمت ہش او گر کن ہو کرم
میں سب ری ٹر
یہاں رع تجریت 2 اب ت ک کر کا ساسلہ یل رہا تھا۔ اب
ارو 7 و ان یی رت برق سے کن سے بر مر ری
ضا زین زی بی مو مم بن جات ےن :
بسماللےالرحمن الرحیٔم کس رتصلی می رت انوھ
وعلی عبد٥المسیےالمو 7
مد محزم امام صاحب
ا الام مو رع او رکا۔
٠ . مخ تر کر پہ مور طرف سے دل مب کب قول ذایں۔
ال قالی آ پکو نت وال اور قد مت دن دالی لی ا کت خی دے۔ ضس
داللام۔ انار
طاہر رو شا
63
بسماللەالرحمن الرحیم
لوٹ
2 771
برادر مکرم رت خٌ صاحب
السلام میم ور ھن اد وبرکاۓ
یہ آپ پ ال کا اص ففل کہ جس ججکہ بھی آ پکوخدمت دی نکیلے مقرر
گیا اللہ تھالی نے آ پکو نمایاں کامیالی عطا فرباگی۔ افریقہ کے بعد لنندن بیس تھی
آپ کے دی اور جھاعتی کا مو ںکو اص ف رکی ناو سے دیکھا جا ے۔ ڈالکٹ
فضل اللەیوتیہ من یشاء سہ خا می جو رکی فشظاء کے مطاب کے راہوں۔
عالل رقعہ ھا عم: ہزم مج عارف لنرن میس نعلیم عاص لک رہ ہے۔ اس کے ساتھ
مہبری لڑکی کے رشن کی تچوں: ہے۔ حضور نے فرمایا تھاکہ آ پ کو اس کے بارے مل
ککھا جائۓے۔ آپ گاسے ا اس کے متحلق ریپ رٹ عاصل کرت رہیں۔ تضور
تے خو بھی آ پکو کٹ کا وعدہ فرایا ٥ی 00 .ھ2 ا ں کو
ری ہرایات فرنانمیں بس پر یہ اپنی طالمہتلی کے لحاظ سے بد راع لکرے گا۔
جزاکم الد
کو جج ےت ےّسيےيےَسَِسََےے سے
بسماللەالرحمن الرحیم تحمد٥ونصلى علی رسولەالکریم
وعلی عبد٥۱ لمسیحالموعود
17-010
تن مارک اص صاجب لزان
الام راید
آپ نے تشیھ کے نام اپنی تر می ںککھاتھاکہ آپ ا دعب ر۹۸۳ا کو لاہو رکچ
رہے ہیں اور الیک ممینہ قیا مکرن ےکی اجازت اہی تھی۔ یہ ار و ری مت
یش یی یکیاگیا حور نے فرمایا۔ ”7آ نامیا رک ہو ""
واللام۔ ناکسمار
ملبارک٤ھ(دلل ات رو
تر
لنڈن ٹاتھ کے ای یٹ رکا 719
۸42ھ ط5
89ھ ما ط50( طءازو ط5
6 0 0640 1,۲۸8
08 1 ا د٥:ہ6۲ 16
ة785 0 20:56
,٥2دصسطذ حادعوعط ت5( طاعانو ط8 وہ0
08 ہہ ۶ ١ ٥٣ہز ٥ ۲١۸٢ طط٤ ہہ ٢
دہ 2 ۱118ء چدصہء ہ۲ طعءنطم ھٛٔذ ط :×58(
۲٢ اط٤ 1د عط) ×وطصہہہ* 1 ب٥٥ لا نا >صەهصاصئمم مہ
۶ ط٤ دہ ٥ ۲عط ٢٤ ٣٥ صعط مد۷ ٌذ ٥۷۲۱ء
٥116ء ٣3۵۲ طامط 6 ۰۷۰۱ی صاجحودءظ صراہ ×81 ط10"
ب٥ ا ”٥۷ط ,٥ء صزہ رہ 1078
ٰ
مض کے گے تاپ کچ چکگ ک_
صندچد چ صز٥ ۳٥ دہ ۲٥ ۶0۴۰۳۷۸۶۹ ع(٥1]10
٤۶۵17, صزہ :د0ل
506+-188ج 000 168 ×ط6
بسماللەالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
وعلی عبدہالمسیحالموعود
وکاات تبشیر تریک جدیدانجھن اریہ پاکستان روہ
8-7-2
برادر گرم و زم مارک اج صاحب السلام علیکم ور حت الش وب رکا
اہر کہ آب اللہ تقالی کے ففقل ے 0297
آ پکو یہ پا ھکر کی مسرت ہوک یکہ سینا حفرت غلیف الع ال راع ایدہالل
تالی تر العزی: نے از راہ شفقت سد احدیہ می نکی افتقای تقریب میں تمویت
کیل لطور نما نیہ ملک ا کی منظوری عرحمت فرمائی ہے۔ آپ اس موحح بر منعقد
ہونے وای جس شور میں بھی اپنے مک کک نما مدکی فرائیں کے۔ سو کا اتا
انقاء اللہ تی مور نہ ٭ا تج وک ۱۴۷۱ پش پمطالق ٭ تب ر۱۹۸۲ء بروز بقحۃالپارک
کن ہوگا۔ آپ ا مبارک سفرکی خیادی شر عکر وہب الد تھالی آپ کے لے
و تس تک ذریاتب آشن۔ کی جات اب کے
ہ رم کے اخراجا تکی زم دار ہوگی۔ اللہ تحالیٰ ہردم آپ سب کے عاتھ
ہو۔ آ ین
637 66
س-ےسےسےےسےسس یئ ً ئڈأتفئے....... ٣ مس سے سسگےشےسے سے سے
رگھیں۔ تال تھالی یہاں جلد سد نے کے اسباب پیر اکر درے۔ اللہ تھالی ہم سب
بسماللەالرحمن الرحیم تحمد٥ونصلی علی رسولۂالکریم
وعلی عبدالمسیحالموعود کاعافظ وناصرہو-
ڑان یڑا واللام۔ چرانر یل
27072 عپر الیل
نم ارم مز رگوار جناب تٌّ صاحب 0 90+09"
الام یکم ور حم الد وب رکا بسماللەالرحمن الرحیم نتحمد٥ونصلى علی رسولەالکریم
کی روز سے آ پکی خدمت میں خھا کن ےک یکوشن لکر رہنوالین لبحضش ۱ وعلی عبذ٭المسیحالمرعوہ
ھبوریوں کے ہی نظ رجلد مل نکر سک جن سکی معزرت چاپتاہوں۔ دراصل میں مد اکے فقل اور رت کے ساجھ ۔ عو ناصر
آ پک خدمت می کین کے افتتاح کے سلسلہ یں مارک او عرت کر ہوں۔
ال چردگزا مک کامیاب بانے یس بماعت الکستان نے آ پکی گگرانی میں جس جس انصار اللہ مرک یہ ریو دپاکتان
رکا مکیادہ اح ی تکی تاد یش نمایاں طوریرککھاجاۓگااور آنے وی ننڑوں "لب بنم تکرم و حم مولا ناش مبارک اج صاحب انلینڑ
گر اق واحوت ہآ ھال نے مھ رز ہد ٠ الام علیکم و ر حم" الد وپ رکا
کے لے مفید سے مفیدتز نا" چلا جائے اد رآ پکو سحت دای او رکا مکرنے والی لی میدن حخرت امیرلموسین خلیفۃ امم الراع ایدہ الہ تا کی عظوری سے
ز گی سے آزازےت آ پکو سال ۱۷پش ر ۱۹۸۳ء کے لے میلس انصار اللد ھرکزہ کا رکنع خصوصی
مرک یئ بھی آ پکی خدممت میں سلام میم اذر دھاکی در خواست کے سائ رکیاکیانے .ال نقالی یت رمیا کک دو سک سن ماک اتد
۲ص9 نت
کا مرا ی کے دھا فراکرمکگور فرباودیں۔ اللہ تال آپ کا سان جماعت پر قائم رے۔ 4ھ
میرک طرف سے جملہ احباب جماع تکی حد مت میس اور خا صک رکرم جزاب
وہ ری ظذرالل خان صاحب کرم جناب دین صاحب او گرم بنگوی صاح بک والللام۔ خاکسار
غعدمت یس سام یکم اور دھاکی اص در خواست ف اکر مور فراویں۔ یمال 7 ونام
لہ اباب جماعت ریت سے ہیں ۔کینیڈا کی جماح تکو بھی ابی دعاؤں می یاد صر رگاں اصارالش
903
69
68
بسمالل٭الرحمن الرحیم نحمدہ٥ونصلى علیر زسولەالکریم بسماللہالرحمن الرحیم نحمد٥ونصلى علی رسولەالکریم
کھاچی 31-8-53
14-8-3 براددم تمرم صاحب
ندمت مگتزم جن صاحب امام مس لنژن دامیرجماعت اح یہ انگستان الام رو متا را
الام ملیکمو رح" اللہ وب رکا تھو ڑیی دی ہوئی آ پ کاخط مو رضہ ۳ ۱۸١ب ھکردل شاد ہوا کت مجواتے کا
ا 7 ٣٢ یا ہے یت شگربہ دا تھالی بہت بہت زا خر عطا فرائۓ۔ ۴۸/۳ الفض لی ایک خیرے
یں محروف۔ دعاگو ہو ںکہ آپ کا دہال جانا ہرفاظ سے باعث برکت اور رت :نم ُے تب اصاس ہو بے بلہ ٹین ہو جا ٥۸۶ مک
ہو۔ آئٹن ٹل بی خدا تالی آ پکی کامیالی کے سامان ہد اکر وا ا ون ات کو
کو کا رت کی
عربیضہ ایک زحمت دی ےکی لکھتا ہوں۔ ابیک ام رن پآ بج پاکستان کیا تھا۔ الراع ا میک جھاعت کے مہ ۲۵ اکھ ڈالر مسیاککرت ےکی ذمہ داری ڈالی تی اس
ودک میگ کرجا رچشاہے ۔ہکراچی کے قیام کے دو ران طرہب نو بل کے جواب مس صرف ای کگھرانے نے بای لاکھ یڑ یکر دئے ہیں ىہ ت2 کی ابا
لی چنا نج اس کے ساتھ لے یپا کہ ا لکودرچ ذی لکنب مججوائی جانی گی - الڑا ہے۔ دعاگو ہو کہ غحداتھالی مزیدکامیامیاں عطا فرماے اور چ رآن آ پکو اتی رضا
راد دغواسعت بے ہےکہ اپکی فرصت اولشن می یچچ دئے پت پر ہہ وا وہیں۔ گی راہوں پر کی وٹ دے۔ آمین
2 چو ہرد ی طف راللہ خان صاحب دال ریز بی تم الترآن واللام
۳۔٥11 ٦٥٥٥ ل ۲٢٥۶٥ 11٤ ماکسار
۶۲۷٢1٢-٣۳ ٤ہ 8681 ١۱ء مصمصعطح5( نے
٘ رت اش
7٦7.۱٦۷.7.601 7۲٥11
- ۳۷٣3.6 0080۴00
۶ 00× 6665611 - 7۷ 1568
صلط۱:۱1۱۱۷38وہ53 ع٥۱ 8166.۵
کیا کن ہ ےک ہکتب کھوانے کے بحد اکسا کو اطلا کردا کھیں۔
راٹس
6040
بسماللەالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
وت یت ا رت
ڈرزفلڑ
1.3 1
رہم تکرم و تم ححضرت مولان مہا رک امر صاحب
کت اللام من و رح اشدویرکات
خاکسار تل اللہ تالی خیریت سے سے المدشد- بیییں اس بات کاعم :دا ے
کہ آپ کا| اککتان سے تادلہ ہوگیا سے اد ر آپ اب جلدی تٹریف لے ہارے
ہیں۔ آ پکی جدالئی سے ناکسا رکی طبیعت پر بڑا اث ہے۔ اللہ تالیٰ ے دعا ےکم
دہ آ پکو صحت اور تد رستی عطاکرے اور تماں پ ربھی آپ جانییں اللہ تمالیٰ آ پ کا
عائی و ناصر ہو۔ اکسا رکوہ بڑااصساس تھاکہ والد صاحب مرو م کی وفات کے بعر
یش ا نکی دعاؤں سے روم ہوگیا۔ لن مد اتھالی کے ففل وکرم اور آ پکی
دعاؤں سے ناکسار نے با فاتدہ اٹھایا۔ ماکسار الیک ہف کے لئ بمہ وی سج
ج تی جار ہا اور وہاں پر لس سالانہ میں شحمولی تک یکو ش لکرے گا۔ آپ رعا
فرماننی اللہ تھالی ہ رط ے عافظ و ناعرہو-
خاکسا رکی اور احاب جماعت امیہ بی رز فل کی ہہ شحدید خوائٹی ےک آپ
انتان سے جانے سے پل نیس اپنے دیدار سے نوازنے اور ہی رز فل کپ اعزاز
اپنے بیماں آنے کاعطا فر امیس گے۔ نماکسار یشہ آ پک دعاؤں کا اح ے۔
والسلام۔ ناکسار
تمرالدین ایی
641
بسماللەالرحمن الرحیم تحمد٥وتصلی علی رسولەالکریم
رم تچ مارک اج صاحب
امام یکم ور حم“ ابشدویرکاۓ
آپ کاخط مورضہ ۱۳۸برل ۱۹۸۳ء پڑ کر بہت خوںی ہوگی۔ الد تحالی نے
آ پکو بڑی نی دی ہ ےکلہ آخری یادگار آپ کے کا مکی قائم ہو گئی۔ جز اکم
ال اس کاٹ اب و آ پکو نا رہے گا۔ ان سب دوستو ںیل دعا پھ یکی ہے
ات لے یں
واللاع
خاکسار
رز اطا ہراھ
خلیفۃ ہج اکر اع
0 0 ۰
بسماللەالرحمن الرحیم
زم شی مارک اھ صاحب
الام مم
آ پکی عرسل کتاب جو ایک نو اعد بی نے ککھی ہے بڑی مفی دکتاب ہے۔ آپ
کے لے دارم رہا ہوں اللہ تعالی نے آ پکو بڑی کامیالی سے کا مکرن ےکی فی
دہی۔ ماف ہو ںکہ مھ آرای اور سیا نی زبانو ںکی لف تکی ضردرت ہے۔ ایک
شس ٤٤:۴۰٣ 1۰نے قرآن شریف میس خی حر الفاظط خاب تکرنے کے لے مماراجہ
ڑود کی صریرستی می ای کاب کسی ×۵ ۲٠ہ ٢×ہ ۷۰۰٢(۱ ج٭ ×70
642
ارت سر صرغلط ہے۔ اکسا انس کا جواب لکھنا چابتا ہے۔ اس خریضس کے لے
آدائی اور صریالی زہانوں کی لفقت مطلوب ہے۔ خواہ پچھوئی لقت ہو یا بڑگی۔
7688 0۴0۲8 دالے الس عم ک یکتائیں بچھاپنے ہیں۔ اگر مل کے تو ممنون
ہوںگا۔
والسلام۔ نماکسار
بسماللۂالرحمنالرحیم نحمدہونصلی علیٰ رسولەالکریم
٦887ء
ری و تی چ صاحب
السلام میم ور ح “الد وی رکا
ماری طرف سے آپ س بک عید میارک ہو۔ اللہ تالیٰ مت وا ی ہی
کی عطا ہاوے اور اي رکنوں سے س کو وا ۰ت
آ پکی میم صاح کی طیعت ای ہوگی۔ الد تالی صحت کاعلہ عطا فیا ۔ آشین
تی ری رم لف بے اس سے ماری طرف سے عید مخز خیریں۔امیرے
قول فربانھیسں گے۔ بجنز اکم الد
پک دعاؤں کا ختاح
643
بسماللەالرحمن الرحیم نحمدہونصلی علی رسولەالکریم
وعلئعبدہ الم الموعواد
رم و جحنزم جغ صاحب اور میم صاحبہ
الام یکم و رح ایل وی رکا
امید ے آپ برع احاب فضل تعالی خیردعافیت سے ہوگے۔ سناہے آپ کے
امریاہ ردان ہہوتے میں چند بی دن بائی ہیں جن سکی وجہ سے طیعت میس ایک خلا ا
محسوس ہو رہاے۔ تا ہم د لک یگبرائیوں سے دعاگو ہی ںککہ الد تھالی آپ کا اور
آپ کے ابل غانہ کا ہر معہ سفرد تحفرمیں عائی و نا صرہو اد رآ پ کادہال جانا ہرفاظ
2 رت
رے می اللہ تال یکی خاص نضرت و تاد عاعحل رے۔
ھم دا تھالی کے اس ففل و ان کاکس زبان سے گر اداکرہیں جس نے
آپ جیے معخلص دجو دو ںکو بہاں گج جکر ہم جییے بے شر بے پردا دلوں کے دی
ج کو بیدا رکر کے راہ راست پر گامزن فرمایا۔ آپ کے با مکت تام کے دو ران
پک بجی نصائ سے ہم نے بے ار رکتیں حاص لکیں اور آپ سے بمت بچھ
سیکھا جس کے لئ ہم ہے حر مور ہیں ۔ اللہ تخالیٰ آ پکی مت و جمرییش برکمت
عطا فیا اور قرم قدم بکامیالی وکاھرالٰی لیب ہو۔ آئن
امید سے وہاں بھی ہم عابتزو ںکو پیل کی طرح اہی تحوصی دعاؤں مں یاد
رکھیں گے۔ خاص طوربر پچو کے ل ےکہ الد تھالی انیس اپنے فقل سے بی اور
دنیدی تزقیات کے ساتھ احریت و اسلام کے تی فدائی اد خادم دین ےکی
ےفپقی تتھے۔
ین معن کپ کی تب ما و کک جن لے وت
64
کاو ات ۔حرافوس ےک آ پک بے بعد معردفیا تکی دج سے الیاکرنے
سے قاصررہے۔ نزاس بی زکا بھی بھت رح ہ ےک مع مجبو ریو ںکی بنا یگ ش
چند بنتوں سے آپ کا علیہ جعہ نے سے بھی حردی رہی۔ مد اکر ےک آ پکی
رداگی سے فیل آ پکی غدمت می حاضرہ کرد عائؤں سے مسعتقید ہونے امو تج
لیب ہو
وا سام
طااب رعاعا تہ
ریئش میم چو ہرد کرایژن
18-113
نوا اہ
بسماللكالرحین الرحیم نتحمد٥وتصلی علی رسولەالکریم
خداکے نل اور رح کے ساتھھ
عوالناص
19-10-13691088."
١ پیارے برادرم تچ صاحب
الام میم ور حم" الد وب رکا“
آپ کے دو ہمایت پر لف خط لے۔ ایک خط و عزیزم اییون طاہرکے انور
ْ اگ ردعالی تفلا بکی خو شی اور نار من (نمان )کے قجول اسلام کے ذکر یر
متتتل تھا۔ نے معلو کر کے بت بی خی وت یک الد تھالی نے تحرف فراتے
١ ۱ ہوئے دوفوں خوشْریاں آ پکو آپ کے موم پید اننش بر عطا فرمامی ںگویا مومنوں کا
۱ رھ ڈے کا تفہ رضاتے باری تھالی ہے اور ایمان دالو نکی بر ڈے اس طرح
645
مائی حجاتی ے۔ المدللہ شم الیل اللہ تال ی کے پیار کے اخمار کے ربق بھ یکے
لیف اور نرالے ہیں ا3 رکیسے پر ے! جح
7 اخ خواب کے کر بر مشقل تھا جھ پٹ بی مارک ے۔ المدلق تم
امرش
آ حم نماز کے بعر لیٹا دو بار ہکم کھلنے کے بعد ایک دو منٹ تر لیا رہا۔ 3
ای حالت می میر ےکند ھے کے پاس سے عوزیم مبار کک دک کی دو مرج بالگل
واج وا ز ناگی دی۔ ” جضور فو الا مین “ تضمور فو رالامین "جب ہہ آواز بد ہوکی لو
پت لاک ىہ المائیکیفیت تی۔ لن اس کامطلب نمی مھ اک ہکیاپغام ہے۔
ایک بات گ رقطقی ےکر ییاامام بہت مبشرہ ےک کہ مبار کی آ داز سنائی دا
داز مس وی محبت پائی جاٹی شی ج سک یکیفیت یا نکر مکل ہے۔ اس مر
می بھی اوڈہ تالی نے لتض خو شی باں عطا فرانھیں۔ الدللد شم الد
اللھ آپ کے سارے کام آسان فمادے اور سی مت وعافیت دا ی کام ے
معمور پاش رعتبول بارگاہ ز ری خطا فیا اور ال عیا لکی طرف سے آگھو نکی
ٹنٹرک نیب رہے۔ آ پکی رونا کا دو سرا پلو اگ من و جن برا ہو تو اس شش
آ پک گی عرکی خوش یبھی ہے۔
والسلاعم
رز اطاہراھ
646
حھْ۲.ھے۔۔ے۔۔ دج[ تت_ _ کت ھچ٠ کے ں __ںلٌٌٰے
٘ بسمالل٭الرحمن الرحیم
نزم جن صاحب و آپاصفیہ السلام میم
آپ بے بزرگ اب آسالی سےکہاں لے ہیں۔ اس لئے آب کے ارک
نے کا ید مۃ ایی نت ہھارنے دل بس مین ووا۔ او آپ کو ا تک با
کرت ہیں۔ بہرحال دا تال آ پکو خارقی عادت کامیاپچوں سے نوازے۔ ہیں
بھی دعاؤں میس یاد ریں۔ دو لفافوں میں چو ہکوب جوا ربی ہوں۔ اس وف
پھ سان اد مزیدار چوزیں گیا ہیں ]کہ چے ور نہ ہو جائیں۔ قبت اک
ححییت پش ھک ہے می ڈیڑھ ڈالر کے بھاے سواڈالر ڈاک سحیت۔ پیلے جد رہ ڈالر
5009001 2
بسماللالرحمن الرحیم نحمدہ٥ونصلىی علی رسولەالکریم
7 ٰوفر1983ء
رم جناب تچ صاحب :
السلام یم ور حۃٴاللر وی رکا۔
ال تال آپ کا مریمہ آنا پر رح ضبارک و با رک تکرے اود بوئیکامیالی ہر
رنگ میں اور پ رجہ دے آشین۔ ہار دعائئیں آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا تقالی
آ پکو آیا مفیہ ادر زی فریدہکو رو ریت سے رکے اور ہر ا نکو تی
دم تکی فی دے آین۔ بائی آپ کے چے ہماں بھی بہوں ان کاخد اتال حافظ
ونا و آین۔
یو ں گنا ےک لند نکی روغ یہاں آگئی ہے میں ذعاوں می ماد رمھین۔
دا تقالی میں خدمت کا موقع دے اور ہر طرح خد مم تکرکی رہیں اور غداتالیٰ
کی رضاکو حاص٥ لکرے والیاں ہل آمن-
میرا نواس (چو بر ری مھ شریف آف ساہیدال کاب ) امریکہ میں بڑہ اہ بش
اس کو ںگ یکہ دہ آ پکو متا رہے اک آ پکی قبیت می رہے۔ چچے دالدیی
سے دور ہوتے ہیں تو ا ن کا لکر ہی رہتا ہے۔ دہ نیو مارگ کے ترعب 0+٥٥٥
و یورٹی مں بڑھتاے۔
می جب پاکستان بھائ کی وفات گنی شی قوکرا تی مین آباسیصہ یم ستیہ حبوب
لی مرجو مکی پیم صاحبہ نے جھے جا اکر دیے ےہ میں یہاں اع ریہ کے پا
مشنوں می و دوں۔ می نے بیاں میاں صاح بکو کی جے لین خلشی سے یمان
شیان میس بڑے رسے ان تک نہ کیچ کے دہ اب پاکستان جا رہے ہیں دہش آپ
کو جھج رہی ہوں ہے ا نکی طرف سے دے دی مور ہ وگ اور زسید ا نکو ہی
پاکتان سید ھی گی جا نز ہہترہوگا۔
.گر ییاں من خ صکوئی رسالہ لقن وت رد را سک پناک ریں۔ ہی ا کائل
اداکر:دنا و ںنگی۔ می ا سک کو ں گی کہ جب واشگٹن آآۓ و آ پکو ضرور
ے۔ وعانی ںکریں الد تی جماری اولاد در اولا دو تیگ اور حادم دی بناے۔
مت وین اور غدمت نل کی نیقی درے۔ آشین۔
نے شار دعاؤں کے ساعقہ مبارک صد مبارک ہو۔ ادر چ ہرد صاح بگا
طرف سے سلام عیکم۔ ید اتعالی عافظ و ناصرہو۔
تاح دعا۔ مر دشا واز
"608
۱ ۱ بسماللەالرحمن الرحیم
4٥ ۷٤6 (۵ دہ] ط٢
۱ 11-6174
بیارے پرادرم تٍصاخب
الام عیکم ور“ اظ و رکا
اللہ تالی نے آ پکو ار یا زجھ یش رین عطق بائی ین اکر ذو لد زی
ہو ںکیدکمہ ھب رکی طات جو پلہ ھی دہ پارے اب نہیں۔ تو پکنتان کی
7۳7 27 عالات س ےگنر رہی ہےکہ ا نکی لیف کا خیال ناقایل
برداشت جے اور لنض وفع پھشمنا ہوا موس ہوم ہے تو بشکل وج پان کر اور
بے کا ٹالتا ہوں۔ اپ ل رم ا امید > زندہ ہو لک اللہ تالیٰ
۲ میرے وب آتاعخرت تج موعودعلیہ الام کے دشمنو ںکو اتب و شاصراور
نا ا دگردے اور اپکی ا اور شھرت کے اپیے ہجوب کام دکھا ےک کل عالم یس
ات ی تکی کن بے گے۔
زی فریدہ اور ا کی ائ یکو مس بکی طرف سے عبت برا سلام۔۔ تمام
جماعت کاج دن رات پ رحکن تر کو بروئے کا لا ردی ہے میری طرف سے شگرر
١ اداگردیں لن سان حی یہ بھی ما دکرادی کہ تی رکو در کال کک پچ ہیں لین
١ ْ نہ موی لکہ جار اصمل قوکل دعاپ ہے۔ ہل مکیاادر ہار تر رکیا۔ جڑے تیر
۳ سے میں مہ دس سے ناہرہوتت ہیں اس لے ہیس کی نوید دا کے میران
ہی ل ےگی۔
خراعافئظ
واللام۔ ماکسار
مب اطا ۱ھ
"64
بسماللەالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
لیرن
11-12-54
یا رب یککرمہ حنزمہ صفیہ میم صاحبہ
ٍ السلام ملیکم ور مت اللد وب رک
ککتے خوش نیب ہیں ہمارے پیارے ثّ صاحب ٹنمیس خدا تال ی نے اتا
لیس اور رہ مولا یش فدا ہونے والی رتیک کام مس مددگار ادر مین اور رین
بیوئی عطاکی ہے۔ اور آپ بھی کم خوش نعبیب نیں جنییں ایک تیم ابر اسلام
کی رفاقت عیب ہوگی۔ ا
آپ کے خطوط مت ہیں نول چابتاے برخط کاجو اب اپ نے پانھ سے دو ں گر
رق کر زان جا کان ہو تجاح اپ رن اق حا جا دن کو سز ے
خطوط کی دل آزروہت ہون۔
تھیک ہے۔ نس طرح آپ چائقی ہیں چند دن آپ کے پر خلوص ہریے جم
0 0 4 :
رم چْ صاح بکوزمایت عحبت برا سلام اور پیا رکی فریدہ جن یکو سلام اور بیار-
راحافظ
والسلام۔ خاکسار
5 ھ083
1718 ۶+ 737
07.7.7 ٤
2:813٥. طا مہ.3 11 ٤ ۲878
8٤1٥٥۲0 ٥ ,15و8 ۲۸71727۸1۸
7(5 ح88 ط 3.71۲۰۰
8ء ۳٣٣1.8 رر 888۱1٤۵ ام ۰۸۷ھ ٥ 17[ دہ وم 1
٤ 8٤715 8 15:77 ۱1۷11686عم] 16656٤ 60۲٥00.17080 6٥
٥ ٥ا ع×ل٥٥× × ۶ہ ٥۶۱۱م ۲×وطہ 8 ۲0۴ ترعاصداہء ٥٥٥ج
1٢ ٣۶ 8 اط 11م مہ :×مطہ ٦٦ ٣۵۶ طع1مط5(ھ .ہووت
و ٤٣٢٢ [٣ مر ۶ و 6 0۴316 0601 008
زنزطا ٥ ٥ مطۃ :76ہ مط طاام ١ ئطءہ
8ك ٥۲۵۵م ر×ەط 58 ط۸ ۔ صہع×ط٤ہ×ط ۲۸ھ
)٤ 8 ۔ ×مصمط جح دز ٥6زہہ* [٦ ٥ص6 مّ ط٤ 13
۶ طط )٥ عا١وط مصص ع(وہ+ ٤ ×٭غط بے ٤ہ ٭<وء مط+
٥6ط 9دم1 ۷رعاصاہء ۹ ۲١۸۲ صذ صعط×× ٥د۴٥ة و ہہ
٥ ۵× 6 ۲07۲ عطائ×ط ٥٥ط 6 ٤٤ ۶۸[1مومہ
8 ترالد۶مھ ب رالمنہء 759- ۲٥۰ د- زا ہ٥ ]٤۷ اود
٣١۲ ٥ط .رہ عاطصسط ت اص صت تالعقساضصامہ
8ءء ٥٢۷و 10۲6 8ہ :6٤5ھ نعط ٠ہ 0--05٥
×8ط ۷ جزہ ب۴۵887 م00 ع صا ٥٦اءہ٣ہ و
٤۴۶ 1514160 416 89 ھ ع8 صت14ئضںاط ۶م ع(دو) مہ
٤ہ ١امہ٦م عط ناتاط ا1ت 1ن۷ هفذ صمخغود 58 0
٢تا528 ٢٤ہ ہم زلاطع؛ء 6ن چو عاصدہ ٭ 00
6 888108 2700 6ء8 8ة ۱ :۹
0 ععط رعناصتدی ۲ا۵ 4د تانلنطانعدم وہ
1٥00465. 58 7ذ مط 8 10ا ئەەم 01 ط18<
۱٣٢ 16 8 غعطا [1 ٣۱۶14.16 601688 ٤6 ط٤ ٥٤ہ
508110( 34178 7طھ
88ءھ)") ٣٣3ئ2
61
م۶۰۵ ط× ٦۶۹۰۱۷۸ ع۷× عط ××جد ۰٭د ۷۱11 بجوٗ۲۱٤نصسصصی
8ء ,4841010.60 × صصد ×× طءہ فعط 61167 ×2 ہآ
8١٥1۶ صطھ ٥ط ۶۰[۰ ٤6۰٥۸۶ ۰ذ٣ 18046016 د8
: ہ٣ ٥051 0070 0 ٣۱٠٢٣ ۷8175(
ہد ۲ہ ئ٤ ہہ ۱٭ەطد(<عطء ٭٭عط٣٢ ۶ہ ×ط 5]
عاماصسط ۶ہ × عااعٗص× ے دةه ہت ۲٥٢۶ ح٦ چنا8
قعاہ١طا ٤٢ سم× ج ّا 5ھ 8 ]10ا3 ہہ<جررہ
×1 رط ٣×1۱:٥٥ ”×هطاہ35( ۸7(“ 1 د<د 66١٦۹٥ ۰ہ ]۲ م۲۵< ڈ5“
۔صقط کا ط3۶۶[115ظ ١ئ ۱ص×صعط۷۸۱( ×ط1 ۱ط
0 رتعاصہدہء ۲٢٢٢ قط٤ طة11(ۂ ا طع1 3لم ××م ا
٠ تداع هاط× ٣١٢٠٢٢ 0167ا ۰۶ م٥۴ دز 68 7810۸
82138 ص آ<عط 18ائ] تناعا(
٣ 517:077 ہلآ
(34 دصطم عداد<×وط ۸( طمانەطٌ)
8.۵.تا 8۵ طاء م75 ۲< ص0 (۵ع75718 4 35 -1صا۸
ص5818 :2 <753 ۶د نا710 8+٥٠٥ ەط'٣1'
2788 ۲۰۹
58 10آ 2181
: عادعدط ۷۷( طعا نہ ط5 1068
1٥٤٤۷١< ”] ۰۸۲۶٢ہ۰ہ۲ ۶ہ ع17 5نط ەط٤ ×۶0 ٢ہ ملاصعط_'
قعاہہط ٠٥ ح٥ ٣ط ۱٣٤٢ جع صن د٦۰ 0×۶ ٦5٥1 1985 018۲ 2181
- سا +<<ھغطہ5( 5۶7(“ د8 ۲۲۸٢ ١٥٤۰ )۴٥٥٥٣ 0ڈ“
سه ٤ ۔.صعطذ طحا[21×۰ ١۱×صصعط۸( ۲د<ەط1 0653۸
وم ۲۰١۱٢ صەط٢ ہس ٠)٥ ٠٥٥ اط3 نىامط ٣٢٢ ] ۶ :ہہ
.ط818 دہ ×3ط ط۸8٥×ط٤
×عوٛ×طنا ادہ۳ م ترجہ م ا15 ەع 111 دعاہہط ٭دءعط٣'
ط٣ ٥ ۱۵٢ ۲انصص5عم جرجہ صد ٥٣عط ٠٥ عورەمط ] 45١
62
63
٢×] ۲٥٢٢ د٤٤٥<۶ ۲:٥ رح ج ۱3ط ۶۵۵1٥ 131
لم پے سے پا اک اٹ سے سے مسعت بے لے زم رج مال 7
1ة 08ا0 ا٦ از جلد اعاط خر مں آ جانا جاجے۔ مورکی تھنا ےک عم اکم ہردو سرے
1۷۲٢٢۶٢ کا 1108بال : ے دن ان لکل هکھنشہ بھروقت ضرور بای ۔ شر ۔
آپ سے دعاں کا خواسگار ہوں۔ مھبری دی رماع ات کےا ہیں۔
بسماللهالزحمن الرحیم کمار واشیشن مشن یں اپنے چند روزہ قیام کے دوران آپ کے تقاون وکرم
یویارک 1 ائی کا شک زگزار و ممنون ہے۔ وہ ز اکم اللہ ان الجزاء
ور ۱ اماخھ آپ اور آ پکی مم ادر بیو ںکی حدمت می نیز عز زکرم مفتی اج
نم پز رگوارم مارک اد صاحب امیر دانچار جح اریہ مشنز اھ ریہ رق صاحب مغ ساسلہ متتین وشن اور ان کے ابل و عیا لکو بھی السزام علیم
2 الام یم در حم اللہ و برک رححٴالقد و رکا۔-
ام ےک آپ فراکے کل سے ہووت انی آ پا کیج واللام
عھریں برکت نش۔ مین - بے واشنکٹن میں اجب من خی کک را مان
رشیدر اضر تال ی گی اش عد
(سالقی ملغ ماد عرے )
عال واررن ارک
آ پکی اقتزاء میں بحعہ ونھمازیں اداکر کے اور تقابی ام ری و دیکر اجمری بھا
سے م لکراز عد روعالی مسرت و خو شی اور ایماان میس اضافہ ۶و٤۔ فائمد لہ علی ذالا
الد تمالیٰ آ پکی مساگی جیلہ می برکت اور احجاب بماع تک دی در
بر فیات سے الامال فرماے۔ آئین
جیساکہ خاکسمار نے آپ سے للائقات میں اپٹی اس خوائنش کا اما رکیا تھا اور
ا یہ
نے سے ا ال یکی ضار تکرر ا ہوک کیا ہی اپچھا ہو جھ اتی دب دس ہس
تھا بر ڈ وش ات اس راغ ٰ حم مظم ش صاحب
فدائی تائدات و برکا تکو آپ ضرور للبن کر کے بر د آئندہ نل کے الام علیکم و رح الشد وی رکا“
ا ا ا و و و رر ا
موجب ہوک رآپ کے لئے باعث ٹواب عدام ہوگااور میرے نا لص خیال میں ڈ ایل اس وہ الفاظ لی ہ ںکمہ جتس سے آپ کا شکیمیہ اداکرسگوں۔ آپ سار
64
رات ٹیلیون کے پاس بی رہ اور ہر طرح س ےکومشن لک یک کی طرح دصیت
کامعالمہ نے ہو جائۓ مان دونٹے تہ جو بایا۔ سی ھم لوگو نکی قرت تی لان آپ
نے کوکی ابی بات نہ چو ڑ کہ نس سے ہہ بات ہو عاتی-
اللہ تما ی آ پکو بت وا ی' نوخیوں دای لی زندگی عطا فراۓ اور دی
اثر پ اکر ےک بس سے آپ لوکوں کے دلو ںکیگھراموں مت اسلام اریت کا
پام ار گیں۔
الد تالی آپ کے وجودکواوربھی با ریت اور زان الناس بنا ۓ۔
بسمالل+الرحمن الرحیم
2۲16٤۱٥
ہارے بست بی پیا رے تٍ صاحب
مم
آپ فرائیں س ےک اتی دو رآ ھ ےگگرساہد نے ابھی کک پیا نیس چھوا۔
و ین پا س فو نکرتے کا سو ںآ پکی اد ر آیا فی کی باد
ستاتی ہے۔ آپ نے پچار سال جس فر عنایات ہم ب کی ان کاشار مشکل ے۔
بہرعال جم سب يہ دعاکرتے ہی ںنکہ الد تھالی آ پکو بت بی گی زندگی عطا فرماے
اور آپ سے لل ےکی ددبارہ نف دے او رام ریہ میس آ پ کا قام بست بی مبارک
685
ہو میں نے رسالہ سے چچھ ہمت رکر لیا ہے اگر چہ ابھی تک مبری ری کاخیین۔
وھ شش وہاں کے لوگو ںکور حن
ہے ور ےد
ترف پا پاؤنڈ رسالےکیلئ لے ہیں ادر سے سادہ سا ٭٭ 0٥۷ چھہدانے کا ہی
یب او آیا ے۔ اس کے آپ لو اھازہ وہ خریدارو ں کی گی
ضردارت ہے یام بھی آپ س بکو لا مکستی ہے۔ آبا صفیہ اور فریدہکو بہت بہت
ملام۔
واللام۔ ساجد: یر
کا ا
بسماللەالرحمن الرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
لیرن
رم مارک اع صاحب امیرد مغ انچارج ام یہ
امسلام میم در الددویرکا<
پکی تحیقی ریورٹ محردہ 28-1-86 طی۔ جتزاکم الد ملس سوال وجواپ
گاپھی ذکر ہے۔ آپ جس نز کے چیہ پڑ جائھیں اسے پور اکر کے پچھوڑتے ہیں۔
الوم ہو با ےکہ اب آپ خائغ کے یییے بد گے ہں۔ الحمدللد- الل تھالی اس کے
ات تا ظاہرفرماتے گااد رآ پکی سب خدات میں سے بے سب سے حخمری
ا پکاھا جاۓ گا۔ انثاء اللہ
واللطام۔خاکسار
رز اطا ہراھر(19-2-86)
666
بسماللەالرحمن الرحیم نحمدہونصلى علی رسولەالکریم
وعلی عبدالمسیح الموعود عليه السلام
1٤ع 15 ک7
6 1
ککرم و جحنزم مز رگوارم جناب تّّ صاحب
السلام مم و رح 2ال و رکا<
مفف کے اں پرالی باقیں نل عمرفاؤ نیش نکی دہ اکر بست الف اٹھایا۔ جز اکم
الد امن الثزاءے تروع کے پچ سال میس بھی اس کام میس آپ کا رپچ تھا۔ پھر
جار سال کے افکتان کے قام میں سب وق آ پکی خدمت میں عاضررہا۔
عابجزانہ درخداست ہ ےکک اپئی نما دعاؤل میں اس ماب کو ٴا سکی مک مو اس
کے بچوں اور بیو ںکویاد رکھی ںکہ اللہ تھالی ان راہوں پر نکی فی دے جس
سے ا سکی خوخشفودی اور خلیضہ وق تکی خوشنودی عاصل ہوتی ہے۔ یہ عائز صب
ۃٹی آپ کے لے دعاکر ہے۔ الد آ پکو بل سے بح ھکر اع پیاتے بر دی نکی
امت کی وی و کے نے این
یم صاحب کی خدصت میں علام ادر فی ہکو ار
واللاع
ماکسار
او ر١ عکابلوں
687
بسماللەالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلى علی رسول٭الکریم
پیا ر ےکرم مج مبارک ام صاحب مغ انار جماعت ا تبیہ اعریلہ
پکی طرف سے ارسا لکردہ خط تح دو عدد رعت فارم گررہ 24-5-86
موصول ہوا۔ جزز اکم اللہ ۔ اللہ تعالیٰ نومبائخی نکو اتقامت کت اور دا عیان لی اللہ
کی ماس میں برکت ڈانے۔ آممن
آپ نے کائی مخت سے احیاب جخا حم تکو این الی الد جن ےکی طرف لج
دلائی سے اور اجاب جماعت ٹل ا فرلض کی ادانگ یکی طرف وج پدا و ری
کے 12ل
ین اہم کام جن سکی طرف آ پکو خاص وجہ دی ےکی ضرورت ہے دہو یہ ہے
کہ امرکمہ تمام دا یر اڈ انداز ہے اور اٹ انداز رہ گا لان خود اھ ریہ پر اڈ
انداز ہونے کے لے ضردری ےکہ وہاں ایک اتی اصی مضبوط جماعحت اجب
قائم ہو۔
اک رت میں یاں کے عصدناہ5( ا:18 اور
د۶٥٠۴٤ھ جھائنیں سای رجات رت وثت
جماعت ان مم تل ککرنے سے ر کک لیکن اب ہہ غحدشہ نہیں رہا۔ اس لئ
ضردرت س ےکہ جماعت شرت کے ساتہ ان لوگوں میں ینغ کا منصوبہ ہنیاۓ اور
اس ہتصو کو عمل و رم کرتے۔ نیزدعاؤں کے مات اس تی مکی کسی سے کے
مل نکو ششک چاوے۔
اس ماروشیش احاب جماعت کے ساتہ مقور ؛کر کے منصوبہ جیا رکریی اور کے
و میں آپ نے پاکستانی ڈاکٹروں میس ت لغ کاجو نصوبہ چلایا سے ا سک بھت خوش
68 ۱
کھت ھٹگ سچ گ يےيں _ےےے_____ے
ہوئی ہے سے بھی ساتھ مات جادری رہے لیکن وہا ںکی بلک سکم اور ایرد اھرککن
کیو نی اص تج ہکی تاج ہے۔
ال تی آپ کاعافظ دنا صرہو اد رآ پکی مساگی کے بھترین تناک ید اکرے۔
واللام۔ ناکسار
رز اطاہ رھ
:خلیفۃ ال الر اخ
15-6-6
کی کی و می
رلاہ
24-1817
کھرنی جناب تخ صاحب
الام یکم ور حمتالل وی رکا
کت لکی ڈاک سے آپ کاخ مھیرے پیا رے بھائی سید ات نا ص رکی وفات پر ملا۔
آپ نے ہمارے تم مس شرک ککی۔ بت منون ہوں۔ الہ تھا کی رضابر رای
ہیں ادر ای سے مبرکی دع ماسیکگتے ہیں ۔ دکھ صرف جدائ یکاہ اور یہ ملیف ےک
دن سے ددر موت ہو گئی۔ نہ دعا کا وقت ملا نہ صدقہ کا۔ ۲٢ 1کتز کو سوزوکی
ارہ ری نکی طرف سے ٹوکیو یس سو زوکی کارو ںکی فرائی میں شخمولیت کے لے
ردانہ ہدا۔ ایی رٹ پر چک گر پڑا اش ھک میری پکھوٹی بین امتہ ال رف کو فون
کیاکہ کے پچلر آگیا تھانگر اب یں تھیک ہوں۔ ا روانہ ہو رہے ہیں۔ لض
سانیوں نے کماکہ میٹ جیٹس لکروا دمیں دو ون کے بعد آ جانھیں۔ ککنے لگ نہیں
ٹیک ہوں۔ے ۳اکو پنیا ۲۸ک دن نیک ربا ۲۹ک مج ناش دکرکے تارب کر ہوٹل
1
69
سے ما بس آگے لے جانے کے ل ۓےکھڑی تھی اس کے قرب گی کر تجڑ نے بی لگا
تھاک ہگ پڑا ای وقت انموں نے ابولیٹس مگوائی ہپتال لے گئے۔ دو نٹ
او رہ ےگ رشحم ہو چا تھا۔ سای 1608ی 70+311 بھی بت جلد پ ری
ہوگئیں اور ٭ “کی شام ساڑھھ آسھ بے اسلام آباد جنازہ کچچگیااور رالژل رات
ایہویینس کے ذرییہ مفرکرکے ۱ کی مع چار بے ربوہ ک گیا۔ ۱ کو عصرکے پور
نین ہوئی۔٠بیوں کنا سے سارا فیکشن اسی خرس سے ہوا تھا بت عحب تکرتے ولا
بھائی تھایھ سےممیادہ سال پھو ٹاتھا لیکن بڑے بھائیوں دالی محبت دی۔ خیال رکھا۔
بت دعاکریں دوتی اور بچوں کے لے اللہ تھالی ان بر بے شار فض لکرے.۔ خود :
کیل ہو۔اپن بچوں کے متلق سید مرج کی جو خواہشمات تھیں برا فرہاے۔
عزنذہ دوچ یکو توم لگئی تھی کل بی د کرات یگگئی ہی ںگھ رخا لکرنا ہے۔ سامان
ربدہ گجوانا ہے ان کا ھا با نز رج نیدی میس ہے دہ دو تن ون پیل بی آیا تھا شر
ہے پاپ سے مل لیا تھا اس نے دو ماہکی می کی ہے نان س بکو روہ ختق لکر کے
جاۓے۔ عفید بس نکو بھی السلام صیکم۔ فی ہکو دعابیاارت
بسماللەالرحمن الرحیم نحمد٭ونصلى علی رسولەالکریم
روہ
7207
ککربی و می مد وی جناب بن صاحب السلام میم در مت الد
دی دک کیا قولیت دعاکیگھڑی تھی جب دالدین نے آپ کانام رکھا۔ نام
660
مے ےمم ہت ہے خظ _ لے
مارک“ زندگی می اپنے لے جو راہ تل مصمی نکی (وقت زندکی )دہ بھی ما رک۔
اداداسن دقف ز ند کی راو مب گرام اپسے دید یک لکولکا رت ےکی ج لق پالی دہ
بھی مارگ اور مارک آپ کادہ قل جھگذشن دفوں میرے عم میں گیا
گزش دنوں بش بطور کارڑی لس کار پردا زکا مر رہاہوں کہ وروی کو
ین کا ایخ آی با ئن آپن نےکر انز واج مو ات کی
دص تکی بی یفالت کے طور پہ اتی زین داع دا رالصدرشالی رہب یکیاے۔
ىہ نماکسار وقف پعد از ریٹائرمنٹ میں ور ائورکی طرف سے ”امسد وصایاش
سے تار بی موا کی علاش * پہ عرصہ تار سال سے کا مکرراہے۔ مات ہار سے
زیاد اصلہ دصای دی پک ہے ادر ان میس سے اخ کردہ مواد یر ے۳ چھوے حور
کی خدمت اس می شی کرچکاہے لیکن حردت اور دوست قواز کی دہ لی جو
آپ نے رم جنزم مولوی مور صاحب کے بازہ می دکھائی ہے دہ اتی عثال
آپ ہی ہے۔ اپنے دقت پآ پک اس تقر ےکا ماخوز بھی انقاء ایٹ حضور انو ری
در مت میں ڑگ ہوگا۔ بج اکم اللہ تعالی-
اس خاکسا کی ابلیہ بعارض ہنس رمثانہ جون 1۹۸۷ء ٹیس وفات پاگئی تھیں۔ ان
گیا اس دفات سے' چون کے رشنہ ویرہ ٹ ےکرنے کے لے عو رتوں میں مرا
راہ تم ہوا۔ لین الد ش کہ اللہ تال اپنے فل سے اور دم میا فیا اے۔
مرکی الیک لڑکی عزیزہ در ٹن نے 3486 فزرس کا آ خرىی 2۶۱71 کااعقان دیا
ہے۔ اس کے رشن سے متحلق رف رشح ناطہ ربودہ نے رم ڈاکڑ لاح الدین
صاحب ای گرم مو لو امام الدٗنی صاحب مر سال مین اڑود نیشیا کو خی کیا
ھا کہ معوم بدا تا گرم لاح الدین صاحب اپنے رش ہکی حلائش می ہیں۔
نان ان کا جواب نیس آیا۔ شاید انی خلط طا نہیں۔ بے خیال آاکہ آ پک
"661
یھو کہ آپ شابد اس محاطہمیش واسط بن یں ۔برم کور نو مج سی میں ہیں۔
آپ کا ان سے رابطہ ہوگا معلوم ہوا بے ان کا ائھی کک رشتہ ٹل میں ہوا۔
ماکسما ر کی انی ایک بٹی عزیزہ ڈاکٹ نود ھر8* ×70 دذاددھ میں سے جماں
خاکسا رکا داماد شفقی ال رن ای ن رم میاں عطاء ال جن صاحب پر وفسرفرکس نی
آئی کا بن لیکن ان کے بات مین آپ کو اس لے تر یکرز باہو ںک ال
حیثیت میں بے معاللہ آپ سے بی متحلقی ہے۔ ا نکو ان ڈ اک صلا الد یی صاحب
کچھ معلوم نہ ہوگا۔
آ پکوشابد یادہوگاکہ خاکسما رکی اہلیہ مرھومہ یرہ میم صاحب دارالصدرغالی
(نزر بیت اللطیف) آ پک اللیہ حنزمہ سے سام کلام کااپچھا تل رکھتی تھ!یں۔ یہ
بات خاکسار نے آپ کے زہنغ یں اپنے تتار کو زءکرنے کے لے کی ہے۔
نکودہپالابٹی در مین کے علادہ الیک بٹی ان سے بڑئی 8۸ کک تلیم یاقید اور
یک ان سے پر ری دنو کف۔ ای کے نیقی اض ا
فربادی ںکہ الد تھالی مھ ان ذمہ داریوں سے آبرد مندانہ طور بر سرخرو فرماۓ۔
می نے ۰ سالہ ار ی اضسرکے طور پر ریٹائز ہ وھکر لبطور ای ووکیٹ قانوئی ب رکٹ
ا مکر بی عھ کہ حور افور نے وقت بعد از ربلائر من فکی ححریک فرائی اب چار
مال سے بندہدفتزوصیت میں اس علی کام پ رکا مک رہاے۔
ای ماس سے السلام علیکم
662
بسماللەالرحمن الرحیم تحمد٥ونصلی علی رسول٭الکریم
سرگوڑھا
5-4-8
اخ وم عم د حنزم چا صاحب
_ الام یکم درحت اش ورک
آپ کات بکرالتزیت ام ما بے عد نون ہوں۔ کم اللہ ان الوزاء
تخت کی مو ود علیہ السلا مک ای تکس رح دلو کول ویاہے اس کے 8
ئے با ھی شک رکاج ےکم ے۔ ال تقالی آ پک قائل زنک رتک میں مت ٘
دی نکی یھی دے رہایے۔ ذالمزللہ می ذایک ۱
می ہے اس دق بھی لس پ ادن می ملاقات ہوگی۔ انشاء اللہ ۔ اللر تال
771 +آ۳( 7 جر سور ضا سے
ہے۔-۔
رابڑر
ٰ
۹ئ ۸۸ء
کریی د مھنزی شٍصاب
ا اع عنم در حت الل و رکا۔
امیر ریت سے بول گے۔ ہم خداکے ققل سے خیریت سے جل۔ کے پور
663
جج چس جچ چ خجج جے
واپں گے ہیں۔ ال تقالی کے خاش فضل سے جلس کامیاب رہ۔ ہرٹاظط ے۔
رت خلیۃا ا ایداللہ رو الع کے پغام اد آ پک ای تقریرنے ول
اص ا رکیا اور ان یکو تابیوں کا اصاس شرت سے ہوا۔ ضہرسے تجیے لوگو ں کی
ست کی دجہ سے جضورایدہ ئل رکو جماعت سے مال سی ہوئی اد رآ پکو بت ایر
بخماععت ام یل ملیف اور شرمندگی کا ما ماک رن پڑا۔ می جانا ہو ں کہ آپ نے
اپ ذمہ دار یکو پچ دی عرح) ان ےک یکو ش کی گر میں نے اس ککام میس جتی
امقدد کو شی نہیں کی بین اکہ ایک فرد جاع کی حیثیت سے بج ےکر جاسۓے
شع ای کے سلے آسا ےمعائی ارتا دن اور دمای در ضا لی
کہ اللہ توالی مشھے اتی ذمہ داریاں ایک اد یکی خثیت سے مجھان ےکی فزفق
دے۔ اود مرن گل کے نیہ میس آ پکو ام رجماع تکی حقیت سے خدا اوز
ای کے خلیفہ ایدہ اللہ کے مات شرمندگی کاسامنان ہکرنا پڑے۔ میں دعابھ یکرت
جوں اپنے لے بھی اور آپ کے لے بھی۔ اللد میاں ان دعاؤ نکو تو لکرے۔
مرکا ذندگی می یہ پھلا موق ہےھکہ اپنے ج بات کا اظمار ال رتک می کسی کے
ساس ےکر دہ ہہوں ۔گرمیں نے ضردری جھاکہ آپ تک بہ بات بنچادو ںکہ آپ
کی نشیحت رایگاں نی کی اور جلسہ کے بعع کی لوکوں نے اتی ج بات کا انم رکیا
یس نے ادپ عیان گے ہیں۔ اللہ میاں ہم س بکو گُ لکی توف دے۔ اتی دعاؤںن
یش چم س بکویاذ مین بے ایک اتی یڑ ے۔
واللام
٤ ط٢ 0ا
1 158
5 ا0ا
۳ 6 ) 757
7 1 مول ٤ہ مصہ و
٢0 7 اطانطاوۃ
6٤ 6 8
8(
0
طائ1اہ
(1688مین
.2+( 8۱ صفقعطو
0002
6 اپ و
0+ 58 8 5۰ 10اد۶۵ماہاویں
1186 11ز داعنط۔ 86 ٤ و8 مطافخاطم
: 56 ٭
10٤
)8 0
2
8 1ء
3 06
۵۹ ۶ ہ7
1) 008 "002
6" ۸وہ
"0
۷8100[
2 مر ۸ "7ھ
۱1ء3
02
[۲1:7
کی اہ 16 1۶1
.تا
24-9-58 5 کا
ےت ہت *الو 5۴ھ
وت ھت رت
فضل تال 0 ہو
پآ 2 اد ارت وو تج
کل کی ےت
و 1پ ور ا الا ع دی ٹر معلوم ہوا
۔ آپ سے طاقات جع آپ لوٹون 4 :
7 کی نی اور دا کو تا رکیا ئآ ِِ کے مت رو ات
و کت ےت تی یا
کک خی خر ھت
ّ 7 وہ
کت ھ۲۲ تج 08 20702
ا ذارے او ر۳۱ کس تہکو دای لخد وا یش
گے صت تہ ال ول ۔ 5
پت ہے اور کی وع
7 بنضل تالی اک ا و
ےت تھے ۱ چ7
وی کت وہر ہت
لے ات 2 ففہ لان ”لال پر( لئ
: نا صظرت 5 : 2 آیاد؛ رہ 5
۹ ۶ مت
فتا بر مشرلغ یل
ےئار ۱
اور آپ
666
ت سو ا من اہ ہر
مو لو تاء
اع رو موی لپستھ۔
کے ا کے ان تریت پازہ
و ثت مخ
ہے ات او ٍ۶ کے
عو ا امت امن حون
شک ا اور صلی میدان یں موای ور * 2 کک
کے 7 بے ا ہے ِ
۳٢ 5 ٰ ؿ۹ی"
كٍ کت ْ:
دد مان د بے کر یھ رت مولاتا جل
جال عری؛ تحت مولانافلام ام ار
1 :2(
ظ ونام رہوے
ری جانا
کت ر۲
او 7 س. ە*""
اتد صاحب نے مئے 1 ای کک
جا ِ سے ای مور پ1 تم کیا تھا
تک 1 7ا جج ٹس آپ کا بے کی
667
مفگور ہو کہ آپ نے از راو شفقت میرک ٹیک ےکینس میں اص وی کااظمار
کیااور اپٹی دعاؤل سے نوازا۔ میرے پیارے بز رگوار مہرے پا دہ الفاظ تیں
یت ات کر اح تہ
جزاکم اللد ان الجزاء
فیصلہ انقاء الد تقالی ۱۵اک رک جایا جالۓ گا۔ آپ سے دعاکی در خو اس ےکر
بیو اور یہ گی در خو اس تککروں گ اک ہت و 0/0
ے٘ے۔ ے ےت یم آ پل 2بیت ے ودالثاء
الد نزک رےگی۔
مس ۲٢ تخب رکو ادن س ےکرا تی جا رباہوں آ پکی ہد ددیی اور نیک خو اہ کی
اد ات ل ےکر جا رہا ہوں ۔کرارتی سے لاہور جانا ہے وہاں چند دن قیام ہوگا۔
آپ مشیر صاحبہ محنزمہ او رر مکرنل بشثارت اعد میرے بھت شسن ہیں ان ے
بھی آ پکی بعد ددی کا ذک رکروں گا۔ آخربیگزارش ےہ ابتی دعاوں میس اپے
اس دمینہ غاد مکو بیشہ اد رکھییں۔ اللہ تقالی سفرو جخقریش عافظ و ناصرہو۔ پر
سے فو ظط رک اور خاتنہ بای کے ۔ الل اتکی غدمت می ری طرف ے
اور ری ایی طرف سے الام یم رخوامت دا
تک مر ریف آف راوپنڑی
بسماللەالرحمنالرحیم نحمدہ٭ونصلى علی رسولەالکریم
7ئ 1989ء ٍۓ
کرم و محتزم ہچ مبارک ام صاحب السلام میم ورحۃ اللہ وبرکا
آپ کاخط تحررہ ٢۵ جون تضور ایدہ اللہ تال یٰ کی غدمت ٹل موصول ہوا۔
۱
درم داشکشن می رکیل سےا ینے۔
۱ لوصو و ویر
۱ جو رن ارشاد فرایا ہے 7
۱ بس ات
کے سے
10-1-1
ک0 قئرسع وو
۱ الام میم ور مت 9ر کا
رت وع زیری ا شاے رت“
کا وع ا
لتھو ےر 0ت"
۰ مھ مال کے ٹیب ہے اریہ اظلاً
٠ ۳ پنےا
۱ ۱ 7 پک و کی بوں؛ داناروں اور والاین گی رف سے مل
ٰ ۱ بے ہے ہق رتا :
کم ا 7ے کے کی
سپ کے اا مل مھ کت ڈائےں > اور مام
پ کان رآ رر لت کر دائی جا عق ے۔
669
چچ کو چووچکچچچچچچچےچھ ہے
ایک رکارڑ رت ے - بہرعال مدت چھ بھی ہو میں دلی ور پر آ پکو میارک پا
دا ہوں۔ دعاکر ہو ںکہ اللہ نال آ پکو مزید ہی سحت والی عم رعطاکرے اور
جماحتی ور پہ دی نکیل ناٹع الناس ہزاۓ رگے۔ آممن
دبا نکی خاندالی بمسائگی سے ل ےکر ایک لیے عرصہ کک افریق کی رفاتت
جیشہ یاد رہےگی۔ ہو سا ہے کہ اس تام عرصہ کے دو ران کئی معائلات می
78 ,8ھ پڈھھ ×٣“
کے ساتھھ فخالفت بھ یکی ہو اور رن بانوں کائھی تاولہ ہوا ہو - مور زما ے وہ
سب ممخیاں بھول گی ہیں گھریس آ ج کل دل کے ساھھ آ پک کہ رہاہو کہ اگر
یس نے تادلہ خیالات کے ددرانع آ پک وکوئی دکھ پنیا ہو ت می اس کے لے
معائ کاطلب گار ہوں۔گر قبول افتند زے عو رف
امید ہے آپ عثریت ہوگے۔ اللہ تھالی اییائی رگے۔ آمن۔ ائل غان میس
مرا لام عت کردیں اود و نک پار۔
بھ عرصہ ہوا عم ہوا تھاکہ آپ پاکستان تشریف لات ےگ ھآپ سے ما قات ن ہو
ی۔ اکر شھے عم ہو جا و یس خودطاقات کے لے ضر کو ش کر میں لاہو ر
اسلام آیاد اور ساللوٹ ٹل ہو ہوں - خجن باد تمادیان ہوک آیا ہوں۔ اراوہ تھا
کہ 0٥:38 کا بھی چک لگاوں گر ابھی اییا کر سگا۔ ا دورالن دو پار مرو ے
لئے مک مویہ کا سخ کر نے کی اللہ تھالی تے ات عطا فرائی۔ اود
٭ء می اد اکر ےکی الد تھالی نے نین عطا فرمائی تھی۔ ارد
واللام
دعاوٗں ٢ اح
عبد انیٹ عھی اللہ ۔ الام آیاد
6070
: بسمالل٭الرحمن الرحیم
صخرت مولا ناج مارک ام صاحب رس ات لغ
السلاع علیکم و رح اللہ وب رکا
پر سوں بذرلہ فون مماقات ہوئی۔ افرش - سارے عالات سے آگای ہو ئی۔
الد تایآ پکو صحت کالہ عطا فرماۓ او ری عھردنےن اس یار شش ے ویر ہکیا
تراکہ جانے سے ٹل خ ا ککھوں گا۔ آپ نے جو یج تعھم فربایاکہ آپا ہیی دعا
کروں۔ انشاء اود تھالی میس ان کے لے خصوصصی دعاکروں گا۔ انشاء اد گو پل
بھ یکر تھا۔
می نے میرالیون میس ہہ خواب دیکھا کہ الیک رجٹرہے اس پر مطلف مین
کے نام او رکا رکر دی ہے۔ تیسرے می ریہ آ پ کان لھا ہے اد راس یل آ پکی
قمام مہلتین میں ہترین اور زیاد ہکا ءکردگی حر کی ہوگی ہے اد رس جران ہو جہوں :
کہ عنم شچْ صاح بکاسب سے زیادہ کام اور ا سکی تفصیل نکھی ہے۔ اللہ تقالیٰ
سے بے ری دعا ےک آ پک اریت خدمات کا اپنے فنقل سے ہمترین برلہ عطا
فرہاۓ اور ھت و سلامئی والی سی عھرعطا فرماۓے۔ کل مورخہ ٢۳ مار خکو میں
پاکستان جائوں گا۔ انشاء الد اور اھ نما کے بعد وائبی ہوگی۔
میرے لے تصوصی دعاکری ںکہ آتندو جس جگہ پک مرن ےکی فونق لے۔
کل سے تار کرت کی وی لے با ھن ور تی او زیت 66ج
کے عائل ہوں۔ یی آپ نے اپنی زندگی میس ئے۔ محتزمہ خالہ صفیہ فرید ہاو رھ
کوسلام اور دعاکی در خواست۔ بائی سب ریت ے۔ واللام
آ پک دعااں کا ان
ریو خالر٥ / ٠٥/۹
671
2
جم م80 ٤ہ ا 170608165
8 صزطم لدصعط35( طحاتەط5
2 مھ 8+٥٥٥ +318 ط808 4420
6٥7 ۸ 6 115ھ
۹ صطذ طعانهط5 1068
1 رآَابدال ٤ہ (6٤٤٤< ١صنئلا جم ہ۶ ٢٢ہ ملاصعط٦
×٥ط 73٥٥ ] ×ط ,ەعنطغ ۰<ہ۶ وط 161 مہ دہ ٢٣ط ٣٢٢٢
۶ ۷× داد( ط٤ :33م 1 .ال ۶ہ 3۱ہ دد ۶ہ ٣١٢۵٢۱٥۰ دہ
×و(مہء طءسحد عا طءنط× ,ہقد+ولہ60 ٦ٗ صن عصتف صە مہ
.ہ7 ۶ہ عصت علط 3 51008٥٥ صعطا
×٥ ٤طه 16٥ ٥::ة۶ہ بد <صز( 0< ٢۷8 ] اط٤ ٢٥۶ئ٥ 1
,068ا ص7 ۲٥۱۷٢ 8 فناز ۲ا ۶۰٣۷٢ ۵۰۶۵ء تد ] ۔ازەاءہ ٥0 ٤ہ
ەطغ ٥۶ط ٤0د 410 1 ٤عط+ 26۵۵ ہء مسج ] ۰ظ صہ٥5۴حرمد
رم ٥ط 1٥٤٥<: ہ۱××ەوّ ەط٤ ۲٥۰٢٢ ٣۷٢٢٢ اعط+ د٥ آ٥١ ص۵٥
1160(8 ۔صسصعط۶ ٦ہ َر1انظط عغہەّمطاح عاەەمط رج ٤ہ 260 35م
ج”غغذ× ۴۷۳٠ھ افط ] ٤ مّەط دہ" عچهەعەم ط٤ ا5
٭ەطّ: ]آ غاط ,ہ٣ ز٥صہ٤۲ہ ×ہ ۶۶ہ صا ىچصلطا تہ
صرد 1 .هصدہ ط٣ ۷١۶٢ 368<د عط ا8ط ٥ ١٥٥ ۶41168
818 صع ۲ ۔صنهآمدہ ۲٢٢٢ ٣۷۶۰٠٢٢ ٤٥ ٤ط ۵لم
٤ عطغدم ط٤ طءنط ھٗٔذا عره هعط؛ ٤د ۹1 عطتتصماةہ
٥سط ٤×11 غعطغ ءممط ] ۔م٥ہ× ه ہ٣ لا صعەعصاط
عِط؛ جراز عصدأغ ٢٢٢ 8٢ 800٥ تہ ٠٢ 757صتا۶۱ہ ط وہ
٣۲۷0116.
×(ووط جح ٦طد ×۰١۶٥١٣۰ 153ا ×× ۶×ہ٥ ٢۱ہ غلاصعطل
7 5ز ۶3.16< ٤٤د ۶4 ٤د٭×مط عط ٠٥ دا م 6٤د تح 420
آ ا0ۃ سمطر ططاەوط عط٤ ۶0۶ مد[ ہہ للاصعط9' ۔چصنا مہ
57و ط٤ 6۱ز ہ(1۷ ٤6×۶ ۶٤۰ صا ط18 صعِطا ۶۶۵۱ ۳11
1ں ۱صرح ۶37(۶ × ۶۵۸۵۸4 ٣٥×عط 1د۱٦ ٥ج٠ ٢٢ ٣١٢٢٢ 3۸0390
7001.6 1 مع ز(ەهجدط عط)؛ ٭حدە صد ] ۔.5813] ٤×ەطہ
وت
سسسےسح ححت۔ے ۔سسسسسسشکسسکسکسسےمےممممہ۲ًًٌٌٌ-س٦-×9×-
۰ 5851[
٥٢ ١۰ 6٥ 36۸ +6٥٤ ۲۵٢ 8 غاصعطا صنوع۸
00ا ٥ط 88 168810ط 06003 1 16168 3 15ا دہ ۱٥
81٣۷ 8۰ 7001
7[ 811
۴ء يى9۷۷۷ ۰ء"
×0 8 8 7206880
بسماللەالرحمن الرحیم تنحمد٥ونصلى علی رسول٭الکریم
موروگوروے تڑاتے
8-102
کم د مترم ہی مبارک اص صاحب
الام صییکم ور حم الد وی رکا
امید کہ آپ نل تھالی خریت سے ہو گے خد اکر ےکہ الیابی ہو
گزشۃ سماڑھھ چار سال سے خاکسمار حرامیہ میں ہے۔ ان گذشت الوں میں
خاکمار نے آ پکی بہت لحریف سی ہے۔ لوگ ہآ پکو بت یا دکرتے ہیں۔ ہر
لج رانک ےکی مرک کے اق آپ کک ےک کے
جو خحدممت جزائہ می ں کی سے ال تالی آ پکو اس کا ان رگ عطا فراے۔
آئین۔ ہار بھی تنا یک ہم بھی آپ لوگوں اور بذزرگوں کے قش قرم پر تل
یں ۔ گر مگناہ گار آدی آپ بیسے مز رگوں کے نقش قرم پر مل ےکی وق نیں
پاتے تر فداکالاکھ لاکھ شکرہ کہ اس نے یہ قۃطق د یک ہم آپ سے ٹیلیفون ہر
بی دعاکی در خواس تک گیں۔ ہیی اپ عابقزانہ دعاٰؤں می بیشہ یاد رکیں۔ نیں
پا زداگو کی دعاؤ نکی بی رے ضردرت بے اور ضردرت رہ ےگی۔
603
ہم جحمصٔجچػًسسسٗےے تمجممچھےمےمےسشسسيی مم ہے
آ پکی خوائٹ اور ارام کے سلسلہ یش خاکسار چند لا ت کی لمٹ جوا را
ہے۔ ان کے ساتھ میڈ شی نکی لٹ بھی ہے۔ آلات کے بارو یس عرش ہ ےکہ چن
گے ہو گے۔ اکر ہو کے و جوا دی ان کے لے جو ر تہ ںکیاجاسکتا گرا نکی
> چا ہد اکھد خر
۷٥۴۰6 7 کے مجوانمیں وگنہ بیناں پر ایک غخاصی رم ا ن کو :
۶ 9 23“
میڈشن کے بارہمیش عرضس ےکہ نل فکپفیاں صرف *01 ×50 ہی اتا ری
ہی کہ ڈاکٹرصاحان سے سجھانلے می جاتے۔ اگ ر آپ صرف بے 010م د8ی
جوا کا انام تخل فریا دیں و خریب لوگکوں کا علاع مفتکرنے میں کاٹ سے
زیادہ وت رہ ےگی اور ایک صدقہ جاریہ لگ جاۓ گا۔ خرجب لوگ بیشہ میٹ
٣ص ْ ْ 998۹۰۰ ہ ےکم اس بادہ یس ضردر ل کریں۔
آ تر میس دعاؤں کے سائھ اجازت چچاہوں گا۔ مبری ہی فائمز ار جاب جوکہ سوا
صا کی ہے وفف فو میس شخائل ہے اس کے لئے بھی بہت دعاکیاکریں اور دھاکریی
کہ اللہ ققالی ہیں ا سکی ج رنک میں تی تک رن کی نوف عطافراے۔ آین
امرمہ کے مخ اضاب کو افزیقد کے خریعب لوکو نکی کے گج تین
فمائیں۔ یہ مجر احباب ایک صدق جاریہ کے طور پر بہپقا لکی تقیریش حصہ لے
١١۷۷۷٦۶ "“"
ککرہیں۔ ماکسار بھی اطلا کر ے کا۔ انشاء ادن تی شگرے
واللام۔ خاکسار
2090070
ےس لے _ے_ے_
: بسماللەالرحمن الرحیم تحجدف صلی عَلیٰإ رك نکر
سرگودعا
192۔7
ار ےکعرم و جتزم چو صاحب
ا الام یکم و رح او برکا۔
اپ کات بل راخ طا۔ با اللہ احسزن لوخد قادیا نکی ادن ٣ن
47 بے اس زاد ھب اوت میرک نے بد ے
ہیں ادر اللہ نقالیٰ نے آ پکو وفف زندکی کا ای نمو شی یککرن ےکی مض عطا
اربائی۔ اللہ تھالی قول فرماۓے_
: آ پک لس ہائے سالانہکی نار ماشاء ال وب ہوتی تھیں۔ مرن کے
اتانب کی یی بی ایی ماب کو الما ال کا مکر نے کا عقچ طا۔ اس مہ سے
تاب می ںآ پ کا نام بھی ہو] تھا۔
را نے ابی موا مسارے داقعات بی ایت اخقدار سے ککھے ہیں ۔ ان
سے کہیں زیادہ پچھوڑ رۓ یں۔ کرت 2ے لے کا راف کر رو
می یھ تفہ ہو سے ہیں۔ ۱۹۵۳ء ذانے واقجات والا حصہ اس کا ھی نہیں ہی
کا کر اک -
آ پکواللہ ای سے می سان کا مرن ےکی گھری توف دی ے۔۔
در حیقت بت می مکل ام ہے۔ ال لی ان رد شی اور زان اور عم میں
تاج عطا را اور بے عد ددد مند ول دسے تو کام بنا ہے۔ ہے عاجز مبای نکی
کا مال کے ئے مففلہ تالی ہمت دعاٗی ںکر؟ہے۔ خودلۃ اس میران میس نہیں ا
سک د مان کک سا ان کی می جا کہ ایک رک میں شر ےر
675
تقادبا ن کا زمانہ بڑاىی ملا زمازہ تھا۔ سا ڑ تھے اکیس سا ل کسی ہف میس دہاں جاکر
لف اٹھانے میں خدا کے فضل سے نامہ نہ ہوا۔ مسا ئل بہ جس راس بر جات دہ اب
بھی ے با دک ہوگا۔ ہ کیا شید خلط نہ ہ ھگاکنہ اس کا ایک ایک چیہ اس ماب تابکار
کے آنسووں سے تر ہوا۔ اللہ تھالی اس عات کی بردہ وی فریاۓ اور ضزل مقصور
شض ابی ردحانیت سے مسرفرماے۔ اللہ تھالیٰ آپ کاعافظ ون صرہو۔ عحبت بگھرے
لام کے ساتھ ۔
بسماللەالرحمنالرحیم نتحمد٥٭ونصلی علی رسولەالکریم
3ء
ری و مم ار جتاب تی ضاحب
الام عنم ور حم الد ویرکات
اللہ تالی آ پکو صححت والی اور نحد مت دن بچالانے واٹی گی زندگی دے اور
ہ رم کی پریٹانیوں سے دور ر کے اور انا فق لگرم ون راکآ ۰ بے رعات
رہے۔ آ پکی تخریف آواری کا تگریہ۔ مرا دل بھت ہی خوش سے بقایا ون
صب ہولت غیرے اس بی فھمریں ماکسار انثاء اللہ تما ی ہر طرخ خیال ر بے
گا۔ ہہ مہ الد تھالیٰ کا بت بمت احمان ہےکہ جماری مود اہ تی لکو ہچ ری
سے۔ نماکسار سب ف وق برایز مرف اد اکر ر سے کان ا عال الد تمالی کے وی
دی اور ٭٭٭'۵٦۱اداکر دی ہیں اور انشاء اللہ تما ٰیٰ اس سال ۴۵ ہزار اور اواکر
کے دو لاکھ کا و مہ برا رکرو ں گا اس تال دا رالپتائی کی تی لے ببھ جن و نے کا
"676
دہ وکتاہوںض دعاکری کہ اللہ الین نل رت مکرے اور یقت
ول فراے۔ آیین کے
خاکسار ال وھ زا کا چیک مج فنڈاد اکر دہاہے۔ اکسا رآ پکی بت بت
1ئ ایارک داد ھرے ا کک نکی نت
ادرک امچد کے اھ ۸11169+00 ۷:ہ 7ل بھی دای بت متا جع نے
+2 ر0 ا وم - 4 1 2
اق ا۱ تن و و کا کر اس کن
رے گا۔ انثاء ار نرالی ہماریی مساجد کے نے کا سال ح تامت عاری ے6
الد نھالی ای ططر حکرے۔ عو
واللاع
ماکسار ا مز
دعاؤؤں کا انح
ید ار تن
بسماللەالرحمنالرحےم نحمدہونصلی علی رسولەالک ہے
لنرن ٌ
8ج2
1 8
کی الام یکم و رح" اللہ وب رکا
آپ کاخط لا۔ الشر تما لی اب کا سن و جز
یا 7 2 مر ےر
پامتفیر ہو ای کا رما زا ظا نان لوانجاء ایل ےی سا ےرات اور کت
سے ڑا خلا رتا ہے ا نکی رو عالی ترعیت دا اور عارت ویر می کرس ٣
ان ٹیس دعاگو اور صاح بکشف و العام جرگ پیدا ہونے شروع ہو جاتیں۔ سب
اہی سبصصس--ستیو
6077
واللام۔ خاکسار
مرزاطاہر۱ھ
خلیف: الچ اکر اع
بسماللهالرحمن الرحیم
.3,7 ط 18153
001-7
رم و محنزم پز رگوارم چ مارک اج صاحب بر لم ایق العالی
السلام یکم ور ح“”ابڈداوبرکاھ
انی آپ کاخ ملا ہے۔ بتزاکم الد ان الجزاء۔ اللہ تعالٰی ریا الصا ین کے
سو اجیلی تجح کی طباعت و اشاعت ہر حاظ سے بست بی بامرکمت فرماۓ اور ال
سے بمتو ںکو برایت لیب ہو۔ آن۔ الد تعالی آ پکو بھی اور سب عزیزوں'
رشن داروں اور اس با رت کام میں حصہ کے دالو ںکو جرز ا خجرعطا فریاۓ اور
اپے فلوں کا وارت بنا رے۔ آمین
کنا بکی تز بل کے بارہ ٹیس انشاء اش آ پکی ہدایت کے مطااقی عم لکیاجاۓے
گا ۔کتاب ٹے پر اس کے اخراجات کااندازہ مپنی سے پت کر کے آ پک مد مت
می اطلار عگردو ںگا۔ برا کرم دعاؤل میں یاد رگیں۔
واللام۔ خاکسار
ا کت ا خ1
"78
بسماللەالرحمن الرحیم
روہ
15-6-4
تلم محنزم مولا ناپ مارک اج صاحب
الام یکم ور ح ملظ ویرکان
آپ کا نامہ مارک مح مارک تمہ ٠ھ ۷ 128.17 05592" ا زل
باغ ا ہوگیا۔ اللہ تھالی نے آ پکو بہ خاص فی عطا فرمائی ےکہ ریٹائر ہونے
کے بعد یہ مٹیم غدمت اضجام دے کھیں۔ ف اکم اللہ ان لزا ۔ ال تعالٰی قول
فرماۓ اور اس تجح ہکو سو انیٹی جاہنۓ والوں کے لے مفید بناے۔ انقاء اللہ وتت
ناکرا کا مطال کرو گا۔
05 07× 18 810 سے ہہ بھی معلوم ہو اکہ آپ نے ب سناب اپے
خر پر می اکر جما ع کو ٹن یکر دی ے۔ آپ کایہ تحفہ الینٹ افریت کی بقاعت
جع بت زا تر ریت امی ری راع سک ضا بت تر وو ےو کک
دعا ےکہ اللہ تھالی آ پکو بی از زی خدما تک لوٹ سے نوازے او رکا مکرنے
دای برک تھی عمرعطا فرراۓے۔ تزجمہ میں جن احباب نے آ پکی نصرت فربائی
الد تمالی انی بھی جمزاے تردے۔ تھام احباب جماع تکو علام ع شک ویں *
نم امی رصاحب اور خمام مربیا نکی مد مت میں بھی سلام اور در خواست دعا-
والسلام
خاکمار
ال 0 اتا
کو ا موہ
6079
کەککککک کک ٔتک---حً<-ووبوًَسسّٔ*]*-*]ےھ-_--س_<_و_''' چکگ
کے اعت الرحم
ضرا
20-10-4
7 امام میم ور حم ابد و برکان
رر یا کے ففل سے بریت ہو گب آپ کاخ لئے ینام الد
تنای۔ جوابپ دی می قزرے خیرم وی سے مغرت خواہہوں۔ آ پگ الہ
صاحب کی رہ ےر وہ ضرورت مندو ںکو رے وباگیا تھا۔ اللہ تما
کا سے سح ہے
مصلمانوں میں بھی۔ اہیے گنا ےک بمت جلد شخم ہو جا ےگی۔ اد تا آ پک
ت اعل ات عطا فرماۓے۔ آشین
و ےس وو ل گا و نا کے
بچائ یگی۔ سا ان کت تی۔ لے رر سے تھی تب ّ
کو شش شک جا رہی ہے بھی متک وقت نہیں ملا گمشتہ دتوں دہ اھر ہیا ہوا تھا
ات ا 7 ا ا ا رس
ا رن ال تجح کیا سے او رسکاب اس وت ریس می
ے۔ اس طرح ایک بی اتی می جزام یکو دد پوس تراجم حدیھ کے جاوں
ے۔ آپ ا بک با اش میس بی کے لے بای رہ ےگ۔ آپکی خدمت
و رر سس عونت ہے۔ او تھالی پھترسے بتک می ںکا مکرنے
یق عطا فراۓے۔ آممن
680
_ےصےح_۔ےسےے_ _مسےہسہ رہ 80ؾ_ِ_ٌ
واشکش نکی مد مبارک ہو۔ اگھ اس کے فوٹوز کا نین ہنی ہوگی حر
ااز می دپے جا یں مداعافظ
واللاعم
ماکسار
لک وٹ
بسماللەالرحمن الرحیم
۳ص2
ری د مدکی جناب پچ صاحب
رم
ال می برادر ری سید جھ سور شاو صاحب کے متعلقی آپ کافوٹ بڑھا۔
آ سپ ے بھت خوب ککھا ہے ۔ اس سے بھت کو یکیاکھہ سکم ہے۔ ہر ضردرىی بات
آپ نے ان طرسی سے ٣۷٣۲ کردیا ہے۔ الہ تالی جزاے خی ردے۔ جم
سب غاندان کے ا فرادکی طرف سے دلی شگرتے۔ ہم آپ کے منون ہیں۔ میں تے
پک پیشہ مشرتی ا فری کی جماعت ک ٥ہ ط7۱۱ ٤ی سمتجھاہے۔ بھائی انیم
شاو اور امتہ ایہر اداکرنے کے بعد دای نیردلی گے ہیں۔ آیا مسعودہ اب
روہ اپ گھریشس سم ہیں او زی د جم یں لاہور بک می ملازم ہیں ان کی
طرف سے خصوصی ظگرے_
رم آپاصفیہ مم صاحب او آ پک خدمت بیل ہم س بگھردالو ںکی طرف
سے سلام۔ پچو ںکودعاعلام۔ ویر شریمت
اید جے خل گل جا گا۔ آپ کاپ معلوم نہ تھی زی نتر بھئی تاب کی
راوہ
4-15
نم بذ رگوارم شی مارک اجر صاحب
"۶+
بذ رجہ عمزیزم فرغ امہ این نم سید مھوداجر ناصرصاحب آ پک طرف
سے ا سال فرمودہ ریاض الصا ین کاسواضلی بش تجمہ شد کاب موصول ہوئی۔
جز اکم الد ان اںجزاء
آپ نے ماشاء الہ بڑئی مت سے بے تی غزانہ مشرقی افرسیقہ کے لوکوں کے
لے مسا فربایاہے جو بقیاان کے لے بت بست باعت برکت ہوگا۔ ریا افصا ھن
جموحہ کا ایک اپنا عقام اور اپتی طرز ہے۔ جس طرح قرآ نکر مکی آیات کے جع
اس جموع شی اعادیٹ اھ یک یگئی ہیں دہ مصف کے تقوکی اور و لکی مفائی کی
ای کرکی ہیں۔ اس کے بپڑ نے سے ہیقہ مجھے ایک خا صسکفیت محموس ہوتی
ہے۔ ااعل ا فریقہ کے ایک بھت بڑے حص کی جو سوا مکی ہو لے والے ہیں آپ
نے یہ ایک بمت مٹیم تہب فراا ہے۔ اللہ تھی آ پکو ا سکی بھت بمت تزاء
کے ان
62
ماکسمار اور میرے ائل فانہ اور دنہ رفقا کو اپتی دعاؤں میس یاد رکھیں کہ
یں اللد تمالی ابتی رضاکی راہدں پر چلاے۔ دم تک تلق دتا چلا جاۓ اور
بهار ا انام مھ رکرے۔ ین :
اقب بکرا مکی مد مت می سلام اپے اٹل غان کی مد مت میں بھی سلام اور
دعاکی در خواست فرمادریں۔ یہاں اگ رکوئی حدرمت خاکسار کے لا لی ہو تے ضردریجے
7 908
واللاع
خاکسار
مو رام غان
بسماللەالرحمن الرحیم
ری د زی جن صاحب
الام عنم در ح٭*اشر و رکا<
کی دفوں سے جار بار آپ بادآ رہے تھے۔ اس حوالے س ےکہ د میں عام
طور پہ آپ کا پاکستان کاددرہ وت ہے۔ معلوم ہو ہے آپ ن ےگذشنۃ مال کا
کرام نی بای اب اس سال آنے کاپ وگرام ہے۔ آپ کاخ لا ھت خوخی
ہوک اود ہے معلو مکرکے ادر زیادہ نشی ہو یکہ باشاء اللہ آپ تالیف و تمزیں
کے کام یش جمہ تن مروف ہیں۔ اور ریاض الصالین کا سوا جیی میں تج کر کے
دا کے ہی۔ اد سار کے ۷ ۰"
دوستقول تےکیا۔ بل رآ ھکو سلسلہ کے بپرد فربایا۔ نز سکم اللد ان الزاء
اکر ےم نے >2 ۲۶1681 83 ۲۷1۱1٥ ۶ہ ۰۹م ۲٢ک سواجلی
>-سسلے سے نی تہ --٭دت-2-.-.۔۔ چ سیر
چوووودوسسعسسویسست
683
ترجم بھی جلد شمائع ہو جاے۔ بہ و آپ نے ماشاء اد پیشہ کے لے بے لے
ڑا پ کاساما نکر لیاے۔ اللہ تھا یٰ ا ر3 جار یکو قّول فرماے اور قائم ودائم
کے زین
بیت ال م٠ن وا شش نکی کیل بر مبا رکیاد عرض ہے۔ یی منحھوبہ آپ کے خر
امارت سے شروع ہوا تھا۔ اور اب اللہ تال کے فطل سے پایہ تی لکو پیا ے
اور آ پکو آخر تک اس کے ساتھھ واؤسن رچے اوراس کے لئے فنڈز کے امظام
کی فی ھی ہہ اللہ تال کافضل ہے۔ ال تال آ پک ان مسا کہ قول
فراۓ۔ آ پکی عحت اور رم پرکت چنٹے اد رآ خ تک غدم تکی ذف بت ۔
جن ما کک تا یک رن ا ا کی کا ا
واللاع
ماکار
میراشازروہ
23-1-5
بسمالل٭الرحمن الرحیم
٦ لائی ۱۹۹۵ء
امت جنزم مولانا عطاء انیب راشد صاحب سک رٹڑیی ججلس شور
الام میم ور حتت اش وب کات
صب برایت جتزم ام رصاحب مند رج زیل دفد ام ریہ تماع تکی طرف ے
جا شورئی میں نمائندک یکرے گا۔ ام روف دکرم مولانا جن مارک ات صاحب
684
ہوک وزید کے دو مرے اباب کے نام منعد رجہ ول ہیں ن
ا ۔کمرم ڈ اکٹ مسعود اھ ملک صاحب بتزل سک رٹری ام یل بقاعت
۷ گرم ڈاکڑ بل مود ملک صاحب س رٹربی وفف نو ا مریلہ باعت
س٣ تمرم ڈ اک لیم زححت اللہ صاحب صردر ماع ت کاو لینڑ
۳ ۔کرم پرادر لی مرنضحی عصاحب سی رٹڑبی تعن ارک بماعت
۵ .رم ڈ اکٹ یبال رن صاحب صدر جماعنت لاک الس
٦۔- گرم چاویر جن صاحب تا تر غدام الاصری لاک انل
ے گرم ڈاکٹرکریم الد زمروئی صاحب صد ر ہس انصار اللہ اع یہ
نیا رات کت سا
والاعم
خاار
ظفر ھر
مج صاحب۔ شورکی کے علادہ آپ مہ کے دوران بھی امیروذر ہو گے۔
شورٹ کی عمل ریو رٹ بھی چراہ لان کیلنے درخواست ہے دعاکی دد خواست کے
اھ
واللاع
بت العاذت روہ
015
یت
الام یکم ور حم اللہ دی رکا 2
آپ کااور ۶ر:: فی کے خطوط ے۔ با س بک دعائون کا نے حر شر ۔
میری طبیعت لے سے مت ہے۔ تا ٭م ادویات کا اٹ بت 810۷۷ ے۔ اب ل
دعائون بر تی بھر دس ہے۔ کرد ری زیادہ ہو ت ےکی وجہ سے اب خطوظ کا وب کاونا
میرے لئے مشکل ہوگیا ے۔
یی ا ید سے ما می رانا ون ان تی رت مل ےت
دنادکی صنات سے نوازے۔۔ سب صححت و عافیت والی گی عم رعطاکرے۔ عزعزان
و و رر سکیا
مضکل وت سے آسائی سےگزار دسے اور ج ر مکی چی گی سے مفوظط رے۔
طببہ یحم بھی لام کہ دہی ہیں۔ ان کی صحت بھ یزرد ر رہتی ہے اا نک بھی ابی
دعاؤول میں یاد رگ ۔ خداعافظ
واللاع
رزابارک2ھ
تا 1310م ٭ ا 178۸۸( 511811511
۷۸ھ ۷ 2۸ ۲۸۸۲۱ دَناط
,لاج 58( ٥٥× ٥٥ ۳( ما8 تد 706:768 .18ے
"6086
ىے بے ےمثتے_پ بای سیسیسسسسسسسںٌں.ٌ
ن3 ما 511٣700 6 8 ما سا٢ ٢ سز معلتا0(تھ
6 1011 ط۸۱7 ععلدر نصعسم ھ عصعطہ عطوزعا
٭٭للدء نلطد عد 3.۸.۷۲۷۰ ۱۹ صصعط75 ۰۱۰٠٢ ۷ 77
۲۰۵۲٢۷۹ 01ص 5ہصص 8 متا 4زط8"
23ئی5 109 1 تع ص۷8 عطدعحٗ۲٣ عطء عصزط ا ٥316ء(
3118ءا ۶ ۸۵٥٥٤ەمصنعا عصنطناہ "85 ط1ئاز1 .لاط8ا: لا
١ و ٥8٢ہص نادعاجہ بلانطہ۷٢:[٭ا ×× عطیسا
تح( حعطا:ئگ( 81۰ھ ةصعط سصدامانا نزوعمصہ
عط8نالنصعطاعص؛ا لاحىصم8× عطوئٌگا59( 06ل ا صفتصت٦ا
بتاطا 8۵٤ا ععانتھا نعانط عطدانط ےعء نیئ تعنوو
1116٥ 6۸ط 78101 نلنطہ 18ک جھ ۶۱۲۵۶۵ چدز1ک
0ء ناما عھ ھللزصعظظھ ٣< سصها: نہ٣ ××
۴888 ط۸0( ١ص5( ۱ مطتن1ص0 ۶ص 1041٥۲ج٥۔"
بط 518٢۷ 9 و 10155 8 انا ئا ( ۸.۷۷ قػ
۶٤ رے .صل ١×صسطخۂ ۱١۹ صطذ م ط۸5( طظ(نمطه
6ا 8ت مرہ1027ز :52 مکاونحہ صوطازجططئ ٭۸(ہ٣ صتلتد
)زا سصطدطا 1مم ط8 ط7۵۸ درنلطد ×× ممامونله ,ہ٭ەطاو٣'
6ص2 زرھ تر رر (فعصطفٛھ 8 111801 صعه٥عسضیق نصية
5ھ عصهِزڑ ٢لا 3× امھ عمنعمن٭د نصعطنٹھہ
رصع ط 1۷58۵ حما7۷ھ ممصعط تحصدااننکا دہ نعنطٛط٢٢
2۷۰ ( ص8 ئاظ نعانط ناطع اذا )01٥ 1٥ ×ء(
ک 780 68:0٤٥ 20811٥ ٥۶ 36م 19283 ء7۸۳
تنگ ۲٢ (۵(۴ 7۸7 2 نلم تناد مع صعصوطنصد 8ا صونادۃ
۶ تعمنز ۷۵۸٥ نصئلصد۵٣ عد نژڑمع صسطء ۷۴۵ 8۰۰۵01116 11
طحانمعطڈ 1953 مّادئ۸م( ۰ت ص8ا ہن۷ ھط عصەنزمطا ہ2
09 ۷۶ک منط 0٤7 من سطانزنلد ١١ح صطذ ع ×٥ط ت5(
٭عّطٌعجتاا طط حصہ۴ کا وت 2ص ×× نطزٰہاجا
]:8 ۴6 ۔تطاععطەد59( علازء2ھ مصعط نانطہ 8ی :۴
ت ۷۷۵1818 4[6 ہز ذ1ا صاع مت تد ب28۷4 عمتاصة
6807
سمتے- ہے -_-__--_.____. ےہہستٹتکصسچج۔سس سہ ہ68۔ہسص ہے
2٤00٥ 1111760180758 7075170 ۵1ک 16۷9ء
حاتا ۵ا ٥۷ء دہ × ٣٣( ۸ق ۱١ صصعطت5( س0( ود
ند٣اک 8 نعنزەظەها ٭<٭ سصدح]تا ۔نعنط نطانق
5۵۸.۷۷٢۰ 06 7 28 نطا 1ط دەزہ<م معص دعاہ: ہچ صمسط
ع ل۴ ما5( طمانہهط8 ,111+70 د۲ ٥٥٥< 03×
22۵۵ء تا تدموعطل ذانطہ۷منک عنصسحاهصد لقەصط۸ھ
۸13 .تا ہ٣٢۳ ت۲3 ٥ء۷۸٣ ۷٣ ع دص( ۲۱۸ وزعط
٢ عساع د٥٢ طحازنهطا مہ5( عص نصنطاطد ۲۷٢ ۷ء مط 8ت3
۲٥۵ ۶ عطایتھھط ٣٣ لص ۸۳ع8٦سلا تسصوداہز:×
8اط 7۲30٥۸ 19 32ط 8٤٤7۱11-٦ مطصدصد مد(
1:18۰ ٢ص نصلة ٣× باطاج٤(١٣ 8۵(۶1:۳۰ تحص نطهن3صہا
388181 8 ہز(ںاءا تد 16 10 تاسطیسطۃ8
تا عطا ناد حاحص تصع۲ ععططتاھطا حصھ(دند ۳٢ 21330036016
7۰ 28
١ ۷مان عا- ٤1ط د۷٣ 1ء[1+8ءط ۷۷۸۲۵۸٢۷٣ 728 50+81
تسلز نز( دنچ صنمعصد٣ سسع(دءہذنکا د٣٣ نعصنطسطہ ٢ ۷ء(
7٤6 عط18زہ حھط ۳١۷٢٣٢٢ ۔سصداہذتا منصوعصن1ٛطا
98 ۳۷۷۱۰۵ د2 نتصواىوظ جص قعوںبل تمہ نانطحد
٤9 .نصامصس ×× مط ۰تل 0ئ د ۲٢ ممزہ3ہّہ
2.0 66ط ننصدز دع د٭ڑزصںط ا ۵< ہ3۰۷ صت٤) نغائط 0ط3ئ(ء(
٤۶ 411و صھ عصمزرہ عطاسىسطما مبردہھء ×طبطلط هد
٣۵۸۰۹٣١۹ نا .مص3 ص۷۲۸1( ×٭> زء×زلط اط۳ .1181550>
نط تع( ص۲٤ححہ د۷ل نطانفعط عصلاسطع ما عھ مسععطع٘ ا(
طعانامعطة نعنطعطة نل( .سصدهاەنهہ٢٢ عط تل صہہ ۶ء2
0ص ×ط عطاعنانط نطاەصد ۱۸١ صط م۸ۃ[ وط0](
نعطتا ,اع صدء مع ا831 براىصو×ء د81 ح انطااءلط“ عطص ××(
۲٢ 2380(٥ نانڑھ ۷۵ا نص تاچصد> تٌاظت جھ تع
(6:162 م707 :ص۹9:<۵۸) .دع ٥ ٠:11تا
581880۰ ٥ہ 08 35٢۱۷1110. (۶و ماعط ضط ھ
688
ہت لی ا'۔ےہسہ لسہ0 سس ں.ں۔گ..لحٰ-لٌ
٤ہ طعلرعطہ ج+ٗ(1614 عط 8ء 18 صعصمآا دع زط7
1018511 9 ا
18 6ا .اد ۰٤۶ کل چصاصجدة ۶عصممزمعنصسصیہ
18ک .18000 ,ذزاز نا ۲۱٥۱٥ تئ8ٗ
809 10 9:9
بسماللالرحمن الرحیم
ری د منبی مارک اتد صاحب وا شکٹن
الام میم در حم“ اید وب رکا
امید ہے آپ فربیت سے ہوں گے۔ آ پکی هرسلہ تی نکتائیں-
ا آر نل ان لی کا ناب
۲ آ رنڈ ٹائی بی کا تاتب (ا نکش )
ام
یی بر اکم اللہ انن اہجزاء
اناء الد آپ نے غوب من تکی ہے آ رنہ ٹائی لی والے ناب کا اک
دک لیا ے ابیے ابیے ش مق اشن الاقوائی شرت کے للا ے کر
فی کت پا خی نے - ال حر ضاضب سے ممعحل ماب کابھی ایک ھ
ات -۔ اللہ تھالٰی آ پکو جزاے خرعطا فا اور آ پکی صھت اور عرش بمت
کت عطا فرماۓے اور مزید محدما تک نف عطا فرب چلا جاے۔ اکسا کو رعاؤںن
کک
والام۔ خاکسار
تیر اش روہ
14-7-6
"689
حمنالرحیم نحمد٥ونصلی علی رسولەالکریم
وعلی عبدہالمسیحالموعود
ککرىی و نی رت تچ مارک اج صاحب
السلام علیکم ور" ایق وپ رکا“
آپ کا عبت نام مما۔ بے عد خوش ہہوگی براٹی بادیں نازہ ہوگگیں۔ آ پکی
ری ور زائونائی ین اکنا لکوت لی ایک اف اور مڈی کا کے کال
امدللہ ال تھا لی آ پکو جزاۓ خردے۔ ریاظ ن لصا ین کاسو اتکی تج ہکرنابڑا
08 ے ۔ اس عھرمیس آآ پکی ہمت قابل داد ہے ۔ الد نعالٰیٰ آ پکو مت و
تل رسکی دے اور اسلام اور اج ی تکی مزید نماياں خدمت اغجام دی ےکی تی
ےر ای
آ پک شائ کردہ 3011618 تن ۔ جزاکم اللہ ان الجزاء ٹائی لی
ےنت گار بعر تع رت
ہے متعلق مغری قوموں می خلط لنییوں کے ازالہ کے لے مور ہیں۔ اگ رکوئی
777 ئ9 ۰ء
چا یں کانی شیم اور مغ دکتاب بن تی ہے۔ میں نے سنا ےکہ اھ ریہ یس الام
کے تل یکمابوں کا بت بی بڑازقرہ ے۔
ماکمار بھی ریا ئزمنٹ کے بعد چھ نہ پھ فو ساسل ہکی خد مس تک ربىی ر ہے گا۔
گمزشۃ دنوں میشیاء کے وزی اعم مات رم (مسلم دنیاکی جانی ہنائی حخصیت نے
بوضیا جاتے ہو لندین میں ایک تنقری کی جس میں ملا نو بر بت لشن لع نیک یکویا
حضرت سکع موعور علیہ السلام کے ثول ”بد ذات فرقہ مولویاں "کی تحیدب قگی۔
اس کا تزاشہ گگوا رہ ہوں۔ 77 ں- تم
بسماللەالر
690
جج ڑجےشچچچهےےي هسهےيے ےے۔ے_ سے سے
دس و عا وت ہے سر ضا یا را مرا راو کی
کم کاداتقہ ممیاسہ میں بھی ہوا تھا اور می تے 36167 0317 7 کے د عو ںکی
یی مباس ٹاتز کول تیج کو ین لوک نے بین کیا قا وب آے
ماس آنے تھ تو آپ نے بھی پہند یدک کااظما رکا تھا۔ آپ نے فرایا تا 9ج
مو سے فائحدہ اٹھالے دب کامیاب ہے مھ م گر یاو ے۔
نی اھ تھت دن
29701
رم ود جنزم مولانا مارک اض ضاحبف
الام “یکم ور ح٭ اللہ وب رکا
ند دن ہوۓ آپ کا خط لاہ آ پکو رہ م ہچ اہی عبیدی صاحب کے
خطوطدکی ن١ل موصول ہوگئی ہیں۔ المدزلہ خی الک
خاکسار نے بذ دیج بی ون عزیۂ مجکرخبیر صاحب کو بنا دیا ے۲
لہ وہ آپ ے
رالطہ رج ےکہ یہ خلوطکن گول پ” مناسب زہیں کے ادر ۶ز ی: مکرعویر صاحب کا
61
آپ نے حزاضہ اور مشرقی ا فراتہ کے دز مالک بین بے شار خد مم تکی نیقی
ای سے جس کے شرت ےک بھی ہکم حص پارےے ہین او رآپ کے لت ز سے
بت دعاتیں لی ہو ںکہ الہ تایآ پکذاس کاب زعظلیم خطاکرے۔ آ پکی حر
اور تحت میں خر اتال بہت کت دے۔ آمین
سا مکی اخبا رکو زیازہ سے زیادہ مفید بنان ےک یکو ش کی جاردی ہے مکہ انس کا
لی معیار ہردو سرے زسالہ سے بمت بلند ہو اور پڑ ین والا سو سکر ےک ای
کے علم میں خاطرخواہ اضافہ ہو رہ ہے۔ احاب ہماعت سے پا رو عبت اورشخقت
سے کام لیا جا رہا ہے۔ بڑکی دفادار اور پیا رکرتے دای جماعت ہے داتعایٰ ان کے
اغائصل می بت برکت ڑانے۔ این
7 ےب عرف ایک دم ت کی درخواس کر رہاہول وہ ےکہ
آپ بی اتی یم شی دعاؤں میس ضردریاد رکھی کہ خداتھالی ہم س بکو ان
رز کن رت ران کت شی و تم
مد تھا یکی خوشفود یکی راہوں پر جے دانے ہوں۔ آئین۔ آخ بہ ری طرف
سے اور ججماعحت اریہ اض کی طرف سے آآپ سب کو محبت بجھراسلام اور دعاکی
ورخواہت
واللام
ماکسار
داوں کاشنی
(' عً
ای ری گی کنا ربا ہوں۔ ان کاایہ رلیں ہہ سے۔ َ ٠ ٠
۱ 1 و 0 ا می تو ات
ْ من ٰ ا مرو من ری ا چارنج خراٹ
28٤ ۱ ص78 دچصد 260 ٭وّھ و ۶م ٠ 1
692
ىىےصمےميچ98۔__۔_۔_-_ لے ہےسہےں ا۱رم6-0:_ ا۱م0_ گ۔0ەلٰےٌ
بسماللەالرحمن الرحیم
070
کم و جحنزم شی مبارک اج صاحب
الام مم مد رح اشرو ۴د
می ےکہ آپ الف تال کے ففل دکرم سے خثریت ہوگے اور خدمت رین
ین اف کی دا کر یک کی ای کرت ہت بن ارک
آ پکو بھت یا کرتے ہیں۔ خدا تعالی آ پکو کھت و سلا می والی مروراز عطا
کرنے اد ر آپ کے علم دکرغان میس کے شار ہرکت رے۔ ین
جج نے آ پکواس لے تلیف دی ہ کہ ہھارا قرآن جمید سوا لی کازج
(اہ810) بالنل شحم ہوگیا ے اور لوگوں کی ڈھانڈ بست زیادہ ہے شس کا آپ
اندازہ جھی نی کر گت و ہم تن مسرے سے قرآن ید سوا تی پچیداررہے ہیں۔
نے اس موںع پہ مناسب سمچھا اور سوچ اکہ آ پک شچتی راے'مشورہ سے
شردر فاحدہ انھایا جاے۔ اس لئے اس مو پہ کی اپنے ہھتی مشورہ اور بدایات
سے ضردر نوازیں اور اپٹی ہم شبی دعاؤں مش ضردر یاد رھیں۔ الیسٹ افریقہ
جیشہ آ پک یاد رک ت کہ ایک شنص یہاں آیا تھا نس نے علم و عرفان سے انیس
رہد رکیا۔ نحداتھالٰی بی آ پکو جزاء دے۔ ہم آپ کے لگا ہو مل دار
درخوں سے پل نوک رکھا رہے ہیں۔ ہمارے لے بھی دعاکری کہ اللہ تال
تن رنگ میں متبول خحد مت دی نکی نف درے۔ آمین
واللام۔ ناکمار
اہ رتھور نان
ار زی اچا رح تڑاے
693
بسماللەالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلىی علی رسولەالکریم
000۸
8
کرم و محتزم چ مبارک ات صاحب
الللام میم ور مت اش دب رکا
کل آ پک بست بی ایمان افروز رو پردر تقریہ سی اور آپ کے لے ول
سے بے اخقتیار ہنراروں دعانھیں لی کہ خدا تھالی بمارے بزدگوں کا سای دم
6ارے ردں پر سلامت رگھے۔ آممین۔ اللہ تھالی آ پکو مت تر رس دا ی َال
زندگی عطا فراۓے۔ آمین۔ ول میں پل بھ یکئی دفعہ خوائش پیا ہو قی شیک آپ
01 0 06
ابی تک میں نے آپ کو اپنا تخارف میں اکردایا۔ میس چوبدری راع
صاحب ھرجو مکی سب سے بچھوٹی بئی زاہدہ راحت ول ادر چو ہد دی مضرامد ملی
اللہ وا شگٹن کی پچھوٹی بن ہوں۔ آپ سے دعاکی در خواس تکرلی ہوں آپ
عارے .2 ہیں اور خاش طور پر افر 20 ری وں۔ لاقا ت کی تی
فواپشی ہے۔ آپ میرے م پ۰ پان ابنا با رکت ریس اور اپٹی دعائؤں مل یاد
رھیں۔ میرے مبوں جے وفف نو کے عحابد ہیں۔ آپ کی ساری 0+808(
اعلام اریت می ںگمز ری ہے۔ اللہ تھالی سے آپ کے لے جردم دعاکرتے ہیں
اور اپنے امام وت رت غلیفۃ الچ الراٹع ایدہ الل کے لے بھی دل و جان سے
دعاگو ہیں ال تھالیٰ سب پیا رو نکو اتی حفظ دامان یس رگے۔ آئین۔ میرے ہیوں
کو مائص طور پر دعا میں یاد رکھیں اور مھ بھی خاص طور پر اپتی دلھاؤں مل یاد
رییں ای طرح میرے اون دکیلنے دعاکرمیں ۔ اللہ تھالیٰ ہیں بھی خیدممت دی نکی
"64
وٹ عطاکرے آمین۔ اور بت جنر رس دالی عمرعظاکرے۔ آمین
واللام۔زاروراحت
بسماللەالرحمن الرحیم
لنرن
10-1028
کم و محتزم مول نا مارک ام صاحب السلام میم درجم اللہ وب رکا“
01-77-7 7۔ رج وس اک یر سے اور الله تقالی کے فقل وکرم ے
آ پکی مارگ زندگی کے ۸۹۹ وی سال کا آغاز ہے۔ اود تھالی بھت بست مہارک
فمراۓ اور وللاخخرہ خحیر لک من الاولمی کا مصدا بناتے ہوۓ بت ہت
متبول خدمم تکی فذنقی عطا فراۓ۔ مھت و عافیت کے ساتھ مر بت برکت
عخطا فرمائے۔ آبین۔ میں بیشہ ہی آ پک نمایاں غغدبات دینیہ کو بست مت اور
رش ککی نظرسے د بک ہوں۔ اللہ تھالی نے بت نوازا سے اور خد اکر ےککہ اس
کی بے پایاں نوازشوں کا یہ ساسلہ جار کی و سار کی رہے۔ آپ کے ساتھ ایک فی
لی عقیرت کااپنے دل مس با ہوں اور اس حوالہ سے اپنے لے دعاکی عاتڑان
در راس کر ہوں۔ مو یکریم پر مرعلہ پر میرکی دحگیرکی اور بردہ یو شی فخراے
اور دیع و دنا میں اور آخرت میں سرفروئی عطا فرماے۔ آئین۔ وعا کی گھرر
در خواست کے ساتھ اجازت چاتاہوں۔
واللطام۔ ناکسار
عطاء۱ جب رآشر
695
بسماللهالرحمنالرحیم
گینیڑا
19-39
رم و زم مارک ا صاحب
الام ملیکم ور حم ایدو ی رکا“
جس سالان ہکینی ا انشاء الد العزہ: ٣ جولاکئی ۱۹۹۹ء پروز بمعہ ہت ار نعتر
ہوگا۔ ( سب سابقی بیت الاسلام ٹو راخ ٹل )
اس جس کے بلہ انکامات کے کامیاب ہہونے اور اس ججلمسہ کے ہ راظ ے
بامرکگت ہونے کے لے دعاکی در خواست ہے۔ ہم آپ کے بمت نون اسان ہیں
کہ آپ نے رہوش بر ہار ی در خواس تکو قجول فرماکر جمارۓ تس سالاقہ ش
شرکت فرماکی سے اور یں احتفادہ کا موںع عطا فرمایا سے ۔ اس وفع گی ہماری
کی ا اع ا و رت اسر ان کرک
موضوع پر خطاب ۴ م2 جی نام اور ٹم" بی کام“م وضو بجی کیاکیا سے
کر آپ سرت ای می کے جس موضوع پر بھی ہماری تبیت کے لے نطاب
فررانا چاں دتی ٹنیک ہوگا۔ جو موضو عبھی آپ چاہیں ا سکی اطلاع فرمادیں ؟ک۔
وگرام می اس کے مطال نکاہھاجا کے۔
66
۔۔-____۔_ز_. _ _ت إ٢ ۔جتےیت۔۔۔۔۔۔6۔ں۔رٌہے
نا17۸ ک7 ۸ 707 71ت3۸807(1۸( ۷۸ 1۸0۸1(
۸۸۷۷۸ ۳۷ 2۸ 5۶0537۸۲۱
.1 1ا4 28 ص28 تصھوععاسطاہ 08ھ 8>
۳۷٢١۳۶ 8 ص8 ظط عطم بح اط168ط ا ۳ نوزہول
8 ط1ط 8 لصتقمع تھ نصا؟نعا ىا مطعوطصد
:. .0
110 ھ07 نصسصعص نجصہ٥ خصنصسو+ تصتصوقہتہ
ع1 ما مصسااص 2ء نط 551 28:ص طاعط 2۸0818ص
ا ےی ا بد 8 عااطا عط4ذ1 ۰۷دح دہ(
جم ۷۵ء 2زمصد عص تہ ۳۵27 80٥8 لا ۲٢ سصمناہ د”ٗ
۱ اذ زط (ہة۲ 21+٣١ ۔عطعانط ہر٘ٗہ ×٣ ا جعہء(
8م" تص 1ص ع01 ےم نہ عصمللا نصنصسد وبست( +.--دٗ
۲٢۵1۵ ٢ 3310 ٢ 81.077۰ ۷۵ء ×0ط 1(۰
١٥ط 1 نطنطدہ عطوہا ××۱ دس تنا ص۸ صنل ط1×
عط 1ت ص8 ٢۲٢ ۲٢٢۹۰٢ بال(اائط ٥16۸ا 7ہ زط
,120611 8 ع ص۸٭۸٥٤ 1×ط عصدقاہءہ ۲10۷
عرەمصەم تعتعەقط- 8 وحصنصمٰة
۰ ۷ 1ل تع ص۷( زدہ دہ ۲گ(
2 عطمنمص منا1دصصۃ ٌ(مگ( ×ط--0 1ہن
×زہ ص2 م ٥ء ماد مطدمّ ءا ط۲۰ عص ,تصعنصںة ەمعط
بلَھتازلاہ
8 ج3ەطہ٣
٢٣728721۳٣9۰
(3۸.8116
(۲7771067777 3۸10۸3760 7۸ 0 ۱1۲ھ6
پ تحت ہار
سر
1ی مو عودکی تق از خواجہ لام فری دکی شمادت
2 باخات ررلی
3۔ سو اتپ تج وتفی رق رآ نکر م
>۷ ۲3۳(1 ٢٦0٤×ن٤؟ا 3۲۸۵[3 ۱۸۹ ٦351۲ ۱۷۵ ۱۸۵۸۵۱620 ۶
ا 5٥9۷۷/8٣ک
4ھ تم نو کی تقیقت
5۔ رق افریقہ بی تناسلام
6 اد ات یت اوران پراحتزاضات کے جواب
7اک یت کے جو بات
8 صدرائت حر ت کی مو کور علیہ ااصلجوالسلام
9۔اسلائی معاشر ہیس میالمیدىی کے موق
0اک گرا مکوروعالی دعوت
1 خلافت راشدہ کے غلاف ساز شی اوران کے ا ات
2 نیودت جح کی فی رسای
3 غلیفہ خداءا٣ ے
4۔نوت وخلافت کے “تلق ال پغام اور جماعت ا تر کا موقف
5ز ندوخدااور سکسلہ و گی المام
6۔ حفرت کی مو عود علیہ السلا مکا میم الشان مقام
7 فلز زکوۃ
8- اص یت مق اسلا مکی نناۃظامے
19۔ یات۔ونات 5
0ت جم مو ایی ریا الص این 929 881911
1۔ مشمورہ طائ دی مور غآر یلیڈ یکا نات
2۔جام شی ری
23۔ ۵٥٤ ۱۹۱3۲۱۰ چار بے
4-۔ ۲1۸691001 ام 80 ٥۸ 59ا۱۷۷٥٤0 ۷۸۷۲۲۵۵ کے ایت
۱۷۸۲۵۲۰ ۷٢ ۳٣٥٥٣٣ ١٥ ]ا 0